Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 3)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 3)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
رات کے نو بج رہے تھے جب جابر گھر آیا ، زرتاشہ فلک اور منت بیٹھ کر رات کا کھانا کھا رہی تھیں۔ وہ آیا انہیں سلام کیا اور زینوں کے نیچے بنے پوڈروم کے سامنے بنے واش بیسن میں اپنے ہاتھ واش کیئے اپنے ہاتھ ٹاول سے سکھاتا، وہ اپنی چیئر کھسکا کہ بیٹھا تھا۔ سر اسکا شدید درد کر رہا تھا۔ اس لیئے دونوں میں سے کسی کو بھی مخاطب کرنے کے بجائے خاموشی سے ڈنر کرنے لگا۔
” طبیعت ٹھیک ہے تمہاری “۔ فلک نے اسے بغور تکتے پوچھا اسکی شکل دیکھ کر ہی اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ اسکی طبیعت ٹھیک نہیں۔ اندازہ تو زرتاشہ کو بھی ہوگیا تھا ، پر وہ انجان ہی رہی۔
” ہاں بس ذرا سا سر میں درد ہے “۔ وہ دھیمے لہجہ میں کہتا بریانی اپنی پلیٹ میں ڈالنے لگا۔
” اچھا چلیں کھانا کھا لیں پھر میں آپ کو ٹیبلٹ دے دیتی ہوں”۔ وہ اسکو دیکھتی نرمی سے بولی۔
” ہمم سہی”۔ اسنے بیزاریت سے کھانا شروع کیا۔
” منت کیا کر رہی ہیں آپ بے بی نیچے نا گرائیں چاول “۔ زرتاشہ نے چاول ٹیبل پہ گراتی منت کو گھورا۔
” مما دلتی سے در دئے”۔ (مما غلطی سے گر گئے”۔) وہ اپنی روشن آنکھیں اپنی ماں پہ گاڑھتے بولی۔
” کوئ بات نہیں پر اب نا گرانا ٹھیک ہے “۔ و9 اسکے گال سہلا کر کہتی ، اسے دوبارہ کھانا شروع کرنے کا اشارہ کرتی خود خاموشی سے اٹھی تھی۔ واش بیسن میں ہاتھ دھو کر آئ۔ تب تک منت بھی کھا چکی تھی کھانا زرتاشہ نے خاموشی سے اسے گود میں اٹھایا اسکے بھی ہاتھ واش کرائے ، اور فلک کو مخاطب کرتی رکی۔۔
” فلک میں روم میں جارہی ہوں ، تم یہ سب ملازمہ سے کہہ کر صاف کرا لینا اور اگر دوا کی ضرورت پڑے تو سنک کے نیچے جو کیبنٹ ہے اسکے برابر والے ڈرار میں دوائیوں کا باکس رکھا ہے “۔ وہ اسے کہتی منت کو سینے سے لگائے دھیرے دھیرے زینے چڑھنے لگی تھی۔ جابر کی آواز نے یکدم اسکے قدم روک دیئے۔
” دوا کہاں رکھی ہے یہ بتانے کا بھی احسان کرنے کی ضرورت نہیں تھی ، فلک کا بھی گھر ہے یہ ڈھونڈ لیتی خو ہی ۔۔ تمہارے احسانوں کی ہمیں ضرورت نہیں”۔ وہ ناگوار لہجہ میں کہتا، دو انگلیوں سے اپنی کنپٹی سہلا رہا تھا۔
” شکریہ بتانے کا کہ تمہیں میرے احسانوں کی ضرورت نہیں آئیندہ سے خیال رکھونگی”۔ وہ رخ موڑ کر خود میں ڈھیروں حوصلہ پیدا کرتی گویا ہوئ۔۔اور بنا وقت ضائع کیئے وہ منظر سے ہٹ گئ تھی۔
جابر خان نے سرخ نگاہیں اٹھا کر اسکی پشت کو تکا، اسے جاتا دیکھ جابر کا دل دکھا تھا۔ اسنے اسے بیماری میں ایسے کبھی تنہا نہیں چھوڑا تھا ، پر آج تو اسنے محض پوچھنا بھی گوارا نہ کیا کہ ” طبیعت ٹھیک ہے تمہاری”۔ وہ نجانے کب سے سامنے زینوں پہ نظریں ٹکائے بیٹھا تھا کہ یکدم اسکے اپنے ٹیبل پہ دھڑے ہاتھ کی پشت پہ کسی دوسرے نرم و نازک سے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ جابر نے نگاہیں اپنے ہاتھ کی طرف کی اور نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا تو فلک آنکھوں میں ڈھیروں پریشانی لیئے بیٹھی تھی۔
” آپ پریشان نا ہوں ، میں تو ہوں نا آپکے پاس”۔ وہ نرمی سے کہتی آنکھیں پٹپٹاتی بولی تھی۔
جابر خان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا پر اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتا مسکرایا۔
” اسی بات کا تو سارا سکون ہے “۔ وہ اسے کھینچ کر اٹھاتا۔ اپنا تھائ پہ بٹھا گیا تھا۔
” اچھا اور کس کس بات کا سکون ہے “۔ وہ مسکراتی اسکی گردن پہ الٹا ہاتھ لپیٹ کر محبت سے بولی۔
” اور اس بات کا سکون ہے کہ آج تم میرے قریب ہونے پر کٹائی پٹائ پہ نہیں اتری”۔ وہ اسکے گال سہلاتا محبت سے اسکے لبوں کو اپنی قید میں لینے ہی لگا تھا۔ کہ یکدم سیدھے ہاتھ کا تھپڑ گھومتا ہوا اسکے گال پہ پڑا تھا۔ مدہوشی یکدم اڑن چھو ہوئ ، جب تک وہ سنمبھلا وہ اسکی گود سے اٹھ چکی تھی۔ جابر کا سر ویسے ہی اسقدر درد کر رہا تھا، اسکے تھپڑ نے مزید سر بھاری کر دیا تھا۔ وہ غصہ میں اسکی طرف بڑھا تھا۔ اور اسے بالوں سے پکڑتا غراتی آواز میں دھاڑا تھا۔
” فلک میں کچھ کہتا نہیں اسکا مطلب ہر گز نہیں کہ جو تمہارے دل میں آئے تم وہی کرو سمجھی ، اگر میں نے تم دونوں کی اتنی آزادی دی ہے تو اسکا ناجائز فائدہ نا اٹھاؤ اگر آزادی دی ہے تو چھین بھی سکتا ہوں ، اور میرے خیال سے نرمی برتنے کا وقت چلا گیا”۔ وہ لال آنگارہ نگاہیں اسکے حسین مکھڑے پہ گاڑھتے بولا۔
” تم ڈیسرو کرتے ہو یہ سمجھے تم جابر خان ، تم کتنے بے حس ہو ، ایک تو آج تک اسے محبت نا دے سکے ، دوسرا اس پہ دوسری عورت لے آئے اور اب ، اسکو اسطرح کے الفاظ استعمال کرکے مار ہی دینا چاہتے ہو کیا”۔ وہ غراتی ہوئ اسے کالر سے دبوچ گئ تھی۔ اور جابر خان نے لال آنگارہ نگاہیں اپنے گریبان پہ ڈالیں ، اسے جتنا تاؤ آتا تھا ، اس بات سے کہ کوئ اسکا گریبان پکڑے اتنا ہی اسکی دونوں بیگمات پہلی فرست میں اسکے کالر اور گریبان پہ حملہ آور ہوتی تھیں۔
” کالر چھوڑو میرا”۔ اسنے انگار انگار ہوتے لہجہ میں کہا۔
” نہیں چھوڑوں گی “۔ بے خوفی سے کہا گیا۔
” میں کہتا ہوں چھوڑو میرا کالر ، نہیں تو”۔ وہ اسکے بالوں کو جھٹکا دیتا بولا۔
” نہیں چھوڑوں گی”۔ وہ بضد رہی۔
” ٹھیک ہے یہ تمہاری اپنی پسند ہے “۔ وہ اسکے بالوں کو چھوڑتا یکدم اسے دھکہ دیتے دیوار سے اسکی پشت چپکا گیا تھا ، اسکی نگاہوں میں انتہا کا غصہ دیکھ فلک کا حلق خشک ہوا تھا۔ پر پھر ہمت مجتمع کرتی ، اسکی سرد نگاہوں میں اپنی سنہری کانچ سی آنکھیں گاڑھیں رکھیں۔
یکدم اسنے اسکی گردن کو دبوچ ، اسکے بالوں میں انگلیاں پھنسانے اسنے اسکے سر کو ایک جھٹکے سے اوپر کیا۔اور لب اسکے کان کے پاس لا کر سرسراتی آواز میں بولا۔
” اپنی اوقات مت بھولو ، اگر میں یاد دلا نہیں رہا تو اسکا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ تمہارے جو دل میں آئے تم کرو ، عزت بھری زندگی دی ہے نا ۔۔۔!! اس پہ شکر ادا کرو اور اپنی اوقات میں رہو”۔ اسنے ایک جھٹکے سے اسکی گردن کو چھوڑا تھا وہ محض کرآہ کر رہ گئ تھی۔ پر اسکے لمس سے زیادہ اسکے الفاظ تکلیف دہ تھے۔ اسنے زخمی نظروں سے اسے گھورا اور اسے دھکا دیتی بھاگتی ہوئ زینے چڑھ گئ تھی۔ اور جابر سر میں تکلیف کی شدت بڑھتی محسوس کرتا کچن سے جاکر سر درد کی دوا لیتا ، فلک کے کمرے کی طرف قدم بڑھا گیا تھا۔
♧♧♧♧♧♧♧
رات کا کھانا کھا کر وہ لوگ فارغ ہوئے تو ثبور خاموشی سے برتن سمیٹنے لگی۔ جہانداد نے جویریہ کو کافی بنانے کا کہا تو وہ منہ بناتی تھکن کا رونا رونے لگی۔
ثبور نے برتن سمیٹے برتن دھوئے کافی بنا کر سب کے لیئے وہ کافی باہر لے کر آئ تو تینوں ہی اسکو حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ پر خیر کسی نے اسپہ ظاہر نہ ہونے دیا۔ وہ ان لوگوں کو کافی دے کر اپنے کمرے میں آگئ۔ کچھ دیر گزری تو جہانداد بھی کمرے میں آیا۔ وہ اسے نظر انداز کرتی سونے کو لیٹ گئ۔ جہانداد بھی اسے نظر انداز کرتا لیپ ٹاپ کھول کر بیٹھ گیا ، اسکو اپنے نئے اسٹنگ آپریشن کے کیس پہ بہت زیادہ کام کرنا تھا۔ جو آدھا مکمل ہوچکا تھا۔ آدھا آج رات اسنے اور اسکی ٹیم نے جاگ کر مکمل کرنا تھا۔
” ہاں ۔۔ تم ۔۔ ایسا کرو مجھے میل کردو میں دیکھ کر بتاتا ہوں “۔ وہ کال پہ کسی سے بات کر رہا تھا، وہ جو سونے کی کوششوں میں تھی ، جہانداد کی آواز اسکے کانوں پہ برچھی کی مانند لگ رہی تھی۔ اسنے غصہ میں سر اٹھا کر اسے گھورا پر وہ کال پہ بات کرتا اپنے کام میں اچھا خاصہ غرق تھا۔ اسنے دوسرا تکیہ اٹھا کر اپنے کان پہ رکھا، اسکی کال بھی کٹ چکی تھی، اب کمرے میں قدرے سکون آمیز ماحول تھا۔ اسنے دوبارہ سونے کی غرض سے آنکھیں موندیں ہی تھیں کے جہانداد کی آواز اسکی سماعت سے ٹکراتی اسے اٹھنے پہ مجبور کر گئ تھی۔
” جاناں ایک کپ کافی تو بنا کر لا دو ۔۔” وہ مصروف سے انداز میں بولا۔
” کیا۔۔؟؟ “۔ وہ چیخی تھی۔
” کافی۔۔۔”۔ وہ مصروفیت سے کہتا ٹھٹکا لیپ ٹاپ پہ مسلسل چلتی انگلیاں رکیں، سر اٹھا کہ اسے دیکھا ۔۔ اور پھر تحمل سے گویا ہوا۔
” وہ میری وائف کا نام جاناں تھا ، سوری غلطی سے نکل گیا منہ سے میرے”۔ اسنے وضاحت دیتے اپنا ماتھا دھیرے سے مسلا تھا۔
” اوہ۔۔ مجھے تو کچھ اور ہی لگا تھا”۔ اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
” کیا لگا تھا۔۔؟؟”۔ اسنے بھنوئیں اچکا کر پوچھا۔
” کچھ نہیں ۔۔ میں کافی بنا کر لے آتی ہوں آپ کے لیئے “۔ وہ جلدی سے دوپٹہ سلیقہ سے اوڑھتی اٹھی تھی۔
” رہنے دیں اگر آپکا موڈ نہیں بنانے کا “۔ وہ نرمی سے کہتا واپس اپنے کام پہ جھکا تھا۔
” نہیں کوئ بات نہیں میں بنا دیتی ہوں “۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اپنے دامن کی سلواٹیں درست کرتی کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔
اسکے جاتے ہی اسنے فوراً کام پہ سے سر اٹھایا تھا ، جلدی موبائل اٹھایا کال ملائ ، اور سامنے والے کو ضروری ہدایات دیں ، کچھ دیر رک کر مقابل کی بات سنی اور پھر اللہ حافظ کہتا کال کاٹ گیا۔
وہ کافی لے کر آئ اسے دی ، جہانداد نے شکریہ ادا کیا۔ اور وہ سونے کو واپس لیٹ گئ ، جب جہانداد کی آواز اسے دوبارہ سر اٹھانے پہ مجبور کر گئ۔
” تو پھر آپکے بھائ کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گی آپ مجھے کوئ زبردستی نہیں ویسے “۔ وہ سنجیدگی سے بولتا ، اپنا ہاتھ اپنے چہرے پہ پھیر کہ اٹھا بیڈ پہ اسکے برابر آکے بیٹھا۔۔۔۔اور اسے بغور تکنے لگا۔۔۔۔ جو نجانے پل میں کونسی سوچوں میں گم ہوگئ تھی۔
” دیکھیں میرے بھائی انتہائ سادے انسان ہیں۔ میں نہیں سمجھ پا رہی کے ایسا کونسا گناہ کردیا انہوں نے ۔۔۔۔جسکی پوچھ گچھ آپ مجھ سے کر رہے ہیں ، پر حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک عام ، سیدھے ، اور شریف انسان ہیں”۔ وہ ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کر گئ۔
ہممم سہی مان لیا کہ آپکا بھائ بہت سادہ ، سمپل ، شریف آدمی ہے پر کیا آپ بتانا پسند کرینگی کہ انکا بزنس کیا ہے۔ کام کیا کرتے ہیں؟؟”۔ وہ اپنے ماتھے کو دوانگلیوں سے دباتا مستفسر ہوا۔
” انکا اپنا بزنس ہے”۔ اسنے اپنی انگلیاں چٹخاتے جواب دیا۔
” اچھا بزنس کی نوعیت؟؟”۔ ایک اور سوال داغا گیا۔
” یہ تو نہیں پتا مجھے کبھی پوچھا ہی نہیں میں نے”۔ اسنے اب بھی انگلیاں چٹخاتے جواب دیا۔ وہ جو بیٹھا کب سے اسکو انگلیاں چٹخاتے برداشت کررہا تھا ۔ فوراً اسکے دونوں ہاتھ تھامتا گویا ہوا۔
” انگلیاں نا چٹخائیں مجھے بہت اریٹیٹنگ لگتا ہے”۔ وہ اسکے ہاتھ تھامے گھمبیر لہجہ میں کہتا اسے شاید سمجھا رہا تھا۔
” پر مجھے بہت پسند ہے انگلیاں چٹخانہ اور آپکے لیئے میں اپنی پسند نا پسند نہیں بدلنے والی”۔ وہ اپنا نازک ہاتھ اسکے فولادی ہاتھوں سے کھینچتی چٹخی۔
” ایسے نا کہو چھوڑنا تو پڑیں گی ، تمہیں اپنی پسندیدہ چیزیں ۔۔۔۔ بلکہ کافی حد تک چھوڑ چکی ہو جیسے۔۔اپنے پہلے شوہر حارث کو”۔ وہ محض اسکے جذبات حارث کے لیئے جاننے کو بولا تھا۔
” حارث ۔۔۔ زندگی ہے میری ۔۔۔۔ وہ شخص میری سانسوں کی ضمانت ہے۔ وہ نہیں ہے اس دنیا میں پر وہ ہر پل میرے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔ سمجھے آپ میں کبھی حارث کو چھوڑ نہیں سکتی۔۔ نہ کبھی چھوڑوں گی “۔ وہ برستی آنکھیوں سمیت حارث کی اہمیت اسے باور کروا گئ۔
” اور اگر تم بھول گئ خود ہی حارث کو تو “۔ وہ اسکی بھیگی آنکھوں کو تکتا مستفسر ہوا۔
” تو وہ دن میری زندگی کا آخری دن ہوگا”۔ وہ سسکی تھی۔
” شش پاگل۔۔۔۔ ” وہ اسکے لبوں پہ ہاتھ رکھ گیا تھا۔ جسے وہ بری طرح جھٹکتی کمرے سے نکل گئ تھی۔ اور وہ محض دیکھتا رہ گیا۔
♧♧♧♧♧♧♧
وہ کمرے میں آیا تو فلک منہ کے بل بیڈ پہ اوندھے منہ پڑی سسکیاں بھر کر رو رہی تھی، اسکو روتا دیکھ جابر کے سر میں مزید درد گہرا ہوا تھا۔
” فلک اٹھو ۔۔ رونا بند کرو”۔ وہ اسکو بازو سے تھامتا اٹھانے لگا تھا کہ وہ شدت سے روتی اسے خود سے دور جھٹک گئ تھی۔
” شش رونا بند کرو ۔۔۔ “۔ اسنے اسے اٹھاتے اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لیا۔
” کیوں رونا بند کروں میری زندگی میں تو تمام عمر کا رونا ہی لکھا ہے”۔ وہ سسکتی خود کو اسکے گھیرے سے آزاد کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی تھی۔
” سر میں درد تھا میرے ، موڈ ٹھیک نہیں تھا غصہ آگیا تھا تمہارے انداز پہ”۔ اسنے نرمی سے اسکے رونے کی شدت سے سرخ ہوئے گالوں کو لبوں سے چھوا۔
وہ یکدم اسکے لمس پہ تڑپ کر پیچھے ہٹی۔
” کیا مسئلہ ہے فلک۔۔؟؟”۔ پل میں جابر کا موڈ خراب ہوا تھا اسکی حرکت پہ۔
” جابر میں نے آپ کو پہلی ہی کہا تھا مجھ سے نکاح نا کریں ، پر آپ نے زبردستی کر کے کر ہی لیا، اب آپ کی باتوں سے مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ آپ پشتا رہے ہیں مجھے اپنی زندگی میں شامل کرکے”۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی جابر کا دل مٹھی میں جکڑ گئ تھی۔
” کس نے کہہ دیا میں پشتا رہا ہوں فلک ایسا کچھ بھی نہیں ، میں نے کہا ناں تمہیں کہ مجھے بس غصہ آگیا تھا”۔ وہ اسکا ہاتھ تھامتا محبت سے گویا ہوا۔ حالانکہ سر اسکا ابھی بھی شدت سے درد کر رہا تھا۔ پر خود کو کمپوز کرتا وہ اسکو منانے کے جتن کر رہا تھا ، اور وہ تھی کہ رونے دھونے کا شغل اچھے سے فرما رہی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ جابر خان کو روتی دھوتی عورتوں سے شدید چڑ محسوس ہوتی تھی۔
” آپ پشتا رہے ہیں مجھے سب پتہ ہے “۔ وہ شدت سے روتی ہوئ غرائ تھی۔
” نہیں پشتا رہا یار “۔ اسنے سر میں اٹھتی ٹیسوں اور فلک کے منہ پہ تھپڑ لگانے کی خواہش دونوں کو دبایا۔
” آپ پشتا رہے ہیں “۔ وہ ایک بار پھر غرائ۔ اب کی بار تو جابر خان کہ بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ اسنے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا اور اپنا تکیہ درست کرتا لیٹتا کمینگی سے گویا ہوا۔
” شکر تمہیں پتہ تو چلا کہ میں جابر خانزادہ تم سے شادی کرکے دل کی گہرائیوں سے پشتا رہا ہوں ، اب مجھے مزید جھوٹ نہیں بولنا پڑے گا”۔ وہ بلینکٹ سر تک لپیٹ کر لیٹا اور اسکی بات سن کر وہ مزید ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔ اور اسکے رونے کی آواز جابر خان کا دل دکھا گئ تھی مگر وہ اس سے زیادہ منتیں نہیں کرسکتا تھا۔
♧♧♧♧♧♧♧
زرتاشہ اپنے کمرے میں بیڈ پہ لیٹی اپنی بیٹی کو پریوں کی کہانی سنا رہی تھی۔ اور ساتھ ہی یکدم اسکے آنکھوں کہ پردے پہ اس ظالم کا بے چین سا چہرہ ابھرتا تو وہ بہ مشکل ہی اپنی آنکھوں کی نمی کو انکی حدود تک روک پاتی۔ کہانی مکمل کرتے اسنے جھک کر اپنی بیٹھی کا چہرہ تکا تو وہ سو رہی تھی۔
اسنے گہرا سانس خارج کیا اور اس ظالم شخص کی ظلمت سوچتے کب اسکی آنکھوں سے نکلتا گرم سیال اسکا تکیہ بھگوئے لگا اسے اندازہ ہی نا ہوا۔ کہ یکدم بڑی زور سے اسکے کمرے کا دروازہ بجا ، وہ یکدم اٹھی کہ کہیں منت نا جاگ جائے ، اگر وہ جاگ جاتی تو ساری رات وہ جاگ کر ہی گزارتی، اسنے دوپٹہ اچھے سے کندھوں پہ پھیلا کر دروازہ کھولا تو سامنے فلک رویا بھیگا چہرہ لیئے کھڑی تھی۔
” کیا ہوا خیریت تم رو کیوں رہی ہو “۔ اسنے یکدم پریشانی سے پوچھا۔
” ہمارا شوہر مر گیا ہے”۔ وہ چلا کر کہتی کمرے کا دروازہ مکمل کھولتی کمرے میں گھسی تھی۔
” ہیں کیا ہوا جابر کو “۔ وہ یکدم گھبرا کر فلک کے کمرے کی سمت بھاگنے کو تھی کہ یکدم فلک نے اسکی کلائ کو اپنے ہاتھ میں جکڑا۔
” زندہ ہے ابھی مرا نہیں اور ویسے بھی اس جیسی کمینی روحوں کو اتنی آسانی سے موت نہیں آتی “۔ وہ چٹخ کر کہتی زرتاشہ کے حواس بحال کر گئ تھی۔
” پھر تم رو کیوں رہی ہو۔۔؟؟”۔ زرتاشہ نے رونے کی وجہ جاننی چاہی۔
” بہت کمینہ ہے یہ شخص مجھے نہیں رہنا اسکے ساتھ”۔ وہ بیڈ پہ پیر چڑھا کر بیٹھتی سسکتی ہوئ بولی۔
” یہ تو تمہیں اس سے شادی کرنے سے پہلے سوچنا چاہیئے تھا ناں ۔۔!!”۔ زرتاشہ کمرے کا دروازہ بند کرتی بیڈ کے سراہنے کے پاس آکر بیٹھی، اور دھیرے سے منت پہ کمبل درست کرتی اسکے ماتھے پہ لب رکھتی اٹھی تھی۔
” ہاں تو کیا ہوا تب نہیں سوچا پر اب تو سوچ سکتی ہوں ناں ، مجھے نہیں رہنا اسکے ساتھ”۔ وہ اپنے آنسو پونچھتی منہ بنا کر گویا ہوئ۔
” شادی کوئ بچوں کا کھیل تو نہیں فلک ۔۔!!”۔ اسنے حیرت سے کہا۔ اسکی شادی ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے تھے اور وہ توڑنے کی باتیں کر رہی تھی۔
” تو کیا کروں بہت بد تمیز کمینہ آوارہ گھٹیا انسان ہے یہ شخص تمہیں کیا بتا رہی ہوں تمہیں تو اندازہ ہو ہی گیا ہوگا”۔ وہ منہ بناتی گویا ہوئ۔
” کیا کر دیا جابر نے”۔ اسنے نرمی سے پوچھا۔
” مجھے طعنے مارے ، میرے بال کھینچے ، اور مجھے دھکہ دیا وہ بھی پورے دو بار” وہ سسکتی ہوئ گویا ہوئ۔
” بس اتنی سی بات پر وہ کمینہ ہوگیا”۔ وہ اسے دیکھتی افسوس سے بولی۔
” ہاں تو اور کیا کرے میری جان لے لے کیا۔۔؟؟”۔ فلک نے خفگی سے طنز بھرا استفسار کیا۔
” میں کیا کہہ سکتی ہوں فلک یہ تمہارا اور جابر کا معاملہ ہے “۔ وہ بے بسی سے بولی۔
” تم کچھ نا کرو بس مجھے اپنے کمرے میں رہنے کی جگہ دے دو”۔ وہ بڑی آس سے بولی۔
” پر کیوں۔۔؟؟ “۔ اسے پھر حیرت نے آن گھیرا۔
” بس مجھے اسکے منہ بھی نہیں لگنا”۔ وہ غصہ سے کہتی گال پھلائے بیٹھ گئ، زرتاشہ کو اسکے پھولے گال دیکھ ہنسی بھی آئ پر بہر حال سر اثبات میں ہلاتی اس کمرے میں رہنے کی اجازت دے ڈالی اسنے اسکی اجازت ملتے ہی بیڈ کی دوسری سائڈ پہ جاکر حملہ کیا اور کمبل تان کر لیٹ گئ۔ زرتاشہ بھی خاموشی سے خود پہ کمبل درست کرتی لیٹ گئ تھی ، سائڈ لیمپ کی لائٹ آف کرتی وہ آنکھیں موند گئ تھی۔ اور دوسری طرف فلک کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔ زرتاشہ کی بھی آنکھیں تکیہ بھگوئے لگی تھیں۔ دونوں اندھیرے میں کروٹ کے بل لیٹی ایک ہی شخص کو رو رہی تھیں۔ اور شاید اپنے نصیبوں کو بھی۔
♧♧♧♧♧♧♧
سب کا ناشتہ بنا کر وہ کچن سے نکلی تو سامنے سے آتے جہانداد کو دیکھ منہ بنا کر وہ سائڈ سے نکل گئ۔ جہانداد کچن میں گھسا ناشتہ بنانے کی غرض سے تھا پر ناشتہ بنا دیکھ اسکا دل شاد شاد ہوگیا۔۔۔۔ اسنے جلدی جلدی ناشتہ ٹیبل پہ لگایا ۔۔۔ جویریہ اور حوریہ کے منہ سے بے ساختہ “اوو” نکلا۔
” واہ پاپا آج تو آپ نے ہمارا رونا پیٹنا ڈالنے سے پہلے ہی ناشتہ بنا لیا ۔۔۔امیزنگ “۔ جویریہ خوشی سے چہکی۔
” میں نے نہیں بنایا بیٹے ۔۔۔ثبور نے بنایا ہے”۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اپنے کپ میں چائے انڈیلنے لگا۔
” اوہ اچھا سہی”۔ جویریہ نے بھی سنجیدگی سے سر ہلایا۔
” وہ ناشتہ نہیں کر رہیں “۔ اب کہ حوریہ اپنے باپ سے مستفسر ہوئ۔
” پتہ نہیں مجھے نہیں پتا”۔ وہ سنجیدگی سے چائے کی چسکی بھرتے گویا ہوا۔
” ہمم سہی جویریہ جاؤ انہیں ناشتے کے لیئے بلا لاؤ”۔ حوریہ نے پراٹھا اپنی پلیٹ میں رکھتے حوریہ کو کہا۔
” خود چلی جاؤ ناں میں تھک گئ ہوں”۔ وہ چڑی تھی۔
” جویریہ اٹھو اور شرافت سے انہیں بلا کر لاؤ”۔ حوریہ نے چبا کر کہا۔
” ڈیڈ دیکھ لیں اسے”۔ وہ غصہ سے کہتی پیر پٹختی اٹھی تھی۔
” روز دیکھتا ہوں”۔ جہانداد نے ہنستے ہوئے کہا۔ تو حوریہ بھی ہنس دی تھی۔ البتہ جویریہ پیر پٹختی منظر سے غائب ہوگئ تھی۔
تھوڑی دیر بعد جویریہ اور ثبور آئیں ناشتہ کرنے بیٹھیں۔ ثبور نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔ وہ لوگ بھی خاموشی سے ناشتہ کرکے اٹھے اور کل کی طرح ہی پہلے اسکی بیٹیاں نکلیں اور تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ بھی چلا گیا۔
اسنے ٹیبل پہ سے گندے برتن اٹھائے کچن میں لائ سارے برتن دھو کر اپنے ٹھکانے لگاتی کچن صاف کرکے وہ باہر نکلی ٹی وی لاؤنج کی ڈسٹنگ کی اچھے سے ٹی وی لاؤنج کو صاف کرکے وہ اپنے بیڈروم میں گئ اپنا بیڈروم سمیٹا۔۔۔اسکا رخ اب جویریہ اور حوریہ کے کمرے کی طرف تھا۔ انکے کمرے میں قدم رکھتے ہی اسکا سر چکرا گیا تھا۔ کمرے میں جگہ جگہ گندے کپڑے گرے پڑے تھے۔ الماری کے تمام پٹ کھلے تھے۔ اور کپڑے سیلاب کی مانند ابل کے باہر کو گر رہے تھے۔
کھانے کے گندے برتن جگہ جگہ پڑے تھے بیڈ شیٹ بیڈ کے بجائے نیچے فرش پہ پڑی رُل رہی تھی۔ ڈریسنگ پہ ہر چیز گری پڑی تھی۔
وہ سر افسوس سے ہلاتی کمرے میں گھسی اور جو انکے کمرے کو سمیٹنا شروع کیا تو صبح کے نو سے دوپہر کے بارہ بج گئے تھے۔ وہ تھکن سے چور وجود لیئے نہانے گئ نہا کر نکلی تو بھوک کا احساس بڑی شدت سے ہوا تھا۔ وہ اپنے بال پشت پہ کھلے چھوڑتی کچن میں آئ۔ نوڈلز کا پیکٹ نکالا نوڈلز بنائے نوڈلز کھا کر وہ ظہر کی نماز پڑھ کر سونے کو کمرے میں چل دی۔ابھی اسکی آنکھ بھی نہ لگی تھی کہ چھم سے اسکی بند آنکھوں پہ حارث کا چہرہ اترا اسکی آنکھیں بھیگنیں لگیں۔ حارث کی سنگت میں بتائے حسین لمحوں میں سے ایک لمحہ اسکے یاداشت کے پردے پہ چھایہ۔۔۔
” حارث میں نہیں بنا رہی کھانا میرا بلکل موڈ نہیں “۔ وہ اسکے برابر بیٹھتے منہ بسورتے بولی۔
” نکمی عورت ہو پوری”۔ اسنے مصروف سے انداز میں اسے چھیڑا۔
” عورت نہ بولا کریں “۔ وہ برا مناگئ۔
” میں نے نکمی بھی کہا ہے”۔ وہی ازل کا مصروف انداز۔
” بات نا کرنا اب مجھ سے”۔ وہ پل میں روٹھی تھی۔
” تم سے بن بات کیئے رہ سکتا ہوں ؟؟؟؟ “۔ وہ سامنے بکھرے کاغذات سمیٹتا مستفسر ہوا۔
” مجھے کیا پتہ”۔ جواب نروٹھے پن سے ہی دیا گیا۔
” تمہیں نہیں پتہ تو کس کو ہے خبر حالِ دل کی ” وہ شوخ نظروں سے تکتا اسکے گال دہکا گیا تھا۔
” بس باتیں کرالے کوئ آپ سے”۔ وہ اسکے کندھے پہ چپت رسید کرتی اٹھی تھی۔
اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے ۔۔۔ حارث کی محبت وہ بھلائے نہیں بھول پا رہی تھی۔۔۔ وہ اپنے جنہیں وہ اپنا سب کچھ مانتی تھی وہ اسکی زندگی کی سب سے قیمتی چیز اس سے چھین چکے تھے۔ اسکی شادی جہانداد سے کراکر ، حارث کو سوچنے کا حق ہی اس سے چھین چکے تھے۔ وہ حارث سے بے وفائ کرچکی تھی۔ یہ دکھ اسے ایک پل سکون نہیں دے رہا تھا۔ دل تھا کہ درد سے پھٹنے کے قریب تھا۔ آنکھوں میں مرچیں سی گھلنے لگی تھیں۔ وہ بہت چھوٹی تھی جب اسکے والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔ اسے دھندلا سا اپنی ماں کی میت کا وقت یاد پڑتا تھا۔ جب اسکی ماں کا مردہ وجود پڑا تھا۔ لوگ بین کر رہے تھے رو رہے تھے۔ اور وہ چھت کی منڈیر پہ بیٹھ کر کیلے کھا رہی تھی ۔ جو لوگ اسکی ماں کی میت پہ آئے تھے۔ وہ سب اسے تاسف اور دکھ سے دیکھ رہے تھے۔ وہ ہمیشہ لوگوں کی میتوں پہ لوگوں کو روتے پیٹتے دیکھ محض اتنا ہی سوچ پاتی تھی کہ رونا آ کیسے جاتا ہے۔ مجھے تو رونا نہیں آتا پر وہ اس رونے کے بھید کو بھی جان گئ تھی۔ جب آپکا کوئ بے حد دلعزیز منوں مٹی تلے دفن ہوجاتا ہے ، تب آپ رونا نہیں چاہتے پر آپ رو پڑتے ہیں۔ آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں۔ بین بند ہوجاتے ہیں۔ پر دل ایک ایسے درد سے بھرا رہتا ہے۔ جیسے حقیقت میں پھٹنے کو ہو۔ ہاں اسنے سنا تھا۔ اپنی زندگی میں کئ بار لوگوں سے کہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ اس غم سے پر وہ ہمیشہ یہ ہی سوچ پڑتی تھی کہ ایسے ہی اگر دل پھٹنے لگے تو ہر دوسرے گھر میں دل ہی پھٹ رہے ہوتے۔ مگر جب اسے اس دل کے پھٹ جانے درد جیسے دکھ سے شناسائ ملی تو اس کملی کو معلوم ہوا کہ شاید دل پھٹ جائے تو اتنا درد نہ ہوتا ہو پر وہ پل پل کی اذیت انسان کو مار دیتی ہے۔ وہ جان گئ تھی۔ اپنے کسی جان سے عزیز پیارے کو سفید کفن میں لپٹا دیکھ لینا کیسا بے بسی سے دوچار کردینے والا عمل ہوتا ہے۔وہ لمحے انتہائ اذیت ناک ہوتے ہیں، جن لمحوں میں آپ سے آپکے پیارے بچھڑ جاتے ہیں۔روتے روتے وہ گہری نیند کی وادیوں میں گم ہوگئ تھی۔
♧♧♧♧♧♧
” سر ہمیں چھاپہ مار دینا چاہیئے ۔۔۔ “۔ جویریہ خاصہ پروفیشنل انداز میں جہانداد کو مخاطب کر گئ۔
” نو سر میرے خیال سے ہمیں ویٹ کرنا چاہیئے”۔ اب کے حوریہ خاصہ پروفیشنل انداز میں بولی۔
” نو سر ہمیں ریسرچ کرنی چاہیئے ابھی”۔ علی بھی خاصی سنجیدگی سے اپنی بات کہتا جہانداد کو دیکھنے لگا۔
” واہ میری ٹیم کے سینیئر ممبران میں ہی اسقدر اتفاق ہے کہ کوئ ہمارا مشن فیل ہی نہیں کرسکتا “۔ جہانداد نے بڑے ہی ٹھنڈے لہجے میں طنز کیا۔
” اوہو سر ہمارے بیچ اچھا خاصہ اتفاق ہے”۔ تینوں یک زبان ہوئے تھے۔
” مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔۔اگر آپ تینوں کے مابین اتفاق ہوتا ، تو آپ لوگ ایک بہترین فیصلہ ۔۔ ایک بہترین دلیل کے ساتھ یہاں پروفیشنل انداز میں میرے ٹیبل پہ رکھتے ۔۔سمجھ گئے ناں آپ لوگ “۔ وہ سنجیدگی سے کہتا ان تینوں کو شرمندہ ہونے پہ مجبور کر گیا تھا۔
” جی سر ہم سمجھ گئے “۔ تینوں منہ لٹکائے بیٹھے تھے۔
” اوکے آدھا گھنٹہ ہے آپ تینوں کے پاس بہترین فیصلہ میرے سامنے پیش کر دیجئے گا آدھے گھنٹے بعد “۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اٹھا تھا۔ ٹیبل پہ پڑی اپنی کار کی چابیاں اٹھاتا انہیں ہدایت دیتا آفس سے نکل گیا تھا۔
اور وہ تینوں محض ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر ہی رہ گئے تھے۔
” اب کیا فیصلہ ہے تم لوگوں کا “۔ جویریہ نے سنجیدگی سے دونوں کو دیکھا۔
” میرے خیال سے ہمیں بیٹھ کر اب تک ہم جتنی بھی پلیننگ کر چکے ہیں اسپہ ایک نظر ڈال لینا چاہیئے “۔ حوریہ سنجیدگی سے کہتی اٹھی۔
” چلو دیکھ لیتے ہیں ہمارے ایک نظر ڈال لینے سے کونسی تبدیلیاں آجائیں گی”۔ علی نے مسکراتے ہوئے میٹھا سا طنز کیا۔
” تمھارے نظر ڈال لینے سے آئے یا نا آئے پر ہمارے نظر ڈال لینے سے ضرور آئے گی”۔ وہ بھی طنز کا جواب طنز سے دیتی منہ بنا گئ تھی۔
” پلیز اب تم دونوں لڑو تو مت”۔ جویریہ نے دونوں کو ٹوکا۔
” کون لڑ رہا ہے میں اور اس سے لڑوں گی “۔ حوریہ نے علی کو گھورتے چڑ کہ کہا۔
علی اور جویریہ ایک دوسرے کو دیکھ با مشکل اپنی ہنسی روک پائے تھے۔
