Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Last Episode)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

وہ یونہی آج لندن کی سڑکوں پر پیدل چل رہا تھا۔ تلخ یادوں کو قدموں تلے روندتا آگے جا رہا تھا جب اسے واثق مل گیا۔

“اوئے کبیر تم۔ “

کبیر شاہ کی کنپٹیوں کی رگیں پھڑکنے لگیں ۔

“تم کب سے ہو یہاں ؟ “

“ساڑھے چار سال ہو گئے ہیں تقریبا”۔

بیزاری سے جواب دیا ۔

“کیا کہہ رہے ہو یار مجھے تو تمہاری کوئی خبر نہیں کبھی کسی نے تذکرہ ہی نہیں کیا۔ دراصل میں بھی اتفاق سے اتنے ہی عرصے سے یہاں ہی ہوں۔ “

کبیر کا ماتھا ٹھنک گیا۔

“آو میرے ساتھ میرا گھر قریب ہی ہے وہاں بیٹھتے ہیں ۔”

کبیر شاہ اسے گھر لے آیا۔ اندر ہیٹر ہونے سے سردی کچھ کم محسوس ہوئی ۔

“کھانا کھاؤ گے۔”

“نہیں کافی پیوں گا”۔

کبیر شاہ نے دو مگ کافی کے بنائے ایک مگ اس کے سامنے رکھا اور ایک خود کے سامنے واثق ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔ کبیر نے سمجھتے ہوئے کلیئر کیا کہ۔

“میں اکیلا رہتا ہوں۔ فیملی ساتھ نہیں ہے “۔

واثق کو یاد آیا جھومر اچھی خاصی بیوٹی فل لڑکی تھی۔

“کیوں فیملی کے بغیر کیوں رہتے ہو “؟

واثق کا اعتماد قابل دید تھا۔ اس اعتماد سے کبیر نے بھی پوچھ لیا کہ۔

“اس دن تم ریسٹورنٹ میں دو گھنٹے سے جھومر کے ساتھ بیٹھے کیا کر رہے تھے۔”

نہ چاہتے ہوئے بھی کبیر شاہ کے لہجے میں کرواہٹ گھل گئی وہ تلخ سا ہو گیا تھا۔ واثق نے کچھ سمجھنے کی کوشش کی۔

کچھ تو تھا جو کبیر شاہ ساڑھے چار سال تک یہ بات بھلا نہ سکا تھا.

” مجھے رائمہ اچھی لگنے لگی تھی” ۔

وہ آہستہ آہستہ بولنے لگا ۔

“میں نے رائمہ کو پرپوز کیا تھا میں نے واثق مراد نے۔ “

واثق جذباتی ہو گیا وہ کھل کر رو دیا ۔

“میں نے کبیر اپنی سگی بہن کو پروپوز کر دیا اظہار محبت کرنے لگا وہ مجھ میں انٹرسٹڈ نہیں تھی اس نے تاج تائی کو بتا دیا تاج تائی جو میرے باپ کی زیادتی کا نشانہ بنی تھیں

انہوں نے رائمہ کو سچ بتا دیا ظاہر ہے کہ رائمہ اتنا بڑا راز کیسے سینے میں دفن رکھتی اور میرا روز بروز اس پر شادی کرنے کا دباؤ بڑھنے لگا ۔ بابا سے بات کی انہوں نے کوئی جواب نہ دیا !رائمہ نے دل کا راز جھومر بھابھی کو بھی بتا دیا اور جھومر نے اس کا مجھ سے پیچھا چھڑانے کے لیے یہ گہرا راز مجھے بتایا اسی لئے کہ آئندہ زندگی میں بھی کوئی ایسا وقت آ جاتا ہے کبھی بھی دوبارہ اس طرح کی نوعیت ہو جائے۔”

“میں نے اسی دن گھر چھوڑ دیا تھا میں یہاں آ کر بس گیا۔ اکیلا ہوں اور اپنے باپ کی کرتوت کی وجہ سے میرے دل کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔”

کبیر کا یہ عالم تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے یعنی کے اگر جھومر چاہتی تو اس راز کو میرے سامنے فاش کر کے اپنی زندگی میرے ساتھ سیدھی کر سکتی تھی۔وہ اپنے آپ کو کلیئر کر سکتی تھی۔ میرے سامنے رائمہ کو بھی لا سکتی تھی۔

اور خدا میں نے اسے کتنا تڑپایا ہے کتنی اذیتیں دی ہیں ۔ بیسیوں فون کرتا ہوں اس نے کبھی مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی کیوں کہ اسے میرے سامنے کلیر ہونے کے لئے راز فاش کرنا پڑتا تھا۔

کبیر شاہ تو شرمندگی سے زمین میں گڑ گیا تھا بہت دن تک وہ بہت زیادہ ڈسٹرب رہا ۔

********

جھومر بہت دنوں سے کبیر کا فون نہیں آیا۔

“جی اماں ہوگی کوئی مصروفیت” ۔

جھومر کبھی بھی دلچسپی نہیں لیتی تھی۔ نماز پڑھنے کے بعد قرآن پڑھ کر فارغ ہوئی تھی۔ تو کچن میں آ گئی۔

آج ساڑھے چار سال ہو گئے تھے ۔ وہ کافی پینا چھوڑ گئی تھی ۔ کافی کے مگ کے ساتھ جڑی بڑی تلخ یادیں تھیں۔ جو خواہ مخواہ رنجیدہ کرتی تھی۔ اس نے چولہے پر چائے چڑھائی اور سینڈوچ اور پیزا گرم کیا سب چیزیں ٹرے میں رکھی۔ جب مڑی تو کسی آہنی دیوار سے جیسے اسے ٹکڑ ہوگی۔

کبیر شاہ ڈنر سوٹ میں اس کے مقابل کھڑا تھا۔ جھومر کی چیخ نکل گئی۔ وہ ایک دم ڈر گئی تھی اور اب شرمندہ سی حیران سی کھڑی اسے ٹکر ٹکر دیکھ رہی تھی۔

وہ سائیڈ سے گزر جانا چاہتی تھی لیکن کبیر شاہ نے اس کی کلائی تھام لی۔ اسے لیکر خالہ کے بتائے ہوئے بیڈ روم میں آ گیا ۔

“اتنے سالوں بعد ملی ہو ۔ کیا یوں ملو گی؟ “کبیر شاہ کی خوب صورت آواز کا ارتعاش کمرے کی فضا میں پیدا ہوا ۔

“کبیر شاہ تم نے ملنے کے لئے کچھ چھوڑا ہے جو میں تمہاری راہوں میں پھول بچھاؤں۔”

جھومر قدر اعتماد سے بولی۔

“تم نے مجھے حقیقت کیوں نہیں بتائی تھی۔ “

جھومر نے چونک کر اسے دیکھا ۔

“کچھ حقیقتیں ہم زندہ درگور ہی کر دیں تو اچھا ہوتا ہے کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں ہوتی وہ اور تم اتنے اعتماد سے مجھ سے ملنے چلے آئے پاگل ہو گئے ہو کیا۔ تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تم سے ملوں گی ہاں۔ میں وہ وقت وہ گڑیاں کبھی چاہ کر بھی بھلا نہیں سکتی میری تذلیل میں تم نے کیا کسر چھوڑی تھی تم کیا سمجھتے ہو تم دو حرف کہو گے اور میں بچہ اٹھا کر تمہارے ساتھ چل پڑوں گی آگہی نے آج تمہاری آنکھیں کھول دی اور تم میرے پاس چلے آئے۔”

جھومر کا حق تھا کہ وترختی ہوئی بولتی ۔ کبیر سب کچھ خاموشی سے سن رہا تھا۔ اسے سب کچھ خاموش سے ہی سننا تھا۔

“نوجوانی میں یونیورسٹی کے دور میں تم سے چہلیں کیا کر لیں تم نے میری زندگی عذاب بنا دی جا سکتے ہو تم وہ ہے باہر کا راستہ چند کوڑیوں کے عوض مرد جیتنے والی کے پاس کیا لینے آئے ہو کبیر شاہ۔ جھومر میں تا حیات ماں باپ کی دہلیز پر بیٹھے رہنے کا دم ہے”۔

جھومر اپنے دل کے خلفشاری نکال چکی تو کبیر بولنے لگا ۔

جھومر میں نے بہت غلطیاں کی جو مجھے نہیں کرنی چاہیے تھی۔ میں نہیں کہتا کہ تم مجھ پر اعتبار کرو مجھے ایک موقع تو اور دے دو ۔ یونیورسٹی کے دور سے تم نے مجھے اپنا اسیر کیا ہے آج بھی یہ دل تمہارے سحر کا اسیر ہے۔ دل میں دھڑکن ہے اور دھڑکن میں تم ہو چاہو تو جھانک سکتی ہو پلیز اس حقیر سے انسان کو بس ایک اور موقع دے کر تو دیکھو ۔

جھومر بہت برداشت کر رہی تھی اس کے آنسو باندھ توڑ کر بہنے لگے۔

“تم صدا کے جھوٹے فریبی انسان ہوں وعدہ کیا تھا کہ پہلا بچہ ہونے سے پہلے ہی تم مجھے رخصت کروا کر لے جاؤ گے”۔

“اس سے پہلے ہی کوئی اور افتاد آپڑی تھی وقت ہی نہ مل سکا۔ “

“جھومر میں نے بہت سزا کاٹی ہے تم یہاں اپنوں کے بیچ تھی میں تنہائیوں کا سفر کر کے آیا ہوں سکون کے لیے تمہارا کندھا چاہیے بس۔اور قسم سے کبھی تمہیں شرط جیتنے والی بات پر طنز نہیں کروں گا کبھی جو میری توبہ تم پر شک نہیں کروں گا اور تمہیں یہاں سے رخصت کروا کر لے جاؤں گا۔”

“اور کبیر شاہ کبھی ماضی کی تلخ حقیقتیں کسی سے بیان نہ کرنا جو راز جہاں دفن ہے اسے دفن رہنے دینا ورنہ بڑی زندگیاں رل جائیں گی” ۔

“یعنی کے میں اوکے سمجھو جو تم مان گئی ۔ “

اتنے میں منان نے “احمد شاہ” کو کمرے میں بھیج دیا وہ ایک منٹ سے پہلے اپنے بابا کو پہچان گیا میرے بابا میرے بابا کرتا کبیر کی گود میں چڑھ گیا ۔ کبیر نے چٹاچٹ احمد پر بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔

جھومر نم آنکھوں سے کھڑی باپ بیٹے کو دیکھنے لگی۔

********

تاج کبیر کو اپنے سامنے پا کر غیرارادی طور پر آب دیدہ ہوگئی۔ آخر کار کبیر اس کی اولاد ہے اور انسان کا سرمایہ اس کی اولاد ہی ہوتی ہے ۔اور جو جذبہ ماں اور بیٹے کے مابین اللہ نے دیا ہے اس کا کوئی ثانی نہیں تاج نے کبیر کو سینے سے لگایا۔وہ بہت روئیں۔

“مما پلیز مت روئیں میں آپ کے پاس آ گیا ہوں۔”

کبیر مغموم ہوتے ہوئے بولا ۔

“کبیر چار سال ہم نے تمہارے بغیر کیسے گزارے ہیں بیٹا تم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تم نے ایک ماں کا امتحان لیا ہے کبیر چپ چاپ کہاں چلے گئے تھے ۔ “

تاج بہت ہاری ہوئی سی لگی۔ کبیر نے ان کے ہاتھ تھام لئے۔

“مما ہمیشہ آپ کے پاس ہی رہوں گا کہیں نہیں جاؤں گا وقت نے مجھے بہت خاک چھنوالی ہے اب اور نہیں ۔ “

“تم تو جھومر سے محبت کرنے لگے تھے پھر اس کو چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔ “

تاج نے بڑی نرمی سے پوچھا ۔

“جھومر آپ کو پسند جو نہیں تھی”۔

کبیر نے لاڈ سے کہا ۔

“بنو مت تم اور ہمارے لئے جھومر کو چھوڑ دو ہم مان ہی نہیں سکتے وجہ کچھ اور ہو سکتی ہے” ۔

“نہیں بس صرف اب میں آپ کا بیٹا بن کر رہوں گا ۔”

“کیا مطلب ہے جھومر کو نہیں لاؤ گے۔”

تاج نے حیران ہو کر پوچھا ۔

آپ چاہیں گی تو پھر آئے گی ورنہ نہیں۔

کبیر نے ہوا میں تیر چلایا شاید کارگر ہو جائے۔

“کبیر ہم جھومر کو لے کر آئیں گے وہ تمہاری دلہن ہے اور ایک پیارا سا گول مٹول بیٹا بھی ہے تمہارا۔ “

تاج اپنے تئیں اسے پیار سے منانے لگیں ۔

“تو پھر وہ دلہن بن کر دلاویز کی طرح رخصت ہو کر آۓ گئی “۔

“تمہیں رخصتی کی پڑی ہے بیٹے کا سن کر خوش نہیں ہوئے” ۔

“سب سے پہلے مجھے بیٹے سے ہی مل کر آ رہا ہوں” ۔

وہ نروٹھے انداز میں بولا۔

“ہوں تب ہی ہم کہیں کہ تم چونکے کیوں نہیں “۔

کبیر ساڑھے چار سال سے ویڈیو کال پر بیٹے سے باتیں کرتا رہا تھا یہ بات تاج کے علم میں نہیں تھی کبیر بتانا بھی نہیں چاہتا تھا ۔

تاج سوچوں کے بھنور میں کھونے لگی۔

“مما بتائیں جھومر کو کیسے لانا ہے “۔

“کبیر تم جیسے چاہو گے ہم جھومر کو ویسے ہی لے آئیں گے ہمارا بیٹا اتنے سالوں بعد گھر آیا ہے ہماری ترستی بے چین روح کو قرار آیا ہے ۔ ہماری آنکھوں نے اپنے بیٹے کو دیکھا ہے۔ جدائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور ہم نے یہ تکلیف سہی ہے۔ “

تاج کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی اولاد کی جدائی سہہ کر وہ قدرے نرم ہو گئی تھی کیونکہ اولاد اپنی تھی اور میراں کسی اور کی اولاد تھی جسے سالہا سال والدین کی شفقت سے پرے رکھا لیکن ماں تو ماں ہوتی ہے۔ تاج اور میراں کی ماں چپکے چپکے میراں سے ملتی رہتی۔ میراں کو کبھی اکیلے ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتی تھی۔ جب تاج کی بے وجہ ضد تھی اور کچھ نہیں۔

کبیر شاہ نے جھومر اور اپنے بیٹے کے لیے تیاریاں شروع کر دیں۔ اسد شاہ کا پاؤں زمین پر نہ ٹکتا تھا ۔ گھر میں ایک رونق کا سماں تھا زرتار محل میں سنجیدگی کا بنا ہالہ ٹوٹنے لگا اور رونقوں نے راہ بنانی شروع کر دی۔

ننھا ارسم اور شائینہ کبیر کو بے حد پیارے لگے۔ شمشیر اور دلاویز کے بچے بے حد پیارے تھے ۔اور ان کی معصوم باتیں۔ کبیر کی تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ سب اس لئے بھی خوش تھے کہ تاج نے اپنے رویے میں تھوڑی نرمی پیدا کی تھی۔ خوشیاں بزرگوں کے اچھے رویے کی مرہون منت ہوتی ہیں ۔ اگر بڑے اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں تو گھر امن اور خوشیوں کے گہوارے بن جاتے ہیں ۔

*******

جھومر نے بال بال موتی پروئے تھے جب بیوٹیشن اس کی خوبصورت آنکھوں میں مسکارا لگا رہی تھی۔ تو جھومر سوچ رہی تھی کہ دولت مند باپ کی بیٹی ہو یا غریب باپ کی اسے اپنی ذات کی نفی کرنی ہی پڑتی ہے۔ آج وہ اپنی ذات کی نفی کر کے اپنے احمد کی خاطر اور اپنی محبت کی خاطر والدین کے گھر سے رخصت ہو رہی تھی۔ اس حقیقت کے باوجود کہ کبیر نے تمانچوں اور ٹھکروں سے اسے بےحال کر دیا تھا ۔ اس کی ایک بات نہ سنی تھی ساڑھے چار سال اس سے نفرت کرتے گزار کر آیا تھا۔ آج وہ کہتا تھا کہ جھومر تم میرے لیے ٹھنڈی چھاؤں جیسا شجر ہو پلیز لوٹ آؤ ۔

میں کتنی موم جیسی ثابت ہوئی ہوں۔ کبیر کی محبت میں پگھلنے لگی ہوں ۔عورت کی حقیقت اتنی آسان ہے ۔ بس چند لفظوں کی متلاشی ہوتی ہے۔ تین فقروں میں زندگی بھر کے لئے باندی بن جاتی ہے۔ مرد کی بے وفائی کا جواب سنگھار کر کے ادا کرتی ہے ۔ اس تلخ سی حقیقت پر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

“میم پلیز روئیں نہیں میک اپ خراب ہو جائے گا ۔ “

جھومر نے اپنے جذبات پر کنٹرول کیا ۔

ننھا احمد گود میں اٹھائے کبیر دولہا بنا برائڈل روم میں آیا ۔ جھومر کو دیکھ کر مہبوت سا رہ گیا لیکن جھومر مگن سی نظر آئی۔

اینٹرنس کا وقت ہوگیا تھا۔ دونوں کو احمد کے ساتھ چلتے ہوئے سٹیج پر جانا تھا ۔ دلآ ویز رہداری عبور کرتے ہوئے۔ جھومر کی آنکھوں کے کونے صاف کر رہی تھی وہ اس کے جذبات سمجھ سکتی تھی۔

تاج نے جھومر کو کئی قیمتی سیٹ گفٹ کیے اس کا ماتھا چوما تو جھومر کو اپنے جذبات کو کنٹرول کرنے مشکل ہونے لگے اس کے اندر عجیب مدوجزر سی کیفیت چل رہی تھی ۔ کبیر کی بے فکر مسکراہٹ بھی رک گئی۔ جھومر بےحد افسردہ تھی۔

وہ سمجھ سکتا تھا ایک غلط فہمی نے ان دونوں کے قیمتی پانچ سال ضائع کیے تھے۔ کبیر کی جلد بازی اور اس کی جذباتی عادت نے اسے کتنا نقصان پہنچایا تھا بس نہیں چل رہا تھا کہاں سے خوشیاں لا کر جھومر کا دامن بھر دے۔

جب زرتار محل میں جھومر نے پاؤں رکھا تو اسے ونی بنا کر لایا گیا تھا ۔ گاڑی میں سے کبیر نے ظالموں کی طرح سے اسے باہرنکالا تھا۔ اور آج سب اس کے لیے اپنے ہاتھ وا کیئے کھڑے تھے۔ رائمہ دلآویز کبیر اور ننھے منھے ارسم شائینہ چھوٹے چھوٹے فرشتے اس کے گرد کھڑے تھے ۔

جھومر سوچنے لگی کہ کبھی بھی ان ننھے منھے کو فرشتوں کو ٹوٹنے بکھرنے نہیں دے گی۔ آج وہ جس مقام پر کھڑی تھی اور جس قدر اپنی ذات سے لڑ رہی تھی اس قدر تنہا اور اکیلا اپنے بچوں کو کبھی نہیں ہونے دے گی۔ نہ تو انا کے بھینٹ چڑھنے گی اور نہ ہی اب آنے والی نسل کو انا کی بھینٹ چڑھنے دے گی۔

جھومر نے بے ساختہ امڈنے والے آنسووں کو صاف کرتے ہوئے۔ دل بڑا کر کے تاج خالہ کو دیکھا انہوں نے جھومر کے لئے اپنے بازو وا کیے ہوئے تھے۔ جھومر ان کے بازوؤں میں سما گئی۔ اسے اپنی نسل کی بقا کے لیے جینا تھا۔ بس اس کے ذہن میں ایسی ہی باتیں تھیں ۔ ڈھولک مہندی رسمیں سب نا جانے کہاں رہ گئی تھی یاد تھا تو بس آنے والا کل یاد تھا ۔

تاج کو جھومر اور کبیر کی جدائی کا احساس تھا لیکن دل میں۔ ایک پھانس تھا کہ بھلا وجہ کیا تھی ۔ جس سے تاج لا علم تھی۔

“چلیں مما اندر چلتے ہیں دلاویز رسمیں شروع کرو”۔

شمشیر پرجوش ہو کر بولا ۔

تاج نے سب کو اندر چلنے کو کہا اور جھومر کو سب رسمیں عجیب اور بے وقت محسوس ہو رہی تھی ۔ لیکن یہ سب ہونا تھا اس لیے اسے کمپرومائز کرنا ہی تھا۔ اس کی آنکھوں کی اداسی اس کی پھیکی مسکراہٹ کبیر کی روح کو اندر تک زخمی کر رہی تھی۔

جھومر کی اولین خواہش تھی رخصتی کی لیکن آج اس موقعے پر جیسے وہ یہاں موجود نہیں تھی۔

کبیر شاہ نے جھومر کو کھیرکھلائی۔ دونوں کو آئینہ دکھایا گیا۔ شمشیر نے جھومر کا گھٹنا پکڑا تو وہ سمٹ کر بیٹھ گی۔

“ارے بھابھی ہو میری گھٹنا پکڑائی کی رسم کرو”۔

“اچھا گھٹنا پکڑائی کے کتنے چارجز ہیں”۔

جھومر بولی ۔

“چارجز تو کافی ہیں کیونکہ رسم کو ہوتے ہوئے پانچ سال لیٹ ہوگی ہے ۔تو آپ دیکھ لیں کے کتنے چارجز ہو سکتے ہیں۔ “

“آپ گھٹنا چھوڑیں میں چیک لکھ دوں گی” ۔

“نہیں نہیں جھومر یہ زیادتی ہے کیش دو ہاں۔”

دلاویز بولی۔

“کیش میرے پاس ابھی نہیں ہے”۔

جھومر مسکراتے ہوۓ بولی۔ شمشیر کو تنگ کرنے کا اس کو بھی مزہ آنے لگا تھا۔ شمشیر روٹھی روٹھی نگاہوں سے جھومر کو دیکھنے لگا۔ جھومر نے ہنستے ہوئے پچاس ہزار کا لفافہ شمشیر کو پکڑیا ۔

دلاویز گھر آتی جاتی رہتی تھی اس لیے اور جھومر کی ہم شکل ہونے کی وجہ سے احمد اس کے ساتھ اٹیچ ہوگیا تھا۔ وہ بچوں کو لے کر بےبی بیڈ روم میں آ گئی۔

آج ہم اکٹھے سوئیں گے ایک بیڈروم میں ۔

تینوں بچوں نے یک مشت کہا۔ دلاویزمسکرائی۔ تینوں کے لئے نائٹ ڈریس نکالے وہ بچوں کے ساتھ بزی ہوگئی۔

********

پانچ سال بعد وہ دوبارہ اپنے کمرے میں آئی۔ سب کچھ جوں کا توں تھا۔ ایک چیز کی بھی ردوبدل نہیں ہوئی تھی۔ لیکن آج گلاب کے تازہ پھولوں سے اسکے کمرے کو آراستہ کیا گیا تھا۔ پھولوں کی مسحور کن خوشبو نے ذہن پر اچھا اثر ڈالا۔ وہ بیڈ پر یوں بیٹھی جیسے بہت میلوں کی مسافت طے کر کے آئی ہو۔ کبیر نے اسے بےحد قیمتی گفٹ دیا ۔ جو اس نے ہلکی مسکراہٹ سمیت قبول کیا۔

“جھومر مجھے وہ پہلے والی جھومر چاہیے۔ پلیز اتنی پرائی کیوں لگ رہی ہو۔”

جھومر کچھ دیر بعد بولی۔

“ہاں کبیر شاہ ایک میں ہوں جو کب سے تمہاری ہوں لیکن مجھے لگتا ہے میں ایک اور بھی ہوں جو صرف میں خود کے ساتھ ہوں اپنی ذات کے خول میں بند۔ “

کبیر نے جھومر کے آگے ہاتھ جوڑ دئیے ۔

“میں تمہارا گناہ گار ہوں۔ مجھے معاف کر دو۔ تم بہت پیاری بہت معصوم ہو میں نے بہت سی غلطیاں کی ہیں۔ میں ہر غلطی کی تلافی کروں گا۔”

“کبیر شاہ میں پہلے بھی تمہاری تھی آج بھی تمہاری ہوں میری زندگی منزل تم تھے تمہی ہو مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ محبت تو خود بخود ہوجاتی ہے۔”

وہ کھوۓ کھوۓ انداز میں بولی۔ کبیر بے حد نادم تھا۔ فرط جذبات سے جھومر کو سینے سے لگا لیا۔ وہ کچھ بھی کہنا نہیں چاہتا گزرتے وقت کے ساتھ اسے اعتماد دینا چاہتا تھا ۔

دل کی دھڑکنوں کی مالک تو وہ علیحدہ سے جو خود تھی اس خودی کو بھی اپنا بنانا تھا۔ اسے اس کی ذات کے خول سے نکال کر خود کی روح میں تحلیل کرنا تھا۔ وہ لفظوں سے تعلق نہیں بنانا چاہتا تھا اس سے روح کا رشتہ بنانا چاہتا تھا۔ جیسے دل دھڑکن اور تم ہو تیسرا کوئی نہ ہو۔

****

دن بے حد رنگین ہوگئے تھے۔ زرتار محل میں خوشیاں ہی خوشیاں اتری ہوئیں تھی۔ ایسے میں ایک شام میراں اور زیب عالم شگن کی مٹھائی کے ٹوکروں سمیت زرتارمحل کو رونق بخشنے آگئے۔ تاج نے انھیں سر ماتھے پر بٹھایا۔ آخر کار وہ تھیں تو تاج ہی نہ۔ اسد شاہ کچھ سمجھنے کچھ نہ سمجھنے کا سا انداز لیے بیٹھے تھے۔

جب میراں نے تاج کے آگے رائمہ کے لیے دامن پھیلا دیا۔ چند ثانئے ڈرائنگ روم میں خاموشی چھائی رہی۔ اور پھر اسد شاہ نے کہا بھئ تاج سب کا منہ میٹھا کراوئیں۔ یہ تو خوشی کی بات ہے رشتے مزید گہرے رشتوں کے بندھن میں بندھ رہے تھے۔ جس کا سہرا جھومر کک سر جاتا تھا۔

تاج ہمیشہ رائمہ کو دیکھ کر سلگتی بھی تھی اور بیٹی ہونے کے ناتے اس کی عزت کے لیے دعا بھی کرتی تھی آج عزت آبرو سے اپنے گھر کی ہونے والی تھی۔ تو یہی تو اس کی سزا بن گئ تھی۔ راتوں کو دبے قدموں اپنی بیٹی کے کمرے کا محاصرہ کرتی۔ اپنی عزت کو لے کر پہروں روتی اور پھر جلاپا نکالتی کہ نہ اسد شاہ سے شادی ہوتی اور نہ وہ مراد شاہ جیسے بھیڑیے کا نشانہ بنتی۔ لیکن آج سرنگوں ہوگی تھی۔ تمام جلاپے دل سے نکل گے تھے۔ زیب عالم سے نظریں ملانے سے بھی کترا رہی تھی۔

سب کو ڈرائنگ روم میں گفتگو میں مصروف چھوڑ کر تاج میراں کو لیکر کہیں چلی گئ تھی۔ میراں اسکا مطلب قطعی سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ تاج کی آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھری تھی۔

“میراں ہم بہت گناہ گار ہیں ہم نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا ہم اتنے ظالم ہوگئے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ہم۔۔۔۔۔ ہم نے نوارں مائی کے ذریعے تمہاری بیٹی اغواہ کراوئی۔ ہم نے اس بچی پر بہت ظلم ڈھاۓ مگر میرے ﷲ کی شان تو دیکھو انجانے میں ہماری بہو بن گئ۔ تاج نے ایک ہچکی لی۔” تم قدرت کا حساب کتاب تو دیکھو کسی بھی طرح سے سہی جھومر بھی ہماری بہو ٹھہری ۔

“اور رائمہ آپ کی بہو بنگئ۔”

تاج نے ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگی۔ تو میراں نے اپنی ہمت مجمع کی اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔

” تاج تم ایسے مت کہو میرے دل میں کبھی بھی تمہارے لیے میل نہیں آیا تھا۔ تم میری ماں جائی ہو میری بہن ہو۔ جو مقام سچ کا تھا آج تم اسی مقام پر کھڑی ہو۔ بس یہ سمجھ لو کہ سب نصیبوں کے کھیل ہیں”۔

“جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں یہ ہمارا تمہارا کام نہیں ہے۔ پھر بھی تم ہمیں معاف کر دو۔ ہم نے تمہیں سچے دل سے معاف کر دیا۔ “

میراں نے تاج کا لب و لہجہ اپنا کر کہا تو وہ اور تاج یک دم ہنس پڑیں۔

“جھومر یہ سب کیا ہے۔”

دلاویز نے سرگوشی کی

“پانچ سال پرانا معاملہ ہے جو آج سر انجام پانے لگا ہے ۔”

جھومر بے دلاویز کو بتایا۔

“رائمہ نے تو کبھی بھنک پڑنے نہیں دی۔ “

اب کے جھومر بولی۔

“منان نے بھنک پڑنے دی؟”

“نہیں بالکلم بھی نہیں”۔

“چلو مٹھائی کھاؤ اور سب کو کھلاو۔ “

جھومر مسکراتے ہوئے بولی۔

ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *