Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 17)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 17)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
دلاویز سگے ماں باپ کی محبتیں اور توجہ پا کر بہت سیر حاصل طبیعت سے تھی اور شمشیر کی محبت نے چار چاند لگا دیے تھے۔ مگر شمشیر کی والدہ کا لیے دیے انداز کا ایک اپنا ہی اثر تھا۔ ذرا خاطر میں نہ لاتی ۔
“دل آویز تمہارے نصیب اچھے ہیں کہ تم میراں خالہ کی بیٹی ہو۔ ایک بہت بڑے خاندان کی بیٹی ہو ورنہ بہت سی مشکلات درپیش آتی۔ “
“اور آپ مجھے چھوڑ دیتے”۔
دل آویز جلدی سے بولی ۔
“نہیں میں تمہیں سرے راہ نہیں چھوڑتا میں نیاز سے زبردستی تمہارا نکاح کر دیتا۔ “
“شمشیر ۔۔۔۔۔۔”
دلآویز چیخ کر اس کی طرف لپکی اور وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا۔ صبح سےوہ نک سک سے تیار تھی ۔ تاج نے ناشتہ خاص اہتمام سے بنوایا تھا ۔ دلاویز نو بیاہتا دلہنوں کی طرح سے تیار ہو کر ٹیبل پر آئی ۔ جھومر نارمل سے کیچول سٹائل میں تھی ۔ دل آویز کی تیاری دیکھ کر کبیر کا دل چاہا کہ جھومر بھی تازہ گلاب جیسی لگے۔ جیسی دل آویز نظر آ رہی تھی۔ رائمہ دونوں بھابھیوں پر نثار ہوتی نظر آ رہی تھی۔
” دل آویز بھابھی پراٹھا لیجئے”۔
جھومر بھابھی کو جیم سلائس دیا دلہنوں کی اتنی آؤ بھگت تاج کو ذرا اچھی نہ لگ رہی تھی۔ دلاویز کو اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنا ذرا مشکل لگ رہا تھا ۔ جھومر خاموش مگر الجھی الجھی ناشتہ کرنے میں مصروف نظر آ رہی تھی۔ جبکہ کبیر شاہ مگن سا اپنا ناشتہ کر رہا تھا ۔
**********
“کبیر کیا جھومر سے تمہاری کوئی لڑائی چل رہی ہے “۔
کبیر نے حیرانی سے شمشیر کو دیکھا۔
“تم میرے بھائی ہو کیا مجھے اتنا بھی پتہ نہیں چل سکتا کہ وہ تم سے کتراتی کتراتی سی رہتی ہے اور تم اسے کترانے کا خوب موقع دیتے ہو” ۔
“بات یہ ہے کہ اسے اپنے ونی بن کر آنے کا بہت سٹریس رہتا ہے اور اس مسئلے کا حل یہ سمجھتی ہے کہ میں اسے اس کے والدین کے گھر سے رخصت کروا کر لاوں۔ “
“کبیر وہ ایک پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہے اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے کہاں لکھا ہے کہ خون بہا میں ونی بن کر آیا جائے یہ سب گاؤں علاقہ غیر میں بیٹھنے والے جرگوں کے بنائے ہوئے غلط اصول ہیں”۔
“تم پڑھے لکھے ہو تم سمجھ سکتے ہو کہ مذہب میں اس بات کی گنجائش ہے نہ قانون میں اس کی کوئی حیثیت ہے۔ تمہیں اس کی دل جوئی کرنی چاہیے ورنہ وہ تو بہت تلخ ہو جائے گی اور اس پر تم نے مام کے ساتھ کوئی شادی وادی کا وعدہ کر رکھا ہے یہ اور زیادہ افسوس کی بات ہے”۔
کبیر کی سوچیں اور بھی گہری ہو گئیں۔
*******
دلآویز کو رخصت ہو کر آئے پندرہ دن گزر گئے تھے۔ جھومر اور دلآویز کے بیچ کچھ تناؤ سا تھا۔ جھومر اس سے کچھ اکھڑی اکھڑی سی رہتی تھی آج دلاویز نے ٹھان لی تھی کہ وہ جھومر کے بیڈ روم میں چلی جاۓ گی ۔اور صبح گیارہ بجے وہ جھومر کے بیڈروم میں آئی کبیر جا چکا تھا ۔
جھومر ابھی تک بستر میں پڑی تھی دلاویز نے جھومر کو سوتے دیکھا تو اس کے دل میں جھومر کے لیے نرم جذبات پیدا ہوئے ۔ جھومر کے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں۔ دلاویز کو اپنے کمرے میں اپنے قریب دیکھ کر اسے اچھا محسوس نہ ہوا لیکن پھر بھی تکیے کہ سہارے بیٹھ گئی مروتا بھی مسکرائی نہیں تھی ۔
“تم فریش ہو جاؤ پھر دونوں اکٹھے ناشتہ کریں گے۔ “
خاص حق جتاتے ہوئے کہا جھومر نے سے تیکھی نگاہوں سے دلاویز کو دیکھا ۔
“تم ناشتہ کرو۔ میرا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں” ۔
وہ ابھی تک نیند کے زیر اثر تھی۔
” کیوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں میں جا رہی ہوں تم فریش ہو کر جلدی باہر آؤ۔”
وہ جھومر کے نک چڑھے انداز کو نظر انداز کر کے باہر چلی گئی۔ تھوڑی دیر میں فریش ہو کر باہر آئی ڈائنگ پر دلآویز واقع اس کا انتظار کر رہی تھی ۔انڈے پراٹھے فرینچ ٹوسٹ سب کچھ سجا ہوا تھا۔ جھومر نے ایک سلائس پر تھوڑا سا جیم لگا کر دلاویز کے جذبات پر اوس ڈال دی ۔
“ویسے تم ہو بڑی نک چڑھی۔”
دلاویز صاف گوئی سے بولی۔
“ہاں اور تمہاری اتراہٹ مان نہیں ہے رخصت ہو کر عزت باشرف کیا ہوئیں لگیں مجھ پر حق جتانے۔”
“تمہیں میرا اس گھر میں با عزت طریقے سے رخصت ہو کر آنا اچھا نہیں لگا ۔ “
دلآویز کی آواز میں لغزش تھی جھومر نے بھنویں اچکائیں اور چائے کا کپ لبوں کو لگا لیا۔ دلاویز ہمہ تن گوش تھی لیکن دوسری طرف خاموشی تھی۔
“جھومر میرے ساتھ کھل کر بات کرو تمہیں میرا اس گھر میں آنا اچھا کیوں نہیں لگا ۔ “
“تم اس گھر میں باعزت طریقے سے آؤ یا بےعزت طریقے سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پلیز بلا وجہ مجھے ہر بات میں شریک کرنے کی ضرورت نہیں ۔”
” جھومر تمہیں بڑی تکلیف ہے نا کہ تم ونی ہو کر آئی ہو تو سنو مجھے اپنے اصل والدین سے دور رکھا گیا میں غیروں کے گھر پر رہی ماں باپ کے ہوتے ہوئے کبھی کڈنیپ ہو گئی تو کبھی کوٹھے پر چلی گئی۔ یہ زندگی تھی میری اور تمہیں اللہ کا شکر ادا نہیں ہے کہ تم نے والدین کے ہاتھوں میں پرورش پائی۔ ہاں تمہاراونی ہو کر آنا پریشانی والی بات ضرور ہے لیکن تم پھر بھی کتنے محفوظ ہاتھوں میں رہی ہو۔”
“ابھی تم نے کہا کڈنیپ ہوئیں کوٹھے پر چلی گئی اس کا کیا مطلب ہے میں سمجھی نہیں “۔
جھومر ذرا دھیمی انداز میں بولی۔
دلاویز کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھر گئیں تو جھومر کو یوں لگا جیسے خود جھومر کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے ہیں ۔ اس کے سامنے بیٹھی اس کی ہم شکل بہن اسے اپنے آپ جیسی خود اپنا آپ ہی محسوس ہو رہی تھی لاشعوری طور پر جھومر نے دلاویز ا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ دلاویز اپنی کرسی سے اٹھ کر جھومر کے گلے لگ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ جھومر اس شچویشن کے لئے تیار نہیں تھی نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا دل بھر آیا۔
“پلیز دل مت رو اپنے آپ کو سنبھالو سوری سوری میں نے تمہیں انجانے میں بہت کچھ کہہ دیا پلیز مت رو ۔ “
وہ دلآویز کو چپ کراتے کراتے خود بھی حساس ہو رہی تھی۔ دل نے منٹوں میں آنسو کی ندیاں بہا دیں تو اس کا رویا ہوا چہرہ واقعی میں دکھی کر گیا ۔
“پلیز دل آئندہ تم رو گی نہیں۔ “
اور اس نے خود ہی اس کا نام دلآویز عرف دل رکھ دیا ۔
“مجھے کسی کی محبت نہ ملی اماں بابا منان اور تم سب لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔”
یہ کہتے کہتے پھر سے رونے لگی۔جھومر کو ڈائننگ ٹیبل پر اتنے دکھ سکھ کہنے سہی نہ لگے تو دل کو لے کر اپنے بیڈ روم میں آ گئی ۔
“اب بتاؤ کیا کہہ رہی تھی”۔
دل نے اسے اپنے اوپر بیتنے والا ہر پل اسے کہہ سنایا دلاویز کو کس نے ہوسپیٹل سے غائب کروایا۔ کیوں کڈنیپ ہوئی البتہ ثانیہ نامی لڑکی اسے کوٹھے پر لے گئی تھی اور پھر اسے بہت ٹکنیک لگا کہ شمشیر اسے کوٹھے سے لے آیا بالکل صحیح سلامت ۔ جھومر نے دل کے آنسو صاف کیے۔
“اوکے اب تم کبھی نہیں رو گی اور تمہیں والدین ود بہن بھائی شوہر سسرال سب مل گئے تو تم دکھی نہیں ہو۔ اپنے ماضی کو بھولنے کی کوشش کرو”۔
“اور تم۔۔۔۔۔۔تم روتی رہو ہاں۔”
دل نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔ جھومر تلخی سے مسکرائی ۔
“میری فکر مت کرو یونہ اپنی محبت سے ٹکراتی رہتی ہوں”۔
“تم کبیر بھائی سے محبت کرتی ہو”؟
“ہاں لیکن میں دیواروں کو بھی بتانا نہیں چاہتی کیوں کہ مجھے اس سے ضد ہو گئی ہے مجھے بھی تمہاری طرح سے رخصت ہو کر سسرال آنا ہے ونی بن کر زندگی مجھے قبول نہیں “۔
“اور تاج خالہ ہمارے ساتھ اتنا عجیب سا رویہ کیوں رکھتی ہیں۔ “
“اماں ہمارے بابا اور تاج خالہ کے درمیان رقیب روسیہ بن گئی تھی۔ “دلاویز نے ہا کہہ کر ہونٹوں پر اپنی انگلیاں رکھیں۔
“بابا کو اماں پسند تھی جبکہ منگنی تاج خالہ سے ہوئی تھی بس یہی پھیلاؤ آج تک سمٹنے میں نہیں آ رہا۔ ہم دونوں ان چاہی بہوئیں ہیں ۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ رائمہ منان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں رائمہ منان کی محبت میں پاگل ہے۔ “
“قسم کھاؤ یار”۔
دل آویز نے پوری آنکھیں کھول کر حیران ہوتے ہوئے کہا۔ تو جھومر کی ہنسی نکل گئی ۔
“پلیز میری عادتیں خراب مت کرو میں قسم وغیرہ نہیں کھاتی لیکن حقیقت یہی ہے۔ جو میں نے تمہیں بتائی ہے اگر اس دسمبر تک میری مرضی کے مطابق مجھے رخصت نہ کروایا گیا تو پھر اس گھر میں تم اکیلی ہی چہکو گی میں چلی جاؤں گی “۔
“ایسے کیسے چلی جاؤ گی تمہیں رخصت کروا کر لائیں گے میں شمشیر سے کہوں گی”۔
“رہنے دو تمہیں میرے لئے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں۔”
“ضرورت ہے ضرورت کیوں نہیں بھلا تمہارا حق ہے اب ان فرسودہ خیالات کے سہارے تو نہیں جیا جائے گا “۔
“او یعنی تم میرا دم بھرو گی” ۔
جھومر شوخی سے ہنسی ۔
“ہاں ہر دم تمہارا دم بھروں گی۔ میری اتنی پیاری بہن ہو” ۔
دلاویز لگاوٹ سے بولی ۔
“بس بس اپنی تعریفیں ذرا کم کرو” ۔
“کیا مطلب میں سمجھی نہیں “۔
دلاویز واقعی جھومر کی بات نہ سمجھی ۔
“مطلب یہ کہ تم نے کہا کہ تم میری اتنی پیاری بہن ہو تو ظاہر ہے ہم دونوں ہم شکل ہیں تو تم میری اڑ میں خود کو ہی پیاری کہہ رہی ہونا۔ “
“ہاۓ ویری فنی جھومر”۔
دلاویز ہنسنے لگی۔
********
رائمہ منان سے باتیں کر رہی تھی ۔
“منان تم میراں خالہ کو بھیجو میرا رشتہ مانگیں “۔
“تاج خالہ اور اماں کے درمیان کوئی گھمبیر معاملہ ہے اماں تمہارا رشتہ تاج خالہ سے مانگ لیں گی تم پورے یقین سے بتاؤ کیا تاج خالہ ہنسی خوشی تمہارا رشتہ دے دیں گی”۔
منان کا انداز محبت بھرا تھا۔
رائمہ نے افسردگی سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا ۔
“مجھے نہیں لگتا کہ ماما اتنی آسانی سے مان جائیں گی اور میں ماما کو منا لوں مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے” ۔
“اوکے تمہیں ڈپریس ہونے کی ضرورت نہیں انشاء اللہ کوئی نہ کوئی رستہ ضرور نکل آئے گا ۔لیکن تمہیں ہمت کرنا ہو گی میرا انتظار کرو میرا انتظار کرو گی”؟
“ہاں منان میں آنے والی زندگی کی شاہراہ پر تمہارے ساتھ قدم ملا کر چلنا چاہتی ہوں۔ میں کبھی بھی تمہارے ساتھ کے بغیر خوش نہیں رہ پاؤں گی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ گھر کا ماحول بھی اچھا ہوتا ۔ جھومر بھابھی سے مما نے عجیب سا بیر پلا ہوا ہے اور دل آویز بھابھی بھی ان کے من نہیں چڑھی”۔
“سب ایک دوسرے کے من چڑھے گے وقت کو تھوڑا گزرنے دو ہمیں تھوڑا انتظار کرنا ہوگا اور۔”
“اگر انتظار کرتے کرتے نیہ ہاتھ سے نکل گی تو۔”
“جذبے سچے اور جوان ہوں تو نیہ ہمیشہ پار لگتی ہے۔ گھبراو نہیں۔ “
“منان عالم بھی آخرکار زیب عالم کے بیٹے تھے ہار ماننے والے کہاں تھے۔ “
“تم تسلی رکھو اللہ بڑا مہربان ہے۔ فون بند کرو تا کہ میں بھی فون بند کروں۔ “
منان عالم کی اچھی عادت تھی پہلے رائمہ سے کال ڈسکنکٹ کرواتا ۔
******
واثق بہت دنوں سے بے چینی محسوس کر رہا تھا رائمہ کا اس کی طرف جھکاؤ زیرو تھا وہ یک طرفہ محبت کا جوگ لیے بیٹھا تھا۔ بابا سنی ان سنی کر رہے تھے۔ وہ دو تین دفعہ بابا سے ذکر کر بیٹھا تھا ۔ اب آپنے تئیں موقع دیکھ کر رائمہ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اسی سوچ کو لے کر وہ زبردست ڈریسنگ کر کے کلون کا اسپرے کر کے آخری ٹچ لیتا ۔گھر سے نکلا تھا ۔ وہ زرتار محل آگیا جہاں ہر طرف خاموشیوں کا راج تھا ۔ اس نے رائمہ کو کال کی ۔
“رائمہ سٹڈی میں مگن تھی جب اس کو واثق کی کال رسیو ہوئی۔”
“ہیلو رائمہ میں تم سے ملنا چاہتا ہوں میرے ساتھ لونگ ڈرائیو پر چلو گی” ۔
“واثق تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تمہارے ساتھ کہیں جاؤں گی میں اتنی لبرل بھی نہیں کہ منہ اٹھا کر تمہارے ساتھ چل دوں۔”
“تو زرتار محل کے لاؤنج میں تو آ سکتی ہوں یا نہیں”۔
کچھ دیر فون پر خاموشی رہی پھر وہ لاؤنج میں نمودار ہوئی۔ واثق صوفے پر براجمان تھا اوہ10 فٹ کے فاصلے پر سپاٹ چہرہ لیے کھڑی تھی ۔ محبت کی باتیں یوں اس طرح کے سٹل ماحول میں نہیں ہوتی ہیں۔ رائمہ تو مجھے یوں ٹریٹ کرتی ہے جیسے میں کوئی غیر ہوں۔ واثق سوچ میں پڑ گیا۔
” کہیے واثق بھائی کیا کہنا چاہتے ہیں۔ “
“مجھے تمہارے چہرے پر حوروں جیسی پاکیزگی کیوں نظر آتی ہے میں کچھ کہنے لگتا ہوں تو جیسے میری لب گویائی ہی سلب ہو جاتی ہو ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔”
رائمہ واثق کو بیزاری سے دیکھنے لگی۔
“یقینا آپ کچھ غلط کہنا چاہتے ہوں گے اچھی اور صحیح بات کہنے کے لئے لب گویائی پر اثر نہیں پڑتا” ۔
رائمہ نے دونوں بازو باندھتے ہوئے بڑے وثوق سے کہا۔
واقعی واثق رائمہ کی آنکھوں میں متواتر دیکھ ہی نہیں پاتا تھا۔ واثق طویل بحث میں پڑنے سے گریز کرتے ہوئے جانے لگا اور لحظہ بھر رک کر بولا تھا ۔
“مناسب موقع پر دل کی بات کہوں گا ضرور”۔
رائمہ نے لاپرواہی سے بات ہوا میں اہوا میں اڑ آئیں اور اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
*******
جھومر کبیر سے دامن بچانے لگی تھی صبح ہی صبح تروتازہ سی جھومر گلاس وال کے پار لان میں کھلے تازہ پھولوں کی بہار دیکھ رہی تھی ۔ بیلوں پر جھومتے پتے ہلکی دھوپ میں چمکتے اور ہلکی ہوا سے جھومتے اچھے لگ رہے تھے وہ لا متناہی سوچوں میں غوطہ زن تھی۔ جیسے کہ تاج خالہ کی زیادتیاں ان کا بھرا انداز جیسے ہم لوگ ان کے بیٹوں کی بیویاں نہیں نوکرانیاں ہوں اور اس پر متضاد یہ کہ رائمہ ہمارے بھائی کی دلہن بننے کے خواب دیکھے۔
تو بھلا کیا میں تاج خالہ کی جوتیاں گھسا دوں بیٹی کے رشتے کے لئے ۔ جھومر نحوت بھرے انداز میں سوچ رہی تھی۔
اور کبیر آج بڑا بے ایمان ہو رہا تھا ۔ دل کو بڑا منایا کہ چل کبیر آفس چل مگر ظالم مانا ہی نہیں۔ گرے اور میرون سوٹ میں ملبوس بالوں کی آبشار کمر پر گرائے دور بیٹھی جھومر جیسے کبیر سے دامن بچا رہی ہو کبیر سب جانتا تھا کہ جھومر کا بس ایک ہی مسئلہ تھا۔ اور اس مسئلے کو سلجھانا اسے خاصا دشوار لگ رہا تھا ۔
بار بار اس کی نظریں جھومر کی زلفوں میں الجھ رہی تھی۔ وہ آہستہ سے چلتا جھومر کے پاس آیا مگر وہ دنیا و مافیا سے بیگانی سوچوں میں غلطاں تھی ۔ جب کبیر نے اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ وہ بری طرح سے چونک گی۔ کبیر شاہ کی بے تکلفی اس وقت اس کی طبیعت پر گراں گزری وہ ذرا سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔ دن کے دس بجے کا وقت تھا ۔
“کبیر تم آفس نہیں گئے” ۔
وہ سنجیدگی سے بولی ۔
“تمہارے ساتھ ناشتے کا ارادہ ہے اور وہ بھی یہی بیڈ روم میں۔ “
کبیر نے اس کے آنچل کا پلو پکڑنا چاہا جسے وہ جابکدستی سے جھومر نے پرے ہٹا دیا۔ کبیر بے معنی سی ہنسی ہنس دیا ۔
“اب اتنا گریز کیوں جان سکتا ہوں۔”
“تم اتنے لاعلم نہیں ہو مجھے ہر وقت ایک ہی بات دھرانے سے چڑھ ہے۔” وہ ذرا کرختگی سے بولی۔
“چلو تمہیں سرپرائز دے دیتا ہوں” ۔
وہ پھر چونک گئی ۔
“کیسا سرپرائز”؟
“ناشتہ لگواؤ تمہارے ساتھ ناشتہ کروں گا” ۔
وہ بچوں کی طرح مچلتا دکھائی دیا۔ اس نے انٹر کام پر کک کو ناشتہ آرڈر کیا پراٹھے کباب بوائل انڈے جیم سلائس گرین ٹی لپٹن ٹی جوس وغیرہ۔ کک ٹرالی میں سجائے جھومر اور کبیر کے بیڈروم کی طرف جا رہا تھا ۔ جب تاج نے کک سے استفسار شروع کیا کہ۔
“یہ اس گھر کے اصولوں کے خلاف ہے ناشتہ ٹیبل پر لگواؤ “۔
“یس میم “۔
کہتے وہ ٹرالی گھما کر ٹیبل کے قریب آیا اور خود ان کے کمرے پر کھڑا نوک کر رہا تھا ۔ کبیر کی اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا۔
“بڑی بیگم صاحبہ کہتی ہیں یہ اس گھر کا اصول نہیں۔ ناشتہ ٹیبل پر ہی لگے گا۔”
کبیر شاہ کو ذرا اپنی توہین کا احساس ہوا ۔
“اوکے۔تم جاؤ” ۔
جھومر معنی خیز انداز میں کبیر کو دیکھنے لگی اسکی آنکھوں میں کیا تھا وہ سمجھ کر بولا۔
“چلو آو ناشتہ کرتے ہیں”۔
اور اس وقت وہ بھی کسی فضول بحث میں پڑنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس کے ساتھ کھانے کی ٹیبل پر آگی۔
کبیر کا اندر سے موڈ آف ہو چکا تھا۔ لیکن جھومر کے سامنے پوز کرنا ضروری تھا۔
“کیا لو گی۔”
جوابا جھومر خاموش رہی تو اس نے ایک گولڈن براون پراٹھا اور کباب پلیٹ میں رکھ کر جھومر کی طرف بڑھا دیۓ۔ اس نے بنا کچھ کہے پلیٹ کبیر کے ہاتھ سے لے لی تاج آگئیں۔ کبیر شاہ بیوی کے ناز نخرے اٹھا رہا تھا۔
“تمہیں پتہ چل گیا ہوگا میں نے کیا کہا تھا۔ “
“مام ڈائنگ ٹیبل بھی ہمارے گھر کا ایک حصہ ہے اور ہمارا بیڈروم بھی گھر کا ایک حصہ ہے۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ڈونٹ وری”۔
وہ نوالہ بنا کر جھومر کے ہونٹوں تک لے گیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ نوالے کے ساتھ کبیر کی انگلیاں بھی چبا لیتی۔
لیکن موقعے کی نزاکت کو سمجھتے ہوۓ اس نے یوں لب واہ کیے جیسے کبیر روزانہ باقاعدگی سے اسے کھانا کھلاتا ہو۔ تاج جو کے رائمہ کی وجہ سے اپ سیٹ تھی مزید گولہ بارود سمیٹتی وہاں سے ٹل گئ۔
*********
واثق کے فون پر تقاضے بڑھتے جا رہے تھے رائمہ پھر سے جھومر کے پاس تھی۔ ادھر ادھر کی باتوں میں وقت گزارنے لگی۔
“رائمہ خالہ کو پتا ہے کہ تم منان کو چاہتی ہو۔ “
“جی میں نے مما کو بتا دیا تھا لیکن میری زندگی کی ایک اٹل حقیقت میرے سامنے کھڑی ہے میں بے حد پریشان ہوں میں نے ماما سے بھی بات کی تھی لیکن کوئی نتیجہ اخذ نہیں ہوا ۔”
رائمہ کے آنسو بھل بھل کر تے اس کے رخساروں کو بھگو گئے ۔
“کیسی اٹل حقیقت۔”
جھومر نے رائمہ کا روتا چہرا دیکھا۔
“یہ راز ہے جو میں آپ کو بتانے جا رہی ہوں آپ وعدہ کریں کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی ۔ “
ایک کمزور ترین لمحہ آیا اور اس نے تلخ حقیقت جھومر کے گوش گزار دی ۔ جھومر تو حیران و پریشان رہ گئی۔ رائمہ اس کی گود میں سر رکھے بہت رو رہی تھی۔ جھومر چند لمحوں بعد اس کے بال سہلانے لگی ۔
“رائمہ پلیز رو نہیں۔”
وہ اتنا ہی کہہ سکی۔
رائمہ نے بیوقوفی کی حد کر دی جس کی بھابھی بننا تھا اسی کے سامنے اپنا راز فاش کر دیا یہ اس کا سراسر بچپنا تھا ۔ جھومر کے لئے یہ بات بڑا عذاب اور بوجھ تھی۔ وہ کیسے اپنے بھائی کے ساتھ دھوکہ کرتی سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے وہ کیسے عملی قدم اٹھاتی۔ رائمہ کا ہلکان ہوتا وجود بھی جھومر کی برداشت بہت سے باہر تھا ۔
“پلیز رائمہ دیکھو جیسے تمہیں اصل بات بتا دی گئی ہے ٹھیک اسی طرح سے واثق کو بھی حقیقت پتہ ہونی چاہیے”۔
“بھابھی اسے کوئی نہیں بتا رہا آپ میری مدد کریں آپ واثق بھائی کو بتائیں کے وہ میرے بھائی ہیں۔ “
“ٹھیک ہے تم واثق سے کہو مجھ سے جلدی ملے کہیں بھی کسی ریسٹورانٹ میں ملے۔ میں اسے ساری حقیقت بتا دوں گی پھر واثق تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔”
********
جھومر ریسٹورانٹ میں بک کراوئی ہوئی اپنی سیٹ پر جا بیٹھی تھوڑی دیر میں واثق بھی آگیا۔ براون کلر کے گلاسس اتار کر ٹیبل پر رکھتے ہوۓ ۔ عین جھومر کے سامنے بیٹھ گیا۔ لائٹ گرین اور آف وائٹ کے امتزاج کا لباس پہنے اونچا سا جوڑا اس کی لمبی گردن کو نمایاں کر رہا تھا۔ وہ بلا شبہ ایک حسین لڑکی تھی۔
“آپ کو میرا یہاں آنا آپ سے ملاقات کرنا کچھ عجیب تو لگ رہا ہوگا۔ “
جھومر نے بات شروع کی تو واثق بولا۔
“میرے بھائی کے قتل کا ذمہ دار آپ کا خاندان ہےاور میرے بھائی کے خون بہا میں آپ میرے تایا زاد سے نکاح کر کے آئی ہیں مجھے آپ سے یا آپ کی باتوں سے رتی بھر بھی مطلب نہیں لیکن یہاں بات رائمہ کی تھی رائمہ میری محبت ہے میرا عشق ہے اور اس بات کے پیچھے بھی آپ کے بھائی منان کا گھناونا رویہ شامل ہے جو آپ میرے سامنے آکر بیٹھی ہیں۔۔”
واثق نہایت تلخی سے بول رہا تھا۔
“واثق صاحب جو کچھ آپ نے کہا ہے ان سب باتوں کی قیمت چکانا بہت مشکل بھی ہو سکتا ہے۔ “
“ایسا کیا کہنے والی ہیں آپ۔”
واثق بیزاری سے بولا۔
“اسی ریسٹورنٹ کے دوسرے کارنر میں کبیر کسی کلائنٹ سے میٹنگ میں مصروف تھا۔ جب اس کی نظر جھومر اور واثق پر پڑی۔ “
موبائل پر اسکی انگلیوں نے حرکت کی تو دلاویز نے کہا کہ وہ تاج خالہ کے ساتھ گھر پر لنچ کر رہی ہے۔ کبیر کا تن من سلگ اٹھا تھا۔ مگر وہ بد ستورمیٹنگ میں مصروف رہا۔
