Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 10)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 10)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
کبیر شاہ قابو سے باہر تھا پسٹل لوڈ کر گئے جیپ کی طرف بھاگتے اسد شاہ اور دوسرے لوگوں نے اسے قابو کیا ۔
“میں ان درندوں کو نہیں چھوڑوں گا بابا مجھے چھوڑ دیں میں ان کا خاندان ختم کر دوں گا ۔ “
خاندان کے لوگ کبیر کو پکڑ کر اندر مردانے میں لے کر آئے۔
بیٹا ایسی غلطی نہ کرنا کئ جوان مارے جائیں گے دشمنیاں پڑ جائیں گی۔
“کئی سالوں گزر گئے یہ طوفان دوبارہ آیا ہے ہمارے بڑے انہیں دشمنیوں کے فیصلے کرتے مر گئے ۔”
خاندان کے کسی بزرگ نے کبیر کو سمجھایا۔
*******
دلاویز تم گھر سے نہیں نکلنا جب تک میں آ نہیں جاتا دوسری بات یہ کہ گروسری اور دوسرا سامان نیاز دے جائے گا اور میڈ صبح آ جائے گی۔
ہزار ہزار روپے کے کئی نوٹ دلآویز کی طرف بڑھاۓ ۔
“یہ پیسے رکھ لو ضرورت پڑ سکتی ہے میں گاؤں جارہا ہوں میرا کزن قتل ہو گیا ہے ۔ “
وہ دونوں ہاتھوں میں دلآویز کی موہنی صورت لیے اسے تسلیاں دے رہا تھا۔
“آپ ذرا بھی فکر مت کیجئے گا میں اپنا خیال رکھ لوں گی آپ جائیں۔ “
دل آویز نے اس کی مشکل کو سمجھتے ہوئے اسے تسلی دی وہ چلا گیا صبح نیاز اسے کچن سے متعلق ایک ایک چیز دے گیا وہ مصروف ہو گئی تھی کیبنٹ میں ساری چیزیں رکھی سبزیاں گوشت فریزر میں رکھے اتنے میں ڈور بیل بج گئی دلآویز نے محتاط ہو کر دروازہ کھولا تو میڈ نے اپنا حوالہ دیا دل آویز نے اسے اندر بلا لیا اس نے ایک ڈھیڑ گھنٹے میں اپنا کام ختم کیا اور چلی گئی ۔ دلاویز وضو کر کے نماز پڑھنےلگی۔
*******
وہ کبیر شاہ کی غم اور غصے میں ڈوبی آواز ملا نہیں پا رہی تھی جھومر کو پتا نہیں تھا اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ حقیقتاً جھومر کو بے حد افسوس تھا یہ سب بہت غلط ہوا تھا۔ اسے شاہین سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ جھومر نے میراں کو بتایا ۔
“اماں کبیر شاہ میرے ساتھ یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔ ثاقب اس کے چچا کا بیٹا تھا۔”
“کبیر شاہ کی ماں کا کیا نام ہے”؟
“اماں مجھے اتنا سب نہیں پتا لیکن شاہین نے ذرا سی بات کو اتنا بڑھا دیا اور اس لڑکے کو بڑی بری طرح دھکا دیا۔ نوک دار پھتر لڑکے کے سر میں لگا تھا خون کا فورا پھوٹ پڑا تھا۔ “وہ پریشانی میں ماں ساری بات تفصیل سے بتا رہی تھی۔
“اماں جرگہ کیا فیصلہ سناۓ گا؟
جھومر نے انجانے میں ماں سے پوچھا زیب عالم نے میراں کو سب کچھ بتا دیا تھا میراں بہت پریشان تھی مگر جھومر پر کچھ بھی ظاہر نہیں کر رہی تھی اب جھومر کے سوال پر کلیجہ دھک سے رہ گیا تھا۔
“جھومر اس حویلی میں تمہاری تاج خالا بیاہی ہوئی ہے”۔
“کون تاج خالہ جھومر۔ “
اسے کسی بات کا علم نہیں تھا۔
“تاج میری سگی بہن ہے۔ “
“پہلے تو آپ نے کبھی نہیں بتایا ۔”
“ہم لوگ آپس میں ملتے نہیں ہیں تو کبھی ضرورت بھی نہیں سمجھی بچوں کو بتائیں۔”
“نہ ملنے کی کوئی وجہ تو ہوگی۔ “
“ہاں ہے وجہ مگر میں بتا نہیں سکتی۔ “
“اماں ادھوری بات نہ کیا کریں ۔”
میراں نے منہ پھیر لیا ۔
سوچا تھا منان آئے گا تو خوب انجواۓ کریں گے پتہ نہیں یہ رحیم تایا اپنے لڑکوں کو لے کر کہاں سے ٹپک پڑے تھے۔
جرگے کے فیصلے سے پہلے نانا جان نے سب کو اپنی حویلی میں اکٹھا کر لیا تھا کیونکہ معاملہ ان کی دونوں بیٹیوں کے درمیان تھا۔پندرہ دن گزر گئے تھے سب ایک کمرے میں بیٹھے تھے رباب اور تاج اکٹھی بیٹھی تھی۔ تاج رباب کی بہت دلجوئی کر رہی تھی۔
“اسد شاہ کل جرگہ بیٹھے گا تمہیں پتا ہے ہماری روایت کے مطابق فیصلہ کیا ہوگا ۔ “
جمال شاہ نے بیٹوں کو مخاطب کر کے پوچھا۔
“اچھا جی ابا جی بتائیے ان کے ہاں سے ایک لڑکی ونی ہو کر آئے گی۔”
آ نی بھی چاہیے ابا جی یہ تو کوئی سزا ہی نہیں ہے ہمارا جوان گیا ہے اب تم دیکھو کس کی ونی بنانی ہے ۔
اسد شاہ نے کبیر کا نام لیا۔
شمشیر کی ونی کیوں نہیں بناتے مجھے جی شمشیر ہو یا کبیر دونوں بھائی ہیں شمشیر نہ سہی کبیر سہی چلو کل فیصلے میں بیٹھنے کی تیاری کرو۔
*********
دادا جان میرا دل تو یہ کرتا ہے کہ ہم بدلے میں قاتل کو قتل کریں بیٹا تم جوان ہو تمہارا خون جوش مارتا ہے مگر اس طرح نسل در نسل دشمنیہ منتقل ہوتی ہے۔
کبیر کے تیور اچھے نہیں تھے ۔
دوسری طرف تاج گہری سوچ میں چلی گئی اسے یقین تھا کہ جھومر ونی بن کر آۓ گی اور وہ بھی کبیر شاہ کی ونی۔ تاج کو کوئی اعتراض نہیں تھا اس کی انتقامی فطرت پر اچھے اثرات مرتب ہو رہے تھے وہ خاموش تھی ۔
واثق کا فون آیا تو سب دوبارہ رنجیدہ ہوگئے گئے اسد شاہ نے اسے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کو داؤ پر لگا کر پاکستان نہیں آئے گا مستقبل تو ایک بہانہ تھا درحقیقت واثق بڑا بھائی تھا اور بے حد گرم جوش طبیعت کا مالک تھا ۔اس سے کچھ بھی امید کی جاسکتی تھی جہاں کبیر کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا اس لئے سب نے اسے آنے سے سختی سے منع کر دیا بھائی کے غم میں وہ آدھا ہو کر رہ گیا تھا۔
*******
جرگے نے فیصلہ سنا دیا تھا شاہجہان اور شاہجمال دونوں کے خاندان کو مزید تحفظ اسی صورت ملتا تھا کہ شاہ جمال کے خاندان کی لڑکی خون بہا میں شاہجہان کے خاندان کے لڑکے کے ساتھ نکاح کرکے ونی کر دی جاتی اور اسی فیصلے کے زیرنگرانی اسد شاہ کے بیٹے کبیر سے زیب عالم کی بیٹی جھومر کا نکاح کرکے بطور ونی ان کے خاندان کے حوالے کر دی گئی تھی۔
جھومر نہایت بے بس اور شکستہ سی پیپرز پر سائن کر کے بیٹھی تھی جب منان غصے میں دھندھناتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اپنی پھولوں جیسی بہن کے ساتھ اس زیادتی اور ناانصافی کو برداشت نہ کر پا رہا تھا ۔ وہ زیب عالم کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا ۔
“بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بابا میری بہن کے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے بابا یہ ٹھیک نہیں ہوا” ۔
اس کاغصے اور غم میں اندھا ہو جانے والا حساب تھا ۔
میراں صوفے پر بیٹھی کانپتی جاتی تھی اور آبشار کی طرح آنکھوں سے آنسو رواں تھے جھومر نے بھائی کا یہ حال دیکھا تو ہمت پکڑی اور اپنے بھائی کے پاس آئی۔ قدرے اونچی آواز میں بولی۔
“منان میری بات سنو۔”
غصے سے بے حال تیز تیز چلتے تنفس کو قابو میں کرتے وہ جھومر کی طرف متوجہ ہوا دھان پان سی چھوٹی سی لڑکی نے اپنے اوپر خوب قابو رکھا۔
“میں ان پڑھ جاہل گوار نہیں ہوں تمام عمر مونی بن کر نہیں گزاروں گی تم بے فکر رہو اسی حویلی سے دلہن کے روپ میں رخصتی کرواؤں گی اور اسی کبیر شاہ کو مجھے دلہن بنا کر یہاں سے میری مرضی سے رخصت کروانا ہو گا وہ دن دور نہیں منان عالم یہ ایک بہن کا اپنے بھائی کے ساتھ قول ہے ۔”
جھومر کے لہجے کی مضبوطی اس کا ٹھوس لب و لہجہ چٹانوں جیسی سختی اور مضبوطی لئے ہوئے تھا ۔ منان عالم ،بابا ، اماں چونک گئے منان کے اندر کسی حد تک صبر اترا۔
منان نے جھومر کو اپنے ساتھ لگایا تو جھومر حوصلہ ہار بیٹھی۔
“تم کبھی مجھے کمزور مت سمجھنا جھومر اپنی جان دے دے گی مگر اس روایت کی سولی پر نہیں چڑھے گی۔”
“بس تم روگی نہیں ۔”
منان نے اس کے آنسو صاف کیے ۔
“کبھی اپنے آپ کو اکیلی تنہا نہیں سمجھنا۔ “
زیب عالم بیٹی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر شرم سار کھڑے تھے ۔
پلیز بابا آپ تو میرا غرور ہیں میرا مان بس ایسے مت کریں۔
زیب عالم نے شفقت سے اس کا ماتھا چوما ۔وہ میراں سے گلے لگی میراں بہت روی اولاد کا غم ایسا ہی ہوتا ہے اور جھو مر چلی گئی ۔
********
جھومر رخصت ہو کر خون بہا میں چلی گئی بڑی سی چادر میں لپٹی بے سرو سامان وہ کبیر اور اس کے گھر کے دیگر افراد کے ساتھ گاڑی میں آ کر بیٹھی تھی اس کے برابر میں کبیر شاہ بیٹھا تھا سب افراد خاموش تھے بس جھومر کے ٹپ ٹپ گرتے آنسو تھے اور رونے کی وجہ سے وہ بار بار شوں شوں کرتی آنسو کنٹرول کر رہی تھی۔ کبیر شاہ سخت غصے میں بیٹھا تھا ۔
گاڑی حویلی میں جا کر رکی اسد شاہ اور مراد شاہ گاڑی سے اترے ۔ اور اترتے ہی اندر کا رخ کئے ہوئے تھے۔ کبیر شاہ نے گاڑی سے اترتے ایک ہی جھٹکے میں اسے نیچے کھینچ اتارا وہ بڑی مشکل سے اپنا توازن قائم رکھ پائی اس کا نقاب کھل گیا ۔ جھومر کی سرخ آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں کبیرشاہ کا جیسے دماغ گھوم گیا وہ اسے گھسیٹتا ہوا لے گیا اور لا کر حویلی کے طے خانے میں دھکا دیا دروازہ بند کر کے کچھ بھی کہے بغیر واپس چلا گیا۔ جھومر کا دل لہو لہو ہو رہا تھا۔ اندھیری کوٹھری میں کچھ بھی دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اپنے ہی دکھ پر بکھر بکھر گئی۔
اسد شاہ اور مراد شاہ حویلی کے اندرونی حصے میں گئے جہاں اماں جان بابا جان تاج رباب سب لوگ بیٹھے تھے تاج نے سوالیاں نگاہوں سے اسد کی جانب دیکھا ان کی نگاہوں کا مفہوم سمجھتے ہوئے وہ بولے ۔
“دلہن کبیر کے ساتھ ہے وہ اسے لے کر آتا ہو گا۔ “
تو سب لوگ غیر ارادی طور پر دروازے کی جانب دیکھنے لگے۔ مگر کئی ساعتیں گزر گئی دلہن اور کبیر اندر نہیں آئے تو بابا جان نے بیٹوں سے پوچھا ۔
” دونوں بچے کہاں ہیں”۔
اتنے میں کبیر غصے میں پھنکارتا ہوا آیا ۔ اماں جی نے کبیر سے پوچھا ۔
“وہ لڑکی تمہاری دلہن۔۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہے؟”
“اب وہ میری ونی ہے میں جہاں چاہو اسے رکھوں آپ لوگ مجھ سے استفسار نہیں کر سکتے” ۔
تاج کے چہرے کے نقوش جیسے پرسکون ہوئے انہیں کبیر کا جرات مندانہ انداز پسند آیا مراد شاہ بھی کبیر کا حامی تھا سو خاموش رہا ۔ اسد شاہ نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ کیبر کواس کے کمرے میں بھیج دیا۔ گو کے کبیر شاہ کا انداز انھیں اچھا نہیں لگا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
