Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 11)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

آسیہ بیگم نے لڑکی کو کل سے اب تک ایک نظر دیکھا نہیں تھا اور لڑکی بھی ان کی نواسی تھی۔ ناشتے کے بعد سے انھوں نے لڑکی کو بلوایا تو پتا چلا کہ دونوں غائب ہیں کبیر شاہ بغیر کہے سنے شہر چلا گیا تھا نوکرانی رضیہ نے بتایا کہ وہ بی بی طے خانے میں بند پڑی ہیں۔

آسیہ بیگم نے ماتھا پیٹ لیا اور جلد اسے تہہ خانے سے نکلوایا جھومر نے کل سے کچھ کھایا پیا نہیں تھا کھانا جوں کا توں پڑا تھا ۔ آسیہ بیگم نے اوپر کی منزل میں اسی کی ماں کے کمرے میں اسے ٹھہرا دیا وہ اپنی ماں کی نوں عمری کی تصویریں دیکھ کر حیران رہ گئی جابجا اس کی ماں کی چیزیں پڑی تھیں جوں کی توں اس کی الماری پڑی تھی اسے اس کمرے سے انسنیت کا احساس ہوا ۔ ابھی وہ یہ سب کا جائزہ لے ہی رہی تھی کہ نوکرانی اس کے لئے لباس اور ضرورت کی چیزیں لے آئی۔

“بی بی جی آپ تازہ دم ہو جائیں بڑی بیگم نے کہا ہے “۔

جھومر نے لباس دیکھا ہلکے گلابی رنگ کا سوٹ تھا اور حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس کے سائز کا تھا وہ آدھے گھنٹے میں فریش ہو کر بیٹھی تھی۔ اس نے اس قید خانے سے نکل کر آنے پر اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا ۔

تھوڑی دیر میں ناشتہ اس کے کمرے ہی میں پہنچا دیا گیا جھومر نے جلدی سے ناشتہ کیا اس سے اب بھوک برداشت بھی نہیں ہو رہی تھی ۔ ناشتے کے بعد آسیہ بیگم نے اسے اپنے پاس بلایا جہاں خاندان کے اور لوگ بھی موجود تھے اور تاج بیگم بھی بیٹھی تھی تاج نے جھومر کو اپنے سامنے دیکھا تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ خود چلتی ہوئی جھومر کے پاس آئی اور بغیر کچھ کہے سنی زناٹے سے ایک تھپڑ جھومر کے پھول سے گال پر جڑ دیا ۔ آسیہ بیگم نہایت غصے اور جلال میں اٹھیں جھومر کو سینے سے لگا کر بولیں۔

“تاج کچھ شرم لحاظ کرو حد ہوتی ہے بے مروتی کی بچی کا کیا قصور ہے جو تم نے اس کے گال پر تھپڑ رسید کر دیا ۔یہ ہماری تربیت ہے؟ اور سنو جس طرح سے تمہارا اپنے ماں کے گھر مقام اور عزت ہے اسی طرح سے میری نواسی جھومر کا مقام اور عزت ہے۔ یاد رکھنا میں آئندہ تمہاری خودسری برداشت نہیں کروں گی۔”

آسیہ بیگم نے تاج کئ اچھی خاصی عزت افضائی کر دی تھی۔

تاج کا دل چاہا جھومر کا گلا دبا دے وہ زمین پر پاؤں مارتی وہاں سے چلی گئی خاندان والوں کے لیے نئی کہانی چھوڑ گئی۔ آسیہ بیگم جھومر کو گھر کے ایسے حصے میں لے آئیں جہاں کوئی نہیں تھا جھومر ہچکیوں سے رو رہی تھی اس لیے بھی اس کی کی نانی نے اس کی فیور کی تھی اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے سگے رشتے کے اتنے قریب تھی۔ آسیہ بیگم نے اس کے آنسو صاف کیے ۔

“بیٹا موقع ایسا ہے کہ میں تمہارا کوئی چاو لاڈ نہیں کر سکتی مگر تم میری بیٹی میراں کی بیٹی ہونے کے ناطے سے میرے جگر کا ٹکڑا ہو جو ظلم ناحق تم پر ٹوٹا ہے اللہ کی اس میں بھی کوئی مصلحت ہو گی تاج تمہاری خالہ ہے فطرتاً جو غم دل میں پال بیٹھے اسے دل سے نکلتی نہیں ہے۔ میں اس کی طرف سے تم سے معافی مانگتی ہوں تم فکر نہیں کرو تھوڑا وقت گزر لینے دو آہستہ آہستہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میری بچی تمہیں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا” ۔

آسیہ بیگم نے اسے بغور دیکھا میراں کی چھاپ تھی چہرے پرآنسووں کو اندر اتارتے جھومر کا ماتھا چوم لیا۔ جھومر کو قدرے بہتر محسوس ہوا۔

“جب تک تاج یہاں ہے تم اپنے کمرے ہی میں رہنا میں تمہیں وہی کھانا وانا پہنچا دوں گی۔”

جھومر نے آہستہ سے سر ہلایا۔

“تم جاؤ اپنے کمرے میں جاؤ شاباش انہوں نے جھومر کو دلاسہ دیتے ہوئے اسے اس کے کمرے میں بھیج دیا”۔

اسد شاہ نے زیب عالم کو فون کیا زیب عالم نے جلدی میں فون رسیو کیا ۔

“زیب میں تم سے یہ کہنا چاہا رہا تھا کہ تم بالکل فکر نہیں کرو میں جھومر کو بیٹی بنا کر رکھوں گا جرگے کے سامنے میں تمہیں کوئی تسلی نہیں دینا چاہتا تھا تم سمجھ رہے ہو نہ۔”

“جی جی اسد صاحب میں سمجھ سکتا ہوں ۔”

“تم فکر سے آزاد ہو جاؤں تمہاری بیٹی کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی سوئم کے بعد ہم یہاں سے شہر چلے جائیں گے جھومر کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہو تو مجھے فون کر لینا “۔

“اسد شاہ میں آپ کا ممنون ہوں گا”۔

“کیسی باتیں کرتے ہو تمہاری بیٹی میری بیٹی جیسی ہے بس تم فکر مت کرنا ۔ “

اسدشاہ نے زیب عالم کو پوری تسلی دیتے ہوئے فون بند کر دیا۔

*******

اور سوئم کے بعد سب شہر واپس آگئے۔ جھومر آسیہ بیگم کی بہت سی دعاوں تلے رخصت ہو کر شہر آگئی فل الحال اسد شاہ نے جھومر کو اوپر کی منزل پر بھیج دیا ھا۔

جھومر ایک بڑے بیڈ روم میں آئی جس کی کھڑکیاں لان کی طرف کھلتی تھیں کمرے کا ماحول بے حد ہوا دار اور صاف ستھرا تھا جھومر کے اعصاب پر کبیر کا غصہ اور اشتعال سوار تھا۔ اس لئے وہ بالکل نارمل محسوس نہیں کر رہی تھی وہ بیڈ کے کراوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی بہت سی لایعنی سوچوں میں گم تھی پانی کی سطح پر اسکی نیت ڈال رہی تھی ۔

********

تاج کی تیوڑیاں بری طرح سے چڑھی ہوئی تھی میراں کی بیٹی اس کے گھر میں موجود تھی لیکن خیالوں میں میراں پچھاڑیں مارتی دکھائی دی۔ تو جیسے دل میں سکون اترنے لگا ایک بیٹی میں نے دائیں بائیں کروادی۔ دوسری کو خون بہا میں لے آئی۔ تاج کے خوبصورت لب مسکرائے۔

واہ میراں واہ بھگتو شب خون مارنے کا انجام تمہاری بیٹی ساری عمر تم سے نہیں مل سکی اولاد کے منہ کو ترسو گی۔

اور تاج ابھی تک یہ نہیں جانتی تھی کہ جس کو دائیں بائیں کیا تھا وہ اس کی بہو بن چکی تھی یہ تھا قدرت کا حسین فیصلہ۔

********

اتنی لمبی ڈرائیونگ کے بعد شمشیر شاہ بہت تھکا ہوا واپس آیا تھا رائمہ کو گھر ڈراپ کر کے سیدھا اپنے اپاٹمنٹ آگیا۔ لاک کھولا لانج میں آیا وال کلاک رات کے گیارہ بجا رہا تھا ۔ وہ دلاویز کے روم میں آیا وہ بے سدھ سوئی ہوئی تھی۔ شمشیر اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر مسکرایا ۔ اس نے کپڑے چینج کیے۔ اور دلاویز کے پاس آکر لیٹ گیا۔ مگر وہ گہری نیند سو رہی تھی۔ شمشیر کو اس پر اتنا پیار آیا کےا سے اپنی آغوش میں لے لیا وہ بری طرح سے کسمسائی نیم اندھیرے میں وہ بری طرح سی ڈر گئی۔

“دلاویز میں شمشیر ہوں۔ “

تو لمبی اطمینان بھری سانس لے کے وہ اس کے سینے سے لگ گی۔

شمشیر نے نام نہاد رشتے کو معتبر بنا دیا۔ دلاویز نے ہر طرح کی خود سپردگی اپنے مجازی خدا کو دے دی۔ دن کا اجالا ہونے سے پہلے دلاویز اٹھ گئی تھی۔ شمشیر صبح دس بجے تک سوتا رہا۔ آنکھ کھلی تو پہلو میں دلاویز کو نہ پا کر شوخی سے مسکرایا۔

******

دلاویز کے لیے تنہائی تنہائی نہیں رہی تھی۔ اس کی تنہائیوں میں ہر پل شمشیر اس کے ساتھ ہوتا اسکی بے ساختہ محبتیں اس کا مان بڑھا دیتں۔

******

جب حالات سازگار ہونے لگے تو اسد نے سب سے پہلے ایس پی فاخر کو ساتھ لے کر ابتہاج صاحب سے پوری انویسٹیگیشن کی۔

“ابتہاج صاحب آپ نے دلاویز کو کب اور کہاں سے اڈوپٹ کیا تھا آپ بتا سکتے ہیں”؟

ابتہاج صاحب تو حیران رہ گئے کہ وہ بے ذرر سی لڑکی کے لواحقین آکر ان سے تابڑ توڑ سوال بھی کریں گے ۔

اتفاق نامی ادارے سے میری ہمشیرہ کے ذریعے ہم نے دل آویز کو اڈوپٹ کیا تھا میں نے اسے اپنی ولدیت میں لیا تھا ۔

ابتہاج صاحب کے نجانے کیوں چھکے چھوٹ رہے تھے پیشانی پر پسینہ واضح تھا ۔ اسد نے ان کا خوب مطالعہ کیا۔

“اپنی ولدیت میں لیتے ہوئے اس کی پرورش کی اور اب اس سے لاتعلق کیوں ہو گئے”؟

“پورا دن اور ایک رات باہر رہنے کے بعد وہ اپنے شوہر کے ساتھ میرے پاس آ کر کہے کہ وہ شادی کر چکی ہے تو کیا یہ بات ایسی ریزن ایبل ہے کہ میں اسے قبول کرتا”۔

ابتہاج صاحب تاؤ کھا گئے۔

“کیا ایک پورا دن جب وہ گھر نہیں آئی تو اگلی شام تک آپ نے اپنی بیٹی کے لئے کوئی رپورٹ درج کروائی۔ “

ایس پی کے سخت سوال پر ابتہاج صاحب نے اپنے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے انکار کیا۔تو ایس پی صاحب بولے۔

“آپ نے رپورٹ درج کیوں نہیں کروائی” ۔ اب ابتہاج صاحب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ اسد شاہ معنی خیزی سے مسکرائے۔

“چھوڑو ایس پی بچی واقعی ان کا جگر گوشہ ہوتی تو رپورٹ بھی درج ہوتی”۔

“ابتہاج صاحب دریا خان گاؤں کے نامور گھرانے کی اعلیٰ حسب نسب رکھنے والے خاندان کی بیٹی ہے دل آویز کسی حادثے کی بنا پر ہوسپیٹل سے پیدا ہوتے ہی گم ہو گئی تھی دل آویز ایک امیروکبیر اور عزت دار گرانے سے ہے تمہارے پاس آنے سے ایک دن قبل وہ کڈنیپ ہو گئی تھی ۔ دوسرے دن میرے بیٹے نے اس کے سر پر عزت کی چادر رکھتے ہوئے اس سے نکاح کر لیا ۔ “

ابتہاج صاحب کا یہ عالم کے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔ حنا کولڈرنک کی ٹرے لے کر ڈرائنگ روم میں آئی جب تک وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

حنا ان کے آگے ہاتھ جوڑ کر رونے لگی۔

“خدا کے لئے مجھے میری بیٹی سے ملوا دیجئے گا “۔

ایس پی کچھ کہنے والا تھا جب اسد شاہ نے اسے روک دیا۔

“خاتون اب ایسا ممکن نہیں ہے “۔

کہتے ہوئے اسد شاہ باہر چلے گئے اتفاق ادارے سے پتہ چلا نوراں مائی کے ذریعے بچی ان تک پہنچی تھی سارا معاملہ ہی کلیئر ہو گیا تھا۔

********

کبیر شاہ تو بھول ہی گیا تھا کہ اس نے کسی کو عقدثانی میں بھی لیا تھا دو ماہ قبل کچھ پلک جھپکتے گزر گئے تھے اور جھومر بھی دو ماہ سے اوپر ہی رہتی رہی تھی تاج نے تو منہ لگانا مناسب ہی نہ سمجھا تھا اور رائمہ کو بھی اس کے پاس جانے کی اجازت نہیں تھی تاج بہت خوش تھی کہ کبیر کی جھومر کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی آج کبیر یہاں وہاں دیکھتا ہوا سیڑھیاں چڑھ گیا ۔ ہر بیڈروم کو دیکھتا ہوا جا رہا تھا شروع سے لاسٹ والے میں کسی زندگی کے جینے کی نشاندہی ہو رہی تھی ۔ وہ اندر داخل ہوا جھومر نماز پڑھ کر جانماز طے لگاتی ہوئی مڑی۔کبیرشاہ کو اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوئی۔ وہ تو امید چھوڑ چکی تھی کہ کبیر شاہ کبھی اس کے روبرو بھی آئے گا ۔ جھومر حیرت سے سٹل کھڑی اس کا منہ تکنے لگی اور وہ معنی خیز مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے اس کے قریب آیا۔

“ڈر گئی” ۔

وہ مونچھوں کو تاو دیتا ہوا بولا۔

“کیوں ڈروں گی”۔

” بڑا حساب پڑا ہے تمہاری طرف جو مجھے چکتا کرنا ہے “۔

“تو ٹھیک ہے دے دو طلاق مجھے طلاق کا کلنک ماتھے پر لگوا کر چلی جاتی ہوں تمہارا میری طرف کا حساب بھی بے باک ہو جائے گا۔”

کبیر شاہ نے زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور پیچھے بیڈ پر گر گئی۔

اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی کبیر اس کے بے حد قریب تھا۔ اتنا قریب کے جھومر اور وہ اپنے اپنے سانسوں کی حرارت کو محسوس کر سکتے تھے۔

“آئندہ کبھی ایسا مت سوچنا اور اگر تمہاری زبان پر ایسا لفظ آیا بھی تو تمہاری زبان کھینچ لوں گا۔ “

“تم اور کر بھی کیا سکتے ہو۔ عورت پر ہاتھ اٹھا کر فخر محسوس کرنے والے مردوں میں سے ایک مرد ہی ہو۔ “

جھومر حقارت و نفرت سے بولی۔ کبیر شاہ کی پانچوں انگلیوں کے نشان اس کے رخسار پر تھے وہ شدید ذلت اور تکلیف سے گزر رہی تھی۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ کبیر شاہ کو شرمندگی محسوس ہو رہی تھی ۔ اسے جھومر سے اتنی محبت تھی کہ جدائی کا لفظ اب اسے گوارا نہیں تھا ۔

“تم مجھے تھپڑ سے یا اپنے کسی بھی ظلم اور زیادتی کی بدولت خاموش نہیں کروا سکتے یاد رکھو تمہاری ونی بن کر زندگی نہیں گزاروں گی “۔

کبیر شاہ کے چہرے کے تاثرات بدلے جھومر کے جرات مندانہ انداز نے اسے متاثر کیا تھا گھنی مونچھوں تلے اس کی مسکراہٹ واضح تھی وہ اپنی بات کہہ کر اپنا اعتماد کھونے لگی کبیر اس کے بالکل اوپر تھا۔

“پیچھے ہٹو کبیر۔ “

وہ تلخی سے بولی ۔ کبیر شاہ ریلیکس ہو کر جیسے اس پر گر گیا تھا۔ جھومر بری طرح سے کسمسائی۔ اسے کبیر کی قربت زہر لگ رہی تھی۔

“کبیر شاہ پلیز مجھے چھوڑو تمہاری زبردستی کی قربت کو میں خاطر میں لانے والی نہیں۔ “

“واہ شہزادی لگی ہو بپھڑی ہوئی چیتی”۔

جھومر کا سنجیدہ لال سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے وہ پرے ہٹ گیا دسمبر کے مہینے میں وہ ہلکے قدرے باریک لان کے جوڑے میں تھی۔ اور اسکا وجود ہلکے ہلکے کپکپا رہا تھا۔ کبیر شاہ ایک دفعہ پھر شرمندہ ہوا۔ اسے امید نہیں تھی اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ جھومر کو کسی چیز کی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ اور وہ اس سے لاعلم اس لیے نھی رہا تھا۔ کہ اس طرح سے اسے بڑی تسکین ملتی تھی مگر اب اسے بے سر وسامان دیکھ کر دل میں تکلیف ہونے لگی تھی۔ وہ اسکی محبت تھی۔ اس کا عشق تھی۔ اور اس کا عشق اس کے ہاتھوں رلنے لگا تھا۔ اس کی طبیعت بہت بے کراں اور بھاری ہونے لگی۔ مذید بغیر کچھ کہے وہ واپس چلا گیا۔وہ جلدی سے کمبل اوڑھ کر بیٹھ گئی وہ بہت پھوٹ پھوٹ کر روئی وہ کس عذاب سے گزر رہی تھی۔ یہ وہی جانتی تھی میراں جھومر کی جدائی میں بڑی افسردہ اور پریشان رہتی تھی۔ زیب عالم اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئے تھے لیکن اسے اپنی بیٹی کا درد بھولتا ہی نہیں تھا ہاتھوں پر مہندی عروسی جوڑے میں دلہن بن کر نارمل حالات میں ریجوں کے ساتھ رخصت ہوتی۔ میری بیٹی گھر کے عام سے جوڑے میں رخصت ہوگئی یہ سوچ سوچ کر میراں نڈھال ہونے لگتی ۔

“بابا جان کیا اماں یوں ہی روتی رہیں گی تو کیسے چلے گا وہ بیمار ہو جائیں گی میں اماں کی وجہ سے بہت پریشان ہوں بابا “۔

“بیٹا بات یوں ہے کہ مجھے اسد شاہ نے شہر بلایا ہے بے حد ضروری معاملہ ہے اس کا کہنا ہے کہ میں اس کے پاس پہنچوں تو میرے ساتھ ڈسکس کرے گا اس لیے مجھے ذرا سا اشارہ بھی نہیں دیا ۔”

“بابا آپ جائیں ان سے ملیں یقینا جھومر کے متعلق کوئی مسئلہ ہو گا۔”

“میں بھی یہی سوچ رہا ہوں تم اپنی ماں کا خیال رکھنا میں کل صبح ہی نکل جاؤں گا اور میرا خیال ہے کہ شہر آنا جانا رہے گا اس لئے میں لاہور والا گھر سیٹ کروا لیتا ہوں تمہارا کیا خیال ہے۔ “

“بلکہ بابا جان اسے کیوں نہ کریں کہ ہم لاہور ہی میں شفٹ ہو جائیں”۔

“نہیں ابھی ایسا ممکن نہیں ہے بہرحال میں کل صبح لاہور نکل جاؤں گا ۔ “

“بابا آپ اپنا خیال رکھیے گا” ۔

منان بہت فرمابردار اور پیارا بیٹا تھا زیب عالم اسے محبت سے دیکھتے ہوئے مسکرائے ۔

*******

کبیر شاہ نے ملازموں کو تمام شاپنگ بیگز تھما کر جھومر کے کمرے میں بھیج دیئے پانچ منٹ میں سارے صوفے شاپنگ بیگ سے بھر گئے وہ چپ چاپ دیکھتی رہی اسے یقین تھا کہ وہ خود بھی اس کے پاس آئے گا اور ایسا ہی ہوا جب سارا سامان بھجوایا دیا تو وہ خود بھی آ گیا۔

جھومر بیڈ پر جوں کی توں بیٹھی رہی کبیر شاہ کا آنا اس کے اعصاب پر بہت بھاری ہوتا تھا شاید اس لیے کہ وہ اس کا شوہر تھا یا اس لیے کہ وہ اپنے رویے سے اس کے اعصاب کو چٹخا دیتا تھا۔ اور وہ کتنے دن بیت جانے کے بعد بھی بھول نہیں پاتی تھی۔

“میں نے تمہارے لئے شاپنگ کی ہے سراسر اپنی پسند سے دیکھو گی نہیں۔ “

“وہ اوپر تک کمبل میں تھی اور شاید کمبل میں بھی اسے سردی لگ رہی تھی جھومر نے اسے ایک نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھا وہ اس کے قریب آ کر بیٹھ گیا “۔

جھومر کانوں کی لوؤں تک جلنے لگی اس کے پاس اکیلے کمرے میں اس کا آجانا اور اس کے قریب آ کر بیٹھنا وہ بیچاری ہاتھوں پیروں پر ہو جاتی بڑی مشکل سے اعتماد بحال رکھ پاتی تھی۔

“سوری میں نے غفلت کی تمہاری ضروریات کا خیال نہ رکھ سکا ۔”

اس کا لہجہ بہت گھمبیر ہو گیا تھا ۔

جھومر کے ہونٹ خشک ہونے لگے تو (کمینے کے سامنے لب گویائی کو موت آجاتی تھی اور دل تو جیسے اچھل اچھل کر سینے سے باہر آنے کو تھا۔ )

کبیرشاہ کو ہونٹ کاٹتی وہ خاموش بیٹھی اچھی لگ رہی تھی وہ محویت سے اسے دیکھنے لگا آخر کار اس نے اپنی تمام ہمتیں مجتمع کی اور بولی۔

“ٹھیک ہے میں دیکھ لوں گی شوپنگ اب تم جا سکتے ہو ۔”

کبیرشاہ بے ساختہ بڑی زور سے ہنس دیا۔

“گھبراؤ نہیں بیشک تمہارے جملہ حقوق میرے پاس محفوظ ہیں میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔”

اور کبیر نے اس کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبوچ لیا ۔ جھومر تڑپ اٹھی۔

چھوڑو ہاتھ میرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبیر!!!!!!!

وہ تنک گئی۔ کبیرشاہ بھرپور مزہ لے رہا تھا ۔

جھومر بے بس سی ہوگئی اور کبیر نے اس کا ساتھ نہ چھوڑا ۔

“بہت ڈھیٹ ہو تم” ۔

وہ غصہ ہو گئی تو کبیر نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا اٹھ کر ایک شاپنگ بیگ میں سے مسٹرڈ میرون کلر ونٹر سٹف کا خوبصورت جدید جوڑا نکالا جو واقعی کمال تھا ۔

“اٹھو کپڑے چینج کرو مجھے تو ڈر تھا کہ کہیں تم لان کے سوٹ میں اتنی سردی میں مر ہی نہ جاؤ ۔”

وہ لا پرواہی سے بولا ۔ وہ اس کے سامنے کمبل سے نکلنا نہیں چاہ رہی تھی۔

“کبھی میں سب دیکھ لوں گی تم یہاں سے جاؤ پلیز ۔ “

“بس کر دو ایک تو چوری دوسرا سینہ زوری۔ “

وہ کہہ کر رکا نہیں چلا گیا وہ اس کے آخری فقرے کا مطلب سمجھتی رہ گئی وہ یقینا شرط جیتنے والی بات پر طنز کر کے گیا تھا اگلے کچھ دن وہ مصروف ہی بہت رہا ہے اور جھومر کو ہر پل لگتا کہیں وہ آ نا جائے۔

**********

زیب عالم نے لاہور پہنچ کر اسد شاہ کو فون پر اطلاع دی۔ اسد شاہ انہیں عالیشان ریسٹورنٹ میں لنچ پر بلایا۔اسد شاہ نے زیب عالم سے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا۔پرتکلف ماحول میں لنچ کیا اور ساتھ حالات اور سیاست پر بات چیت ہوتی رہی۔ جس کے بعد دونوں کافی پی رہے تھے جب اسد شاہ اصل مقصد کی طرف آگیے۔

“زیب عالم صاحب آپ کی بیٹیاں ٹوینز تھیں “۔

تو زیب صاحب غیر متوقع سوال پر حیران ہوئے۔

“جی بالکل ٹونز تھی”۔

“دوسری بچی کہاں ہے”؟

اسد شاہ نے جلدی سے پوچھا۔

“ہوسپٹل سے ہی غائب ہو گئی تھی کسی نے اٹھا لیا تھا اسے” ۔

“آپ نے کوئی پیروی کی تھی”؟

“ہاں بالکل پولیس میں رپورٹ بھی درج کروائی تھی لیکن بچی کا کوئی سراغ نہ مل سکا تھا” ۔

“تو زیب عالم صاحب آپ کو مبارک ہو سراغ مل چکا ہے۔”

زیب عالم حیران ششدر اسد شاہ کا منہ تکنے لگے۔

“آپ کیا کہہ رہے ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔”

زیب اتنا ہی بول سکے ۔

“سب ممکن ہے سب ہو سکتا ہے بس وقت مقرر ہوتا ہے۔ “

پھر دلاویز کے ملنے اور دیگر واقعات کی رونمائی تک سب کچھ زیب عالم کو بتایا۔

“اب دل آویز اتفاق سے میری بہو ہے میرے بڑے بیٹے شمشیر نے اس سے شادی کر لی ہے ۔”

“کیا آپ میری بیٹی سے میری ملاقات کروا سکتے ہیں”۔

زیب عالم نے یوں کہا جیسے کہ پیاسا کنویں کا راستہ پوچھتا ہو۔

“کیوں نہیں میں ایک لمحہ ضائع کیے بغیر آپ کو آپ کی بیٹی سے ملوانا چاہوں گا لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ آپ کی دونوں بیٹیاں آپ کو اکٹھے ایک جگہ ملیں تو اس لیے آپ کو کل شام تک انتظار کرنا ہوگا۔ “

“کیوں نہیں ضرور میں انتظار کرتا ہوں ۔ آپ بے حد شکر گزار ہوں آپ کا احسان عظیم ہے مجھ پر ۔”زیب عالم روہانسے ہونے لگے۔

“ارے آپ کیسی باتیں کرتے ہیں یہ تو میرا فرض تھا ہے بھلا سگے باپ بیٹی کو کیسے دور رکھ سکتا ہوں ۔ آپ کی ایک بیٹیجن حالات میں میری بہو بنی ہے وہ تو ہماری مجبوری تھی مگر آپ کی دوسری بیٹی کا نصیب بھی میرا بیٹا ہی تھا یہ حسین اتفاق ہے یہ بہت حیرت انگیز واقعہ ہے بہرحال اجازت دیجئے کل ملاقات ہوتی ہے”۔

اوکے۔

زیب عالم ان کے ساتھ چلتے ہوئے باہر آئے اور اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *