Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 13)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

اپریل کی ہلکی ٹھنڈی رات میں وہ فون پر منان سے محبت بھری باتیں کر رہی تھی ۔

“میں تمہیں چاند ستاروں میں ڈھنڈتا رہتا ہوں۔”

“تم مجھے غلط جگہ تلاش کرتے ہو میں زمین پر رہتی ہوں تم زمین پر غور کرو یونہی چاند ستاروں میں الجھتے ہو۔ “

رائمہ نے مسکراہٹ لبوں میں دباتے ہوئے کہا ۔

“یار میری ساری شاعرانہ حس کا تم ڈبا بجا دیتی ہو”۔

رائمہ منان کے احتجاج پر ہنسی۔

“نجانے تمہاری اماں کی اور میری مما کی آپس کی کیا کہانی ہے سمجھ میں نہیں آتا” ۔

“چھوڑو تم ان کے ماضی کو مت سوچا کرو حال اور مستقبل کی تدبیریں کرو۔ “

منان نے کہا ۔

“حالانکہ میری دونوں بہنیں تمہاری بھابیاں ہیں لیکن تم ابھی تک بے یارومددگار ٹھہریں۔”

“مما ان کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لاتیں۔ وہ بیچاریاں کیا کریں ۔”

“لیکن تمہارے منہ زور عشق نے مجھے اتنا بہادر بنا ڈالا ہے کہ میں اپنی ماں سے بات کر سکتی ہوں۔ بس تھوڑا وقت چاہیے ۔”

“خالہ اتنی کٹھور دل کیوں ہیں”۔

“انھیں سے پوچھ لو تمہاری خالہ ہیں”۔

رائمہ شرارت سے بولی۔

“تاج خالہ کے کھٹور دل کا خیال آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ تمہیں بس چاند تاروں میں ہی ڈھونڈتا رہوں ۔”

رائمہ کھلکھلا کر ہنسی۔

اسی طرح کی لاتعداد باتیں کرتے رہنے اور ایک دوسرے کو حوصلہ تسلیاں دیتے وقت گزر رہا تھے ۔ تاج جیسے لوگ زندگی میں کبھی بھی چند لمحوں کی گرفت میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ۔ زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے اور یہ زندگی کے چند لمحوں میں قید ہو کر زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کا اندر کوئی گہرے راز سنبھال لیتا ہے لیکن ہر کسی میں یہ حوصلہ نہیں ہوتا ۔ تاج کے خودسر رویے نے اس سے اس کی بہن اور دیگر رشتے چھین لیے تھے۔ وہ ہر لمحہ اندر ہی اندر سلگتی رہتی تھی ۔

تاج نے بظاہر ایک ایسی زندگی گزاری تھی کہ کوئی بھی دیکھ کر رشک کر سکتا تھا مگر اس کے اندر اس کے سینے میں چھڑے طوفانوں نے ہمیشہ اسکے سکون کو تہہ بالا رکھا تھا۔

زیب عالم کی محبت کا دیا اس کے سینے کے نہاں خانوں میں سلگ سلگ کر اپنی آنچ دیتا رہا ۔ وہ لمحہ لمحہ زیب عالم کی محبت میں گرفتار رہی۔ایک بے ایمان زندگی گزاری نہ شوہر کو مکمل طور پر اپنا سکیں نہ اس سے اس کی محبت ملنا ممکن تھا وہ اندر سے بہت تلخ ہو چکی تھی یہی وجہ تھی کہ زیب اور میراں کی بیٹیوں کو عموما اپنے عتاب کا نشانہ بنائے رکھتی ۔ دونوں لڑکیاں تاج سے کبیدہ خاطر ہی رہتی ۔

وہ ہمیشہ اس جلن کی شکار رہی کہ میراں نے اس کی جگہ لے لی تھی اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی اس کے اندر چنگاریاں اڑتی رہتی اس کے چمکتے دمکتے حسن کو آج بھی کوئی دیکھتا تو دوبارہ دیکھنے کا متمنی ہوتا۔ اس پر اس کی ڈریسنگ اس کا شاندار سراپا اس کا با کمال میک اپ قیمتی جیولری سٹیکنگ کروائے بال اس کے حسن کے آگے کافی لوگ مروب نظر آتے ۔

وہ بہت زیرک نگاہ رکھتی تھی اور جان گئی تھی کہ اس کی بیٹی میراں کے بیٹے میں الجھ گئی تھی ۔ وہ دن رات اس کشمکش کی شکار تھی گو کہ ابھی تک کر رائمہ نے اس سے کوئی بات نہیں کہی تھی۔

اس نے شاندار تیاری کی وہ آج مراد شاہ سے ملنا چاہتی تھی وجہ بہت گھمبیر تھی وہ دور اندیشی سے سوچ رہی تھی۔ ماضی کی غلطیاں اتنی سنگین صورت اختیار کر جائیں گی۔ کبھی سوچا بھی نہ تھا ۔وہ پوری آن بان کے ساتھ مراد شاہ کے سامنے بیٹھی تھی اور مراد شاہ کے دل کی کلی کھلی جا رہی تھی کہ اس کی قسمت جاگ گئی ہے۔ مراد شاہ اس کے چہرے کو پڑھ نہیں سکتا تھا کیوں کہ اپنی الجھنوں کو اپنے اندر سمیٹ کر رکھنے کا ہنر تاج کو بہت اچھی طرح سے آتا تھا ۔

اورنج جوس کا ایک سپ لیتے ہوئے تاج اپنے موقف پر آ گئی ۔

“مراد شاہ تم کیا سمجھتے ہو کہ تم ہمیں متاثر کر چکے ہو۔”

تاج کا سوال اتنا غیرمتوقع تھا کے مراد شاہ ٹھٹھک کر رہ گیا ۔ کچھ سنبھل کر اپنی عینک درست کرتے ہوئے بولا۔

“تمہیں کوئی بھی عام شخص متاثر کر ہی نہیں سکتا تم بہت گہری عورت ہو۔”

وہ مبہم سا مسکرا ئی۔

“مراد شاہ تمہاری غلطی ماضی کی سنگین غلطی اب جوان ہو گئی ہے تمہارے بیٹوں کی بہن تمہاری بیٹی۔ایک تلخ اور درد ناک ماضی آج حال کی پریشانی بننے والی ہے ۔”

مراد شاہ سٹپٹا کر نہ رہ گیا انسان کی لغزش اسے گہری پاداش میں لاپھینکتی ہے۔ مراد شاہ کے اندر کچھ چھناکے سے ٹوٹ گیا تھا۔

تاج نے اسے اتنی گہری نگاہ سے دیکھا کہ مراد شاہ کا کرب اس پر واضح ہو گیا ۔ تب تاج کے چہرے کا سکون قابل دید تھا ۔

مراد شاہ جوس کے گلاس کے گرد شہادت کی انگلی سے سرکل بنانے لگا وہ سچ میں ڈپریس ہوگیا تھا۔

“تمہیں ہم یاد دلانا چاہتے ہیں کہ واثق اور رائمہ بہن بھائی ہیں لیکن بچے کیا جانے کے حقیقت کیا ہے” ۔ تاج نے ایک دفعہ پھر اسے گہری نظر سے جانچا۔ مراد شاہ بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔

“واثق عنقریب تم سے اپنے اور رائمہ کے رشتے کی بات کرنے والا ہے”۔ مراد نے کرب سے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر کھولیں۔

تاج کے چہرے پر سرخی دوڑگی۔ آنکھوں کی چمک بڑھ گی وہ پھر سے دھیما سا مسکرائی۔

“تم نے اپنے بیٹے کو کیسے کور کرنا ہے کس طرح سے اس رشتے کی مخالفت کرنی ہے یہ تمہارا سر درد ہے۔ “

“تم جلد از جلد رائمہ کا رشتہ طے کرو اس کی شادی کرو۔ “

مراد شاہ گھٹے گھٹے انداز میں دانت پیستے ہوۓ بولا۔

“ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاتی۔ بظاہر اس کا باپ اسد شاہ ہیں تو وہ اپنی مرضی سے اسکی بات جہان چاہیں گے طے کریں گے۔” تاج نے مسکراتے ہوئے یوں کہا جیسے مراد شاہ کے تلملانے کا بھر پور مزہ لیا ہو۔

مراد تو لمحوں کو رنگین بنانے آیا تھا مگر اسکی ماضی کی غلطی نے اسے خاردار جھاڑیوں میں دھکیل دیا۔

“ان سب باتوں کے باوجود اس نے تاج کے حسن کی پرستاری نہ چھوڑی۔ “

“میں اس مسئلہ کو ہینڈل کر لوں گا۔”

“واقعی؟” ۔

تاج نے یوں کہا جیسے مراد شاہ کا مذاق اڑایا ہو ۔

مراد شاہ غصےسے بل کھاتے ہوئے بولا۔

“اگر میں یہ اصلیت بھائی صاحب کے سامنے کھول دوں تو یاد رکھو تم اپنے شوہر کے سامنے دو کوڑی کی ہو جاؤ گی۔”

“ہم نے تمہارے بھائی کے ساتھ زندگی دو کوڑی سے بدتر گزاری ہے ہمیں کچھ فرق نہیں پڑتا تمہیں جو بتانا ہے اپنے بھائی کو بتاتے پھرو۔ہمارے دل کے راز سے تم بہت اچھی طرح سے واقف ہو”۔

تاج کسی طور بھی مغلوب نہ ہو سکیں ۔مراد شاہ کو اپنا آپ بے بس لگنے لگا ۔

“تم سمجھے تھے ہم تم سے کوئی عشق بھگاڑنے آئے ہیں ۔ ہم نے تو آج سے 27 سال پہلے عشق کو کفن میں لپیٹ کر کہیں دفن کر دیا تھا اور پھر کبھی بھی ہم کسی سے بھی عشق کر ہی نہ پائے۔ “

“تم بروقت فیصلہ کر لیتیں تو میں تمہیں کانچ کی گڑیا کی طرح سے رکھتا ۔تمہاری پرستش کرتا ۔ “

“لیکن ہمیں تم سے اپنی پرستش کروانا ہی نہیں تھی ایک۔۔۔۔۔۔ایک فیصد بھی نہیں۔ “

تاج یہ کہہ کر رکی نہیں غصے سے بل کھاتی اپنی گاڑی میں جا بیٹھیں ۔ ڈرائیور نے گاڑی سٹاٹ کر دی ۔

*******

رائمہ اپنی اسائنمنٹ بنانے میں مصروف تھی جب موبائل کی سکرین پر اس کا نام چمکنے لگا کیا مصیبت ہے کیا کہتا ہے مجھے رائمہ نے لاپرواہی سے فون اٹینڈ کیا ۔

“جی واثق بھائی” ۔

وہ بھائی پر خاصا زور ڈالتے ہوئے بولی دوسری طرف بھی واثق بھائی کہنے پر جھنجھلاہٹ آشکار ہوئی تھی۔

“رائمہ میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔”

رائمہ کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں ۔اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں پیار کرتا ہوں تم سے۔”

رائمہ کنگ سی ہوگئی۔ وہ چند لمحے خاموش رہا پھر خوش اسلوبی سے بولا۔

“تم تو حیران رہ گئی کوئی بات نہیں تم سوچ کر بتا دینا لیکن یاد رکھو میں واثق مراد تم سے عشق کرنے لگا ہوں۔”

(یہ تھی حالات کی ستم ظرفی کہ ایک بھائی انجانے میں بہن سے عشق کر رہا تھا۔ اے ﷲ ہم سب کو ایسی غلطیوں سے گناہ کبیرہ ہمیں معاف فرمانا۔)

رائمہ نے موبائل آف کر دیا وہ اچھی خاصی پریشان ہو گئی ۔

“اب تو میں ماما سے لازم و ملزوم منان عالم کے بارے میں بات کروں گی میں تو مر کر بھی واثق سے شادی کا سوچ نہیں سکتی۔” وہ اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے پریشانیوں میں گھرنے لگی۔ گھبرا کر اپنے کمرے سے باہر آئی۔ برامدوں کو عبور کر کے وہ لان میں آ گئی۔ اسے جھومر بھابھی پودوں کا موازنہ کرتی دکھائی دی ۔ یونہی چلتے چلتے وہ اس کے قریب آئی۔ بات شروع کرنے کے لئے وہ یونہی بولی تھی۔

“آپ کو پلانٹنگ کرنے کا شوق ہے ۔”

جھومر نے اچانک اسے اپنے پاس دیکھا تو کچھ سوچتے ہوئے بولی۔

“نہیں مجھے صرف پودے پھول پتے دیکھنے کا شوق ہے “۔

“آپ جب سے ہمارے گھر آئیں ہیں آپ بہت کم کمرے سے باہر نظر آتی ہیں۔”

“وہ کیا ہے کہ بزرگوں کا خیال رکھنا چاہیے نہ دراصل تاج خالہ مجھے پسند نہیں کرتی تو میں سوچتی ہوں کہ کہیں وہ میری وجہ سے ڈسٹرب نہ ہوں اس لیے احتیاط کرتی ہوں۔”

جھومر نے بڑی خوبصورتی سے رائمہ کو بد مزہ کرنا چاہا ۔

“چھوڑیں فیملی پولیٹکس میں کیا رکھا ہے آپ مجھ سے دوستی کریں۔”

“دوستی کیا چیز ہے میرے تم سے دو دو رشتے ہیں تم میری خالہ کی بیٹی میری کزن بھی ہو اور نند بھی۔”

“لیکن دوستی کا رشتہ انمول ہوتا ہے ۔ “

“چلو تم سے دوستی کر کے دیکھ لیتی ہوں “۔

جھومر نے مسکراتے ہوئے کہا وہ سمجھ گئی تھی کہ رائمہ کچھ ٹھان کر ہی اس کے پاس آئی ہے۔

“آپ گاؤں میں رہتی تھیں”۔

رائمہ نے بات آگے بڑھانی چاہی۔

“ہاں گاؤں میں رہتی تھی میں میرا بھائی میرے والدین۔۔۔۔۔”

جھومر ماضی میں کھونے لگی۔

“پھر آپ کو اچانک سے دلآویز بھابی مل گئیں”۔

“ہاں دلاویز کا اضافہ بھی اچھا ہے “۔

“آپ کی اپنے بھائی سے دوستی تھی؟۔”

“دوستی کیا تھی وہ تو میرا شہزادہ بھائی ہے اللہ ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے “۔

رائمہ کے دل میں کچھ کچھ ہونے لگا۔

جھومر کو اسکے تاثرات عجیب سے لگے وہ سمجھ نہ سکی۔

اسی طرح خوش گپیاں کرتے کرتے چند دنوں میں رائمہ جھومر کے کافی قریب آنے لگی۔

***

“دلآویز تم جس خوبصورتی سے میری زندگی میں شامل ہوئی ہو نہ یہ بھی تمہارا آرٹ ہی تھا۔ “

“شمشیر آرٹ نہیں تھا میری مجبوری تھی “۔

دلاویز تڑپ کر بولی۔

“ارے چھوڑو مجبوری میں تمہیں بہت پسند آ گیا تھا تم اتنا زبردست لڑکا ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ “

“اچھا ٹھیک ہے اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو ایسے ہی سہی خوش ہوجائیں۔”

“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی مجھے لگتا ہے کہ جھومر اور کبیر ایک دوسرے کے ساتھ میریٹل لائف گزارتے ہوئے بھی وہ جیسے ایک دوسرے سے ناراض رہتے ہیں اور جھومر چاہتی ہے کہ وہ بھی اپنے والدین کے ہاں سے رخصت ہو کر آۓ۔ “

“یہ کیا بکواس ہے یہاں چھ ماہ سے رہتے رہتے اسے اب یاد آیا ہے ۔ “

“اول دن سے اس کی کبیر بھائی سے یہی لڑائی چل رہی ہے آپ ہی اس سلسلے میں کچھ کیجئے “۔ دلاویز منت بھرے انداز میں بولی۔

“تمہیں ان معاملات میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں مما بابا جیسے درست سمجھیں گے وہ ہینڈل کریں گے اور اب اس موضوع پر کوئی بات نہیں سنوں گا۔”

شمشیر نے تو دو ٹوک فیصلہ سنا دیا۔ دلآویز تو شمشیر کو بہت آسان سمجھتی تھی لیکن جیسے اس نے دل آویز کو چپ کروانے کے لئے فل اسٹاپ لگایا وہ خاصی حیران ہوئی دل ہی دل میں بولی (سیدھا ماں پر ہی گئے ہیں )۔

****

واثق رائمہ سے ملنے کے لیے مصر تھا۔ اور رائمہ کو اس سے اپنا دامن بچانا مشکل ہو رہا تھا اس لئے آج وہ ماں کے روبرو بیٹھی تھی اپنے بارے میں ہر بات سچ کہنا چاہتی تھی۔ تاج کو اپنی بیٹی بہت عزیز تھی لیکن وہ اپنی بیٹی پر کبھی اپنی محبت ظاہر نہیں کرتی تھی اس کی وہی وجہ تھی کہ کبھی مراد شاہ کسی دوسرے ہتھکنڈے کو نہ آزمانے لگے اس سے اس کی بیٹی نہ چھین لی جائے ۔ بظاہر تو ایسا کچھ ہونے والا نہیں تھا لیکن وہ اپنی کمزوری اپنی بیٹی پر ظاہر ہی نہیں کرتی تھی۔

“کہو رائمہ کیا ہوا ہے”؟

تاج کو اس کے چہرے پر پریشانی کے بادل منڈلاتے نظر آرہے تھے ۔

“مما میں۔۔۔۔۔۔میں آپ سے ایک اہم بات کرنا چاہتی ہوں۔ “

رائمہ کی جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے تاج نے کہا۔

“تم کھل کر کہو جھجھکنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ “

“رائمہ کا دل تھوڑا بڑا ہوا مما میں جھومر بھابھی کے بھائی سے شادی کرنا چاہتی ہوں اس نے مجھے پرپوز کیا ہے ۔”

تاج کے اندر دھڑام سے کچھ گرا لیکن بظاہر وہ ایک مضبوط عورت تھی۔ یعنی کہ ہماری تیسری اولاد بھی میراں کے آنگن کا پھول بنے گی۔ تو یہ ہے قدرت کے فیصلے۔ فیصلے تو سارے قدرت ہی کہ ہوتے ہیں پھر ہم کیوں گناہگار ٹھہرے کیوں قدرت کے فیصلے کو تقدیر نہ سمجھ سکے کیوں میراں کے لئے ہمارا دل تنگ ہونے لگا کیوں ہم زیب عالم کی ایک جھلک آج تک بھول نہ سکے۔

تاج اسد شاہ کے اس انکشاف میں کھو گئی۔وہ گہری سوچ میں تھی۔

“تاج آپ کے بیٹے نے شادی کر لی ہے آپ جانتی ہیں۔”

“کیا کہہ رہے ہیں اسد آپ اگر کبیر کی بات کر رہے ہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

“نہیں کبیر نہیں شمشیر نے شادی کر لی ہے “۔

تاج اپنے حواس کھونے لگی ۔

“اسد پلیز آپ ہمیں پہیلیاں مت بھجوائیں ۔شمشیر نے کب؟ کیسے؟ کس سے؟ شادی کی ہے۔”

تاج بےبسی سے بولی۔

“میراں کی دوسری بیٹی دلآویز جسے نہ جانے کس نے ہاسپٹل سے غائب کروا کر ایک معصوم جان پر ظلم توڑا تھا”۔

تاج کو دلی اور ذہنی طور پر شدید سٹریس آیا ۔

“شمشیر ایسے کیسے کر سکتا ہے اس کی اتنی جرات کے ہم والدین کو اس نے کوئی ترجیح ہی نہیں دی۔کیا ہم آپ اس کے والد نہیں کیا ہماری کوئی اہمیت نہیں اور پھر میراں کی بیٹی سے کیوں اسد شاہ کیوں ۔ایک پہلے ہی سر پر لا کر بیٹھا دی اور اب دوسری بھی یہاں اس گھر میں۔میں اسے یہاں گھسنے نہیں دوں گی ۔ شمشیر اس لڑکی کو طلاق دے ورنہ روزے محشر کو کو اسے دودھ نہیں بخشوں گی”۔ اسد اس کو دیکھتے رہ گئے۔

اور اب جب اسے یہ پتہ چلا کہ اس کی بیٹی میراں کے بیٹے کے ساتھ انوالو ہے تو اسے دلاویز کے خلاف زبان بند کرنا پڑی انسان کتنے امتحانوں سے گزرتا ہے وہ اپنے تیئں کونسی بساط بچھاتا ہے اور رب انسان کی چلنے والی چالوں سے کہیں زیادہ آگے کی چال چلتا ہے۔

“اور مزید کوئی پریشانی کوئی بات ۔”

تاج رائمہ کی گھبرائی صورت دیکھ کر نرمی سے بولیں۔

” مما واثق بھائی نے الگ تنگ کیا ہوا ہے مجھ سے شادی کرنے پر بضد ہیں میں نے انہیں منع کیا ہے مگر ان کی سمجھ میں میری بات آ نہیں رہی”۔

“رائمہ زندگی میں زندگی کے کچھ اہم راز ہوتے ہیں میں تمہیں تمہاری زندگی کا اہم راز بتانا چاہوں گی کیوں کہ یہ راز جاننا تمہارے لئے بے حد ضروری ہے لیکن وعدہ کرو تم کبھی بھی یہ راز فاش نہیں کرو گی۔”

رائمہ خاصی مضطرب نظر آئی کہ آخر ایسا کیا راز ہے ۔

“زندگی میں بہت سے دوراہے ایسے بھی آتے ہیں ہمارا مطلب ہے کہ آج تمہیں واثق کا پرپوز کرنا اچھا نہیں لگ رہا کبھی زندگی میں ایسا بھی کچھ ہو جاتا ہے کہ تم اسی واثق کو قبول کرنے کو تیار ہو جاتی ہو۔”

تاج نے ایک لمحے کے لیے رائمہ کی شکل دیکھی رائمہ کچھ سمجھتے ہوئے سر ہلا رہی تھی۔

“ہم تمہیں یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ تم اسد شاہ کی بیٹی نہیں ہو۔” رائمہ کے لیے یہ چند لفظ سننا ایسا ہی تھا جیسے اس کی کے سامنے کتنی ہی عمارتیں مسمار ہو گئی ہوں۔

“تم مراد شاہ کی بیٹی ہو۔”

حیرت سے رائمہ کی آنکھیں پھٹنے کو تھی۔

“مراد شاہ نے شب خون مارا تھا بھائی کی عزت کی دھجیاں اڑائیں تھیں۔ یہ بات تمہارے لئے جاننا بے حد ضروری تھا” ۔

تاج اپنی بات کہہ کر خاموش ہوئی۔ رائمہ تو عجیب شوکڈ کیفیت میں چلی گئی اور اٹھ کر تاج کے قریب آئی۔ روتے ہوئے تاج کا چہرہ جا بجا چومنے لگی۔

“میری ماں اتنی بڑی اذیت میں مبتلا رہی میری ماں نے اپنے اندر اتنا گہرا راز چھپایا ہوا تھا شکر ہے کہ میں واثق کی باتوں میں نہیں آ گئی ۔”

“ریلیکس رائمہ ریلیکس بیٹا یہ زندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں تمہیں یہ راز اپنے سینے میں دفن رکھنا ہے ورنہ بہت سی زندگیاں جل کر بھسم ہوں گی۔”

رائمہ کو اپنی ماں بے حد معتبر نظر آئی وہ لڑکھڑاتی ہوئی تاج کے کمرے سے باہر آئی۔

کئی دن وہ اسی غم میں مبتلا رہی وہ یونیورسٹی بھی نہیں جا رہی تھی ۔ جیسے ساری دنیا سے کٹ جانا چاہتی تھی اس کی سیدھی سادی چلتی زندگی میں کیسا ہولناک ارتعاش ہوا تھا ۔

وہ کئی دن تک اپنا فون کہیں رکھ کر جیسے بھول جانا چاہتی تھی۔ تاج اسے اس غم سے نبرد آزما ہو لینے دینا چاہتی تھی کہ ان کی بیٹی اندر سے پائیدار اور با اعتماد ہو جائے وہ ٹوٹے بکھرے گی تو اپنے آپ کو بہتر طریقے سے جوڑ لے گی ۔

اس کا بس نہ چلتا تھا کسی بھی طرح سے منان کے نکاح میں آ جائے اور وہ واثق سے ہمیشہ کے لئے پیچھا چھوٹ جائے۔ سوچوں کی ان گھڑیوں میں جھومر۔ جھومر کی دوستی یاد آئی۔ اسے جھومر سایہ دار درخت جیسی معلوم ہوئی۔

وہ جھومر کے کمرے میں پہلی دفعہ آئی تھی۔وہ اپنی کبڈ درست کر رہی تھی۔ رائمہ کو بہت دنوں بعد دیکھا تھا ۔ وہ اسےبیمار سی محسوس ہو رہی تھی ۔

“کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے”؟

“جی ٹھیک ہوں آپ سے ملی نہیں تھی تو میں نے سوچا آپ سے مل لوں لیکن میرا خیال ہے کہ آپ بزی ہیں۔”

“نہیں بالکل بھی نہیں” ۔

اپنے آخری تین جوڑے الماری میں رکھتے ہوئے اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

“آؤ بیٹھو” ۔

جھومر نے اسے صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

“رائمہ تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی کتنی کمزور ہو گئی ہو “۔

جھومر اسے دیکھ کر متفکر سی ہوگئی۔

رائمہ بہت کمزور تھی اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ بے طرح رونے لگی جھومر اس کی کیفیت دیکھ کر حیران ہوئی ۔

۔

“رائمہ تم رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہوگیا ہے” ۔

جھومر نے جگ سے پانی لے کر اسے پلایا۔

“لو پانی پیو۔ کیا ہوگیا تمہیں۔۔۔۔۔۔۔ کیوں رونے لگی “۔

اس نے رائمہ کو تھوڑا محبت سے ٹریٹ کیا یوں جیسے رائمہ اس کی چھوٹی بہن ہو۔ اور یہی جذبات محسوس کرکے رائمہ اپنا حوصلہ سلب کر بیٹھی ۔

“مجھ سے شیئر کر لو”۔

“جھومر بھابھی کچھ معاملات بہت بڑے ہیں میں شئیر نہیں کر سکتی۔”

“ہماری زندگیوں سے زیادہ بڑے تو نہیں ہو سکتے بتاؤ شاباش” ۔ رائمہ نے ہمت کی اور آنسو صاف کیے۔

“آپ کے بھائی منان۔۔۔۔۔۔رائمہ خاموش ہو گئی۔ “

“ہاں کیا ہوا منان نے کیا کیا” ۔

“بھابھی وہ مجھے پسند کرتا ہے”۔

جھومر ریلکیس ہوئی ۔

“اچھا کب میرا مطلب ہے کیا تم اسے پسند کرتی ہو۔ “

رائمہ نے نظریں جھکا تے ہوئے گردن ہلا کر اقرار کیا جھومر تھوڑا مسکرائی۔

“یہ تو ہر فریق کا حق ہوتا ہے اگر تم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو تو اس میں اتنا پریشان ہونا اس طرح ری ایکٹ کرنا تو میری سمجھ میں نہیں آیا۔ :

وہ آہستہ آہستہ کہنے لگی رائمہ ہاتھوں میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اب جھومر تو ہاتھوں پیروں پر ہونے لگی۔

“پلیز یار تم رو مت اچھا تم نارمل ہو جاؤ او پھر بتا دینا پلیز تم میری فرینڈ ہو۔ “

جھومر اسے بہت خوبصورتی سے ٹریٹ کر رہی تھی۔ رائمہ بہت دل ہلکہ کر چکی تو چپ ہو گئی ۔

بھابھی آپ میرا نام لے کر یہ بات کسی کو نہیں بتایئے گا ۔

جھومر دل میں ہنسی کسی کی تمہارے گھر کے فرد کیسے تذلیل کریں اور خود تم لوگ اتنی سی بات بھی اپنے اوپر حرف سمجھو کتنا تضاد ہے۔ جھومر کو اپنے ہونے کا غم کھائے جانے لگا ۔ بہرحال اس نے اپنے آپ کو ائمہ کے لیے سنسیر ہی رکھا معاملہ اس کے چھپے رستم بھائی کا تھا۔ بڑی شے نکلا مجھے بتایا تک نہیں جھومر خیالوں میں اسے سرزنش کرنے لگی۔

********

اور وہ دن بھی آ گیا آج واثق باپ کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا ۔

“بابا مجھے صرف اور صرف رائمہ سے شادی کرنی ہے۔ آپ تایا جان سے بات کریں” ۔

مراد شاہ بھونچکا سا اس کا منہ تکنے لگا ۔ جوان بیٹے کے سامنے ماضی کی کمینگی ظاہر کرنے کا حوصلہ نہ ہوا ۔

“بابا آپ سن رہے ہیں۔ “

“ہاں میں وقت آنے پر بھائی صاحب سے بات کروں گا ۔ “

مراد شاہ نے وقت کو دھکا دیا ۔ واثق کے جانے کے بعد اس نے بے چینی سے پہلو بدلا۔اسے تاج یاد آئی جس نے کچھ دن پہلے اسی بات کو وارن کرنے کے لیے اس سے ملاقات کی تھی۔ مراد شاہ غش کھاتے کھاتے رہ گیا۔

رائمہ جس دن سے اس حقیقت سے روشناس ہوئی تھی اسے مراد شاہ سے شدید نفرت ہوچکی تھی۔ وہ مراد چاچو کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔ بلکہ وہ یہ چاہتی تھی کہ جلد از جلد اسکی منان کی بات طے ہوجاۓ۔

تاج نے کافی دنوں سے جھومر اور دلاویز سے بات نہ کی تھی۔ جھومر معاملے کی نزاکت سمجھ گئی تھی لیکن دلاویز حیران تھی۔ تاج کا نارمل رویہ ہضم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

جھومر کچن میں کک کو مینیو دے رہی تھی آج دلاویز گھر آئی ہوئی تھی۔ دلاویز بھی وہی آگئی جھومر کا ہاتھ پکڑ کر اس کو باہر لے آئی۔

تاج خالہ کو لگتا ہے دو چیزیں دکھائی دینا بند ہو گئی ہیں ۔

جھومر نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔

“یقین کرو تم اور میں ہم دکھائی نہیں دے رہیں ان کو”۔

دل آویز کا مطلب سمجھ کر جھومر کو ہنسی آگئی لیکن دل آویز کو کچھ بھی بتانے سے اپنے آپ کو روکا ۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *