Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 6)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 6)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

وہ لوگ اوپن ایئر ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ چاروں طرف سے اٹھتی کھانوں کی اشتہا انگیز خوشبو ماحول کو کافی خوشگوار بنا رہی تھی۔ فلک اور زرتاشہ ساتھ ایک دوسرے کے برابر میں بیٹھی تھیں۔ جابر اور منت انکے مقابل بیٹھے تھے۔ منت تو نجانے جابر کو کونسے قصہ سنا رہی تھی، اور وہ خوشی خوشی سن کر اسپہ تبصرہ بھی پاس کر رہا تھا۔ کہ یکدم اسے ان دونوں کو خاموش بیٹھے دیکھ شرارت سوجھی۔ اسنے اپنے پیر نا محسوس انداز میں جوتوں سے آزاد کیئے اور ساکس بھی اتارے ، اور اپنی دونوں لمبی ٹانگوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ایک پیر کو فلک کے پیر پہ پھرنے لگا اور دوسرے کو زرتاشہ کہ دونوں کا رنگ یکدم سرخ ہوا تھا ، دونوں شرما سی گئ تھی۔

دونوں کو اپنی اپنی جگہ یہ لگ رہا تھا کہ جابر خان یہ التفات صرف اس پہ لٹا رہا ہے نا چاہتے ہوئے بھی دونوں یہ سوچ رہی تھیں کہ وہ شاید اس سے سچ میں بہت پیار کرتا ہے پر وہ دونوں بے خبر تھی کہ وہ دونوں سے ایک جتنا پیار کرتا ہے۔

فلک اور زرتاشہ نے اسے گھورا ، وہ محبت بھری اسمائیل پاس کرتا آنکھ مار گیا ، وہ دونوں سٹپٹائ۔

اسکے پیروں کا انگوٹھا اب دونوں کے پیروں کے تلوں پہ سرک رہا تھا۔ وہ دونوں شرمائ لجائ سی بیٹھی تھیں۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ناراضگی بھول گئ تھیں۔ پر یکدم زرتاشہ کی نظر نیچے گئ تو اسکی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو ہوگئ تھیں۔ اور اسنے دھیرے سے فلک کا بھی دیہان نیچے دلایا۔ اسنے بھی دیکھا تو سمجھ گئ کہ وہ ایک تیر سے دو شکار کر رہا تھا ، وہ یقیناً یہی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں گھر جانے تک انٹرویو والی بات بھول جائیں اور انکا غصہ ختم ہوجائے پر افسوس جابر خان کی قسمت اب اتنی بھی اچھی نا تھی۔

” جابر “۔ فلک اسے تکتی محبت سے بولی۔اور فلک کے ساتھ ساتھ زرتاشہ بھی اسے ایسے ہی دیکھ رہی تھی اسے لگا انہیں کوئ بات کرنی ہے اس سے۔

” جی میری جانموں”۔ وہ معاشقوں والے انداز میں بولا۔

” آپ ہمارے پیروں پہ سے اپنے پیر ہٹانا پسند کریں گے”۔ زرتاشہ بظاہر نثار ہونے والے لہجہ میں گویا ہوئ۔

” نہیں بلکل نہیں”۔ وہ ڈھیٹ پنے سے مسکراتا صاف مکر گیا تھا۔

” تم نا انتہا کہ کرنج(cringe) آدمی ہو ، جسکو ایک منٹ بھی برداشت کرنا نا ممکن ہے”۔ وہ دنوں اسے خون آشام نظروں سے گھورتی یک زبان ہوئیں۔

” ایسے نا مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لونگا۔۔”۔ وہ ان دونوں کو خود کو گھورتا پاکر ہنسی روکنے کی وجہ سے سرخ چہرہ لیئے انہیں مدہوش سی نظروں سے تکتا بولا۔

” جابر کیا تم نے ٹھرکیات میں پی۔ایچ۔ڈی کی ہے”۔ زرتاشہ نے اسے گھورا۔

” جی مگر صرف آپ دونوں کی خاطر “۔ وہ کمینہ پن سے قہقہہ لگاتا انکے پیروں پہ سے اپنے پیر ہٹا گیا تھا۔

اور خاموشی سے اپنے کھانے پہ جھک گیا تھا۔ وہ دنوں بھی مزید کچھ کہے کھانا کھانے لگی تھیں۔ اور جابر ساتھ ساتھ منت کو بھی کھانا کھلا رہا تھا۔

♧♧♧♧♧♧

رات کے بارہ کا وقت تھا۔ وہ باہر گھر کی دہلیز پہ بنے زینوں پہ بیٹھی جہانداد کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ جب واچ مین نے دروازہ کھولا کالی چمچماتی گاڑی اندر پورچ ایریا میں داخل ہوئ۔ ثبور نے سر گھٹنوں سے اٹھایا سامنے ہی بختاور مسکراتی ہوئ گاڑی سے نکلی تھی دوسری سائڈ سے جہانداد بھی نکلا تھا اس پہ نظر پڑتے ہی جہانداد کے منہ سے بے اختیار پھسلا تھا۔

” تم سوئ نہیں اب تک؟؟؟”۔ اسنے اپنی کلائ پہ بندھی گھڑی میں وقت دیکھا جو رات کے بارہ بجا رہی تھی۔

” نہیں میں کیسے سو سکتی تھی”۔ وہ عجیب سے لہجے میں کہتی جہانداد کو کنفیوز کر گئ تھی۔

” میں چلتی ہوں جہانداد سونے میں بہت تھک گئ ہوں چلتی ہوں “۔ بختاور تنفر سے کہتی ثبور کے برابر سے نکلنے کو تھی کہ ثبور نے اسے بازو سے تھام کر روکا۔

” سہی بات ہے بہت تھک گئ ہوگی تم۔۔۔ شام کی نکلی آدھی رات کو واپس آرہی ہو۔۔۔ تھکن تو ہوئ ہوگی ناں اب ایسا کرو کہ آئندہ سے جب بھی میرے شوہر کو اپنے ساتھ لے جانا ہو مجھے ایک بار اطلاع ضرور دے دینا کیونکہ انکا جو وقت تم سارا کا سارا خود پہ صَرف کرا چکی ہو۔ وہ وقت کچھ میرا تھا۔ کچھ انکی بیٹیوں کا تھا۔ اور کچھ انکا اپنا۔۔۔۔ جو انکا اپنا ٹائم ہے۔ بے شک وہ تمہیں دیں مجھے کوئ مسئلہ نہیں پر جو وقت ہمارا ہے وہ وقت ہمارا ہی ہے اور ہم نہیں چاہتے کے کوئ بھی ایرا غیرا آکر ہمارا وقت خود پہ صَرف کروائے”۔ وہ تنبیہی نگاہوں سے اسے گھورتی سختی سے اپنی بات باور کرا چکی تھی۔

” ہاتھ چھوڑو میرا “۔ بختاور جلتے لہجہ میں کہتی اسے گھور رہی تھی۔

” چھوڑ دیا مجھے شوق نہیں تمہیں پکڑ کے رکھنے کا”۔ وہ مسکرا کر کہتی اسکا بازو چھوڑ گئ۔

” اگر تمہیں لگتا ہے ناں کہ تم یہ سب کرکے بہت اچھی لگ رہی ہو تو یہ تمھاری سوچ ہے۔ ایک گری ہوئ سطحی دماغ کی نفسیاتی عورت ہو تم اور وہی لگ رہی ہو”۔ بختاور پھنکارتے لہجہ میں کہتی تن فن کرتی اندر چلی گئ۔ اسنے گردن موڑ کہ اسے دیکھا تھا۔ اس کو اسکی بکواس کا جواب بعد میں دینے کا سوچتی وہ جہانداد کی طرف مڑی تھی۔ جو گاڑی سے کچھ شاپنگ بیگز نکالتا اندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ثبور کی آواز سن کر وہ رکا۔

” کہاں جارہے ہیں آپ ؟؟؟”۔ وہ بھنوئیں چڑا کر سوالیہ انداز میں مستفسر ہوئ۔

” اندر جارہا ہوں سونے “۔ اسنے عام سے لہجہ میں جواب دیا۔

” اچھا ۔۔۔ چلیں میں بھی چلتی ہوں “۔ وہ مسکرا کر کہتی مین ڈور کھولتی اندر گھسی تھی اس سے پہلے کہ جہانداد بھی اندر داخل ہوتا وہ زور دار آواز کے ساتھ میں ڈور اسکے منہ پہ بند کرچکی تھی۔ جہانداد ڈور کھولنے کی کوشش میں پاگل ہوگیا تھا پر شاید وہ مین ڈور اندر سے لاک کرچکی تھی۔ وہ غصہ میں دروازہ پیٹتا غرایا۔

” ثبور دروازہ کھولو یار کیا بد تمیزی ہے یہ “۔ وہ چڑا تھا۔

” مسٹر اسے بدتمیزی نہیں کہتے اسے بگڑے ہوئے کو لائن پر لانا کہتے ہیں “۔ اسکی آواز دروازے کے پار اسکے کانوں سے ٹکرائ تو وہ اپنا غصہ پی کر رہ گیا۔

” ثبور میں کہہ رہا ہوں دروازہ کھولو تو مطلب کھولو “۔ وہ آواز میں رعب پیدا کرکے بولا۔

” میں نے کہہ دیا ناں کہ میں دروازہ نہیں کھولوں گی تو مطلب نہیں کھولوں گی “۔ وہ اسی کے انداز میں جواب لوٹاتی اسے تپا گئ تھی۔

” مجھے نیند آرہی ہے یار بہت تھک گیا ہوں دروازہ کھول دو میری ماں “۔ وہ جیسے عاجز آیا تھا۔

” نیند تو مجھے بھی بہت آرہی ہے میں بھی سونے جارہی ہوں آپ بھی باہر گھانس پہ سوجائیے مچھروں کی دل کو چھو لینے والی محبت کے ساتھ گڈ نائٹ سویٹ ڈریمز “۔ وہ میٹھے لہجے میں کہتی اسے غصہ کی آگ میں جھلستا چھوڑ گئ تھی۔

وہ شاپر وہیں دہلیز پہ پھینکتا واچ مین کی طرف بڑھا تھا۔ اسکے روم کا دروازہ بجایا تو واچ مین باہر نکلا۔ واچ مین سے پتا کرنے پہ پتہ چلا کہ واچ مین صاحب سے تو مین ڈور لاک کروا کر ثبور مین ڈور کی چابی لے چکی تھی۔ جہانداد کے غصہ کی کوئ انتہا نا رہی تھی۔ اب نا وہ گھر میں اندر جاسکتا تھا اور نا ہی گھر سے باہر وہ دونوں راستے بند کرچکی تھی۔ وہ کچھ سوچتا پیچھے اپنے روم کی کھڑکی کے پاس آیا تھا روم کی کھڑکی بھی بند دیکھ اسکا پارہ ہوئ ہوا تھا۔اسنے زور سے کھڑکی بجائ تھی۔ ایک بار دو بار آخر کار کھڑکی پہ پڑا پردہ ہٹا تھا۔ وہ سامنے نمودار ہوئ تھی۔ سلائڈنگ ونڈو کو کھولا گیا۔ اور بڑے ہی درشت لہجہ میں کلام جوڑا گیا۔

” کیا مسئلہ ہے تھک گئ ہوں میں سونا ہے مجھے تنگ نا کریں صبح کی اٹھی ہوں پھر پورا دن گھر کے کام کرتی رہی میں حالت خراب ہوگئ ہے میری اب ونڈو نا بجانا “۔ وہ غصہ سے تقریباً چلائ تھی۔

” یار میں بھی انسان ہوں تھک گیا ہوں صبح کا اٹھا ہوں پھر آفس گیا تھا میں نے بھی کام کیا تھا۔پھر تمہیں باہر لے کر گیا ۔۔۔ اسکے بعد بیچاری بختاور کو لےکر گیا تھا باہر آخر کو میں بھی انسان ہوں قسم سے تھک گیا ہوں”۔ وہ روہانسا ہوا۔

” میں آپکے حرف با حرف سے متفق ہوں۔ اگر جو آپ جناب والا ” بیچاری بختاور” کو باہر آؤٹنگ پہ نا لے کر جاتے نا تو ابھی آپ گارڈن کے بجائے اندر اپنے کمرے میں ہوتے اور سکون کی نیند سو رہے ہوتے”۔ وہ بتیسی نکال کر کہتی ونڈو واپس بند کرچکی تھی اور وہ پریشان حال سا بینچ پہ آکر بیٹھا تھا۔ باہر گارڈن میں بہت مچھر تھے۔ بہت مچھر اسے تو لگا تھا کہ صبح ہونے تک اسے ڈینگی ہوجائے گا۔۔۔۔ پر کیا کرتا اتنی سی بات کی اتنی بڑی سزا اسے ایسی تو کوئ امید ہی نا تھی۔ کہ ثبور ایسا کچھ کرے گی۔ نصف رات تو اسکی تارے گنتے اور مچھر مارتے گزری تھی۔ اتنا بڑا گھر تھا اسکا پر پھر بھی مسافروں سے بدتر حالت تھی اسکی۔ اس سے اچھا تو چوکیدار تھا۔ چھوٹا سہی پر کمرہ تو میسر تھا۔ وہ تو اس سے بھی محروم تھا۔

♧♧♧♧♧♧

وہ لوگ گھر پہنچے تو کافی دیر ہوچکی تھی منت بھی سو چکی تھی۔ سوئ ہوئ منت جابر کہ کندھوں پہ تھی۔ وہ اوپر زرتاشہ کے روم میں گیا منت کو لٹایا اور خود بھی تھکا ہارا لیٹ گیا۔ زرتاشہ روم میں آئ تو اسے دیکھ کر چونک گئ۔ یہاں کیا کر رہے ہو اپنے روم میں جاؤ سونا ہے مجھے “۔ وہ سنجیدگی سے کہتی الماری سے اپنا نائٹ ڈریس نکالنے لگی۔

اور وہ محض ایک آنکھ کھول کر اسے دیکھتا لیٹا رہا اور وہ چڑتی واشروم میں گھس گئ تھی۔ فلک بھی زرتاشہ کے روم میں داخل ہوئ پر جابر کو وہاں دیکھ کر ٹھٹکی۔ جابر نے آنکھیں کھولی اسے دیکھا۔

” فلک آج رات میں تاشہ کے روم میں رہونگا”۔ وہ اسے دیکھتا نرمی و محبت سے گویا ہوا۔

” اچھا سہی ہے ٹھیک ہے میں سونے چلتی ہوں”۔ نجانے کیوں اسکا لہجہ بجھ سا گیا تھا۔

” فلک کل تمہارے روم میں سوؤں گا”۔ وہ اسکی بے چینی تکتا محبت سے بولا۔

” ہمم “۔ وہ دھیرے سے کہتی کمرے سے چلی گئ تھی اور جابر آنکھیں بند کیئے تاشہ کے واشروم خالی کرنے کا انتظار کر رہا تھا کہ وہ نکلے تو وہ بھی چینج کرکے سکون محسوس کر سکے۔ تھوڑی دیر میں وہ باہر تھی۔ جابر نے ایک نظر اسے دیکھا اور واشروم میں گھس گیا۔

وہ فریش ہوکر واش روم سے نکلا تو، تاشہ کو دیکھا جو سوئ ہوئ منت کو پیار کر رہی تھی۔ اسنے ٹاول خود اٹھا کر صوفہ پہ پھینکا۔ اور قدم اٹھاتا اسکے پاس آیا اور اسکے مقابل بیٹھا۔

” معاف نہیں کر سکتی کیا تم مجھے”۔ اسنے اسکے ہاتھ تھامے۔

” کس بات کی معافی ، کیسی معافی”۔ اسنے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

” یہ انجان بننے کی ادا بھی کمال ہے آپ کی “۔ وہ اسکے چہرے پہ منڈلاتے بالوں کی لٹ کو بالوں کے پیچھے اڑستا گویا ہوا۔

” پلیز جاؤ یہاں سے مجھے سونا ہے”۔ وہ اسکے ہاتھ خود سے جھٹکتی دور ہوئ۔

” میں یہیں سوؤں گا آج”۔ اسنے اسے تکتے بتایا۔

” میں نے کہاں یہاں سے جاؤ فلک انتظار کر رہی ہوگی”۔ اسنے اس سے نظریں ہٹا کر کہا۔

” تاشہ ۔۔۔ کب تک ناراض رہو گی”۔ اسنے اسکے حسین مکھڑے پہ گہری نظر ڈالتے پوچھا۔

” جب تک اس رشتے میں بندھی ہوں تب تک ۔۔۔ ، میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا مجھے طلاق دے دو “۔ وہ اس پہ سے نظریں ہٹا کر بولی۔

” یہ ناممکن ہے تاشہ میرے لیئے”۔ اسکے لہجہ میں گہرا دکھ نمایاں تھا۔

” اگر تم چاہو تو اسے ممکن بنا سکتے ہو” اسنے دھیمے لہجہ میں کہتے خود کو آنسو بہانے سے روکا تھا۔

” پر میں اس بات کو ممکن بنانا ہی نہیں چاہتا”۔ وہ اسکو تکتے اٹل لہجہ میں گویا ہوا۔

” تو پھر میں عدالت سے جاکر خلع لے لیتی ہوں”۔ وہ مضبوط لہجہ میں گویا ہوئ۔

” زرتاشہ جابر خانزادہ تم میرے نکاح میں ہو عدالت کے نہیں ، تم اگر کبھی خلع لینا بھی چاہوں ناں۔۔!! تو میں کبھی اسکے لیئے اپنی رضامندی نہیں دونگا “۔ وہ درشت لہجہ میں کہتا ، زرتاشہ کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا گیا تھا۔

” تمہاری رضامندی سے کچھ نہیں ہوتا عدالت مجھے خلع دے دے گی”۔ وہ خود میں ڈھیروں ہمت لاتی گویا ہوئ۔

” پر افسوس میری رضامندی کے بغیر اگر تمہیں خلع ملی تو تم پھر بھی میرے نکاح میں رہو گی”۔ اسنے سرد لہجہ میں کہتے۔ بہ مشکل اپنا غصہ سے پھولتا تنفس سنمبھالا۔

” جابر پلیز مجھے طلاق دے دیں ، آب تو آپکی زندگی میں فلک بھی ہے ناں آپکی پسندیدہ بیوی ، آپکی محبت تو ۔۔ ، آپکی زندگی میں اب مجھ جیسی ان چاہی بیوی کی کیا ضرورت”۔ وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنے آنسو روک نہیں پائ تھی ، پلکوں کی باڑ کو پھلانگتے آنسو سیدھا اسکے رخساروں پہ بہہ نکلے تھے۔

” تمہیں یہ دکھ ہے کہ تم ایک ان چاہی بیوی ہو ؟؟”۔ اسنے اسکی آنکھوں سے نکلے آنسو اپنی پوروں پہ چنے تھے۔

” نہیں مجھے اس فضول بات کا کوئ دکھ نہیں”۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکتی تنفر سے بولی تھی۔ وہ اسکی اس ادا پہ دھیرے سے ہنسا تھا۔ زرتاشہ نے فوراً اسکی قاتل مسکان سے نظریں چرائ تھیں۔

” ہمم ہونا بھی نہیں چاہیئے خیر ، مجھے چائے پینی ہے بنا کر دو”۔ وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لیئے گویا ہوا۔

” مجھے نیند آرہی ہے خود بنا لو “۔ اسنے لیٹنے کے لیئے تکیہ درست کرتے کہا۔ اسنے ایک آئ برو آچکا کر اسکے تیوروں کو تکا۔ اور اسکے مڑتے ہی یکدم اس پہ جھکا تھا۔

” چائے بنا لیتی تو اچھا تھا پر خیر اب میرا چائے پینے کا کوئ موڈ نہیں ، اب میرا دل کمبخت کوئ اور ہی مطالبے کر رہا ہے”۔ وہ معنی خیزی سے کہتا اسکی دونوں کلائیوں کو ایک ساتھ کرتا اپنے ایک ہاتھ میں قید کرتا اسکی سرخ گلاب کی پنکھڑیوں جیسے لبوں پہ جھکا تھا۔ وہ یکدم مچلی تھی۔ وہ اسکی مزاحمت کو نظر انداز کرتا اپنی ہی من مانیوں پہ اتر آیا تھا۔ یکدم زرتاشہ کا سانس اسے بند ہوتا محسوس ہوا تھا۔ وہ ایک بار پھر مچلی تھی ، اسکے مچلنے سے اسکے عمل میں یکدم مزید شدت آئ تھی۔ زرتاشہ یکدم نڈھال سی ہوتی مزاحمت ترک کر گئ تھی۔ جانتی تھی ضد کا شدید پکا ہے۔ اب جب تک وہ ضد نا چھوڑتی اسے خود سے ہٹانے کی وہ اس کے قریب رہنے کی ضد نا چھوڑتا۔ اسکی مزاحمت ترک ہوتے ہی وہ اسکے لبوں کو اپنی قید سے آزاد کرتا ، اسکے نڈھال ہوتے سراپے کو تکتا اسکی گردن پہ جھکا تھا۔ کہ وہ یکدم ایک بار پھر سٹپٹائ تھی۔

” جابر منت۔۔۔ جاگ جائے گی “۔ وہ بگڑے تنفس سے بہ مشکل بول پائ۔

” نہیں جاگے گی”۔ وہ اسکی گردن کو چھوڑتا اسکی کلائیںاں بھی آزاد کر گیا تھا۔

” پلیز دور ہٹیں جاگ جائے گی وہ “۔ وہ اسکے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے دور ہٹاتے گویا ہوئ۔

” وہ تو بعد میں جاگے گی ناں ، ابھی اسکو چھوڑ کے میرے جاگے ہوئے جذبات کے بارے میں سوچو”۔ وہ شریر ہوا۔ پر زرتاشہ کی اگلی بات اسکا موڈ اچھا خاصہ خراب کر گئ تھی۔

” میں آپ کے لیئے کچھ نہیں کرسکتی ، فلک کہ پاس چلے جائیں “۔ وہ نظریں چراتی حقارت سے گویا ہوئ۔

” اچھا ہر چیز کے لیئے اسکے پاس چلا جاؤں تو تم کس مرض کی دوا ہو ہاں۔۔!!”۔ وہ اسکی ٹھوڑی کو مضبوطی سے جکڑتا مستفسر ہوا۔

” آہہہ ، پلیز دور ہٹیں”۔ وہ سسکی۔

” ہزار بار کہا ہے یہ رونے والا ناٹک میرے سامنے نا شروع کیا کرو”۔ وہ اسپے سے اٹھتا چڑے ہوئے لہجہ میں گویا ہوا۔ وہ کچھ نا بولی خاموش رہی اسے لگا تھا۔ اسنے اسے اسکا مطلب پورا نا کرنے دیا تو وہ اسکے پاس سے فلک کے پاس چلا جائے گا پر جھٹکا تو اسے تب لگا جب وہ روم کی لائٹس آف کرتا بیڈ کی دوسری سمت لیٹ گیا تھا۔ اسنے دھیرے سے گردن ترچھی کرکے اسے تکا تھا۔ وہ بھی اسے اندھیرے میں غصہ سے گھور رہا تھا۔ وہ اسکے گھورنے سے کنفیوز ہوتی اپنے لب کچلتی کمبل اوڑھ کر سونے کو لیٹ گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

فجر کی آزانوں کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تو وہ اٹھی تھی۔ وہ وضو کرنے واشروم میں گھسی تھی وضو کر کرے نکلی نماز پڑھی اور دعا کرتے اسکی نگاہوں کے آگے سے رات کے تمام واقعات گزرے وہ اٹھی روم سے باہر نکلی چائے چڑھائ چائے پکی تو دو کپوں میں انڈیل کر کپ ٹرے میں سجائے مین ڈور کھول کر باہر گارڈن میں آئ وہ بینچ پہ آڑا ترچھا پڑا تھا۔ آدھا جسم بینچ پہ تھا اور آدھا زمین پہ ، وہ سامنے پڑے ٹیبل پہ چائے رکھتی اسکی طرف بڑھی تھی۔ اسے بے خبر سوتا دیکھ اسے شرارت سوجھی تھی۔ گلاب کی پودے سے آدھ کھلے گلاب کی کلی توڑتی وہ اسکے سر پہ جھکی تھی۔ دھیرے دھیرے گلاب اسکے چہرے پہ پھیرتی اسکی نیند میں خلل ڈال چکی تھی۔ اسکے ماتھے پہ شکنوں کا جال نمودار ہوا تھا۔ وہ نیند سے بوجھل آنکھیں کھولتا اسکا ہاتھ کلائ سے تھام گیا تھا۔ اسے ناراضگی سے تکتا وہ اسکی کلائ چھوڑ گیا۔ وہ ٹیبل پہ پڑے چائے کے کپ اٹھاتی آئ ٹرے اسکی طرف بڑھائ اس نے خاموشی سے کپ اٹھایا وہ اپنا کپ تھامتی ٹرے اپنے اور اسکے درمیاں بینچ پہ بچی خالی جگہ پہ رکھتی اسے تکنے لگی جسکا موڈ اچھا خاصہ خراب تھا۔اسکے مسلسل اسے تکنے پر اسنے رخ موڑ کر اسے دیکھا تھا۔

” کیوں دیکھ رہی ہو ایسے “۔ وہ نروٹھے پن سے بولا۔

” دیکھ رہی ہوں پوری رات باہر پڑے رہے پر اکڑ پھر بھی کم نا ہوئ”۔ وہ اپنی امڈتی ہنسی پہ قابو پاتی بہ مشکل بول پائ۔

” بہت ہی سستا مذاق تھا۔ نا مجھ میں پہلے اکڑ تھی نا اب ہے۔ پر ہاں سر میرا ضرور درد کر رہا ہے۔ پوری رات مچھروں کے ساتھ کًشتی کرتا رہا میں ، تھک گیا ہوں آج نجانے آفس کیسے جاؤں گا”۔ وہ دور افق کو تکنے لگا۔ گہرا نیلا رنگ پورے آسمان پہ چھایا ہوا تھا۔ ہلکا اندھیرا تھا اور ہلکی روشنی۔۔۔ بڑا ہی پیارا منظر تھا۔

” جیسے روز جاتے ہیں ویسے ہی آج بھی جائیں گے آفس”۔ وہ سنجیدگی سے بولی۔

” سیریسلی”۔ اسنے اسے گھورا۔

” ہمم سیریسلی”۔ نرم لہجہ میں کہا۔

” پوری رات باہر مچھروں کے ساتھ سونے کو چھوڑ کر صبح صبح چائے جیسی عنایت کرنے کا مقصد”۔ وہ چائے کی چسکی بھرتا مستفسر ہوا۔

” مجھے آپ سے بات کرنی تھی”۔ وہ دھیمے سے بولی۔

” ہمم کہو کیا کہنا تھا”۔ وہ رخ اسکی طرف کرتا بولا۔

” کل جو بھی ہوا آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ مانا کہ بختاور آپکی اچھی دوست ہے پر آپکی ایک فیملی بھی ہے، جو وقت آپ بختاور کو دے کر آئے ہیں کل وہ کچھ میرا تھا کچھ آپکی اولاد کا اور کچھ آپکا اپنا وقت تھا۔ اور سب سے بڑی بات تو یہ کہ آپ نے مجھے بتانا تک ضروری نا سمجھا مجھے دکھ ہوا بہت دکھ ہوا مانا کے ہمارا تعلق سازگار نہیں پر کیا ضروری ہے ہم اپنے بیچ کے معملات کو کسی غیر انسان پہ عیاں کریں۔ کیا یہ غلط نہیں ۔۔۔؟؟ ہماری زندگیوں میں جو بھی ہورہا ہے یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ اور جو ہمارا مسئلہ ہے بس وہ ہمارا ہی مسئلہ ہے ہم دوسروں پہ اپنے مسائل اپنی ناراضگی ظاہر کرکے کسی بھی غیر کہ ہاتھ اپنے رشتے اپنے تعلق کے کمزور ہونے کی کڑی نہیں دے سکتے کہ ہر آنے جانے والا انسان ہماری وقتی ناراضگی کا استعمال کرکے اپنی پسند کے فائدے اٹھا کر چلتا بنے۔ ہمارے بیچ جو بھی ہورہا ہے۔ یہ ہماری اپنی نجی زندگی ہے۔ ہمیں اپنے تعلق کی خوبصورتی کو دنیا کی نظروں میں کیسے بنا کر رکھنا ہے یہ ہمارا کام ہے۔ ہاں ہم لڑیں گے جھگڑیں گے شاید کئ کئ دن تک ہم کلام بھی نا کریں۔ پر جب ہم بات کریں گے تو ہر شکوہ ہر شکایت ہوا ہوجائے گا۔ پر اگر ہم انہیں باتوں کو دوسروں پہ عیاں کردیں گے۔ تو وہ اِن عام سی باتوں کا افسانہ بنا ڈالیں گے۔۔۔ ٹھیک کہہ رہی ہوں نا میں؟؟؟”۔ وہ اپنی بات مکمل کرتی اسے بغور تکنے لگی۔

” یار میں نے ہمارے بیچ کے تعلق کا کہاں پوسٹر لگا دیا “۔ وہ حیران ہوا۔

” کبھی کبھار پوسٹر لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی آپکے رویے ہی ہر بات عیاں کر جاتے ہیں “۔ وہ آسمان کو تکتے سنجیدگی سے بولی اور ساتھ ہی چائے کی ایک چسکی بھری۔

” اوکے چلو ماں لیا میری غلطی تھی سوری آئیندہ سے خیال رکھوں گا”۔ وہ نرمی سے بولا۔

” میری بات سمجھنے کا شکریہ “۔ وہ رخ اسکی جانب کیئے دھیرے سے مسکرائ۔

” کتنا پیارا لگ رہا ہے نا آسمان اسوقت”۔ وہ دھیرے سے بولا تھا۔

” ہمم آسمان تو ہر وقت ایسے ہی پیارا ہوتا ہے بس ہمیں ہی فرصت نہیں ہوتی کہ ایک نظر دور افق پہ بکھرے قدرت کے حسین رنگوں پہ بھی ڈال لیں”۔ ثبور نے نرمی سے جواب دیا۔

” یہ بھی خوب کہی آپ محترمہ نے “۔ وہ مسکرایا تھا۔

” بختاور کب جائے گی واپس اپنے گھر “۔ اسنے نرمی سے پوچھا۔

” ابھی وہ اپنے فلیٹ میں کچھ رینویشن کا کام کروا رہی ہے۔ جیسے ہی مکمل ہوگا وہ چلی جائے گی “۔ اسنے عام سے لہجے میں جواب دیا۔

” اچھا سہی میں ناشتہ بنا لوں آپ سوجائیے نو بجے تک چلے جائیے گا آفس کچھ گھنٹے سو جائیے “۔ وہ اسکا اور اپنا کپ اٹھاتی اٹھی تھی۔ کہ اسکی آواز کانوں میں پڑی تو وہ پلٹی۔

” تم بختاور سے اتنی انسیکیور کیوں ہورہی ہو “۔ اسنے خاموش سے لہجے میں پوچھا۔

” کیا مجھے بختاور سے انسیکیور نہیں ہونا چاہیئے۔۔۔؟؟ یہ وہ عورت ہے جس کے آپکی زندگی میں دوبارہ آجانے سے آپ اپنی بیٹیوں کی ماں پہ سوکن لانے والے تھے۔ جب اسوقت اس عورت کو اور آپکو جاناں اور جویریہ اور حوریہ پہ ترس نا آیا تو اب مجھ پہ کیا خاک آئے گا”۔ وہ اپنی بات مکمل کرتی رکی نا تھی۔ منظر سے غائب ہوچکی تھی وہ پر جہانداد عجیب ہی کسی دنیا میں جا پہنچا تھا۔ اسے امید نہیں تھی کہ جویریہ اور حوریہ یہ تمام باتیں ثبور کو بتائیں گی۔ اسے عجیب ہی کوئ شرمندگی ہونے لگی تھی۔ وہ سرد آہ خارج کرتا سونے کو اندر چلاگیا تھا۔