Fareeb E Ishq By Momina Shah Readelle50288 Fareeb E Ishq (Episode 1)
Rate this Novel
Fareeb E Ishq (Episode 1)
Fareeb E Ishq By Momina Shah
وہ دونوں مقابل بیٹھی ایک دوسرے کو سنجیدگی سے تک رہی تھیں۔ دونوں کی نگاہوں میں ایک دوسرے کے لیئے ایک سے ہی جذبات تھے۔ چبھن کے جلن کے ، پر دونوں ہی خاموش بیٹھی تھیں۔ اتنے میں جابر خان حال میں داخل ہوا۔
دونوں کی نگاہیں بے ساختہ اسکی طرف گئیں ، پر دونوں کی نگاہوں کے تاثر الگ تھے، ایک کی آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں آباد تھا ، تو ایک کی آنکھوں میں محبت کی ٹوٹی کرچیوں کا جہاں آباد تھا۔ بے ساختہ دونوں ایک ساتھ ایک دوسرے کے ہونے کا احساس کرتیں اس سے نگاہیں پھیر گئیں۔ جابر خان نے اپنی سرد سنجیدہ نگاہیں دونوں پہ گاڑھیں ، انکے تاثرات جانچنے لگا۔ ایک پاکستانی لباس پہنے سجی سنوری سی اپنے سیاہ نینوں میں اذیتیں لیئے بیٹھی تھی تو دوسری مشرقی لباس میں اپنی سنہری آنکھوں میں محبت کا ایک جہاں لیئے بیٹھی تھی۔
جابر خان گلا کھنکارتا سامنے پڑے ون سیٹر صوفہ پہ براجمان ہوا ۔ ایک شان سے ایک پیر کو دوسرے پیر کے گھٹنے پہ ٹکایا۔ اور دونوں کو تکتا گویا ہوا۔
” میں نے سوچا نہیں تھا ویسے ، جب تم دونوں سامنے آؤ گی تو اتنی خاموشی ہوگی”۔ وہ سنجیدگی سے بولا۔
” سوچنے سے کیا ہوتا ہے جابر خان ، ضروری تو نہیں کے ہر بار تمہاری سوچ کے مطابق ہر کام ہو”۔ پاکستانی لباس میں بیٹھی زرتاشہ سلگ کر بولی۔
” ہمم خوب کہی ، یہ بھی تم نے ٹھیک کہا محترمہ کے ضروری نہیں کے ہمیشہ میری سوچ کے مطابق ہرکام ہو”۔ وہ اسے دیکھتا چڑاتی ہوئ مسکان اسے پاس کرتا بولا۔
” میں تھک گئ ہوں ، مجھے آرام کرنا ہے جابر”۔ مشرقی لباس پہنے بیٹھی فلک لاڈ سے کہتی ، زرتاشہ کو زہر لگی تھی۔
” سوری فلک میں باہر لوگوں سے ملتے ملتے اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ تمہاری تھکن کا تو احساس ہی نا ہوا “۔ وہ محبت سے کہتا فلک کو سرشار کر گیا تھا۔ اور فلک کے مقابل بیٹھی زرتاشہ بیزاری سے رخ موڑ گئ تھی۔
” نہیں کوئ بات نہیں، جابر آپ اتنے عرصہ بعد واپس اپنے علاقے آئیں ہیں تو میں سمجھ سکتی ہوں کہ آپ مصروف رہیں گے ابھی آنے والے کچھ دنوں تک “۔ فلک کے لہجے میں چاشنی سے گھلی ہوئ تھی۔
” تم کتنی انڈر اسٹینڈنگ ہو فلک تھینک یو مجھے سمجھنے کے لیئے ، چلو آؤ میں تمہیں تمہارے روم میں چھوڑ آؤں “۔ وہ محبت سے کہتا ایک اچٹتی نگاہ پاس بیٹھی زرتاشہ کے غصہ سے سرخ ہوتے چہرے پہ ڈال کر بولا۔
” میرا روم یا ہمارا روم “۔ وہ معنی خیزی سے بولی۔
اور یہیں زرتاشہ کی بس ہوگئ تھی ، اسکے صبر کا پیالہ یک دم چھلک پڑا تھا۔
” کیا نام ہے تمہارا ہاں فلک ۔۔۔ ہے ناں فلک نام ہی ہے ناں تمہارا ، ہمم تو سنو مری کیوں جارہی ہو اسقدر ، دیکھو اگر مجھ سے خوفزدہ ہو تو بلکل بےوقوف ہو کیونکہ یہ اب تمہارے ساتھ ہی رہنے والے ہیں پہلی بات خود تو یہ آئیں گے نہیں میرے روم میں اور کبھی آنا بھی چاہا نا تو تمہیں انکی ٹوٹی ٹانگیں دیکھ اندازہ ہوجائے گا ۔۔۔ بہر حال اس گھر میں میری چار سالہ چھوٹی سی بیٹی بھی رہتی ہے اور میں اسکی تربیت کے حوالے سے کافی سنجیدہ ہوں تو آپ سے گزارش ہے کہ چھچھور پنتی کہ یہ مظاہرے میری بچی کے سامنے نہیں ہونے چاہیئں”۔ وہ ٹھنڈے لہجہ میں تمسخر سے کہتی اک شان سے اٹھی تھی ، اور پروقاریت سے چلتی جابر خان کے پاس سے ہوکر گزرنے ہی لگی تھی کہ یکدم اسکی سخت گرفت میں اسکی کلائ آئ ، زرتاشہ نے طیش سے مڑ کر اسے دیکھا۔ جابر بھی اسے ہی تک رہا تھا۔
” بیگم یہ جو میری ٹانگیں ٹوٹیں گی، انکو توڑنے والی آپ ہوں گی”۔ اسنے اسے تکتے شرارت سے پوچھا۔
” آپکو کوئ شک ہے “۔ وہ دانت پیس کر کہتی ایک جھٹکے سے اسکی گرفت سے اپنی کلائ آزاد کرا گئ تھی۔
” نہیں شک تو نہیں پر پھر بھی سوچا کنفرم کر لوں “۔ وہ ایک آنکھ دبا کر کہتا اسکا دماغ خراب کر گیا تھا۔ وہ خونخوار نظروں سے اسے گھورتی ہال سے پیر پٹختی نکلتی چلی گئ تھی۔
” جابر آپ میرے سامنے اس سے کیسے اتنی محبت سے بات کر سکتے ہیں”۔ فلک خونخوار لہجہ میں کہتی جابر کے ماتھے پہ سلواٹیں لے آئ تھی۔
” فلک یہ بات آج تو کردی پر دوبارہ کبھی نا کرنا جیسے تم میری بیوی ہو ویسے ہی زرتاشہ بھی میری بیوی ہے ، ہاں اسوقت وہ مجھ سے کچھ ناراض ہے پر اسکا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ وہ میرے لیئے معنی نہیں رکھتی”۔ وہ اسے دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔
” اگر وہ اتنا ہی معنی رکھتی تھی تو مجھ سے شادی کیوں کی “۔ پل میں فلک کا لہجہ بھیگا تھا۔
” پلیز رونا نہیں یار ابھی بلکل چپ کرانے کا موڈ نہیں ، سب کر لونگا تم دونوں کے لیئے بس یہ رونا دھونا برداشت نہیں ہوتا مجھ سے ، سر میں درد ہوجاتا ہے میرے “۔ وہ قدرے بیزاری سے کہتا اسکے پاس آیا تھا۔ اور اسکا ہاتھ نرمی سے تھامتا اسے ساتھ لگا کر چلتا زینے چڑھنے لگا تھا یقیناً وہ اسے اسکے کمرے میں لے کر جارہا تھا۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
باہر تیز برستی بارش کے قطرے اسکے کمرے کی کھڑکی پہ لگتے اور پھر ایک لکیر کی مانند دھیرے سے سرکتے ہوئے شیشے پہ اپنا نشان چھوڑ کر معدوم ہوجاتے ۔ شیشے کے اس پار اس کا عکس دھندلا سا تھا۔
مخروطی ہاتھ شیشے پہ دھرا تھا۔ اور کچھ لمحے بعد اسکا ہاتھ کھڑکی کے شیشے پہ پھسلتا ہوا نیچے گیا تھا۔
اسنے اپنا ہاتھ دوبارہ اسی مقام پہ رکھا جہاں سے پھسل کر اسکا ہاتھ نیچے آیا تھا۔ اسنے دوبارہ وہی عمل دہرایا ، اور پھر وہ کافی دیر تک ایسے ہی بے وجہ بچکانی حرکات کرتی رہی دھیرے سے ہنسی نے اسکے لبوں کو چھوا ، اسکا ہاتھ تھما اسے احساس ہوا اسکا چہرہ ہنسی سے انجان ہوچکا ہے۔ نجانے کتنے ماہ بعد اسکے چہرے پہ بھولی بھٹکی سی مسکان آئی تھی۔
اسے زندگی سے عشق تھا۔ اسے بارشوں میں نہانے کا بے حد شوق تھا۔ اسے رنگ بے حد پسند تھے۔ پر وہ شخص اسکی ہر خوشی اپنے ساتھ اپنے مردہ وجود کے ساتھ دفن کرکے لے گیا تھا۔ وہ شخص ہی تو اسکی زندگی تھا۔ جب وہ ہی نہ رہا تھا تو اسے کیا سروکار ان دنیاوی رنگینیوں سے۔ اسکی آنکھیں اسکا خیال آتے ہی برسنے لگی تھیں۔ بارش سے زیادہ روانی سے اسکے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسنے اپنے آنسو پونچھے دور سے ظہر کی اذان کی آواز آنے لگی تھی۔ وہ دوپٹہ سر پہ اوڑھتی نماز کی غرض سے وضو کرنے کو اٹھی۔ کہ پھر آنکھیں بھیگی تھیں۔ آنسو ایک بار پھر روانی سے بہنے لگے تھے۔
وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئ۔جائے نماز سمیٹ کر اٹھی ہی تھی کے اسکے کمرے کے دروازے پہ دستک ہوئ۔ اسنے جائے نماز سامنے پڑے ٹیبل پہ رکھی اور جاکر دروازہ کھولا۔ سامنے دادی کو دیکھ اسنے انکے ہاتھ تھامے اور انہیں ساتھ کمرے میں لاکر بٹھایا۔
” دادی آپ خود کیوں آئیں اٹھ کر اتنے زینے چڑھے آپ نے گھٹنوں میں درد مزید بڑھ جائے گا اب آپکے “۔ وہ انکے کے ہاتھ عقیدت سے اپنے لبوں سے لگا گئ تھی۔
” میں نہ آتی تو کون آتا تم نے تو نیچے نہ آنے کی قسم کھا رکھی ہے”۔ وہ اسپہ خفا ہوئیں۔
” ایسا تو نہیں آتی تو رہتی ہوں نیچے آپکے پاس “۔ وہ نرمی سے کہتی اپنا نماز کے سٹائل میں باندھا دوپٹہ کھول کہ سلیقہ سے سر پہ اوڑھ کے انکو تکنے لگی۔ جو اسے کافی فرصت سے دیکھنے میں گم تھیں۔
” نیچے کیوں نہیں آتی تم بچے کب تک ایسے اکیلے بیٹھی رہو گی “۔ وہ اداس ہوئ تھیں۔
” دادی میں اکیلی تو نہیں “۔ اسکے لہجے میں سکون تھا۔ گہرا سکون۔
” اکیلی نہیں تم ، ترس کھاؤ خود پہ میری بات مان لو یہ لوگ جو آج میری نظروں کی خاطر تمہیں محض “برداشت” کر رہے ہیں ناں کل جب میری یہ دو آنکھیں بند ہوجائیں گی ، تو یہ لوگ تمہیں برداشت کرنا بھی چھوڑ دیں گے نکال باہر کریں گے تمہیں اس گھر سے”۔ انکا نتواں وجود کانپنے لگا تھا۔
“کوئ کچھ نہیں کرے گا یہ سب میرے اپنے ہیں کوئ مجھے برداشت نہیں کرتا بس آپکو ایسا لگتا ہے یہ سب میرے اپنے ہیں۔ اپنے بھلا کیسے مجھے تکلیف دے سکتے ہیں”۔ وہ انکو تسلی دے رہی تھی۔ اور خود اپنی بات سے سو فیصد متفق تھی۔ آخر کیوں کوئ اسکو نکالتا سب اس سے کتنی محبت کرتے ہیں۔کیا اسنے دیکھا نہیں ان سب کو اپنی خاطر پریشان ہوتے ہوئے۔
” ٹھیک ہے نہ مانو میری بات پر جب زمانے کے ستم ٹوٹیں گے نہ تم پہ تو تمہیں میری باتیں شدت سے یاد آئیں گی پر تم کچھ نہیں کرپاؤ گی ثبور ” وہ اسے افسوس سے دیکھتی اٹھ گئ تھیں۔
” دادی پر آپکی بات بھی نہیں مان پاؤں گی ناں میں”۔ وہ نرمی سے کہتی انہیں مڑنے پہ مجبور کر گئ تھی۔
” ہاں میری بات آخر مانو گی کیوں تم “۔ وہ ناراضگی سے کہتی کمرے سے نکلنے کو تھیں جب اسنے آگے بڑھ کر انکا ہاتھ تھاما اور انہیں احتیاط سے نیچے چھوڑ آئی۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
وہ اسے کمرے میں لے کر آیا اور بیڈ پہ بٹھایا وہ اب بھی رو رہی تھی اسکی سنہری انکھیں لبالب پانیوں سے بھری ہوئ تھیں۔
” یار ایک تو تم پہلی فرست میں یہ رونا بند کرو “۔ وہ اسکے چہرے کو بغور تکتا بولا۔
” کیوں نا رؤں میں میری تو زندگی خراب کردی آپ نے جابر “۔ وہ مزید سسکی۔
” توبہ کرو کیا زندگی خراب کردی میں نے تمہاری تم سے محبت کی اور پھر شادی کرلی “۔ وہ مسخرے پن سے کہتا اسے سلگا گیا تھا۔
” پر آپ نے مجھے بتایا نہیں تھا کہ آپ پہلے سے شادی شدہ ہیں “۔ وہ نم آنکھوں سے اسے تکتی خونخوار ہوئ۔
” ہاں تو ۔۔ تو بھول گیا تھا”۔ اسنے تھوک نگلتے بہانا گڑھا۔
” بھول گیا تھا ۔۔۔۔!!! اپنی بیوی بھول گئے تھے آپ اپنی شادی بھول گئے تھے آپ ، کل ۔۔ کل کو آپ مجھے بھی بھول جائیں گے اور کسی اور سے شادی کرکے آجائیں گے”۔ وہ روتی سسکتی صدمہ سے بھری آواز میں بھڑکی تھی۔
” نہیں یار میرا ۔۔۔ وہ مطلب تھوڑی تھا یار مطلب میں یار۔۔۔ وہ کیا کہتے ہیں موقعہ ہی نہیں ملا مجھے”۔ وہ اسکے گال پہ ہاتھ رکھتا محبت سے بولا۔
” جابر آپ بہت جھوٹے ہیں “۔ وہ سسکتی اسکے کندھے پہ سر رکھ گئ تھی۔
” ہائے جاناں یہ تو دیکھو یہ جھوٹا فریبی شخص صرف تمہارا ہے “۔ وہ محبت کی چاشنی اپنے الفاظ میں گھولتا اسکے چہرے پہ جھکنے ہی لگا تھا۔ کہ منہ پہ پڑتے زناٹے دار تھپڑ نے اسکے حواس جھنجھلا دیئے۔
اسنے صدمے سے اپنے گال پہ ہاتھ رکھتے اپنی حسین سی بیوی کو تکا۔
” کتنے جھوٹے ہیں آپ اب آپ نے یہ بھی جھوٹ کہا، آپ صرف میرے نہیں زرتاشہ کے بھی ہیں “۔ وہ غصہ سے کہتی اپنی آخری بات پہ ایک بار پھر سسکنے لگی تھی۔
” ہاں تو اب کیا کروں مر جاؤں اگر دو شادیاں کر لی ہیں تو ؟؟ توبہ کردی تم دونوں نے تو ایک ادھر جان لینے پہ تلی ہے تو دوسری ادھر ، اسکے سامنے تو ایسے محبت سے بات کر رہی تھیں اور اب دیکھو ذرا۔۔!! جھوٹی تو تم عورتیں ہوتی ہو”۔ وہ تھپڑ کے صدمے سے چیختا ہوا بولا۔
” آپ جابر آپ ایسا کریں آپ سچ میں ہی کہیں دو گھونٹ پانی کے دیکھ کر مر جائیں”۔ وہ بیڈ سے کشن اٹھا کر اسے مارتی بولی۔۔۔ وہ یکدم اس نئ افتاد پہ بوکھلاہٹ میں جمپ مارتا کمرے سے باہر بھاگا تھا۔ اور وہ تھکی ہاری سی بیڈ پہ بیٹھتی اپنا پھولا سانس بہال کرنے لگی تھی۔ اور یکدم سے پھر اسکی آنکھوں سے جھرنا بہنا شروع ہوا تو اسکی ہچکیاں بندھ گئیں پر اسکے آنسو نا تھمے۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧
وہ سرخ جوڑا پہنے آنکھوں میں آنسو لیئے بیٹھی تھی۔دادی کی باتیں اسکے کانوں میں گونجتی اسے مزید تکلیف سے دوچار کر گئ تھی۔ اس کے اپنے جن پہ اسے بے حد بھروسہ تھا۔ آج اسکے ساتھ کیا کر گئے تھے۔ دادی کو گزرے ہفتہ بھی نہ ہوا تھا۔ اور اسکے یہ سگے یہ اپنے اسے سر پہ پڑے کسی بھاری بوجھ کی مانند اتار پھینک گئے تھے۔ اسکے جان سے بھی عزیز چاچو نے اسے ایک ایسے شخص کے ساتھ بیاہ دیا تھا جو اس سے عمر میں دگنا بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ دو جوان اولادوں کا باپ تھا۔ مانا کے ثبور بھی ایک بیوہ تھی۔ اسکی بھی یہ دوسری شادی تھی مگر کیا انکو اتنی جلدی تھی کہ کسی بہتر پروپوزل کا انتظار کیئے بغیر ہی اسے ایک ایسے شخص کے ساتھ باندھ دیا۔
کمرے کا دروازہ کھلا دو لڑکیاں اندر آئیں دونوں کی عمر لگ بھگ انیس سے بیس کے قریب تھیں اسے بڑی ہی بری نظروں سے گھورتی وہ اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئیں۔
” نام کیا ہے تمھارا “۔ ان میں سے ایک لڑکی جو کالے کرتے میں ملبوس تھی بھنوئیں اچکا کر اس سے مستفسر ہوئ۔
” ثبور “۔ اسکی نم آواز کمرے میں گونجی۔
” اچھا جو بھی نام ہے ہمیں کوئ غرض نہیں بس اتنا بتانے آئے تھے۔ ہمارے پاپا ہیں وہ ہم سے دور کرنے کی کوشش بھی نہ کرنا سمجھی ورنہ اس گھر میں رہنا مشکل کر دیں گے تمھارا”۔ اب کے سرخ کرتے والی لڑکی نے منہ کھولا تھا۔
وہ تو بس ان لڑکیوں کو دیکھتی رہ گئ تھی۔ اسے تو حیرت ہورہی تھی انکے اسطرح سے بات کرنے پہ خیر وہ کون ہوتی تھی انکے باپ کو ان سے الگ کرنے والی جو وہ دونوں اسے اسطرح دھمکیاں دے رہی تھیں۔ کچھ دیر دونوں کھڑی اسے گھورتی رہیں پھر دونوں خاموشی سے کمرے سے واک آؤٹ کر گئ تھیں۔
وہ بیڈ کی پشت سے سر ٹکا گئ تھی۔ اسکے اعصاب چٹخنے لگے تھے۔ وہ تھگ گئ تھی اپنے رب کے بنائے رنگ برنگے لوگوں کے رنگ بدلتے دیکھ۔ اسے ایک بار پھر حارث کی یاد شدت سے آئ تھی۔ دل نے اسے بیوفا ٹھہرا دیا تھا وہ خود کو حارث کی مجرم سمجھنے لگی تھی۔ وہ تو حارث کی امانت تھی وہ کیسے کسی اور کی ملکیت بن سکتی تھی۔
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز ایک بار پھر آئ تھی۔ پر اسنے آنکھیں کھولنا ضروری نہ سمجھا ویسے ہی خاموش آنسو بہاتی رہی تھی۔ اندر آنے والے نے گلا کھنکھارا تھا۔ اسنے نا چاہتے ہوئے بھی آنکھیں کھولی سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔ تو مقابل کو دیکھ اسکا دل ہولے سے سرکا تھا ، وہ یکدم گھبرا کر سیدھی بیٹھی تھی۔ کسی انجان شخص کو سامنے دیکھ وہ گھبرائ تھی۔ نجانے اب یہ کون تھا۔
” اسلام و علیکم ۔۔” وہ سلام کرتا آگے آیا اور ڈریسنگ کے پاس پڑی چیئر گھسیٹ کے بیڈ کی داہنی سائڈ رکھی ، اور چیئر پہ بیٹھا۔ ثبور اسے حیرت سے دیکھنے لگی تھی۔
” میں جہانداد ۔۔ آپکا ۔۔ آپکا شوہر”۔ جہانداد نے اسے حیرت سے خود کو تکتے پاکر وضاحت دی۔
” وعلیکم اسلام”۔ اسنے سر جھکا کر جان چھڑانے والے انداز میں جواب دیا۔
” آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں “۔ جہانداد کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا بولے تو اسے یہ ہی بولنا بہتر لگا ویسے بھی اپنی بیٹیوں سے چند سال بڑی لڑکی کو بیوی کے روپ میں دیکھ اسے بڑی شرمندگی ہورہی تھی۔ نجانے اسکی بیٹیاں اپنے باپ کے بارے میں کیا سوچ رہی ہوں گی۔
“ہمم”۔ ثبور نے خاموشی سے اسے دیکھا۔ تو وہ اچھا خاصہ گڑبڑاگیا تھا۔
” وہ ۔۔۔۔ مہ۔۔۔میرا مطلب ہے کے آپ یو ۔۔۔نو “۔ جہانداد کو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ آخر اتنا کنفیوز کیوں ہورہا تھا۔ اسکا کوئ پہلا تجربہ تھوڑی تھا دوسرا تجربہ تھا اتنا تو وہ اپنے پہلے تجربے میں کنفیوز نہیں ہوا تھا۔ جتنا اب ہو رہا تھا۔
” میں سمجھ گئ “۔ وہ اسے اتنا کنفیوز دیکھ جلدی سے بولی تھی ویسے بھی اسکا سر بے حد دکھ رہا تھا۔مزید کوئ بکواس سننے کا موڈ نہیں تھا اسکا۔
” آپ نے کھانا کھایا “۔ وہ خاموشی کو توڑتے پھر بولا۔ ” جی کھا لیا ہے “۔ وہ جھوٹ بولتی اسے ایک بار پھر خاموش نظروں سے دیکھنے لگی۔
وہ شخص کہیں سے بھی اس سے دوگنا بڑا نہ لگتا تھا۔ نہ ہی دو جوان بیٹیوں کا باپ لگتا تھا۔ کسرتی جسامت گندمی رنگت ، دراز قد، سیاہ بالوں میں کہیں ، ہلکی سی سفیدی تھی جو بہ مشکل ڈھونڈنے پہ ملتی تھی۔ ہلکی بڑھی شیو گھنی مونچھیں اسکی ظاہری شخصیت کے مکمل ہونے کا پتہ دے رہی تھیں۔
” پر میں نے نہیں کھایا کھانا میں لیکر آتا ہوں۔ آپ بھی میرا ساتھ دے دیجیئے گا کھانا کھانے میں”۔ وہ نرمی سے کہتا کمرے سے نکل گیا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔اسنے ٹرے بیڈ پہ رکھی اور واپس چیئر پہ بیٹھا۔ “میرا ساتھ نہیں دیں گی آپ “۔ اسنے نرمی سے پوچھا۔
” نہیں مجھے بھوک نہیں”۔ وہ سنجیدگی سے کہتی اٹھی اور واشروم میں جاکر بند ہوگئ تھی۔وہ محض اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
” دادی میں نے کہہ دیا نہ نہیں کرنی مجھے دوسری شادی۔ کیوں نہیں سمجھتے آپ لوگ حارث کے ساتھ بے وفائ نہیں کرسکتی میں”۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔
” وہ مر چکا ہے۔ مرے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیسی بے وفائ بیٹی”۔ انہیں اسکی حالت پہ ترس آیا تھا۔
” دادی وہ آپ لوگوں کی نظروں میں مر چکا ہے پر وہ زندہ ہے۔ میرے ساتھ ہے۔ ہر جگہ ، ہر پل وہ میرے ساتھ رہتا ہے۔ دادی میں اسکی جگہ چاہ کر بھی کسی اور مرد کو نہیں دے پاؤں گی”۔ اسکا لہجہ سسک رہا تھا۔ وہ دادی کے سامنے تخت پہ بیٹھی آنسو بہاتی تو کبھی اپنا بادامی آنچل سر پہ ٹکاتی رونے کی شدت سے اسکی ناک سرخ ہوچکی تھی۔
” جب کسی مرد کو آنے کی اجازت دو گی نہ تو وہ حارث کی جگہ نہیں لے گا تمھاری زندگی میں اپنی جگہ بنائے گا۔ اسکی سنگت میں تم سب کچھ بھول جاؤ گی۔ نہ کوئ حارث یاد رہے گا۔ نہ اسکی محبت”۔ وہ اسکے چہرے پہ ہاتھ پھیرتیں اسے سمجھانے لگی۔
” نہیں دادی ایسے تو نہ کہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا”۔ وہ انکی بات کی شدت سے نفی کرنے لگی۔
” ہوگا مان لو بٹیا کوئ جادوگر آئے گا اور پہلی ہی نظر میں تمھارا دل چرا کہ لے جائے گا”۔ اب کے دادی نے مزاقاً کہا۔
” ایسا کبھی نہیں ہوگا دادی کبھی بھی نہیں”۔ وہ آنسو بہاتی اٹھ کر دادی کے کمرے سے نکلتی چلی گئ تھی۔
اسنے ہتھیلیوں میں پانی بھر کے چھپاکے سے پانی اپنے منہ پہ مارا۔ دادی کی کہی ایک اور بات اس کے کانوں میں بڑی شدت سے گونجی۔ اسنے نظریں اٹھا کر خود کو آئینہ میں دیکھا۔ اسکے چہرے پہ سے پانی ٹپک رہا تھا۔ اسنے تولیہ کھینچا اور اپنا چہرہ خشک کرکے دوپٹہ اٹھایا۔ اور سلیقہ سے سر پہ اوڑھ کر نکلی۔ وہ جو برتن اٹھا کر باہر لے جارہا تھا۔ اسے واشروم سے نکلتا دیکھ رکا تھا۔
” چائے پیئیں گی آپ”۔ وہ کمرے کے دروازے کی طرف بڑھتا اس سے مخاطب تھا۔
” نہیں”۔ یک لفظی جواب دیتی وہ بستر پہ آکر بیٹھی تھی۔ کمفرٹر کھول کر خود پہ اوڑھا تھا۔ اور سر تکیہ پہ ٹکاتی لیٹتی ثبور اس سے مخاطب ہوئ۔
” پلیز لائٹس آف کر دیجیئے مجھے نیند آرہی ہے”۔ وہ روکھے لہجے میں اس سے لائٹس آف کرنے کا کہتی خود آنکھیں موند گئ تھی۔ اور وہ محض ثبور کے ایٹیٹیوڈ کو دیکھتا رہ گیا تھا۔
وہ کمرے کی لائٹس آف کر کے خاموشی سے نکل گیا۔ ثبور نے آنکھیں کھولی۔ اور دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئ۔ ” ایسا کبھی نہیں ہوگا دادی حارث کی جگہ کوئ نہیں لے سکتا میں کسی کو لینے نہیں دوں گی حارث کی جگہ”۔ اسنے اپنی جلتی آنکھیں واپس موندیں تو اسکے چہرے پہ گرم سیال بہنے لگا۔
♧♧♧♧♧♧♧
وہ صبح فجر کے ٹائم اٹھی کمرے میں نظر دوڑائ۔ وہ کمرے میں موجود نہ تھا۔ ثبور سکون کا سانس لیتی اٹھی۔ وہ نماز پڑھ کر ابھی فارغ ہی ہوئ تھی کے وہ کمرے میں داخل ہوا۔ اسے جاگتا دیکھ فوراً بولا۔
” وہ میں اپنے کپڑے لینے آیا تھا۔ دراصل مجھے ایک مورننگ شو میں انٹرویو کے لیئے جانا ہے تو۔۔۔آپ سوچ رہی ہونگی کے مجھے انٹرویو کے لیئے کیوں جانا ہے”۔ وہ شائستگی سے بتاتا آخر میں اسے اپنے کام کے بارے میں بتانے کی کوشش کر گیا جو بری طرح سے ناکام ثابت ہوئ کیونکہ محترمہ کے صفا چٹ جواب نے اسکی بولتی بند کرا دی تھی۔
” نہیں میں ایسا کچھ بلکل بھی نہیں سوچ رہی”۔ وہ روکھے لہجے میں کہتی اٹھی تھی اور کمرے سے باہر نکلنے ہی والی تھی۔ کہ اسنے اسکی کلائ تھام لی۔ وہ اسکی جرآت پر حیرت سے مڑی۔ اسے گھورتے ہوئے اپنا ہاتھ چھوڑنے کا کہا۔
” میں نے کہا ہاتھ چھوڑیں میرا “۔ وہ اسے آنکھیں دکھاتی غرائ تھی۔
” کیا آپ اس شادی سے خوش نہیں “۔ وہ اسکی کلائ تھامے جوں کا توں کھڑا رہا۔
” نہیں بلکل بھی نہیں خوش میں ۔۔ اور ویسے بھی کونسی لڑکی ہوگی جو ایک بڈھے آدمی سے شادی کرکے خوش ہوگی”۔ وہ تنفر سے کہتی اپنا ہاتھ اس سے چھڑاتی کمرے سے باہر نکل گئ تھی۔ اور وہ ہونق بنا خود کو بڈھا کہا جانے کا صدمہ لیئے فوراً شیشے کے سامنے جاکر کھڑا ہوا تھا۔ اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیرتا وہ اسکے الفاظ دھرا گیا ” بڈھا۔۔۔” اسنے دل خراب ہونے والی شکل بنائ۔ اور دوبارہ بڑبڑایا۔ ” اب اتنا بھی کوئ بڈھا نہیں میں اچھا خاصہ ہینڈسم لگتا ہوں”۔ وہ اپنے بالوں کو انگلیوں سے سلجھاتا منہ بنا کر سر جھٹکتا
واڈروب سے اپنے کپڑے لیتا واشروم میں گھسا تھا۔
♧♧♧♧♧♧♧♧
کل رات جابر خان فلک کے کمرے سے نکل کر زرتاشہ کے کمرے کی طرف گیا تھا تاکہ وہ اسکے بیڈروم میں سوجائے کیونکہ فلک تو اسکی اچھی خاصی درکت بنا چکی تھی ، اسنے زرتاشہ کے روم کا دروازہ بہت بجایا بہت آوازیں دیں پر اس ظالم نے بھی دروازہ نا کھولا۔
وہ خاموشی سے حویلی میں موجودہ دوسرے کمرے میں رات کو سو گیا تھا ، وہ بکھری سی حالت میں سیڑھیاں اترتا نیچے آیا تھا اسکی دونوں بیویاں چمکی دمکی ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھی ناشتہ کر رہی تھیں۔ زرتاشہ بیٹھی منّت کو ناشتہ کرا رہی تھی۔۔ ساتھ ساتھ منّت چھوٹی چھوٹی باتیں اپنی ماں سے کر رہی تھی۔ جسکے جواب میں زرتاشہ محبت سے اسے کبھی پیار کرتی تو کبھی محبت بھرے فیس ایکسپریشن بنا رہی تھی۔ وہ اپنے ماتھے پہ گرتے بال ایک ہاتھ میں جکڑتا پیچھے کو جھٹکتا نیچے اترا ، دونوں اسے مکمل طور پہ نظر انداز کر رہی تھیں اسکے اندر مسکین مسکین سی فیلینگس آگئ تھیں۔ وہ زینے اترتا ڈائینگ ٹیبل کے پاس آیا اور اپنی چیئر کھسکا کر منہ بناتا خاموشی سے بیٹھا۔
” بابا گد ماننگ “۔ چار سالہ منّت اپنے باپ کو دیکھ کر چہکی۔
” گڈ مارننگ بابا کی جان “۔ وہ محبت سے کہتا اسے فلائنگ کس پاس کرتا مسکرایا۔
” منّت آپکو کتنی بار کہا ہے میں نے کہ گڈ مارننگ سے پہلے سلام کیا کریں بیٹے”۔ زرتاشہ اسکے منہ میں انڈے پراٹھے کا نوالا ڈال کر بولی۔
” شولی مما ۔۔ میں بھوول گئ تھی”۔ اسکے بھول گئ کو لمبا کرکے بولنے پہ بے ساختہ ان تینوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آئ تھی۔
” میرا بچہ سلام کرنا کبھی نہیں بھولنا چاہیئے مائے بےبی “۔ وہ اسکے پھولے گالوں پہ بوسہ دیتی اسے سینے سے لگا گئ تھی۔
” اوتے مما “۔ وہ فوراً فرمابرداری سے کہتی اسے خود پر نہال کر گئ تھی۔
” مائے چھوٹو سا بے بی “۔ وہ اسکو پیار کرتی دودھ کا گلاس اٹھا کر اسکے لبوں سے لگا گئ تھی۔
” بابا میں نے آپ تو اتنا مش کیا”۔ ( بابا میں نے آپ کو اتنا مس کیا)۔ وہ دودھ کا گلاس اپنے لبوں سے ہٹا کر بولی۔
” بابا کی لاڈو نے اتنا مس کیا اپنے بابا کو ، میرا بچہ پھر اتنا دور کیوں بیٹھے ہو بابا سے جلدی سے آجاؤ بابا کے بے بی “۔ اسنے باہیں وا کر کے اسے اپنے پاس بلایا۔
اور وہ جھٹ سے اٹھتی بھاگتی ہوئ اپنے باپ کے گلے لگ گئ تھی۔
” بابا لو یو”۔ وہ اسکے گلے لگے چہکتی ہوئ کہتی جابر کے چہرے پہ یک جاندار مسکان بکھیر گئ تھی۔
” لو یو ٹو بےبی”۔ وہ اسکے گالوں پہ پیار کرتا بولا۔
زرتاشہ خاموشی سے اب خود ناشتہ کرنے لگی تھی۔ اور فلک بھی ناشتہ ہی کرنے میں مشغول تھی ، پر۔شاید اب نوالہ اسکے حلق میں اسے اٹکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔ اور وہ دونوں باپ بیٹی اپنی ہی دنیا میں مگن ہوگئے تھے۔
زرتاشہ نے ہلکی سی نگاہیں اٹھا کر سامنے بیٹھی فلک کو دیکھا، فلک بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں ملیں اور یکدم دونوں ایک دوسرے سے نظریں پھیر گئیں۔
” اوتے بابا آپ ناستہ تلو میں اپنے روم میں جاری ہوں”۔ وہ اپنے باپ کے گال پہ پیار کرتی بھاگتی ہوئ زینے چڑھنے لگی تھی۔
” بے بی آرام سے مائے چھوٹو “۔ زرتاشہ یکدم گردن موڑ کر بولی۔ اور وہ اسکی آواز سن کر اب آرام سے زینے چڑھ رہی تھی۔
” اور ہوگئ تم دونوں جلاد صفت عورتوں کی صبح “۔ جابر چائے کا کپ لبوں سے ہٹاتا بولا۔
” دوسروں کو جلاد بولنے سے بہتر ہے بندہ اپنی شکل آئینے میں اچھے سے دیکھ کر بیٹھے کہ وہ خود کیا ہے”۔ زرتاشہ چڑ کر کہتی اپنی اور منّت کی پلیٹس اور برتن اٹھانے لگی تھی۔
“قسم لے لو ابھی بھی اپنی شکل دیکھ کہ آرہا ہوں اور تم دونوں کو پتا ہے آئینے نے چھپ کے سے میرے کان میں کیا سرگوشی کی”۔ وہ دلربا انداز میں کہتا اپنی مسکراہٹ دباتا مزید گویا ہوا۔
” کہ جابر خان تم جیسا حسن کہ دیوتا دو بیویاں کیا پچاس ڈیزرو کرتا ہے ، جسقدر تم حسین ہو یہ دو مونگ پھلی کے دانے جتنی لڑکیاں تمہارے ساتھ سوٹ نہیں کرتی ، تمہارے حسن کو تو چار چاند تب لگیں گے نا جب تم بیچ میں ہوگے اور ارد گرد بہت سی بیویاں “۔ وہ مدہوش سے لہجہ میں کہتا دونوں کو اچھا خاصہ تپا گیا تھا۔
” نجانے وہ مزید کون سی اندھی لڑکیاں ہونگی جو تم سے شادی کریں گی “۔ پہلا وار زرتاشہ کی طرف سے تھا۔ وہ اسکی بات پہ اسے گھور کے رہ گیا۔
” اور تمہیں جس نے بھی اس خوش فہمی میں ڈالا ہے نا ذرا ان سے کہنا تمہیں کسی اچھے صابن کا بتا دیں جس سے نہانے کہ بعد تمہیں اپنی شکل اچھے سے دکھ سکے”۔ دوسرا وار فلک کی طرف سے تھا۔ وہ اسے بھی گھورتا منہ بناتا کپ اپنے ہاتھوں میں مظبوطی سے تھام گیا تھا۔
” تم دونوں جل رہی ہو اپنے اکلوتے شوہر کے حسن سے “۔ وہ منہ بناتا گویا ہوا۔
” تم سے جلتی ہے میری جتی “۔ دونوں یک زبان ہوکر بولیں تو جابر نے دونوں کو خونخوار نظروں سے گھورا۔
” اپنی جتی اپنے پاس ہی رکھو تم دونوں “۔ وہ مغرور لہجہ اپنائے کہتا انکو ااگنور کرتا اٹھا تھا۔ اور ابھی قدم تیسرے زینے پہ ہی تھے کہ یکدم پیچھے سے ہوئے زور دار وار سے وہ تڑپ کر چیختا پیچھے مڑا تھا دونوں کھڑی اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھیں۔ اسنے طیش میں انکی طرف بڑھنا چاہا ہی تھا کہ انہوں نے ل اپنے پیروں سے دوسری چپل بھی اتار کر اسے مارنے کے لیئے پھینکا ہی تھا کہ وہ یکدم خود کو بچاتا زینوں پہ دھپ کی آوازیں پیدا کرتا بھاگا تھا۔ اور وہ دونوں نیچے کمر پہ ہاتھ رکھے کھڑی اسکی پشت کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھیں۔
♧♧♧♧♧♧♧
” کدھر کی سواری ہے آپکی”۔ کل رات جو دو لڑکیاں اسکے کمرے میں آئ تھیں۔ اسوقت اسکے سامنے کھڑی دونوں ہاتھ لپیٹے کسی سخت استانی کی طرح کھڑی تھیں۔
” باہر لان کی سواری ہے “۔ وہ بھی انہی کے انداز میں کہتی سائڈ سے ہوکر نکلنے کو تھی جب انکے الفاظ نے اسکے قدم روک دیئے۔
” ہمیں ناشتہ بنا کر دو “۔ مانو حکم صادر کیا گیا ہو۔
” میں بنا کر دوں “۔ اسنے تصدیق کرنا چاہی۔
” ہاں”۔ ان میں سے ایک یک لفظی جواب دیتی اپنے نیل پینٹ سے سجے ناخنوں کا جائزہ لینے لگی۔
“پر کیوں ۔۔۔! میں کیوں بنا کر دوں ماشاءاللہ سے آپ دونوں کے ہاتھ پیر سلامت ہیں”۔ وہ بھنوئیں چڑھا کر کہتی ان سے مستفسر ہوئ۔
” ہمیں ککنگ کرنا نہیں آتی “۔
” تو یہ میرا مسئلہ تو نہیں”۔
” آپکا نہیں تو کس کا مسئلہ ہے”۔ وہ دونوں ایک ساتھ چیخی تھیں۔
” آپ دونوں کا مسئلہ ہے یہ”۔ وہ ایک ایک لفظ ٹکا کر کہتی۔ کمرے میں جانے کو واپس مڑی تھی کے بڑی ہی بری طرح سے وہ جہانداد سے ٹکرائ تھی۔ دل نے پھر ہارٹ بیٹ مس کی تھی۔
” اوہ سوری آپکو لگی تو نہیں نہ “۔ وہ شرمندہ ہوا تھا۔
” نہیں لگی “۔ اسنے دو لفظی جواب دیا۔
” پاپا ہمارا ناشتہ نہیں بنا کر دے رہیں یہ “۔ دونوں بہنوں نے ایک کورس میں کہا تو وہ اپنا رخ انکی طرف کر گئ۔
” ناشتہ نہیں بنا کر دے رہیں تو کوئ بات نہیں میں بنا دیتا ہوں کیوں پریشان ہوتی ہو تم دونوں “۔ وہ انہیں تسلی دیتے کچن کا رخ کرگئے تھے وہ دونوں بھی اسے نظر انداز کرتی اپنے باپ کے پیچھے ہولی تھیں۔
وہ بھی سر جھٹکتی باہر لان میں آکر بیٹھ گئ تھی ہلکی ہلکی روشنی دور افق سے پھوٹنے لگی تھی باہر کا ماحول بہت پیارا ٹھنڈا ٹھنڈا ہو رہا تھا۔وہ خاموشی سے ٹھنڈی ہواؤں کو اپنی سانسوں میں جذب کرتی رہی۔ کچھ دیر گزری تو اسنے ان دونوں کو گاڑی میں بیٹھ کر نکلتے دیکھا۔ انکا باپ بھی انکو سی آف کرنے آیا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ ہلاتی کار میں بیٹھی تھیں۔ گارڈ نے دروازہ کھولا اور وہ دونوں نکل کر چلی گئیں۔ وہ ان سے فارغ ہوا تو اسکے پاس آکر چیئر کھینچ کہ بیٹھا۔ وہ اسے نظر انداز کرتی سامنے کھڑے قدامت کھجور کے درخت کو دیکھنے لگی۔ وہ کھنکھارا ۔۔ اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ پر اسنے اسے دیکھنے کی زحمت نہ کی۔ وہ ہمت کرتا بولنا شروع ہوا۔
” دیکھیں ثبور جو بھی آپکی برابلمز ہیں انہیں پلیز آپ خود تک رکھیں۔ یا پھر محض مجھ تک آپ میرا غصہ یا میری نفرت اس طرح سے میری بیٹیوں پہ نہیں نکال سکتیں۔ وہ اپنی ماں کی موت اور میری آپ سے شادی کرنے کی وجہ سے ویسے بھی اچھی خاصی ڈسٹرب ہیں”۔ وہ نرمی سے دھیمی آواز میں کہتا اسے اپنی طرف دیکھنے پہ مجبور کرگیا تھا۔
“ہاں شاید وہ آپ سے بدتمیزی بھی کر رہی ہوں۔ آپ سے روڈ بی ہیو بھی کررہی ہونگی۔ پر ۔۔”۔ وہ اپنی بات کہتے رکا اسکی طرف دیکھا۔
” میں انہیں سمجھا رہا ہوں اور وہ بہت جلد سمجھ بھی جائینگی۔ مگر تھوڑا وقت لگے گا انہیں چیزیں سمجھنے میں۔ میں ایک بڑی عمر کی میچیور عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔جو بیوہ ہو یا ڈیورس ہوچکی ہو جن کی۔ جو میرے گھر کو سنمبھال سکیں ، جو میری بیٹیوں کو سنمبھال سکیں ، میرے لیئے کافی مشکل ہوگیا تھا۔ گھر کا ، باہر کا سنمبھالنا اور پھر ان دونوں کو توجہ دینا۔ میرا اس شادی کو کرنے کا مقصد محض یہی تھا۔ مجھے جب آپکا بتایا گیا کہ ایک بیوہ خاتون ہیں۔ تو میرے ذہن میں بلکل بھی نہیں تھا۔ کہ وہ بیوہ خاتون اتنی ینگ ہونگی ، اتنی خوبصورت۔۔۔۔مطلب۔۔” اپنی زبان سلپ ہونے پہ وہ اچھا خاصہ گڑبڑایا تھا۔
” آپکا لیکچر مجھے سمجھ میں آگیا ہے۔ باقی باتوں کے مطلب بتانے کی ضرورت نہیں”۔ وہ اسی روڈ انداز سے کہتی رخ موڑ گئ۔
” لیکچر۔۔؟؟ یہ لیکچر نہیں تھا ، ثبور دیکھیں پلیز سمجھنے کی کوشش کریں پلیز ، اگر آپ بھی بچکانی حرکات کریں گی اور وہ دونوں بھی تو میرے لیئے معملات آسان ہونے کے بجائے مزید مشکل ہو جائینگے”۔ سنجیدگی سے کہتا وہ اسے چڑنے پہ مجبور کر گیا تھا۔
” جو بھی تھا میں سمجھ گئ ہوں پلیز اب آپ اپنا مزید وقت برباد نہ کریں مجھ پہ”۔ اسکے ہر ہر انداز سے نفرت واضح تھی۔
” میں آپ پہ وقت بربادی نہیں کررہا “۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اپنی چیئر کھسکا کر اسکی چیئر کے ساتھ چپکا گیا تھا۔
دونوں کا کندھا آپس میں مس ہوا تو وہ تھوڑا دور ہوئ۔مگر اسکے اگلے قدم نے اسے حواس باختہ کر دیا تھا۔ اسکا مضبوط ہاتھ سرکتا ہوا اسکی کمر کو جکڑ گیا تھا۔ ثبور اس افتاد پر ہڑبڑا کر پیچھے ہونے کی کوشش کرنے لگی کہ اسنے اسکی کمر کو جھٹک کر اپنے قریب کیا۔
” میری بات سکون سے سوچو غور سے سمجھو اور پھر کوئ بات مزید کرنا ، اور ہاں ۔۔!!! “۔ وہ اسکے چہرے کو بغور تکتا ایک انگلی اسکی ٹھوڑی کے نیچے ٹکا کر اسکا چہرا اوپر کرتا گھمبیر لہجہ میں گویا ہوا، اور کچھ یاد آنے پہ مزید اسکے قریب ہوتا اسکے کان میں سرگوشی نما آواز میں کہتا اسکی ہتھیلیاں بھگا گیا تھا۔
” میں اتنا بھی بڈھا نہیں چاہو تو آزما کر دیکھ لو “۔ اسکی کہی معنی خیز بات اسکا چہرہ متغیر کر گئ تھی۔ وہ سانس روکے بیٹھی اسے خود دور کرنے کے جتن میں لگی تھی۔
” پلیز دور ہٹیں “۔ نم آواز میں کہا گیا۔
” آزما تو لو ایک بار پھر پیچھے ہٹ جاتا ہوں “۔ وہ اسکے کانوں کی لو کو لبوں سے ہلکا سا چھوتا پیچھے ہوا تھا۔ اور وہ محض اسے بری نظروں سے گھور کے رہ گئ تھی۔
