Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 01)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 01)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
میراں اور تاج حویلی کےپائیں باغ میں بیٹھی بارش کاخوب لطف اٹھارہی تھی۔ باپ داداکی بیش بہادولت اور آسائشوں کی کمی نہ تھی۔
برسات سےمتعلق پکوان سجےتھےاور وہ بہت انجوائےکر رہی تھی۔
“تاج تمہیں پتہ ہےتمہارا رشتہ آیاہے۔”
تاج کی گوری رنگت سرخی میں بدل گی۔
“تمہیں کیسے پتہ؟ “
“اباجان تو ہاں کرنےہی والےہیں امی بیگم بھی راضی ہیں۔”میراں نے مزید بتایا۔
“ہم سےپوچھےبغیر وہ کیسےرشتہ طےکرسکتےہیں۔ “
اب کےبڑی وہ نحوت سے بولی۔۔
“لو بھلا حویلی والےکب پوچھتے ہیں کرکےدکھاتے ہیں۔ ویسے تم فکر نہ کرو لڑکا بہت خوبصورت ہے سب سے بڑھ کر پڑھا لکھا ہے۔ زمینداری نہیں کرتا شہر میں کوئی بزنس کرتا ہے۔ “میراں نے مزید تفصیل گوشگزاری۔
“اچھا تمہیں بڑی خبر ہے”۔
تاج نے اپنی ستواں ناک سکیڑی۔
“ہاں ایک بات اور اباجان جلد ہی یہ فیصلہ کر لیں گے۔ اب تم انکار وغیرہ کے چکر میں مت پڑنا حیثیت میں بھی ہمارے برابر ہیں۔ “
لیکن جب تک ہم خود جانچ پڑتال نہیں کر لیں گے ہاں نہیں کریں گے۔
تاج کی بات پر میراں زور سے ہنس پڑی۔
“یہ جو تمہاری “ہم کریں گے” “ہم نہیں چاہتے” یہ سب دھری کی دھری رہ جاۓ گی اباجی توتیاں باجوں کی آواز سے بتائیں گے کہ” ہم پیا دیس سدھار رہے ہیں۔”
میراں نے تاج کا لب ولہجہ اپنایا تو تاج غصے سے بل کھاتی وہاں سے چلی گی۔
تاج اور میراں نے گاوں کے قریبی سکول سے مڈل پاس کرنے کے بعد گاوں پار کر کے گورنمنٹ سکول سے میٹرک کیا تھا۔ دونوں بہنیں تعلیم سے لگاو رکھتی تھی تو چوہدری حیدر علی نے بیٹیوں کو ان کے شوق کی وجہ سے انٹر تک پڑھنے کی اجازت دے دی۔ گاوں سے تگوڑی دور شہر کی حد میں گورنمنٹ کالج سے دونوں بہنوں نے انٹر تک پڑھا پردے لگی گاڑی میں نقاب کر کے جاتیں تھیں۔ اب انٹر کے بعد گھر میں فارغ تھی۔ حیدر علی جلد از جلد دونوں بیٹیاں بیاہ دینا چاہتے تھے ۔شاہ جہان سے ان کی پرانی دوستی تھی۔ ان کے بیٹے زیب عالم کے ساتھ تاج کا رشتہ طے کر دیا گیا تھا۔
ساری حویلی خوابناک حد تک سجی تھی آج منگنی کی رسم تھی۔ مگر تاج کا موڈ سخت آف تھا۔
“میراں ہمیں ہر صورت لڑکے کی جھلک دکھا دو ورنہ ہم سب کے سامنے منگنی سے انکار کر دیں گے۔ “تاج نے اپنے غرور اور زعم میں کچھ منفرد سا لب ولہجہ اپنایا تھا۔
۔ جو قابل اعتراض بھی نہیں تھا۔ بلکہ امی بیگم کہتی ہیں کہ جیسا سوچ لو جیسا چاہ لو رب ویسا ہی نوازتا ہے۔
میراں تاج کا انداز دیکھ کر گھبرا گی۔ اور بڑے ہال میں جہاں اپنی والدہ اور دیگر گھر والوں کے ساتھ زیب عالم براجمان تھے۔ اوپر کی منزل پر جاتی سیڑھیوں میں کھلی کھڑکی سب نظارا دکھا رہی تھی۔ وہ تاج کا ہاتھ پکڑ کر ادھر لے آئی جہاں سے تاج نے اپنے ہونے والے شوہر کو تا دیر تک دیکھا۔ وہ ہر زاویے سے ہر لحاظ سے انھیں اچھا لگا۔ وہ دل تھام کر رہ گئیں اور گنگ سی واپس چلی پڑیں ۔
“ہاں بولو کیسے لگے دولہے راجا۔”
میراں کے سوال پر تاج کھلے دل سے مسکرائی۔
“ہاں ہمیں اچھے لگے”۔تاج نے خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ تسلیم کیا۔
“شکر ہےابا جی کی عزت بچی”۔
تاج نے غصے سے میراں کی طرف دیکھا۔
تاج بڑی سہج سہج کے تیار ہونے لگی۔
شاپنگ پنک شرارہ جو تاج کے سسرال والے لاۓ تھے۔ اور تاج کے شیان شان سونے کا سیٹ۔تاج نے بال بال موتی پروۓ ۔ وہ خوبصورت ملکہ دیکھائی دینے لگی۔
بڑوں نے دونوں کو اپنے ہاتھوں سے انگوٹھیاں پہنائی۔ زیب عالم کے دل کی دھڑکن تب اتھل پتھل ہوگی جب اس شہزادیوں جیسی حسینہ کو دیکھا جو سفید شرارہ سوٹ میں تھی باریک نگینوں والی جیولری پہنے ُسنہری بال چمکتی روشن آنکھیں۔ زیب عالم ہارنے لگے۔ دل کو بڑی مشکل سے منا کر انگوٹھی پہنی۔ اب تو وہ تاج دار کے ہوچکے تھے۔ تاج بھی حسن میں لاجواب تھی۔ مگر اس کے انداز میں کچھ ایسا تھا جو طبیعت پر بھاری تھا۔
پھر ظیافت کا وقت ہوا سب نے کھانا انجوائے کیا۔ رات دیر تک فنکشن جاری رہا۔ تاج اپنے شہزادے کو کن آکھیوں سے دیکھتی رہتی نگاہیں ملتے ہی نگاہوں کا زاویہ بدل لیتیں۔
مہمان جا چکے تھے۔ رات کا وسط تھا جب نیند کی شدید خماری تھی تاج ایک ایک کر کے اپنا زیور اتارہی تھی۔ نوکرانی رخسانہ ان کے نازک پیروں سے سینڈل جدا کر رہی تھی۔ اور رضیہ ان کے بالوں سے پھول اور موتی اتار رہی تھی۔ کسی کسی وقت ان کے لبوں سے سی کی آواز آتی تو وہ اور زیادہ سہولت سے آراشی سامان اتارتی۔ رضیہ نے ان کے چہرے کا مساج کیا اور میک اپ صاف کر دیا۔
“بی بی جی آج تو آپ کو بہت خوش ہونا چاہیے آپ جلد ہی پرائی ہو جائیں گی”۔
رخسانہ نے خاموشی کا طلسم توڑا۔ تاج نے لمبی پلکیں اٹھا کر رخسانہ کی طرف دیکھا وہ اپنے اندار کے جذبات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ کے رکھنے کی عادی تھی۔
“ہاں ہم بہت خوش ہیں مگر بہت رات گزر گی ہے تھک گے ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ باتھ روم کی طرف چلی گی۔
رضیہ اور رخسانہ جلدی سے اس کا سامان سمیٹنے لگیں۔
“تاج بی بی کتنی خوش نصیب ہیں کتنا اچھا سسرال پایاہے کئ سیٹ سونے کے کتنے لباس اور کتنی چیزیں لاۓ ہیں۔ “
“ہاں رضیہ یہ بہت نصیبوں کی باتیں ہیں جن کے باپ دادا اتنی امیرت امارت والے ہوں وہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی۔ “
“تم دیکھو ہم جو کچھ ہیں حویلی والوں کی بدولت ہیں ہمارے رشتے داروں میں ہماری کتنی گھٹائی گری ہے ہیں نہ۔”
“ہاں یہ تو تم ٹھیک کہتی ہو”۔
تاج کو باتھ روم سے نکلتے دیکھ دونوں سیدھی ہوگی۔
“تم لوگ جاو۔ “
تاج اپنے مخصوص انداز میں بولی۔
“بی بی جی کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔”
تاج نےچہرے کو دائیں بائیں ہلا کر انکار کیا تو دونوں نوکرانیاں چلی گی۔
******
چوہدری حیدر علی اور امی بیگم بہت خوش نظر آرہے تھے۔
“ہماری تاج اور زیب عالم چاند سورج کی جوڑی لگ رہے تھے۔حیدر صاحب میں بہت خوش ہوں گھرانہ خاندان سب کچھ بہت اچھا ہے۔ رکھ رکھاو اٹھنا بیٹھنا سب کچھ ہماری شیان شان ہے”۔
“بیگم ہم نے ہمیشہ اپنی بچیوں سے محبت کی ہےکبھی ان کو بوجھ نہیں سمجھا ان کی ہر خواہش پوری کی ہے شکر ہے رب کا جس نے میری عزت رکھی اب جلدی ہی تاریخ بھی طے کر لیں گے۔ “
دوسری طرف زیب عالم کا سکون تہہ وبالا ہوچکا تھا۔ چاندنی کی طرح چمکتی میراں ان کی آنکھوں کے آگے سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی۔ وہ تاج کو سوچنا چاہتے تو چھم کر کے میراں اپنا انچل لہراتی انکے سامنے آجاتی۔ منگنی کے بعد خوش ہونے کی بجائے اداس نظر آنے لگے۔
“کیا بات ہے بیٹا خوش نہیں ہو۔”
اماں جی نے انھیں آ لیا۔
بڑی دقت سے مسکراے۔
“خوش ہوں اماں جان آپ کیوں الجھ رہی ہیں”۔
“ایسے ہی تو اداس نہیں ہوتے تم میں بھلا سمجھتی نہیں کیا۔ “
زیب عالم کو پتا چلا کہ زندگی میں ایکٹنگ کی کیا حیثیت ہے اور پھر تو بن کر رہنا پڑنے لگا۔ اس پری وش کی وجہ سے دل سے مجبور ہو کر حویلی کے پی ٹی سی ایل پر فون کر دیا۔
“ہیلو کون ہے جی کس سے بات کرنی ہے”۔
بڑا معنی خیز انداز تھا مگر کوئی نوکرانی تھی۔
زیب عالم کی بھاری آواز آئی۔
“تاج گھر پر ہیں تو بات کروایں۔ “
تب ہی میراں پاس آئی۔
“رخسانہ کس کا فون ہے”۔
اور رخسانہ کی پوری بتیسی باہر تھی۔
“وہ جی وہ زیب صاحب جی کا فون ہے۔ “
میراں نے رخسانہ سے فون لے لیا۔
“زیب بھائی اسلام وعلیکم آپ کی ہونے والی سالی بات کر رہی ہوں کہیے کیسے مزاج ہیں۔ “
بڑا ذو معنی بولی۔
دوسری طرف زیب کے دل کی کلی کھل گی۔
“ٹھیک ہیں سالی صاحبہ ۔ مگر آپ سے ناراض ہیں۔ “
“کیوں کس وجہ سے ناراض ہیں۔”
میراں کا دل لرزہ۔
“اسی لیے کے آج ہماری منگنی کو آٹھ دن ہوگے ہیں اور آپ نے ایک فون کر کے ہمارا حال تک نہ پوچھا۔ “
“اچھا آپ آٹھ دنوں میں اتنے اداس ہوگے تھے ہمیں کیا پتہ تھا۔”
میراں ہنستے ہوئے بولی۔
“تاج سے بات کریں گے۔”
نہیں وہ پتا نہیں کیا سمجھیں بس آپ ہمارا سلام کہہ دیں اتنا ہی کافی ہے۔
بھلا تاج سے بات کرنے کا کس کافر کا دل کر رہا تھا۔
“تاج تمہارے ان کا فون آیا تھا۔ “
تاج نے تنی گردن کو ذرا سا خم دیا۔
“میرے ساتھ بات چیت ہوئی حال احوال پوچھ رہے تھے۔ میں نے کہا تھا تاج سے بات کرواوں تو کہنے لگے کہیں ان کو برا نہ لگ جاۓ بس ہماری طرف سے سلام کہہ دیں۔”
تاج مسکرائی دل کے تار گنگنا گے۔ تو انھوں نے کاغذ قلم لے کر دل کی باتیں درج کر دیں۔ اور ساتھ ہیرے کی رسٹ وچ پیک کی۔
“میراں ہمارا ایک کام کرو گی۔ “
“پہلے میں نے تمہارے کاموں کو کب انکار کیا ہے۔”میراں نے فٹ جواب دیا ۔
“اچھا یہ دیکھو یہ خط ہے اور یہ گفٹ۔تم زیب عالم کو پہنچا دو گی۔ “
“اگر کسی نوکرانی کے ہاتھ پہنچاوں تو وہ ہماری رازدار بن جاۓ گی۔ میں خود ان کو فون کر کے بلا لوں گی اور تمہارا گفٹ اور خط دے دوں گی۔ “
میراں نے اپنی معصومیت سے تاج کو سمجھایا۔ تاج ہنس پڑی۔
“تھینکیو میراں”۔
میراں نے فون کر کے زیب عالم کو اطلاع پہنچائی کہ آپ کو گفٹ دینا ہے اور تاج نے آپ کو خط بھی لکھا ہے۔
زیب عالم گاوں کے نزدیک ندی پر انتظار کر رہے تھے تھوڑی دیر میں میراں آگی۔
زیب کا دل خوشی سے دھڑک دھڑک گیا۔
“سلام عرض ہے یہ لیجیے آپ کا گفٹ اور تاج کا خط۔”
زیب نے دونوں چیزیں میراں کے ہاتھ سے لیں اس کی انگلیوں کا لمس ان کے اندر گرماہٹ پیدا کر گیا۔
“اچھا یہ بتائیں آپ کیا کرتی ہیں۔”
“یہی دعا کرتی ہوں کے تاج آپی کی جلدی سے شادی ہو اور ہمارا نمبر آجاۓ۔ “
“بہت جلدی ہے شادی کی۔؟”
جانے زیب کی آنکھوں میں کیا تھا میراں گھبرا گی۔
“آپ۔۔۔۔۔ آپ نے گفٹ تو کھول کے دیکھا ہی نہیں۔ “
“دیکھ لیں گے اب گفٹ تو ہمارے پاس ہی ہے پر آپ چلی جائیں گی”۔
زیب عالم کی نظروں سے گھبراتے ہوۓ میراں نے واپسی کا قصد کیا۔
“اچھا میں جارہی ہوں”۔
“پھر کب آو گی۔”
“جب تاج بھیجیں گی”۔
ہلکے پیلے لباس میں میراں سرسوں کا پھول ہی تو لگ رہی تھی۔
وہ واپسی کے لیے مڑ گی اور زیب عالم اسے دور تک جاتے دیکھتے رہے۔ انھیں میراں سے محبت ہوگی تھی اور وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہورہے تھے۔ میراں نو خیز کلی انھیں بری طرح بھاگی تھی تاج تو کہیں تھی ہی نہیں مگر بظاہر تاج کے ساتھ بندھن بندھ رہاتھا تو کیا کرتے؟ ایک سوال تھا بہت مشکل بہت ہراساں کرنے والا۔
*********
تاج بہت خوش تھی کے میراں نے اس کا گفٹ اور خط زیب عالم کو پہنچا دیا ہے مگر میراں بہت ڈری ہوئی تھی۔ زیب عالم کی آنکھوں میں کوئی اور ہی پیغام تھا یا پھر اسکی غلط فہمی تھی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔
تاج اپنے خط کا انتظار کرنے لگی۔
دو دن بعد زیب عالم کا فون آگیا۔ رخسانہ نے میراں بی بی کو بتایا میراں نے فون سنا۔
“وعلیکم اسلام”
“زیب بھائی تاج سے بات کرواں”۔
چھوٹتے ہی پوچھا لیا۔ زیب عالم دل مسوس کر رہ گے۔
“نہیں ہم نے ان کے لیے خط لکھا ہے اور گفٹ بھی لیا ہے۔ کیا ہمارا خط اور گفٹ آپ ان تک نہیں پہنچائیں گی۔ “
“کیا میں آپ دونوں کی ڈاکیا ہوں؟”
زیب نے جاندار قہقہہ لگایا۔ میراں کا دل دھک سے رہ گیا۔ “ان کے قہقہے میں ایسا کیا تھا میں کیوں اتنی افسردہ ہو رہی ہوں۔” میراں کا ننھا سا دل مٹھی میں آیا ہوا تھا۔
دوسری طرف زیب عالم خط لکھتے وقت بس میراں کی جگہ تاج کا نام لکھتے اور سارا رومینس کاغذ پر قلم کے ذریعے تحریر کر دیتے۔ تاج اپنے بارے میں ایسی خوبصورت شوخ تحریر پڑھتی تو ساتویں آسمان پر سفر کر رہی ہوتیں۔ میراں کو زیادہ وقت اپنے پاس رکھتی وہ کیسے لگ رہے تھے کپڑے پہنے تھے کس بےتابی سے ہمارا خط پڑھا و غیرہ۔
میراں اب بضد تھی کہ تم فون پر بات کر لیا کرو میں یہ سلسلہ زیادہ وقت تک جاری نہیں رکھ سکتی۔
مگر اس کی جان سے پیاری بہن تاج کی بےتابی اور بے چینی دید کے قابل ہوتی وہ پھر سے اس کی خاطر چلی جاتی مگر زیب عالم کی آنکھوں میں دیکھنا بہت مشکل ہوتا جارہا تھا۔
اور بہت وقت ضائع کیے بغیر آخر کار زیب نے میراں کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ دیا۔
“میرے دل کی دھڑکن سنو۔ یہ تمہاری لے پہ دھڑکتا ہے۔ یہ تمہیں ڈھونڈتا ہے میراں میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اول دن سے میرے دل میں تم ہو۔ تاج کہیں نہیں ہے۔”
اور میراں پریشان حال ان کا منہ دیکھتی رہ گی۔ جو وہ سمجھ رہی تھی وہ سچ تھا۔ زیب عالم نے دل نکال کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا تھا۔ وہ خود بھی جیسے لٹی لٹی سے واپس آئی تھی۔ وہ آگی تھی مگر اس کی روح زیب عالم کے پاس رہ گی تھی۔ شاید اسے محبت کہتے ہیں۔ مجھے زیب عالم سے محبت ہوگی ہے اور۔۔۔۔۔۔۔۔ اور تاج اسکے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھی کہ یہ وہ کس راستے پر چل پڑی ہے۔
*******
راستہ جیسے خود ہی ہموار ہوتا چلا گیا۔ میراں زیب عالم کے کشادہ سینے سے جا لگی وہ ہار گی تھی کئ آنسو زیب عالم کی شرٹ کو بھگو تہے تھے۔
