Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 03)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

میراں نے اپنے آپ کو بہت سمجھایا آخر کار آٹھ دس دن میں وہ کسی حد تک حقیقت کو قبول کر پائی تھی زیب عالم کی محبت میں کوئی کمی نہیں تھی وہ تو جیسے میراں کے دیوانے تھے میراں کی ایک آہ پر وہ کراہ اٹھتے میراں کو تو ان سے بھی اپنا آپ چھپانا پڑجاتا۔

میراں انگیٹھی کے پاس بیٹھی لکڑیوں میں جلتی آگ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی جس طرح لکڑیاں چٹخ کر راکھ ہورہی تھی میراں کو لگتا اسی طرح اس کا وجود بھی راکھ ہو رہا ہو زیب عالم اسکے بہت قریب آکر بیٹھ گئے۔ میراں اپنے پہلو میں ان کے سانسوں کی گرمی کو محسوس کر سکتی تھی۔

“میراں تم سب کچھ بھول جاو۔ بس تم میری سنگت کو یاد رکھا کرو۔ سب کچھ حالات اور وقت پر چھوڑ دو۔ حقیقت یہی ہے کہ میں اور تم قریب ہیں ایک خوبصورت بندھن میں بندھ گئے ہیں۔ یہی یاد رکھو باقی سب بھول جاو۔ “

زیب عالم نے دھیرے سے میراں کا ہاتھ پکڑا۔

:کیا میری محبت پر تمہیں کوئی شک ہے۔ “

میراں نے آنسو برساتی آنکھوں سے زیب عالم کو دیکھا۔

سچ ہی تو تھا کہ زیب عالم ہی تو ہیں جو اس کے زخم پر مرہم لگاتے ہیں وہ اداس بےکراں سی انکے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی زیب عالم کا دل لہولہو ہونے لگا۔

“میراں پلیز اپنے آپ کو سنبھالو میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ پلیز میری خاطر ۔ “

میراں نے اپنے آنسو صاف کیے۔

“چلو آج ہم باہر ریسٹورانٹ میں ڈنر کریں گے تم تیار ہوجاو۔”

زیب عالم نے مسکراتے ہوئے میراں سے کہا۔

“زیب عالم آپ کو پتہ ہے ابا جان نے مجھے حویلی آنے سے منع کر دیا ہے۔ “

“ہاں مجھے پتہ ہے مگر وقت بہت بڑا مرہم ہے ﷲ ضرور کوئی راستہ نکالے گا تم اس طرح کے تفکرات اپنے ذہن سے نکال دو۔ “

“تاج مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ “

میراں کی انکھیں دوبارہ نم ہونے لگی تھیں۔

“تاج بھی معاف کر دے گی مگر ایک وقت چاہیے۔ وقت کو گزر جانے دو۔ بس تم ہر غم اور فکر سے آزاد ہو جاو اپنے محبوب شوہر کو دیکھو جو تمہاری ایک مسکراہٹ کو ترس گیا ہے۔”

میراں کے چہرے پر شرم کی سرخی دوڑ گی۔

زیب عالم اور میراں پورے دو مہینے وہیں پہاڑی مقام پر مقیم رہے۔ میراں بھی انکی اپنائیت اور چاہت کے آگے ہار گی وہ وقتی طور پر اپنے سارے غم بھول گی تھی۔

*******

جمال شاہ اور حیدر علی کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ اسد شاہ کو تاج اچھی لگی تھی اس کی ذات کی تمکینت غرور سے بھرا لب ولہجہ اور تاج کی حسین صورت ان کا دل لے ڈوبی انھوں نے بہت جلدی اپنے والدین کو اپنے دل کی بات بتاد تھی۔

“حیدرعلی ہم سے ایک نیا رشتہ جوڑ لو۔ میرا بیٹا اسد شاہ اسے اپنا بیٹا بنا لو اور تاج کو ہماری بیٹی بنا دو۔”

میراں کو رخصت کیے مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ تاج کا بہت اچھے خاندان سے رشتہ موصول ہورہا تھا حیدر علی خوش تھے۔

“جمال شاہ مجھے تم سے اور تمہارے خاندان سے بڑھ کر کچھ بھی آگے نہیں۔”

“تو ٹھیک ہے چھوٹی سی کوئی رسم کر لیتے ہیں اور اسی مارچ کے پہلے ہفتے میں تاریخ طے کرلیتے ہیں۔”

ٹھیک ہے تم رسم کی تیاری کرو رسم کے دن ہی تاریخ طے کر لیں گے۔

آسیہ بہت خوش تھیں۔ جب انھوں نے تاج کو خبر سنائی تو وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔

“تاج میں آپ سے پوچھ رہی ہوں آپکو اس رشتے پر کوئی اعتراض تو نہیں۔”

“اگر زیب عالم کا نام نہیں تو کسی کا نام بھی ہمارے نام کے ساتھ لکھ دیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”

تاج زیب عالم کا نام لینا بند کردو جب ماضی بن گیا ہے وہ تو اسے ماضی ہی بنا کر ماضی کی کتاب بند کر دو ورنہ حال کی زندگی میں بے حال ہو جاو گی۔”

“چھوڑیں امی بیگم آپ اور ابا جان بلا جھجھک ہاں کر دیجیے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔”

تاج نے بھاری پتھر سینے پر رکھا تھا۔

اور حویلی میں رسم کی تیاریاں یوں شروع ہوئیں جیسے کسی شادی کا انتظام ہونے لگا ہو۔ حویلی کے بلند و بالا درو دیوار کو بتیوں سے سجایا گیا برقی قمقموں سے حویلی کی رونق بڑھ گی۔ حویلی کے نوکرچاکر بھی بہت خوش مطمئن کام کرتے نظر آتے آسیہ نے اپنے سسرال اور میکے سے سب بزرگوں کو بلایا تھا۔

اور پھر جمال شاہ اپنے خاندان کے ہمراہ آگئے اور بڑی خوشیوں کے ساتھ رسم کا وقت آگیا تو اسد شاہ نے بڑی بےباکی سے اظہار کر دیا کہ تاج کو خود انگوٹھی پہنائیں گے۔ جسے حیدر نے باخوشی قبول کر لیا۔

اسد نے نازک سی مومی انگلی میں انگوٹھی پہنائی اور بھر پور نظروں سے تاج کا چہرہ دیکھنے لگے وہ انھیں شہزادی لگ رہی تھی۔ حویلی میں مبارک سلامت کا شور گونجنے لگا۔ اسد شاہ کی ماں بہنیں واری صدقے تھیں۔

اور اسی دوران مارچ کے پہلے ہفتے ہی شادی کی تاریخ کا اعلان ہوگیا۔ مہمانوں میں میراں کی غیر موجودگی کو بری طرح محسوس کیا گیا۔ مگر بات زدعام نہیں ہوئی کیونکہ اتنا وقت ہی نہیں تھا۔

باقی دن پر لگا کر اڑ گے۔ حیدر علی نے سنار گھر پر بلوا لیا تھا۔ تاج نے کئ تلائی زیور پسند کر لیے تھے۔ مزید خاندانی ہیروں کے دو سیٹ امی بیگم نے تاج کو دیے تھے۔ ایک سیٹ میراں کا تھا اور ایک تاج کا۔ تاج دونوں سیٹ اپنے آگے رکھ کر سوچ میں پڑ گی۔ اور پھر دونوں سیٹ اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیے۔ مہنگے ترین لباس آرڈر پر بنواے گئے۔

شہر کی بہترین بیو ٹیشن کا انتظام کیا گیا۔ جس نے خوبصورت تاج کو سونے کی گڑیا ہی بنا ڈالا۔ تاج شہزادیوں کی سی آن بان لیے اپنے ہمسفر کے ساتھ رخصت ہونے لگی تو سب لڑکیوں کو کمرے سے باہر جانے کا حکم ملا۔

حیدر علی اور آسیہ بیگم اس کے کمرے میں آۓ۔

حیدر علی اپنی بیٹی سے مخاطب ہوۓ۔

تاج بیٹی ہمیں سب ادراک ہے کہ چند دن پہلے تمہارے دل و دماغ پر کیسا سانحہ گزار۔ مگر اب آپ نیا سفر طے کرنے جا رہی ہیں۔ اپنے شوہر کی عزت کیجیے گا۔ اور پرانی سب باتوں کو بھول جا ئیے گااور اپنے سسرال میں یوں رہنا کہ والدین کی عزت پر حرف نہ آۓ ہمیں آپ سے اچھی امیدیں وابستہ ہیں ہمیں یقین ہے کہ آپ ہماری امیدوں پر ضرور پورا اتریں گی آپ ایک سمجھدار اور بہادر لڑکی ہیں۔

“جی ابا جی آپ کبھی پریشان نہیں ہوں گے میں آپ کا سر ہمیشہ فخر سے بلند ہی رکھوں گی۔ “

تاج کی مضبوط آواز کمرے میں گونجی تھی۔

“شاباش تاج۔”

حیدر علی نے بیٹی کو سینے سے لگایا۔ اور رخصت کر دیا۔ اسد شاہ کے ساتھ وہ رخصت ہو کر ایک حویلی سے نکل کر دوسری حویلی میں آگئی۔

*******

میراں اور زیب عالم گاوں واپس آگے مگر کسی نے ان کا خیر مقدم نہ کیا کسی نے میراں کو عزت نہ دی۔ وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ رات کا وقت تھا زیب عالم کچن کی طرف بڑھے نوراں مائی وہیں موجود تھی۔

“نوراں مائی کھانا ہمارے کمرے میں پہنچا دیں اور باقی گھر والے کہاں ہیں۔”

“زیب میاں رات کے دو بج رہے ہیں سب اپنے کمروں میں سو رہے ہیں میں تو آپ لوگوں کا انتظار کر رہی تھی۔ صبح تڑکے آپ کا ٹیلی فون آیا تھا۔”

زیب عالم سر ہلاتے اپنے کمرے کی طرف آگئے۔ میراں ہاتھ منہ دھو کر فریش بیٹھی تھی۔ نوارں مائی کھانا لائی تو میراں اسی کا منہ دیکھتی رہ گی بڑے دنوں بعد کوئی شناسا چہرہ دیکھنے کو جو ملا تھا۔ نوارں مائی اسے بہت بڑا سہارا محسوس ہوئی۔

میراں آہستہ آہستہ کھانا کھانے لگی۔

“میراں یہاں تمہیں کوئی بھی خوش آمدید نہیں کہے گا تمہیں اپنی جگہ خود بنانی ہوگی گھر والے تمہیں قبول نہیں کر پائے مگر تم ہمت نہیں ہارو گی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ کوئی بھی بات مجھ سے چھپانے کی ضرورت نہیں حالات اور وقت کی بے رحمی کا اندازہ مجھے ہے۔”

“آپ کی محبت آپکا ساتھ ہے تو سب کچھ میں ہنس کر قبول کر لوں گی آپ پریشان نہ ہوں ہمارا اٹھایا ہوا قدم کس نوعیت کا ہے میں اچھی طرح جانتی ہوں۔”

وہ مسکراے۔

“بہت اچھا مجھے تم سے یہی امید تھی۔ “

*******

تاج نے اپنی زندگی پورے کمپرومائز سے شروع کی تھی مگر میراں کی دھوکہ دہی اور زیب عالم کی بے وفائی وہ کبھی نہیں بھول پاۓ گی۔ تاج کے دل میں میراں اور زیب عالم کے لیے انتقام کی آگ آہستہ آہستہ بھڑکتی رہتی جسے وہ تھپک تھپک کر سلا دیتی وہ وقت کا انتظار کر رہی تھی۔

تاج اپنے اندر بہت کچھ سمانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ اسد شاہ کے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں تھا تاج کے دل میں کیا ہے انھیں تاج تک پوری رسائی تھی مگر تاج کے ذہن تک کی رسائی نہیں ہو سکتی تھی۔ تاج نے ان کو ایسی مطمئن زندگی دی ہوئی تھی۔ کہ وہ آج کل اپنے آپ کو ہواوں میں اڑتا ہوا محسوس کرتے۔ پھر گھر بھر تاج پر نثار تھا۔ تاج کی ساس اور نند تاج کے واری صدقے تھی۔ نواکرانیاں تاج کے آگے پیچھے رہتیں۔

اسد شاہ من پسند بیوی پا کر خوش تھے۔ تاج اب شرم کو بالاۓ طاق رکھ کر کمرے سے باہر آجاتیں ساس کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتی وہ گھر کے ماحول کو سمجھ رہی تھی۔ اپنے گھر اور اس گھر تک کے سفر میں کوئی خاص دشواری نظر نہیں آرہی تھی۔

مگر مراد شاہ کی نظریں انھیں پریشان کرتیں تھیں۔ تاج کو یوں بغور گھورے کہ جیسے انکا حق ہو۔ تاج اکثر ان کو نظرانداز کر دیتی۔

“تاج بھابھی آیئے اماں جی نے بلایا ہے آج آپ نے میٹھے میں ہاتھ ڈالنا ہے رسم ہے وہ پوری کر دیجیے۔”

تاج اپنا انچل درست کرتے ہوۓ مسکرائی۔ دیبہ تاج بھابھی کا ہاتھ پکڑے سبھاو سے راہداری سے چلتی نیچے آرہی تھی تو مراد شاہ راستے میں آگئے۔

تاج کی سج دھج دیکھ کر مراد شاہ کا دل مٹھی میں آگیا گھنی مونچھوں تلے انکی مسکراہٹ گہری ہوگئی۔

“ماشاﷲ ہماری بھابھی نئ نویلی دلہن ہر کسی کے دل میں اترتی جا رہی ہیں۔”

تاج کے حسین چہرے پر خودبخود سختی آگئی۔ دیبہ ہنس ہنس کے بے حال ہونے لگی۔

“بھابھی صاحبہ کبھی محسوس مت کیجیے گا یہ ہمارے مراد بھائی ایسے ہی ہیں نٹ کھٹ ان کی عادت ہے شگوفے چھوڑنے کی۔”

مراد تاج کی جھیل جیسی آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگا۔

“ایک بات ہم بتا دیں ہماری بھابھی ہنستی ہیں ان کی آنکھیں نہیں ہنستی۔ “

تاج کو شدید غصہ آیا مگر ظاہر نہیں ہونے دیا۔

“ہم آپ سے پھر کبھی بات کریں گے۔ “

چلو دیبہ نیچے چلتے ہیں۔

مراد شاہ کا شاطر ذہن بہت کچھ چانچ رہا تھا۔

*******

میراں کے ساتھ مائی نوراں آئی تھی بس وہی اسکے ساتھ ساتھ رہتی اسے اونچ نیچ بتاتی رہتی سسرال رہنے کے دل جیتنے کے رموز واقاف بتاتی رہتی۔ میراں اپنی طرف سے اچھا کرنے کی کوشش کرتی رہتی۔ مگر میراں کا رنگ کسی پر چڑھتے نظر نہیں آرہا تھا۔

“اماں جی آپ مجھے معاف کر دیں۔”

ایک دن ہمت کر کے میراں اپنی ساس کے قدموں میں آکر بیٹھ گئی۔

“اماں جی میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے میں صرف آپ سے معافی مانگ سکتی ہوں مجھے معاف کر دیں۔”

میراں روتے ہوئے معافی کی طلب گار بنی ہوئی تھی۔

“میراں مجھ سے کبھی یہ توقع نہ رکھنا ۔تم نے ہمارے خاندان میں ہماری ناک نیچی کروادی ہے۔ زیب عالم کے سر سے تمہاری محبت کا بھوت اترے تو میں سیدھے سبھاو اسکی شادی کروادوں گی ان چاہی بہو ہو تم۔ میرے بیٹے کو پھانس لیا ہے تم نے۔ تم نے ماں باپ کی لاج نہ رکھی تو میرے خاندان کی لاج کہاں رکھ سکو گی۔ شاہجہان تو تمہیں دیکھنا نہیں چاہتے وہ شدید غصہ ہیں۔ تم بہت اچھی بن کر سمجھتی ہو ہمیں جیت لوگی۔ نہیں میراں بی بی ابھی تم نے وقت کو برتا نہیں ہےتم جو کر گزری ہو وہ بھلانے کے لائق نہیں ہے ہم اپنے بیٹے کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ اسی لیے تم اس گھر میں موجود ہو۔ بہتر ہوگا اپنے پورشن تک محدود رہا کرو۔ یوں سامنے آکر میرا سینہ جلانے کی ضرورت نہیں۔”

اماں جی نے میراں کے ہاتھوں کے نیچے سے اپنے مہندی لگے پاوں کھینچے اور چلی گئیں۔

میراں کو اپنا آپ ہواوں میں معلق محسوس ہوا تھا۔

یعنی میں کبھی اس خاندان میں عزت نہیں پاوں گی یہ شادی میرے لیے رسوائی اور ذلت بنی رہے گی۔ الہی میں کیسے جی پاوں گی اور زیب عالم کی شادی کروادیں گے تو میں دو کوڑی کہ نہ ہوں گی۔

اماں جی کے سخت لفظوں نے میراں کی ساری ہمتیں سلب کر لی تھی۔ میراں سوچوں کے گرداب میں پھنس جاتی۔

******

بہت جلد تاج ماں بننے والی تھی تاج کا پاوں بھاری ہوا تو گھر بھر میں خوشیوں کا راج ہوگیا۔ اسد شاہ بہت خوش تھے۔

تاج منٹ میں الٹ پلٹ جاتی ابکایئوں سے برا حال تھا۔ اماں جان اپنی نگرانی میں انار کا جوس نکلوا کر تاج کو گھونٹ گھونٹ پلا رہیں تھیں۔ دو نوکرانیاں ہمہ وقت تاج کے کمرے میں نگرانی کے لیے رہتیں انار کا جوس پی کر تاج بیڈ سے اترنے لگی۔

“دلہن کہاں جا رہی ہو۔”

“اماں جی نماز کا وقت نکل رہا ہے۔ “

“اچھا بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ مشقت نہ کرنا۔”

“جی اچھا۔”

تاج نماز کی پابند تھی شروع سے پانچ وقت نماز کی عادی تھی ۔ اور میراں کو اماں بیگم زبردستی نماز پڑھاتیں تو بھی کاہلی کر جاتی۔

تاج مراد شاہ کی وجہ سے کمرے ہی میں رہتی تھی مراد شاہ جان کا عذاب بنتا جا رہا تھا مگر تاج کہیں بھی اپنی بااعتماد شخصیت کو نرم پڑنے نہیں دیتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *