Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 16)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

دل آویز نے پاستا اور لازانیا بنایا تھا کئی سال گزرنے کے بعد تو اسے اصل رشتے ملے تھے۔ تو بھلا اب وہ اپنے رشتوں کی محبتوں سے فیض یاب کیوں نہ ہوتی۔ ڈور بیل بجی دروازہ کھولا۔ جھومر لیمن کلر کڑھتا ڈوپٹہ پہنے بے حد پیاری لگ رہی تھی۔ دونوں گلے ملیں۔

“میں نے تمہارے لئے پاستا اور لازانیہ بنایا ہے۔ “

“ارے اتنا تکلف کیوں لیا ۔ “

“جب میں تمہارے گھر آجاؤں گی تو تم سے سارے حساب بے باق کر لوں گی فکر نہ کرو” ۔

“خیر تمہارے اور میرے حساب میں بہت فرق ہے تم آؤ گی رخصت ہو کر پورے جاہ جلال سے اور میں ٹھہری کم عزت والی ونی کی صورت۔” جھومر تلخی سے مسکرائی ۔

“گو کہ یہ بہت بڑی تلخ حقیقت ہے لیکن وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا ایک نہ ایک دن کبیر تمہیں بھی پوری عزت کے ساتھ رخصت کروا کر لاۓ گا ۔ مجھے یقین ہے۔ “

جھومر نے اپنے امڈ آنے والے آنسو صاف کیے ۔

“تم فکر نہیں کرو ایسا کچھ نہیں ہونے والا.”

“چلو تمہیں کھانا کھلاتی ہوں”۔

دلاویز نے ماحول کو بدلنے کی کوشش کی ۔ کھانا ٹیبل پر لگا کر جھومر کو بلایا وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی ۔ دل آویز نے لازانیہ کی ڈش اس کے آگے بڑھائی۔ لازانیہ سے اٹھتی لاجواب خوشبو نے جھومر کو کھانے پر اکسایا۔اس نے اپنی پلیٹ میں نکال کر پہلا بائٹ لیا ۔

“دل ویری گڈ یار ویری ٹیسٹی تم کتنی اچھی لڑکی ہو مزہ آ گیا ۔” پھر تو جھومر نے دل لگا کر خوب کھایا۔ دلاویز بھی اس کے ساتھ کھانے لگی لیکن جھومر کی رخصتی کا نہ ہونا یہ بات اس کے دل میں اٹک سی گئ تھی۔

“ویسے میری اتنی شان دار اتنی محنت طلب دعوت کرنے کا کیا مقصد تھا”۔

“یہی مقصد تھا کہ میں اپنی بہن کے ساتھ وقت گزاروں اس کا دکھ اس کا سکھ ذرا تفصیل سے سنوں۔”

“اچھا تو تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں ہم راز بنا لوں گی ایک طرف تم بہن ہو تو دوسری طرف جیٹھانی بھی ہو سمجھیں مجھے تم سے ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی ہوتی ہے “۔

جھومر صاف گوئی سے بولی ۔

“تم بھی وہی روایتی سی ٹیپلک سی دیوارنی ثابت ہو رہی ہو اپنے بارے میں کیا خیال ہے “۔

وہ بھی دلآویز تھی جھومر کے ساتھ کی ٹونز۔ جھومر کھول کر ہنسی۔

“ہائے تلوے پر لگی سر پر بھجی “۔

“بکواس بند کرو مجھے بتاؤ یہ ونی ہونا اور ونی ہو کر آنا یہ سب کیا ہے ۔میں تم سے سننا چاہتی ہوں۔ “

“زیادہ اتاولی ہونے کی ضرورت نہیں جب میری طرف آؤ گی تو تمھیں لازانیہ کھلا دوں گی۔”

جھومر نے اب کی بار اسے چڑایا۔ دلاویز دھپ دھپ زمین پر پاؤں مارتی کچن میں چلی گئی۔ آخر کار کافی پیتے ہوئے جھومر نے کبیر کے ساتھ یونیورسٹی کے دنوں کی باتیں کس طرح سے شرط جیتی اور کبیر کو سب پتا چل گیا اور فوری افتادہ قتل کی پڑگئی اور بدلے میں کیسے جھومر کو حویلی میں لایا گیا اور کس طرح سے تاج خالہ نے دل کی جلن اپنی پانچوں انگلیوں سے اس کے گال کو سلگا کر ذرا سی کم کی تھی اور تمام مہمانوں کے سامنے اس کی تذلیل کر دی تھی ۔ اور تب سے اب تک اپنے گھر میں ملازمہ جیسی اہمیت دیتی تھی۔ کبیر کانوں کا کچا ماں کی باتوں میں آ کر دوسری شادی کا شوق پورا کرنے جانا چاہتا تھا لیکن اب بہت جلد مجھ سے شدید ترین محبت کرنے لگا ہے ۔

دل آویز کو دلی دکھ ہوا وہ جھومر کے جذبات کو سمجھتی تھی۔ اسے جھومر بے حد عزیز ہوگئی تھی ۔

“تم نے کبیر سے کہا کہ وہ تمہاری باقاعدہ رحصتی کروائے” ۔

“بہت دفعہ کہا ہے شاید یہ اس کے بس میں نہیں ہے”۔

“انسان کی نیت ہو تو سب بس میں ہو جاتا ہے۔”

دلاویز تھوڑا غصے سے بولی۔ جھومر کو اپنی ہمدردی میں دل آویز کو کلستے دیکھ کر ہنسی بھی آ رہی تھی اور وہ عزیز جان بھی ہونے لگی تھی۔

“اچھا یہ بتاؤ بابا تو تمہیں میرے سامنے ملے تھے اماں کیسے ملیں تھی” ۔

“یار سب کو لگتا ہے جیسے میں جھومر ہوں بس تمہارے مغالطے میں اماں چٹاچٹ پیار کئے جاتی ہیں ۔ “

“یونہی مت بول دیا کرو امّاں کی بابا کی محبت سچی اور انمول ہے وہ والدین ہیں مغالطہ تو نہیں کھا سکتے ہیں۔”

“ارے ایسے ہی کہہ رہی تھی اچھا یہ بتاؤ میری رخصتی پر کیا پہن رہی ہو؟”

“بہت اچھا ڈریس پہنوں گی تم فکر نہیں کرو”۔

گھڑی کی سوئیاں تیزی سے بھاگتی محسوس ہوئیں تو جھومر نے واپسی کا قصد کر لیا دونوں محبت بھرے جذبات ایک دوسرے پر لٹاتی جدا ہو گئیں۔

********

اگلی شام وہ کبیر شاہ کے پہلو میں بیٹھی شاپنگ کرنے جا رہی تھی وہ خاموش تھی حقیقتا وہ اس دکھ بھری آگ میں جل رہی تھی کہ کیا ہوتا۔ جو کبیر اس کی بھی رخصتی کرواتا وہ بھی اپنے ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو کر آتی ۔ کبیر خاموشی سے ڈرائیورنگ کر رہا تھا ۔

وہ مال میں خاموشی سے گھومتی رہی کبیر نے ایک لائٹ فیروزی کلر کی میکسی اس کے لیے سلیکٹ کی جو کافی ہیوی تھی ۔

“نہیں یہ نہیں پہنوں گی”۔

“کیوں”۔

کبیر نے غصے سے پوچھا۔

“میں برائیڈل نہیں ہوں مجھے فنکشن میں شرکت کرنی ہے” ۔

وہ سنجیدگی سے بولی کبیر کو اس کی بات ٹھیک لگی پھر ایک ہلکے کامدار میکسی پسند کی۔ جھومر کی رات والی بات کی وجہ سے کبیر بے حد ڈسٹرب تھا ۔ وہ یہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ جھومر ہمیشہ اس کی ونی بن کر آنے سے پہچانی جائے ۔ وہ اپنی ذات پر اس طرح کا لیبل لگوانا نہیں چاہتا تھا۔ اس ہتھک سے تھی اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی۔ کیا ہوتا جو بابا جان کہتے جھومر کی بھی رخصتی کروا لیتے ہیں اس نے محسوس کیا کہ میں ایک مرد ہو کر اتنی تکلیف محسوس کر رہا ہوں تو جھومر کتنی شدید دکھ اور تکلیف سے گزری ہے۔ آج اسے اندر ہی اندر جھومر بہت معتبر نظر آرہی تھی لیکن کبیر کا انداز مسلسل سوچتا ہوا تھا۔

*******

رخصتی والے دن دلآویز کمال کی لگ رہی تھی میرون کلر کا کام دار شرارہ سوٹ میں آفت لگ رہی تھی۔ شمشیر بار بار ایسے دیکھتا اور مسکراتا۔ تاج خاموش بیٹھی سب کچھ جج کر رہی تھی ۔

دلآویز کے حوالے سے شمشیر کی خوش قسمتی کے گن گائے جا رہے تھے ۔ دونوں حراماں حراماں چلے آ رہے تھے۔ فوٹوگرافر مووی میکر اردگرد کھڑے کیمرے کی آنکھ سے ماحول کو فوکس کر رہے تھے۔

جھومر پیچ کلر کی میکسی میں کچھ کم نہیں لگ رہی تھی بیش قیمت گولڈ کا سیٹ تھا جس میں جا بجا ڈائمنڈ جڑے تھے مگر وہ کانفیڈینٹ نظر نہیں آ رہی تھی۔اور بہت دور دور اور پیچھے تھی۔ کبیر اسے ڈھونڈتا ہوا اس کے پاس آیا اس کا خوبصورت روپ دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا۔

“تم اتنی دور کیوں ہو یہاں آؤ”۔

جھومر نہ چاہتے ہوۓ بھی کبیر کے ساتھ چل دی۔

“اس طرح تمہارے ساتھ چلنے میں مجھے کوئی فخر محسوس نہیں ہو رہا۔ “

کبیر نے رک کر اس کا مضحمل سا حسین چہرہ دیکھا ۔

“پہلا بچہ ہونے سے پہلے پہلے تمہاری رخصتی کروادوں گا اب خوش”۔

جھومر لال قندھاری انار جیسی ہوگئ۔ دل چاہے زمین پھٹے اور اس میں سما جائے ۔

“اب چلو گی یا نہیں” ۔

کبیر نے دوٹوک پوچھا جھومر اس کے ساتھ قدرے اعتماد سے چلنے لگی۔

کبیر کی بات نے اسے اعتماد تو دیا تھا مگر دوسری بات پر تو وہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔ کبیر نے تو بری طرح سے میرا منہ بند کروایا ہے لیکن میں بھی تاج خالہ کے سینے پر مونگ دلوں گی اور کبیر سے اس کے مارے ہوئے طمانچے کا حساب بھی برابر کرو گی۔ جھومر کا سنجیدہ چہرہ آنکھوں میں اداسی دیکھتے کبیر شاہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگا۔

اپنے قول کی کتنی پکی ہے ونی ہونے کو تو اس لڑکی نے گالی بنا لیا ہے بلکہ یہ کہہ کر کے آنے والے وقت میں لوگوں کو بتائے گی کہ وہ کبیر شاہ کی ونی ہے اس نے میرے سارے کس بل نکال دیے ہیں ہیں۔جھومر جیسی لڑکی کو سر کرنا۔ کبیر شاہ سوچ کر رہ گیا۔

رات گئے فنکشن جاری رہا رائمہ اور منان آنکھوں ہی آنکھوں میں پیغامِ محبت ایک دوسرے پر لٹاتے رہے ۔ رائمہ منان کی محبت کی سرشاری میں تھی اور منان رائمہ کے عشق میں میدان مارنے کی پلاننگ میں غرق تھا۔ واثق نے منان اور رائمہ کو اکٹھے کھڑے دیکھا تو رہ نہ سکا وہ ان دونوں کے بیچ آ کر کھڑا ہو گیا ۔ جو بے حد ایلمینڈ حرکت تھی ۔

“کہاں تم ادھر ادھر ڈگمگاتی پھرتی ہو۔ کچھ ہوش سے کام لو تمہارا چاہنے والا تمہارے قریب ہے ۔ آنکھیں کھول کر دیکھو ۔”

منان کا غصے سے خون کھول گیا ۔

“یہ کیا گھٹیا گفتگو کر رہے ہو تمہیں تمیز نہیں ہے کیسے بات کرتے ہیں۔”

تو اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ منان کا گریبان پکڑ لیا رائمہ ہونق بنی سب دیکھ رہی تھی۔ اب گردونواح کے لوگ متوجہ تھے۔ میراں جلدی سے اپنے بیٹے کی جانب بڑھی۔

“منان پلیز بیٹا اسی پر ہاتھ مت اٹھانا “۔

میراں منان کے آگے کھڑی اسے تنبیہ کر رہی تھی اور تاج زہر بھری مسکراہٹ لیے میراں کو دیکھ رہی تھی رائمہ کا بس نہیں چل رہا تھا واثق کی خباثت بھری آنکھیں نکال دے ۔

“میراں منان کا ہاتھ تھامے دور چلی گئی” ۔ وہ تاج کی معنی خیز مسکراہٹ اور طنزیہ انداز دیکھ کر بے حد دکھی ہو گئی تھی۔

“واثق کیا پرابلم ہےتمہارے ساتھ”۔

تاج نے سخت انداز میں اس کو گھوڑکا۔

“تائی جان وہ بھورے بالوں والا براؤن آنکھوں والا لڑکا آپ کی بیٹی پر فرشتہ نظر آ رہا تھا میں نے بھی دھاک بٹھانا چاہی اور وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔”

طنز یہ انداز اختیار کرتے ہوئے رائمہ کی جانب دیکھا جو بد مزہ ہو گئی تھی۔ واثق کی نگاہیں کیا چغلی کھا رہی تھی تاج کے لیے نہایت پریشانی کا باعث تھا۔

“رائمہ وہاں اسٹیج کی طرف چلو” ۔

تاج گرج کر بولی رائمہ سست قدموں سے دور چلی گئی تاج کافی ڈسٹرب ہوگئی تھی ۔

ایک لحظے کے لیے تاج نے غور کیا جھومر نے تاج کا سیٹ پہنا ہوا تھا۔ لیکن یہ سیٹ کبیر تک پہنچ نہیں سکتا تو کیا۔ جھومر ہماری تجوری تک رسائی رکھتی ہے تاج کو اختلاج قلب ہونے لگا۔

جھومر اور کبیر، دلآویز اور شمشیر کے ساتھ شوٹ کروانے لگے۔ کبیر نے جھومر کے ساتھ رومینٹک سا شوٹ کروایا جو جھومر نے کروانا اپنا حق سمجھا کیوں کہ تاج خالا لہو کے گھونٹ پی رہی تھی۔

“دونوں کتنے اچھے لگ رہے ہیں۔”

دلاویز نے کہا۔

“تم اپنی طرف دھیان دو شمشیر نے روٹھنے کی ایکٹنگ کی”۔

“شمشیر وہ میری بہن ہے”۔

“اچھا تو کبیر ہمارا لے پالک ہے۔”

شمشیر بھی سیدھا ہو گیا ۔

“کیا ہو گیا ہے یار آپ ایسے تو نہیں کرتے۔”

“ارے میری پیاری سی دلاویز کتنی جلدی سیریس ہو جاتی ہو مسکراؤ تا کہ تمہارے دلہناپے کے روپ کو چار چاند لگئیں”۔

کبیر اور شمشیر تو بیویوں کے پیچھے پاگل ہوئے پڑھےہیں۔ تاج بڑی بدمزہ رہیں اور جب میراں اسٹیج پر آئی تو اس کی سج دھج دیکھنے والی تھی عقب میں زیب عالم بھی تھے۔ ایک گہری نظر تاج پر ڈالی آج وہ انھیں بھی ان بان اور مغرور حسین عورت چٹان جیسی لگی تھی ۔

“تاج صاحبہ اللہ نے ہمیں اور آپ کو نئے رشتوں میں باندھ دیا ہے”۔ تاج بے حد جذبذ ہوئی۔

“نئے رشتے تو زبردستی بھی استوار ہو جاتے ہیں یاد تو ہوگا آپ کو۔” تاج کی سبز آنکھوں میں زیب عالم کے لئے تاکید تھی۔

“پرانی باتیں جو دل آزاری کا موجب بنیں انہیں بھول جانا چاہیے۔ “

“اور پرانے لوگ کیا وہ بھی بھول جانے چاہیں۔

باتیں اور یادیں تو انہی لوگوں سے جڑی ہوتی ہیں”۔

زیب عالم ذرا پھیکے پڑنے لگے ۔

“ارے ہم آپ کو افسردہ نہیں کرنا چاہتے تھے ہمیں آپ کی خوشیاں عزیز رہی ہیں اسی لیے تو خوامخواہ چبھنے والے کانٹے کی طرح آپ کو چبھتے رہتے اس لیے ہٹ گئے تھے تاکہ آپ کی اور میراں کی زندگی پر ہم اثر انداز نہ ہوں”۔

بات بہت دور تک جا رہی تھی زیب عالم میراں کے ہلانے پر ہوش میں آئے اتنی پر اسرار اور مضبوط عورت کے سامنے زیب عالم کو اپنا آپ عجیب سا محسوس ہوا ۔ آج بھی بلا کا اعتماد تھا اس عورت کو اپنے پر۔

“تاج چلیے رخصتی لیجئے “۔

اسد شاہ نے تاج کو کو کہا۔

“جی تو زیب عالم رخصتی دیجئے” ۔

تاج نے گہری نظروں سے زیب عالم کو دیکھا جو میراں کی طرف متوجہ تھے ۔ میراں تاج کی طرف مسکراتے ہوئے بڑی تاج یوں کھڑی ہوگی جیسے میراں کو جانتی نہ ہو۔ زیب عالم نے میراں کا ہاتھ پکڑا بیٹی اور داماد کی طرف بڑھ گئے۔

دلآویز شمشیر کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی جھومر میراں کے گلے لگی رو رہی تھی سب لوگ گاڑیوں میں بیٹھ رہے تھے۔ جب میراں کی نظر پڑی دور کھڑی رائمہ منان سے روتے ہوئے باتیں کر رہی تھی۔ میراں جھومر سے جدا ہوئی۔

“جھومر تم فرصت سے مجھ سے فون پر بات کرنا تم سے ضروری بات کرنی ہے۔ “

ا”ماں میں گھر آجاوں گی۔ “

جھومر روتے ہوئے منمنائی۔

“شوہر اور ساس کی اجازت سے آنا۔”

“اماں ساس کبھی آنے نہیں دے گی میرے ساتھ تو خالہ کا ﷲ واسطے کا بیر ہے۔”

وہ روتے ہوۓ بولی۔

“تم اپنی اکھڑ خانیاں ختم کر دو وہ تمہیں کچھ نہیں کہے گی۔ “

“نہیں میں اس گھر میں مر جاوں گی۔ “

“جھومر عقل سے کام لو کبیر تمہیں اتنا چاہتا ہے”۔

رائمہ ابھی تک منان سے باتیں کر رہی تھی جب کبیر نے جھومر سے چلنے کے لیے کہا اور رائمہ کو فون کیا کہ جلدی گاڑی میں آکر بیٹھے۔

راستہ خاموشی سے کٹ گیا۔ جب گاڑیاں زرتار محل میں آ کر رکی تو تاج کو بہت سی رسمیں یاد آ گئی تب جھومر کو آوازیں دے دے کر کہنے لگیں ۔

“جھومر دودھ لے آو فریج میں کھیر پڑی ہے ۔ ملازم سے کہو کھیر لے کر آۓ”۔

شمشیر نے ہنستے ہوئے چمچ بھر کر کھیر دلآویز کے منہ میں ڈالنی تھی وگر دلآویز کا منہ کھلا رہ گیا اور وہ کھیر خود کھا گیا تب لڑکیوں لڑکوں کے مجمعے نے خوب ہوٹنگ کی پھر تا دیر تک ہنسی مذاق کرتے رہے۔ دل آویز اور شمشیر کو ان کے کمرے میں بھجوایا دیا گیا ۔

“جھومر ہمیں تم سے کچھ کہنا ہے۔”

تاج نے جھومر کو روک لیا۔ تھکا سا حسن تاج نے دیکھا تو اندر تک کرواہٹ گھل گئی۔

“ہماری جیولری اتارو اور ہمیں واپس کرو۔”

جھومر تاج کے روبرو کھڑی ہوئی۔

“پہلی بات یہ کہ جیولری میری ہے میں آپ کو نہیں دوں گی دوسری بات یہ کہ میرا پیچھا چھوڑ دیں”۔

“بکواس کرنے کی تمہاری پیدائشی عادت ہے دیکھتے ہیں ہم تم ہماری جیولری کیسے واپس نہیں کرتی ۔”

“میں بھی دیکھتی ہوں آپ مجھ سے جیولری کیسے لیتی ہیں ۔”

تاج تلملاتے ہوئے اپنے کمرے میں آ گئی ۔

کبیر نے کوٹ اتار کر صوفے پر رکھا۔جھومر آتے ہی غصے میں جیولری اتارنے لگی۔ کبیر شاہ نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

“ابھی تو میری آنکھوں نے تمہیں اچھی طرح دیکھا نہیں اور تم ساری تیاری ملیا میٹ کرنے چلی ہو۔”

“ادھر آپ کی والدہ کو مصیبت پڑی ہوئی ہے” ۔

“کیا ہوا مما نے کیا کہہ دیا۔ “

“وہ کہہ رہی ہیں یہ جیولری جو میں نے پہن رکھی ہے یہ ان کی ہے اور وہ کہہ رہی ہیں میری جولیری مجھے واپس دو۔ “

“اہ نو مما کو غلط فہمی ہو رہی ہے مجھے مما کی اس ڈیزائن کی جیولری بہت پسند تھیں اتفاق سے جیولر کے پاس مما کے سیٹ جیسا سیٹ موجود تھا تو میں نے تمہارے لئے لے لیا اور اب مما کو ایسا لگا ہوگا کہ تم نے ان کی جیولری پہنی ہوئی ہے ۔”

“مسلسل خالہ مجھے ایرٹیٹ کئے جا رہی تھی جائیں انہیں بتائے ورنہ صبح سلائس کے ساتھ مجھے بھی ناشتے میں کھا جائیں گی”۔ جھومر نے اسے بے بس ہوتے کہا کہ کبیر شاہ کو بے ساختہ ہنسی آگئ۔

” یار میرا دل نہیں چاہ رہا کہ ایک لمحے کے لئے بھی تمہیں چھوڑ کر باہر جاؤں۔ صبح میں مما کی غلط فہمی دور کر دوں گا سلائس کھانے سے پہلے پہلے “۔

کبیر نے ایک آنکھ دبا کر شوخی سے کہا تو جھومر نہ چاہتے ہوئے مسکرا دی۔

********

دلآویز لہنگا پھیلائے بیڈ کے وسط میں بیٹھی تھی۔ شمشیر پر جوش ہوتے ہوئے اسے کے قریب آ کر بیٹھا اور یوں بولنے لگا جیسے دلآویز کو آج ہی دیکھا ہے آج ہی پہلی ملاقات ہوئی ہے ۔

“ایکچلی گھر والوں نے رخصتی کا شور مچا دیا تو سب کی خوشی کے لئے مجھے یہ سب کرنا پڑا ۔”

دل آویز نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا تو بولا۔

“نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں اندر سے میں بھی راضی تھا ۔ بہت پیار کرتا ہوں آپ سے آئی لو یو❤ امید کرتا ہوں آپ بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں گی۔ یہ دیکھیں میں آپ کے لیے کیا لایا ہوں”۔

اس نےجلدی سے جیب سے ایک پیارا سا پیکٹ نکالا دلآویز کو شمشیر اور اس کی باتیں عجیب لگ رہی تھی ۔ وہ نواں نویلا دلہا بننے کے چکر میں تھا ۔ دل آویز خاموشی سے اس بدلے ہوئے شمشیر کو دیکھنے لگی۔ گفٹ پیک دل کے آگے بڑھایا تو اس میں سے مخملی سی ڈبیا نکلی ۔

کھول کر دیکھا تو اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔ دل آویز کا پارہ تھوڑا ہائی ہونے لگا ۔

“اہ یہ تو خالی ہے ٹھہریں ٹھہری میں دیکھتا ہوں۔”

پھر دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا ایک اور مخملی سی ڈبیا نکال کر اس کی طرف بڑھا دی ۔ اب کے دل آویز نے کڑے تیوروں کے ساتھ جلدی سے ڈیبی کھولی۔

ایک نہایت خوبصورت اور قیمتی انگوٹھی کی چمک دھمک نے دل کو مسکرانے پر مجبور کر دیا۔

“کیسی ہے ۔ “

شمشیر نے اسے ٹہوکا مارا۔

“اچھی ہے مگر یہ جو دلہا بننے کی ایکٹنگ کی ہے نہ یہ اس انگوٹھی سے زیادہ اچھی تھی ۔”

“شکر ہے میری جان کو اپنا دولہا پسند تو آیا”۔

“ہاں مجھے دلہا رخصتی اور سسرال سبھی ہی کچھ بہت پسند آیا ہے لیکن میری بہن کے لئے آپ نے کوئی اسٹینڈ نہیں لیا “۔

دل آویز اداس ہوتے ہوئے بولی۔

“تمہاری بہن کے لیے جو کرنا ہے وہ کبیر نے کرنا ہے اور مجھے یہ اتنے حسین چہرے پر اتنی اداسی نہیں چاہیے ابھی تم بھول جاؤ جھومر کو۔ اتنی پیاری لگ رہی ہو شکر کرتا ہوں کہ تم سے نکاح کر لیا تھا ورنہ نیاز تو اتنا حسن دیکھ کر مر مرا ہی جاتا”۔

“شمشیر خبردار مجھے نیاز کے نام سے چھیڑا تو ورنہ میں آپ کو چھوڑوں گی نہیں۔”

“میں بھی تو یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے نہ چھوڑو۔”

“شمشیر آئی ہیٹ نیاز۔ “

شمشیر نے بے ساختہ قہقہہ لگایا اسی پل دروازے پر دستک ہوئی۔ ملازمہ شمشیر کی دلہن کو بلانے آئی تھی۔

“بڑی بیگم صاحبہ دل آویز بی بی کو بلا رہی ہیں”۔

شمشیر بڑا بد مزہ ہوا بھلا یہ کوئی وقت ہے دل کو بلانے کا اس نے دل میں سوچا۔

“اچھا تم جاؤ وہ آتی ہیں”۔

“دل آویز تمہیں مما بلا رہی ہیں “۔

دل بھی تھوڑی حیران ہوئی پھر اگنور کرتے ہوئے بولی۔

“میں ابھی جاتی ہوں”۔

شمشیر نے اس کا لہنگا سنبھالنے میں اس کی مدد کرنا چاہی تو وہ بولی۔

“میں سنبھال لوں گی آپ فکر مت کریں”۔

“اچھا میں تمہیں مما کے کمرے تک تو لے جاؤں” ۔

“جی ضرور ۔”

وہ اسے ماں کے کمرے میں لے آیا اسد شاہ ابھی بیڈ روم میں نہیں آئے تھے۔

“شمشیر ہم نے تمہیں نہیں بلایا صرف اسے بلایا ہے”۔

شمشیر بدستور کھڑا رہا۔ شمشیر کو نظر انداز کرتے ہوئے تاج نے توپوں کا رخ اس کی طرف کیا۔

“شمشیر نے تمہیں منہ دکھائی میں کیا دیا ہے “۔

دلاویز نے ہاتھ آگے بڑھا دیا انگلی میں ایک خوبصورت ڈائمنڈ کی انگوٹھی دمک رہی تھی ۔

“ہمیں انگوٹھی اتار کر دکھاؤ ۔”

دلاویز نے شمشیر کی طرف دیکھا اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میں انگوٹھی اتار کر دینے کو کہا۔ تاج نے فورا سے انگوٹھی اپنی انگلی میں اڑس لی ۔شمشیر کو ماما کی یہ غیر مہذب حرکت بالکل اچھی نہ لگی لیکن وہ خاموش رہا تاج غصے سے بھری ہوئی اٹھی اور لاونج میں چلی گئی۔

“آو میرے ساتھ۔”

“جھومر، کبیر، رائمہ۔”

وہ ماما کی اتنی اونچی میں سب کو بلانے پر فورا نیچے آۓ۔

جھومر نے ابھی تک وہی جیولری پہنی ہوئی تھی۔

“بہن کے گھر آنے سے پہلے تم نے زیورات پر ڈاکہ ڈال دیا تم سب سن لو جھومر کا زیور بھی ہمارا زیور ہے اور یہ انگوٹھی بھی ہماری ہے”۔

“مما ریلیکس آپ اپنا جیولری باکس دیکھیں۔”

کبیر نے فورا بات سمیٹنی چاہی۔

“تو تمہیں ہماری بات پر یقین نہیں آ رہا مما پلیز بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں مین آپ کا جیولری باکس لاتی ہوں۔”

اور واقعی میں پھر بہت عجیب ہوا۔ جھومر کے زیور جیسا ہوبحو زیور تاج کے پاس بھی موجود تھا اور اسی طرح سے دل آویز کی انگوٹھی بھی پہلے سے موجود تھی ۔ سب کچھ سب کے سامنے تھا۔

تاج بار بار انگلی سے دل آویز کی انگوٹھی اتارنے کی کوشش کرتی مگر ناکام تھی عجیب سی پریشانی کے آثار ان کے چہرے سے ہویدا تھے بچوں کے سامنے اتنی تذلیل ہو گئی تھی ۔

“اسد ہمیں غلط فہمی ہو گئی تھی اب یہ انگوٹھی اتر نہیں رہی ہماری جان نکل رہی ہے پلیز ہمیں لے جائیں” ۔

“کہاں جائیں گئیں۔ “

اسد حیرانی سے بولے۔

“ہمیں جیولر کے پاس لے جائیں ہم مر جائیں گے۔ رات نہیں گزرے گی ہر صورت یہ انگوٹھی اتارنی ہے۔”

تاج بچوں کی طرح سے مچل رہیں تھیں۔ جھومر اور دل چھپی چھپی سی مسکراہٹ ایک دوسرے کو پاس کر رہی تھی ۔

“بابا آپ مما کو حاکم بھائی کے گھر لے جائے وہ انگوٹھی کاٹ دیں گے “۔

“کیا میری انگوٹھی کٹ جائے گی” ۔

دل آویز پریشان ہوتے ہوئے بولی۔

“ہم تمہیں بہت سی انگوٹھیاں دے دیں گے تم فکر نہیں کرو لیکن ابھی ہمیں یہ اپنی انگلی سے جدا کرنی ہیں چلیں اسد جلدی کریں۔”

دلآویز کی بات پر تاج فوری بولی تھی۔

اور اسد انہیں لے گئے۔

“آپ دونوں کو ماما کی جیولری اتنی پسند تھی تو ہو بہو ویسی ہی جیولری لینے سے پہلے مما کو بتا دیتے بیچاری کتنی شرمندہ ہو رہی تھیں”۔

رائمہ کو تاج کی بے حد فکر ہو رہی تھی سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے جھومر نے دل کو میسج کیا ۔

“کیسا رہا”۔

دل آویز نے جواب دیا ۔

“مزا آگیا ۔”

جھومر مسکرانے لگی ۔ کبیر شاہ رومینٹک ہوتے ہوئے اس کے قریب آ گیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *