Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 4)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 4)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

جابر کی آنکھ کھلی تو اسنے خود کو کمرے میں تنہا پایا ، فلک روم میں موجود نہیں تھی۔ اسے رات کے تمام واقعات یاد آئے تو اسنے پریشانی سے اپنی کنپٹی کو مسلا۔

شاید وہ سر درد کے باعث بہت زیادہ بول گیا تھا ، ایسی باتیں بول گیا تھا جن سے شاید نہیں یقیناً اسکا دل بہت دکھا تھا۔

اسے یاد آیا وہ کل رات زرتاشہ کو بھی بلا فضول کی سنا گیا تھا۔ وہ بھاری ہوتے سر کے ساتھ اٹھتا واشروم میں بند ہوگیا تھا۔

کچھ دیر بعد وہ نہایا دھویا نکلا تو ، اسکی نظر الماری کا ایک پٹ وا کیئے کھڑی فلک پہ گئ جو نا جانے کیا ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ اسکی ناراضگی یاد کرتا بنا آواز پیدا کیئے اسکی پشت پہ جاکر کھڑا ہوا۔ اسکو کمر سے تھامتا اسکی پشت اپنے شرٹ لیس سینے سے چپکا گیا تھا۔ وہ اسکا لمس پاتے ہی یکدم سٹپٹائ تھی۔ وہ اسکی گرفت سے خود کو آزاد کرنے کی کوشش میں مکمل طور پہ اب اسکی بانہوں کے حصار میں آگئ تھی۔

” چھوڑیں مجھے”۔ جھنجھلاہٹ سے کہا گیا۔

” نا ممکن “۔ اسنے اسکی گردن پہ سے اسکی کھلی ذلفیں ہٹائ اور اسکی شفاف گردن پہ جھکا ، وہ مدہوش سا اسکی گردن پہ جھکا تھا۔ اور فلک کے لیئے سانس تک لینا مشکل لگ رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ سناتی اسنے اسکے بالوں سے اسے جکڑ کر اسکے لب بلکل اپنے لبوں کے قریب کیئے ، اس سے پہلے کہ وہ کوئ مزاحمت کر پاتی وہ پوری شدت سے اسکے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں جکڑ گیا تھا۔ نجانے کتنے ہی لمحے اس معنی خیز سی خاموشی میں سرک گئے ، جابر خان کی شدت مزید بڑھتی جارہی تھی۔ اور فلک کی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو تھیں۔ فلک کی گردن بھی درد کرنے لگی تھی اس سانس لینا محال ہوگیا تھا۔ کہ جابر خان نے ترس کھاتے اسے خود سے آزاد کیا۔

وہ اسکے چھوڑتے ہی اسکی بانہوں کے حصار کو توڑتی اسکے سینے پہ زور دار ہاتھ مار کر اسے خود سے پرے کر گئ تھی۔ فلک اپنی سانسیں بہال کر رہی تھی کہ یکدم وہ پھر اسے کمر سے جکڑتا اپنے سینے سے لگا گیا تھا ، فلک کے قدم زمین سے کچھ اوپر اٹھے، اور وہ ایک بار پھر اسے کسی بھی مزاحمت کا موقعہ دیئے بغیر اسکے لبوں کے جام کو پینے لگا تھا۔ اور اب تو فلک بلکل کانپ کر رہ گئ تھی، کیونکہ اسکے وجود پہ بے باکی سے سرکتی جابر خان کی انگلیاں اسے مزید سمیٹنے پہ مجبور کر رہی تھی۔ کہ یکدم کمرے کا دروازہ بجا ، اور یکدم فسوں ٹوٹا اور وہ دونوں ایک جھٹکے سے ایک دوسرے سے دور ہوئے تھے۔ فلک نے با مشکل سانس بہال کرتے اپنے حلق میں سے آواز نکالی۔

” ک۔۔کون”۔ اسنے اپنی دھڑکنوں پہ ہاتھ رکھتے قدرے اونچی آواز میں پوچھا۔ اور جابر خان اب اس چھوڑ آئینے کے سامنے کھڑا اپنی باڈی پہ باڈی اسپرے چھڑک رہا تھا۔

” بی بی میں ہوں وہ زرتاشہ بی بی کہہ رہی تھیں آپ آجائیں انہوں نے ناشتہ لگا دیا”۔ نوراں(انکی ملازمہ) اسے پیغام دیتی دروازے سے واپس لوٹ چکی تھی۔

فلک اس سے نظر چراتی اپنی مطلوبہ چیز جلدی سے الماری سے اٹھاتی ، کمرے سے نکلنے کو تھی کہ یکدم جابر نے اسکی کلائ کو تھاما۔ اور اسکے چہرے کو تھامتا نرمی سے اسکے گالوں کو چھوتا اسے محبت سے تکتے گویا ہوا۔

” کل کہ لیئے معاف کردو ، سر میں درد تھا بہت “۔ وہ اسکے ماتھے پہ لب رکھتا پیچھے ہٹا۔

” آپکے الفاظ معافی کے قابل نہیں تھے اور ابھی جو آپ نے حرکت کی ہے اسکے بعد تو معافی کی امید ہی دل سے نکال دیں”۔ وہ سرخ نگاہوں سے اسے تکتی گویا ہوئ۔

” کیا حرکت کی ہے “۔ وہ یکدم بھڑکا۔

” یہ جو بھی آپ نے ابھی کیا”۔ وہ بھی اسی کے انداز میں کہتی اسکا سیروں خون جلا گئ تھی۔

” ہاں تو کچھ ایسا نہیں کیا جسکے لیئے میں تم سے معافیاں مانگتا پھروں بیوی ہو میری “۔ وہ برش ڈریسنگ پہ پٹختا اپنی بلیک شرٹ کے بٹن بند کرنے لگا۔

” آپ اگر مانگ بھی لیں نا میں تب بھی معاف نہیں کرنے والی “۔ وہ تنفر سے کہتی کمرے کا دروازہ دھاڑ کی آواز سے بند کر گئ تھی۔

اسکے اس انداز پہ جابر خان کا غصہ سے برا حال ہوا تھا۔ اسنے طیش کے عالم میں ڈریسنگ پہ پڑے سامان کو ایک پل میں زمین بوس کیا تھا۔ اور خود بھی اسکے پیچھے ہی نکل گیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

” ہمم سہی شکریہ آپ نے اب تک جتنی میری مدد کی اسکے لیئے آپ دونوں کا شکریہ”۔ وہ ان سے مصاحفہ کرتا کافی شاپ سے نکل گیا۔

” یا اللہ اب تک میرے مالک جتنی تونے میری مدد کی ان تمام معملات میں میری مزید مدد فرما ، مجھے میرے نیک ارادوں میں کامیابی عطا کر”۔ وہ اللہ سے دل ہی دل میں مخاطب تھا۔ جب سامنے سے آتے کسی وجود سے ٹکرایا تو چونکتے ہوئے فوراً اسکے لبوں سے معذرتانہ الفاظ ادا ہوئے۔

” سوری ۔۔۔ معافی پلیز میرا دیہان نہیں تھا”۔ اسنے معذرت کرتے ٹکرانے والے کا سامان جو نیچے گرا تھا وہ جھک کر اٹھایا پر نظر اوپر اٹھتے ہی اسے خوشگوار حیرت ہوئ ۔

” بختاور۔۔ کیسی ہو ” وہ پرجوش ہوا۔

” جہانداد ۔۔۔؟؟؟ اوہ تم کتنے چینج ہوگئے ہو ۔۔اوہ مائے گاڈ میں تو بلکل ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟؟”۔ اسکے چہرے پہ پہلے حیرت اور پھر ڈھیروں ڈھیر خوشی کے رنگ بکھرے۔

” جی ۔۔ بلکل جہانداد ہی ہوں۔ تم پاکستان کب آئیں۔۔۔”۔ وہ بھی بہت خوشی سے مستفسر ہوا۔

” ایک ہفتہ پہلے ہی آئ ہوں جہانداد ، “۔ اسنے ہنستے ہوئے پرجوشی سے بتایا۔

” ریئلی ایک ہفتہ پہلے آئ ہو اور مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا تم نے “۔ وہ خفا ہوا تھا۔

” بس یار مصروف تھی”۔ وہ نرمی سے بولی۔

” اوکے پر اب نو بہانہ میرے ساتھ چلو گی میرے گھر ابھی اور اسی وقت ٹھیک ہے۔۔ ویسے تم نے اسٹے کہاں کیا ہے؟؟”۔ وہ مستفسر ہوا۔

” نہیں ابھی تو نہیں جاؤں گی۔ پر ہاں بعد میں ضرور آؤں گی انشاءاللہ۔ اور اسٹے تو میں نے ہوٹل میں کیا ہے”۔ وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں مٹکا کر بولی۔

” بختاور تم پاگل ہو۔۔!!!! ہوٹل میں اسٹے کیا ہے تم نے میرا گھر ہوتے ہوئے تم ہوٹل میں اسٹے کر رہی ہو یہ بہت غلط بات ہے۔ مجھے کچھ نہیں پتا تم ابھی اسی وقت ہوٹل سے چیک آؤٹ کروگی اور میرے ساتھ میرے گھر چلو گی بس”۔ وہ اسے ڈپٹتا اپنا حتمی فیصلہ سنا گیا تھا۔ پھر بختاور نے بڑی ناں ناں کی پر اسکی ناں کو ہاں میں ہی بدل کر جہانداد نے سانس بھری تھی۔

” بہت ضدی ہو تم “۔ وہ اسکے ساتھ اسکی کار میں بیٹھی اسے گھورتے ہوئے شوخی سے بولی۔

” تمہیں آج پتا چلا ہے”۔ وہ دھیمے سے ہنسا۔

” نہیں بچپن سے خبر ہے تمھارے ضدی پن کی”۔ وہ اسے نرمی سے تکتے کہتی اپنا رخ کھڑکی سے باہر کر گئ تھی۔

” جب خبر ہے تو پھر آج کیوں باور کرا رہی ہو مجھے”۔ جہانداد دانت نکوستا ہنسا تھا۔

” ہمم متفق “۔ وہ بھی ہنسی تھی۔

♧♧♧♧♧♧

وہ نیچے آیا تو آج وہ دونوں ساتھ بیٹھی ناشتہ بھی کر رہی تھیں اور باتیں بھی ساتھ ساتھ کبھی زرتاشہ منت کے منہ میں نوالا ڈالتی تو کبھی فلک۔

جابر کو دیکھتے دونوں نے بیزاریت سے نگاہیں اس پہ سے ہٹائیں تھیں۔ اور وہ محض ان چڑیلوں کی ادائیں دیکھتا رہ گیا تھا۔ اسنے ایک آئ برو اٹھا کر انہیں دیکھا جو اپنے اکلوتے شوہر کو چھوڑ کر اپنی ہی باتوں میں غرق تھی خیر اسے حیرت نہیں ہوئ انکی دوستی دیکھ کیونکہ وہ دونوں کو جانتا تھا ، اسے پہلے ہی اندازہ تھا ، کچھ وقت میں ہی دونوں ایک دوسرے سے گھل مل جائینگی۔ پر اب جابر خان سے اپنا اگنور کیا جانا بلکل برداشت نا ہوا ، اور وہ سلام کرتا اپنی سربراہی چیئر کھسکا کر بیٹھا۔

سلام کا جواب منت کے ساتھ ان دونوں نے دیا۔

” میرا ناشتہ کہاں ہے”۔ وہ ٹیبل پہ پڑے ناشتے پہ نظر ڈالتا بولا کیونکہ اسے اتنا تو اندازہ تھا کہ یہ محترمائیں اسے ایسے لفٹ نہیں کرانے والی۔

” سامنے پڑا ہے آنکھیں خراب ہوگئ ہیں کیا”۔ فلک چڑ کر بولی۔ پر زرتاشہ خاموش رہی اور اسے اسکی خاموشی سے بے چینی ہونے لگی۔

” تاشہ حوریہ اور جویریہ سے بات کر لی تم نے”۔ اسنے اسکے حسین مکھڑے کو تکتے پوچھا۔

” نہیں “۔ اسنے اسے دیکھے بنا یک لفظی جواب دیا۔

” کیوں نہیں کی۔؟”۔ انداز واضح طور پہ بات بڑھانے والا تھا۔

” میں آپکی جواب دہ نہیں”۔ اسنے تنفر سے کہا۔

” میری جواب دہ نہیں تو پھر کرسکی جوابدہ ہو “۔ اسنے اپنے طیش کو دباتے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچیں۔

” اوروں کا تو پتہ نہیں مگر آپکی جواب دہ تو بلکل بھی نہیں ہوں “۔ وہ چڑ کر کہتی ناشتہ چھوڑ کر اٹھ گئ تھی۔ اور منت بھی اپنے باپ کو حیرت سے دیکھتی اپنی ماں کے پیچھے بھاگی تھی۔

” ناشتہ تو کرنے دیتے اسے تمہاری وجہ سے رات کا کھانا بھی نہیں کھایا تھا اسنے”۔ فلک غصہ سے گرجی۔

” تم تو چپ ہی رہو چمچی”۔ وہ اسے گھور کر گویا ہوا۔

” میں نہیں چمچی ، چمچے ہوگے تم “۔ وہ ٹیبل پہ ہاتھ مارتی غرا کر گویا ہوئ۔

” فلک چپ کر جاؤ نہیں تو پٹ جاؤ گی”۔ وہ اسکو خشگمین نگاہوں سے گھورتا وارن کر گیا۔

” کیوں چپ کر جاؤں نہیں کرونگی چپ ڈرتی ہے میری جوتی تم سے”۔ وہ خونخوار ہوئ۔

” اگر آپ دیویوں کی اجازت ہو تو ، ناشتہ کر لوں رات کو بھی تم لوگوں کے تماشوں میں کھانا نہیں کھا سکا تھا۔”۔ وہ گرجا۔

” جو کرنے ہے کرو بھاڑ میں جاؤ پر میرے منہ نا لگنا جابر خان نا ہی تاشہ کہ نہیں تو کل نیوز چینلز پہ یہ ہیڈ لائن نشر ہوگی کہ مشہور بزنس مین جابر خانزادہ کو اسکی دو حسین و جمیل بیویوں نے اسے برے طریقے سے ڈنڈوں سے مار کر قتل کر دیا “۔ وہ ٹیبل پہ ہاتھ مارتی اسے وارن کرتی تاشہ کے روم میں چلی گئ تھی۔

اور وہ محض جھرجھری لے کر رہ گیا تھا۔

” آئ بڑی۔۔ چڑیلیں نا ہوں تو۔۔!! “۔ وہ سر جھٹکتا بڑبڑایا اور ہاتھ بڑھا کر اپنی پلیٹ میں خود کو خود ہی ناشتہ سرو کرنے لگا۔ اسے وہ وقت یاد آیا جب ۔۔۔۔ اسکی ماں زندہ تھی کیسے اسکے ناز اٹھاتی تھی۔۔، اور ایک طرف یہ بلائیں تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧

عصر کی آزانوں کی آواز اسکے کانوں میں پڑی تو کسلمندی سے آنکھیں کھولتی اٹھی تھی۔ روتے روتے سونے کی بدولت اسکا سر شدید درد کر رہا تھا۔ باہر سے اسے شور کی آوازیں آرہی تھی۔ وہ دوپٹہ سلیقے سے اوڑھتی کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آئ تو کچن کاؤنٹر پہ کندھوں تک آتے بھورے بالوں والی لڑکی بیٹھی تھی۔

کالے رنگ کا ٹاپ اسکے ساتھ وائٹ پینٹ پہنے وہ ماڈرن سی لڑکی اسے حیرت میں ڈال گئ تھی۔ اسے لگا شاید جویریہ اور حوریہ کی کوئ سہیلی ہو پر کچن سے آتی جہانداد کی آواز لاشعوری طور پہ اسکے قدم کچن کی سمت بڑھا گئ تھی۔ وہ کچن کی دہلیز پہ کھڑی کچن میں ہوتی کاروائ کو بغور تکنے لگی۔ جہانداد ایپرن پہنے مہارت سے شملہ مرچ کو ٹکڑوں میں کاٹ رہا تھا۔ اور وہ لڑکی کاؤنٹر پہ بیٹھی پیر جھلاتے ہوئے نجانے کونسے قصے سنانے میں مصروف تھی۔ جہانداد کے ہونٹوں پہ کھیلتی مسکراہٹ اسے عجیب سی انسیکورٹی میں مبتلا کر گئ تھی۔ وہ اپنے اندر کے انجانے اشتعال کو دباتی کچن میں گھسی تھی۔ اسے دیکھ وہ لڑکی کچھ الجھی تھی۔ جہانداد کے ہاتھ رکے تھے۔ مسکراہٹ سمٹ کر واپس لبوں پر براجمان ہوئ، وہ خاموشی سے فریج سے پانی کی بوتل نکال کر کاؤنٹر پہ پڑے گلاس اسٹینڈ پہ پڑے گلاس میں سے گلاس اٹھاتی کچن سے نکلنے کو تھی جب جہانداد کے الفاظ نے اسکے قدم زنجیر کیئے۔

” بختاور یہ میری وائف ہے ثبور “۔ وہ شائستگی سے اسکا تعارف کروا رہا تھا۔

” تمہاری وائف تم نے کب کی شادی ؟؟؟ اور قہ۔بھی دوسری شادی”۔ بختاور کو حیرت ہوئ۔

” بس ابھی کچھ دن پہلے ہی کی ہے میں نے دوسری شادی “۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اسے گہرے صدمے کے کنوئیں میں اتار گیا تھا۔

” کیا ۔۔۔ تو جاناں کہاں ہے”۔ اسکی آواز سے اسکی حیرت کا پتہ لگایا جا سکتا تھا۔

ثبور جو اس منظر میں خود کو مس فٹ محسوس کر رہی تھی۔ خاموشی سے کچن میں سے نکل کر لاؤنج میں آکر صوفے پہ بیٹھ گئ تھی۔ پر کچن میں ہوتی باتوں کی آوازیں اسکی سماعت سے باآسانی ٹکرا رہی تھیں۔

” جاناں۔۔ تو ہمیں کب کا چھوڑ کے جاچکی”۔ وہ مدھم سے لہجہ میں بولا۔

” کہاں چلی گئ”۔ وہ جیسے الجھنوں کا شکار ہوئ ۔

” خالقِ حقیقی سے جا ملی ہے وہ اس بے درد جہاں سے بہت دور”۔ وہ نرمی سے اسے بتاتا واپس اپنے کام میں مگن ہوگیا۔

” تم نے مجھے انفارم کیوں نہیں کیا”۔ وہ با مشکل اتنا ہی بول پائ۔

” تم سے رابطہ ہی نا تھا ، تو کیسے انفارم کرتا تم نے تو پاکستان سے جاتے ہی تعلق کے تمام دروازے بند کر دیئے تھے”۔ اسنے جیسے اسے باور کروایا۔

” میری ایف بی پہ میسج کر دیتے میں دیکھ لیتی “۔ اسنے شکوہ کیا۔

” چلوخیر کوئ بات نہیں جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا ناں”۔ اسنے اسے ٹالنا چاہا۔

” جویریہ اور حوریہ کیسی ہیں”۔ وہ متفکر تھی۔

” بلکل ٹھیک ہیں۔ میری بہادر بیٹیاں ہیں،کبھی نا ہمت ہارنے والی دن کی نئی روشنی کے سنگ نئی امیدیں نئے خواب بننے والی۔ وہ سب ہار سکتی ہیں پر کبھی ہمت نہیں ہار سکتی “۔ اسکے لہجہ میں اپنی بیٹیوں کے لیئے دنیا جہاں کی محبت سمائے ہوئ تھی۔

” اوہ اسوقت کہاں ہیں۔۔!! اسکول گئ ہیں کیا”۔ اسنے مسکراتے ہوئے دونوں کا پوچھا۔

” اسکول۔۔؟؟؟ پاگل ہو۔۔۔!! ہاہاہا۔۔۔ سچی انکی عمر اب اسکول جانے والی تھوڑی ہے”۔ وہ ہنستے ہوئے بولا تو وہ خجل سی ہوگئ۔

” کیا اتنی بڑی ہوگئ ہیں دونوں “۔ اسکی حیرت کی کوئ انتہا نہیں تھی۔وہ دونوں اپنی باتوں میں باہر بیٹھے وجود کو بلکل فراموش کر گئے تھے۔ اکیلی بیٹھی ثبور کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔۔اسنے فوراُ اپنے آنسو پونچھے۔ نجانے کیوں اسے دکھ ہورہا تھا۔ جہانداد کا اس سے زیادہ کسی غیر عورت کو ویلیو دینا اسے تکلیف دے رہا تھا۔آخر تھا ہی کیا اس دو دن کے نکاح میں پر دکھ پھر بھی ہو رہا تھا۔ شاید یہ وہ لمحہ تھا جب اسکے ذہن سے حارث مہو ہوچکا تھا۔ اسکے حواسوں پہ محض اسکا شوہر چھایا ہوا تھا۔ صرف اسکا شوہر جہانداد ۔۔۔ وہ غصہ سے اٹھی تھی کچن میں تن فن کرتی داخل ہوئ گلاس پٹخ کر سلیب پہ رکھا تو جہانداد نے سر موڑ کے اسے دیکھا وہ اسے گھورتی بختاور کو نفرت سے دیکھتی باہر نکل گئ تھی۔ جہاں جہانداد اسکی حرکت پہ حیران و پریشان سا کھڑا تھا۔ وہیں بختاور کے لبوں سے برآمد ہونے والے الفاظ اسے برے لگے تھے۔

” اوہ مائے گاڈ کتنا ایٹیٹیوڈ ہے اس میں۔۔ بہت ہی بدتمیز ہے۔ آخر اتنا ایٹیٹیوڈ کس بات کا ہے۔ کوئ اتنی حسین بھی نہیں ہے”۔ وہ تنفر سے کہتی۔ جہانداد کو زہر لگی تھی۔ پہلی بار جہانداد کو اپنی دوست بختاور زہر لگی تھی۔۔۔۔وہ اسکے مہمان ہونے کا لحاظ کرتا خاموشی سے اپنے کام میں جتا رہا۔ اور بختاور ایک ادا سے اپنے بال جھٹکتی کوئ اور ہی پلیننگ کرنے میں مصروف ہوگئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

وہ غصہ پیتی لان میں آکر بیٹھی تھی غصہ کی تمازت سے اسکا چہرہ سرخ ہوا پڑا تھا۔انگلیاں چٹخاتی وہ کافی بے چین تھی۔ بے چینی ایسی تھی کہ سمجھ سے باہر تھی۔ اسکی آنکھیں مسلسل بھیگتی جارہی تھیں۔ وہ اپنے لب کاٹتی آنسو پونچھتی آنکھیں موند گئ تھی۔ کہ اپنے سر پہ کسی کے کھڑے ہونے کا احساس ہوا۔ اسنے آنکھیں کھولیں تو سامنے جہانداد کھڑا اسے غور سے تک رہا تھا۔

” کیا ہوا۔۔ خیریت ہے “۔ نرمی سے پوچھا۔

” جی خیریت ہے”۔ جواب سنجیدگی سے دیا گیا۔

” کتنی خیریت ہے”۔ وہ اسکے سامنے چیئر گھسیٹ کہ بیٹھا۔

” کیا مطلب؟؟”۔ وہ الجھی۔

” کوئ مطلب نہیں “۔ وہ ہنسا۔

” بختاور میری بہت اچھی دوست ہیں ، ہمارے بہت ہی اچھے فیملی فرینڈز میں سے ایک ہیں۔ اور امریکہ سے آئ ہے وہ ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی ، آج مجھے کافی شاپ کے باہر ملی تو میں ضد کرکے اسے خود یہاں گھر پہ رکنے کے لیئے لے آیا”۔ اسنے سنجیدگی سے بتایا۔

” ہمم سہی ۔۔۔، میں چلتی ہوں عصر کی نماز پڑھ لوں دیر ہورہی ہے تو”۔ وہ نرمی سے کہتی اٹھی تھی۔ جب اچانک اسکی کلائ جہانداد کی مضبوط گرفت میں آئ۔

” کچھ وقت مجھے بھی دے دیا کریں”۔ اسنے محبت سے کہا۔

” جی اچھا “۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کراتی نکل گئ۔ وہ محض اسکا سرخ سرسراتا آنچل دیکھتا رہ گیا تھا۔

” بدلے بدلے سرکار نظر آتے ہیں “۔ وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔

اپنی ہی بڑبڑاہٹ پہ بے ساختہ اسکے ہونٹوں پہ ایک شریر سی ہنسی کھیلی تھی۔جسے وہ فوراً معدوم کرتا جیب سے موبائل نکال کر کال ملانے لگا۔

” اسلام و علیکم “۔ جہانداد نے سلام کیا۔

” ہممم سہی ٹھیک چلو پھر شروع کردو ریسرچ”۔ وہ کال پہ بات کرتا سنجیدگی سے بولا تھا۔

” اوکے اوکے ٹھیک ہے جویریہ ٹھیک ہے”۔ اسنے مقابل کی بات سن کر جواباً سنجیدگی سے کہا اور کال کاٹ دی۔

وہ بھی اٹھتا اپنے قدم اندر کی طرف بڑھا گیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧