Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 20) Last Episode

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 20) Last Episode

Fareeb E Ishq By Momina Shah

” فلک” کسی خواب کی مانند آکر اسکی زندگی سے جاچکی تھی۔ جب سے وہ گئ تھی، جابر خان کا وجود گہرے زخموں کا شکار ہوگیا تھا۔ دکھ تھا ، پشتاوا تھا۔۔۔۔ اور نجانے ۔۔۔۔ کیا کیا۔۔!!!

وہ نہیں جانتا تھا کہ اب زندگی نے کس کروٹ بیٹھنا تھا پر بہرحال جو بھی تھا۔ زندگی کو دوبارہ شروع کرنا تو تھا۔ اسنے دوبارہ پشاور جانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ ابھی وہ اپنا سامان پیک کر رہا تھا جب جہانداد اسکے کمرے میں آیا۔

” کیا کررہے ہو؟”۔ سامنے صوفہ پہ بیٹھتے جہانداد نے نرمی سے پوچھا۔

” پیکنگ۔۔، پشاور جانے کی تیاری”۔ اسنے ہلکی سی نگاہ اٹھا کر اسے دیکھ کر کہا۔

” ہمم اور تم دونوں کا اپنے رشتے کے بارے میں کیا ارادہ ہے”۔ جہانداد نے سنجیدگی سے پوچھا۔

” بھائ۔۔۔۔ میں اسے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں ، پر اب میں اپنی ضد میں فلک جیسا انجام زرتاشہ کا نہیں چاہتا”۔ اسنے گہری سانس خارج کرکے کہا۔

” جابر اگر تم وقت پہ سب کچھ تاشہ کو بتا دیتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے”۔ جہانداد نے سنجیدہ سے انداز میں کہا۔

” ہاں شاید۔۔۔!! فلک زندہ ہوتی آج “۔ وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں کہتا زخمی سا مسکرایا تھا۔

” جابر اپنا اور زرتاشہ کا فیصلہ کر کے جاؤ ، کیونکہ لٹکے ہوئے رشتے تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیتے”۔ جہانداد نے کھڑے ہوکر اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔

” فیصلہ میں نہیں کرونگا بھائ وہ کریگی”۔ اسنے سنجیدگی سے کہتے بیگ بند کیا اور اسکی زپ بند کرتا بیگ بیڈ سے اتار کر سائیڈ پہ رکھا۔

” تو تم کہنا چاہتے ہو اب چاہے وہ جو بھی فیصلہ کرے تمہیں منظور ہوگا”۔ جہانداد نے ابرو آچکا کر پوچھا۔

” بلکل ایسا ہی ہے”۔ جابر نے دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے کہا۔

” اور اگر اسنے آزادی مانگی تو؟”۔ جہانداد نے اسے تکتے آنکھوں میں حیرت سمو کر پوچھا۔

” دے دوں گا”۔ اسنے پھنسی ہوئ آواز با مشکل حلق سے نکالی۔

” بس اتنی ہی محبت تھی۔۔!!”۔ جہانداد تمسخر سے ہنسا۔

” محبت تو بہت ہے بھائ پر میں پھر وہی کہوں گا میں اسے فلک جیسے حال میں نہیں پہنچا سکتا”۔ اسکے ہر ہر انداز سے رنج ٹپک رہا تھا۔

” فلک کی موت کے زمیدار تم نہیں ہو”۔ جہانداد نے افسوس سے کہا۔

” کاش۔۔!! ایسا ہی ہوتا پر اسکی ایسی موت کا زمیدار میں ہی ہوں”۔ اسنے گہری سانس لے کر کہا۔

” تم کیسے ہوسکتے ہو اسکی موت کے زمیدار، اسنے خود کو خود مارا ہے اسکی موت کا کوئ زمیدار نہیں بچے”۔ جہانداد نے افسوس سے کہا۔

” میں ہوں زمیدار بھائ میں کیوں نہیں گیا اسکے پاس فوراً کیوں نا دلایا اسے اس بات کا احساس کے میں ہمیشہ اسکے ساتھ ہوں”۔ جابر تکلیف سے اپنی آنکھیں مینچ گیا تھا۔

” یہاں پہ تمہاری سوچ غلط ہے جابر یہ سراسر خود کو اذیت دینا ہے۔ فلک کی موت کی زمیدار وہ خود ہے”۔ جہانداد نے افسوس سے کہا۔

” بھائ کوئ بھی انسان خود کو مارنا نہیں چاہتا ہر انسان جینا چاہتا ہے ، اور وہ بھی جینا چاہتی تھی پر شاید میرے ہی رویے نے اس میں جینے کی امنگ ختم کردی”۔ جابر نے اپنی شرٹ کا اوپری بٹن کھولا شاید اسے ائیر کنڈیشنڈ روم میں بھی گھٹن ہو رہی تھی۔

” جابر ایسے تو تم کبھی اس فیز سے نہیں نکل پاؤ گے ، خود کو قصوروار سمجھنا چھوڑ دو بیٹا”۔ جہانداد اسے تکتے دکھ سے بولا۔

” ہمم”۔ اسنے محض خاموشی سے ہنکارا بھر کر سر اثبات میں ہلایا۔

” خیر تم پشاور جب بھی جاؤ چلے جانا پر کل وکیل آجائے ، فلک کے انتقال کے بعد میں نے منع کردیا تھا اسے پر خیر وہ کل آجائے جو بھی ہے وصیت میں پتہ چل جائے تو پھر چلے جانا”۔ جہانداد سنجیدگی سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ اور وہ محض اپنی خالی نظریں گھما کر رہ گیا تھا۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی کی چادر بھی تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧

” علی کیا مسئلہ ہے تمہارا”۔ حوریہ اسے اپنے پیچھے چلتے دیکھ تپے ہوئے لہجہ میں بولی۔

” میرا مسئلہ تم ہو”۔ علی دانت نکال کر کہتا اسکے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے لگا۔

” علی دور رہو۔۔!!”۔ وارننگ دی گئ۔

” حوریہ میری بات سنو”۔ علی نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔

” علی دور رہو مجھ سے”۔ وہ اسکے سینے پہ ہاتھ مارتی اسے خود سے دور جھٹکتی بولی۔

” حوریہ پلیز مان جاؤ بہت خوش رکھوں گا تمہیں”۔ علی نے منت کی۔

” پلیز علی”۔ وہ اسے دیکھتی بیزاریت سے بولی۔

” حوریہ پلیز ہاں کردو میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں”۔ وہ اسکا ہاتھ ایک بار پھر تھامتا گویا ہوا۔

” علی۔۔۔!! مجھے محبت نہیں عزت کی ضرورت یے اور اگر تم میری عزت کرتے ہو تو پلیز میرا پیچھا چھوڑ دو میری زندگی میں کہیں بھی دور دور تک فلحال کوئ ذکر نہیں شادی کا”۔ حوریہ سنجیدگی سے کہتی اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرواگئ۔

” عزت کرتا ہوں میں تمہاری پر۔۔”۔ علی نے بات ادھوری چھوڑی۔

” میں معافی چاہتی ہوں علی پر میں نے اپنے ماں باپ کی شادی شدہ زندگی کو جیسا دیکھا ہے ناں اسکے بعد میں سوچ بھی نہیں سکتی خود شادی کرنے کا”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی وہاں سے نکل گئ تھی۔ علی محض اسکی پشت کو تکتا رہ گیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

” کیا ہو رہا ہے؟”۔ جہانداد نے اسکے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکا کر کہا۔ اسکے واڈروب میں کپڑے ٹھیک کرتے ہاتھ ایک پل کو تھمے اور پھر وہ دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئ۔

” الماری سیٹ کر رہی ہوں”۔ وہ دھیرے سے مسکا کر بولی۔

” ہمم مجھے تو بلکل توجہ نہیں دیتی تم”۔ شکوہ ہوا۔

” دیتی تو ہوں توجہ ، اور آپکے سامنے ہی تو ہے سب کیسے سب کچھ پلٹ گیا کیا حالات چل رہے ہیں گھر پہ”۔ وہ اداسی سے کہتی مڑی تھی۔ جہانداد نے اپنی ٹھوڑی اسکے کندھے سے ہٹائ تھی۔

” ہمم دیکھ رہا ہوں سب پر پھر بھی تھوڑی توجہ تو مجھے بھی ملنی چاہیئے ناں”۔ وہ اسکے گال پہ ہاتھ رکھتا دھیرے سے اسکا گال سہلاتا گویا ہوا۔

” اب کوشش کرونگی”۔ وہ مسکا کر بولی۔

” صرف کوشش۔۔!”۔ جہانداد نے آنکھیں دکھا کر کہا۔

” ہاں “۔ وہ شرارت سے مسکائ۔

” تم بہت ۔۔۔ بری ہو”۔ جہانداد کچھ توقف کے بعد بولا۔

” پر آپ سے کم”۔ جھٹ جواب آیا۔

” اچھا ایسی بات ہے”۔ اسنے لب دبا کر اسکی کمر پہ اپنی گرفت تنگ کی تھی۔

” ہمم بلکل ایسی ہی بات ہے”۔ گلنار چہرے سمیت کہا۔

” صبور”۔ اسنے محبت سے اسے پکارا۔

” جی “۔ کپکپاتی آواز میں کہا۔

” میرے زخم اب ٹھیک ہوچکے ہیں”۔ اسنے لب دبا کر کہا۔

” تو؟”۔ اسنے نا سمجھی سے کہا۔

” تو یہ کہ پھر کیا خیال ہے؟”۔ معنی خیز نظروں سے اسے تکتے پوچھا گیا۔

” بہت ہی برے خیال ہیں”۔ وہ اسکی گرفت سے خود کو آزاد کراتی چہک کر بولی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسکی پہنچ سے دور ہوجاتی اسنے اسکی کلائ سے اسے تھام کر ایک جھٹکے سے اسے خود کے سینے سے لگایا تھا۔

” آہہہ یہ بہت غلط بات ہے جہانداد”۔ وہ جہانداد کے سینے سے لگی منہ بنا کر کہتی جہانداد کے لبوں پہ خوبصورت سی مسکان کھلا گئ تھی۔

” ابھی غلط بات ہوئ ہی کہاں جان من “۔ وہ اسکے گالوں پہ لب رکھتا شرارت سے کہتا اسے شرما نے پہ مجبور کر گیا تھا۔

“جہانداد پلیز نا کریں ناں”۔ وہ منت کرتی اس سے دور ہونے لگی۔

” صبور پلیز آج خاموش رہو ناں”۔ وہ اسکے ماتھے پہ لب رکھتا محبت سے بولا۔

” جہانداد اگر آپ نے جو کچھ جاناں کے ساتھ کیا تھا وہ میرے ساتھ کیا تو؟؟”۔ اسنے قدرے ہچکچا کر اپنا ڈر اسکے سامنے پیش کیا۔

” صبور ۔۔۔۔ میں مانتا ہوں میں نے جاناں کے ساتھ جو بھی کچھ کیا وہ بہت غلط تھا۔ اور وہ سب کچھ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ پر تمہیں پتہ ہے جاناں کی موت کے بعد ہوئے اس ریلائزیشن نے مجھے کتنی تکلیف دی ، میں نے بہت چاہا کے وقت واپس پیچھے ہوجائے اور میں اس سے ہر بات کی معافی مانگ لوں۔۔۔ پر ۔۔۔ بیتا وقت کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتا اور جانتی ہو میں تمہارے ساتھ وہ سب کچھ کرکے اپنی زندگی میں دوسرا پشتاوا نہیں پال سکتا”۔ وہ کچھ شرمندگی سی بولا۔

” زندگی میں اپنی غلطیوں کی ریلائزیشن ہوجانا بڑے نصیب کی بات ہوتی ہے، آپکو احساس ہوا اپنی غلطیوں کا بے شک کچھ دیر سے ہوا پر ہوگیا سب سے اچھی بات ہی یہ ہے کہ انسان اپنی غلطیوں کو غلطی جان لے ، نہیں تو میں نے ایسے بھی لوگ دیکھے ہیں جن کے لیئے انکی غلطیاں کوتاہیاں معنی ہی نہیں رکھتی وہ ان پہ نظر تک ڈالنے کی فرصت نہیں رکھتے”۔ وہ اسکے گال پہ ہاتھ رکھ کر محبت سے بولی۔

” بے شک”۔ جہانداد نے اپنے گال پہ دھرے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھا۔

” چلیں اب ہٹیں مجھے واڈروب سیٹ کرنے دیں”۔ وہ اسکے گال پہ سے ہاتھ ہٹا کر کہتی جہانداد کے ماتھے پہ تیوریاں سجا گئ تھی۔

” ایسا کوئ سین نہیں ہورہا”۔ جہانداد نے اسے خود سے مزید قریب کرتے کہا۔

” آپ۔۔”۔ اس سے پہلے کے وہ مزید کچھ کہتی وہ اسکے الفاظ ختم کر گیا تھا۔ اسکا محبت بھرا لمس اسے اپنے پور پور پہ محسوس ہورہا تھا۔ اسنے یکدم اسے اپنی بانہوں میں بھرا تھا۔ اور اسے بستر تک لا کر بستر پہ بٹھایا تھا ، اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھا تھا۔

” تم بہت پیاری ہو”۔ وہ مدہوش سے لہجے میں کہتا اسپہ جھکا تھا ۔ گزرتی رات کے سنگ انکے بیچ حائل تمام پردے ہوا ہوچکے تھے۔ انکا یہ حسین ملن دیکھ چاند بھی پوری شدت سے شرما کر بادلوں کی اوٹ میں ہوگیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی بلکل گم صم سوچیں بھٹک بھٹک کر جابر خان کی طرف جا رہی تھی فلک کے انتقال کے بعد سے وہ دونوں ہی اپنے اپنے خول میں قید ہوکر رہ گئے تھے۔

دونوں ایک دوسرے سے دور بھاگنے لگے تھے۔ جابر کو اپنا آپ زمیدار لگتا تو تاشہ کو اپنا آپ دونوں مانوں خود سے بھی چھپتے پھر رہے تھے۔

ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور جابر خان اندر داخل ہوا۔ زرتاشہ نے بغور اسے تکا۔ کالی کمیز شلوار پہنے ماتھے پہ بکھرے بال لیئے بڑھی ہوئ شیو چہرے پہ سجائے وہ پرانا والا جابر خان تو کہیں سے بھی نا دکھ رہا تھا۔ وہ اسکو خود کو اتنی توجہ سے تکتے پا کر اپنی سرد نظریں اسپہ گاڑھ گیا تھا اسکی نظروں کی تپش خود پہ محسوس کرکے وہ یکدم نظریں چرا گئ تھی۔

” مجھے تم سے بات کرنی تھی”۔ جابر کمرے میں رکھے دیوان پہ بیٹھتا گویا ہوا۔

” کیا بات کرنی تھی”۔ وہ بھی دھیرے سے مستفسر ہوئ۔

” میں کل رات تک پشاور چلا جاؤں گا ، زرتاشہ کل صبح وکیل آئے گا جاناں بھابھی کی وصیت لے کر ، پلیز تاشہ جو بھی فیصلہ کرنا سوچ سمجھ کر کرنا ، اپنی مرضی کا کرنا میں تمہیں اب فورس نہیں کرونگا اس رشتے میں رہنے کو ، تم نے کہا تھا اسکے بغیر لوٹ آؤں دیکھو اسکے بغیر بیٹھا ہوں تمہارے سامنے”۔ وہ دھیرے سے کہتا آخر میں تکلیف سے ہنسا تھا۔

” پر میں نے کبھی ایسے تنہا لوٹنے کو نہیں کہا تھا جابر ۔۔۔۔ میں چلی جانا چاہتی تھی تمہاری زندگی سے ، میں نے یہ نہیں چاہا تھا کہ وہ مر جائے ۔۔۔ اور موت بھی وہ جو وہ خود کرے”۔ وہ جابر خان کی بات سن کر تڑپ ہی تو گئ تھی۔

” میں نے کب کہا کہ تم نے ایسا چاہا تھا۔ میں نے تو محض اتنا کہا ہے کہ تم مجھے تنہا چاہتی تھی تو دیکھو میں تنہا بیٹھا ہوں تمہارے سامنے تمہارے آسرے”۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔

” میں جانتی ہوں تم مجھے ہی اسکی موت کا زمیدار سمجھ رہے ہو جبھی تم مجھ سے اسطرح بات کر رہے ہو”۔ اسکی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا جسے اسنے فوراً پونچھ لیا۔

” نہیں۔۔!! ایسا بلکل نہیں تاشہ میں کیوں سمجھنے لگا تمہیں اسکی موت کا زمیدار ۔۔۔ میں ہوں اسکی موت کا زمیدار وہ میری ذمہ داری تھی جسے میں اچھے سے نبھا نا سکا ، تم نے تو کبھی کچھ نا کہا اسے بلکہ افف تک نا کیا ، تم کیسے زمدار ہوسکتی ہو اسکی موت کی ، میں بس اتنا کہنے آیا تھا۔ اگر چاہو تو چن لو مجھے اپنی زندگی میں بکھر گیا ہوں میں اور ڈر بھی گیا ہوں ، اگر تم چاہو تو مجھ پہ رحم کھا کر میرے ساتھ زندگی شروع کر سکتی ہو ۔۔۔۔ کیونکہ سچ یہی ہے کہ میری پہلی اور آخری محبت تم ہی ہو”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا کمرے سے اٹھ کر چلا گیا تھا اور وہ محض اسے نم آنکھیوں سے تکتی رہ گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧

وکیل آکر جا چکا تھا اور جاناں کی وصیت سن وہ دنوں ہی سناٹوں کی ضد میں آچکے تھے۔

اسکی وصیت تھی کہ وہ دونوں جب بھی الگ ہوں منت کو واپس جہانداد کو دے دیں گے انکا کوئ حق نہیں رہے گا منت پہ ، اور پھر اسکے بعد منت سے ملنے کی بھی ان دونوں کو کبھی زندگی میں اجازت نہیں ہوگی۔

وہ دونوں تنہا کمرے میں بیٹھے تھے۔” منت” وہ انکی پیدا نہیں تھی پر اسکو پالا ان دونوں نے تھا۔ اسکا پہلا قدم ، اسکا پہلی بار تاشہ کو مما بلانا جابر کو بابا بلانا ، اسکی چھوٹی چھوٹی شرارتیں سب انکی نظروں کے آگے گھوم گیا منت کو چھوڑ دینے کا خیال ہی ان دونوں کا دل دہلا گیا تھا۔

تاشہ نے سامنے ٹیبل پہ پڑے پانی کے گلاس کو اٹھا کر لبوں سے لگایا۔ اپنا سوکھا حلق تر کرکے اسنے گہری سانس خارج کرتے اپنا رخ جابر کی طرف کیا تھا۔

بڑی مشکل سے وہ یہ چند الفاظ ادا کر پائ تھی۔

” میں طلاق ۔۔ نہیں چاہتی میں تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں پر اس وعدے کے ساتھ کے تم اب کبھی اپنے اور میرے درمیان کسی تیسرے کو نہیں لاؤ گے”۔ اسنے اپنی بات مکمل کرکے جابر کی طرف دیکھا۔

” مزاق کر رہی ہو؟”۔ وہ بے یقین ہوا۔

” بلکل بھی نہیں”۔ اسنے سنجیدگی سے کہا۔

” تم سچ کہہ رہی ہو”۔ ایک بار پھر بے یقینی سے پوچھا گیا۔

” تمہیں میں جھوٹی لگتی ہوں؟”۔ آبرو آچکا کر پوچھا گیا۔

” نہیں پر پھر بھی مطلب یقین نہیں آرہا”۔ اسنے اپنا سر کھجاتے کہا۔

” کیوں نہیں آرہا یقین”۔ وہ حیران ہوئ۔

” کیونکہ مجھے ایسا لگ رہا ہے میں کوئ خواب دیکھ رہا ہوں”۔ وہ حیرت سے کہتا اسے تکنے لگا۔

” یہ خواب نہیں ہے حقیقت ہے”۔ اسنے مسکا کر کہا۔

” تم سچ میں میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو ؟”۔ جابر نے ایک بار پھر پوچھا۔

” کیا تم مجھے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے؟” سوال پر سوال داغا گیا۔

” میں تو ہمیشہ سے تمہارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتا ہوں”۔ وہ بے قراری سی کہتا اسکا ہاتھ تھام گیا تھا۔

” پھر چلیں پشاور”۔ تاشہ نے مسکرا کر کہا۔

” ہاں تم اپنا سامان پیک کر لو اور منت کا بھی”۔ وہ اسکے گال پہ لب رکھتا مسکرا کر کہتا اٹھا تھا۔

” اوکے میں کر لیتی ہوں پیکنگ”۔ اسنے مسکا کر کہا۔

جابر وہاں سے نکل کر اوپر اس کمرے میں گیا جہاں فلک قیام پذیر تھی کچھ عرصہ پہلے تاشہ کے طلاق نا لینے کے فیصلے پہ جہاں اسکے دل میں ڈھیروں سکون اتر آیا تھا وہیں دل نے شدت سے فلک کو یاد کیا تھا۔ اسنے بیڈ پہ بیٹھ کر سائڈ ٹیبل کے دراز سے سفید تہہ شدہ پرچہ نکالا جسے وہ نجانے کتنی بار پڑھ چکا تھا۔

“جابر۔۔۔!!

جانتی ہوں بہت غلط کر رہی ہوں میں پر یقین مانو تمہاری محبت میں کر رہی ہوں ، تم نے اپنے سارے قیمتی لمحے مجھ پہ صرف کردیئے میں تم پر سب کچھ قربان کرتی جا رہی ہوں۔

فقط تمہاری فلک۔۔۔!!!”۔جابر کی آنکھوں میں نمی چمکی جسے اسنے حلق سے اتار لیا۔ اسنے لب بھینچتے اس پرچہ کو اٹھ کر اپنے سفری بیگ کی اوپری زپ میں ڈال دیا۔ زندگی نے جو پاسہ پلٹا تھا۔ وہ۔اسکی زندگی پوری طرح سے ہلا گیا تھا۔ وہ اٹھا تھا زینے اتر کر نیچے آیا تھا اور پورچ سے اپنی گاڑی نکال کر نکل پڑا تھا۔ اسکے قدم قبرستان کی خاموش زمین پہ پڑے وہ احتیاط سے چلتا فلک کی قبر تک آیا اور اسکی قبر کے پاس بیٹھ کر اسنے کچی قبر کی مٹی پہ اپنا ہاتھ پھیرا۔

” بہت ظالم ہو تم”۔ اسنے اس سے شکوہ کیا۔

” نہیں میں تو تم سے پیار کرتی ہوں”۔ اسے فلک اپنے برابر بیٹھی دکھی۔

” یہ کیسا پیار تھا ، کہ تم مجھے چھوڑ کر ہی چلی گئ”۔ اسنے اسکے شاداب چہرے کو۔دیکھ شکوہ کیا۔

” اب دیکھ لو کہا تھا ناں بہت پیار کرتی ہوں تم سے”۔ وہ مسکرا کہتی یکدم خوشبو کی طرح غائب ہوگئ تھی۔ جابر خان محض لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔ وہ جب بھی یہاں آتا تھا ایسے ہی اسکا وجود اسے اپنے آس پاس محسوس ہوتا تھا۔ وہ گہرا سانس خارج کرتے اپنے ہاتھ دعا کے لیئے اٹھا گیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧

” میں کہہ رہی ہوں یہ چڑیل کیوں یہاں آئ ہے”۔ صبور نے جہانداد کو گھور کر تکتے پوچھا۔

” یار ملنے آئ ہے”۔ جہانداد نے اسکی کمر کے گرد ہاتھ باندھتے کہا۔

” اسکو بول دو آئیندہ سے یہ نا دکھے مجھے اپنے گھر میں”۔ وہ جہانداد کو خود سے دور جھٹکتی غصہ سے بولی۔ جہانداد کے لبوں کی تراش میں ایک خوبصورت مسکراہٹ کھل گئ۔

” جلن ہو رہی ہے “۔ بے باکی سے ایک بار پھر اسے اپنی گرفت میں لیتے کہا۔

” ہاں ہورہی ہے تو!!”۔ وہ اسے دھکا دے کر دور ہٹاتی کپ میں کافی انڈیلنے لگی۔

وہ ٹرے میں کافی لیئے باہر آئ تو جہانداد بھی اسکے ساتھ آیا سامنے بیٹھی بختاور نے سر اٹھا کر صبور کو دیکھا۔

” وہ میں ملنے آئ تھی کل میں واپس جارہی ہوں امریکہ”۔ اسنے کچھ جھجھک کر بتایا۔

” ہمم سہی واپس تو نہیں آؤ گی دوبارہ “۔ صبور نے ناک چڑھا کر کہا۔

” میرا ملک ہے آؤں گی میں “۔ بختاور نے قدرے منہ بنا کر کہا۔

” ہاں پر یہاں نا آنا آئیندہ”۔ صبور نے کڑے لہجے میں کہا۔

بختاور کا رنگ ایک پل کو متغیر ہوا اور پھر ایک شان بے نیازی سے اٹھتی جہانداد سے مخاطب ہوئ۔

” میں چلتی ہوں جہانداد ، پر اپنی بیوی کو تھوڑی تمیز سکھا دینا”۔ وہ کہتی نکل گئ اور صبور محض اسے گھور کر رہ گئ تھی۔

جابر اور تاشہ دو گھنٹے پہلے نکل کر گئے تھے اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے حوریہ اور جویریہ اپنی کسی دوست کی برتھ ڈے پارٹی میں گئ تھیں وہ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اور جہانداد اپنا کوئ کام کر رہا تھا۔ جب بختاور آ ٹپکی تھی۔ اسنے منہ بنا جہانداد کو دیکھا ابھی وہ صوفے سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ یکدم جہانداد نے اسے کھینچ کر اپنی تھائ پہ بٹھایا تھا۔

” کیا ہو جو اتنی ناراض ہوگئ ہو ، دیکھو آئ تھی اور چلی بھی گئ”۔ جہانداد نے مسکان دبا کر کہا۔

” ہاں پر اگر یہ اب دوبارہ آئ ناں تو!!”۔ صبور نے دھمکی دیتے کہا۔

” تو کیا”۔ جہانداد نے ابرو آچکا کر پوچھا۔

” تو یہ کہ پھر مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا”۔ وہ اسے آنکھیں دکھا کر کہتی جہانداد کو قہقہہ لگانے پہ مجبور کر گئ تھی۔

” ہنسے مت”۔ وہ خفا ہوئ۔

” ہائے”۔ جہانداد نے ایک آہ بھرتے اسے کے گلاب کی پنکھڑیوں سے ہونٹوں کو اپنی قید میں لیا تھا۔ لمحے سرکتے گئے اور اسکی پکڑ میں دھیرے دھیرے شدت آنے لگی تھی۔ صبور نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا۔

” کیا ۔۔۔ کر ۔۔۔ رہے ہیں”۔ اسنے پھولی ہوئ سانسیں بہال کرتے کہا۔

” عشق محبت”۔ وہ اسکو صوفہ پہ لٹاتا اسکے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے انگلیوں میں قید کرتا مدہوشی سے کہتا مکمل طور پر اسپہ قابض ہوا تھا۔ اسکی صراحی دار گردن پہ جابجا اپنی محبت کا لمس چھوڑتا وہ اسے خود میں سمیٹنے پہ مجبور کر گیا تھا۔

” جہانداد ڈور ہٹیں روم نہیں ہے ہمارا”۔ وہ اسکو خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی۔ پر وہ بنا اسکی بات کی پرواہ کیئے اسکے وجود میں گم رہا۔

” تم بہت پیاری ہو”۔ وہ اپنے تشنہ لب اسکے گال پہ رکھتے بولا۔ وہ اسکی بات پہ یکدم گلنار ہوئ تھی۔

اسکے پورے وجود پہ اپنا قبضہ ڈالے وہ اسکے کانوں میں کبھی محبت بھری سرگوشی بھی کر دیتا جسے سن وہ پہلے سے بھی زیادہ شرما جاتی۔

♧♧♧♧♧

وہ لوگ ابھی پشاور پہنچے تھے۔ یہاں اپنے گھر پہنچ کر ایک دم سے دونوں کی نگاہوں کے آگے سے فلک کے ساتھ بتائےمنظر گھومے تھے۔ دونوں کی آنکھیں پل میں نم ہوئ تھیں رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ منت سو چکی تھی تاشہ نے اوپر جاکر کمرے میں اسے بستر پہ لٹایا۔ اور خود نیچے آئ جابر اب بھی ویسے ہی بیٹھا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ ہولے سے مسکایا۔

” مجھے بھوک لگی ہے”۔ جابر نے سنجیدگی سے کہا۔

” میں کچھ بناتی ہوں”۔ وہ کچن میں گھستے بولی وہ بھی اٹھ کر اسکے پیچھے آیا۔

” نوڈلز بنا لو تم بھی تھکی ہوئ ہو کوئ زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں”۔ جابر نے نرمی سے کہتے کچن میں پڑے چار افراد والے ڈائینگ ٹیبل کی چیئر کھسکا کر بیٹھا۔

” ٹھیک ہے”۔ اسنے سر ہلا کر کہا کیبنٹ کھول کر ساس پین نکلا اس میں پانی بھرا۔ پانی چولہے پہ رکھ کر نوڈلز کے پیکٹ نکال کر رکھے کچھ ہی دیر میں میں نوڈلز تیار ہوچکے تھی۔ وہ نوڈلز ایک باؤل میں ڈال کر لائ دونوں ساتھ قریب قریب بیٹھے ایک ہی برتن میں ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ جابر نے ایک نظر اسے دیکھا جو نجانے کونسی سوچوں میں ڈوبی بیٹھی تھی۔

” کیا ہوا؟”۔ جابر نے اسکا ہاتھ تھام کر پوچھا۔

” کچھ بھی نہیں”۔ اسنے نفی کی۔

” کچھ تو ہے”۔ اسنے اسکے چہرے پہ پہرا ڈالے آوارہ لٹ کو پیچھے کرکے کہا۔

” کچھ بھی نہیں ہے”۔ اسنے نگاہیں اٹھا کر اسے تکتے کہا۔

” کیا ہوا بتاؤ”۔ اسنے اسکے گال پہ ہاتھ دھر کر پوچھا۔

” اگر میں اس دن وہ ہنگامہ نا کرتی تو فلک زندہ ہوتی آج”۔ اسنے نم لہجہ میں کہا۔ اسکی آنکھ سے خاموشی سے آنسو بہنے لگے تھے۔ جابر نے آگے ہوکر اسکے آنسو صاف کرتے اسکا سر اپنے سینے سے لگایا تھا۔

” تاشہ تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا ، تم نے کچھ بھی نہیں کیا”۔ وہ اسے خود میں بھینچتا اسکی پیٹھ سہلاتا محبت سے گویا ہوا۔

” جابر مجھے معاف کردو “۔ وہ ایک بار پھر سسکی۔

” تاشہ پلیز مجھے مزید تکلیف نا دو”۔ وہ اسکے ماتھے پہ لب رکھتا کرب سے آنکھیں مینچ گیا تھا۔ کئ لمحے یونہی بیت گئے۔ جابر نے اسے کچھ لمحوں بعد خود سے دور کیا تو پہلے سے خود کو کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔

کھانا وہ دونوں کھا چکے تھے۔ جابر اسے کمرے میں لے کر گیا۔ منت سو رہی تھی۔ تاشہ کے نجانے کیوں پیر کپکپائے، اسنے خود کو فوراً واشروم میں بند کرنا چاہا پر یہ اتنا آسان نا تھا۔

جابر پہلے ہی اسکے ارادے جانتا تھا۔ اسنے یکدم اسے پیچھے سے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیا تو تاشہ کا دل مانوں ڈھول کی مانند اسکے کانوں میں بجنے لگا۔

” جابر۔۔!!”۔ اسنے اسکی گرفت سے خود کو آزاد کروانا چاہا۔ جابر نے اسکی کوشش کو نظر انداز کرتے اسے ایک جھٹکے سے دیوار کے ساتھ لگاتے اپنا انگوٹھا اسکے لبوں پہ پھیرا۔ تاشہ کے لیئے نظریں اٹھانا مشکل ترین عمل ہوگیا تھا۔ جابر کی انگلیاں سرکتی ہوئ اسکی گردن میں پیوست ہوئیں ایک جھٹکے سے اسکا سر اونچا کیا گیا اور بنا مزید وقت بربادی کیئے وہ اسکے لبوں پہ جھکا جام محبت پینے لگا۔ تاشہ اسکی گرفت میں پھڑپھڑا کر رہ گئ تھی۔ اسکے لبوں پہ اپنی شدتیں لٹانے کے بعد اسنے نظر اسکی گردن پہ موجود تل پہ گئ وہ بہکتا ہوا اسکی گردن پہ جھکا تھا۔

” جابر منت جاگ جائے گی”۔ اسنے ڈر کر کہا۔ جابر نے سر اٹھا کر اسے گھورا۔ تو وہ اسکے گھورنے پہ نظریں جھکا گئ۔ جابر نے یکدم اسے اپنی بانہوں میں بھرا اور کمرے سے لے کر نکلتا برابر والے کمرے میں گھسا جو گیسٹ روم تھا۔

” اب تو کوئ پریشانی نہیں ناں آپ محترمہ کو”۔ وہ اسے بیڈ پہ دھیرے سے لٹاتا اپنی شرٹ کے بٹن کھولتا بولا۔ وہ اسکی حرکت پہ آنکھیں مینچ گئ تھی۔ وہ زیر لب مسکراتا اسے اپنی آغوش میں لے چکا تھا۔ وہ اسکی آغوش میں سمٹ سی گئ تھی۔

لمحے بیتتے گئے اور دوریاں سمیٹتی گئ ، وہ اسے اپنی محبت کا احساس دلاتا وہ اسے اور خود کو ایک کر گیا تھا۔ وہ شرمائ لجائ سی اسکی باہوں میں چہرہ چھپائے پڑی تھی۔ جابر دھیرے سے مسکرایا تھا۔

♧♧♧♧♧

تین سال بعد۔۔۔۔

“افف کیا تماشہ لگا رکھا ہے آپ باپ بچوں نے”۔ تاشہ کچن سے نکل کر ان تینوں پہ چیخی تھی۔

” کیا تماشہ لگایا ہے ؟؟ “۔ جابر نے ڈھٹائ سے آنکھیں دکھا کر پوچھا۔

” میں کہہ رہی ہوں تینوں کو سدھر جاؤ نہیں تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا”۔ وہ چڑے ہوئے انداز میں کہتی اپنا بھاری وجود لیئے لاؤنج میں بکھری چیزیں سمیٹنے لگی تھی۔

” تم سے برا تو کوئ ہے بھی نہیں میری جان”۔ جابر نے ایک آنکھ دبا کر کہا۔

” جابر”۔ اسنے اسے گھورا۔

” بس گھورتی ہی رہنا تم مجھ معصوم کو ساری زندگی”۔ جابر نے منہ بنا کر کہا۔

” منت فلک اٹھو دنوں جاؤ فیس واش کرو دونوں”۔ وہ دونوں کی بری حالت دیکھ ذرا سختی سے بولی۔

منت ماں کے ڈر سے خود بھی اٹھی اور دو سالہ فلک کو بھی اٹھایا اسکا بھی منہ دھلوایا۔ اور پھر وہ دونوں اوپر اپنے کمرے میں جاچکی تھیں۔

” کیا ہوگیا ہے یار اتنا غصہ”۔ وہ اسکے ماتھے پہ بل دیکھ کر بولا۔

” نہیں کرو ابھی تنگ طبیعت سہی نہیں میری”۔ وہ چڑ کر بولی۔

” پچھلے آٹھ ماہ سے میں یہ ہی سن رہا ہوں”۔ وہ اسے محبت سے تکتا بولا۔

” تنگ آگئے ہو یعنی تم”۔ وہ گرجی۔

” میں نے یہ کب کہا کہ میں تنگ آگیا ہوں”۔ جابر حیران ہوا۔

” نہیں کر و یار تنگ “۔ وہ بیزاریت سے کہتی صوفہ کی پشت پہ سر ٹکا کر آنکھیں موند گئ۔ جابر خاموشی سے اٹھا اور اسکے کندھے دبانے لگا۔

” اب بہتر محسوس کر رہی ہو”۔ اسنے اسکے چہرے پہ سکون چھاتے دیکھ پوچھا۔

” ہاں کافی”۔ اسنے آنکھیں کھول کر اسے مسکرا کر تکتے کہا۔

” گڈ چلو اب اٹھو میں کھانا لگاتا ہوں کھانا کھائیں”۔ وہ اسے اٹھاتا ڈائیننگ ٹیبل تک لایا تھا۔

وہ چیئر کھسکا کر بیٹھتی جابر کو دیکھ مسکائ تھی۔ جابر نے ٹیبل پہ کھانا لگاتے منت کو آواز لگائی جو اپنے اور فلک کے کپڑے چینج کرا کر نیچے آئ تھی۔ فلک یلو کل کی فراک میں موٹی گھبلو سی بڑی پیاری لگ رہی تھی۔ جابر اسے محبت سے گود میں اٹھاتا مسکایا۔

” مائے بچہ کا ہوا”۔ جابر اسکے گال پہ پیار کرتا بولا۔

” بابا “۔ وہ اسکے چہرے پہ پیار کرتی چھوٹی آواز میں بولی جابر یکدم مسکرایا۔

” منت میرا بچہ جلدی سے بیٹھو اور یہ جتنا کھانا میں نے آپ کی پلیٹ میں ڈالا ہے ناں سارا کھانا ہے اوکے نہیں تو میں ناراض ہوجاؤں گا”۔ وہ منت کو کھانے کی پلیٹ کو گھورتا دیکھ گویا ہوا۔

” پر بابا اٹس ٹو مچ”۔ وہ منہ بسورتے گویا ہوئ۔

” خاموشی سے کھاؤ”۔ تھوڑے روعب سے کہا گیا تو وہ خاموشی کھانا کھانے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد ان چاروں کی چھوٹی باتوں پہ پڑنے والے قہقہہ گونج اٹھے تھے۔

سامنے دیوار پہ لگی۔ فلک کی قد آدم تصویر اسکے بھی انکے بیچ موجود ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧

“جب یہ محبت کا پنچھی ہم جیسوں کو جکڑتا ہے نا تو چاروں طرف سے جکڑتا ہے ، پھر ہمارے یہ دعوے کہ محبت نہیں ہوتی ، دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور یہ دل کمبخت فدا بھی اس پہ ہوجاتا ہے جسے ہم نے بار ہا کہا ہوتا ہے ۔ محبت نہیں ہوتی۔۔۔!!!”۔ جابر مسکرا کر بولا۔

” کچھ بھی۔۔!!”۔ تاشہ نے اسے گھورا۔

” کچھ بھی تو نہیں یہ جملے میرے عشق کے آگے”۔ وہ مسکرایا۔

” چاچو آپ ناں بڑے ایو ہو”۔ حوریہ نے متلانے کی ایکٹنگ کرتے کہا۔

” تم تو چپ ہی رہو اپنی خالہ کی چمچی جابر نے اسے گھورا۔

جابر اور تاشہ کے ہاں کل ایک بیٹے نے جنم لیا تھا۔ وہ سب لوگ کراچی سے پشاور آئے تھے۔ صبور کے ہاں بھی ایک دو سال کا بیٹا تھا ، تھا تو دو سال کا پر اسکی حرکتیں دو سال کے بچوں والی نا تھی۔ وہ ایسا بچہ تھا جو کبھی سکون سے نہیں بیٹھ سکتا تھا۔ وہ چھوٹا پیکٹ بڑا دھماکا تھا وہ اپنی بہنوں کی جان تھا۔ اپنی ماں کا لاڈلا پر اکثر اپنی ماں سے پٹ جایا کرتا تھا۔ باپ کی تو وہ جان تھا۔ وہ الگ بات تھی کہ اسکی حرکتیں دیکھ اسکے باپ کی جان آدھی ہوئ رہتی تھی۔

حوریہ کو بہت منانا چاہا علی نے پر وہ نا مانی علی نے بھی ہمت ہار دی تھی اور اپنی امی کی پسند کی لڑکی سے شادی کر لی تھی۔ جویریہ کے اسکول ٹائم کے کلاس فیلو نے اسے پروپوز کیا پر جویریہ نے انکار کردیا۔

اسے سب نے بہت سمجھایا صبور نے بھی پر اسکے الفاظ سن کر صبور بھی خاموش ہوگئ۔

“میں اپنی ماں جیسی کمزور عورت نہیں بننا چاہتی ، میں اپنی ساری زندگی مرد کی بے وفائ پہ رونے والوں میں سے نہیں ہوں ، ہاں میں ہنستی ہوں بہت پر در حقیقت میرا دل روتا ہے۔ میں ان آنکھوں کو رونے نہیں دونگی کبھی ، میں ایسی روتی آنکھوں کو رونے سے بچانا چاہتی ہوں مجھے لوگوں کے لیئے بہت کام کرنا ہے ابھی میری زندگی کے مقصد میں کہیں بھی شادی نہیں”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی بات ہی ختم کر گئ تھی۔ وہ دونوں جہانداد کو بظاہر تو معاف کرچکی تھیں پر دل سے معاف کرنا شاید اتنا آسان نا تھا۔

ختم شد♥️