Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 8)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 8)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
“تاشہ تم طلاق کیوں لے رہی ہو انسے”۔ فلک نے اسکے نرم گداز ہاتھ پہ اپنا مخروطی ہاتھ رکھا۔
” اسنے مجھے دھوکہ دیا ہے “۔ وہ گم سن سی گویا ہوئ۔
” تم معاف کردو “۔ فلک نے جیسے منت کی۔
” نہیں کر سکتی”۔ سرد مہری سے کہا گیا۔
” ایک بار کوشش کرکے دیکھو موقع تو دے کر دیکھو”۔ فلک نے ایک نئ کوشش کرنا چاہی۔
” نا ممکن”۔ وہ بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹی نم آواز میں بولی۔
” سنو اگر میں طلاق لے لوں تو تم پھر کیا رہ لوگی”۔ فلک نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
” خود غرض نہیں ہوں میں۔۔! “۔ زرتاشہ کو اسکی بات بری لگی۔
” تاشہ تم اس سے طلاق میری وجہ سے ہی تو لے رہی ہو ، پھر اگر میں ہی نا رہوں تو طلاق کی کیا ضرورت تمہیں”۔ فلک نے یہ سب کس دل سے کہا تھا یہ محض وہی جانتی تھی۔
“پر میں ایسا نہیں چاہتی کے تم اپنی زندگی برباد کرو”۔ وہ خفا ہوئ۔
” تو پھر دے دو ناں اسے ایک موقعہ جیسے میں نے دیا ہے”۔ وہ اسکو تکتی آس سے پوچھ رہی تھی۔
” مشکل ہے”۔ اسنے پست لہجہ میں کہا۔
” کوشش کرکے دیکھ لو”۔ فلک نے منت کی۔
” صرف تمہاری خاطر”۔ وہ فلک کے چہرے پہ آس کے رنگ تکتی دھیرے سے گویا ہوئ۔
” تھینک یو تاشہ تم دیکھنا اگر اسنے ذرا بھی اونچ نیچ دکھائی نا ملکر اسکی ہڈیاں توڑیں گے”۔ فلک نے چہک کر کہا۔
” تمہیں کٹائی پٹائ کرنا اتنا پسند کیوں ہے”۔ تاشہ نے ہنستے پوچھا۔
” پتہ نہیں کوئ اندازہ نہیں پر مجھے بڑی ہی چس چڑتی ہے لوگوں کو کوٹ پیٹ کر اور جابر کو پیٹ کر تو روح میں چین اتر جاتا ہے ۔۔۔ بلکہ ایسا کرتے ہیں ہم مارشل آرٹس کا کورس کر لیتے ہیں”۔ وہ چہکتی شرارت سے گویا ہوئ۔
” توبہ کرو میرا کوئ ارادہ نہیں “۔ وہ اسکے ارادوں سے ڈری۔
” نہیں ہم کورس کریں گے لکھ کر لے لو”۔ وہ اٹل لہجہ میں بولی۔
” تم لے لینا میں لے کر کیا کرونگی”۔ اسنے سادگی سے کہا۔
” ارے کیا کروگی کیا مطلب ، جابر خان کو ملکر پیٹیں گے اور کیا کریں گے”۔ وہ چہکتی گویا ہوئ۔ اسکی آنکھوں میں جگنو سے چمک رہے تھے جنہیں دیکھ زرتاشہ دھیرے سے مسکرا رہی تھی۔
” تم ناں ۔۔! بلکل پاگل ہو”۔ وہ ہنسی۔
” اب میں نے کونسی ایسی پاگلوں والی بات کردی”۔ وہ اسے تکتی خفگی سے گویا ہوئ۔
” اچھا ناں خفا نا ہو مذاق کر ہی تھی”۔ زرتاشہ نے اسکا پھولا منہ دیکھ کر نرمی سے کہا۔
” چلو چھوڑو یہ سب کچھ اچھا سا پکا کر کھلاؤ ناں لنچ میں آج”۔ فلک بیڈ سے اٹھتی بولی۔
” ہمم چلو بتاؤ کیا کھاؤ گی”۔ وہ بھی اٹھتی دوپٹہ اچھے سے کندھوں پہ پھیلائے اٹھی۔
” اممم لازانیہ بنا کر دو آج مجھے اور منت کو”۔ وہ ٹھوڑی پہ انگلی رکھتی سوچتی یکدم چہک کر بولی۔
” چلو پھر لگو میرے ساتھ کچن میں”۔ وہ مسکرا کر اسے کہتی اپنے ساتھ کچن میں لے کر چلی گئ۔ کچن سے برتنوں کی اور دونوں کی باتوں کی آوازیں پورے گھر میں پھیلی ہوئ تھیں۔
♧♧♧♧♧♧♧
” اور بھئ کیا ہو رہا ہے۔ کام کہاں تک پہنچا”۔ جہانداد اپنے آفس روم میں داخل ہوا۔ سامنے بیٹھی حوریہ نے لیپ ٹاپ پہ سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
” کچھ دن مزید لگیں گے۔ زیادہ سے زیادہ پانچ دن یا پھر مزید ایک ہفتہ لگے گا”۔ حوریہ کام پر دوبارہ فوکس کرتی بولی۔
” اچھا سہی یہ تو اچھی بات ہے۔ جویریہ کہاں ہے؟؟؟”۔ اسنے پیپر ویٹ گھمایا۔
” اسی کیس کے حوالے سے وہ اور علی گئے ہوئے ہیں”۔ اسنے سر اٹھا کر بتایا۔
” اوہ چلو بہتر ہے”۔ پُرسوچ انداز میں جواب دیا۔
” آپ نے اپنے حصے کا کام کر لیا ڈیڈ؟؟”۔ حوریہ سنجیدگی سے مستفسر ہوئ۔
” ہمم ہوگیا تم نے دیکھا نہیں ، انٹرویو معید کو ہنٹس تو دے دیئے ہیں تھوڑے تھوڑے اور میں اسکا چیلنج بھی لائیو انٹرویو کے دوران ایکسیپٹ کرکے آگیا ہوں۔ پر اب بس ہماری باقی کی پلیننگ اچھے سے ہوجائے۔ ایک بار اس سب سے پردہ اُٹھ جائے تو بس پھر رُکنا نہیں ہے حوریہ تہلکا مچا دینا ہے”۔ جہانداد ایک عظم سے بولا۔
” انشاءاللہ ڈیڈ ایسا ہی ہوگا۔ ہماری اتنی زیادہ محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔ جیت ہمارے مقدر ہی آئے گی”۔ حوریہ کا پختہ لہجہ جہانداد کی ہمت مزید بڑھا گیا تھا۔
” انشاءاللہ اللہ رب العزت تمہاری زبان مبارک کریں “۔ اسنے اپنی بیٹی کو محبت سے تکا۔ وہ بھی دھیرے سے مسکرائ۔۔۔ اور پھر واپس اپنے کام پہ جت گئ۔
جہانداد نے ٹیبل پہ پڑی فائلز کھولیں۔ ایک کے بعد ایک فائل کے پنے پلٹتے اسکے ماتھے پہ سوچ کی لکیریں گہری ہوتی جارہی تھیں۔ وہ ایک ایک پوائنٹ کا بغور مطالعہ کر رہا تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ فارغ ہوا تو کچھ یاد آنے پہ حوریہ سے مخاطب ہوا۔
” بیٹے ایک بات تو بتائیے ؟؟؟۔”
” جی ڈیڈ کہیئے۔” اسنے مصروف سے انداز میں کہا۔
” ثبور کو بختاور کے بارے میں ۔۔آپ۔۔ ؟؟؟؟ ۔” اسکی ادھوری بات حوریہ بہت اچھے سے سمجھ گئ تھی۔ خاموش نگاہیں اٹھا کر باپ کو دیکھا۔ لیپ ٹاپ کی سکرین شٹ ڈاؤن کرتی دھیمے لہجے میں بولنا شروع ہوئ۔
” جی میں نے بتایا سب کیوں ڈیڈ کوئ مسئلہ؟؟۔” لہجہ عام سا تھا۔
” بیٹے وہ سب ماضی تھا۔” ادھورے الفاظ کے سنگ احتجاج ہوا۔
” ہمم بے شک ماضی تھا۔ پر کیا گارنٹی ہے آپکے پاس کہ جو ماضی میں ہوا وہ اب دھرایا نہیں جائے گا”۔ وہ کرسی پہ ریلیکس ہوکر بیٹھی۔
” میں گارنٹی کیا دوں۔ پر جو ہوا وہ میری کم عقلی تھی اب میں کوئ بچہ نہیں۔” اسنے بے بسی سے کہا۔
” سہی کہہ رہے ہیں ڈیڈ اب آپ بچے نہیں رہے جبھی آپ بختاور آنٹی جیسی منافق عورت کو گھر رکنے کے لیئے اٹھا لائے۔” نفرت سے جواب دیا۔
” منافق۔۔۔ حوریہ کیسے الفاظ استعمال کرنے لگ گئ ہو منافق کے حقیقی معنی جانتی بھی ہو”۔ وہ اسپہ خفا ہوا۔
” نہیں ڈیڈ میں منافق کے معنی نہیں جانتی۔ پر ہاں میں منافق کی جیتی جاگتی تصویر کو ضرور جانتی ہوں۔ جسکا نام بختاور ہے۔” اسکی باتوں اور چہرے سے محض ڈھیروں نفرت عیاں تھی۔
” کچھ دن کے لیئے آئ ہے۔ چلی جائے گی وہ اپنے گھر۔” جہانداد نے اسے بتانا ضروری سمجھا۔
” جی جانا تو انکو پڑے گا اب آپکی بیوی انکو رہنے دیں گی تو وہ رہے گی ناں۔” حوریہ نے آنکھیں مٹکا کر کہا۔
” حوریہ وہ بیچاری بلکل اکیلی ہے”۔ جہانداد کے ہر انداز سے بختاور کے لیئے ہمدردی ٹپک رہی تھی۔
” ڈیڈ لگتا ہے کہ رات کافی اچھی نیند آگئ تھی آپکو گارڈن میں جبھی آپ اتنی بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔” حوریہ نے دانت نکال کر باپ کو تکا۔
“تم اچھا نہیں کر رہی ثبور کو بختاور کے خلاف کرکے۔” جہانداد بے بس ہوا۔
” یہ تو میں بہت اچھا کر رہی ہوں ہے ناں پاپا۔” اسنے معصومیت سے تکا۔
” حوریہ اسکا گھر کمپلیٹ ہونے میں مزید چند ماہ لگیں گے۔ یار کیوں میرے لیئے مسئلے بڑھا رہی ہو۔” وہ جیسے عاجز آیا۔
” ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔!!! جو کیا ہے آپ نے خود کیا ہے۔ پلیز اب مجھے نا گھسیٹیں۔” اسنے ٹیبل پہ پڑا اپنا موبائل اٹھایا۔
” پلیز مزید کوئ بات اب ثبور کے سامنے مت کرنا۔” سختی سے کہا گیا۔
” ڈیڈ اگر آپ چاہتے ہیں ناں آپکی عزت آپکی بیوی کی نظروں میں برقرار رہے تو پلیز۔۔۔ بختاور آنٹی کو بھیج دیجیئے انکے گھر۔۔۔ ابھی تو سرسری سی کہانی سنائ ہے۔ پر اگر بختاور آنٹی نہیں گئیں ہمارے گھر سے تو میں ایک ایک قصہ کھول کر رکھ دوں گی۔ بلکہ میں ماما کی ڈائری انکو دینے میں دیر نہیں لگاؤں گی۔” لہجہ میں چٹانوں سی سختی تھی۔
” کیا مطلب کِسے دینے میں دیر نہیں لگاؤ گی؟؟؟۔” اسکے انداز پہ جہانداد کو بھی غصہ آیا۔
” مطلب یہ کہ میں آپکی بیوی مس ثبور کو ڈائری فوراً دے دوں گی۔ تاکہ آپکو اچھے سے جاننے کا موقع ملے انہیں۔” نرمی سے جواب دیا۔
” حوریہ تم ایسا کچھ نہیں کروگی۔ کیوں کر رہی ہو ایسا؟؟؟۔ وہ ماضی تھا یہ حال ہے میں اپنی غلطیوں کوتاہیوں پہ بے حد شرمندہ ہوں۔” بے بسی سی بے بسی تھی۔
” آپکے شرمندہ ہونے سے میری ماں کی زندگی میں انکو ملے غم و دکھ کم نہیں ہوجائیں گے۔” اسکی آواز روندھ گئ تھی۔
” حوریہ معاف نہیں کرسکتی تم مجھے ؟؟؟ انسان ہوں میرے بچے اور غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں۔” شرمندگی اسکے ہر انداز میں پنہاں تھی۔
” پاپا میں شاید۔۔۔” وہ رکی آنسوؤں کو پیا، سر اٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا، جو اسے ایک امید سے تک رہا تھا، اور پھر الفاظ کی مالا پروتی گویا ہوئ۔
” شاید۔۔۔ میں آپکو معاف کردیتی ، شاید!!! اگر آپ مس ثبور سے شادی نا کرتے۔” اسنے شاید پہ بے حد زور دیا۔
” حوریہ میں نے شادی گھر کی خاطر کی ہے، کُک چلی گئ تھی ، ماسی چلی گئ تھی، میں کیسے سب مینج کرتا گھر کی صفائی تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا، رہی کُکنگ کی بات تو وہ نا تمہیں کرنا آتی ہے نا جویریہ کو بہت مشکل تھا میرے لیئے سب کچھ ساتھ مینج کرنا اور سونے پہ سہاگہ مشین بھی مجھے ہی لگانی پڑتی تھی۔” اسنے صفائی پیش کی۔
” ڈیڈ اگر آپ تھوڑا تحمل سے کام لیتے تو ماسی بھی مل جاتی کُک بھی مل جاتی ، ہم بھی گھر کے کام کرنا سیکھ جاتے، پر آپ کو تو بہت جلدی تھی، میری مما کی جگہ کسی اور کو دینے کی۔” اسنے سرد آہ خارج کرتے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر گرا دیا۔وہ بغور فرش کو تک رہی تھی، یہ بے جاء بحث کرتے کرتے اسکے سر میں درد ہونے لگا تھا۔
” اب کیا کروں میں جو ہونا تھا وہ تو ویسے بھی ہوگیا نا۔” اسنے اپنے خشک لبوں پہ لب پھیرے۔
” ہمم جو ہونا تھا ، وہ تو ویسے بھی ہوگیا ، وہ کہتے ہیں نا۔۔۔
” جو چلتی سانسوں سے وفا کر نا سکے “
” وہ خاک نشینوں سے بھلا کیا نبھائیں گے”
تو بس آپ کا معاملا بھی کچھ ایسا ہی ہے ، ڈیڈ آپ کبھی میری مما سے انکی زندگی میں وفا نا کرسکے اب کیا خاک کریں گے ، کر بھی کیسے سکیں گے ، ایک خاک سی عورت حقیقتاً خاک بن گئ ، پر آپ کی وفائیں کبھی نصیب نا بنیں۔” وہ دکھ سے کہتی اٹھی تھی۔ آفس کا دروازہ کھول کر نکلنے سے پہلے وہ رکی مڑی ، اپنے باپ کو ایک نظر تکا۔
” ڈیڈ سوری۔” آخری الفاظ ادا کرتی وہ آفس کا دروازہ دھیرے سے بند کرتی نکل گئ تھی۔ جہانداد محض خالی دروازے کو تکتا رہ گیا تھا۔ دل نے شدت سے وقت کے پلٹ جانے کی دعا کی تھی، پر لوٹا وقت واپس بھی کبھی آیا ہے۔ جو آج اسکے چاہ لینے سے آجاتا ، ماضی میں اٹھائے الجھے قدم آج اسکے گرد گہرا جال بُن چکے تھے۔ وہ اپنے کیئے پہ شرمندہ تھا ، بے حد شرمندہ ، پر کیا اسکی شرمندگی کسی کی زندگی کے دکھوں کو کم کرسکتی تھی۔۔؟؟؟ نہیں شاید کبھی نہیں وہ جتنا بھی شرمندہ ہوجاتا ، پر وہ کسی کی زندگی خاک کر گیا تھا، وہ جو دُنیا کی نظر میں ایک انتہائ پرفیکٹ انسان تھا ، اپنی نجی زندگی میں وہ اتنا ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ، وہ جو دوسروں کے لیئے حق کی آواز اٹھانے والا تھا ، وہ پنے ہی سب سے قریبی رشتے کے ساتھ ساری زندگی زیادتی کرتا آیا تھا۔
♧♧♧♧♧♧♧
ثبور کی بند آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے ، ماضی کے پنے کُھلتے اور اسے اذیت دینے لگتے، اسے آج بھی یاد تھا وہ بھیانک دن ، جب اسکی سب سے پیاری سہیلی کا قتل ہوا ، اسکے معذور بچے کو ماں کے سائے سے محروم کر دیا ، ماضی اسکی بند آنکھوں کے پردوں پہ اپنا آپ ایک بار پھر دہرانے لگا۔
” دادی بھوک لگ رہی ہے مجھے ، پتہ نہیں کھانا کب پکے کا ، قسم سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔” وہ دادی کے پاس تخت پہ دھپ سے بیٹھی تو دادی نے اسے گھوری سے نوازا۔
” آرام سے نہیں بیٹھا جاتا ، جب دیکھو بندروں کی طرح اچھلتی کودتی رہتی ہو۔” دادی نے سنائ۔
” کیا دادی آرام سے ہی تو بیٹھی تھی ، آپ بوڑھی ہوگئ ہو ناں اس لیئے میرے آرام سے بیٹھنے پہ بھی دہہل جاتی ہو۔” وہ دادی کے ساتھ چہکی تھی۔
” آئے ہائے بوڑھی کسے کہا ، تجھ جیسی بندروں سے تو اب بھی حسین و جوان ہوں۔” دادی نے برا منایا۔
” اوہ میری پیاری حسین و جوان بوڑھی دادی ، کونسی پھکی کھا کر سوتی ہو جو ایسے خواب آتے ہیں۔” اسنے پیر جھلاتے دادی کو شرارت سے تکا۔
” بتاؤن میں تجھے زرا مین کونسی پھکی کھا کر سوتی ہوں ۔۔!!۔” دادی نے جھک کر چپل کو ہاتھ میں اٹھایا۔
” ارے آپ تو سیریس ہوگئ دادو میں تو مذاق کر رہی تھی ، اوہو یہ چپل تو ذرا نیچے رکھو ، کیوں فضول میں مجھ معصوم کو یہ اپنی سستی لےلون کی چپل دکھا کر ڈرا رہی ہو۔” اسنے انکے ہاتھ سے زبردستی چپل کو کھینچ کر تخت کے نیچے دادی کی پہنچ سے بہت دور پھینکا۔
” بڑی ہی کوئ منحوس ماری ہے۔۔۔۔ تو ثبور فوراً میری چپل تخت کے نیچے سے نکال کر سامنے رکھ۔” دادی گرجیں۔
” سوچنا بھی مت میں نکالوں گی ، توبہ میری جس چپل سے ابھی آپ میری کٹ لگانے والی تھیں مجھے کیا پڑی ہے اس چپل کو نکال کر باہر رکھنے کی۔” وہ چمکی تھی۔
” اب تو یہ چپل تو ہی نکالے گی ، چل آٹھ نکال کر رکھ چہل سامنے “۔ دادی نے پاس پڑا ، لکڑی کا ہاتھ والا پھنکا اٹھا کر اسکے کندھے پہ رکھ کر مارا ، وہ درد سے بلبلاتی چیخی تھی۔
” ہائے دادی اللہ آپ سے پوچھے گا ، مجھ یتیم پہ جتنا ظلم کرتی ہو ناں تا قیامت آپ سے ایک ایک بات کا حساب لیا جائے گا”۔ وہ اپنا کندھا مسلتی دادی کو قیامت کے آنے کی آگاہی دینے لگی۔
” ہائے ہٹ اٹھ نکمی اور میری چپل سامنے کرکے رکھ نہیں تو اور ماروں گی۔” دادی نے دھمکی دی۔
” اللہ توبہ پوری جلاد کی خالہ ہو دادی آپ تو ، صبر رکھو اُٹھا دیتی ہوں ، تم تو سیریس ہی ہو جاتی ہو بات بات پہ۔” وہ چپل سامنے نکال کر رکھتی شکوہ کر گئ۔
” تیری حرکتیں ہی ایسی ہیں اس میں میرا کوئ دوش نہیں۔” دادی نے ہاتھ والا پنکھا اپنے تکیہ کے نیچے دوبارہ دبایا۔
” اچھا میں تھوڑی دیر انشال کے گھر جارہی ہوں ، اسنے کچھ نا کچھ پکا لیا ہوگا اب تک ، میں وہیں سے کچھ کھا کر آجاتی ہوں۔” وہ منہ بناتی اٹھی تھی۔
” کچھ شرم کر کیوں اسکے سر پہ جاکے بیٹھ جاتی ہے روزانہ ، تھوڑا اپنے ان زنگ لگے پُرزوں کو بھی ہلا لیا کر کبھی خود بھی مر جایا کر کچن میں زہر بنانے۔” دادی نے کچھ شرم دلانا چاہی۔
” دادی شرم اور ثبور کا دور دور تک کوئ تعلق نہیں ، اور رہی اسکے سر پہ بیٹھ جانے کی بات تو ، توبہ کرو میں اتنی بڑی اسکا سر اتنا سا کیوں مجھے غلط سلط ۔مشورے دے کر بیچاری پہ ظلم کرتی ہو ، ویسے بات تو ٹھیک کہہ رہی ہو دادی کہ کبھی مجھے بھی اپنے زنگ لگے پُرزے ہلا لینے چاہئییں ، کبھی تھوڑا زہر ہی بنا لیا کروں ، پھر کیا خیال ہے دادی کس ٹائم زہر کھانا پسند کروگی۔۔۔ اور زہر دودھ میں ملا کر دوں چائے میں ۔۔۔۔ نا نا۔۔۔ یہ ٹھیک نہیں آپکو گاجر کا حلوہ بہت پسند ہے ناں اسی میں ملا کر دے دوں کسی دن آپکو۔” وہ اپنے چہرے پہ مصنوئ معصومیت طاری کرکے کہتی ، دادی کو تو آگ ہی لگا گئ تھی ، اس سے پہلے دادی چپل اٹھا کر اسے ٹکاتیں وہ بنا پیچھے تکے دادی کے کمرے سے بجلی کی تیزی سے نکلی تھی۔ وہ گھر سے نکلتی برابر والے گھر کا دروازہ زور زور سے پیٹنے لگی تھی ، کافی دیر دروازہ پیٹنے کے بعد آخر کار انشال نے آکر دروازہ کھولا تھا۔
” توبہ کہاں مر گئ تھی تم ، کتنی گرمی ہے ، باہر دھوپ میں کھڑے کھڑے میرا تو رنگ ہی جل گیا۔” ثبور اسپہ خفا ہوئ۔
” ارے کوئ بات نہیں رنگ زیادہ نہیں جلا تھوڑا ہی جلا ہے، جونے سے اچھے سے تمھاری بوتھی رگڑوں گی ناں تو بلکل میرے کچن میں استعمال ہونے والے پتیلوں کی طرح چمک جاؤ گی۔” اسنے مسکرا کر اسے چھیڑا۔
” لو دادی سے جان چھڑا کر آئ ادھر تم شروع ہوگئ کبھی سکون سے نا چھوڑنا تم لوگ مجھے “۔ وہ منہ بناتی اسکے پیچھے کچن میں گھسی تھی۔
” لگتا ہے۔۔۔ دادی نے بھی عزت کردی شہزادی صاحبہ کی اسی لیئے موڈ خاصہ خراب ہے۔” وہ چولہہ کی آنچ کم کرتی ، شرارت سے مسکرائ تھی۔
” ایسا کچھ بھی نہیں ۔” منہ بنا کر جواب دیا۔
” مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے۔” وہ ہنسی۔
” میں نے کہا ناں ایسا کچھ بھی نہیں ہوا مطلب کچھ بھی نہیں ہوا۔” وہ روٹھی۔
” اچھا ناں نہیں ہوا میں تو مزاق کر رہی تھی تم سے ایک تو تم بھی دادی کی طرح سیریس ہو جاتی ہو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ۔” وہ اسکے سر پہ چپت رسید کرتی بولی۔
” کھانا لگا دو یار ، بھوک لگ رہی ہے بہت۔” اسنے منہ بسور کر کہا۔
” اچھا جاؤ باہر بیٹھو بلکہ ایسا کرو آیان کو دیکھو اگر جاگ گیا ہے تو اسے بھی لے آؤ ، تینوں ملکر کھانا کھاتے ہیں۔” اسنے فریج سے دہی نکالا ، دہی کو کٹورے میں انڈیل کر پھینٹتی اسے مصروفیت سے بولی۔
” اچھا چلو پھر جلدی کھانا لاؤ۔” وہ چہکتی کچن سے نکلی تھی۔
وہ روم میں گئ تو آیان جاگ رہا تھا، وہ آیان کو گود میں اٹھاتی اسکے گالوں پہ چٹا چٹ پیار کر گئ تھی، آیان نے اپنا ہاتھ ڈھیلا کر کے گھما کر اسکے منہ پہ مارا، اسنے چیخ مار کر اپنے منہ پہ ہاتھ رکھا اور آیان کو خشگمین نگاہوں سے گھورنے لگی، اسکے گھورنے پہ آیان کھلکھلایا۔ اسکی کھکھلاہٹ پہ ثبور بھی مسکرائ تھی۔ وہ اسے لیکر حال میں آئ ، انشال نے کھانا لگا دیا تھا اور دسترخوان پہ بیٹھی انکا انتیظار کر رہی تھی۔ آیان کو دیکھ وہ محبت سے اپنے لختہ جگر کو مخاطب کر گئ تھی۔
” میرا بچہ آٹھ گیا۔” اسنے پیار سے اسے ثبور کی گود سے لیا اور اسکے گال پہ پیار کیا۔
” نننی پوری ہوگئ میرے چاند کی۔” وہ اسے اپنے برابر میں بٹھا کر اس سے مستفسر ہوئ۔
” آں ننی تَم۔” (ہاں نیند ختم۔) وہ سر کو بڑی ہی فرماںبرداری سے جنبش دیتا ماں کا آنچل اپنے سر پہ ڈال گیا تھا۔ ثبور نے اسکے ننھے ہاتھوں سے اسکی ماں کا آنچل کھینچا اور انشال کے گرد بازو حائل کرکے بولی۔
” میری مما ہیں ، آپکی نہیں ہیں۔”
” ناں دندی میلی مما۔” ( نہیں گندی میری مما۔) اسنے اپنے ننھے ہاتھوں سے ثبور کے ہاتھوں کی پٹائی کی۔ثبور نے شکوہ کرنے کو جیسے ہی انشال کی طرف سر اٹھایا ، انشال کو گہری سوچوں میں گم پایا۔
” کیا ہوا انشال ، کوئ مسئلہ ہے تم پریشان کیوں ہو۔” ثبور نے اسکی طرف پریشانی سے تکا۔
” ن۔۔نہیں مجھے کیا پریشانی ہوگی ، تم بھی ناں۔” وہ زبردستی ہنسی۔
” اب مجھ سے بھی چھپاؤ گی شرم کرو۔”
” کیا چھاؤں گی میں” اسنے ثبور کے لیئے پلیٹ میں پلاؤ نکالا پلیٹ اسکے آگے رکھ کر اب وہ اپنے اور آیان کے لیئے کھانا نکال رہی تھی۔
” میں نہیں کھا رہی کھانا جارہی ہوں ، سہی ہے بھئ اب تم بھی اپنے مسئلہ مجھ سے چھپاؤ گی۔”وہ خفا ہوتی اٹھی ہی تھی کہ انشال نے اسکی کلائ تھامی اور نم آنکھوں سے اسے تکا۔
” جانتی ہو سب تو دوبارہ کیوں پوچھ پوچھ کر مجھے ہرٹ کرتی ہو؟؟۔”
” میں ۔۔۔۔ میں ہرٹ کرتی ہوں تمہیں جانتی ہوں سب اسی لیئے ہمیشہ کا دیا مشورہ آج بھی دونگی کیوں نہیں بتاتی تم اپنے شوہر کو سب سیدھا کرکے رکھ دے گا ان دو دو ٹکے کے لوگوں کو۔” وہ چٹخی تھی۔
” نہیں میں کیسے بتاؤں گی انکو ، ثبور بہت مشکل ہے ، وہ شاید میری بات کا یقین نا کریں۔” وہ آنسو پیتی بہ مشکل چند الفاظ ادا کر پائ۔
” کیوں نہیں کریں گے یقین ، ضرور کریں گے یقین تم بات تو کرکے دیکھو۔” ثبور نے اسکے حوصلے بلند کرنا چاہے۔
” ثبور کیا بتاؤں گی میں انکو کہ میرا بھائ بھلے سے سوتیلا ہے پر بھائ تو ہے ناں میری ۔۔ اپنی ہی بہن کی عزت پہ نقب لگائے بیٹھا ہے یا پھر یہ بتاؤں کہ میرا سگھا چاچا میرا سسر وہ بھی میرے بھائ کے ساتھ اس پوری کاروائ میں ملوس ہے ، یا یہ بتاؤں گی کہ انکے مطالبات سے انکار کرنے کے بعد وہ مجھے جان سے مارڈالنے کی دھمکی دینے لگے ہیں ، یا پھر یہ بتاؤں گی کہ انہوں نے مجھے یہ کہہ رکھا ہے کہ جس دن وہ مجھے مار دیں گے ، اس دن وہ یہ خبر نشر کردیں گے کہ ان دونوں نے ملکر غیرت کے نام پہ میرا قتل کیا ہے۔” وہ رونے لگی تھی۔ ثبور نے اسے گلے لگایا تھا۔
” اللہ خیر کرے گا تم پریشان مت ہو۔” وہ اسکے آنسو پونچھتی محبت سے بولی۔
” انشاءاللہ۔” اسکی بات پہ انشال کے لبوں سے بے ساختہ انشااللہ ادا ہوا تھا۔
اور پھر اگلے دن فائرنگ کی آواز آئ تھی۔انشال کے گھر سے ثبور بے ساختہ ننگے پیر اسکے گھرکی طرف دوڑی تھی۔ پر جب تک وہ پہنچی اسکی سہیلی کے آٹے میں لتھڑے ہاتھ اور جگہ جگہ فرش پہ بہتا اسکا خون ثبور کو سکتے میں ڈال گیا تھا۔ وہ شخص جس نے اسے گولی ماری تھی وہ فرار ہوچکا تھا۔ ثبور ٹرانس کی کیفیت میں اسکی لاش کے سراہنے آکر بیٹھی تھی۔ اسکے بہتے خون سے خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ بے حد پیاری خوشبو جیسے کسی نے فضا میں عطر چھڑک دیا ہو۔ اسکے معصوم چہرے پہ پیاری سی مسکان تھی۔ ثبور کے گال پہ ایک آنسو پھسلا ، اس ایک آنسو نے اسکا سکتہ توڑ دیا ، وہ اپنی پیاری سہیلی کو خون میں نہائے دیکھ تڑپ تڑپ کر روئ تھی۔ اسکے آنسو تھے کے خشک ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ روتے روتے کبھی آیان کو سینے سے لگا کر پھوٹ پڑتی تو کبھی انشال کو دیکھ سسک پڑتی ، دل تھا کہ غم کی شدت سے پھٹنے کو تھا ، انشال کا شوہر آیا ، انشال کو دیکھ اسکی بھی آنکھیں بھریں تھی ، باہر یہ افوہ پھیلا دی گئ تھی ، غیرت کے نام پہ قتل کیا گیا ہے ، لوگوں نے انشال کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا تھا ، اسے غسل دے کر کفن تک پہنچانے کو کوئ تیار نا تھا ، ثبور کا دل کٹا تھا ، لوگوں کی انشال کے کردار پہ اٌٹھتی باتیں ثبور کے وجود میں غیض و غضب بھر گئیں تھی ، وہ لوگوں پہ بے تحاشہ چیخی تھی ، وہ چیخ چیخ کر اسکے بے گناہ ہونے کی صفائی دے رہی تھی ، اسے روتے چلاتے دیکھ آیان رونے لگا تھا ، وہ آیان کو اپنے سینے سے لگائے سسکی تھی ، انشال کے شوہر کا کوئ دوست آیا تھا باہر جب اسے پتہ چلا کے اسکا جنازہ بھی کوئ پڑھنے کو راضی نہیں اسنے منتیں کرکے چند لوگوں کو آمادہ کیا تھا انشال کا جنازہ پڑھنے پہ اور پھر اسے غسل دے کفن پہنایا گیا ، کفن میں لپٹی انشال کا چہرہ مانوں دمک رہا تھا ، اسکے چہرے سے نور ہی نور پھوٹ رہا تھا ، ثبور اپنی پیاری سکھی کو کفن میں لپٹا دیکھ شدتِ غم سے چلا اٹھی تھی، رو رو کر اسکی آواز بیٹھ گئ تھی ، انشال کی اماں صدمہ میں بیٹھی تھی ، جوان اولاد کا غم انہیں سکتہ میں ڈال گیا تھا ، انشال کی میت کو اُٹھایا گیا نمازِ جنازہ ادا کرکے اسے دفنا دیا گیا ، ثبور آیان کو گود میں لیئے بیٹھی تھی ، آیان اسکی گود میں بیٹھا اپنی روشن آنکھوں کو مٹکاتے، اپنی ماں کو ڈھونڈ رہا تھا ، پر اس معصوم کو اسکی ماں کہیں نا دکھی ، آج اسکے انتقال کا تیسرا دن تھا ، آیان کو اسکی نانی اپنے گھر لے گئ تھیں ، وہ اپنے کمرے میں بیٹھی کمپیوٹر کھول کر بیٹھی ای میل کمپوز کر رہی تھی ، اسکی مخروطی انگلیاں کی بورڈ پہ روانی سے چلتی جارہی تھی ، وہ آخری چند سطریں لکھتی اپنا ای میل سینڈ کرتی اٹھی تھی ، وہ تمام واقعات جو انشال کی زندگی میں سرزد ہوئے تھے ، وہ تمام واقعات وہ ایک نامور نیوز چینل کی سینیئر صحافی کی ٹیم کو میل کرچکی تھی ، وہ انشال کے قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچانا چاہتی تھی ، وہ معصوم آیان کی ماں کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتی تھی۔۔۔ پر شاید مقدر ہی اسکے سنگ نا تھا ،
” ثبور کوئ ضرورت نہیں ان چکروں میں پڑنے کی ، حارث رخصتی چاہتا ہے اب ، یہ بچکانی حرکتیں کرنے کی کوئ ضرورت نہیں۔” دادی تو اسکی بات سن بھڑک اٹھی تھیں۔
” دادی میں انشال کے قاتلوں کو انکے انجام تک پہنچا کر رہوں گی۔” اسکا لہجہ اٹل تھا۔
” پاگل ہوگئ ہے ، لڑکی زات ہے ان چکروں میں نا پڑ۔” دادی نے اسے گھرکا۔
” دادی میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔” اسنے آنسوؤں کا گولا حلق سے نیچے اتارا۔
” تیرا تو میں بندوبست کرتی ہوں ، ایسے تو انسان نہیں بنے گی۔” دادی نے انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی۔
” کوئ کچھ بھی کر لے دادی میں انشال کو انصاف دلوا کر رہوں گی۔” وہ دھیمے لہجہ میں انہیں اپنے ارادوں سے آگاہی دیتی اٹھی تھی۔ اور پھر ایک ہفتے کے اندر اندر اسے حارث کے ساتھ رخصت کر دیا گیا تھا ، اسنے حارث کو بھی بہت کہا تھا اسکی مدد کرنے کو پر حارث نے اسے بھی ڈانٹ کر خاموش کرا دیا ، اور خود تو وہ ویسے بھی خاموش تھا ، بار ہا کوشش کرنے کے باوجود بھی نا حارث خود آگے بڑھا نا اسے بڑھنے دیا۔ انشال کو انصاف دلانے کی امید وہ دل میں لیئے آج بھی اس موقع کے انتیظار میں تھی ، جو اسے انشال کو انصاف دلانے میں مدد دے سکے ، وہ ماضی سے حال میں واپس لوٹ آئ تھی ، اسنے تمام واقعات جہانداد سے ڈسکس کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ، اور اسے ایک موہوم سی امید تھی کہ جہانداد انشال کے قاتلوں کو سزا دلوانے میں اسکا ساتھ ضرور دے گا۔
♧♧♧♧♧♧
وہ اپنے آفس کی بلڈنگ سے نکل کر ، اپنی گاڑی کا ڈور ان لاک کرتا بیٹھا تھا۔ وہ ان کی ناراضگی کا سوچتا ایک فلاور شاپ کے پاس گاڑی روکتا اترا تھا فلاور شاپ سے دو بکے خریدتا وہ واپس آکر گاڑی میں بیٹھا تھا۔ اور انکو منانے کے طریقے سوچتا۔ گاڑی ڈرائیو کرنے لگا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ گھر پہنچا تھا۔ اسکی گاڑی جیسے ہی گھر کے پورچ میں رکی، منت بھاگتی ہوئ باہر آئ تھی۔ وہ گاڑی سے نکلتا مسکرایا تھا اسنے جھک کر برابر والی سیٹ سے دنوں بکے اٹھائے ، اور بھاگ کر آتی منٹ کو گود میں اٹھایا۔
” آشام عیکم “۔ ( اسلام و علیکم) وہ اسکی گود میں چڑھتی ننھی سی آواز میں اسپہ سلامتی بھیجتی مسکرائ تھی۔
” وعلیکم اسلام مائے بے بی کیا ہو رہا ہے بچہ ، آج تو آپ بڑے خوش لگ رہے ہو”۔ وہ اسکے گالوں پہ پیار کرتا شفقت سے بولا۔
” ایشے ای بابا”۔ ( ایشے ہی بابا) وہ چہک کر بولی۔
” ایشے ہی کیوں بیتا”۔ وہ اسی کہ لہجہ میں بولا۔
” بابا ایشے ہی تو بش ایشے ہی”۔ وہ اپنی ناک پھولوں کے بکے کے پاس لیجا کر سونگھتی بولی۔
” اوکے چلو آپکی مما اور موم کیا کر رہی ہیں “۔ وہ مستفسر ہوا۔
” وہ اونوں مووی دیکھ ری ایں”۔ اسنے چہکتے بتایا۔
” اچھا “۔ وہ قدرے حیران ہوا اسے تو لگا تھا ابھی اندر سوگ کا عالم دنوں بنائے بیٹھی ہونگی اسکے صبح والے رویے کے باعث خیر اسنے قدم اندر کچن میں رکھے۔ سامنے وہ دونوں صوفے پہ پیر چڑھائے بیٹھی تھیں۔
” اسلام و علیکم “۔ وہ اندر قدم رکھتا با آواز بلند گویا ہوا۔
” وعلیکم اسلام “۔ دونوں نے اسے جواب دیا پر نظر اٹھا کر ایک نے بھی نا دیکھا۔ وہ انکی ناراضگی دیکھ مسکرایا تھا۔ اسکی نظر تاشہ کی گردن پہ گئ جہاں سنی پلاسٹ دو تین جگہ لگایا تھا۔ اسے اپنے صبح کے رویے پہ مزید افسوس ہوا۔
” اے حسیناؤں تمہارا دیوانہ آگیا”۔ اسنے منت کو گود سے اتار کر چہکتے ہوئے کہا۔
” دیوانہ سے کہو اپنی بوتھی لے کر ہماری نظروں سے دور ہوجائے”۔ فلک نے خونخوار ہوکر کہا۔
” نا کرو نہیں تو اگر ایک دن اس دیوانے کی شکل حقیقتاً گم ہوگئ تو تم دونوں ہی سب سے زیادہ اس بوتھی کو مس کروگی”۔ وہ مسکرا کر بولا۔ پر جواب نا پاکر اسکی ہمت ہی نا ہوئ کچھ بولنے کی۔ وہ زخمی سی مسکراہٹ لیئے اٹھا۔ اور زینے پھلانگتا اوپر چلا گیا تھا۔ ان دونوں نے چور سی نظر اس سمت ڈالی جس طرف وہ گیا تھا اور پھر ایک دوسرے کو دیکھ واپس اپنی توجہ فلم کی طرف مبذول کر گئ تھیں۔
♧♧♧♧♧♧
