Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 07)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 07)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
“تقریبا چھ ماہ ہوئے ہیں ہم کلاس فیلوز ہیں۔ “
“اس دن کے بعد سے اس نے تم سے رابطہ کیا ۔”
“جی ہر دوسرے تیسرے دن وہ مجھ سے معافی مانگتی ہے” ۔
“کسی اور لڑکی سے اس کی دوستی ہے ۔ “
“ہاں میرے بعد حبیبہ نامی لڑکی سے اس کی دوستی ہوئی ہے لیکن آپ اس کے بارے میں یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔ “
“تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔تمہارے لیے ورنہ وہ میرے ماموں کی بیٹی تو نہیں ہے نہ” ۔
شمشیر نے اسے اپنا کارڈ دیا۔
“تمہیں اس سے کوئی خطرہ محسوس ہو تو مجھے اس نمبر پر کال کر لینا وہ طوائف ہے اور تم اس کے ساتھ طوائفوں کے کوٹھے پر چلی گئیں تھیں ایک دن میں نے تمہیں اس کے ساتھ بازار میں دیکھا تھا تم پتا نہیں کیا کوڑ کباڑ خرید رہی تھی تم تو ریزن ایبل لگ رہیں تھیں مگر وہ خاص وہی لگ رہی تھی پھر چند دن بعد تم میکڈونلڈز کے کاونٹر میں ان ڈیوٹی نظر آی تو مجھے حیرت ہوئی میں نے تمہیں پہچان لیا تھا میں انارکلی ۔۔۔۔۔شاپنگ کے لیے گیا تھا اور تم مجھے اس لڑکی ثانیہ کے ساتھ انارکلی نظر آئیں تم اپنے علاقے سے بہت دور تھی ایک تجسس مجھے تمہارے پیچھے لے گیا یا پھر اللہ نے تمہیں بچانا تھا میں نے تمہیں شاہی محلے میں اینٹر ہوتے دیکھا تو میں اور بھی چوکنا ہو گیا ثانیہ تمہیں اوپر کی منزل پر لے گئی میں تمہارا پیچھا کرتا ہوا پہنچ گیا میں بھی پہلی دفعہ ہی وہاں گیا تھا مگر پھر بھی ان کی نائقہ سے کہا کہ میں اپنی کزن کے ساتھ آیا ہوں مجھے تمہارے نام کا بھی پتہ نہیں تھا وہ بھی بڑی تیز عورت تھی اس نے مجھے ہر طرح سے جانچ لیا تھا وہ تو ایک لمحے میں تمہاری مالکن بن بیٹھی تھی جب میں نے چالیس ہزار کا چیک لکھ کر اس کے ہاتھ میں دیا تو اس نے ایک منٹ سے پہلے تمہیں میرے ساتھ بھیج دیا اور میں نے تمہیں تمہارے گھر پہنچا دیا بھلا اتنا سیدھا اور اتنا شریف آدمی تمہیں کہاں سے ملے گا ۔
“جی آپ نے ٹھیک کہا ۔”
وہ فورا اس کی بات سے متفق ہوئی تھی۔
اور بات سمجھ میں آتے ہی دلاویز شرمندہ سی ہوگئی۔
“آپ کا نام۔ “
“شمشیر شاہ۔ “
“شمشیر صاحب میں آپ کی بڑی شکرگزار ہوں مجھے ثانیہ سے اس طرح کی کوئی توقع نہیں تھی ورنہ میں اس سے دوستی ہی نہ کرتی۔ “
“آپ کو صفائی دینے کی ضرورت نہیں آپ کے ہر انداز سے اتنی بیوقوفی جھلکتی ہے کہ کوئی بھی سمجھ جائے گا آپ کیا سمجھ سکتی ہیں اور کیا نہیں “۔
اب دلاویز کھل کے ہنس پڑی وہ ہنستی ہوئی اور بھی اچھی لگی ۔
“چلیں اب میں آپ کو ڈراپ کردوں۔”
“چلیں”۔
******
جھومر شاپنگ مال سے نکل رہی تھی جب کبیرشاہ اسے وہیں مل گیا۔
“ہیلو کیسی ہو ۔ “
“فائن ۔”
“شاپنگ کرنے آئی تھی”۔
“نہیں جھک مارنے آئی تھی ۔ “
“جھک مار لی ہو تو آئیں ساتھ کافی پی لیتے ہیں ۔ “
“اگر میں کہوں کہ مجھے دیر ہو جائے گی۔ “
“تو سراسر جھوٹ بولیں گیں۔ “
جھومر کو غصہ تو آیا مگر اگنور کر گئی پھر اس کے ساتھ کیفےٹیریا چلی ائی۔ سردی بھی بہت تھی صبح سے بادل گرے ہوئے تھے ہر طرف دھند پھیلی ہوئی تھی ۔ کبیر شاہ اس کا چہرہ دیکھنے میں محو تھا۔
“مسٹر ہوش کریں۔ “
جھومر نے انگلی سے ٹیبل بجائی تو کبیر مسکرایا۔
آج کل وہ پور پور جھومر کی محبت میں ڈوبا پڑا ہوا تھا مگر جھومر کی سخت مزاجی نے اسے باندھ رکھا تھا وہ اسے پٹری سے اترنے ہی نہیں دیتی تھی۔
“آپ کس مٹی کی بنی ہوئی ہیں ۔”
“چائنہ کی مٹی کی بنی ہوئی ہوں۔ “
“وہ تو ہر طرف مولڈ ہو جاتی ہے ۔ “
جھومر لا جواب ہوئی۔
“ہم دونوں کے بیچ فضول باتوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ “
جھومر اکتا کر بولی۔
“آپ کچھ ہونے ہی نہیں دیتی۔”
کبیر شاہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
“کبیر شاہ آپ مجھ سے امیدیں مت باندھیں خدارا سمجھنے کی کوشش کریں ۔”
“میرے جذبے اتنے سچے ہیں کہ انشاءاللہ میں ایک نہ ایک دن آپ کو اپنا بنا لوں گا ۔ “
جھومر استہزایہ ہنسی۔ جیسے کہہ رہی ہو
دیکھیں گے۔
*****
دلآویز شام کے ڈھلتے سائے میں اپنے ٹیرس پر تھی سورج غروب ہونے کا منظر بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا ایسے میں شمشیر شاہ یاد آنے گیا ۔ کھلی ہوئی سرخی مائل رنگت گھنے سیاہ بالوں کا خوبصورت سٹائل اور اونچا لمبا قد چوڑے شانے اور اتنا فرشتہ صفت کہ دلآویز بے حد انسپائر تھی۔
اگر وہ خطر ناک عورتیں مجھے اس کوٹھے سے نیچے اترنے ہی نہ دیتی تو میں کیا کر سکتی تھی میری زندگی کیا ہوتی پہلے ہی قسمت نے عجیب سا کھیل کھیلا ہے نہ والدین کا پتہ ہے نہ کوئی کچھ بتانے والا ہے۔
بابا اور ماما کی وہ بہت عزت کرتی تھی مگر کبھی کبھی شدید خواہش جاگتی کہ اپنے سگے والدین کے متعلق معلوم کرے ۔
بس میں تو ایک سوالیہ نشان ہوں۔ ثانیہ کو میں نے یہ بات بتا دی تھی کہ مجھے میرے ریل پیرنٹس کا پتہ نہیں ہے کہ وہ کون ہیں شاید اسی لیے اس کے حوصلے بڑھ گئے تھے کتنی مکار نکلی ۔یہ تو مالک حقیقی کا شکر ہے کہ میں واپسی اپنے گھر میں ہوں مگر اب شمشیر شاہ جو واقعی شیر جیسے ہی لگتے تھے ان کا کیا کرو یہ تو کہیں سے بھی ٹپک جاتے ہیں۔ جب میں نے ثانیہ سے دوستی ہی ختم کر دی ہے تو پھر یہ شمشیر شاہ میرے پیچھے کیوں آتے ہیں؟ اور انھیں دیکھتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہونے لگتی ہیں ۔ عجیب دل کی مریض سی ہو جاتی ہوں وہ اپنے خیالوں میں خود سے سوال کرتی رہی۔اور خود سے جواب طلب کرتی رہی ۔ میں ہمت کر کے اپنے والدین کو ضرور ڈھونڈوں گی۔
اس نے ہاتھ اٹھا کر صدق دل سے اللہ سے دعا مانگی۔ اے میرے مالک میری صدا سن لے تو مجھے میرے والدین لوٹا دے میرے اندر کا خلا پر کر دے۔ اے اللہ میرا ادھورا پن دور کر دے ۔ منہ پر ہاتھ پھیر کر اسے ایسا لگا جیسے سچ مچ اس کی دعا قبول ہو گئی ہو اس کو گونہ احساسِ سکون ہوا اور اگلی صبح اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا اس کے خوابوں خیالوں میں بھی نہیں تھا ۔
اگلی صبح یونیورسٹی سے واپسی پر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر سڑک کے کنارے پر چل رہی تھی جب ایک گاڑی اس کے پاس آ کر رکی اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی کسی نے کپڑا اس کے ناک پر رکھا اور وہ اپنے ہوش کھو گئی۔
دو ڈھائی گھنٹے بعد ہوش آیا تو وہ کسی کمرے میں تھی اور کمرے میں نیم تاریکی تھی وہ ہوش میں آتے ہی جلدی سے دروازے کی طرف بڑھی مگر دروازہ باہر سے بند تھا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی دائیں طرف ایک اور دروازہ نظر آیا وہ جلدی سے اس طرف بڑی دروازہ آرام سے کھل گیا مگر وہ واش روم تھا باتھ روم میں بائیں طرف ایک کھڑکی تھی اس نے آگے بڑھ کر جھنکا دور دور تلک گھاس اُگئی ہوئی تھی کوئ انسان ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ دروازہ بند کرتی وہ واپس کمرے میں آ گئی اور ڈرتے کانپتے باہر کو کھلنے والا دروازہ ڈھڑ ڈھڑانے لگی۔ منتیں کرنے لگی کہ دروازہ کھول دو۔ مجھے چھوڑ دو سب کچھ بیکار تھا وہ تھک کر بیڈ کے کونے پر بیٹھ گئی تھی انسو قطار در قطار رخسار بھیگونے لگے تھے ۔”اے اللہ میری مدد فرما اے اللہ مجھے بچا لے میری عزت کی نگہبانی کرنا۔ “وہ گوٹنوں میں منہ چھپاتی اللہ سے دعا گو تھی۔
اتنی دیر میں ایک ہٹا کٹا آدمی کھانے کی ٹرے لیے اندر آیا۔
“لڑکی کھانا کھا لو “۔
“بات سنیں میں کہاں ہوں۔ پلیز مجھے جانے دیں میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے۔ “
وہ فورا اٹھ کھڑی ہوئی۔ اور اس آدمی سے کہنے لگی مگر وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر واپس چلا گیا ۔
اسے یک دم شمشیر شاہ یاد آنے لگا کہیں مجھے شمشیر شاہ نے تو کڈنیپ نہیں کروایا اس کاذہن جیسے ماوف ہونے لگا۔ وہ دونوں ہاتھوں پر سر گرا کر بیٹھ گی غم سے نڈھال ہورہی تھی۔
“مجھے کیا ضرورت تھی شمشیر شاہ سے تعلقات رکھنے کی غلطی تو میری اپنی ہے۔ “
اگر یہ رات یہی گزر گی تو میں کیا کروں گی اگلی صبح مجھ پر کون یقین کرے گا۔ رو رو کر اس کا حلق خشک ہونے لگا تو کھانے کے ساتھ رکھا پانی کا گلاس کانپتے ہاتھوں سے اٹھایا اور منہ کو لگا لیا۔ وقت کتنا گزر چکا تھا اسے اندازہ نہیں تھا۔
******
پچھلے دس دنوں سے چاچو کا نیا آفس سیٹ کروانے میں لگ گے تھے آج بہت تھکاوٹ تھی۔ فون سائلنٹ پر لگا کر وہ سو گیا۔ دلآویز پر کیا بیت رہی تھی اس کے فرشتوں کو بھی نہیں پتہ تھا۔
نیاز نے اسے اپنی آنکھوں سے کڈنیپ ہوتے دیکھا تھا۔ اس نے جلدی سے گاڑی اس کے پیچھے لگادی۔ تقریباً دو گھنٹے بعد گاڑی پھول نگر کے سنسان ایریے میں رکی اور لڑکی کو بے ہوشی کے عالم میں عمارت کے اندر لے گئے۔ جگہ مقام ذہن میں رکھتے ہوئے نیاز نے شمشیر صاحب کے ساتھ پوری وفاداری نبھائی۔ لڑکی کو اٹھانے والے ایک آدمی کو نیاز اچھی طرح سے جانتا تھا۔ نیاز بھی سٹپٹا گیا کہ اس کو لڑکی اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔
نیاز نے راستے میں فون کیے مگر دوسری طرف مطلوبہ نمبر کے بند ہونے کی دھائی جاری تھی۔ گھر آکر بیگم صاحبہ سے چھوٹے صاحب کا پوچھا تو پتہ چلا وہ سو رہے ہیں۔ نیاز موقع دیکھ کر شمشیر کے بیڈروم میں چلا گیا۔
“صاحب جی۔۔۔۔۔۔۔۔ “
ہاتھ سے ہلاتے ہوئے صاحب جی کو جگانہ بھی مصیبت کو آواز دینے والی بات تھی۔
“صاحب جی اٹھیں ایک ضروری بات کرنی ہے”۔
شمشیر نیند میں مست اس کی طرف مڑا نیاز کو اپنے بیڈ روم میں دیکھ کر حیران ہوا۔
“صاحب وہ لڑکی ہے نہ یونیورسٹی والی۔”
“ہاں کیا ہوا اسے۔ “
شمشیر کی نیند بھک کرکے اڑگی۔
“صاحب جی وہ اغواء ہوگی ہے”۔
“کیسے تمہیں کیسے پتہ۔ “
“صاحب جی میں نے خود نہ صرف ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے بلکہ گاڑی کا پیچھا بھی کیا ہے جگہ ٹھکانہ سارا پتہ ہے جی۔ ایک بات اور وہ اپنا پرانا ڈرائیور ہے نہ وہ بھی ساتھ ہی تھا۔۔”
شمشیر فورا ہی اٹھ بیٹھا ۔
“میں فریش ہو کر آتا ہوں تم میری گاڑی نکالو۔ “
تھوڑی ہی دیر میں وہ انسپیکٹر خضر سے سکیورٹی کے لیے چار سپاہی ساتھ لے جا کر ٹھکانے پر اترا تقریباً گیارہ بجے اسنے پولیس سمیت پھول نگر کے ویران گھر پر دھاوا بول دیا۔ صرف دو لوگ برآمد ہوۓ تھے جنھیں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔
لاکڈ دروازہ کھولا گیا تو اندر دلاویز بے ہوش پڑی تھی۔ شمشیر نے دلآویز کو بازووں میں اٹھایا اور احتیاط سے اپنی گاڑی تک لایا اور پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔ لاہور آتے آتے ڈھائی گھنٹے مزید گزر گے۔ مگر دلآویز کو ہوش نہیں آیا۔
اب سوال یہ تھا کے کیا کرے اور کیا نہ کرے۔
کچھ سوچ کروہ اسے اپنے ذاتی اپاٹمنٹ میں لے گیا۔ جو اس نے دوستوں کے ساتھ ہلا گلا کرنے کے لیے خریدا ہوا تھا۔ دلآویز بے ہوش پڑی تھی۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ اور حالات سمجھ سے باہر تھے۔ نیاز کچھ کھانے پینے کا سامان لے آیا تھا۔
اب وہ اسے نیاز کے رحم و کرم پر بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اگر اس کے گھر لے جاتا تو مود الزام ٹھہرایا جاتا۔ عجیب مصیبت پال بیٹھا تھا۔
آخر کار یہی رکنے کا فیصلہ کرکے وہ کمرے سے باہر آگیا۔ صوفے پر بیٹھے بیٹھے ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔
صبح پانچ بجے دلآویز کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ حیران ہوئی۔ یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ پہلے تھی۔ تو پھر اب کہاں تھی وہ۔
*******
“ہیلو تاج بھابھی شمشیر اس لڑکی کو بازیاب کروا کر لے گیا ہے اب وہ کہاں ہے یہ میرے علم میں نہیں ہے۔ “
“خضر بھائی یہ کیسے ہو سکتا ہے اس کو یہ سب کیسے پتہ چلا ۔”
“سوری بھابھی مجھے اس بات کا علم نہیں ہے لیکن اب آپ کے کارندوں کا کیا کروں ؟”
“انہیں چھوڑ دیں۔ “
“اول رائٹ اور کوئی ہمارے لائق خدمت۔ “
“شکریہ خضر بھائی ۔”
تاج نے موبائل بند کر دیا شمشیر سے دلآویز کا تعلق اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا تاج اس لڑکی کے جوان ہونے کا انتظار کر رہی تھی اس کو اغوا کروا کر اس کی عزت خراب کر کے واپس اسے اس کے گھر پہنچا کر زیب عالم اور میراں سے اپنے بدلے کا ایک قطرہ قرار حاصل کرسکتی تھی۔ تاج کے اندر زہر بھرا ہوا تھا وہ خوب خبریں رکھتی تھی جھومر کون سی یونیورسٹی میں پڑتی ہے اور منان پڑھنے لندن گیا ہوا ہے میرا حویلی کی مہارانی بنی پھرتی ہے۔
“جو جیسا ہے ویسا میں رہنے نہیں دوں گی۔ “
******
“مجھے پتہ تھا تم نے ہی مجھے کڈنیپ کروایا ہے تمہاری خباثت میرے سامنے آ گئی ہے کیا ملا مجھے ذلیل اور رسوا کر کے وہیں کوٹھی پر ہی رہنے دیتے مجھے۔ “
دلاویز کی آواز سے شمشیرکی آنکھ کھل گئی وہ اس کے سامنے سوالیہ نشان بنی کھڑی تھی اور اس کے اگلے جملے پر شمشیر نے شدید غصے میں آکر دلآویز کے گال پر تھپڑ رسید کردیا دلآویز کی آواز وہیں مفقود ہو گئی تھی۔وہ آہوں اور سسکیوں سے رونے لگی ۔تو شمشیر کو اس کئ ذہنی حالت کا احساس ہوا۔ کچھ دیر بعد شمشیر نے بولنا شروع کیا۔
“دل آویز میں نے نیاز کو کہا تھا تم پر نظر رکھے تمہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے مگر وہی ہوا نیاز نے اغوا کرنے والوں کا پیچھا کیا پھر جگہ معلوم ہونے پر مجھے فون کیا ۔
میں نے فون نہیں اٹھایا اس نے مجھے گھر آکر اطلاع دی تھی میں پولیس لے کر دو گھنٹوں میں تمہارے پاس پہنچا تمہیں بازیاب کروایا اور اگلے دو گھنٹوں میں واپس آیا ۔اب یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں کیونکہ تم بے ہوش تھیں رات کا ایک بج رہا تھا۔کیونکہ اس شہر میں میرے والدین کی بڑی عزت ہے اس لیے تمہیں یہاں لے آیا تھکن کی وجہ سے ابھی آنکھ لگی تھی کہ تم نے چیخ و پکار شروع کر دی دلآویز ممنون سی شمشیر کو دیکھنے لگی۔ وہ ایک دفعہ پھر شرمندہ تھی۔
“آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ مگر میری عزت داؤ پر لگ گئی ہے زمانے کو کیسے یقین دلاوں گی میرا ایک رات باہر رہنا میرے لیے کتنا تنگی خا باعث ہے آپ سوچ بھی نہیں سکتے “۔
“پھر اب اس مسئلے کا کیا حل ہوگا ۔ “
شمشیر خاصے تھکے ہوئے انداز میں بولا۔
“آپ مجھ سے نکاح کرلیں۔ “
شمشیر ہونق بنا اس کا منہ دیکھنے لگا۔
“اس طرح عزت بچ جائے گی”۔
“ہاں یہ تو ہوگا لوگ کہیں گے کہ بھاگ کر شادی کر لی ۔جائز تو ہو گا نا جائز کیسے جیوں گی ۔ “
وہ رو رو کر بے حال ہو رہی تھی۔
“میں کسی اور سے تمہارا نکاح پڑھوا دیتا ہوں مگر تم رو مت۔وہ رونا بھول کر شمشیر کی طرف دیکھنے لگی۔ “
“کس سے کروائیں گے ۔ “
نیاز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیاز ۔
شمشیر نے بلند مردانہ آواز کا استعمال کیا ۔گہری سانولی رنگت پر بڑے بال داڑھی مونچھیں ایسا ڈراؤنا ہیبت ناک “نیاز” کے دلآویز کے آنسو پھر جاری ہوگئے۔
“جی صاحب جی ۔”
“چائے بناؤ دو کپ۔”
“یہ نیاز ہے اس سے تمہارا نکاح پڑھوا دیتا ہوں “۔
شمشیر رخ موڑ کر ہنسی ضبط کرنے لگا۔
“آپ کا دماغ چل گیا ہے میں اس بھوت سے نکاح کروں گی”۔
“تو کیا عزت نہیں پہچانی ۔ “
وہ نہایت معصومیت سے پوچھ رہا تھا۔
نہیں میں بے عزت ہی ٹھیک ہوں ۔
دلآویز دھواں دھار رونے لگی اور شمشیر سے اپنا قہقہا قابو کرنا مشکل ہو گیا۔
“او ہو دن تو چڑ لینے دو ابھی تو مولوی صاحب نے نماز بھی ادا نہیں کی ہوگی ۔ “
شمشیر نے ہنستے ہنستے اسے تسلی دینے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔
“نیاز چائے لے آیا ٹرالی میں بسکٹ پیزا پیسٹری سب کچھ موجود تھا اب شمشیر کو دلآویز پر بڑا پیار آیا اس کی معصوم باتیں دل کو چھو گئیں تھیں وہ سنجیدگی سے نیچے کار پٹ پر اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
“دل آویز ہر مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل ہوتا ہے۔ “
شمشیر نے اس کا چہرہ اوپر کیا رو رو کر ناک اور آنکھیں سرخ ہو گئں تھیں ۔آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔ وہ ذہنی طور پر بے حد پریشان تھی۔
“جاو فریش ہو کر آؤ۔ “
وہ اسے واش روم تک لیا۔وہ شیشے کے آگے کھڑی بری طرح رو پڑی تھی۔ ہاتھ منہ دھویا باہر آئی شمشیر نے ٹیشو دیے اور وہ سرخ متورم چہرہ لئے صوفے پر بیٹھ گئی ۔
“لو چائے پیو”۔
وی اسے چائے دے کر پیزے کا پیس پلیٹ میں رکھا رہا تھاچمچ کے ساتھ پلیٹ اس کے آگے بڑھائ۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کردیا ۔
“تم نے کل سے کچھ کھایا نہیں ہوگا اس لیے ضد مت کرو کھالوں اور مجھ پر اعتماد کرو شمشیر تمہاری گرفت میں ہے دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے شمشیر تمہیں کبھی ہار نے نہیں دے گا بس تمھیں مجھ پر اعتماد کرنا ہوگا مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے صاف صاف لفظوں میں بتا رہا ہوں اور کل صبح دس بجے سے پہلے میں تمہیں باعزت مقام دوں گا تم سر اٹھا کر جیو گی۔ “
شمشیر شاہ کا مضبوط ارادہ اس کے لہجے میں پنہاں تھا وہ اس کے انکشاف سے ذہنی طور پر جیسے بلکل خالی ہو گئی تھی ۔وہ اسے خود پیزا کھلا نے لگا پہلا بائٹ لے کر دل آویز نے پلیٹ شمشیر شاہ کے ہاتھ سے لی اور آہستہ آہستہ کھانے لگی ۔
“گڈ گرل۔ “
شیر دل کھل کر مسکرایا۔
سورج نکلتے ہی شمشیر نے اپنے چند دوست بلوائے مولوی کو نیاز لے کر آیا اور دلاویز سے نکاحپڑھوا لیا ۔
دوست بھی شاکڈ تھے۔
“بھائی یہ اچانک کیا سین کر دیا تفصیل تو بتاؤ۔ شمشیر نے سب کچھ دوستوں کو کہہ سنایا ۔ “
“شمشیر تم نے نیکی کی ہے مگر ایسی نیکیاں زمانہ کسی کھاتے میں نہیں لکھتا۔”
“زیادہ دن اس نکاح کو چھپانا نہیں یہ شریعت کے بھی خلاف ہے۔ “
یہ ذنشان کی رائے تھی۔
مزید یہ کہ اس نکاح کو نبھانا اب تمہارا کام ہے۔
سب نے اپنی اپنی طرف کی نصیحتیں کیں اور چلے گئے ۔
“دلاویز کوئی اور وقت ہوتا تو بہت کچھ اور بھی ہوتا مگر میں تو بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی تمہیں ایک عروسی جوڑا بھی نہ دلا سکا۔ وقت بڑا کارگر ہوتا ہے خیر بولو اب تم کیا چاہتی ہوں اگر تمہیں میرے ساتھ میرے گھر چل نا ہے تو موسٹ ویلکم۔ اگر اپنے گھر جانا چاہتی ہو تو پھر بھی بتا دو فیصلہ اب تم پر ہے۔ “
دلآویز سوچ میں پڑگئی ۔ شمشیر شاہ دوسرے کمرے میں چلا گیا وہ چاہتا تھا کہ دل آویز یکسوئی سے سوچ کر جواب دے۔
“شمشیر شاہ آپ مجھے میرے گھر لے کر چلیں میں اکیلی نہیں جانا چاہتی کل سے اب تک میرے ساتھ جو وقت نے کھیل کھیلا ہے وہ میں آپ کے ساتھ جا کر اپنے بابا اور مما کو بتانا چاہوں گی اگر انہیں میری باتوں پر یقین ہوا تو آپ مجھے وہی رہنے دیجئے گا پھر حالات سازگار ہو تو مجھے وہاں سے لے جائیے گا۔ “
“بالفرض ابھی وہ تم پر اعتماد نہیں کرتے میری وضاحت پر انہیں یقین نہیں آتا تو”۔
“میں ایک پل ضائع کیے بغیر آپ کے ساتھ چل پڑوں گی۔”
“اپنے والدین کو چھوڑ کر سکو گی۔”
(وہ میرے سگے والدین نہیں ہیں) وہ کہنا چاہتی تھی مگر مصلحتا خاموش رہ گئی۔
*****
انہی دنوں گاؤں میں منان لندن سے تعلیم مکمل کر کے آ گیا تو جھومر خوشی سے ناچ اٹھی فون پر بضد ہو گئی۔
“بابا مجھے ابھی گاؤں آنا ہے۔”
“بیٹا جانی اپنا سمسٹر پورا کر لو پھر آجانا اب تمہارا بھائی یہی ہے بیتابی کی وجہ سے فیل نہ ہوجانا۔”
میراں نے بیٹی کو سمجھایا ماں کے یاد دلانے پر یاد آیا کہ اس کے تو پیپر ہونے والے ہیں تو مان گی۔
“اللہ حافظ کہتے ہوئے فون بیگ میں ڈالا۔ سامنے کبیر شاہ موجود تھا جھومر جذبات سے عاری اسے دیکھنے لگی وہ بھی خاموش تھا ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالےتیکھی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ “
“میری بات کا جواب دے دو “۔
“ٹھیک ہے سمسٹر ختم ہوجائے پھر آپ مجھے میری فرینڈز کے ساتھ اچھا سا لنچ کروائیں گے پھر میں آپ کی بات کا جواب دوں گی۔ “
“جواب مثبت ہونا چاہیے ۔”
“کوئی زبردستی ہے ۔”
“ہاں زبردستی ہے ورنہ میں پاگل ہو جاؤں گا “۔
کبیر کے ایسے جواب پر پل بھر کو جھومر کے دل کو کچھ ہوا۔مگر پھر اس نے اپنے آپ کو سمنبھال لیا۔
“تم ریڈ سوٹ میں اچھی لگ رہی ہو “۔
وہ اس کی تعریف کرہا تھا مگر جھومر بلش بھی نہ کر سکی۔
“تم یہ پھٹیچر قسم کا رومانس جھاڑتے ہو تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔”
اچھا میں نئے قسم کا رومانس ڈھونڈوں گا ویسے میرے پھٹیچر قسم کے رومانس میں اتنا دم خم ہے کہ تم جیسی لڑکی بھی بلش کر جائے ۔
جھومر نے روٹھے انداز میں رخ موڑ لیا۔
سمسٹر آخرکار مکمل ہوا آج وہ پیکنگ کر رہی تھی وہ گاؤں جلد از جلد جانا چاہتی تھی مگر کبیرشاہ کی کال نے سارا مزا کرکرا کر دیا۔
“جی فرمائیں۔”
“میں نے اچھے سے ریسٹورنٹ میں اچھا سا لنچ پلان کیا ہے اب دن اور تاریخ آپ بتا دیں۔ “
“او میں تو بھول گئی تھی”۔
کبیرشاہ کا دل کیا وہ جھومر کا گلا دبا دے۔
“ہم کل چھے لڑکیاں ہوں گئی کل دوپہر دو بجے ٹھیک رہے گا۔ “
اوکے اس سے پہلے کہ جھومر کوئی اور دل جلانے والی بات کرتی اس نے فون بند کر دیا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
