Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288

Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 2)

54.3K
20

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Fareeb E Ishq (Episode 2)

Fareeb E Ishq By Momina Shah

جابر خان اپنی موجودہ حالت کے بارے میں سوچتا تیار ہو رہا تھا، آج اچھا خاصہ لیٹ ہوگیا تھا وہ آفس جانے کو تیار ہورہا تھا کہ یکدم اسکا موبائل بجا اور موبائل پہ جویریہ اور حوریہ کی کال دیکھ بے ساختہ مسکرا دیا۔

” اسلام و علیکم “۔ اسنے موبائل کان اور کندھے کے بیچ میں اڑسا اور بیڈ پہ بیٹھ کر ساکس پہننے کے ساتھ ہی سلام داغا۔

” وعلیکم اسلام چاچو کیسے ہیں آپ “۔ جویریہ اور حوریہ یک زبان ہوکر بولیں۔

” بلکل ٹھیک ہوں آپ دونوں کیسی ہو ، تمہارے ڈیڈ کیسے ہیں میری تو انہیں بلکل یاد نہیں آتی کہ اپنے مظلوم بھائ کو ذرا سا پوچھ لیں”۔ جابر خان منہ بناتا بولا تھا۔ اور شوز پہن کر کھڑا ہوتا آئینہ میں ایک نظر خود کو تنقیدی نگاہوں سے دیکھتا موبائل کان سے لگائے ہی کمرے سے باہر نکلا۔

” چاچو انکو آپکی یاد کیسے آئے گی جب وہ خود کو اپنی نئ زندگی نئے رشتوں میں مصروف کر چکے ہیں”۔ جویریہ کہ لہجہ ۔میں گہرا دکھ بول رہا تھا۔

” کیا کہہ رہی ہو کیا پھر سے اپنے ڈیڈ سے پھڈا کر بیٹھی ہو لڑاکا طیارہ”۔ اسنے بات کو ہوا میں اڑاتے اسے چھیڑا۔

” چاچو آپ کو نہیں پتہ ڈیڈ نے کیا کیا ہے ، اگر آپکو پتہ چل گیا ناں تو آپ بھی ان سے ناراض ہوجائیں گے”۔ جویریہ منہ بنا کر کہتی جابر کو ٹھٹکنے پہ مجبور کر گئ تھی۔

” کیوں بھئ چڑیلوں ایسا کیا کردیا میرے معصوم بھائ نے “۔ جابر حال میں آکر صوفے پہ بیٹھا موبائل کو کان سے لگائے بلیک تھری پیس سوٹ میں شانے بے نیازی سے بیٹھا مستفسر ہوا۔

پاس بیٹھی زرتاشہ کے کان کھڑے ہوگئے، اسے معلوم پڑ گیا تھا کہ وہ یقیناً جویریہ اور حوریہ سے بات کر رہا ہے۔ جہانداد نے اسے ایک نظر دیکھا ارد گرد نظر دوڑائی کسی کو بھی موجود نا پاکر اسے ایک فلائنگ کس پاس کی اور ساتھ ہی لگے ہاتھوں آنکھ بھی مار دی۔ وہ تو اسکی چھچھوری حرکت پہ سلگ ہی گئ تھی۔پر خود کو کمپوز کرکے بیٹھی رہی۔

” چاچو ڈیڈ نے دوسری شادی کر لی ، ہماری ماما کی جگہ کسی اور کو دے دی”۔ حوریہ کی نم سی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ تو وہ یکدم سیدھا ہوکر بیٹھا۔

” ہیں کیا کہہ رہی ہو یعنی بھائ نے بھی کر لی دوسری شادی اوہ واؤ مجھے تو ایوئیں فضول میں اپنی ٹینشن ہو رہی تھی”۔ جابر کے چہک کر کہنے پہ جہاں زرتاشہ کا چہرہ زرد پڑا تھا وہیں ، جویریہ اور حوریہ اسکے چیخنے پہ مزید دکھی ہوگئ تھیں۔

” چاچو آپکو بلکل دکھ نہیں کہ ہماری ماما کی جگہ لینے کوئ اور آگئ ہے ۔۔۔!! “۔ دونوں یک زبان ہو کر دکھ سے مستفسر ہوئیں۔

” یار اسمیں دکھ کی کیا بات ہے ، ہر انسان اپنی جگہ بناتا ہے کوئ کسی کی جگہ نہیں لے سکتا “۔ جابر رساں سے بولا۔

” چاچو چھوڑ دیں آپ تو ، آپ کو تو کبھی کچھ سمجھ ہی نہیں آئے گا تاشہ خالہ کو فون دیں “۔ جویریہ نے منہ بنا کر کہا۔

” یار تمہاری تاشہ خالہ کا موڈ ابھی ٹھیک نہیں بعد میں خود کال کر کے بات کر لینا”۔ وہ جلدی سے کہتا انکی سنے بغیر ہی کال کاٹ گیا تھا۔ تاشہ نے اسے گھورا اور اپنا موبائل اٹھا کر انکا نمبر ڈال کرنے ہی لگی تھی کے جابر نے اسکے برابر بیٹھتے موبائل اسکے ہاتھ سے چھینا۔ اور اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے ایک جھٹکے سے اپنے قریب کیا۔ دونوں کا چہرا اتنا قریب تھا کہ کوئ بھی ذرا سا ہلتا تو دونوں کہ لب مس ہوجاتے۔ زرتاشہ نے سانس روک کر اپنا سر پیچھے کرنا چاہا ، پر اسے پیچھے ہونے کا موقع دیئے بغیر ہی وہ اسکے لبوں پہ دھیرے سے جھک آیا تھا۔ وہ مدہوشی کے عالم میں ڈوبا ہوا تھا ، اور زرتاشہ مسلسل اسے خود دور کرنے کی کوششوں میں لگی تھی کہ یکدم اسکی پکڑ میں مزید شدت آئ تھی ، زرتاشہ کا سانس اکھڑنے لگا تھا، اسکی پھیلی آنکھیں دیکھ اسنے اسے دھیرے سے پیچھے ہٹایا تھا۔ زرتاشہ کی لب اس شدت بھرے لمس پہ خون چھلکانے کو بے تاب سے تھے وہ اسے مدہوشی سے تکتا ہولے سے اپنے لب اسکی چھوٹی سی ناک پہ رکھ گیا تھا۔ جابر کی گرفت کمزور پڑتے ہی زرتاشہ نے اسے ایک جھٹکے سے خود سے دور جھٹکا اور اپنا پھولا سانس بہال کرنے لگی تھی۔ جابر اسکی حالت دیکھ کمینے پن سے ہنسا تھا۔ زرتاشہ کا ہاتھ بے ساختہ اسکے دل کے مقام پر گیا تھا، پہلے کبھی تو اس نے ایسی جراًت نا کی تھی۔ وہ تو اسکی جراّت پہ ہی دنگ تھی۔

” دیکھ لو ذرا سی چھوٹ کیا دے دی تمہیں تم تو سر ہی چڑھ کہ بیٹھ گئ تھیں ہاں ، اتنی زور سے صبح مجھے چپل ماری تھی تم نے ، میں نے تو پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ بدلہ تو میں لے کر رہوں گا”۔ وہ شریر سی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتا بولا تھا۔

” کمینے ہو تم پورے ، اسکے بعد میرے منہ لگنے کی غلطی نا کرنا نہیں تو میں تمہاری جان لے لوں گی جابر خان “۔ وہ لال آنگارہ نگاہیں اس پہ گاڑھ کر کہتی ، نفرت سے پیر پٹختی اپنے کمرے کی سمت چلی گئ تھی۔ پر دور جاتے ہوئے بھی اسکے کانوں میں پڑتی جابر خان کی آواز اسکے گال نا چاہتے ہوئے بھی دہکا گئ تھی۔

” یار تم نا پوری وائن کی بوتل ہو قسم سے نشہ سا چڑھ جاتا ہے مجھے “۔ وہ اسے چھیڑنے کی غرض کمینی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے بولا۔ اور اپنا موبائل جیب میں ڈالتا آفس کے لیئے روانہ ہوگیا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧

وہ اسے ناشتہ کرنے کا کہتا خود بھی نکل گیا تھا۔ پورا گھر خالی پڑا تھا۔ وہ ویسے بھی تنہائیوں میں رہنے کی عادی تھی۔ اسے عادت تھی تنہا رہنے کی ، وہ پورا گھر گھوم پھر کر بیٹھی تھی گھر خاصہ وسیع پیمانے پہ بنا تھا۔ گھر کی سجاوٹ بھی بے حد بہترین طریقے سے کی گئ تھی۔ اس گھر کو دیکھتے اسے اپنا اور حارث کا چھوٹا مگر بے حد دل کے قریب گھر یاد آیا ، جہاں ان دونوں نے اپنی زندگی کے دو سال ساتھ گزارے تھے۔ وہ چاہ کر بھی حارث کا خیال اپنے دل اپنے ذہن سے نکال نہیں پا رہی تھی۔ ماضی کو سوچتے سوچتے وہ ماضی میں ہی ڈوب گئ تھی۔

” ثبور جلدی کرو یار دیر ہورہی ، ایک تو بڑی ہی سست عورت ہو قسمے”۔ وہ جلدی جلدی اپنے پیر پہ جرابیں چڑھاتا اتنا بلند بولا تھا کہ بیڈروم سے آواز کچن میں ناشتہ بناتی ثبور تک باآسانی گئ تھی۔

” حارث لڑائی ہوجائے گی آپکی اور میری عورت نہ بولا کریں بڑا ہی برا لگتا ہے مجھے”۔ وہ چائے کپ میں انڈیلتی چیخی تھی۔

” تم عورت ہو ، اور میں تمہیں عورت ہی کہوں گا ، عورت عورت عورت “۔ وہ اپنی ہنسی دباتا ، بلند آواز میں کہتا اسے آگ لگا گیا تھا۔

” ناشتہ کریں اور پھر نکلنے کی کریں نہیں تو آپکی کوئ ایک ہڈی تو ضرور ٹوٹ جانی ہے “۔ وہ اسکے سامنے ٹیبل پہ ناشتہ رکھتی ، اسے وارن کرنے لگی۔

” آؤ عورت بیٹھو ناشتہ کرو “۔ وہ اسے چھیڑنے کو دوبارہ بولا۔

” حارث ۔۔ میں ناراض ہوجاؤں گی “۔ وہ منہ پھلا کہ بیٹھتی اسے بڑی پیاری لگی تھی۔

” یار اتنی پیاری شکلیں نہ بنایا کرو ” وہ اسکے ماتھے پہ پیار کرتا اسکے گال کھینچ گیا تھا۔

زوردار آواز سے لاؤنج کا دروازہ کھلا تھا ، وہ ماضی کی یادوں سے اچھل کر باہر آئ تھی۔ وہ پریشان سی اٹھی دیکھا تو سامنے وہ ہی کھڑا تھا، ابھی گیا تھا اور واپس بھی آگیا تھا آدھا گھنٹہ بھی نہ ہوا تھا اسے گئے کے واپس ٹپک پڑا تھا۔ پر جاتے ہوئے اسکا موڈ اچھا خاصہ درست تھا۔ آنے کے بعد سے اسکا موڈ خاصہ خراب تھا۔ پر خیر اسے کیا ۔ اسکا موڈ اچھا ہو یا خراب یہ اسکا مسئلہ تو نہ تھا۔

” سکینہ ۔۔۔ ایک گلاس پانی لاکر دو۔۔”۔ وہ اپنے ماتھے پہ آیا پسینہ ٹشو سے خشک کرتا اسکے مقابل صوفہ پہ بیٹھا تھا۔ وہ اتنی زور سے گرجا تھا کہ ثبور اچھل کر رہ گئ تھی۔

” سکینہ ۔۔۔ یہ سکینہ اب کہاں مر گئ ہے”۔ وہ غراتا ہوا اٹھا تھا۔ کچن میں جھانکا سکینہ کا کوئ نام و نشان نہ تھا۔ کچھ یاد آنے پہ ماتھے پہ ہاتھ مارتا خود ہی فریج تک گیا پانی اٹھایا گلاس میں پانی انڈیلا پانی کا گلاس باہر لے کر آیا صوفہ پہ بیٹھا سکون سے پانی پیا اور اپنا سر صوفے کی پشت پہ ٹکا گیا تھا۔ وہ محض اسکی کاروائ دیکھتی رہ گئ تھی۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی کہ اتنی سی دیر میں آخر ایسا کیا ہوگیا کہ جو بندہ اچھے خاصے چل پل موڈ میں نکلا تھا۔ وہ منہ سجائے بیٹھا تھا۔ جہانداد نے سر اٹھایا آنکھیں کھولی اور گھور کہ اسے دیکھا ، وہ اسکے گھورنے پہ ایک دم سٹپٹائ تھی۔

” تم اپنے بھائ کے بارے میں کچھ بتانا پسند کروگی”۔ وہ سرخ آنگارہ نین اس پہ گاڑھتے دبی آواز میں غرایا تھا۔

” میرا بھائ ۔۔؟؟ “۔ اسنے سوال کیا۔

” نہیں انکا بھائ ۔۔! ظاہر سی بات ہے کوئ ہے تمہارے علاوہ ادھر موجود”۔ اسنے چڑ کر دیوار کیطرف اشارہ کیا تھا۔

” میرے بھائ کے بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں آپ”۔ وہ اسکو خشگمین نظروں سے گھورتی مستفسر ہوئ۔

” جتنا پوچھا ہے اتنا بتاؤ “۔ اسکا لہجہ اچھا خاصہ رعایت سے پاک تھا۔

” کیوں بتاؤں میں آپکو کچھ بھی اپنے بھائ کے حوالے سے “۔ وہ پرسکون لہجہ اپنائے اسے مشتعل کر گئ تھی۔

” دیکھو بہت پیار سے پوچھ رہا ہوں بتادو”۔ وہ اسکے سر پہ آن کھڑا ہوا تھا۔

” میں بھی بہت پیار سے کہہ رہی ہوں کہ میں نہیں بتاؤں گی انکے بارے میں کچھ بھی جب تک آپ بتا نہیں دیتے کہ کیوں پوچھ رہے ہیں انکے بارے میں “۔ وہ پرسکون لہجہ میں ٹہر ٹہر کہ کہتی اپنی شامت بلوا گئ تھی۔

” کیا بد تمیزی ہے تمیز سے پوچھ رہا ہوں ناں تو شرافت سے جواب دو”۔ وہ ٹیبل پہ پڑا قیمتی ڈیکوریشن پیس اٹھا کر زمین پہ پٹختا اسکی طرف بڑھا تھا۔ اور اسے جبڑوں سے تھامتا اسپے جھکتا اسے کانپنے پہ مجبور کر گیا تھا۔ ثبور کی خوف سے آنکھیں باہر کو ابلنے کو تھیں۔ اسکے تو وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ یہ شخص جو اب تک اتنا کول تھا۔ وہ ایسا بھی کچھ کر جائے گا۔

“اب شرافت سے بتاؤ اپنے بھائ کے بارے میں ، اور ہاں سب کچھ سچ سچ بتانا۔۔ سمجھی۔۔!”۔ وہ اس پہ مزید جھکا تھا پر اسکے جبڑوں کو اپنے ہاتھوں سے آزاد کر دیا تھا۔ ثبور کے ہاتھ بے ساختہ اپنے گال پہ گئے تھے اسکے جبڑے شدید درد کر رہے تھے۔ اسنے نم نین کٹورے اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ جو کل پہلی ہی نظر میں اسکا اسیر ہوگیا تھا۔ اسکے اسطرح سے دیکھنے پہ بہ مشکل خود کو بے خود ہونے سے روک پایا تھا۔

” آنکھیں نیچی کرو “۔ اسکے نین اسے کمزور کر رہے تھے ، وہ سختی سے اسے آنکھیں نیچی کرنے کا کہتا خود پہ اپنے جذبات پہ بہ مشکل قابو رکھ پایا تھا۔

” میں نہیں بتاؤں گی اپنے بھائ کے بارے میں “۔ وہ دھیمی آواز میں منمنائ تھی۔

” نہیں بتاؤ گی تو پٹ جاؤ گی میرے ہاتھوں سے فوراً پھوٹو ساری معلومات “۔ وہ اسکے بالوں کی لٹ اپنے ہاتھوں پہ سختی سے لپیٹتا ہلکا سا جھٹکا دے گیا تھا۔

” آہ ۔۔ کہا نہ نہیں بتاوں گی”۔ وہ اب بھی اپنی بات پہ بضد تھی۔

” پتہ تو میں خود بھی کروا سکتا ہوں پر اس میں کچھ ٹائم لگے گا ، اسی لیئے کہہ رہا ہوں شرافت سے بتاؤ “. وہ اسکی کنپٹی پہ انگشت شہادت رکھتا دھیرے دھیرے اپنی انگلی نیچے سرکاتا اسکی گردن تک لایا تھا۔ اور پھر ایک پھونک اسکے چہرے پہ ماری تھی۔ وہ آنکھیں مینچتی رونے کا شغل فرما رہی تھی۔

” میں نے کہا نا نہیں بتاؤں گی “۔ وہ سسکتے لہجے میں کہتی اسکے دل میں سیدھا گھر کر رہی تھی۔

” بتا دو ناں ۔۔ہمم اتنے پیار سے پوچھ رہا ہوں ، اگر میری تھوڑی سی مدد کروگی تو ثواب ہی ملے گا”۔ جہانداد کا لہجہ لمحوں میں بھیگا تھا۔

” مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے، کہ تمہیں پتا ہے ۔۔۔ اپنے بھائ کے کارناموں کا اور میرے پروفیشن کا بھی تمہیں علم ہے”۔ وہ اسے بغور تکتے اپنا چہرہ اسکے چہرے کے بلکل قریب لے گیا تھا۔ وہ اسکے چہرے کے اتنا قریب تھا کے ان دونوں کی ناک مس ہورہی تھی۔

” مجھے نہیں پتا کچھ ۔۔”۔ وہ اپنا سر پیچھے کرتے بولی۔

” تم جانتی ہو تم اپنے ملک کے ساتھ کتنا غلط کر رہی ہو ، اپنے بھائ کی بقا کی خاطر تم اپنے ملک کے معصوم بچوں کے مستقبل برباد کر رہی ہو ، تم نجانے کتنی ماؤں کی بد دعائیں اپنے نام لکھوا رہی ہو، وہ بچے جو ہمارا ، اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ تم انہیں راکھ بنا رہی ہو ، کچھ نہ کرتے ہوئے بھی تم اس شخص کے ہر گناہ میں اسکی شریک بن رہی ہو، وقت ہے ۔۔۔ بتا دو جو کچھ تمھارے علم میں ہے ، بتا دو اپنے دل کے سکون کی خاطر ، اپنے ملک کے روشن مستقبل کی خاطر ، تمھارے بھائ سے زیادہ اسوقت تمھارے ملک کو تمھاری وفاؤں کی ضرورت ہے”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اس سے دور ہوا تھا۔ وہ بنا پلک چھپکے اسکی شکل دیکھ رہی تھی۔

” ہاں مجھے پتا ہے کہ آپ ایک رپورٹر ہیں ، اور بہت سے اسٹنگ آپریشن کرچکے ہیں ، کامیاب بھی رہے ہیں ۔۔۔اور آپ کو کون نہیں جانتا سب جانتے ہیں میں بھی جانتی ہوں ، پر یقین مانیئے آپکی باتوں سے لگ رہا ہے ، کہ کچھ بہت غلط ہے جسکا مجھے کوئ علم نہیں”۔ وہ رساں سے کہتی اسے غصہ دلا گئ تھی۔

” جھوٹ نا بولو خدا کا واسطہ ہے ۔ اگر سچ نہیں بول سکتی تو پلیز۔۔! خدارا جھوٹ بھی نہ بولو”۔ اسکی آنکھیں لمحوں میں سرخ ہوئ تھیں ، اسپے نفرت بھری نگاہ ڈالتا وہ بنا اسے صفائی کا موقع دیئے جیسے تن فن کرتا آیا تھا۔ ویسے ہی واپس جاچکا تھا، وہ حیران پریشان سی بیٹھی اس شخص کہ اس عجیب و غریب روپ کو سوچتی جھرجھری لے کر اٹھی تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧♧

زرتاشہ نے روم میں آکر اپنی سانسیں بہال کیں اور اس بات کا عہد خود سے باندھ لیا کہ اب کبھی وہ اسکے ساتھ تنہا نہیں بیٹھے گی ویسے ہی انتہا کا بدتمیز انسان تھا وہ اس سے کیا دریغ کب کہاں موقع کا فائدہ اٹھا لے۔ اسنے بیڈ پہ بیٹھی ڈرائنگ کرتی منت کو ایک نظر دیکھا اور پھر حوریہ اور جویریہ کو کال کرنے کا سوچا تو موبائل نا پاکر اسے یاد آیا کہ موبائل تو وہ جابر کے چکر میں نیچے ہی چھوڑ آئ تھی۔ اسنے اپنے لمبے بالوں کی چوٹی کو پیچھے جھٹکا اور واپس نیچے کی طرف قدم اٹھائے۔ وہ نیچے آئ اپنا موبائل اٹھایا انکو کال ملائ پر کال ریسیو نا ہوئ وہ سمجھ گئ کہ اس وقت مصروف ہونگی نہیں تو ایسا کبھی نا ہوتا کہ انکو زرتاشہ فون کرے اور وہ اپنی تاشہ خالہ کا فون نا اٹھائیں۔

وہ خاموشی سے اٹھ کر کچن میں آگئ تھی ویسے بھی دن کے گیارہ بج رہے تھے ، اور منت کل سے پیزا کھانے کی فرمائش کر رہی تھی۔ تو اسنے سوچا ابھی لگ کر اسکے لیئے پیزا ہی بیک کر لے ، وہ کچن میں گھسی ، پہلی فرست میں اس نے بون لیس چکن کو چھوٹی چھوٹی کیوبس میں کٹ کیا اور چکن کو مرینیٹ کرکے رکھا ، ابھی وہ پیزا کی ڈوہ بنا رہی تھی کہ کچن میں فلک آئ اور کچن کاؤنٹر کے سامنے رکھی چیئر میں سے ایک چیئر کھسکا کر بیٹھی۔

” کیا کر رہی ہو “۔ فلک نے اسکے حسین نقوش کو بغور تکتے پوچھا۔

” پیزا بنا رہی ہوں “۔ اسنے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر خاموشی سے واپس سر جھکا کر ڈوہ گوندھنے لگی۔

” ہمم ۔۔ ” فلک نے دھیرے سے ہنکارا بھرا اور اپنے اندر ڈھیروں ہمت جمع کرکے الفاظ کو ترتیب دینے لگی۔

” میرا اور جابر کا دس سال کا ریلیشن رہا ہے ، پر اسنے مجھے کبھی بتایا نہیں کہ وہ میرڈ ہے یا اسکی ایک بیٹی بھی ہے”۔ فلک نے اسے بغور تکتے کہا۔ اسکی بات پہ یکدم زرتاشہ کے چہرے پہ گہرے سائے لہرائے تھے۔

” منت ہماری بیٹی نہیں ہے “۔ اسنے دھیمی آواز میں مصروف سے لہجہ میں کہا۔

” کیا مطلب”۔ فلک نے حیرت سے اسے تکا۔

” مطلب یہ کہ فلک میری بہن کی اور جابر کے بھائ کی بیٹی ہے “۔ اسنے گوندھی ہوئ ڈوہ پہ کپڑا ڈالتے کہا۔

” پر کسی اور کی بیٹی تم لوگوں کے پاس کیسے ، مجھے کچھ سمجھ نہیں ائ”۔ فلک کو حیرت در حیرت تھی۔

” اتنا کچھ بھی مشکل نہیں ، میری اور جابر کی شادی ایک زبردستی اور مجبوری کی شادی تھی ، ہماری شادی کو دو سال گزرے تو سب کو لگا کہ ہمارے ہاں اولاد نہیں ہو پا رہی پر حقیقت یہ تھی کہ میرے اور جابر کے درمیان ایسے کوئ تعلقات ہی نہیں تھے ، اور نا ہیں ۔۔ لوگ مجھے طعنہ دینے لگے تھے بانجھ ہونے کا اور میری بہن کو یہ سب بلکل اچھا نہیں لگتا تھا، اسی لیئے انہوں نے منت کے پیدا ہونے سے پہلے ہی کہہ دیا تھا بیٹا ہو یا بیٹی میں تمہیں ہی دونگی ، انہیں بھی یہی لگتا تھا کہ میں بانجھ ہوں ، اور جیسے ہی منت ہوئ انہوں نے منت کو مجھے اور جابر کو دے دیا بس یہی حقیقت ہے “۔ وہ آدھے سے زیادہ باتیں کاٹ کر اسے مختصر سی کہانی بتاتی چلی گئ۔ اور فلک اسکا چہرہ دیکھتی رہ گئ تھی۔

” یہ کیسی عجیب شادی ہے تم دونوں کی “۔ فلک کی زبان سے یکدم پھسلا۔

” ہمم سہی کہہ رہی ہو بہت عجیب شادی ہے ہماری “۔ وہ اپنے لہجے کی نمی چھپا کر مسکرا کر کہتی اپنے کام میں مشغول ہوگئ تھی۔

” میں مدد کرواؤں تمہاری “۔ فلک اسکے پاس آئ۔

” نہیں اسکی کوئ ضرورت نہیں “۔ زرتاشہ نے نرمی سے نفی کی۔

” میں بور ہورہی ہوں ویسے بھی ، تمہاری ہیلپ کرکے اچھا لگے گا مجھے”۔ وہ جھجک کر بولی۔

” ٹھیک ہے تم یہ چیز کو کرش کردو “۔ وہ دھیرے سے بولی۔

” اوکے “۔ فلک اسکے مان جانے پہ مسکرا کر فریج سے سامان نکالنے لگی تھی۔ اور تھوڑی دیر بعد کچن سے انکی چھوٹی چھوٹی باتوں کی آواز گونج رہی تھی۔ اور یکدم کسی بات پر انکا جاندار قہقہ گونج اٹھا تھا۔

♧♧♧♧♧♧♧

” یاد ہے مجھ کو، ادھوری چاہتیں میری”

” تیرے ساتھ گزرا ہوا، ہر پل امر ہے”

تیز برستی بارش اسے آج پھر حارث کی یاد دلا گئ تھی ، ہر بارش میں اسے اپنی اور حارث کی یادیں برستی دکھتی تھیں۔ ابھی تک ان تینوں میں سے کوئ بھی گھر واپس نہیں آیا تھا شام سات کا وقت تھا۔ گہرے بادلوں کی بدولت شام بھی گہری رات کی مانند لگ رہی تھی۔ وہ باہر گارڈن میں آئ ، خاموشی سے برستی بارش میں بھیگتی رہی، اپنے گماں میں تو وہ حارث کی محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی۔ برستی بارش میں اسے گاڑی اندر آتی دکھائی دی پر وہ نہاتی رہی بھیگتی رہی ، جہانداد نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا ، وہ مڑی بھیگتی آنکھوں کو بہ مشکل کھولا۔۔ وہ آنکھیں جن میں اب تک محبت کا اک جہاں آباد تھا۔ محض حارث کا خیال ہی اسکے چہرے پہ محبت کے رنگ بکھیر گیا تھا۔ پلٹنے کے بعد آنکھوں کے سامنے حقیقت دیکھ اسکی آنکھوں کا روشن دیا بجھ گیا۔ یکایک نگاہوں میں نفرت کے آنگارے لوٹنے لگے اسے اس شخص سے شدید نفرت ہونے لگی۔

” بیمار ہوجاؤ گی چلو اندر “۔ اسنے برستی بارش کے شور میں چلا کر کہا ، بارش کے شور کی شدت اسکی آواز دبا گئ تھی۔

” میں عادی ہوں ، کچھ نہیں ہوگا مجھے “۔ وہ دھیمی آواز میں بولی اسکی آواز بارش کے شور کے ساتھ ہی محلول ہوگئ۔

” کیا کہا آواز نہیں آئ “۔ وہ پھر اونچی آواز میں بولا۔

وہ محض اسے گھورتی ، سامنے بنے برآمدے میں آکر کھڑی ہوئ ، وہ بھی اسکے پیچھے لپکا ، دونوں برآمدے میں کھڑے تھے دونوں کے لباس سے پانی گرتا برآمدے کے فرش کو بھگوئے جا رہا تھا ، جہانداد نے ایک نظر اسکے چہرے کو دیکھا جہاں بیزاری ہی بیزاری تھی۔

” لگتا ہے آپ کو بارش میں نہانے کا بہت شوق ہے “۔ انداز بڑا سادہ تھا۔

” آپ۔۔۔!! میں وہی ہوں صبح والی ثبور جس سے آپ تم ۔۔۔ تم ۔۔ کرکے بات کر رہے تھے ، تو خدارا میرے سامنے مہذب بننے کی اداکاری نہ ہی کریں تو بہتر رہے گا”۔ وہ اسے ٹھنڈی نظروں سے گھورتی اپنی بات مکمل کرتی سر جھٹک گئ تھی۔

” اچھا تو تم چاہتی ہو ، ہم دونوں کے درمیان آپ جناب والی دوریاں نہ رہیں ، سیدھا تم ۔۔۔ ہائے کتنا بے تکلف لفظ ہے ناں یہ ۔۔۔، سامنے والے کے شدید اپنا ہونے کا پتہ دیتا ہے، یہ آپ۔۔ جناب جیسے کلام تو انکے بیچ اچھے لگتے ہیں جن کے بیچ کوئ تعلق نہ ہو ۔۔پر تمھارا اور میرا رشتہ اس سب سے کہیں آگے تک کا ہے”۔ وہ اپنی ہی رو میں اسے تنگ کرنے کی غرض سے بولتا گیا۔ بنا اسکے تاثرات دیکھے۔

وہ جلتی آنکھوں سے اسے گھورتی وہاں سے واک آؤٹ کر گئ تھی۔

وہ اسے محض دیکھ کہ رہ گیا تھا۔ پھر اپنے کندھے اچکاتا وہ بھی اسی سمت ہو لیا تھا جس سمت وہ گئ تھی۔

♧♧♧♧♧♧♧♧♧

وہ اندر آئ تو سیدھا روم میں جاکر اسنے پہلے چینج کیا چینج کرکے باہر آئ تو سامنے وہ دونوں بیٹھی کچھ پیپرز سامنے رکھ کر بیٹھی اسپہ ڈسکس کرنے میں مصروف تھیں ، اسے حیرت ہوئ کہ اتنے زور و شور سے دونوں کس بات پہ مباحثہ کر رہی ہیں۔

” نو ۔۔۔ ایسا نہیں ہے ٹھیک ہے پاپا سے ڈسکس کر لیتے ہیں ، میری بات ہی درست نکلے گی ، انکو ہم ایسے نہیں گھیر سکتے انکے پاس بیک اپ پلین آلریڈی موجود ہوگا”۔ گلابی کرتا پہنی لڑکی تپے ہوئے انداز میں کہتی۔ سکون سے بیٹھی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو تم سے تو میری اب بس ہوگئ۔

” یار آج میں گئ تھی ناں ! پورا ایریا اچھے سے چھان آئ ہوں۔ ہم اپنی ٹیم کے بندوں اور پولیس کو وہاں سے فرار ہونے والے الگ الگ راستوں پہ کھڑا کر دینگے”۔ پیلا کرتا پہنے لڑکی خاصہ تحمل سے بولی۔

” پاپا کو بلا لاؤ اب بات جو بھی ہوگی ان سے ہی ہوگی انہیں جو بہتر لگے “۔ گلابی کرتے والی اپنا موبائل جو ٹیبل پہ پڑا تھا اٹھاتی مصروف سے انداز میں بولی۔

” میں بلا کر لاتی ہوں بابا کو “۔ پیلے کرتے والی لڑکی سنجیدگی سے کہتی اپنے باپ کو بلانے گئ۔ ثبور خاموشی سے سامنے صوفہ پہ بیٹھ گئ تھی۔ اسکے بیٹھنے پہ گلابی کرتے والی لڑکی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا اور واپس موبائل میں گم ہوگئ۔ ثبور صوفہ پہ پیر چڑھا کر خاموشی سے بیٹھی اپنی انگلیاں چٹخانے میں مشغول تھی۔ جب سفید شلوار کمیز میں جہانداد اپنی پیلے کرتے والی بیٹی کے ساتھ لاونج میں داخل ہوا۔ گلابی کرتے والی لڑکی نے موبائل بند کرکے خاموشی سے سائڈ پہ رکھا اسکا رخ اب اپنے باپ اور بہن کی طرف تھا۔

” کیا مسئلہ ہو گیا ہے اب آپ دونوں کو “۔ وہ سنجیدگی سے کہتا ثبور کے برابر بیٹھا۔

” پاپا مجھے اسکا طریقہ سمجھ نہیں آرہا”۔ گلابی کرتے والی بیزاری سے بولی۔

” حوریہ کیوں سمجھ نہیں آرہا یہ کیا کہہ رہی ہے ایسا مشکل جو حوریہ کو سمجھ نہیں آرہا”۔ جہانداد نے سنجیدگی سے کہتے اپنے برابر سے اٹھتی ثبور کا ہاتھ خاموشی سے تھاما تھا دونوں کا ہاتھ اسکے دوپٹہ کے نیچے چھپ سا گیا تھا۔

” پاپا یہ کہہ رہی ہے کہ ہمیں کل ہی فورا وہاں پہنچ جانا چاہیئے”۔اسکا لہجہ اچھا خاصہ بھڑکا ہوا تھا۔

” ہمم سہی جویریہ چاہتی ہے ہم فوراً آٹیک کریں ان پہ ، اور آپ کیا چاہتی ہو حوریہ “۔ وہ سمجھنے کے انداز میں سر ہلاتا ، اپنے برابر بیٹھی ثبور کے ہاتھ کو تھامے اپنا انگوٹھا اسکے ہاتھ کی پشت پہ پھیرنے لگا۔ ثبور مسلسل اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کرانے کی کوششوں میں لگی تھی۔

” میں چاہتی ہوں ہم انہیں مزید مہلت دیں اور طریقے سے اٹیک کریں ہمیں اس کیس پہ مزید کام کرنا چاہیئے”۔ وہ سنجیدگی سے بتانے لگی۔

” ہمم سہی کل ۔۔۔ بات کریں گے اس ٹاپک پر میں سوچ کر بتاتا ہوں، اور علی سے بھی ایک بار ڈسکس کرلینا چاہیئے ہمیں “۔ اسکا انداز خاصہ پر سوچ تھا۔

” ڈیڈ کھانے میں کیا آرڈر کروں ، بتا دیں “۔ حوریہ سنجیدگی سے پوچھتی اٹھی تھی۔

ثبور شرمندہ سی ہوگئ تھی پورا دن گھر میں بیٹھنے کے باوجود بھی وہ ایک ٹائم کا کھانا نہیں بنا پائ تھی۔

” جو آپ لوگوں کو بہتر لگے منگوا لیں ثبور آپ اور حوریہ اور جویریہ تینوں ڈسکس کر لیں “۔ وہ نرمی سے کہتا اسکا ہاتھ چھوڑتا اٹھا تھا۔ اور وہ شرمندہ سی بیٹھی تھی۔

” آپ کیا کھائیں گی بتائیں ، تاکہ میں آرڈر کردوں لیٹ ہورہا ہے بھوک لگ رہی ہے ہمیں “۔ حوریہ نے سنجیدگی سے اسے دیکھتے پوچھا۔

” کچھ بھی کھا لوں گی میں ، آپ کچھ بھی منگوا لیں”۔ وہ شرمندگی سے کہتی اٹھی تھی۔

” اوکے “۔ وہ یک لفظی جواب دیتی اپنے موبائل پہ شاید آڈر ہی دینے لگی تھی۔