Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 17)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 17)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

زرتاشہ فلک کے پاس بیٹھی تھی ، وہ نوٹ کر رہی تھی کہ فلک کل رات سے خاصی خاموش خاموش سی ہے۔

اسنے پہلے سوچا کے اس سے پوچھے کہ اسے کیا ہوا پر پھر وہ بتائے یا نا بتائے یہ سوچ کر اسنے نا پوچھا۔ کافی دیر بعد صبور آئ تھی اور ان دونوں کو اپنے ساتھ گارڈن میں لائ تھی جو سوال پوچھنے سے تاشہ ہچکچا رہی تھی وہ سوال صبور نے بڑے آرام سے پوچھ لیا۔

” کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہو؟”۔ صبور نے اسے تکتے مسکا کر پوچھا۔

” نہیں تو خاموش تو نہیں میں بس سر میں بہت درد ہے میرے”۔ اسنے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پہ سجا کر کہا۔

” کوئ ٹیبلٹ دوں؟”۔ تاشہ نے پوچھا۔

” نہیں تاشہ اسکی ضرورت نہیں یار”۔ فلک نے اسکی طرف رخ کرکے محبت سے مسکرا کر کہا۔

” ہمم سہی”۔ تاشہ نے ہولے سے کہا۔

” تم دونوں کچھ بتاؤ ناں مجھے اپنے بارے میں “۔ صبور نے خاموشی چھاتے دیکھ بات کا آغاز کرنا چاہا۔

” فلک پہلے بتائے گی”۔ تاشہ نے مسکا کر کہا۔

” میں۔۔ کیا بتاؤں اپنے بارے میں”۔ اسنے گم صم سے لہجہ میں کہا۔

” اپنی فیملی کے بارے میں بتاؤ ، اپنے بارے میں بتاؤ کیا کرتی تھی کیا کرتی ہو”۔ صبور نے چہک کر کہا۔

” فیملی؟ ہنہہ ۔۔۔”۔ وہ تمسخر سے ہنسی تھی۔

” کیا ہوا بتاؤ ناں”۔ تاشہ نے اسکو ہلایا۔

” مجھے نہیں یاد میری فیملی میں نے جب ہوش سنمبھالا ، تو میں نے خود کو ایک دارالامان میں پایا ، وہیں سسکتے چہروں کو دیکھ بڑی ہوئ اور پھر خود بھی ایک دن وہی سسکتا چہرہ بن گئ ، زندگی نے بڑے کڑے امتحان لیئے اور آج بھی شاید لے رہی ہے، کبھی میری ذات پہ رکھ کر امتحان لیئے جاتے ہیں کبھی کسی دوسرے معصوم کو سراپائے امتحان بنا کر یہ قدرت پیش کر دیتی ہے”۔ اسنے اپنی آخری بات تاشہ کی طرف دیکھ اداس سے لہجہ میں کہی۔ تاشہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ صبور کے بھی کچھ ویسے ہی حال تھے۔

” اب تاشہ بتائے گی”۔ فلک نے نمی دھکیل کر مسکرا کر کہا۔

” میں چھوٹی سی تھی ابا کا انتقال ہوگیا تھا ، اور پھر اماں کا بھی ہوگیا ، پھر جاناں آپی اور جہانداد بھائ مجھے یہاں لے آئے ، اور پھر ساری زندگی حوریہ جویریہ اور جابر کے ساتھ گزاری ، کبھی لڑتے جھگڑتے تو کبھی کھیلتے کودتے اور پتہ ہی نا چلا کہ کب ہم اتنے بڑے ہوگئے”۔ تاشہ ہولے سے مسکائ۔

وہ تینوں ایک ساتھ مسکرائ تھیں ، فلک نے بغور تاشہ کے چہرے کو تکا، جہاں جابر خانزادہ کے لیئے اسکے چہرے پہ سے عشق کی شعاعیں پھوٹ رہی تھی۔ وہ اسے تکتی لب بھینچ گئ تھی۔

” آپ بھی بتائیں کچھ”۔ تاشہ نے صبور سے پوچھا۔

” میں بھی چھوٹی سی تھی۔ مما بابا کی ڈیتھ ہوگئ تھی۔ اور میرے ایک بڑے بھائ ہیں ، جن کو میں یاد نہیں آتی۔ ساری زندگی دادی اور چاچی کے ساتھ گزاری بس اور کیا”۔ اسنے مسکرا کر کہا۔

وہ دونوں اسے دیکھ کر مسکرائ تھیں ، تینوں ہی ماں باپ کے سائے سے محروم تھیں ، تینوں نے ہی کچھ نا کچھ سروائو کیا تھا۔

” ہم تینوں کی کہانی ایک جیسی ہے”۔ تاشہ نے مسکرا کر کہا۔

” اللہ نا کرے کبھی ہم تینوں کی کہانی ایک سی ہو”۔ فلک نے یکدم کہا اور بنا تاشہ کی مزید کوئ بات سنے وہاں سے اٹھ کر چلی گئ۔ تاشہ اور صبور محض ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

پوری رات تاشہ کی روتے روتے گزری تھی ، جابر کا سر شدت سے درد کر رہا تھا۔ پوری رات وہ اسکی فکر میں ہلکان ہوتا سو نہیں پایا تھا۔ ابھی ابھی اسنے رونے کا شغل بند کیا تھا اور چینج کرنے گئ تھی۔ اسکو چینج کرنے جاتا دیکھ جابر کچھ پر سکون ہوا تھا۔ وہ لیٹا ہوا تھا پر اسکی آنکھ لگ گئ شاید پوری رات نا سونے کی وجہ سے نیند کا غلبہ شدت سے اس پر طاری تھا۔

زرتاشہ جو واشروم سے چینج کرکے نکلی تھی اسے سکون سے سوتا دیکھ اسکا دماغ خراب ہوا تھا۔ اور وہ غصہ میں اسکے پاس آئ تھی اور سر اسکے کان کے پاس لاکر شدت سے چیخی تھی۔

جابر یکدم ہڑبڑا کر اٹھا تھا ، اسے اپنے سر پہ کھڑا دیکھ وہ پوری صورتحال سمجھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔

” کیا ہے چیخ کیوں رہی ہو”۔ جابر نے نیند سے بھری آنکھیں با مشکل وا کرکے اس سے اسکے چیخنے کی وجہ دریافت کرنی چاہی۔

” تم کیسے سو سکتے ہو ، جابر یہ شادی بھی میری تمہاری وجہ سے ٹوٹی ہے ، میں تمہیں کبھی معاف نہیں کرونگی سمجھے تم”۔ وہ اسپہ چیخی تھی۔

” میری وجہ سے ۔۔کیا بکواس کر رہی ہو میں تو یہاں تھا بھی نہیں”۔ جابر بھڑکا۔

” یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ، پر میری ایک بات یاد رکھنا تم اپنے ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاؤ گے ، تم میرے ناخون تک کو نہیں چھو پاؤ گے”۔ وہ زہریلے لہجہ میں کہتی جابر خان کا پارہ یکدم ہائ کر گئ تھی۔

” سمجھتی کیا ہو تم خود کو کہیں کی حور پری لگی ہو کہ میں تم محترمہ کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا مرا جا رہا ہوں ، ارے میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور میں اس سے ہی شادی کرونگا نہیں چاہیئے مجھے تمہارے ناخن تک کی بھی رسائ”۔ وہ غصہ سے گرجا تھا۔

” ایک کیا دو سے محبت کرکے شادی کھڑکا لو مجھے نہیں پڑتا کوئ فرق پر مجھ سے دور رہنا”۔ وہ اسے انگلی دکھا کر وارننگ دیتی کمرے کا دروازہ جہالت سے بند کرتی نکل گئ تھی۔

اور جابر محض اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر رہ گیا تھا۔

اسکے بعد جابر نے کئ بار تاشہ تک پیش قدمی کرنا چاہی پر اسکے دماغ کا فتور نا مٹا یہاں تک کہ وہ لوگ کراچی سے پشاور چلے گئے پر تاشہ نے خود کو جابر سے بلکل غافل کرکے رکھا ، جابر ہر پل اس پہ شوخ جملے کستا اور جواباً زہریلے وار اسکا دل تک چھلنی کر جاتے جابر کو یاد آیا تھا وہ وقت جب تاشہ کہا کرتی تھی کہ وہ بھی کسی سے محبت کرے گی اسکا پارٹنر جسے وہ نا چاہتے ہوئے بھی چاہنے لگے گی محبت کرنے لگے گی پر ہر بار جابر خان اسکی بات پہ قہقہہ لگا کر یہ کہہ ڈالتا تھا۔ ” تاشہ محبت نہیں ہوتی یہ تو محض ایک لفظ ہے جو ہر ایک کی زبان پر ہے”۔

اور تاشہ محض اسے گھور کر رہ جاتی۔

تاشہ اور جابر کی شادی کو دو سال ہونے کو آگئے تھے۔ اب تو لوگوں نے بھی باتیں بنانا شروع کردی تھیں چند عورتیں تو تاشہ کو بانجھ ہونے کا طعنہ بھی دے گئ تھی اور یہ سب جاناں کے سامنے ہوا تھا۔ وہ کیسے اپنی لاڈلی بہن کو دوسروں کے طعنوں کے لیئے چھوڑ دیتی جاناں کا ساتواں مہینہ چل رہا تھا اور اسنے یہ بات اسی وقت تاشہ اور جابر کو کہہ دی تھی کہ چاہے انکے ہاں بیٹا ہو یا بیٹی وہ ان دنوں کو دیں گی۔ جابر کو جب اس بات کا پتہ چلا تو اسنے تاشہ کیطرف ایک بار پھر قدم بڑھانے چاہے۔ پر سامنے کھڑا وجود دل کے بجائے پھتر لیئے پھر رہا تھا۔

” کیوں کر رہی ہو ایسا لوگ کس قسم کی باتیں کر رہے ہیں تمہیں اندازہ ہے”۔ جابر نے تنگ آکر کہا۔

” مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا لوگ کیا کہتے ہیں”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اسے آگ لگا گئ تھی۔

” سہی جا رہی ہو تم کردو اپنی اور میری زندگی خراب تب جا کر سکون آئے گا تمہیں”۔ جابر نے سرد لہجہ میں کہا۔

” ہاں تو تم تو ویسے بھی اپنی پسند اپنی محبت لے کر آؤ گے ناں”۔ اسنے اسے دیکھ شادی کی اگلی صبح کہی اسکی بات لوٹائ تھی۔

” ایسے تو تم نے بھی کہا تھا تمہیں اس لڑکے سے بہت محبت ہے اگر میں نے یہ کہہ دیا مجھے کسی سے محبت ہے تو اتنی تکلیف کس بات کی”۔ جابر نے اسے جانچتی نظروں سے تکا۔

” میری جتی کو بھی نہیں پرواہ سمجھے تم ہاں ہے مجھے اس سے محبت اور آج بھی ہے”۔ وہ تنفر سے کہتی اٹھی ہی تھی کہ جابر نے کلائ سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا تھا۔

” اگر تم یہ سمجھ رہی ہو ناں ، کہ اس قسم کی بکواس کرکے تم مجھ سے رہائی حاصل کر لو گی تو ایسا کبھی نہیں ہوگا ، تم ہمیشہ اس رشتے میں قید رہوگی ، دوسری شادی تو میں اب کرکے ہی رہونگا”۔ وہ اسکو جھٹک کر چیخا۔

” ہنہ جو کرنا ہے کرو ، پر مجھ سے دور رہو”۔ وہ حقارت سے پر لہجہ میں کہتی جابر خان کا چہرہ غصہ سے لال کر گئ تھی۔

” بھاڑ میں جاؤ ، پاگل بنا کر رکھ دیا ہے تم نے کیوں نہیں سمجھ آتی تمہیں یہ بات کہ میری وجہ سے نہیں لوٹی تھی تمہاری بارات مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا تمہاری شادی کا”۔ وہ غصہ سے پاگل ہوتا چیخا تھا۔ ایک پل کو تاشہ سہمی تھی جابر خان طوفان بنا اٹھا تھا اور کمرے میں موجود ہر چیز تہس نہس کر گیا تھا۔تاشہ اسے غصہ میں دیکھ یکدم منظر سے ہٹ گئ تھی۔ پر جابر جو شاید ہر بات سہہ لیتا پر جو وہ کہہ رہی تھی روز اول سے وہ سب اسکی مردانہ انا پہ کاری ضرب کی مانند لگ رہا تھا۔

منت کو ایڈاپٹ کرنے کے بعد ، زندگی کچھ سہل ہوگئ تھی وہ بچی بڑی ہونے لگی تھی اور وہ لوگ اسکے ہی خیال سے بدمزگی نہیں پیدا کرتے تھے۔ بظاہر تو سب کچھ نارمل تھا پر حقیقتاً انکے بیچ کچھ بھی نارمل نا تھا۔

جابر فلک کے پاس گیا تھا۔ وہ اسے انکار کردینا چاہتا تھا۔ پر کچھ دنوں پہلے اسکے کچھ ٹیسٹ ہوئے تھے اور وہ رپورٹس پڑھ کر جابر شاک کی کیفیت میں بیٹھا تھا۔ فلک کو کینسر تھا۔ وہ چاہ کر بھی اسے مزید کوئ تکلیف دینے کی ہمت نا کر پایا۔ جابر نے غور سے فلک کو دیکھا تو اسے وہ پہلے سے کچھ کمزور لگی تھی۔ وہ فلک کو ہاسپٹل لے کر گیا اور اسکا علاج شروع کرایا اسنے یہ بات فلک سے بہت چھپانی چاہی پر وہ بچی نا تھی وہ ہر چیز سمجھ رہی تھی۔ وہ خاموش تھی اسنے کچھ نا کہا۔ اپنی بیماری میں وہ اسقدر کمزور ہوگئ تھی کہ اسکا چہرہ دیکھ اسی فلک کا گمان ہوتا تھا۔ جسے وہ اس دارالامان سے لایا تھا۔ پر اللہ کا شکر یہ تھا کہ اسکی بیماری پہلے اسٹیج پہ تھی۔ وہ اسقدر تکلیف میں رہتی تھی کہ کبھی کبھی تو اسکا تکلیف کی شدت سے چیخیں مار کر رونے کا دل کرتا۔ جابر چاہ کر بھی اسکا ویسے خیال نہیں رکھ پا رہا تھا جیسے اسے رکھنا چاہیئے تھے۔ پر وہ پھر بھی پوری کوشش کر رہا تھا۔ اسنے فلک کے لیئے ایک کیئر ٹیکر ہائیر کی تھی۔ جو ہر پل اسکے ساتھ رہتی تھی۔ چھ سال وہ اس بیماری سے لڑ کر اسے ہرا کر جیت پائ تھی۔ اور اسکے ٹھیک ہوتے ہی اسنے جابر سے پوچھا تھا۔

” تم مجھ سے نکاح کب کروگے؟”۔ اسنے دھیمی آواز میں پوچھا۔

” جب تم کہو”۔ اسنے نرمی سے کہا۔

” آج کر لیں”۔ اسنے اس وجیہہ شخص کو دیکھ کر کہا۔

” ۔۔۔ہاں۔۔”۔ جابر کے حلق میں ایک پھندا سا اٹکا تھا۔

” پھر مجھے کپڑے لا دو مہندی اور پھول بھی لاکر دینا بالوں میں لگواؤں گی”۔ اسنے مسکرا کر کہا۔ اسکا چہرہ خوشی سے نجانے کتنے عرصہ بعد جگمگا اٹھا تھا۔

” میں لے کر آتا ہوں سب”۔ جابر کہہ کر نکل گیا تھا۔ پھر جابر نے اسکی خوشی کے مطابق بہت اچھے سے سب کچھ سیٹ کیا تھا۔ لاؤنج میں ہی تھوڑا بہت ڈیکوریشن کروا لیا تھا۔ عروسہ اور عرشمہ بھی آئ تھیں۔ اور اسنے چند مزید لوگوں کو بلا لیا تھا۔ نکاح بخیر انجام پایا تمام لوگ رات کا ڈنر انکے ساتھ کرکے چلے گئے تو جابر فلک کے پاس آکر بیٹھا۔

” میری مہندی کیسی لگ رہی ہے”۔ فلک نے بڑی چاہت سے پوچھا۔

” بہت پیاری لگ رہی ہے”۔ جابر نے مسکرا کر اسکے ہاتھ تھامے۔

” شکریہ”۔ فلک نے دھیرے سے پلکوں کی چلمن گرا کر کہا۔

” کس لیئے”۔ جابر نے اسے تکتے پوچھا۔

” میری زندگی میں میرے محرم بننے کے لیئے ایک ایسا مرد بننے کے لیئے جس نے میری حقیقت جانتے بوجھتے بھی مجھے قبول کر لیا ، میری ہر مشکل میں میرے ساتھ کسی سائے کی مانند کھڑے رہنے کے لیئے ، مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ جو مجھے ملا ہے وہ حقیقت ہے یا خواب”۔ وہ چہرے پہ جگنوؤں سی چمک لیئے بولی۔

” تم جانتی ہو مجھے اپنا آپ خوش نصیب لگ رہا ہے ، تم میں کوئ کمی نہیں کوئ خامی نہیں ، تم پرفیکٹ ہو ، اور ایک بہت اچھی صاف دل کی مالک لڑکی ہو جسے پاکر میں خود کو معتبر محسوس کر رہا ہوں”۔ جابر نے اسکے گال پہ ہاتھ رکھ کر محبت سے کہا۔ وہ اسکی بات پہ یکدم نظریں جھکا کر مسکرائ تھی۔ اور یکدم ہاتھ گھما کر اسکے منہ پہ مارا تھا۔

” چل جھوٹے”۔ اسنے لب دبا کر اسے دیکھا تھا۔ جابر تھپڑ پڑنے کی وجہ سے غصہ دبانے کی کوشش میں تھا۔

پر پھر خود کو کمپوز کرکے اسنے فلک کے ہاتھ تھامے۔

” فلک مجھے غلط مت سمجھنا پر میں پہلے سے شادی شدہ ہوں”۔جابر نے تھوک نگل کر کہا۔

چھن سے خوابوں کا محل ٹوٹا تھا ، اپنی وقعت سمجھ میں آگئ تھی۔ دل یکدم چھلنی چھلنی ہوا تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی نمودار ہوئ تھی۔

” مذاق کر رہے ہو؟”۔ اک آس لیئے پوچھا گیا۔

” نہیں میں اتنی بڑی بات ایسے موقع پہ مذاقاً کیوں کہونگا”۔

” کیوں کیا تم نے ایسا”۔ ایک آنسو بائیں آنکھ سے لڑھک کر گرا۔

” کیا کیا ہے میں نے محض تمہیں اپنے نکاح میں لیا ہے”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔

” میری تو ویسے ہی زندگی برباد تھی جابر تم نے کسی اور کی بھی کردی برباد”۔اسنے سرد لہجہ میں کہا۔

” فلک میری بات سنو دیکھو میری بات سمجھنے کی کوشش کرو ، میں تم سے کی اپنی کمٹمٹ نہیں توڑ سکتا تھا”۔ جابر نے اسکے ہاتھ تھام کر کہا۔

” کاش تم یہ کمٹمٹ توڑ دیتے تو کسی کا دل ٹوٹنے سے بچ جاتا”۔ اسنے نم سی آواز میں کہا اور اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کراتی آٹھ کر خود کو کمرے میں بند کر گئ تھی۔ جابر خان کے بہت آواز دینے کے باوجود بھی اسنے دروازہ نا کھولا۔

وہ وہاں سے گھر واپس آیا تھا زرتاشہ منت کو ڈرائینگ کروا رہی تھی۔ وہ خاموشی سے انکے پاس بیٹھا تھا۔ منت نے خوشی سے چہک کر جابر کو اپنی ڈرائنگ دکھائی تھی۔ جابر نے محبت سے اسکی بنائ ڈرائنگ کو سراہا تھا۔ اور پھر منت کو اوپر اپنے روم میں جانے کا بولا تھا۔ وہ سر اثبات میں ہلاتی اپنے کمرے میں چلی گئ تھی۔ تاشہ بھی اٹھنے لگی تھی کہ یکدم اسے جابر خان نے بتایا کہ اسنے دوسرا نکاح کر لیا ہے۔ یہ سن کر وہ بہت چیخی تھی بہت چلائ تھی۔ پر جیسی سرد مہری کی چادر اتنے سالوں سے زرتاشہ نے خود پہ اوڑھی تھی۔ آج وہی چادر جابر خان بھی اوڑھ گیا تھا۔ زرتاشہ کا سسکتا وجود اسے دکھ و تکلیف دونوں دے رہا تھا۔ پر وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اسنے زرتاشہ کو بتا دیا تھا کہ وہ فلک کو لے آئے گا کچھ دنوں میں یہاں ، زرتاشہ یہ بات سن کر اور بھی زیادہ چیخی تھی اسکی آہیں سسکیاں خان حویلی کے در و دیوار تک ہلا گئ تھیں۔ پر اب تو شاید کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔!!

♧♧♧♧♧♧

وہ سب لاؤنج میں بیٹھے تھے سامنے لگے اسمارٹ ٹی وی کی اسکرین روشن تھی۔ ٹی وی کے رنگین پردے پہ نشر ہونے والا پروگرام سب بہت خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ پورے لاؤنج میں گہرا سکوت چھایا تھا۔ آواز تھی تو محض ٹی وی سے آتی جہانداد کی ٹیم ممبر کی ، علی منظر پہ کھڑا تمام واقعات کی آگاہی دے رہا تھا۔ اور ساتھ ساتھ ایک طرف اس دن ہوئے واقعہ کی کچھ روٹین نشر ہو رہی تھی۔

” جی تو ناظرین ہم آپکو آگاہ کرتے چلیں ، کہ یہ لوگ جو منظر پہ تو بڑے سادہ اور سیدھے لوگ بنتے ہیں انکی حقیقتیں کچھ اور ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے ذرائع کے مطابق ان تمام لوگوں کا انکے پورے گینگ کا پتہ چلا تھا۔ پہلے پہل تو ہم تمام لوگ بھی حیرت زدہ رہ گئے تھے۔ کہ کیا یہ حقیقت ہے۔۔۔!! پر اس گینگ پہ ہم نے ایک لمبا عرصہ ریسرچ کے بعد یہ اندازہ لگایا کہ جو کچھ ہمیں بتایا گیا تھا۔ قصہ تو اس سے بہت آگے کا ہے۔جو ہم بظاہر دیکھ رہے تھے بات اس سے بہت آگے کی تھی۔ چلیئے آئیے آپ لوگوں کو اس دن کی چند کیمرے کی آنکھ میں ہوئے قید منظر دکھائیں”. شو اینکر علی نے جذباتیت سے پر لہجہ میں کہا۔ جہانداد جو صوفہ پہ بیٹھا سنجیدگی سے تمام منظر دیکھ رہا تھا۔ اسنے ہلکی سی نگاہ ترچھی کرکے صبور کو دیکھا نظریں اسکی بھی اسکرین پہ ہی تھیں۔ جہانداد نے نگاہ واپس ٹی وی کی روشن اسکرین پہ مرکوز کیں۔ سامنے اسکرین پہ موجودہ شخص کو دیکھ یکدم صبور کا دل ڈوبا تھا وہ شخص جو بار بار اپنا چہرہ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا وہ کوئ اور نہیں اسکا سگا ماں جایا تھا۔ اسکا بھائ تھا۔

” یہاں بچوں اور عورتوں کی جسم فروشی کا کاروبار ہوتا ہے یہی آپکا بزنس ہے؟؟”۔ جہانداد نے چہرہ چھپاتے شخص سے گرجتی آواز میں پوچھا۔

” مجھے نہیں پتہ آپ اس کیمرے کو ہٹاؤ”۔ وہ شخص اپنا چہرہ چھپاتے چڑے ہوئے لہجہ میں بولا۔

” آپکو نہیں پتہ تو کس کو پتہ ہے سربراہ آپ ہیں یہاں کہ یہاں پہ ہونے والے کاموں کی آپکو خبر نہیں تو کسے ہے؟؟”۔ جہانداد نے تمسخر سے ہنس کر غضب ناک ہوتے کہا۔

” میں نے کہا ناں مجھے کچھ نہیں پتہ آپ کیمرہ بند کریں”۔ وہ اپنا چہرہ چھپاتا دھاڑا تھا۔

” ناظرین یہ شخص ۔۔ غریب بچوں کو یہاں لاتا ہے انکا برین واش کرتا ہے اور جب بچے دھیرے دھیرے انکی برین واشنگ میں آجاتے ہیں تو یہاں ان بچوں پہ پیسہ کمایا جاتا ہے ۔۔ انکے ساتھ غلط اقدامات کرائے جاتے ہیں بات صرف اتنی ہی نہیں لڑکیوں کو اغوا کرکے یا انکے گینگ میں موجود لڑکے ان لڑکی کو اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر یہاں لاتے ہیں ، صرف یہاں بچوں اور عورتوں کی جسم فروشی ہی نہیں ہوتی ہے بلکہ۔۔۔!! یہاں پہ ہمیں بھاری مقدار میں نشے آور ادویات ملی ہیں۔۔۔۔۔ جن سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ لوگ ڈرگز بھی اسمگل کرتے ہیں”۔ جہانداد بلند آواز میں اس شخص کا ہر کالا راز عیاں کر رہا تھا۔ یکدم اس شخص نے سب کو دھکا دیا وہ بھاگنے لگا جہانداد بھی یکدم اسکے پیچھے لپکا اسنے نجانے کہاں سے گن برآمد کی اور جہانداد کے سینے پہ وار کیا۔ وہ فرار ہونا چاہتا تھا پر فرار نا ہوسکا بلکہ پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔ اسکو گرفتار کرنے کے بعد معلوم پڑا کے انشال کے قتل میں بھی سراسر اسکا ہاتھ تھا۔ جو کہانی سامنے تھی وہ حقیقت نہیں تھی۔ انشال کے سوتیلے بھائ اور چچا کو بھی اسی شخص نے پیسوں کے عوض لالچ دیا تھا۔ کہ اگر وہ اسے یہاں لانے میں کامیاب ہوگئے تو وہ انہیں دو کروڑ روپے دے گا۔ حقیقت کھل گئ تھی۔ گنہگار کا چہرہ عیاں ہوچکا تھا۔ ٹیبل پہ پڑا رموٹ جہانداد نے جھک کر اٹھایا اور ٹی وی بند کرکے نظریں صبور پہ گاڑھیں تو وہ آنکھوں میں ڈھیروں بے یقینی لیئے صدمے کی کیفیت میں بیٹھی تھی۔