Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 08)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 08)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
حنا نے دروازہ کھولا دل آویز کھڑی تھی حنا نے اسے سینے سے لگایا بڑی پھوپھو بھی آئی ہوئی تھی دلاویز کی گمشدگی کی وجہ سے وہ رات سے یہی تھی ساتھ میں کوئی اجنبی بھی تھا آپی نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا اور شمشیر کو اندر بٹھایا تھوڑی دیر میں ڈرائنگ روم میں سب موجود تھے ابتہاج صاحب کڑھے تیوروں سے شمشیر کا معائنہ کر رہے تھے ۔ دلآویز حنا کے ساتھ لگی ہوئی بیٹھی رو رہی تھی ۔ اور آپی کے چہرے کے خدوخال بھی بگڑے ہوئے تھے۔
“جی فرمائیں آپ کی تعریف ۔”
“میں شمشیر ہوں “۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا گفتگو کہاں سے شروع کرے۔
“کہیے کیا کہنا چاہتے ہیں ۔”
“میں نے اور دلآویز نے نکاح کرلیا ہے۔” شمشیر کی اچانک اس غیر متوقع بات پر سب حیران ششدر اس کی شکل دیکھنے لگے۔
“تم اور تمہاری منکوحہ یہاں کیا کرنے آئے ہو۔”
ابتہاج کی چنگھڑتی آواز دلآویز کا دل دہلا گئی تھی۔ وہ ہمیشہ دل میں ڈرتی رہتی تھی کہ یہ میرے سگے والدین نہیں ہیں اگر جو کبھی بدل گئے تو وہ کیا کرے گی تو قدرت نے اسے تصویر کا یہ رخ بھی دکھا دیا تھا ۔
“آپ کیا کہہ رہے ہیں اپنی بیٹی کے لیے کیا بات کہہ دی ہے “۔ حنا ابتہاج صاحب کی بات کا مطلب سمجھتیں یکدم ہی بولیں تھیں۔
“حنا تم میں سب ہی جانتے ہیں دل آویز ہماری سگی بیٹی نہیں ہے لہذا اگر دلآویز سگی اولاد بھی ہوتی تو میرا فیصلہ یہی تھا۔ دل آویز تمہیں اس گھر سے کچھ لینا ہے تو لے جاؤ اب اس گھر میں تمہاری کوئی جگہ نہیں آئندہ اس گھر کی دہلیز پار مت کرنا۔ “
“میرا بھی یہی فیصلہ ہے جو میرے بھائی کا فیصلہ ہے۔”
آپی کو بھی لب گویائی ملی۔ واحد حنا تھی جس نے دلآویز کو سینے سے لگایا ہوا تھا اور وہ مجبور تھی۔ اپنے شوہر کا فیصلہ سن کر جواد اور جنید بھی باپ کے ہمنوا تھے۔
“آپ لوگ پوری بات سنے بغیر یہ انتہائی قدم نہیں اٹھا سکتے کم ازکم دلآویز کو اپنی صفائی میں کچھ کہنے ک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
الفاظ ابھی شمشیر کے منہ میں ہی تھے کہ ابتہاج صاحب ہاتھ ہوا میں اٹھا کر اسے خاموش کروا گئے تھے۔
“جتنا تم ہمیں بتا چکے ہو اس کے بعد کسی بات یا کسی صفائی کی گنجائش نہیں رہتی تم اسے یہاں سے لے جا سکتے ہو۔”
دلآویز اپنے نرم صفت باپ کو دیکھ کر رہ گئی تھی جو ہمیشہ اس کے سر پر ایک توانا اور سایہ دار درخت کی طرح رہا تھا۔ اور اب اس طرح نظریں پھیرنے پر اسے ایسا محسوس ہوا تھا کہ اس کی زندگی کے سارے وہم ، ساری سوچیں سچ ہو گئیں ہوں۔
شمشیر نے دلآویز کا بازو پکڑا اور اسے واپس اپارٹمنٹ میں لے آیا۔
“دلآویز تم بہت قابل رحم ہو مجھے افسوس ہے کہ یہ تمہارے اصل والدین نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔ “
“اس لیے کہ شاید میرے والدین مجھے قبول کرلیں تو کیا ضرورت تھی آپ کو پہلے ہی بتا دیتی۔”
“او ہو بھولی دلاویز زندگی کی حقیقتوں کو قبول کرو یہاں تو سگے سگوں جیسے نہیں رہتے اور تم جھوٹ موٹ کے والدین لئے پھرتی تھی۔ “
دل آویز کے وہی ہتھیار آنسو آنکھوں سے نکلنے کو بے قرار تھے شمشیر نے اس کے آنسو صاف کیے اور اسے ساتھ لگایا وہ بہت روئی شمشیر نے اسے رونے دیا تھا کہ اس کی دل کی بھڑاس نکل جانا بھی ضروری تھا۔
*******
کبیر شاہ نے انھیں زبردست لنچ پارٹی دی تھی۔ وہ جھومر کے پیچھے پاگل تھا اور جھومر کو اپنی شوخیوں سے ہی فرصت نہیں تھی۔ اب ساری لڑکیوں میں کبیر شاہ کو اکیلے بحثیت مرد ہو کے بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا وہ بل پہ کر کے باہر چلا گیا ۔ کبیر شاہ اپنی گاڑی کی بیک سائیڈ پر ٹیک لگائے کھڑا تھا وہ جھومر اور اس کی سہیلیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ کب آئیں اپنی گاڑی میں بیٹھیں اور کب جھومر گھر واپس جائے اور وہ بھی واپس چلا جائے۔ تو تھوڑی دیر میں جھومر کی سہیلیاں اور جھومر ریسٹورنٹ سے باہر آئیں ۔ سب کی سب اپنی ہی کہے جا رہی تھی جب کبیرشاہ نے اپنے بارے میں جھومر کے خیالات سنے تو جیسے وہ عرش سے فرش پر منہ کے بل گر پڑا۔
“ارے میں نے تمہیں کہا تھا کہ شرط لگا لو میں شاہ کو چاروں شانے چت کر دوں گی بولو ذرا بھی شک رہا۔ “جھومر کی شوخی میں ڈوبی آواز کبیر ےک گئی تو وہ اپنی جگک سن ہو کر رہ گیا۔
“نہیں بھائی تم تو بڑی ماہر اور چلاک ہو الو بنانے میں۔ “
کسی لڑکی نے جھومر کو پیسے دیے تھے شرط کا ہی حصہ تھے۔
“لو جھومر میری طرف سے تو تم اپنا انعام لے لو ۔ “
تو سب نے دیکھا دیکھی جھومر کو دو دو ہزار پکڑا دیے جھومر نے ہنس ہنس کر قبول کر لیے۔ کبیر شدید دکھ اور کرب کے عالم میں تھا اس نے اپنی گاڑی سٹارٹ کی اور جھومر اور اس کی سہیلیوں کے قریب سے ہوتا ہوا چلا گیا ۔
“ارے یہ تو کبیر شاہ تھا شاید اس نے ہماری باتیں سن لی ہیں ۔ “ایک سہیلی نے گاڑی اپنے پاس سے گزرتے ہو اور بیٹھے کبیر کو دیکھ کر یکدم ہی اپنا خیال ظاہر کیا۔
“اگر سن لی ہیں تو بہت برا ہوا اس طرح تو اس کی عزت نفس پر چوٹ لگی ہوگی۔” دوسری اپنا خیال ظاہر کرتی افسوس کر رہی تھی۔
” اب جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔”
جھومر کے دل کو دھچکا سا لگا تھا ۔ مگر اس نے ظاہر نہ کیا وہ دوبارہ کبیرشاہ کا سامنا کرنے کے قابل نہ رہی تھی وہ اگلے دن کی شام کو گاوں چلی گی۔
*******
شمشیر شاہ کو اپنی شادی خفیہ رکھنا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ایک تو خفیہ شادی اوپر سے لڑکی کے والدین کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا اس کے باوجود اس نے ہمت سے کام لینا تھا رات کو دلاویز کو اپارٹمنٹ میں چھوڑ کر خود گھر آ گیا ۔ لاؤنج میں تاج بیٹھی تھی ایل ای ڈی پر خبریں سن رہی تھی وہ اپنے بیٹوں کو دیکھ کر جی اٹھتی تھی مگر اظہار کا سلیقہ نہ سیکھا تھا ۔ان کی سرشت میں نہ تھا۔
“السلام علیکم ماما۔”
“وعلیکم السلام کہاں ہو کل سے کوئی خبر ہی نہیں ہے۔”
“یہی ہوں مما آپ کے پاس”۔
وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔
“کھانا کھاؤ گے”۔
“نہیں مما میں کھانا کھا کر آیا ہوں اب آرام کرو گا۔ بابا اسلام آباد سے آگئے؟”
“نہیں کل صبح کی فلائٹ ہے صبح دس بجے ہمارے ساتھ ناشتہ کریں گے”۔
“اوکے ماما میں اپنے بیڈ روم میں جا رہا ہوں۔”
” اوکے بیٹا شب بخیر ۔”
“شب بخیر ۔”
تاج نے دلاویز کو نوراں مائی کے ذریعے ہسپتال سے اغوا کروا کر صباقمر کے ادارے میں بھیج دیا تھا جہاں وہ بچے تھے جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا مگر ادارہ انہیں سہولتیں دیتا تھا۔
صبا قمر سے بچی کو ان کی کسی عزیزہ نے لے کر اپنے بھائی کو دے دی تھی۔ تین دن قبل تاج نے دلاویز کو اغوا کروا لیا تھا جو بدقسمتی سے پتہ نہیں کس طرح شمشیر نے انسپکٹر کے ذریعے دلاویز کو چھڑوا لیا تھا۔ جو خبر تاج کے پاس تھی وہ یہ تھی کہ دلاویز ابھی تک اپنے گھر نہیں پہنچی اب شمشیر شاہ اس سے نکاح کر کے بیٹھ گیے تھے۔ یہ خبر تاج کے علم میں نہیں تھی۔دلاویز کہاں تھی اور تاج نے اسے کیوں اغوا کروایا ایک دفعہ تب کروایا تھا جب وہ ننھی سی دنیا میں ابھی وارد ہوئی تھی اور ایک دفعہ تب جب وہ 22 سال کی ہو چکی تھی۔ اور یہ صرف اور صرف محبت میں ٹھکرائے جانے کا انتقام تھا۔ جو وہ کوئی بھی ظلم کرتے ہوئے گھبراتی نہیں تھی ۔ دل آویز کہاں تھی تاج کہ ذہن میں صرف یہی سوال تھا دل آویز سے شمشیر کا کیا تعلق تھا ۔
*******
جھومر منان سے مل کر اتنی جذباتی اور خوش ہوئی کے رو پڑی۔
“میری پیاری آپا بس کرو اب آپ کا منان آگیا ہے۔ “
اور وہ اس سے مل بے انتہا خوش تھی۔
زیب عالم کے تایا زاد بھائی بڑے سالوں بعد شہر سے گاؤں آرہے تھے بچوں کو گاؤں دیکھنے کا بہت شوق ہو رہا تھا ۔بچپن میں کبھی آتے جاتے تھے اور اب تو جوان ہو چکے تھے۔ تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں سب گاؤں آرہے تھے۔
زیب عالم اپنے بچوں کو دیکھ کر جی رہے تھے اگر جھومر کی جڑواں بھی ہوتی تو وہ بھی جھومر کی طرح بڑی ہوتی۔ زیب عالم دل کی بات دل میں ہی لے کر رہ جاتےتھے۔ مراد شاہ کے بچوں اور کبیر رائمہ نے گاوں جا کر انجواۓ کرنے کاپلان بنایا یا کبیر ویسے بھی جھومر کی گھٹیا حرکت کی وجہ سے بڑا کبیدہ خاطر تھا۔ اس کی یکطرفہ محبت نے اسے بڑا رسوا کیا تھا ۔ اس کا بس چلتا تو جھومر کو کسی کنویں میں دھکا دے دیتا ۔ جیسے اس نے کبیرشاہ کی محبت کا مذاق اڑایا تھا۔ اور اسے اپنے مذاق کا ہدف بنایا تھا ۔کبیر شاہ ان دنوں ویسے ہی بڑا غمگین تھا ۔ مراد چاچو کے بچوں کے ساتھ بنتی بھی بہت تھی ۔ تینوں بھائی تھے بہن نہیں تھی واثق تو کچھ عرصہ پہلے لندن تعلیم مکمل کرنے چلا گیا تھا۔( ثاقب بی بی اے کر رہا تھا)۔ آج سب گاؤں جا رہے تھے کبیر شاہ نے شمشیر کو بہت انسسٹ کیا ۔ مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا وہ دلآویز کو گھر لانا چاہتا تھا مگر سب گاؤں جانے کے لیے ایکسائٹڈ تھے۔
*******
“یار تم ہمارے ساتھ وقت گزارنا ہی نہیں چاہتے. “
کبیر شاہ مصنوعی غصے سے بولا ۔
عباس کی شادی ہے اٹینڈ کرنا ضروری ہے اگر وقت ملا تو آجاؤ گا اس میں اتنا سیریس ہونے والی کونسی بات ہے ۔ کبیر دوستوں کے اسرار پر انھیں ٹال رہا تھا۔
چلو ہم انتظار کریں گے ۔
اور سارا قافلہ گاؤں رواں دواں ہو گیا۔
******
دلاویز صبح سے اداس ڈری سہمی سی بیٹھی تھی کل سے شمشیر نہیں آیا تھا۔ اسے کسی چیز میں دلچسپی نہیں ہو رہی تھی۔ جب تک صحیح طرح سے اس کا گھرانہ بس نہ جاتا اسے چین نہیں آ سکتا تھا۔ اس کا واحد سہارا صرف اس کا شوہر شمشیر ہی تھا۔ دروازے کا لاک کھلا اور شمشیر کا وجود نظر آیا اسے سکون ملا ۔ بے چینی سے شمشیر کے پاس آئی شاہ نے اسے بازووں میں بھر لیا وہ بری طرح سے کسمسائی۔
“چھوڑیں پلیز۔۔۔۔۔۔”
شمشیر شاہ کی گرفت اور مضبوط ہو گئی۔ دلآویز رو دینے کو تھی تو شمشیر کو اس پر ترس آ گیا۔ اور اسے چھوڑ دیا۔
اب تم میری بیوی ہو ہر طرح کے اچھے رویے کے لیے تیار رہو پہلی دفعہ تو تمہیں سینے سے لگایا ہے۔ “
“میراخیال ہے کھانے کا ٹائم ہے تم ۔۔۔۔۔۔”
شمشیر نے اسے غور سے دیکھا پچھلے چار دنوں سے وہ ایک ہی سوٹ میں ملبوس تھی ۔
“کیا دیکھ رہے ہیں۔ “
“میرے ساتھ چلو”۔
وہ اسے گاڑی میں بٹھا کر لے گیا شاپنگ مال کے آگے گاڑی روکی اسے کپڑے سلیکٹ کرنے کو کہا تو وہ دکھی سی نظر آنے لگی ۔
“حد ہوتی ہے یار ۔”
شمشیر سچ میں تپ گیا تھا ۔
اس نے کیجول ڈریس خریدے مختلف طرح کے جوتے شوز کئی چیزیں خریدی ڈالیں۔ کھانا پیک کروایا اور واپس آئے دلاویز نے برتنوں میں کھانا ڈالا۔
“نہیں پہلے تم شاور لے لو اور چینج کرکے آو”
۔
شمشیر نے اسے قریب آ کر کہا اس نے ریڈ کلر کا ایمبروڈری والا سوٹ نکالا اور واش روم میں چلی گئی۔ تقریبا دس منٹ بعد وہ تیار تھی ترشیدہ بالوں میں کمب کیا ہونٹوں پر گلوس لگایا ڈرائنگ روم میں آ گئی۔ شمشیر موبائل میں مگن تھا اسے آتے دیکھ کر دیکھتا رہ گیا۔
“یہ ہوئی نہ بات فریش لگ رہی ہو چلو کھانا کھائیں۔”
شمشیر کی شخصیت بڑی بارعب اور دلکش تھی دلآویز اس کی شخصیت کے رعب میں رہتی تھی اس لئے کھل نہیں رہی تھی۔
********
حویلی میں رونق اتر آئی تھی رہنے کے لیے کمرے سلیکٹ ہو رہے تھے دادا جان سے لاڈ ہو رہے تھے دادی سب پر نثار تھیں ۔ تاج ہمیشہ کی طرح اپنے بیڈروم میں چلی گئی ۔ رباب بچوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔
“دادا جان ہم نے بہت گھومنا پھرنا ہے” ۔
رائمہ نے خواہش کا اظہار کیا ۔
“میرا بیٹا ضرور گھومو پھرو”۔
وہ لاڈ سے بولے تھے۔
اتنے میں کھا تیار ہوا تو سب نے کھانا کھایا ساتھ میں ایک دوسرے پر جملے بازی بھی ہوتی رہی ۔
“میرے بیٹے شمشیر کو کیوں نہیں لائے “۔
دادی جان نے غصہ کیا۔
“دادی جان وہ بہت بڑے بھائی ہیں اس لیے اپنی مرضی اور موڈ کے ہیں۔” رائمہ بولی۔
“دادو آپ کا کک لاجواب ہے میں نے آج تک اتنا مزے کا کھانا نہیں کھای”ا۔ رائمہ پالک گوشت کا مزا لیتے ہوئے بولی۔
حویلی کی سجاوٹ اور بلند و بالا دیوار اور بے حد خوبصورت منفرد فرنیچر رائمہ کو سب کچھ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ کھانا کھاتے ہی بولی۔
بھائی مجھے یہاں کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا چلو کھیت دیکھنے چلیں۔
رائمہ کی معصومیت پر دادا جان نے دل کھول کر قہقہہ لگایا رائمہ دادا جان کے گلے لگ گئی ۔
“دادا جان آپ مجھے کنفیوز کر رہے ہیں۔”
تینوں لڑکے کبیر شاہ ثاقب شاہ اور عاقب شاہ رائمہ کی فرمائش پر اسے باہر گھمانے لے گئے ۔
وہ سب بڑی دیر بعد گاؤں آئے تھے کینوں کے درخت دیکھ کر رائمہ کی چیخ نکل گئی۔
“واہ زبردست کتنے اچھے لگ رہے ہیں کنیوں سے لدے درخت۔ کبیر بھائی میرا دل چاہ رہا ہے سارے کنیوں کھا لوں میں خود اتاروں گی ۔”
رائمہ نے نیچے جھکی ٹہنی سے سب سے بڑا سا کنیوں توڑ لیا اور خوشی سے چھلنے لگی۔
“ویری سوئیٹ بھائی کھا کر دیکھیں۔ “
ثاقب نے ہاتھ بڑھایا۔
“دکھاؤ ۔”
رائمہ نے چھیلا ہوا کینوں دور سے دکھا کر پھر کھانا شروع کر دیا ۔ عاقب نے تین کنیو توڑ تینوں کھانے میں مگن ہوگئے۔ پھر پک ڈنڈی پر آہستہ آہستہ آگے چلنے لگے۔
رائمہ تم نے پھل دیکھ کر یوں چیخ ماری جیسے پہلی دفعہ دیکھا ہو میں تو ڈر گیا تھا۔
عاقب بولا۔
“بھئ گھر میں رکھے فروٹ اور درخت پر لگے ہوۓ فروٹ دیکھنے میں کیا فرق محسوس نہیں ہوتا”۔
“پھر بھی اچھا تو نہیں لگتا چیخیں مارنا۔”
“شٹ اپ عاقب میری مرضی میں جو مرضی کروں۔”
“جو مرضی کرو مگر اتنا شوخ ہونے کی ضرورت نہیں۔ “
“میں تم سے بڑی ہوں تمہیں مجھے آپی کہنا چاہیے نہ کہ تم میرے بابا جان بنو”۔
کبیر اور ثاقب دونوں کی نوک جھوک سنتے رہے۔ پک ڈنڈی پر کچھوا نظر آ گیا۔رائمہ نے پھر چیخ مار دی اور ڈر کے مارے وہ کبیر بھائی سے لپٹ گئی۔ ۔
“وہ ٹوٹرائز ۔ ۔۔۔۔۔۔ “
کبیر نے رائمہ کو ایک طرف ہٹا کر ایک ٹھوکر سے کچھوا دور ہٹا دیا ۔
“رائمہ اب کوئی بھی مسئلہ ہو چیخ و پکار نہیں ہوگی ورنہ کل سے ہم تمہیں ساتھ نہیں لائیں گے ۔ “
اب کبیر نے بھی وارننگ دے دی تھی۔ عاقب اسے منہ چڑانے لگا رائمہ تلملا کر رہ گئی۔
راستے میں چار لڑکے اور ایک لڑکی دور سے آتے دکھائی دے رہے تھے۔
“لگتا ہے ہماری طرح سے کوئی چار پاگل اور بھی سیر کو نکلے ہوئے ہیں۔ “
“ہماری طرح سے پاگل کا کیا مطلب ہے تمہارا ۔ “
“میں کوئی نہیں پاگل واگل “۔
رائمہ کو بہت برا لگا۔
ہرے سبز کھیت لہلہا رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔وہ لوگ باتیں کرتے کافی دور نکل آۓ تھے۔ سامنے سے آتا گروپ انکی طرف والے راستے پر آرہا تھا۔ کبیر شاہ چونک گیا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو جھومر ہے۔ جھومر کی نظر کبیر شاہ پر پڑی تو نظریں چرا گئی ۔ ان کی طرف سے منان نے ہیلو ہائے کیا تو ثاقب اور رائمہ نے بھی رسپونس دیا کبیر شاہ کو بھی نہ چار سلام دعا کرنا پڑی۔
“ہم لوگ سیر کرنے آئے ہیں”۔
منان نے بتایا۔
“ہم لوگ بھی سیروتفریح کو ہی نکلیں ہیں”۔
رائمہ نے جلدی سے جواب دینا ضروری سمجھا۔
“پلیز ٹیک آ سائیڈ۔:
کہتے ہوئے جھومر کبیرشاہ کے قریب سے نکل گئی اور وہ چاروں لڑکے بھی آگے بڑھ گئے۔
“تم نے ان سے بات ہی نہیں کرنے دی”۔
منان بولا ۔
غیر اجنبی لوگوں سے کوئی ضرورت نہیں راہ و رسم بڑھانے کی۔
جھومر پریشان تھی کبیر شاہ کو گاؤں میں دیکھ کر وہ اپ سیٹ ہوگی تھی۔
*******
اگلی شام شمشیر دلاویز کو لینے آگیا۔
“اگر پانچ منٹ میں چاۓ مل جاۓ تو ٹھیک ورنہ میرے ساتھ چلو۔”
“میں چاۓ لاتی ہوں۔ “
وہ چاۓ کے دو کپ بنا کر لائی۔ آج وہ پہلے سے بہتر لگ رہی تھی۔ جو رنگ پہنتی وہی اس پر کھل جاتا۔ وہ بابا کی بے اعتنائی بھول نہیں پا رہی تھی ۔
“اب تک ڈپریس ہو؟ “
“آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاوں گی۔”
چاۓ پی کر اس نے چلنے کا سوال کیا۔
“میں تمہیں اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں”۔
“آپ کے والدین کا ریکشن کیا ہوگا”۔
“یہ تو گھر جا کر پتہ چلے گا۔
شمشیر شاہ مسکرانے لگا۔
“شمشیر اگر انھوں نے مجھے قبول نہ کیا تو میں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ تمہیں قبول نہیں کریں گے۔
شمشیر نے اس کی بات کاٹی۔
“میں تمہیں فضول کی تسلیاں نہیں دوں گا۔ تو اپنا دل کڑا کر کے جانا۔ تم پر زبردستی کوئی نہیں ہے نہیں جانا چاہتی ہو تو نہ جا”و۔
اسے شمشیر اور اپنے درمیان بہت فاصلے محسوس ہوۓ۔ چھم چھم آنسو بہنے لگے۔
“تمہاری یہ رونے دھونے والی عادت بڑی زہریلی ہے پلیز رویا مت کرو۔”
اس نے اپنے آنسو صاف کیے۔ اور ساتھ چلنے کو تیار ہوگی ۔
“گھر پر صرف بابا ہیں باقی سب لوگ گاوں گے ہوۓ ہیں۔ میں تمہیں ابھی صرف بابا سے ملواوں گا۔ “
دل آویز کی کچھ ہمت بندھی۔
وہ اتنے عالیشان خوبصورت گھر میں لایا اسے اندازہ تھا کہ شمشیر امیر ہے مگر اتنا امیر ہونے کا نہیں سوچا تھا۔ شمشیر اسے سیٹنگ روم میں بٹھا کر اسٹڈی روم میں چلا گیا ۔
اسلام علیکم بابا۔
“وعلیکم اسلام۔”
انہوں نے خوش ہوتے ہوئے سلام کا جواب دیا ۔
“ہاں بھئی باپ کی یاد کیسے آئی۔”
“بابا آپ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ جب بھی کچھ غلط کرو گے تو مجھے ضرور بتا دینا ۔ “
اسد شاہ چکنے ہو گئے کتاب بند کر کے ٹیبل پر رکھی۔
“ہاں بتاو کیا کرکے آۓ ہو”۔
وہ باپ کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔
“بابا میں نے شادی کر لی ہے”۔
اسد شاہ کنگ ہو کر رہ گے۔
“کیا ضرورت تھی میرا مطلب کونسی امرجنسی پڑگی تھی”۔
“بابا سمجھ لیں میں نے ایک لڑکی کی عزت بچائی ہے۔ “
“تم کسی کی محبت کے چکر میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔”
جی بابا مجھے اس لڑکی سے محبت ہے مگر حالات کچھ اس طرح کا رخ موڑ گئے کہ مجھے اس لڑکی سے نکاح کرنا پڑا ۔
اسد شاہ سوچ میں ڈوب گئے۔
“بابا میں نے اسے سیٹنگ روم میں بٹھایا ہے۔”
مراد شاہ کو فون کرو اس کو کہو ادھر پہنچے۔
اسد شاہ شدید غصے میں نظر آرہے تھے۔
تھوڑی دیر میں مراد شاہ بھی سامنے بیٹھے تھے۔
“خیریت اسد بھائی کیا ہوا”۔
“آپنے بھتیجے سے پوچھو کیا کارنامہ نہ سر انجام دے کر آیا ہے ۔ “
اسد شاہ اپنا غصہ کنٹرول کر کے بولے ۔
“اسد بھائی لگتا ہے کہ کوئی سنگین مسئلہ ہے”۔
مراد شاہ نے شمشیر کی طرف دیکھ کر کہا لگتا تھا شمشیر بات ہی نہیں کرنا چاہ رہا کافی دیر کمرے میں خاموشی رہی پھر کچھ سوچ کر شمشیر شاہ نے سب کچھ بتا دیا ۔
“شمشیر تم شادی کرتے مگر کسی حسب نسب والے خاندان کی لڑکی سے شادی کرتے تو بات سمجھ آتی ہے۔ ایسی لڑکی جس کے سگے والدین کہاں ہیں بھی یا نہیں افسوس بہت افسوس کی بات ہے تمہیں اپنے خاندان اور اپنے حسب و نسب کے بارے میں ہر بات ازبر ہونے کے باوجود تم نے غلط قدم اٹھایا ہے ہم کسی کو کیا بتائیں گے۔ کہ ہماری بہو کس فیملی سے تعلق رکھتی ہے”۔
مراد شاہ نے اسد شاہ کے دل کی ساری باتیں کہہ دی شمشیر شاہ خود بھی پریشان تھا دلآویز اس کی محبت تھی مگر یہ بات اسے بھی کھٹک رہی تھی کہ وہ کون ہے اس کے والدین کون ہوں گے ان سب باتوں کی وجہ اس کا اپنا خاندان تھا جہاں آنے والے وقت میں اسے کبھی جگہ نہیں مل سکتی تھی۔
“بابا آپ کیا کہتے ہیں”۔
شمشیر نے بڑی امید سے باپ کی طرف دیکھا ۔
“فی الحال تم لڑکی کو اسی اپارٹمنٹ میں رکھو جن لوگوں کے پاس یہ لڑکی رہتی تھی ۔ انہوں کے ذریعے اس لڑکی کا پتہ کرواو ۔ مراد شاہ یہ کام تمہیں کرنا ہوگا کہ انھوں نے لڑکی کو کہاں سے اور کیوں اڈوپٹ کیا تھا باقی باتیں بعد میں ہو گی ۔ شمشیر شاہ تم مجھے اب آکر تفصیلات بتا رہے ہو تمہیں چاہئے تھا کہ نکاح سے پہلے آ کر مجھ سے بات کرتے ہم اس لڑکی کو سہارا بھی دے سکتے تھے اور اسے اس کے صحیح والدین کا اتہ پتہ ڈھونڈ کر اسے باحفاظت اس کے والدین تک پہنچاتے یہ اصل ذمہ داری تھی نہ کہ تم خود سے نکاح رچا کر بیٹھ گئے۔ “
اسد شاہ نے انتہائی غصے کا اظہار کیا شمشیر شاہ شرمندہ تھا مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔
“اب بیٹھے منہ کیا دیکھ رہے ہو اس لڑکی کو واپس اپارٹمنٹ میں لے جاؤ “۔
“وہ لڑکی یہی ہے “۔
مراد شاہ نے پوچھا۔
“جی چاچو وہ سیٹنگ روم میں بیٹھی ہے۔ “
“بھائی صاحب ایک دفعہ اس لڑکی سے مل لیتے ہیں بہتر رہے گا ۔ “
اسد شاہ تیکھی نگاہوں سے شمشیر کو دیکھنے لگے۔
“ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہیں لڑکی کو وہیں لے کر آؤ “۔
۔اسد شاہ مراد شاہ کو لے کر ڈرائنگ روم میں آ گئے پچھلے دو گھنٹوں سے وہ تنہا اس کمرے میں بیٹھی تھی شمشیر شاہ کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔ وہ انتظار کر کر کے تھکنے لگی تھی ۔۔
“دلاویز بابا اور چاچو کو میں نے سب بتا دیا ہے اب وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں۔” دلاویز کا رنگ پیلا پڑ گیا۔
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ساتھ
ہوں آو۔”
وسیع وعریض ڈراینگ روم میں بیٹھی تھی اسد شاہ نے اسے سر تا پاون دیکھا۔ پڑھی لکھی خوبصوت لڑکی تھی۔ بہت ڈری ہوئی اور پریشان نظر آرہی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
