Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Last updated: 26 February 2026
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 01)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 02)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 03)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 04)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 05)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 06)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 07)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 08)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 09)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 10)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 11)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 12)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 13)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 14)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 15)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 16)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 17)Dil Dharkan Aur Tum (Episode 18)Dil Dharkan Aur Tum (Last Episode)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
حیدر علی اپنے کمرے میں نیم اندھیرا کیے چیر پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں منہمک تھے۔ جب ان کی بیگم آسیہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں آئیں۔ کمرے کی خاموشی اور نیم اندھیرے نے انھیں گھبرا دیا وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنے سرتاج کے پاس آکر بیٹھ گی آنسوں تواتر سے آنکھوں سے جاری تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی تو اپنے لخت جگر کو رخصت کیا تھا اور وہ بھی بہت بڑے نازک ماحول میں رخصتی ہوئی تھی۔ شاہ زیب عالم کی ماں کا موڈ سارا وقت خراب رہا انھیں کسی صورت بھی جیسے میراں قبول نہیں تھی مگر اپنے بیٹے کے آگے مجبور بے بس تھی۔
"آسیہ مت روئیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے یونہی ایک فون کال سن کر فیصلہ کر لیا ہے ہمیں گزشتہ دو ہفتوں سے خبر مل چکی تھی میراں اور زیب عالم کی ملاقاتوں سے ہم باخبر تھے ہمارے مزارے نے ہمیں خوب باخبر کر دیا تھا ہم تو پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے ہماری بیٹی اتنی بے ایمان ہوگی ایسا تو وہم وگمان میں نہیں تھا۔ ہم میراں کی رخصتی پر رنجیدہ نہیں ہیں تاج کے دل پر لگنے والی چوٹ پر افسردہ اور پریشان ہیں تاج کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم ہے اور وقت ظلم کا حساب ہمیشہ برابر کر دیتا ہے ۔ "
آسیہ چیخ پڑیں۔
"ایسے مت کہیں تاج اور میراں دونوں ہماری بیٹیاں ہیں آپ اتنا فرق کریں گے میں نے سوچا نہیں تھا۔"
"آسیہ یہ میں نہیں کہہ رہا وقت کہہ رہا ہے زمانہ کہہ رہا ہے کس کس کی زبان پکڑو گی بہتر ہے حقیقت کو تسلیم کر لو۔ اور شکر کرو ہماری عزت بچ گی۔اب تاج کے لیے جلد ہی کوئی اچھا رشتہ تلاش کرو اور اسے بھی رخصت کرو تاکہ وہ اس غم اور تکلیف سے جلدی باہر آۓ۔آسیہ عجیب سے درد سے دو چار تھا"
َََ****
زیب عالم میراں کو پا کر بے حد خوش تھے پاوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے میراں کا عجیب حال تھا بہت خوش اور بہت غمگین تھی۔ اتنی جلدی اس طرح نکاح اور رخصتی کے لیے وہ بالکل بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔ وہ تو ہے ہی بڑی بےکل تھی۔ اسے شادی شادی کی طرح سے لگ ہی نہیں رہی تھی۔ میراں کی ذہنی حالت بہت خراب تھی ایک وقت بھی ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے آنسووں پر قابو پالیتی۔
زیب عالم نے میراں کو تسلیاں دیں اپنی محبت کا بہت یقین دلایا مگر میراں کنٹرول سے باہر تھی۔
"یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تاج کا دل توڑکر میں کیسے خوش رہ سکوں گی۔ "
میراں ہچکیوں کے دوران بس اتنا ہی کہہ پائی۔ زیب عالم نے اسے نیند کی گولیاگولی دے کر سلا دیا تھا۔
کچھ بھی ہو میراں کی ذہنی حالت ابھی بہتر نہیں ہوگا ابھی تو گھر والوں کا رویہ بھی اتنا اچھا ثابت نہیں ہوگا میں میراں کو کاغان لے جاوں گا کچھ دن وہاں رہ کر اسکی طبیعت سنبھال جاۓ گی پھر وہ گھر والوں کو فیس بھی کر پاۓ گی۔
انھی سوچوں میں گرے زیب عالم نیند میں چلے گے۔
