Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 12)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

جھومر نے کبیر کے کمرے سے جاتے ہیں دروازہ لوک کیا اور اللہ کا شکر کیا سر سے ٹل گیا ۔ جلدی جلدی ساری شاپنگ دیکھی شاپنگ میں کچھ ایسی چیزیں بھی تھی کہ جھومر کو ٹوٹ کر شرم آئی۔ اس نے تمام چیزیں بیگز سے نکال کر الماری میں رکھ دیں۔ کاسمیٹکس ڈریسنگ پر سجا دیا اور کبیر کے دکھاۓ سوٹ کو ہینگ کر دیا اور بلیک ائمبراڈری والا سوٹ نہا کر زیب تن کیا ۔

کبیرشاہ نے اسے حیران کر دیا تھا خوبصورت نازک کیجول میچنگ جیولری بھی خرید کر لایا تھا۔ بہت دنوں بعد کسی اچھے ڈریس کو پہن کر آئینہ دیکھا تو خود کو سراہنے لگی۔

******#

کبیر شاہ اپنے آفس میں بہت دلجمعی سے کام کر رہا تھا اسد نے بیٹے کو ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھا اور جھومر کو اپنے پاس اسٹڈی روم میں بلایا ۔ وہ پہلی بار اسد شاہ کے سامنے آئی تھی بہت شاندار پرسنیلٹی کے مالک تھے۔ جھومر کو پر شفقت انداز میں ملے۔

“بیٹا آپ کے والد صاحب لاہور آئے ہوئے ہیں۔”

جھومر کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے ہی رہ گیا۔

“آپ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں آج شام آپ تیار رہیے گا میں ملاقات کروا دوں گا”۔ اسد شاہ نے بہت سی باتیں پوشیدہ رکھیں۔

شام کو وہ ایک خوبصورت سے اپارٹمنٹ کے لاؤنج میں بیٹھی تھی۔ وہ شدید بے چین تھی کہ میرے بابا آجائیں تو ان کے سینے سے لگ کر سارا غم دور کر دوں۔ پندرہ منٹ بعد زیب عالم بیرونی دروازے سے اندر آئے ۔ جھومر کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ بابا جان اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس سے پہلے کے وہ دوڑ کر بابا جان کے گلے لگتی حیررت ناک واقع ہوا کہ ایک لڑکی جو اس کی ہم شکل سامنے کے دروازے سے باہر آئی اور بھاگ کر بابا کے سینے سے جا لگی۔ جھومر کے اعصاب نے ساتھ چھوڑ دیا وہ سٹریس لے کر تھک چکی تھی۔ وہیں صوفے پر بے ہوش ہو کر گر گئی۔

“بابا آپ میرے بابا ہیں” ۔

وہ بابا کے گلے لگی تڑپ رہی تھی اسد شاہ نے بھی کمال کر دیا ۔جھومر اور دلاویز کو ایک جگہ بابا سے ملوا دیا ۔ مگر یہ نہ بتایا کہ جھومر کی بہن دلآویز ہے یا دل اویز کو بتا دیتے کہ جھومر تمہاری بہن ہے۔ زیب عالم نے دوسری لڑکی کو صوفے پر گرتے دیکھا تو کہنے لگے۔

“جھومر بیٹا دل آویز بیہوش ہو گئی ہے اسے دیکھو۔ “

دل آویز نے اپنا نام جھومر سنا تو رونا بھول کر زیب عالم کو تکنے لگی۔

“بیٹا ادھر صوفے پر دلآویز کی گر گی ہے۔ “

تو دل آویز نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے صوفے کی جانب دیکھا سچ میں کوئی لڑکی تھی۔ اس کی جانب بڑھی اور اب باری تھی کہ دل آویز بے ہوش ہو جاتی جبکہ ایسا نہ ہوا۔ وہ حیران سی کبھی اپنی ہم شکل لڑکی کو دیکھتی اور کبھی زیب عالم کو دیکھتی۔ زیب عالم بھی سٹپٹا گئے ۔ بے ساختہ دلاویز کو جھومر سمجھ کر ہلانے لگے۔

“بیٹا اٹھو آنکھیں کھولو”۔

دلاویز جلدی سے پانی لیکر آئی۔اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔

“بابا آپ آگئے” ۔

وہ ان کے سینے سے لگی رونے لگی۔

“دل آویز میری بیٹی میری پیاری بیٹی۔ “

دلاویز حیران ہوئی پھر کچھ سمجھتے ہوئے بولی۔

“میری بات سنیں میں دلآویز ہوں۔ “

اس نے اپنی طرف انگلی کرتے ہوئے واضح کیا۔بابا نے دلاویز کو ایک نظر دیکھا پھر اپنے ساتھ بیٹھی جھومر کو دیکھا۔ جھومر حیران پریشان دلاویز کو دیکھ رہی تھی۔

“میں میں تمہاری بہن ہوں دلاویز”۔

جھومر نے بغیر پلکیں جھپکے بابا کی طرف دیکھا۔

“اہ اچھا آپ دلاویز ہو”۔

بابا نے اپنے بازو وا کر دیئے۔

عجیب مضحکہ خیز سا سین تیار ہوگیا ۔

“جھومر یہ تمہاری بہن دل آویز ہے “۔

بابا کا کہنا تھا کہ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے دونوں ہنس باولی ہوئی جا رہی تھی۔

“بابا یہ آپ کو کہاں سے ملی۔”

جھومر کا اگلا سوال تھا ۔

“یہ ایک لمبی کہانی ہے پھر سناؤں گا پہلے مجھے اپنی دونوں بیٹیوں کو دل بھر کے دیکھ لینے دو۔”

اسد شاہ نے شمشیر کو بھی آفس میں بزی رکھا ہوا تھا۔ وہ چاہتے تھے تینوں باپ بیٹیاں تنہائی میں بلا تکلف دل کے بوجھ ہلکے کریں گے۔ دل آویز کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے مسلسل اپنے بابا کے ہاتھ تھام کر بیٹھی تھی ۔ اور جھومر اسے دیکھ دیکھ کر نہال ہو رہی تھی ۔ جھومر کی آنکھیں کالی تھی اور اس کی بھوری آنکھیں تھیں۔ جھومر کی لمبی چوٹی اور دلآویز کے بال شانوں سے نیچے تھے دونوں گوری چٹی ایک سی تھیں۔ زیب عالم کو تو دنیا کی بیش بہا دولت مل گئی تھی۔

“جھومر بیٹا تم خوش ہو ۔ “

جھومر تھوڑا سنجیدہ ہوئی۔

“بابا اس موضوع پر پھر کبھی بات کریں گے۔ ابھی مجھے اپنی بہن سے باتیں کر لینے دیں۔”

” تمہیں کیسا لگ رہا ہے اپنی بہن اور باپ سے مل کر” ۔

جھومر نے بڑے اشتیاق سے پوچھا ۔

“پوچھو مت میں بڑی خوش ہوں بہت خوش “۔

دل آویز کی آنکھیں بھر آئیں زیب عالم دل ہی دل میں خوش ہونے لگے۔

********

تاج کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ میراں کی دونوں بیٹیاں اس کی بہویں بن گئی تھی ۔ سچ ہے کہ زندگی میں آپ جس چیز سے بھاگتے ہیں۔ وہی آپ کی زندگی میں شامل ہوتی ہے ۔ کیسا عجیب سا امتحان ہوتا ہے اپنی طبیعت کے برخلاف مجھے اسد شاہ کے ساتھ زندگی گزارنا پڑی ۔ جب کہ میرے دل میں زیب عالم کی محبت تڑپ تڑپ کر رہ گئی ۔

میراں نے میرے حق پر ڈاکہ ڈالا وہ لٹیری نکلی اور اب اس کی بیٹیاں میرے گھر میں میرے سامنے رہیں گی۔ تاج کے دل میں نفرت کی آگ جلنے لگی اسد شاہ کا ان کی طرف جھکاو تاج کو قطعی طور پر پسند نہیں تھا ۔ آج سالہا سال بعد بھی تاج کے دل میں زیب عالم کا ان سے ٹوٹا ناتا دکھ دیتا رہتا ۔ اپنی قسمت پر شاکر ہونا تو جیسے انھوں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔

*****

اپنی بہن سے ملنے کے بعد وہ کافی خوش تھی۔ بابا سے مل کر بے حد خوش اور مطمئن تھی۔ بابا نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ لوگ بھی لاہور سٹیل ہو جائیں۔ بہت دنوں کے بعد وہ بڑے اچھے موڈ میں تھی۔لیکن ایک بات اسے پر اسرار لگ رہی تھی نہ تو وہاں شمشیر تھا اور نہ ہی گھر میں کبیر کو کچھ معلوم تھا اسد انکل نے یہ بات مجھ پر واضح بھی کر دیں دی شاید اس لیے کہ ابھی وہ اپنے بیٹوں کو بتانا نہیں چاہتے تھے لیکن چھپانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے ابھی وہ ان سوچوں میں گم تھی کے وہ آ گیا وہ مسٹڈ میرون کلر کا سوٹ پہنے ہوئے ڈھیلی ڈھیلی چٹیا بنائے ہلکا میک اپ کیۓ سیدھی دل میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔ وہ سوچوں میں گم تھی وہ کمرے میں آ گیا اس کے سامنے ہاتھ ہلایا ۔

“کہاں گم ہو”۔

وہ چونکی بھی اور اسے کبیر کی موجودگی میں جھرجھری سی محسوس ہوئی ۔ اس کے چہرے کے بدلتے ہوئے زاویے دیکھ کر بولا۔

“لگتا ہے میرا آنا اچھا نہیں لگا۔”

“ظاہر ہے جو لوگ اچھے لگیں انہیں کا آنا اچھا بھی لگتا ہے”۔

“خیر یہ تو رہنے ہی دوں اچھا تو میں تمہیں لگتا ہوں یونہی تو مجھے شرط لگا کر نہیں جیتاتھا تم نے ۔ “

کبیر ذرا تلخ سا ہوگیا وہ خاموش ہو گئی اسے شدید غصہ تھا وہ جھومر کی اس حرکت کو یاد کرتا تو نہایت کڑوا کسیلا ہو جاتا ۔ وہ سمجھ گئی کہ اب کبیر کا میٹر گھم گیا تھا ۔

“کبیرشاہ وہ تو میری ایک بے ضرر سی شرارت تھی تمہارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے تم مجھے اپنی ونی بنا کر لے آئیے ایک جیتی جاگتی باشعور لڑکی کو خون بہا میں اٹھا کر لے آۓ جس کا قرآن و سنت میں کہیں کوئی سبق نہیں ملتا۔”

“پہلی بات تو یہ کہ تم نے مجھ پر شرط لگا کر مجھے تختہ مشق بنایا میرے لئے بھولنے کے قابل نہیں تھا ۔ دوسری بات یہ کہ اسی آگ میں دن رات جلتے جلتے ہی مجھے تمہیں ونی بنا کر لانے کا موقع مل گیا ۔ “

جھومر کا چہرہ غصے سے لال سرخ ہو گیا ساری شرم و حیا کو اس نے بلائے طاق رکھی اور بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کھولے کبیر کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔

“تو کبیر پھر تمہارے جلتے ہوئے دل پر کوئی ٹھنڈا چھینٹا تو پڑا ہوگا۔ “

کبیر شاہ نے اس کی کلائی بے دردی سے پکڑی ۔

“نہیں میں غلط تھا وہ آگ شرط پر مجھے جیتنے کی نہیں وہ تمہارے عشق میں جلنے کی آگ ہے۔ “

“لیکن مجھے تمہارے ساتھ بھیڑ بکری جیسی زندگی نہیں گزارنی مجھے میرے والدین کے گھر سے عزت کے ساتھ بیاہ کر لاو۔ “

“تمہیں ایسا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے”۔

تم تو شرطوں پر مرد جیت لیتی ہو۔

کبیر نے نہایت گری ہوئی بات کی لیکن جھومر نے اسے اشتعال دلا دیا تھا۔ وہ واپس چلا گیا۔ وہ بہت غصے میں تھا۔

******

اگلے دو دن بعد کبیر شاہ کو کسی کام سے یونیورسٹی جانا تھا وہ یونیورسٹی آیا گاڑی لاک کر کے آگے بڑھنا چاہا تو اس کے تن من میں غصے سے جیسے جنگاریاں سی نکلنے لگیں۔ شمشیر کے پہلو میں جھومر بیٹھی تھی۔ جینز پر براون کوٹ پہنے بروان ہی سکارف لیے وہ بڑی ترو تازہ سی بیٹھی تھی۔

“اس کی ایسی کی تیسی اس کی جرات کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر شمشیر کے ساتھ گھومتی پھرتی ہے اور یہاں یونیورسٹی میں کیا کرنے آئی ہے۔”

شمشیر اسے ڈراپ کر کے چلا گیا۔تو وہ سیدھا اس کے پاس آیا۔

وہ آنکھوں میں حیرت سموے اسے دیکھنے لگی۔ کبیر شاہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔

“کیا کرنے آئی ہو یہاں۔؟اتنا شوق تھا پڑھنے کا تو مجھے کہتی شمشیر کے ساتھ کہاں ٹامک ٹوئیاں مارتی پھر رہی ہو”۔

دلاویز کو ایک منٹ سے پہلے پتہ چل گیا کہ اسے ضرور غلط فہمی ہوئی یے۔

“دیکھیں آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے”۔

اس کا ملائم سا لب ولہجہ سنتے ہی کبیر نے اسے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا اور اسے ایک لفظ بھی کہنے سے منع کیا۔ زبردستی اسے زرتار محل میں لے آیا۔ اور جھومر کے کمرے لا کھڑا کیا مگر سامنے تو جھومر پہلے سے ہی موجود تھی۔

جھومر نے اپنی ہم شکل دیکھی تو مسکرائی اور اس کی مضحکہ اڑائی نظریں کبیر شاہ پر تھی۔

اور کبیر شاہ دونوں کو دیکھ کر ایسا ہوگیا جیسے کا ٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

“یہ کیا چکر ہے “۔

اس نے جھومر سے پوچھا۔

جھومر دلاویز کے ساتھ کھڑی ہوئی تو اسے سمجھ میں آیا کہ عموماً جھومر چٹیا بناتی ہے اور دلاویز کی زلفیں کھلی ہیں۔(یعنی جھومر بال کھولے تو اتنی ہی حسین لگے۔ )وہ یہ سوچ کر رہ گیا۔

“یہ میری بہن ہے میری جیٹھانی ہے اور آپ کی بھابھی ہے”۔

“دلاویز تمہیں اس نے تھپڑ وغیرہ تو نہیں دے مارا۔ کیونکہ یہ اکثر عورت کا لحاظ نہیں کرتا۔ “

“نہیں نہیں ﷲ کا شکر ہے تھپڑ شپڑ نہیں مارا۔”

دلاویز سچ میں ڈر گئی۔

“سوری آپ کو غلط فہمی میں یہاں لے آیا۔ “

کبیر اس کے سامنے مہذب سا بن گیا۔

“تم نے اپنی بہن مجھ سے چھپائی ہوئی تھی۔ حالانکہ کوئی فائدہ نہیں یہ خوبخو تمہاری شکل کی ہے۔ “

کبیر شاہ نے اس کو چڑھایا۔

“آیۓ آپ کو واپس چھوڑ دوں۔”

“اوکے جھومر مجھے ضروری جانا ہے پھر ملیں گے۔ “

وہ کیبر کے ساتھ چلتی نیچے آئی لاونج میں نیوی بلو سوٹ میں ملبوس قیمتی جیولری پہنے ایک خوبصورت ترین خاتون بیٹھیں تھیں۔ کبیر اسے لے کر ماں کے پاس آیا۔

تاج نے سر سے پاوں تک اس کا جائزہ لے ڈالا۔

“اسے کہاں لے جا رہے ہو؟”

تاج نے نخوت سے پوچھا۔

“ماما یہ دلاویز ہے”۔

“کیا کہہ رہے ہو تم”۔

تاج حیرانی سے بولی۔

دلاویز بری طرح سے گھبرا رہی تھی۔ اس عورت سے یعنی کے یہ تاج خالہ تھیں وہ گھبراتی ہوئی باہر آئی اور کبیر کے ساتھ واپس چلی گی۔

تو یہ دونوں بہنیں یوں میرے سینے پر مونگ دلیں گی ۔

تاج نے سنجیدگی سے سوچا۔

********

“زیب آپ کہہ رہے ہیں میری دوسری بیٹی مل گی ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔ میں بے تاب ہوگئی ہوں اپنی بچی کو دیکھنے کے لیے۔ “

“آپ اسے اپنے ساتھ یہاں لے آتے”۔

“وہ شادی شدہ ہے اور تم تاج کے عتاب سے بچ جاؤ تمہاری دونوں بیٹیاں اس کی بہوئیں بن گئیں ہیں ۔”

میراں کی حیرانی کو انہوں نے ساری روداد سنا کر دور کیا۔

“تم فکر نہیں کرو منان اور ہم شہر میں سیٹل ہو رہے ہیں ۔ تم تیاری کرو۔ “

“آپ کیا کہہ رہے ہیں کیسے شہر میں سیٹل ہوں گے”۔

“اپنی اولاد کو دیکھ لو یا تم اپنا گاؤں دیکھ لو۔”

زیب عالم نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔

ہم شہر چلے گے میراں بچوں کی طرح سے خوش ہو رہی تھی منان اپنے ماں باپ کی خوشی میں راضی تھا۔ وہ چند دنوں میں شہر آگئے ۔

*******

اسد شاہ نے کبیر شاہ کو کہہ دیا کہ وہ جھومر کو اپنے کمرے میں لائے کبیر شاہ پٹنے والا ہو گیا۔بابا جان آپ خود جھومر سے کہیں کہ میرے بیڈ روم میں شفٹ ہو جائے ۔

“کیوں کوئی مسئلہ ہے “۔

اسد نے بیٹے سے پوچھا ۔

“نہیں بس یوں ہی کہہ رہا ہوں”۔

اسد شاہ نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

**************

قدموں کی چاپ سن کر جھومر ہای الرٹ ہوگئی۔ وہ الماری میں سر دیے کچھ ڈوھونڈ رہی تھی دروازے پر نوک ہوئی تو وہ جلدی سے متوجہ ہوئی۔( موصوف کو مینرز کیسے آ گئے ۔)

لیکن اپنے کمرے میں اسد شاہ کو دیکھ کر اسےکافی حیرانی ہوئی ۔

“انکل آپ مجھے بلوا لیتے آپ نے خود آنے کی زحمت کیوں کی۔ “

“کوئی بات نہیں میں آپ کو ایک پیغام دینے آیا تھا۔ آپ کل شام کو نیچے کبیر کے کمرے میں شفٹ ہو رہی ہیں”۔

جھومر کے ارمانوں پر اوس پڑ گئی۔

“آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں۔”

انہوں نے بغور جھومر کے چہرے پر کچھ تلاشنے کی کوشش کی ۔

“کبیر کل شام کو آپ کو لینے آئے گا۔”

جھومر کافی ڈپریس ہوگئی ۔

“مجھے امید ہے کہ آپ بغیر چوں چرا کیے ہمارا کہا مانیں گی” ۔

جھومر نے خاموشی سے سر جھکا دیا جب کہ کبیر کے کمرے میں شفٹ ہونے کو قطعی دل نہ چاہا رہا تھا ۔

اگلے دن ایک گرین کلر کا فینسی سوٹ اور پھول گجرے نوکرانی اس کے لئے لے آئی تھی۔

“اب اسد شاہ کی بات رکھنے کے سوا اور کوئی حل نہیں تھا اس نے بے دلی سے جوڑا پہن لیا ۔جو اس پر خوب سجا اس نے جیولری پہنی اور بال کھولے پھولوں کے گہنے کو تکے جارہی تھی۔ “

اف میں کس مصیبت میں پڑ گئی ہوں۔ کیوں پہنوں میں پھول گجرے اسے پہن کر دیکھاؤں وہ اپنی جیت کی خوشیاں مناتا پھرے۔ جو بات بے بات مجھے ذلیل کرتا ہے۔

اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ کبیر شاہ کے ہاتھ اپنی کوئی بھی کمزوری لگنے نہیں دینا چاہتی تھی۔ اور پھر انھیں سوچوں کے بھنور میں ہلکورے لے رہی تھی۔ کہ کبیر شاہ آگیا۔

بلیک کلر کے شلوار سوٹ پر میرون واسکٹ پہنے سیدھا دل میں اترنے کی حد تک اچھا لگ رہا تھا۔ مگر وہ خود کو کبیر کی شخصیت کے طلسم میں پھنسے نہیں دینا چاہتی تھی۔

وہ اسے پھولوں کے گہنے میں منہمک سوچتے دیکھ کر مسکرایا۔

“یہ دیکھنے کے لیے نہیں ہیں پہننے کے لیے ہیں۔”

اس نے پھولوں کے گجرے اس کی کلائیوں میں ڈالے۔ کانوں میں پھولوں کے کانٹے ڈالنے لگا دو آنسو جھومر کی گالوں پر لڑھک گے۔ کبیر نے اپنے گرم ہاتھوں میں اسکے ٹھنڈے نازک ہاتھ تھام لیے۔

“جھومر جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا وہ میرے لیے کیا تھا میں تمہیں بتا نہیں سکتا۔اور تمہیں معاف کرنے کو میرا دل نہیں چاہتا۔ بابا کا حکم تھا تمہیں اپنے کمرے میں لے آوں۔ اب پلیز یہ آنسو صاف کرو”۔

“میری ایک خود سر حرکت پر تم اتنے الزام تو مجھ پر لگاتے ہو کہ میں شرطیں لگا کر مرد جیت لیتی ہوں۔ اس سے بڑھ کر کیا کیچڑ ہوگا جو تم میری ذات پر اچھالتے ہو۔ اپنے ماں باپ اپنے بھائی اپنے دوستوں سے دور تمہارے گھر کے اس کمرے میں صبر شکر سے رہ رہی ہوں اور کیا کروں۔ اور تمہیں کیا کرنا چاہیے۔ تم تو سوچ بھی نہیں سکتے تمہارے سامنے پڑی ہوں بےبس بے یارومددگار ہوں۔ میرے پاس میری مرضی میرے اپنے میرے پاس ہے ہی نہیں۔میں مجبور ہوں بے حد مجبور۔ “

“تو کیا تمہیں یہیں اسی کمرے میں رہنے دوں۔ “

کبیر کے لہجے میں بہت درد تھا۔

“نہیں اب تم مجھے اپنے پاؤں کی جوتی بنا لو۔”

کبیر نے بے دردی سے نچلا لب ہونٹوں تلے دبا لیا۔

“تم مجھے اپنی باتوں سے زخمی کر دیتی ہو۔ تمہاری زبان میں بڑی طاقت ہے۔ مار دیتی ہو کبیر شاہ کو”۔

پھر اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔

“کھلے بالوں میں بہت اچھی لگ رہی ہو”۔

اس نے بال اکھٹے کر کے کلپ لگانا چاہا تو کبیر نے اس کے ہاتھ سے کلپ لے لیا۔ اس کا ہاتھ تھام کر اس کو بیڈ سے اٹھایا۔ جھومر نے نازک گورے پیروں میں نازک نگوں والے سینڈل پہنےاور وہ اس کے خودبخود چھلکتے آنسووں کو صاف کر کے نیچے لے آیا۔ سارا گھر خاموشیوں میں ڈبا ہوا تھا۔

اور اسی خاموشی سے وہ کبیر کے بہت بڑے کشادہ بیڈ روم میں آگئی۔ جہاں جابجا اس کے اعزاز میں پھولوں کے ان گنت گل دستے پڑے تھے۔ سارا بیڈ روم پھولوں سے مہک رہا تھا۔

(کیا ضرورت تھی اس طرح کے چونچلے کرنے کی۔)

وہ سوچ کر رہ گی اور یوں اوپر سے نیچے کمرے تک کا سفر طے ہوا۔

“کیسا لگا میرا بیڈ روم”؟

جھومر نے اسے شکایتی انداز میں دیکھا۔

“میں نے کچھ پوچھا ہے”۔

“تمہارا کمرہ ہے اچھا ہی ہوگا”۔

“اتنی بے اعتنائی بڑے افسوس کی بات ہے”۔

“کبیر شاہ تمہارا اور میرا تعلق ایسا نہیں ہے کہ تم مجھ سے گلے شکوے کرو”۔

“تم مجھے ایک سٹیپ بھی پٹری سے اترنے نہیں دیتی تمہیں کیسے سمجھاوں کہ جب تک تم مجھے نہیں چاہوگی میں بھی تمہیں نہیں چاہوں گا۔”

اس کا مطلب سمجھتے ہوۓ جھومر پھر سے تپنے لگی اس کی گالوں پر سرخی چھانے لگی۔ کبیر شاہ اس کا ہر رنگ روپ اپنے سینے میں قید کرتا رہا۔

جھومر نے کمرے میں ایک طائرانہ نگاہ ڈالی۔

“اتنا اہتمام کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ سب تو چاہتوں پر مبنی ہوتا ہے۔”

“میں نے یہ سنگدلی کی نذر کرنے کے لیے سجایا ہے۔”

کبیر شاہ بے گلدستہ اٹھایا اور بے دردی سے پیروں تلے روند دیا ۔

“بس اب خوش۔”

وہ تلخی سے بولا۔

جھومر اس کا یہ عمل دیکھ کر شرمندہ ہوگئ۔ آگے بڑھ کر گلدستہ اسکے قدموں سے اٹھا لیا۔

“پھولوں کا کیا قصور ہے”۔

“قصور ہے یہ ہمارے کمرے میں سج کیوں گۓ ہیں یہ قصور ہے ان کا۔”

جھومر نے گلدستہ سائیڈ پر رکھا۔ اور بیڈ پر بیٹھ گی۔

(دل ہی دل میں کانوں کو ہاتھ لگاۓ منٹ میں بپھر جاتا ہے)۔

کبیر شاہ بیڈ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔

“جھومر ایک بات بتاو تم نے تو مجھے جیت لیا بھلا میں تمہیں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “

“پلیز کبیر بس کرو آج بہت باتیں ہوگئیں۔ اب مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔”

کبیر شاہ نے جاندار قہقہہ لگایا۔

“بس تھک گیں۔ اچھاچلو ڈنر کرنے چلتے ہیں “۔

جھومر کو سمجھ نہ آئی کہاں چلتے ہیں یعنی باہر یا گھر۔

مگر کبیر نے باہر اس کو ڈنر کروایا جھومر زیادہ تر خاموش رہی کبیر شاہ بہت انتہا پسند قسم کا انسان تھا۔ اس کے اچانک رد عمل اے وہ ڈرتی تھی۔

واپسی پر وہ کمرے میں آئی وہ ڈریس چینج کر کے صوفےپر آکر ڈھے سی گی۔ کبیر بھی بہت تھک گیا تھا۔ اس نے بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور رخ موڑ کر لیٹ گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *