Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 04)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 04)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
چند ماہ میں تاج نے ایک گول مٹول بے حد پیارے بچے کو جنم دیا تھا۔ سارے خاندان میں خوخوشیوں کے شادیانے بج اٹھے۔ اب کے بچوں کے زین ماموں بھی پاکستان میں تھے۔
اسد شاہ خوشیوں سے مالا مال ہوگیا تھا تاج نے ان کو بہت خوشیاں دی تھیں۔
******
اور دوسری طرف میراں ابھی خالی گود بیٹھی زندگی گزار رہی تھی۔
سال بھر ہونے کو آیا ہے کوئی خوشخبری نہیں ہے اماں جی نےبیٹے کو آلیا۔
اماں جی یہ سب تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔
اماں جی بڑی نحوت سے بولیں۔
جو بھی ہے زیب عالم ہمیں پوتے کا منہ دیکھنا ہےیا تو اسی سال ﷲ کی رحمت ہو جاۓ ورنہ میں زیادہ انتظار نہیں کروں گی۔
کیا مطلب اماں جی۔
مطلب یہ کے تم بچے نہیں ہو زیب عالم میں تمہاری شادی کرنا چاہتی ہوں اپنی پسند اور مرضی سے۔
زیب عالم ماں کی ہٹ دھرمی پر مسکراۓ۔
اماں جی آپ ﷲ پر یقین رکھیں انشاﷲ کوئی خوشخبری ضرور ملے گی۔ اس طرح ہتھیلی پر سرسوں نہ جمائیں۔
بیٹا مجھے سبق نہ پڑھاو یا مجھے پوتا دے دو یا شادی کر لو۔ بس یہی میرا فیصلہ ہے۔
زیب عالم خاموش رہ گے۔
برآمدے کے ستوں کے ساتھ ٹیک لگاۓ میراں دنیا و مافیہا سے بےگانی کھڑی تھی۔ جب زیب عالم نے اس کی کمر میں اپنا بازو حمائل کیا۔
میراں تھوڑا چونکی۔
میری جان کن سوچوں میں گم رہتی ہو؟
آپ کی سوچوں میں گم رہتی ہوں۔
جھوٹ سراسر جھوٹ۔
ﷲ آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں۔
اعتماد تو ہے مگر تم مجھے نہیں سوچ رہی تھی یہ میں اعتماد سے کہہ سکتا ہوں۔
جی نہیں آپ کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ۔
میراں خفا ہونے لگی۔
سنا ہے تاج ماں بن گی ہے ﷲ نے اسکو بڑا پیارا بیٹا دیا ہے۔
تمہیں کس نے بتایا۔
نوراں مائی بتا رہی تھی۔
نوراں مائی کو کس نے بتایا۔
نوراں مائی کی بیٹیاں ہماری حویلی میں کام کرتی ہیں انھوں نے بتایا اور یوں بھی تاج نے نوراں مائی کو بہت سے کپڑے اور پیسے دینے تھے اس لیے نوراں مائی تاج کی حویلی گی تھی۔
میراں نوراں مائی کا تاج سے رابطے میں رہنا ٹھیک نہیں ہے۔
کیوں۔
میراں کا معصوم ذہن سمجھ نہیں پایا۔
زیب عالم کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔
اس طرح اس گھر کے راز گھر سے باہر بھی جاسکتے ہیں۔
میں نوراں مائی کو منع کردوں گی ۔ مگر وہ اپنی بیٹیوں سے ملنا تو نہیں چھوڑ سکتی۔
زیب عالم نے کوئی جواب نہ دیا۔
******
ابھی نومولود تین ماہ کا نہیں ہوا تھا تاج کا پھر پاوں بھاری ہوگیا گھر بھر ویسے ہی تاج پر سایہ بن گیا۔ تاج کی خوراک کا پورا پورا خیال رکھا جاتا۔ جلد ہی تاج نے حویلی کو کبیر شاہ کی نوید سنائی۔ ننھے فرشتے حویلی میں اترے تو پوری حویلی میں رونق اتر آئی۔
دوسری طرف میراں پر زندگی تنگ ہونےلگی۔ اب عموماً مہینے میں ایک دو بار اماں جی میراں کو اپنے کمرے میں بلواتی اور خوب بے نقط سناتیں اور اس سے پوچھتی میرے بیٹے کا پیچھا کیسے چھوڑو گی۔ کب تمہیں دفعہ ہونا ہے۔ میراں بڑی مجبور اور دکھی ہوجاتی ایک زیب عالم کی محبت تھی جو اسے جکڑے ہوئے تھی۔ زیب عالم پہلے دن کی دلہن کی طرح ورفتہ رہتے۔ میراں کے بتانے پر کے اماں جی کیا کہتی ہیں۔ وہ ایک کان سے سنتے اور دوسرے کان سے نکال دیتے۔ میراں سب کچھ برداشت کرتی رہی لیکن اسے یونہی لگتا جیسے کوئی بھی گھڑی اس کی اس گھر میں آخری گھڑی ہو۔
زیب عالم نے بہت بار اماں جی کو سمجھایا لیکن وہ تو جیسے ٹھان کے بیٹھی تھیں۔ بہر حال زیب عالم ثابت قدم رہے۔ آخر کار اپنے ابا جان سے بات کرنے کےلیے تیار ہوگے۔
اباجان آپ اماں جان کو سمجھائیں ہر وقت دوسری شادی کا تذکرہ کرتی رہتی ہیں۔
ہاں برخردار ماوں کے بڑے شوق اور بڑے ارمان ہوتے ہیں تمہاری شادی جن حالات میں ہوئی ہے وہ تمہیں بھی پتا ہے کوئی شوق کوئی ارمان ان کا پورا نہیں ہوااور اب خیر سے دو سال کا عرصہ ہوگیا ہے۔ کوئی اگلی صورتحال بھی سامنے نہیں آرہی تو پھر کچھ سوچنا تو پڑے گا ۔
اباجان ﷲ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے یہ تو ویسے بھی کفر ہے۔
بیٹا جی آپ مجھے سبق مت پڑھائیں ہم سب جانتے ہیں۔
ابا جی آپ محبوب عالم کی شادی کر دیں اماں جی کے شوق اور ارمان بھی پورے ہوجائیں گے۔
شاجہان ہنس دیے۔
اچھا اپنی جان بچانے کا بڑا اچھا حل ڈھونڈا ہے چلو تمہاری خاطر تمہاری ماں کی توجہ میں بٹا دیتا ہوں۔ مگر تم اپنی بیوی کا ڈاکڑی معائینہ کرواو اور تاخیر ہوگی تو میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکوں گا۔
شکریہ اباجان شکریہ۔
زیب عالم جان بچ جانے پر شکرہ کرتے ہوئے اپنے پورشن کی طرف آگے۔
دو سال مزید گزر گے جب سے تاج کا دوسرا بیٹا ہوا تھا نوراں کا تاج کی حویلی میں آنا جانا بڑھ گیا تھا۔ میراں کے گھر انے کی ہر بات تاج کے علم میں تھی۔ میراں کی زندگی کتنی حقیرانہ انداز میں گزر رہی تھی تاج ایک ایک راز سے واقف تھی۔ نوراں مائی کے چھے بچے تھے۔ اور تاج اسکی بڑے پیمانے پر مدد کرتی تو بدلے میں نوراں مائی کا کیا جاتا تھا ادھر کی باتیں ادھر ہی تو آکر بتانی تھیں اور ویسے بھی تاج اور میراں سگی بہنیں ہی تو تھیں۔ میراں نوراں مائی کا تاج کی حویلی جانا برا سمجھتی تھی اس لیے نوراں مائی میراں کو بتاتی ہی نہیں تھی۔
یوں وہ آرام سے اپنا کام کرتی رہی۔ میراں کی بے کل زندگی کے بارے میں سن کر تاج کو ایک گونہ خوشی اور مسرت کا احساس ہوتا۔ اسی احساس کے زیر اثر اپنی زندگی کو رنگین بناۓ ہوۓ تھی۔
آخری کار ﷲ کے حکم سے میراں کا پاوں بھی بھاری ہوگیا۔ پورے چارسال بعد یہ نوید مسرت سننے کو ملی۔ تو جیسے اماں جی پر گھڑوں پڑگیا۔ جو ان کے دل تھا وہ ان کے دل میں ہی رہ گیا۔ میراں جڑواں بچیوں کی ماں بننے والی تھی۔ تاج نماز پڑھ پر جاۓ نماز طے لگا رہی تھی جب نوراں مائی نے اسے یہ خبر سنائی۔ تاج کا کلیجہ جل کر رہ گیا۔
بے اولاد ہی رہتی تو اچھا تھا ۔تاحیات کانٹوں پر چلتی تو بھی میری روح کو قرار نہ آتا۔
تاج دل ہی دل میں بہت کچھ سوچ کر محفوظ کر چکی تھی۔
ارے(اوندی ساس فیر وی استوں قربان نہیں ہوندی) اسکی ساس پھر بھی اس پر قربان نہیں ہوتی۔
وہ دن بھی آگیا۔ جب شہر کے بڑے ہوسپٹل میں میراں نے دو جڑواں لڑکیوں کو جنم دیا۔ اور دونوں بچیاں نرسری روم میں بھیجی گی تھی۔ پانچ منٹ بعد بچوں کی ڈاکڑ نرسری میں آئیں تو ایک بچی موجود تھی دوسری کہاں تھیسرمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرمد ۔
وہ وارڈ بوائے کو آوازیں دینے لگیں۔
جی میڈم۔
ایک بچی یہاں موجود ہے دیکھو دوسری بچی لواحقین کے پاس ہے لے آو۔
وارڈ بوائے انھیں پیروں پر واپس آیا۔
میڈم دوسری بچی ان کے پاس نہیں ہے۔
وارڈ بوائے گھبرایا ہوا تھا ۔
کیوں نہیں ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ سرمد پوری ذمہ داری سے دیکھو نرس سے پوچھو۔
نرس بھی لا علم تھی۔
نرس دو منٹ پہلے بچیاں خود اپنے ہاتھوں سے کاٹ میں لٹا کر گی تھی۔ جیسے ہی ڈاکٹر صبا نرسری میں آنے لگیں تو نرس سینر ڈاکڑ کی ہدایت سننے کے لیے وہیں کھڑی ہوگی۔
ڈاکٹر صبا نرسری میں آئی تو ایک بچی کا نام ونشان نہیں تھا۔ زیب عالم نے زمین آسمان ایک کردیا تھا پورے ہسپتال میں کھلبلی مچ گی ۔ ہسپتال کے اندر لیکر باہر گردونواں تک ڈھونڈیا مچ گی مگر ندارد بچی کو نہیں ملنا تھا نہیں ملی۔
ہسپتال کا عملہ سخت پریشان تھا۔ اس طرح پہلی بار ہوا تھا آج سے پہلے کبھی کوئی بچہ نہیں گما تھا۔ ہسپتال کا ہر فرد آن ڈیوٹی تھا کسی پر شک کی گنجائش نہ نکل سکی۔
زیب عالم اور شاجہان ایڑی چوٹی کا زور لگا چکے مگر وہ ننھی پری کہیں سے نہ ملی کسی نے بھی ابھی اس کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ میراں کو بار بار بے ہوشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ دوسری بچی کو سخت نگہداشت میں رکھا گیا۔ ہر کوشش بے سود ثابت ہوئی۔
میراں دو کی بجائے ایک بچی گود میں لیے اپنے گھر آئی۔ اماں جی نے کہا
بہو رانی تم منحوس ہو پہلے تو اتنی تاخیر سے ماں بنی اور اگر ماں بن گی تو ادھوری دو بچوں کی ماں ایک بچہ گوا دیا۔ اب روتی رہو نصیبوں کو تمہیں ﷲ نے تمہارے کیے کی سزا دی ہے۔ ہاتھ ملتی رہو تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا نصیب کا لکھا سمجھ کر قبول کرو۔
ساس صاحبہ نے اولاد کی پیدائش پر لفظوں کا یہ تحفہ نوازا اور اٹھ کر چلی گی۔
میراں اپنی دوسری بچی کے لیے اللہ سے دعا گو رہتی اور جو اس کی گود میں تھی اسے سینے سے لگا کر پالنے لگی۔ میراں بہت بدل گی تھی۔ اسنے بچے کے ساتھ اپنا دل لگا لیا تھا۔ زیب عالم بھی ﷲ کی مرضی کے آگے سر نگوں ہوگے بے بس تھے کچھ بھی کر سکے۔
*****
تاج بہت شاد آباد تھی بہت دنوں سے اسد شاہ سے گزارش کر رہی تھی کہ اسے شہر لے جائیں وہ حویلی نہیں رہ سکتی۔ وہ اپنی زندگی میں جدت اور چینج چاہتی ہے۔ اپنے بچوں کو مختلف ماحول دینا چاہتی ہے۔ در حقیقت وہ مراد شاہ سے بہت تنگ تھی۔ اسد شاہ کا زیادہ وقت شہر گزرتا تھا۔ سیاست میں دلچسپی بہت تھی ۔ شہر اپنے علاقے کے ایم این اے تھے۔ شہر میں رہائشی کچھ ایسی مشکل بھی نہیں تھی اماں ابا جان سے مشورہ کر کے وہ شہر میں ماڈل ٹاؤن میں زرتار ہاوس میں آبسے۔ بچے ابھی چھوٹے تھے۔
مگر وہ تاج کی ضد کے آگے مجبور تھے۔ تاج روایتی ماحول سے نکل کر پر سکون محسوس کرنے لگی۔ اب مسئلہ تھا کے بچوں کی نگرانی کیسے ہو تاج کے بس والی بات نہیں تھی۔ اسد شاہ نے ایک پڑھی لکھی آیا کا انتظام کر دیا۔ آیا نے آتے ہی ہولڈ سنبھال لیا۔ وہ بچوں سے انگریزی میں بات کرتی۔ اس کا ماڈرن سٹائل تاج کو اٹریکشن دیتا۔
سارا گھر نوکرور کے رحم و کرم پر تھا۔ تاج بہت کمفٹ محسوس کرنے لگی۔ اسد شاہ تو بڑا معروف آدمی تھا۔ ہاں جب گاوں میں ہوتے تو مکمل طور پر اس کے ہوتے۔ ظاہر سی بات ہے مصروفیت شہر میں چھوڑ جاتے۔ پھر تاج نے اپنے آپ کا شہر کی عورتوں سے موازنہ کرنے شروع کیا۔ اسے اپنا آپ بڑا پرانا سا محسوس ہونے لگا۔ وہ گھر میں بور ہونے لگی۔ اس نے دل کی باتیں اسد شاہ سے کہہ دیں تو وہ بہت ہنسے۔
بھئ بیگم صاحبہ آپ بیوٹی پارلر جاسکتی ہیں۔ آپ اپنی پسند سے ہر طرح سے اپنی مرضی کے طور طریقے اپنا سکتی ہیں آپ کو کس نے روکا ہے یہ آپ کا گھر ہے آپ کی مرضی ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔
تاج کا تو پاوں زمین پر نہیں ٹک رہا تھا۔ آہستہ آہستہ اپنی جھجھک ختم کرنے لگیں بیوٹی پارلر گئ۔ آئی بروز کو خم بنا دیا بہترین فیشل دیا مینی کیور پیڈی کیور لمبے بالوں کا خوبصورت ہیر کٹ کیا بلو ڈرائی کر کے خوبصورت ہیر سٹال کے ساتھ تاج تو کسی اور ہی دنیا کی لگنے لگیں۔ وہ حیران تھی کے اب تک وہ کہاں تھی۔ لیکن ہمیشہ کی طرح وہ بظاہر ذرا بھی انسپائر نظر نہ آئیں۔ کاونٹر پیمنٹ کرنے کے بعد گھر آئیں۔ تو لاونج میں شاہ مراد کو بیٹھے دیکھ کر بڑی بدمزہ ہوئیں۔ مراد شاہ ان کے حسن میں کھو ہی گیا۔ تاج اس کے قریب سے گزرنیں لگیں تو اس نے بڑھ کر تاج کی کلائی پکڑلی۔
کیا بدتمیزی ہے چھوڑیں ہمارا ہاتھ۔
مراد شاہ نے ایک جھٹکے سے تاج کو اپنے قریب کیا وہ ان کے سینے سے آلگی۔
خود کو کیا سمجھتی ہو ہاں تمہارے بارے میں کیا نہیں جانتا میں۔ تمہارے بارے میں یہ نہیں جانتا کہ تم زیب عالم سے محبت کرتی ہو۔ اور یہ نہیں جانتا کہ نوراں مائی کے ذریعے تم میراں کے گھر کی ایک ایک خبر رکھتی ہو۔ اور یہ کہ تمہاری منگنی زیب عالم سے ہوگی تھی مگر تمہاری بہن تمہاری جگہ رخصت ہو کر چلی گی یہ باتیں کیسے چھپی رہ سکتی ہیں؟ بولو.۔ اور سب سے بڑا راز یہ کہ نوراں مائی کی مدد سے تم نے زیب عالم کی دوسری بچی غائب کروادیا دن ڈھاڑے ہو سپٹل سے فارغ ہاں بولو کیا کیا نہیں جانتا میں۔ بتاو۔ ہاں نہیں جانتا تو اسد شاہ کچھ نہیں جانتا اس حسین و جمیل بیوی نے اس کی مت مار دی ہے۔
تاج کے پیروں سے زمین نکل گی۔ اور سر سے آسمان وہ حیران ششدر رہ گی کہ میری زندگی کے اہم راز مراد شاہ کو کیسے پتہ چلے۔
اب۔۔۔۔۔۔ اب تم کیا چاہتے ہو۔
سلام عشق میری جاں ذرا قبول کر لو
میرا دل بے چین ہے ہمسفر کے لئے
مراہ شاہ نے گنگنا کر مدعا بیان کیا۔ تاج صاحبہ ایک اور عاشق کا اضافہ ہوگیا ہے۔
مراد شاہ تم کیا کہہ رہے ہو۔
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں ابھی پروگرام کے بغیر آیا ہوں مگر اگلی دفعہ پروگرام کے مطابق ملیں گے نہ۔۔۔۔۔۔
نہیں مراد شاہ یہ غلط ہے۔
بس کردو تاج بہت کچھ غلط ہوتا ہے مگر ہمیں کرنا پڑتا ہے جیسے کہ میراں کی۔۔۔۔۔۔
مراد شاہ ہمیں پھر کب ملنا ہوگا۔
لوہے پر چوٹ پڑتے ہی مراد شاہ کا رنگ خوشی سے لال ہوگیا۔
بتادیں گے اتنی جلدی بھی کیا ہے۔
مراد شاہ اسے ہاتھ ہلاتے زن سے گاڑی لے اڑے۔
تاج غصے سے پھنکارتی اپنے بیڈروم میں آگی۔شاہ سے نمنٹنا ہم اچھے سا جانتے ہیں سمجھتا کیا ہے خود کو۔
******
ابتہاج زیدی مشہور بزنس مین ہونے کے ساتھ اچھے شوہر بھی ہیں۔ حنا ان کی پیاری بیوی تھی جو ان سے بہت پیار کرتی تھی بہت کرتی تھی پچھلے سات سالوں سے دونوں ایک ساتھ تھے۔ دونوں کی اولاد نہیں تھی۔ کبھی کبھی دونوں اس بات سے اداس ہوجاتے ۔
ابتہاج ہمارے اس خوبصورت گھر میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے صرف ایک چیز کی کمی ہے۔
اچھا جلدی سے کھانا لگاو اور جو کمی ہے اسکے بارے میں میں ابھی کوئی بات کرنے والا نہیں ۔
ابتہاج نے ہری جھنڈی دکھائی۔
حد ہوتی ہے ابتہاج۔
وہ دھپ دھپ پاوں زمین پر مارتی کھانا لگانے چلی گی۔
دونوں نے اپنی زندگیوں کو آپس میں پر رونق بنایا ہوا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو اولاد کی کمی محسوس نہ ہونے دیتے۔
ابھی وہ کھانے کے دوران ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ ہی کر رہے تھے کہ ابتہاج کی بہن کا فون آگیا۔
جی آپی ٹھیک ہوں۔ آپ سنائیں۔
میں بھی ٹھیک، تم رات کو ابتہاج کے ساتھ میری طرف آ جانا ایک ضروری بات بھی کرنی ہے اور اکھٹے ڈنر بھی کریں گے۔
اوکے آپی بائے۔
کہہ کر حنا نے فون رکھ دیا۔
ہاں کس کا فون تھا۔
آپی کا فون تھا ہمیں ڈنر پر انوائٹ کیا ہے اور آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔
کیا بات کرنی ہے۔
یہ تو جا کر پتہ چلے گا۔
رات کے کھانے پر وہ آپی کی طرف بیٹھے تھے آپی بھی بہت خوش تھیں ۔
بھئی بغیر لگی لپٹی کے میں تم لوگوں سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں میری دوست عبیرہ ہے نہ اس کے ادارے میں ایک نومولود بچی آئی ہے جو بالکل بے سہارا ہے۔ اگر تم لوگ اڈاپٹ کرنا چاہو تو بات کروں۔
تھوڑی سی پس پشت کے بعد ابتہاج اور حنا مان گئے آپی بھی خوش ہو گئی اور وہ دونوں بھی اگلے دن بچی کو لے کر آپی ابتہاج کے گھر گی چلی گئی۔
ارے آپی اتنی جلدی بچی کو لے آئیں اور کوئی کوائف وغیرہ بھرنا یا کچھ پیپر وغیرہ
ارے نہیں بات یہ ہے کہ یہ گھر والی بات ہے اور ضروری معلومات میں نے لے لی ہیں اور اڈوپشن پیپر بھی سائن کر دیے ہیں۔
دیکھو کتن پیاری بچی ہے۔
مگر حنا یہ بہت چھوٹی ہے تمہیں اس کا بہت خیال رکھنا ہوگا آپی نے اپنے بیگ میں سے نکال کر کچھ چیزیں ان کو دکھائیں یہ دیکھو یہ والا دودھ ابھی دو ماہ تک پیلانا ہے پھر کسی ڈاکٹر سے مشورہ کرکے منتخب کریں گے اور یہ پیمپر ڈائپرز ہیں تو گود میں لو اب یہ تمہاری ہوئی۔
حنا کو یوں لگا جیسے کسی بڑے نے اسے گڑیا ہی لاکر دے دیں ہو لو اپنا کھلونا اب تم کھیلو۔
حنا ایک نئے تجربے سے گزرنے لگی وہ دونوں سچ مچ اپنے آپ کو نئی بچی کے ماں باپ سمجھنے لگے پہلے گڑیا اور منی کر کے بلانے لگے اور پھر دل آویز نام تجویز کردیا اب دل آویز ان کے ہاتھوں میں پرورش پانے لگی دل آویز دونوں کی ہتھیلیوں کا چھالا بن کر رہ گئی۔
*******
دوسری طرف میراں نے اپنی دوسری بیٹی کا نام جھوم رکھا ہمیشہ ماتھے پر سجا رہے ۔ رفتہ رفتہ دوسری بچی کی یادوں دی میں گم ہونے لگی تھی مگر جھومر اپنی پیاری پیاری حرکتوں سے سب
کچھ بھلا دیتی مگر میراں کی حیثیت وہی رہی اپنے ماں باپ کی شکلیں دیکھیں عرصہ بیت گیا تھا اپنا گھر اپنی بہن سب خواب سا لگتا زیب عالم بھی بیوی اور بچی کی محبت میں کھو جاتے اماں جی کی باتوں کی بالکل پروا نہ کرتے میراں کی چھوٹی سی دنیا بس گئی تھی وہ بھی اس دنیا میں محو ہونے لگی اور کچھ عرصے بعد ایک بیٹے کی ماں بھی بن گئی۔
*******
تاج مراد شاہ بات کر رہا ہوں۔
ہوں بولو۔
آج شام ڈنر میرے ساتھ کرو گی ۔
آواز میں کتنی لگاوٹ تھی کہ تاج کو جھرجھری آ گئی۔
مراد شاہ شاہ آج ہم مصروف ہیں۔
ٹھیک ہے پھر دن تم ڈیسائڈ کر کے مجھے بتا دو۔
(کس مصیت میں پڑ گے ہیں ہم)
دو دن بعد۔
نہیں دو دن میں بھائی اسد آجائیگا۔
تاج زچ ہوگی۔
بتاو ہمیں کہاں آنا ہے۔
میں تمہیں تمہارے گھر سے پک کر لوں گا۔
تاج نے نحوت سے فون پھینک دیا۔
مراد شاہ کو تاج کی یہ حرکت ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔
اگلی شام سیاہ ڈریس زیب تن کیا خوبصورت بالوں کو کھلا چھوڑ دیا خوبصورت آویزے کانوں میں سجائے میک اپ کیا گڑیا سی لگنے لگی مراد شاہراہ مصیبت کا انتظار کرنے لگی ۔
چھ بجے گیٹ پر ہارن ہوا تو تاج ڈھیٹ بن کر اپنی جگہ پر جمی رہی آخرکار مراد شاہ اندر آ گیا تاج نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ بڑی جلدی میں باہر آ رہی تھی مراد شاہ اس کی سج دھج دیکھ کر لوٹ ہی تو گیا تاج اپنی آن بان سمیٹ کر فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی۔
مراد شاہ تم جانتے ہو ہم تمہاری بھاوج ہیں۔
ساری بدل گئی ہو لب و لہجہ نہیں بدلا اور انھیں اداؤں پر ہم مر مٹے ہیں ۔
مرادشاہ ہمیں پریشان نہ کرو ہم ایسا ویسا کوئی تعلق یا سلسلہ تم سے شروع نہیں کر سکتے۔
پلیز تاج مجھے اکساو مت کے میں تمہاری اصلیت بھائی کو بتا کر تمہیں واپس گاوں پھنکوا دوں۔
اب تاج اندر ہی اندر کانپ گئی۔
تھوڑی دیر وہ لونگ ڈرائیو پر رہے تاج خاموش اور سنجیدہ ہی رہی پھر کسی اچھے ریسٹورنٹ میں پرتکلف ڈنر ہوا مراد شاہ کو بھی کوئی اتنی جلدی نہیں تھی وہ بھی وقت کے انتظار میں تھا تاج کی بار عب شخصیت کا سحر اس پر اپنا وار چلاتا رہا ہاں وہ اس سے بے حد متاثر تھا ۔تاج آہستہ آہستہ کھانا کھاتی رہی مرادشاہ اپنی آنکھوں کی پیاس بجھاتا رہا۔
ہوگیا ڈنر چلیں۔
تاج نے ہینڈ بیگ اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
تاج آپ اتنی سیدھی ہیں یا مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے ۔
آپ بے وقوف نہیں ہیں یہ تو ہم نے طے کر لیا ہے باقی ہم کتنے کے ہیں یہ آپ کو پتا چل چکا ہے۔اب چلیں۔
چلیں۔
مراد شاہ اس کی قربت میں رہی فلحال غنیمت جاننے لگا۔ وہ بہت مضبوط شخصیت کی حامل تھی تھی اس کو ہلانا اتنا آسان نہیں تھا۔ وہ گھر کے گیٹ کے آگے اترنے لگی تو مرادشاہ نے اسکا مومی ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ تاج کو بے حد غصہ آیا۔مگر ضبط کرتے ہوئے اعتراض کیا۔
مراد شاہ اپنی حد میں رہیے ہمارا ہاتھ چھوڑیں۔
مراد شاہ نے آہستگی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔
پھر وہ شاپنگ کے لئے بلاتا وہ چلی جاتی مگر یوں لیے دیے انداز اپنائیے رکھتی۔ ڈنر پر بلاتا تو بھی چلی جاتی تھی۔
