Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 18)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 18)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
“ایسا کیا کہنے والی ہیں آپ؟”
واثق بیزاری سے بولا ۔
“تو سنو واثق مراد رائمہ چچا مراد شاہ اور تاج خالہ کی بیٹی ہے ۔”
واثق کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ چند ساعتیں گزرنے کے بعد اس نے لبوں پر زبان پھیری ۔
“یہ کیسے کہہ سکتی ہیں آپ”۔
اسے اپنی ہی آواز کنویں سے آتی محسوس ہوئی ۔
“میں واقع خود سے کچھ نہیں کہہ سکتی یہ تاج خالا کا اقرار ہے اور مجھے رائمہ نے بتایا ہے۔ آپ چاہیں تو مراد چچا سے پوچھ لیں۔”
واثق باپ کی کرتوت سن کر پانی پانی ہو گیا۔ اپنے کہے لفظوں کی قیمت چکانا بھی ناممکن ہو گیا تھا ۔ اسلامی اور اخلاقی طور پر نہایت نا قابل معافی حرکت تھی۔ جس کا ثبوت آج تلخ حقیقت بن کے کھڑا تھا۔ واثق کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ کرب ناک دکھ سے گزر رہا تھا۔ وہ اپنی ہی بہن کا متمنی بن بیٹھا تھا۔ اس درد ناک دکھ نے اسے دو کوڑی کا کردیا ۔ وہ اپنی نظروں میں آپ گر گیا تھا ۔
“واثق مجھے تمہیں حقیقت بتانا تھی اور بس اب میں جاننا چاہوں گی “۔
“جھومر میں اس بات کی حقیقت ڈھونڈو گا اور اگر اس کی کوئی حقیقت نہ ہوئی تو تم کبیر شاہ سے طلاق لے کر مجھ سے نکاح کرو گی “۔
جھومر کا دماغ گھوم گیا واثق مراد کے الفاظ سنتا کبیرشاہ دھیرے سے قریب سے گزرا تھا ۔جھومر کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئی تھی۔ اسے زمین پیروں تلے سے نکلتی محسوس ہوئی تھی ۔ لمحوں میں اسے اپنا وزن ایک تنکے کی مانند محسوس ہوا تھا ۔ وہ لہو کے گھونٹ بھرتی وہاں سے اٹھی اور باہر چلی گئی ۔
وہ جیسے ہی گھر آئی سیدھی اپنے بیڈ روم میں آئی کبیرشاہ کمرے میں موجود تھا اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس ٹائم کبیر شاہ گھر پر کیوں ہے وہ بوکھلا سی گئ۔ کبیر پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کی طرف بڑھا۔
“تم کہاں گئیں تھیں”۔
لہجے کو نارمل رکھا گیا تھا۔
جھومر کو کافی مشکل ہو رہی تھی یہاں شہر میں کوئی سہیلی بھی نہیں تھی اور اگر شاپنگ کا کہتی تو ہاتھ میں کوئی شاپنگ بیگ بھی نہیں تھا ۔
“بس یوں ہی آوٹنگ کا دل ہو رہا تھا تو باہر گئی تھی”۔
وہ بدوقت بولی۔
“کہاں کہاں باہر گئی تھی لوگ تو بوائے فرینڈ یا شوہر کے ساتھ باہر جاتے ہیں تم کس کے ساتھ گئی تھی؟”
کبیرشاہ کا زخمی لہجہ جھومر پر عیاں ہو گیا تھا۔
“تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں “۔
جھومر کو اپنا ہی لہجہ کمزور لگا۔
“بکواس کرتی ہو اعتبار اعتبار کی رٹ لگائے رکھتی ہو واثق کو اپنا جگمگاتا روپ دکھانے گئی تھی اپنی ادائیں دکھانے گئی تھی یا پھر اسے بھی چند روپیوں کے عوض جیتنے گئی تھی۔ “
کبیرشاہ اپنے لفظوں کی مار سے جھومر کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا اس نے جیسے اس کے وجود کو عرش پر بیٹھا کر فرش پر پٹخ دیا تھا۔ جھومر ایک منٹ میں فیصلہ کر گئی۔
“مجھے کسی صورت بھی تمہارے ساتھ نہیں رہنا۔ “
وہ چیخ اٹھی تھی۔اور اگلے ہی لمحے کبیر شاہ کے تابڑ توڑ تھپڑوں نے اسے جسمانی تکلیف میں مبتلا کر دیا ۔ وہ اپنی تضحیک پر اور کبیر شاہ کے لگائے گھٹیا الزامات پر بلبلا اٹھی ۔
“تم اس قابل بھی نہیں ہو کے تمہیں گھریلو عورت بنا کر رکھا جائے۔ میری نظروں کے سامنے سے دفع ہو جاؤ ۔”
“کبیر شاہ میری بات سنو کبھی کبھی کانوں سے سنی بات بھی سچ نہیں ہوتی ۔ “
وہ چیخ چیخ کر بولی تھی ۔
“ابھی کے ابھی یہاں سے دفع ہو جاؤ مجھے ایک لمحے کے لیے بھی تم برداشت نہیں چلی جاؤ یہاں سے۔ “
کبیر شاہ زور سے چیخا روتی بلکتی جھومر کے اوسان خطا تھے۔ پہلے اتنی محبت اتنے عہد اور پھر ایک ذرا سا شک عورت کی زندگی تباہ کر ڈالتا ہے ۔
کیا یہ ہے عورت اور مرد کا بندھن کبیرشاہ تمہارے ہاتھوں کے دیے زخم تو جھومر بھول جائے گی لیکن جس طرح تم نے میری روح کو اپنے لفظوں سے چھلنی کیا ہے میں کبھی نہیں بھول سکتی کبھی بھی نہیں ۔ وہ کبیر کے طمانچوں سے سرخ چہرہ لیے باہر لان کی طرف بھاگ گئی تھی۔
“منان تم کہاں ہو ۔”
فون پر اس کی روتی آواز سن کر منان پریشان ہوا ۔
“جھومر تم ٹھیک تو ہو” ۔
“منان تم زرتار محل کے باہر آؤ جلدی آو”۔
منان آفس چھوڑ چھاڑ جھومر کے کہنے کے مطابق زرتار محل کے باہر آکر اسے فون کرنے لگا وہ خالی ہاتھ آئی تھی اور خالی ہاتھ چلی گئی۔
********
زیب عالم اور میراں نے اسے منان کے ساتھ آتے دیکھا۔ جھومر کا چہرہ ظلم کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ میراں نے اپنی بیٹی کو سینے سے لگایا۔
منان نے ہاتھ کے اشارے سے جذباتی پن سے منع کیا۔ جھومر کچھ بھی کہنے سننے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ میراں اسے بیڈ روم میں لائیں ۔ اس پر کمبل اوڑھا کر کمرے سے باہر آئیں ۔ جھومر کبیر شاہ کے ری ایکشن کو سہ نہیں پا رہی تھی۔ بار بار رونے لگتی جب تھک گئی تو سو گئی۔ میراں نے اسے جگایا نہیں وہ خود ہی رات آٹھ بجے اٹھی۔ عہ کمرے سے نکل کر لاونج میں آئی۔ اپنے بابا کو دیکھ کر پھر دل بھر آیا اور رو پڑی۔
“بابا آپ کو اپنی بیٹی پر اعتبار ہے نہ بولیں ۔”
“ہاں مجھے اپنی بیٹی پر آنکھیں بند کر کے اعتبار ہے” ۔
“پلیز مجھے اپنے پاس رکھ لیں مجھ سے کچھ مت پوچھیے گا ۔ “
زیب عالم نے جھومر کو اپنے شفقت سے بھرپور سایہ میں سمیٹ لیا۔
“تم اپنے باپ کے گھر پر ہو تم اسد شاہ کے گھر سے جس حال میں آئی ہو۔سب کچھ میرے سامنے ہے تم جب تک چاہو یہاں رہو ۔”
جھومر کو باپ کے سینے سے لگ کر سکون ملا ۔ زیب عالم نے منان اور میراں کو جھومر سے کچھ بھی پوچھنے سے منع کر دیا تھا۔
********
ناشتے کی ٹیبل پر کبیر اور جھومر دونوں موجود نہیں تھے۔ تاج کو اچنبھا ہوا۔
“دل آویز جھومر کہاں ہے ناشتے پر آئی نہیں “۔
تاج نے عام سے انداز میں دلاویز سے پوچھا ۔
“میں دیکھتی ہوں “۔
وہ جھومر کے بیڈ روم میں آئی دروازہ نوک کرتی رہی کوئی جواب نہ پا کر اندر آئی تھی ۔ کمبل منہ تک اوڑھے پڑی تھی دلاویز نے بے تکلفی سے کمبل ہٹایا کبیر کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اسے دیکھ کر شرمندہ سی ہوئی۔
“مما آپ دونوں کو ناشتے پر بلا رہی ہیں ۔”
کبیرشاہ ٹکر ٹکر اس کی شکل دیکھنے لگا ۔ اسے لگا جھومر ہے جب اس نے آپ کہا تو یاد آیا یہ دل آویز ہے پھر بھی یقین دہانی کے لئے پوچھا۔
“تم دل آویز ہو۔ “
“جی۔”
آپ جائیں کہتی وہ چلی گئی اب دلاویز کو سامنے دیکھنا بھی جی داری کا کام تھا۔ جھومر کے لیے اس نےکل ہی فون پر پتہ کر لیا تھا۔ میراں خالہ نے اس کی آمد کا بتا دیا تھا۔ اب یہاں مجھے یہ بم پھوڑنا ہوگا۔ وہ غصے میں اٹھا فریش ہو کر ٹیبل پر آیا ۔
“تمہاری بیوی کہاں ہے۔”
تاج نے سپاٹ انداز میں پوچھا ۔
“اپنے والدین کے گھر چلی گئی ہے “۔
کبیر لگی لپٹی کے بغیر بولا ۔
“پوچھ سکتی ہوں کیوں گئی ہے” ۔
“ضد کر رہی تھی کہ مجھے وہاں سے رخصت کروا کر لاو اور ونی بنا کر مت اپنے ساتھ رکھو ۔”
اسد شاہ مصلحتاً خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ تاج نے بھی زیادہ بات نہ کی اور دل آویز شمشیر کی طرف دیکھتی رہ گئی۔
رائمہ کی راز دار بہنوں جیسی بھابھی چلی گئی اس کے دل پر ایک بوجھ آن پڑا ۔ کبیر اتنا کبیدہ خاطر تھا کہ جھومر کے جانے کا اسے ذرا بھر بھی ملال نہ تھا ہر چیز سے جیسے دل ہی اٹھ گیا تھا۔
وہ تو دل آویز کو بھی سامنے دیکھ نہیں پا رہا تھا ۔ دن پر دن گزرتے چلے گئے جھومر نے شہری طرز میں ماں کا گھر سجا دیا تھا۔ آج بھی لان کے لیے ہدایت دیتے دیتے اسے شدید چکر آ گیا ۔ نوکرانی نے اسے سہارا نہ دیا ہوتا تو وہ گر جاتی۔ اماں اور منان اسے کلینک لے گئے۔
“آپ کو مبارک ہو آپ کی بیٹی ماں بننے والی ہے۔”
کچھ ضروری ہدایات لے کر وہ لوگ جھومر کو لے کر گھر آ گئے۔ اس موقع پر وہ بڑی حساس ہو رہی تھی ۔ وہ خاموش سی ہوگئی۔ لیکن میراں اور زیب عالم نے زرتار محل میں پیغام دے دیا اور وہاں سے کوئی بھی جواب ندارد تھا۔ تھوڑے دن بعد دلاویز آ گئی جھومر کے لئے پھولوں کا مہکتا گُلدستہ لائی تھی۔ بہت خوش تھی۔
“بھائی میں تو تم دونوں کا شکر گزار ہوں مجھے تم دونوں نے تایا بننے کی خوشخبری دی ہے”۔ شمشیر لہک لہک کر کہہ رہا تھا۔
“جھومر تم گھر چھوڑ کر کیوں آئی” ۔
دلاویز نے موقع ملتے ہی پوچھ لیا ۔
“یہ میرا اور کبیر کا معاملہ ہے ہمارے بیچ کوئی نہ آئے” ۔
جھومر نے صاف گوئی سے کہہ دیا ۔
“کبیرشاہ یوکے چلا گیا ہے” ۔
جھومر کے لیے یہ پریشان کن خبر تھی۔ وہ اس کا بچہ پیدا کرنے جا رہی تھی اور وہ ملک چھوڑ گیا تھا۔
“میری کبیر سے کوئی بات چیت نہیں ہے لیکن دل تم اس وقت تک یہ خبر پہنچا دینا ۔ “
“کیوں نہیں بھلا یہ چھپانے کی بات ہے”۔
میراں نے دونوں بیٹیوں کو ایک ساتھ راز و نیاز کرتے دیکھا تو خوشی سے مسکراتے ہوئے ایک ساتھ دونوں کو سینے سے لگایا ۔
اسد شاہ کو جھومر کا اپنے والدین کے گھر چلے جانا اور کبیر کا یوکے چلے جانا بے حد غلط لگ رہا تھا۔ انہوں نے سوچا انہیں زیب عالم کے گھر جانا چاہیئے۔ اگر وہ بیٹے سے پوچھتے تو وہ بھی کوئی سر پیر نہ پکڑاتا آخر کار سوچ بچار کر کے تاج سے بات کی۔
“میرے خیال میں ہمیں اپنی بہو کو مبارک باد دینا چاہئے۔
تاج کہ انداز عام سے تھے” ۔
“جی بالکل جانا چاہئے۔ “
تاج کہ انداز میں اس کی اپنی ذات سے جڑے مطلب مطالب تھے۔ اس لیے سیدھے سبھاؤ جواب دیا ۔
“دونوں کے درمیان کیا تنازع ہوا ہے کچھ سمجھ نہیں آ رہا میرا خیال ہے کہ ہمیں جھومر سے پوچھنا چاہیے “۔
“جی آپ درست کہہ رہے ہیں “۔
اسد شاہ نے چونک کر تاج کی طرف دیکھا اس کی فرمابرداری دیکھ کر ماتھا ٹھنک رہا تھا ۔
زیب عالم اور میراں نے بہت اچھے سے ان کا استقبال کیا رائمہ بھی آئی تھی بہت خوش تھی۔ منان کا پاؤں بھی زمین پر نہیں لگ رہا تھا ۔
جھومر کو تاج نے سینے سے یوں لگایا جیسے پھولوں پر رکھتی ہو۔ میراں بہت خوشی اور گرم جوشی سے ملی جب کہ تاج کا رویہ تھوڑا سا سرد تھا ۔ وہ زیادہ کھل کر میراں سے مل نہ سکیں ۔ جھومر نے دیکھا اماں اور خالا آپس میں بہت مماثلت رکھتی تھی ۔ بس اماں بہت فیشنیبل نہیں تھی اور تاج خالہ تو فیشن شو کی ممبر نظر آتی تھی۔
“زیب عالم میں شور ہوں کے بچوں کی آپس میں کوئی ناراضگی چل رہی ہے ۔ کبیر کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں آج کل یوکے کے میں ہے۔ “
“اسد میں اپنی بیٹی کو مجبور نہیں کر سکتا اور وہ بھی کچھ کہنے سننے کو تیار نہیں آپ پریشان نہ ہوں تھوڑا وقت گزرنے دیں اس عمر میں بچے ذرا جذباتی ہوتے ہیں ہماری جلد بازی سے کچھ غلط نہ ہو جائے ۔ “
زیب عالم گھمبیر انداز میں بولتے رہے اور تاج ان کے لبوں سے نکلتا ایک ایک لفظہ تبرخ کی طرح سنتی رہی۔ زیب عالم آج بھی اس کے دل کے اندر کسی گہرے راز کی طرح چھپے بیٹھے تھے۔ تاج کی کہانی عجیب عشق لا حاصل تھی۔ جتنی دیر وہ وہاں رہے بہت مطمئن اور خوش رہے۔ رائمہ موقع دیکھ کر منان کے پاس لاؤنج میں آ گئی۔ منان شوخی سے مسکرایا۔
“منان اپنے اماں بابا سے کہو تو سہی وہ میرا رشتہ مانگیں”۔
” مانگیں ضرور مانگیں گے رشتہ ابھی انتظار کرو جھومر اور کبیر بھائی کی صلح تو ہو جائے”۔
“ہاں یہ بھی بہت ضروری ہے تمہیں کوئی وجہ معلوم ہے کہ دونوں کیوں بچھڑے ہوئے ہیں “۔
“نہیں یہی تو پرابلم ہے گھر میں ہم سب میں سے کسی کو کچھ نہیں پتا۔ “
“تم اندر چلی جاؤ کوئی محسوس نہ کر لے کہ ہم دونوں خوش گپیوں میں مصروف ہیں”۔
منان بڑے روایتی ذہن کا مالک تھا رائمہ ناچاہتے ہوئے بھی سب کے درمیان آ گئی ۔ اسد شاہ مٹھائی کے ٹوکرے لائے اور کئ لاکھوں کا چیک بہو کے ہاتھ پر رکھ کر چلے گئے۔
*******
جھومر آج کل صرف خود پر توجہ دے رہی تھی اس کو کسی کی پرواہ نہیں تھی۔ کبیر کی بہن کا گھروندا بنانے نکلی تھی اپنا گھر ایک لہر کی نظر ہو گیا۔ ڈلیوری کے دن بے حد قریب تھے۔
“جھومر بیٹا تم خود ہی کبیر سے رابطہ کر لیتی”۔
میراں نے اسے سیب چھیل کر دیتے ہوئے کہا۔
“اماں اگر ایک بھی فیصد کچھ کچھ مائینس پلس کرکے نکلتا ہوتا۔ تو میں کبیر شاہ سے فون پر بات کر لیتی لیکن اماں اس نے کچھ بچایا ہی نہیں اور اگر میں خود سے ایک لفظ بھی زبان سے نکالو تو بہت بڑی گناہ گار ہو جاؤ گی اور یہ بھی گارنٹی نہیں کہ میری ذات کی بے گناہی ثابت بھی ہوتی ہے یا نہیں سب کچھ ﷲ پر چھوڑ دیں پریشان مت ہوا کریں۔”
میراں معاملے کی نزاکت کو سمجھ گئی تھی ۔
چند دن بہت جھومر نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔ سب نے بہت خوشیاں منائیں۔ کبیر کو اسکی تصویریں سینڈ کیں۔ اسے بچے کے نقش اپنے جیسے محسوس ہوۓ بڑی اداسی سے موبائل کی سکرین لبوں سے لگائی۔
*******
سب نے بہت سمجھایا بہت کہا لیکن وہ پاکستان نہ آیا اسے انتظار تھا کہ جھومر کا ایسا فون آئے کہ وہ میری منتیں کرے لیکن جھومر ایسا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
کبیر شاہ تنہا وہاں کی خاک تھا۔آج کل جھومر بے طرح یاد آ رہی تھی۔ اسے کبھی کبھی پچھتاوا ہوتا وہ جھومر کی زبانی سن تو لیتا کے وہ واثق سے ملنے کیوں گئی تھی ۔ اسے باد صبا میں جھومر ہنستی ہوئی نظر آتی ۔ کبھی سرد شاموں میں وہ اسے اپنے جلوے دکھاتی۔ وہ اگر کبھی فون کرتا تو کاٹ دیتی تھی اور وہ واثق سے ملتی ہوں گی یہ بات خود سے ہی اخذ کر کے اپنے اندر ایک طوفان آگے بڑھ کر لیتا ۔ بہت دفعہ تاریکیوں میں بیٹھا آنسو بہاتا اس نے بڑی مشکل خود کو واپس سیٹلڈ کیا تھا۔۔
********
کبیر کا بیٹا پروان چڑھنے لگا نانا نانی کی آنکھوں کا تارا اور خالہ ماموں کی جان تھا ۔ جھومر کو جہان کبیر کی یاد آنے لگتی احمد بانہیں اٹھا کر اس کی طرف حمکنے لگتا ۔ کبیر شاہ کی ویڈیو کال آتی تو کیمر میں وہ اپنی شکل نہ دکھاتی اس کے بیٹے کے ہاتھ فون دیتی وہ غوں غاں کی آوازیں نکالتا اور دوسری طرف کبیر شاہ واری صدقے جاتا ۔
بابا کی جان ہے میرا گولو مٹولو کتنا پیارا بےبی ہے وغیرہ وغیرہ۔ کبیر شاہ اپنے بیٹے سے پیار تو کرتا تھا اس کے وجود کو تسلیم تو کرتا ہے ورنہ اس جیسا شخص مجھ پر کوئی گھٹیا الزام لگا دیتا تو میں کیا کرتی وہ اندر ہی اندر دکھی ہوتی۔
وقت کی لگامیں کون پکڑ سکا ہے۔ وقت سرکنے لگا ۔ کبیر شاہ کو گئے ساڑے چار سال ہو گئے تھے اور اس کا بیٹا ساڑھے تین سال کا ہو گیا تھا۔
اب تو کبیر شاہ سے وہ باتیں کرتا۔
“بابا آپ کا بیٹا ہوں مما کا بیٹا ہوں آپ یہاں کب آئیں گے آپ سے ملنا ہے”۔
کبیر شاہ فون پر اپنے بیٹے سے گھنٹوں باتیں کیا کرتا۔ بس ایسی ہی لگی بندھی زندگی گزر رہی تھی۔ جھومر کبھی بھی کبیر شاہ کے ہاتھوں اپنی تذلیل بھول نہ سکی تھی ۔ کبیر کے گھٹیا الفاظ سیسے کی طرح کانوں میں پگھلتے تھے۔
