Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 05)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 05)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
اب وہ اسد شاہ کی غیر موجودگی میں مراد شاہ کے ساتھ ہوتی مراد شاہ ایک ہی انداز میں جیسے وہ چاہتی ویسے ہی اسکے مزاج کے مطابق گھوماتا پھراتا اور گھر چھوڑ دیتا۔ مراد شاہ اسے اسی طرح عادی بنا رہا تھا اور وہ مراد شاہ کے ضد کرنے سے پہلے اسے راضی کررہی تھی وہ کوئی سردرد پالنا نہیں چاہتی تھی مگر مراد شاہ بری طرح اس کا اسیر ہو چکا تھا حالانکہ نہ وہ ہنستی نہ زیادہ باتیں
کرتی سختی سے اپنے گرد پہرے بیٹھاۓ رکھتی ۔ یونہی انہیں دنوں جب اسد شاہ اسلام آباد کسی کام سے گئے ہوئے تھے تو وہ دن کے گیارہ بجے آ گیا تھا وہ ابھی باتھ لے کر نکلیں تھیں کہ ملازمہ نے آکر بتایا۔
“اچھا انھیں بٹھاو میں آتی ہوں۔”
ملازمہ مراد شاہ کو بٹھا کر واپس اپنا کام کرنے چلی گئی اور مراد شاہ تاج کے بیڈ روم میں چلا گیا تاج بالوں میں برش کر رہی تھی جب مراد شاہ اس کے قریب آیا تاج نے بڑے حوصلے اور ضبط سے کام لیا ۔
“مراد شاہ یہ تمہارے بھائی کا اور ہمارا بیڈ روم ہے تمہیں اس طرح نہیں آنا چاہیے تم باہر جائے۔”
تاج اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
مراد شاہ کی برداشت سے ہر چیز ہر بات بہت اوپر پہنچ چکی تھی اسنے بڑھ کر تاج کو اپنے بازوؤں میں بھر لیا تاج بری طرح سے کسمسائی مگر مراد شاہ کی گرفت بڑی مضبوط تھی نازک سی تاج کیا کرتی اور پھر وہ ہو گیا جس کا تاج گمان بھی نہیں کرنا چاہتی تھی مرادشاہ کو لگا پیاس بھڑک تو گئی ہے بجھی نہیں۔ تاج کو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا آپ لٹانا پڑا ورنہ گھر میں ملازمائیں بھی تھی اگر بھید کھل جاتا تو وہ کیا کرتی۔ اسدشاہ کی عزت ملیا میٹ ہوجاتی یوں بھی تو اسد شاہ کی عزت بچائی تھی ورنہ دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا۔
جاتے جاتے مراد شاہ نے بس اتنا کہا تھا۔
” تاج تم بہت گہری عورت ہو”۔
تاج اپناہمیشہ والا شخصی لبادہ اوڑھ چکی تھی۔
“مراد شاہ تم ابھی باہر مت آنا پہلے ہم اپنی تسلی کر لیں”
اور تھوڑی دیر بعد اس نے مراد شاہ کو باہر آنے کا اشارہ دے دیا تھا تاج نے چند آنسووں کے ساتھ اپنی بربادی کا سوگ منایا اور آج بھی میراں قصور وار نظر آئی۔ زیب عالم اگر تم ہم سے شادی کر لیتے توہمیں یہ دن دیکھنے کو نصیب نہ ہوتا۔
مراد شاہ ہمیں اپنی اولاد کے لیے یہ زہر پینا پڑا ہم ایک ماں بھی ہیں ورنہ تمہارے بھائی اسد کو ہم کب کے چھوڑ کے جا چکے ہوتے۔
تاج اس وقت تک مرادشاہ کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہیں جب تک وہ شادی کر کے امریکا نہ چلا گیا اب یہ راز تاج کے دل میں مفقود تھا کہ رائمہ شاہ کس کی بیٹی تھی۔
*****
وقت گذرتا رہا اور بچے بڑے ہوگئے جھومر بے حد ذہین اور لائق بچی تھی اس نے گاؤں کے سکول سے نمایاں کامیابی کے ساتھ میٹرک پاس کیا پورے گاؤں میدی پور میں جھومر کا رزلٹ شاندار رہا زیب عالم نے بیٹی کا شہر کے اچھے گورنمنٹ کالج میں داخلہ کروایا۔ جھومر چند دنوں میں اچھے ہوسٹل میں سیٹ ہو گئی کالج شہر کا ماحول سب کچھ نیا تھا۔
شروع میں جھومر بوکھلا گی مگر آہستہ آہستہ ایڈجسٹ ہونے لگی جھومر کی تمام توجہ پڑھائی کی طرف مبذول تھی وہ بالکل اپنی ماں میراں کی کاپی تھی مگر طبیعت اماں سے مختلف تھی شام کو ہاسٹل کے پارک میں بیڈ منٹن کھیلتی موٹی لمبی چٹیاں دائیں بائیں جھومتی تو لڑکیاں اس کے بالوں پر فدا ہو جاتیں سب میری ماں کی محنت ہے وہ فخر سے اپنی چٹیاں گھما کر پیچھے پھینک دیتی تو لڑکیاں بھنویں اچکا کر رہ جاتی۔جھومر لڑکیوں کے قصے سنتی تو کانوں کو ہاتھ لگاتی وہ ذاتی طور پر صاف ستھری عادات کی لڑکی تھی غلطی کرنے پر کسی کے پیچھے پڑ جاتی تو پیچھا نہیں چھوڑتی میراں اور زیب عالم کی جان تھی ان کی بیٹی میں۔
******
گھر میں اب صرف دل آویز نہیں تھی اب اس کے دو بھائی بھی تھے ابتہاج اور حنا نے دل آویز کو اتنا چاہا اتنا پیار کیا کہ اللہ تعالی کو شاید ان کی یہی ادا پسند آگی کہ وہ چند سالوں میں دو بچوں کے ماں باپ بن گئے۔ حنا کبھی کبھی دل آویز کو بڑے غور سے دیکھتی اتنی حسین اور نرم چہرے والی لڑکی تھی کہ وہ سوچتی نہ جانے کس ماں کی بیٹی ہوگی اس کا باپ کیسا ہوگا انہوں نے عام لوگوں کی طرح دلآویز سے چھپایا نہیں تھا۔ شعور سنبھالتے ہی بتا دیا تھا کہ ہم تمہارے ماں باپ نہیں ہیں تم ہمیں کس طرح ملی تھی سارے حالات بتا دیے تھے دل آویز بڑی حساس لڑکی تھی جو سوچ چکی تھی جب وہ بڑی ہو گئی تو اپنے ماما پاپا کو ضرور ڈھونڈے گی ۔
ویسے اپنے بابا ابتہاج اور حنا کے ساتھ اور دونوں بھائیوں جنید جواد کے ساتھ خوش نظر آتی تھی۔ اب دل آویز کالج کی سٹوڈنٹ تھی ابتہاج اور حنا نے اس کی پرورش اس کی تربیت بڑی ایمانداری سے کی تھی ۔
“بابا اپنے بیٹے کو سنبھالے مجھے تنگ کر رہا ہے۔”
“بیٹا جانی یہ آپ کا بھائی بھی ہے”۔
تو دل آویز کھسیاتے ہوئے کہتی ۔
“بابا مجھے پتا ہے ۔”
اکثر دل آویز کی زبان پر سچ آ ہی جاتا تھا۔
*****
تاج کے بچے بھی زیر تعلیم تھے۔ تاج آج بھی اسد شاہ کی سر چڑھی بیوی تھی۔ اور وہ آج بھی تاج کے لیے وہی محبت اور بے چینیاں محسوس کرتے تھے۔ مگر تاج کی مغرور طبیعت پر کبھی کبھی حیران ہوتے کہ وہ اپنی خوبیوں خامیوں سمیت انکے دل میں براجمان رہی۔ تاج اپنا بہت خیال رکھتی آج بھی تازہ دم نظر آتی۔
بچوں کے لیے ایک قدرے سنجیدہ اور محتاط قسم کی ماں ثابت ہوئی تھی۔ شاید ہی کبھی بچوں کو مسکرا کر دیکھتی اور اب بچے اتنے بڑے ہوگے تھے کہ ماں کے اس رویے کے جیسے عادی ہوگے تھے۔ تاج کی بجاۓ اسد شاہ بڑے فرینڈلی تھے۔
مراد شاہ کے بھی تین بچے تھے ہر دو تین سال بعد پاکستان اپنی فیملی کے ساتھ آتا تھا مگر اب مکمل وائینڈاپ کر کے پاکستان اپنی پوری فیملی کے ساتھ آنے والا تھا۔ تاج کافی پریشان تھی۔ وہ مراد شاہ کو بالکل برداشت کرنے والی نہ تھی۔
“اسد شاہ آپ کے بھائی فیملی کے ساتھ آرہے ہیں۔ “
“جی بالکل فیملی کے ساتھ آرہے ہیں”۔
“کہاں رکیں گے۔ ہمارا مطلب ہے گاؤں میں یا پھر۔۔۔۔۔۔ “
ہمارے پاس یہی رکیں گے پھر کوئی گھر وغیرہ خرید لے گا وہ۔ تو اپنے گھر اپنی فیملی کو لے کر چلا جاۓ گا۔
وہ تاج کی ریزرو طبیعت سے واقف تھے۔
اسی لیے مصلحتاً تفصیل بتادی۔
*******
“زیب عالم میں بہت اداس ہوگی ہوں”۔
“میں یہاں ہوں تم کیوں اداس ہوگی ہو”
“آپ سے نہیں اپنی بیٹی سےاداس ہوں”
“ارے تم اپنےمنان میں دل لگالو اداس کیوں ہوتی ہو۔”
“قسم سےزیب میں سچ کہہ رہی ہوں۔ جھومر کو گاوں بلوائیں میں اس سے ملنا چاہتی ہوں۔”
“ٹھیک ہے بھئ اس ویک اینڈ پر بلوا لیں گے اب خوش۔ “
“جی بہت خوش”۔
*****
اور وہ دن بھی آگیا جب مراد شاہ پاکستان آگیا۔ بمعہ اہل وعیال زتار ہاوس میں موجود تھا۔مراد شاہ اکیلا ہوتا تو الگ بات تھی اب اس کے بیوی بچے بھی تھے تو مناسب نہیں تھا کہ تاج کمرے میں موجود رہتیں۔اس لیے باہر آئیں بچوں کو سر کی جنبش سے ہاۓ ہیلو کہا۔ اور رسماً اس کی بیوی رباب سے ملیں۔
“اور آپ سب کیسے ہیں بڑا رسماً سا پوچھا گیا۔”
“ٹھیک ہیں بھابھی آپ سنائیں کیسی ہیں۔ “
“شکر ہے ﷲ کا۔ “
“آپ اس وقت چاۓ یا کافی لیں گے۔”
“سب کے لیے چاۓ بنوا لیں۔”
تاج نے ملازمہ سے کہہ کر چائے کے ساتھ پرتکلف انتظام کروا لیا۔
ملازمائیں آگے پیچھے تین ٹرالیوں سمیت ڈرائنگ روم میں موجود تھیں مراد شاہ کی فطرت موقع ملتے ہی تاج کہ چہرے کا احاطہ کرلیتی مگر تاج نظرانداز کر گئی۔ سب کے آگے چائے پیش کر کے کھانے پینے کی اشیا میزوں پر چن دیں۔ مراد شاہ کی بیوی رباب کافی معروب سی ہوگئ اور وہ تاج کی شخصیت سے تو شروع دن سے متاثر تھی بڑے دھیان سے سوچ سوچ کر تاج کے سامنے بات کرتی چائے سے فارغ ہو کر تاج نے فہمیدہ سے کہہ کر انہیں ان کے بیڈ رومز تک پہنچا دیا قصداًسب کو اوپر کی منزل میں ہی سیٹ کرویا تھا تاج کے ذہن پر ٹھیک ٹھاک برڈن تھا وہ آزاد اکیلی رہنے کی عادی تھی اس کا بس چلتا تو ناشتے سے لے کر رات کے کھانے تک انہیں اوپر کی منزل میں پہنچا دیتی مگر مجبوری تھی ایسا کر نہیں سکتی تھی صبح اپنے وسیع لان میں واک کر رہی تھی جب مراد شاہ جاگنگ کرتا اس کے قریب آ گیا۔
“تاج تم آج بھی ویسی ہی ہو تازہ گلاب جیسی۔ “
“مرادشاہ کسی خوش فہمی کو دل میں جگہ نہ دینا”۔
“حقیقت یہ ہے کہ صرف اور صرف تاجدار سے محبت۔کی ہے تم یقین کرو یا نہ کرو۔”
“مراد شاہ شرم کرو اولادیں جوان ہو چکی ہیں اور تم ابھی تک محبت جیسے احمق رشتے کا ذکر کرتے ہو۔ “
“آج بھی تم ہنستی ہو تمہاری آنکھیں کیوں نہیں ہنستی کیونکہ تم۔۔۔۔۔۔۔۔ “
“پلیز مرادشاہ ہم آگے ایک لفظ نہیں سنیں گے”۔
“سنو گی ہمیشہ سنوں گی میں تمہیں سناتا رہوں گا مراد شاہ شرارتاْ ہنستا ہوا آگے نکل گیا۔ “
تاج پاؤں پٹختی اندر کی جانب بڑھ گئی ۔
وقت دھوپ چھاؤں ہوکر گزرتا رہا۔ تاج نے اسد شاہ کے پیچھے لگ کر جلد ہی ان کا دوسرا ٹھکانہ متعین کر دیا۔
“مراد شاہ تمہیں پتہ تو ہے اپنی بھرجائی کا اس کی طبیعت کس طرح کی ہے۔”
“جی جی بھائی جان۔”
“تو میں یہ کہہ رہا تھا کوئی ذاتی گھر لے لو۔ “
“بھائی جان یہاں کا اندازہ اب مجھے نہیں رہا آپ خود ہی پسند کرکے خریدلیں میں فیملی کے ساتھ خود بھی جلد شفٹ ہونا چاہتا ہوں۔ “
اسد شاہ یوں ہی شرمندگی سی محسوس کرنے لگے۔
پھر جلدی ہی اسد شاہ نے اچھا سا گھر ڈوھونڈ لیا جب تک مراد شاہ گاؤں اپنے والدین سے ملنے چلا گیا فیملی بھی ساتھ گئی تھی تاج نے سکون کا سانس لیا اسےاپنی زندگی میں شیئر کرنا تو کبھی آیا ہی نہیں تھا۔
*****
مراد شاہ کےبچوں کےایڈمیشن کروانےتھےنئےگھر میں فرنیچر سیٹ کروانا کا بہت کام تھے۔
“اماں جی آپ ہمارے ساتھ چلے وہیں رہیں رباب نے بڑے لاڈ سے ساس کو پیشکش کی۔”
“نہیں رباب دلہن ہمارا گاؤں میں رہنا بہت ضروری ہے ہمارے یہاں رہنے سے کئی مزاروں کے گھر بستے ہیں اور پھر جرگے کے فیصلے بھی کرنے ہوتے ہیں۔ سارا گاؤں تمہارے سسر پر انحصار کرتا۔اور پھر میرے بزرگوں نے یہاں زندگیاں گزاریں ہیں میرا بچپن یہاں گزرا ہے میری یادیں ہیں ادھر ۔”
تین دن بعد ہی مراد شاہ جانے کا قصد کرنے لگا۔
“اماں جی گھر دیکھنا ہے پھر بچوں کے ایڈمیشن ہے بڑے کام کرنے ہیں۔”
ہاں تم ٹھیک کہتے ہو بیٹا میں تم دونوں بھائیوں کی ترقی دیکھ کر دن رات خوش رہتی ہوں یہاں ہوں پھر بھی پر تمھارے بال بچوں کی خیر ہو میں بہت راضی ہوں۔
مراد شاہ نے ماں کی گود میں سر رکھ دیا ماں جی اس کے بالوں میں محبت سے ہاتھ پھیرنے لگی۔ وقت سرکنے لگا تو تین ساڑھے تین سالوں کا پتہ ہی نہ چلا۔ کہاں پر لگا کر اڑ گئے۔
*****
جھومر یونیورسٹی جانے کے قابل ہوئی تو بابا نے بڑے لاڈ سے ایک ایک فرمائش پوری کر دی زیب عالم نے اپنی بیٹی کی کوئی بات کبھی بھی رد نہیں کی تھی۔
“بابا اب میں بڑی ہو گئی ہوں اچھے برے کی تمیز کرنے لگی ہوں۔”
“اچھا جی ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلا” ۔
زیب عالم نے بیٹی کو چھیڑا ۔
“بابا پلیز میری بات تو سن لیں ہاں” ۔
“بولو بابا کی جان سن رہا ہوں “۔
“بابا آپ مجھے شہر میں اپارٹمنٹ لے دیں ہوسٹل کی زندگی سے تنگ آ چکی ہوں رومیٹس ہوتی ہیں بیڈروم شیئر کرنے کو میرا دل نہیں کرتا ۔”
زیب عالم سنجیدگی سے بیٹی کو دیکھنے لگے ۔
واقعی اب تو آپ سمجھدار ہو گئی ہو لیکن بیٹا بات یہ ہے کہ آپ کی دادی کی مرضی کے بغیر میں آپ کو تعلیم دلوا رہا ہوں آپ میری مجبوری کو سمجھو بس یہی دو سال تو ہیں کسی طرح سے ایڈجسٹ کر لو۔ آپ کی شادی کر دیں گے اپارٹمنٹ تو کیا پھر آپ کو شہر میں بہت بڑا گھر مل جائے گا ۔ “”
جھومر شرما گئی۔
“بابا پلیز ایسی گفتگو نہ کیا کریں کہ میں کچھ بول بھی نہ سکوں۔”
زیب عالم ہنسنے لگے۔
“بھئی باپ بیٹی بڑےخوش نظر آ رہے ہیں۔ “
“آپ کیوں جیلس ہو رہی ہیں”۔
زیب عالم تنک کر بولے۔
“میں اپنی اتنی پیاری بیٹی سے کیوں جلوں گی۔ بھلا کیسی باتیں کرتے ہیں۔”
“دیکھا آپ نے اماں جانی بابا جانی کتنے وہ ہیں۔ “
زیب عالم اور میراں ہنس ہنس کر بے حال ہوگئے۔
“یہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہیں کیا ہوتا ہے ہاں”۔
جھومر کھسیانی سی ہوگی۔
اماں بابا کی ساری توجہ اور محبت جھومر اور منان پر ہوتی تھی۔ منان بھی پڑھائ سے لگاو رکھتا تھا۔ اسکا ایڈمشن لندن آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہوگیا تھا۔ پچھلے سال سے وہ لندن پڑھنے گیا ہوا تھا۔ میراں اپنے بچوں سے جنون کی حد تک محبت کرتی تھی۔ اس کا بیٹا منان ہی تو تھا جس کی پیدائش کے بعد ساس اور سسر کے دل میں جگہ بن پائی تھی۔ آج ساری حویلی کی مالکن بنی ہوئیتھی۔
******
اس کا یونیورسٹی میں آج پہلا دن تھا۔ عجیب سی گھبراہٹ تھی۔ ہر طرف سٹوڈنٹ نظر آرہےتھےبہت سی لڑکیاں لڑکے اپنے ڈیپاٹمنٹ ڈھونڈنےمیں مصروف نظر آتےتھے۔ جھومر نےنوٹیس بورڈ سے تفصیلات لے کر موڑنا چاہا تو کسی سے ٹکڑا گی۔ کتابیں نیچے گر گئیں۔
اس نے خود ہی جھک کر کتابیں اٹھائیں۔سیدھی کھڑی ہو کر مد مقابل کو دیکھا تو تھوڑا کانفیڈینس ہلنے لگا۔ مگر جلد ہی سنھلتے ہوۓ بولی۔
“ائی ایم ویری سوری۔”
“آپ کو چوٹ تو نہیں لگی”۔
انتہائی طنزیہ لب ولہجہ تھا۔
کبیر کی غلطی تھی اس لیے تھوڑا شرمندہ نظر آیا۔ مگر بولا کچھ نہیں۔
بڑا جانا شناسا سا چہرہ لگا جیسے کبھی پہلے بھی دیکھا ہو۔ مگر کچھ یاد نہ آیا۔
کبیر شاہ سینیر سٹوڈنٹ تھا آخری سال تھا اس کا۔
جھومر لڑکیوں کے جھرمٹ ہی میں کہیں غائب ہوگی۔ وہ بھی اپنی کلاس لینے کے لیے آگے بڑھ گیا۔
آج وہ اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے دوستوں کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھا کہ جھومر پنک ڈریس میں تازہ گلاب بنی قریب سے گزر گی۔
“ہیلو فریشر۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو۔ “
ریحان نے سینیر ہونے کا فرض نبھاتے ہوۓ پوچھا۔
وہ ایک نگاہ غلط ان تینوں پر ڈالتی ہوئی آگے نکل گی۔
“واہ بھئ بڑا نخرہ ہے”۔
ریحان بد مزہ ہوا۔
کبیر کو وہ اپنے نازک سراپے سمیت ازبر ہوگی۔
*******
دل آویز کے عجیب سے احساسات تھے کبھی کبھی اس کا دل کرتا ہے وہ اپنے گھر کی نوکرانی سے جھاڑو لے کر زور زور سے سے بڑے سے دلان میں پھیرے اور کبھی دل کرتا سلائی والی آنٹی کی مشین خود زور زور سے چلائے اور کبھی دل کرتا ہے بڑی بڑی دیگچیاں نزیران کے ہاتھ سے لے کر خود دھوئے۔ اب بی اے بھی مکمل ہوا تو یونیورسٹی میں آنا جانا ہو گیا کچھ آزادی بھی میسر آگئی کبھی کبھی سہیلیوں کے ساتھ شاپنگ کرنے جاتی اور کبھی شام کو لائبریری جانا ہوتا اب وہ سمجھدار تھی پڑھی لکھی تھی اور ابتہاج اور حنا اس پر اعتماد کرتے تھے۔
ایک روز بازار میں مٹی کے برتن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی ۔
“ثانیہ مجھے مٹی سے بہت پیار ہے مجھے مٹی کی سوندی سوندی خوشبو بہت پسند ہے یوں جیسے یہ مٹی ہمارے وجود کا ہی حصہ ہو میں یہ بیل اور صراحی لونگی ۔ “
“انکل یہ سب چیزیں کیسے بنتی ہیں”۔
دل آویز بہت ایکسائٹڈ ہو رہی تھی۔
“اسے کمہار بناتا ہے” ۔
لڑکی کی حیرت پر دکاندار ہنسنے لگا۔
” دل آویز بہت ہوگیا بھئی مجھے ان برتنوں میں کوئی بات نظر نہیں آرہی اور تم ہو کہ جان نثار کرنے پر تلی ہو۔ “
شمشیر اپنی فراری لے کر عجیب سے روڈ پر آگیا تھا کتنی دیر سے دو لڑکیاں گاڑی کے آگے کھڑی دکاندار سے بات چیت میں مصروف تھی ایک لڑکی کے سر پر صراحی تھی اور ہاتھ میں بھی کچھ ایسے ہی برتن تھے ۔
“دل آویز کتنی آکوڈ لگ رہی ہو اتارو اسےسر سے”۔
شمشیر نے ہارن پر ہارن دینا شروع کر دیا۔
“ہائے اللہ ساری انجوائمنٹ کا ستیاناس کر دیا گاڑی والا تو لگتا ہے کہیں آگ بھجانے جانے والا ہے “۔
دلاویز بڑبڑانے لگی گاڑی والا باہر نکل آیا ۔
“ہیلو مس پلیز ایک سائیڈ پر ہو کر جائیں راہ گیروں کے لئے راستہ تو چھوڑ دیں۔”
دلآویز نے خون برساتی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا مگر کہا کچھ نہیں غلطی بھی تو ان دونوں کی تھی بیچ بازار میں کھڑی مٹی کے برتنوں والے دکاندار سے باتیں شروع کر دی تھیں۔
(دیکھتی کیسے ہے جیسے کچاچبا جاۓ گی)
شمشیر کو منہ بنا کر اس کا گھورنا زرا نہ بھایا۔
اجنبی ہے ورنہ رکھ کر ایک منہ پر دیتا شمشیر جذبذ ہوتا گاڑی میں بیٹھ گیا راستہ ملتے ہی گاڑی نکال کر لے گیا۔
ثانیہ کا معاملہ بہت گھیر تھا وہ اندرون شہر کی رہائشی تھی اس نے اپنے بارے میں بہت کچھ چھپایا ہوا تھا اور صرف تعلیم پر فوکس کرتی تھی مگر دل آویز کو تو ایڈوینچر کے سوا کچھ سوجھتا نہیں تھا رنگوں سے پیار کرتی مٹی کی دیوانی تھی ثانیہ تو اس کے شوق دیکھ کر حیران ہوتی۔
“ہائے ثانیہ میرا تو دل کرتا ہے میں میکڈونل پر یونیفارم پہن کر کاونٹر پر جلدی جلدی چپس اور برگر سرو کروں بالکل ہمارا کوئی خواب خواب نہیں رہنا چاہیے میں سمسٹر کے بعد چند دنوں کے لیے میکڈونل میں جوب کروں گی تم آنا سب لڑکیوں کو لے کر ۔”
“دل آویز تم شہزادیوں جیسی آن بان رکھنے والی لگتی ہو مگر تمہاری سوچ کتنی مختلف ہے مجھے تو حیرانگی ہوتی ہے۔ “
“تم ہوتی رہو حیران اور میری بس آ گئی ہے میں جارہی ہوں باۓ۔ “
دلآویز بس میں سوار ہوگئی ساتھ میں صراحی اور بل اور چھوٹے چھوٹے برتن شاپرز اٹھاۓ ہوئےتھے ۔ کنڈکٹر کو کافی برا لگا ۔
“دیکھیں میم آپ کو بس میں سوار کرنا ہماری ڈیوٹی ہے مگر آپ کا سامان لادنا ہماری ڈیوٹی نہیں۔ “
“اچھا لیکن انسانیت بھی تو کوئی چیز ہے کہ نہیں۔ “
“جی بڑی مہربانی ہے ڈیوٹی ڈیوٹی ہے۔ “
مسافر عورتیں معنی خیز مسکرانے لگی۔
******
جھومر کو عادت تھی گلاب کے پھول اپنی کتابوں میں رکھ لیتی وہ پڑے پڑے سوکھتے رہتے کہیں بھی گلاب دیکھتی تو دیوانی ہو جاتی گاؤں میں اپنی حویلی کے لان میں مختلف رنگوں کے گلاب لگوائے ہوئے تھے ہر روز اس کے کمرے کے گلدان میں تازہ گلاب سجےہوتے اب چلتے چلتے گلاب کا پھول کتاب کی آخری حد پر تھا شاید اسی لیے نیچے گر گیا تھا کبیر بڑے دنوں سے سیاہ گلاسز لگا کر اس کا آتے ہوئے معائینہ کرتا تھا اب تو موقع ہاتھ آگیا تھا ۔
” سنے مس آپ کا پھول۔”
“جھومر نے سر سے لے کر پاؤں تک اس کا معائینہ
کر ڈالا “۔
“میرے بالوں میں لگا دیجئے”۔
غصیلی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کاٹ کھانے کو دوڑی تھی۔
“مجھے تو کوئی اعتراض نہیں مگر پھول وہ رکھا ہوا ہے “
“شٹ آپ فضول راہ ورسم بڑھانے کی ضرورت نہیں سمجھے ۔ “
“بڑی خوش فہمی ہے بھئی کہاں کی حور پری ہو۔”
“جہاں کی بھی ہوں آپ سے مطلب” ۔
(مجھے کیا ضرورت ہے لمبی چوڑی بحث میں پڑوں)
جھومر نے اپنی راہ لی۔ تو وہ راستے میں آگیا۔
“بات مکمل کر کے جائیں”۔
“نہیں مسٹر مجھے آپ سے بات کرنی ہی نہیں ہے۔ “
“یہ تو مابدولت کی انسلٹ ہے سیدھی سیدھی اور مابدولت نے کبھی اتنی بستی برداشت نہیں کی۔ “
“کیا چاہتے ہیں آپ”۔
اب جھومر کچھ نرم ہوئی۔
“دوستی آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔
“توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ نہ نہ۔ “
جھومر کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگی۔
جاری ہے۔
