Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 06)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

کیا چاہتے ہیں آپ۔

اب جھومر کچھ نرم ہوئی۔

دوستی آپ سے دوستی کرنا چاہتا ہوں۔

توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ نہ نہ۔

جھومر کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگی۔

کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں۔

تو پھر سمجھ لیں ہمارے خاندان میں دوستیاں اور وہ بھی لڑکوں سے کبھی بھی نہیں۔لڑکیوں کو اس کی اجازت نہیں ہے تو اس لیے میں مجبور ہوں ۔

کس کے ہاتھوں مجبور ہیں ۔

خاندان کے ہاتھوں۔

جھومر نے جان بوجھ کر بڑھائی۔

تو خیر سے خاندان یہی اسی شہر میں مقیم ہوگا۔

نہیں سب گاؤں رہتے ہیں ۔

تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کوئی نہیں۔

نہیں کوئی نہیں ہے۔

پھر تو دوستی ہو سکتی ہے۔

لیکن میرا ضمیر اور میں کیا کروں گی۔

جھومر لمبے ناخنوں سے سر کھجانے لگی ۔

تو آپ ضمیر کو تھپک تھپک کر سلا دے۔

جھومر کے بلند اور خوبصورت قہقہے نے کتنے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا خود کبیرشاہ بھی ہل کر رہ گیا۔ جھومر کے پاس بلا کی خود اعتمادی تھی ہنستے ہنستے لال سرخ ہو گئی اور بینچ پر بیٹھ گئی۔ اب کبیرشاہ بھی کھل کر ہنس پڑا ۔

آپ کا نام۔

جھومر۔

کیا یہ کیسا نام ہے جھومر۔

کسی کو حق نہیں کہ کسی کے نام پر اعتراض کرے تو آپ ذرا۔۔۔۔۔

جھومر نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔

میں کبیرشاہ ہو یہی اسی شہر میں رہتا ہوں آپ سچ میں مجھے اچھی لگی۔

اور جھوٹ میں ؟

ایک لمحے کو تو کبیرشاہ کچھ نہ سمجھا مگر سمجھتے ہیں ہنس پڑا کبیر شاہ اچھی پرسنیلٹی کا مالک تھا ۔

اور کیا ہابیز ہیں۔

میں یہاں پڑھنے آئی ہوں تو زیادہ تر فوکس پڑھائی پر ہے ہابیز میں پالتی نہیں۔ اور آپ۔۔۔۔۔۔

میرا ایم بی اے کا لاسٹ ائر ہے شام کو کبھی کبھار

گالف کھیلنے جاتا ہوں۔

اوکے میری کلاس کا ٹائم ہے۔

جھومر اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے بولی۔

تھینک یو آپ

کی کمپنی اچھی لگی۔

سو نائس کہتے ہوئے جھومر آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔

دائیں بائیں سے کبیرشاہ کے دوست وارد ہوگئے۔

واہ یار۔

ریحان نے تالیاں بجائیں ۔

بڑی بات ہے یار تو نے تو کبھی لڑکی کو گھاس نہیں ڈالی اب یہ کیا تھا۔

کبیر شاہ زیر لب مسکرانے لگا ۔

بولتا نہیں گھامڑ کہیں کے۔

سلمان نے اسے ایک گھونسا مارا۔

جسٹ ٹائم پاس یار۔

چل یار یونیورسٹی کا آخری سال تو بھی رنگین بنا لے ورنہ تیری وجہ سے ہم نے بھی کبھی لڑکیوں سے دوستیاں ووستیاں نہیں کی۔

*******

سمسٹر آف ہوا تو دلاویز نے میکڈونل میں جوب کر لی۔ یونہی مارے شوق کے دوہری ہوتی رہتی۔ اور گزشتہ تین دن سے یونیفارم پہنے کسٹمرز یوں اٹینڈ کر رہی تھی جیسے بڑی تجربہ کار ہو۔

شمشیر بھائی پاپا کی گاڑی ورک شاپ میں ہےاور پاپا کو ایک گھنٹے تک چاہیےاور ورک شاپ سے گاڑی بھی ایک گھنٹے بعد ملے گی اب کیا کروں۔

کرنا کیا ہے اب لنچ ٹائم ہے آو میکڈونل سے لنچ کرتے ہیں وقت بھی گزر جاۓ گا اور تم چاچو کی گاڑی بھی ورک شاپ سے لے لو گے۔

چلو ٹھیک ہے۔

شمشیر شاہ اپنے کام سے جارہا تھا ۔ جب مراد شاہ چاچو کا بیٹا واثق مل گیا۔

دونوں میکڈونلز آگے۔کاونٹر پر جانا پہچانا چہرہ دیکھ کر شمشیر شاہ متوجہ ہوا۔

سر آپ کا آرڈر۔

شمشیر شاہ پتا نہیں کس سوچ میں کھو گیا تھا۔

دلاویز اندر ہی اندر بڑی لطف اندوز ہوئی یہ وہی گاڑی والا تھا جو اس دن سڑک پر الجھنے کو تیار بیٹھا تھا۔

شمشیر شاہ اپنی نشیست پر آگیا۔ دونوں نے لنچ کیا شمشیر شاہ کو بھی یاد آگیا تھا۔ کہ یہ کون لڑکی تھی۔ مگر وہ ایک معروف ذہن کا لڑکا تھا اس نے زیادہ سر پر نہ لیا۔

*******

آج کل مراد شاہ کا اصرار بڑھتا جا رہا تھا کہ تاج اس سے ملاقات کرے جب کہ تاج بالکل خاموش تھی۔

وہ کسی اور سوچ میں تھی واثق رائمہ میں دلچسپی رکھتا تھا اور یہ بات کسی صورت بھی مناسب نہیں تھی کیوں کہ جب آخری وقت مراد شاہ ان سے ملا تھا تو ان دنوں اسد شاہ ملک سے باہر تھے اور تاج حاملہ ہوچکی تھی۔ تو یوں رائمہ مراد شاہ کی بیٹی تھی واثق کی بہن اور اب اس سارے معاملے کو ہینڈل کرنا بھی ایک کام تھا۔

اور تو اور مراد شاہ بھی دل سے راضی تھا اب وقت آگیا تھا جب وہ مراد شاہ کو سب کچھ سچ بتا دیتی تاکہ گیند اس کی کوٹ میں گر جاتی اور حالات کو وہ خود اپنے تئیں قابو میں لاتا۔ موبائل کی بپ بجنے پر تاج نے موبائل اٹھایا مراد شاہ کی کال تھی۔ وہ سنہری بال کھولے آرام دہ کرسی پر بیٹھی تھی۔

بولو کیا بات ہے؟

تاج ہمیشہ کی طرح رکھا ئی سے بولیں۔

تم سے ملنا چاہتا ہوں۔

کہاں؟

ہوٹل میں کمرہ بک کروا لیتا ہوں۔

نہیں ہم تمہارے ساتھ صرف ڈنر کریں گے ۔

اوکے اتنا ہی بہت ہے جانو تم حکم کرو۔

آج رات انتظار کرو۔

مراد شاہ ایک دم سے خوشی سے جھوم اٹھا۔

اسد شاہ بڑی معروف ہستی بن گیا تھا سیاست میں ایک نام بنا چکا تھا اور ساتھ میں اچھا بزنس مین بھی تھا۔ کبھی کبھی ضرورت پڑتی تو ابا جان جرگے کے فیصلے کے سلسلے میں اسد شاہ کو بلا لیتے۔

*****

شمشیر انارکلی شاپنگ کے لیے آیا تھا۔ شاپنگ بیگز گاڑی میں رکھ کر وہ جیسے ہی مڑا تو وہی ہنستا مسکراتا چہرہ اسکے قریب سے گزرا۔ پتہ نہیں کس جذبے کے تحت شمشیر بھی ان دونوں لڑکیوں کے پیچھے ہولیا۔

دلاویز تم بہت ضدی لڑکی ہو تمہیں میرے گھر نہیں آنا چاہیے۔ تمہیں نہیں پتا ہم کون ہیں۔

کون ہیں کیا ہوتا ہے انسان ہی ہو۔

میں تمہیں کیسے سمجھاوں۔

شمشیر دونوں لڑکیوں کی گفتگو سن سکتا تھا۔ اس کا تجسس بھی بڑھ گیا کہ” آخر یہ کون لوگ ہیں؟” آخر کاروہ ایک رکشے کو ہاتھ دے کر اس میں سوار ہوگی شمشیر شاہ نے تیزی سے گاڑی کی طرف حرکت کی اور گاڑی سٹارٹ کرکے پیچھا کرنا شروع کردیا۔ رکشا عجیب سے محلے میں آکر رکا۔ شمشیر کی گاڑی بھی تنگ گلیوں میں نہیں جا سکتی تھی۔ وہاں کا تو ماحول ہی نرالا تھا۔ ایک منٹ سے پہلے شمشیر کو سب سمجھ میں آگیا تھا۔ ثانیہ ابھی بھی دلاویز کو واپس جانے کا کہہ رہی تھی مگر وہ بےوقوفی کی آخری حد پر کھڑی تھی۔

چلتے چلتے وہ ایک بارونق گلی میں داخل ہوئی اور لکڑی کے مضبوط بنے داخلی دروازے میں چلی گی۔ وہ سیڑھیاں چڑھ چکی تھی جس وقت شمشیر بھی ان کے پیچھے دبے پاوں آگیا۔ اوپر بہت بڑا خوبصورت رنگین کمرہ تھا۔ غالباً یہیں مجرا ہوتا تھا۔ مگر ان لڑکیوں کا یہاں کیا کام۔

اتنے میں ایک عورت آئی جو شاید یہاں کی کام والی تھی۔ شمشیر شاہ عجیب سی شش وپنج میں تھا۔

اسے یہ پتہ چل گیا تھا کے ایک لڑکی یہاںکی رہائشی ہے اور دوسری بالکل گھریلو لڑکی ہے۔اسے ہر حال میں دوسری لڑکی کو بچانا ہے۔

جی صاحب جی آپ کون؟

وہ عورت عجیب انداز میں مسکرائی۔

ہم شمشیر شاہ ہیں ہمیں تمہاری نائقہ سے ملنا ہے۔

شمشیر شاہ پورے اعتماد سے صوفے پر براجمان ہوگیا۔ اس وقت شام چار بجے کا ٹائم تھا۔شمشیر شاہ بڑی بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔

دل اویز کے وہم گمان میں نہیں تھا کہ وہ کہاں آگی ہے۔ مگر یہاں کا ماحول عجیب سا تھا لڑکیاں نیم عریاں کپڑوں میں تھیں۔ گھر میں اتنی زیادہ لڑکیاں کون تھیں بڑی عمر کی عورتوں بنی سنوری ہوئی تھیں جیسے کسی کی شادی ہو۔۔ثانیہ اسکے لیے کولڈڈرنک اور کچھ کھانے کے لوازمات لے آئی

ثانیہ یہ تمہارا گھر کیسا ہے میرا مطلب یہ لڑکیاں کون ہیں۔

دل اویز میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ میرے گھر مت آؤ یہ کوٹھا ہے۔

کیا؟؟؟؟؟؟

دلاویز کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گی۔

دوخرانٹ عورتوں نے ثانیہ کو گھورا۔

اتنی دیر میں ایک ملازمہ نے آکر دوسری عورت کو کوئی پیغام دیا۔

لڑکیوں حسنہ بیگم تم دونوں کو بلا رہی ہیں جاو۔

ثانیہ دلاویز کو لے کر بایر والے کمرے میں آگی۔ دلاویز بے حد پریشان اور ہراساں تھی۔ وہ اندر سے سہم گی تھی یہ ماحول کسی صورت اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا دلاویز کو دیکھ کر شمشیر کھڑا ہوگیا اور بڑی بے تکلفی سے بولا۔

چلیں کزن۔

تو وہ صرف سر ہی ہلا سکی۔

شمشیر شاہ سے بازو سے پکڑ کر تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا باہر ماحول بھی کچھ اچھا نہیں تھا ہر کوئی دل کو آنکھیں نکال نکال کر دیکھ رہا تھا شمشیر نے اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اور اسے تقریبا اندر دھکا دے دیا ۔ اور خود فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھ گیااور زن سے گاڑی نکال کر لے گیا وہ دل ہی دل میں ہزار بار اللہ کا شکر کرنے لگی۔ تو شمشیر نے نسبتاً کھلےایرے میں آکر گاڑی روکی۔

میڈم آپ بتا سکتی ہیں کہ آپ کون ہیں؟

شمشیرشاہ پورے رعب سے بولا۔

میں دلاویز ہوں اقبال ٹاؤن رہتی ہوں بابا کا نام ابتہاج ہے بزنس کرتے ہیں۔

وہ ایک ہی سانس میں سب اگل گی۔

اور یہاں کیا کرنے آئی تھی ۔

دل آویز خاموش تھی۔ شمشیرشاہ دھاڑ کر بولا۔

میں پوچھ رہا ہوں کیا کرنے آئی تھی۔

وہ میری سہیلی ہے ہم نیورسٹی میں اکٹھے کرتی ہیں میں اس کے گھر آئی تھی۔

پھر کیسا لگا اس کا گھر ۔

شمشیر نے اس سے پوچھا ۔

دیکھے مجھے کچھ پتا نہیں تھا میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں آپ بس مجھے یہی چھوڑ دیں۔

دلاویز بری طرح سے ڈر گئی تھی ۔

فکر مت کرو میں تمہیں بحفاظت تمہاری منزل پر پہنچاوں گا گھر کا اڈریس بتاؤ۔

شمشیر نے گھر کا ایڈریس بتاتے ہی گاڑی اس راستے پر ڈال دی ۔

اب دلاویز بے آواز رو رہی تھی حقیقت میں وہ آج بڑی ذلیل ہوئی تھی۔ اس بری طرح سے احساس ندامت مار رہا تھا۔ گھر کے آگے گاڑی روک کر شمشیر نے کہا ۔

بلاو اپنے باپ کو ذرا اس کی بیٹی کا کارنامہ بتاؤں۔

نہیں پلیز آپ ایسا مت کریں آپ مجھے معاف کر دیں۔

میں کل ہی ثانیہ سے دوستی ختم کر دوں گی۔

شمشیرشاہ کا دل پسیج گیا اس کی منت کارگر ثابت ہوئی۔

میں سائے کی طرح تمہارے ساتھ ہوں سمجھی جہاں مجھے ایسی کوئی بات نظر آئی تو بہت بری طرح پیش آؤں گا۔

شمشیر شاہ تو یوں حق جتا رہا تھا جیسے اس کی زوجہ محترمہ ہو۔ کیا میں نے کسی بے یارومددگار لڑکی کی مدد کی ہے نہیں تو پھر ایک انجان لڑکی کا پیچھا کرنا اور اسے اتنی بڑی افتادہ سے بچا لینا یہ سب کیا ہے وہاں کی حسنہ بیگم تو اسے سنبھال چکی تھی یعنی کہ اگر بروقت میں اسے چالیس ہزار کا چیک نہ تھماتا اور دل کو اپنی کزن ظاہر نہ کرتا تو لڑکی تو کوٹھے کی زینت بن چکی تھی اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ لڑکی ثانیہ دل آویز کا پیچھا اتنی آسانی سے چھوڑ دے گی نہیں کبھی نہیں وہ ایک دو بار لازمی ٹراے کرے گی کہ دلآویز اس کے چنگل میں پھنس جائے اس پاگل لڑکی سے تو کچھ بھی بیعدتھا۔ شمشیر شاہ اپنے بیڈ پر اڑا ترچھا لیٹا سوچ رہا تھا میں متواتر کیوں اس کے بارے میں سوچے جا رہا ہوں کہیں مجھے اس سے محبت تو نہیں ہوگی۔ شٹ یار راہ چلتی سے محبت ہوتی ہے کوئی اس نے اپنے آپ کو جھٹلایا۔

*****

ریسٹورانٹ کے نیم تاریک گوشے میں مراد شاہ کے سنگ تاج دار کینڈل لائٹ ڈنر کرنے میں مصروف تھی۔ پیچ اور بلیک سوٹ میں وہ آج بھی آتش حسن نظر آتی تھی۔ مراد شاہ جی جان سے فدا تھا۔ ڈنر کے بعد تاج نے ٹیشو سے اپنی نازک انگوٹھیوں والی انگلیاں صاف کی اس کی گوری کلائی میں نازک ہیرے کا بریسلیٹ جگمگا رہا تھا۔ مرادشاہ گہری مسکراہٹ لیے اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔

مراد شاہ آج آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے ۔

جی حکم تاج بیگم۔

مراد شاہ تم نے محسوس کیا ہے کہ تمہارا بیٹا واثق رائمہ میں دلچسپی رکھتا ہے۔

مراد شاہ کی سوچ کا زاویہ بدلا۔

نہیں ابھی تک تو میں نے ایسا کچھ محسوس نہیں کیا اور اگر ایسا ہے بھی تو یہ اچھی بات ہے اس میں برائی کیا ہے.

مرادشاہ لاسٹ ٹائم جب ہم ملے تھے تو اسد امریکہ ٹور پر گیے تھے تین ماہ سے وہیں تھے اور اسی دوران میں حاملہ ہوچکی تھی۔

مراد شاہ کے کان سائیں سائیں کرنے لگے یہ تاج کیا کہنا چاہ رہی تھی؟

اسد شاہ کے آتے آتے میں چونکہ ماں بننے والی تھی تو یوں رائمہ تمہاری اولاد ہے تمہاری بیٹی۔

مراد شاہ کا سکون تہہ و بالا ہوگیا۔

یہ تم کیا کہہ رہی ہو تاج تم ہوش میں تو ہو۔

میں ہوش میں ہوں تمہیں ہوش میں آنے کی ضرورت ہے۔

مراد شاہ بری طرح سے ڈسٹرب ہوگیا تھا۔

تاج تم سچ کہہ رہی ہو؟

مراد شاہ کسی عورت کو شوق نہیں ہوتا کہ اپنی عزت کا جنازہ خود ہی نکالتی پھرے۔

تاج سخت لہجے میں بولی۔

رائمہ شاہ مراد شاہ کی بیٹی تھی مراد شاہ یقین اور بے یقینی کے عالم میں تھا۔

تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔

اگر اب بھی ہم ضرورت محسوس نہ کرتے تو تمہیں اب بھی آگاہ نہ کرتے۔ یہ راز تاج دل میں لیکر دنیا سےچلی جاتی۔

تاج نے کڑۓ تیوروں سے جملے ادا کئے۔

مراد شاہ بڑی تکلیف دہ کیفیت سے دوچار تھا۔ اس بات کو قبول کرنا خاصا دشوار تھا۔

ہم چاہتے ہیں کے تم اپنے بیٹے کی توجہ رائمہ کی طرف سے ہٹاو۔ہم چاہتے ہیں کے تم اپنے بیٹے کی توجہ رائمہ کی طرف سے ہٹاؤ اسے سمجھاؤ کہ رائمہ ابھی بمشکل سولہ سترہ سال کی ہے کچھ بھی کہو کچھ بھی کرو ۔

تمہارا کیا مطلب ہے میں اسے سچ بتا دو ؟

نہیں مرادشاہ تم پاگل ہو گئے ہو تم کوئی دوسرا راستہ اپنا لو اسے باہر بھیج دو ہم سمجھتے ہیں یہی بہتر رہے گا اور پھر رائمہ تھوڑی اور سمجھ دار ہو جائے تو ہم اسد شاہ کی توجہ رائمہ کی شادی کی طرف راغب کریں گے۔ اس طرح ہی اس گھمبیر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے ۔

تاج اپنی بات کر کے خاموش ہو گی مراد شاہ کی آنکھوں میں تاج کی محبت کی چمک کی بجائے گہرا احساس تھا ۔کئ ساعتیں خاموشی سے گزر گئی۔ آخر کار تاج کی تدبیر ہی ٹھیک لگی ۔

میں واثق کے سٹیٹ جانے کے انتظام کرتا ہوں اس سے بہتر حل تو اور کوئی نہیں ہے ۔

تاج کے چہرے کا تناؤ کچھ کم ہوا ۔

تم نے اتنی بڑی بات دل میں رکھی اس سے نبرد آزما بھی ہوئی بہت بڑا دل ہے تمہارا تاج بیگم ۔

مراد واقعی میں حیران تھا ۔

مرادشاہ ہم گھر جانا چاہیں گے۔

ہاں چلو۔

******

ہیلو جھومر کیسی ہیں ؟

اے ون ۔

آئیں کینٹین چلتے ہیں ۔

کس لئے چائے کافی کے لئے ہی کنٹین جایا جاتا ہے۔ جھومر نے ہنستے ہوئے اپنی اسائنمنٹ کے کاغذ سمیٹے اور کبیر کے ساتھ چل پڑی۔

آپ بہت خوبصورت ہیں۔

جی جانتی ہوں۔

مجھے یوں لگتا ہے جیسے آپ ہر وقت میرا مذاق اڑاتی رہتی ہیں۔

ارے چھے فٹ کےاتنے بڑے آدمی کا مذاق ہماری کیا مجال ہے بھئ۔۔

کافی پیتے ہوئے کبیر شاہ نے بتایا کہ وہ اسے اچھی لگنے لگی ہے۔

مجھ سے پہلے کتنی اچھی لگیں ہیں۔

اللہ کا شکر ہے ابھی تک تو اپنا پاسٹ کلیر ہے۔

میں آپ سے کوئی کمنٹ نہیں کر سکتی۔

کیا کوئی خاص وجہ آپ انگیج ہیں۔

خاص وجہ یہ ہے کہ ہم روایتی سے لوگ ہیں ہمارے خاندان میں شادی اپنے حسب و نسب والوں میں ہوتی ہے دوسری بات یہ کہ میں سنگل ہوں۔

آپ ان روایتی اور فرسودہ قسم کی باتوں پر یقین رکھتی ہیں۔

یقین تو نہیں رکھتی مگر ہماری زندگیوں کا حصہ ہے تو پھر ہے۔ اور مسٹر سیدھے سیدھے دوستی نبھانی ہے تو ٹھیک اس سے آگے کی مجھ سے توقع نہ رکھنا۔

یہ کہہ کر جھومر یہ جا وہ جا۔

اور کبیر شاہ اپنے آپ کو بڑا کچھ سمجھنے والا جھومر کی پشت پر لمبی سنہری چوٹی دائیں سے بائیں ہلتی دیکھتا رہ گیا کتنی ۔

گھمنڈی لڑکی ہے کبیرشاہ بھنا کر رہ گیا۔

******

شمشیر شاہ نے گھر کے ایک نوکر کی ڈیوٹی دلآویز کے محلے میں لگا دی تھی۔ وہ ہر خبر رکھتا دلآویز کتنے بجے گھر سے نکلتی ہے کتنے بجے واپس آتی ہے وغیرہ صبح اس کے فادر ڈراپ کرتے ہیں کہ وہ تنہا آتی ہے ۔ اب شمشیر نے نیاز کی ڈیوٹی یونیورسٹی کے باہر لگا دی تھی آج کی رپورٹ یہ تھی کہ یونیورسٹی کے باہر ایک لڑکی کے ساتھ دل آویز الجھ رہی تھی وہ معافی تلافی چاہ رہی تھی جب کہ دل آویز اس سے قطع تعلق کر رہی تھی مگر دوسری لڑکی پر ذرا برابر بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ یونیورسٹی کا پوائنٹ آیا اور دل آویز اس نے میں سوار ہوگئی گی اور دوسری لڑکی رکشے سے چلی گئی اب اس نے گھر کی بجائے یونیورسٹی کے جس گیٹ سے دلآویز نکلتی اس گیٹ پر نیاز کی ڈیوٹی لگا دی نیاز سادہ سی رپورٹ روزانہ شمشیر کو لا کر دیتا ۔ آج تقربیاً دو ہفتوں بعد یونیورسٹی کے گیٹ پر تھا جیسے ہی وہ باہر نکلی شمشیر گاڑی اس کے قریب لے آیا اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول دیا دلآویز نے ڈرتے ہوئے گاڑی میں دیکھا تو شمشیر شاہ کو دیکھ کر تیز تیز قدم اٹھانے لگی ۔ شمشیر نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔

اے لڑکی سیدھی طرح گاڑی میں بیٹھو بلاوجہ کیوں تماشا بنا رہی ہو۔

میرے پیچھے آنے کا کیا مطلب ہے آپ کا ۔

یہ تم اندر بیٹھ کر پوچھ سکتی ہو آجاؤ ۔

اور چار و نا چار اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔

بتائیں میرے پیچھے آنے کا مطلب۔

اچھا یوں تو کوٹھے تک محترمہ کی رسائی ہے اور ایک شریف النفس جو وہان تمہاری قیمت ادا کر کے باعزت رہا کروا کر لایا ہے وہ مشکوک ہوگیا شکریہ کے دو لفظ کہتے تمہاری زبان گھستی ہے یوں پیش آرہی ہو جیسے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔

شمشیر نے تابڑ توڑ دلآویز کی خبر لے ڈالی دلاویز کا یہ عالم تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔

اب زبان ان کو چپ لگ گئی ہے ۔

شمشیر شاہ بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا دل آویز سوچوں میں گھر گئی ۔ شمشیر شاہ نے کسی ریسٹورنٹ کے آگے گاڑی روکی ۔

مجھے گھر جانا ہے دل آویز منمنائی۔

گھر بھی چلی جائیں گے باہر آؤ ۔

وہ مقناطسیی انداز میں شمشیر کے پیچھے چلنے لگی ۔ دلآویز کے چہرے سے پریشانی ہویدا تھی اب شمشیر کو اس کی شکل پر بارہ بجے دیکھ کر ہنسی بھی آئ اور رحم بھی آیا۔

پلیز رلیکس ہو جاؤ ڈرنے کی یا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے دراصل میں تمہیں خاص مقصد کے لئے یہاں لایا ہوں۔

دلاویز کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔

کونسا خاص مقصد ۔

شمشیر اس کی حالت پر بڑا انجوائے کرنے لگا تھا۔

کھانا کھاؤ پلیز۔

وہ چاہتے نا چاہتے کھانا کھانے لگی نوالہ اندر نگلے اور وہ باہر کو آئے ۔شمشیرشاہ نے کھانے کے دوران اس کی مصروفیت اور اس کے بارے میں مزید معلومات لیں اور پوچھا کہ اس لڑکی ثانیہ کے ساتھ تمہارے تعلقات کب سے تھے۔

تقریبا چھ ماہ ہوئے ہیں ہم کلاس فیلوز ہیں۔

اس دن کے بعد سے اس نے تم سے رابطہ کیا ۔

جی ہر دوسرے تیسرے دن وہ مجھ سے معافی مانگتی ہے ۔

کسی اور لڑکی سے اس کی دوستی ہے ۔

ہاں میرے بعد حبیبہ نامی لڑکی سے اس کی دوستی ہوئی ہے لیکن آپ اس کے بارے میں یہ سب کچھ کیوں پوچھ رہے ہیں ۔

تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔تمہارے لیے ورنہ وہ میرے ماموں کی بیٹی تو نہیں ہے نہ ۔

شمشیر نے اسے اپنا کارڈ دیا۔

تمہیں اس سے کوئی خطرہ محسوس ہو تو مجھے اس نمبر پر کال کر لینا وہ طوائف ہے اور تم اس کے ساتھ طوائفوں کے کوٹھے پر چلی گئی تھی ایک دن میں نے تمہیں اس کے ساتھ بازار میں دیکھا تھا تم پتا نہیں کیا کوڑ کباڑ خرید رہی تھی تم تو ریزن ایبل لگ رہی تھی مگر وہ خاص وہی لگ رہی تھی پھر چند دن بعد تم میکڈونلڈز کے کاونٹر میں ان ڈیوٹی نظر آئی تو مجھے حیرت ہوئی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *