Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 09)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

“تمہارا نام کیا ہے؟”

مراد شاہ نےدل آویز ۔

” رہائش کہاں تھی؟”

“اقبال ٹاؤن اورنگ زیب بلاک میں رہتی تھی۔”

“سنا ہے تم حقیقی والدین کے پاس نہیں رہتی تھی۔ اڈپٹڈ ہو۔ “

“ابتہاج صاحب میرے بابا نہیں تھے جب میں بارہ سال کی تھی تو انہوں نے مجھے بتا دیا تھا ۔ “

مراد شاہ اور اسد شاہ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔

ان کی اپنی اولاد ہے ۔”

“جی مجھ سے چھوٹے دو بھائی ہیں”۔

“تم اغواہ کیوں ہوئی تھیں تمہیں کسی پر شک و شبہ ہے ۔ “

یہ لوگ اتنے سوالات کیے جائیں گے دل آویز کی سوچ سے باہر تھی یہ بات۔۔۔۔۔۔۔

“مجھے کس نے اغوا کیا تھا اور کیوں اغوا کروایا تھا میں کچھ نہیں جانتی”۔

ساری گفتگو کے دوران لڑکی نے نگاہیں نیچی ہی رکھی تھی۔

“لڑکی کیا نام ہے تمہارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دل آویز بات یہ ہے کہ شمشیر نے بہت کم عقلی کا مظاہرہ کیا ہے تم سے نکاح کرکے بہرحال اب شمشیر یہ سب کر چکا ہے ہمیں اس مسئلے کو حل کرنا ہے پھر اس کے لیے وقت درکار ہے جب تک تمہارے اصل خاندان کا پتہ نہیں چل جاتا یہ شادی خفیہ رہے گئی ۔ انشاءاللہ اس مسئلے کا حل جلد نکل آئے گا۔ “

بیسیکلی اسد شاہ ایک نرم خو آدمی تھے عقل و فہم سے معاملات کو حل کرنا جانتے تھے شمشیر کی جلد بازی پر انہیں رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا شمشیرشاہ نے مراد شاہ کا اشارہ سمجھتے ہوئے دلآویز کو چلنے کے لیے کہا تو وہ اللہ حافظ کہتی ہوئی ۔ شمشیر شاہ کے پیچھے چلنے لگی دل آویز شکستہ اور دکھی لگ رہی تھی مسئلہ دوسرے طریقے سے بھی حل ہو سکتا تھا شمشیر شاہ نے دوسرا پہلو تو سوچا ہی نہیں تھا ۔

******

بھائی صاحب شمشیر شاہ سے ایسی کم عقلی کی امید نہیں تھی۔ میرا ایک اور بھی مشورہ ہے کہ تاج بھابی آئیں ان کو اعتماد میں لے کر ساری بات بتا کر ان کی رائے کے مطابق لڑکی کو قبول کیجئے گا۔

مراد شاہ یہ بعد کی باتیں ہیں تم اس لڑکی کا بائیو ڈیٹا حاصل کرو یہ بات اس وقت ضروری ہے جی بھائی صاحب میں خضر کو لے کر جاؤں گا تاکہ جلد ہی مسئلہ حل ہو جائے۔

“تم جیسے مناسب سمجھو کرو۔ “

*******

آج سب تیار ہو کر در گاہ جارہے تھے رائمہ نے شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔ دادی جان بھی ہمراہ تھیں درگاہ میں دعا مانگتے ہوئے کبیر شاہ کو جھومر نظر آئی وہ آنکھیں بند کیے دعا مانگ رہی تھی ۔ کبیر شاہ غور سے اسے دیکھنے لگا جھومر نے دعا کے بعد اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو سامنے کبیر شاہ کو پایا جھومر کبیرشاہ سے شرمندہ تھی اپنی اس دن والی حرکت اسے بھی اچھی نہیں لگی تھی مگر اسے کبیر شاہ سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا تھا۔ تو پھر معافی تلافی کی ضرورت کیا تھی یہ جھومر کے خیالات تھے منان نے دوسری دفعہ رائمہ کو دیکھا تھا وہ رائمہ میں دلچسپی لے رہا تھا۔ منان رائمہ کے قریب سے گزرا ۔

“اسلام علیکم! اچھی لڑکی۔”

رائمہ نے مسکراتےہوئے اس کا جواب دیا کبیر شاہ درگاہ کے صحن میں آ کر بیٹھ گیا تھا عاقب ثاقب رائمہ سب وہی اکھٹےہو گئے ۔ سردیوں کی دھوپ بھلی لگ رہی تھی تھوڑی دیر وہیں بیٹھے تھے۔ پھر لنگر تقسیم کروایا ۔جھومر بھی اپنے گروپ کے ساتھ وہیں تھی منان رائمہ کو آتے جاتے دیکھ رہا تھا۔ اور رائمہ کو پہلی بار کوئی لڑکا اتنا اچھا لگا۔

رائمہ جھومر کی طرف بڑھ گئی۔

“آپ کہاں رہتی ہیں ہم دو تین دفعہ یوں ہی اتفاق سے مل گئے ہیں تو میں نے سوچا آپ سے پوچھ لو۔”

“ہم ساتھ والے گاؤں میں رہتے ہیں یہ منان ہے میرا بھائی اور شاہین شاکر اور عمر تینوں بھائی ہیں اور ہمارے کزن ہیں۔”

“یہ جو وہ پرپل سوٹ والے ہیں بھائی کبیر ہیں اور وہ دونوں ہمارے کزن ہیں “۔

“کون سی کلاس میں پڑھتی ہیں “۔

سیکنڈ ایئر میں پڑھتی ہوں اور آپ۔

“میں ایم ایس سائیکالوجی کر رہی ہوں۔”

“اچھا یہاں اور کتنے پکنک پوائنٹ ہیں ہمارے گاؤں میدی پور میں جھیل ہے وہاں بوٹنگ وغیرہ ہوتی ہے اور جھولے بھی ہیں ۔

“پھر میں کبیر بھائی سے کہوں گی ہم بھی جھیل میں بوٹنگ کرنے آئیں گے۔ “

جھومر کو رائمہ اچھی لگی تھی قریب ہی منان بیٹھا تھا اس کی باتیں سن رہا تھا۔

“اچھا میں جا رہی ہوں رائمہ ہاتھ ہلاتی ہوئی واپس آ گئی”۔

“ہو گیا انٹرویو ۔”

کبیرشاہ مسکراتے ہوئے بولا ۔

“ہاں بھائی یہ لوگ ساتھ والے گاؤں میں رہتے ہیں بتا رہی تھی کہ ان کے گاؤں میں جھیل ہے بوٹنگ وغیرہ بھی ہوتی ہے ۔ “

کبیر نے فورا ہی اپنا دماغ چلایا۔”دادی ماں نے صاف منع کر دیا جھیل پر کوئی نہیں جائے گا” سب جھوٹ موٹ کے انکار پر سر ہلانے لگے۔

******

شمشیر ریلیکس ہو گیا تھا۔ چاچو اور بابا کو بتا کے شمشیر کو یوں لگ رہا تھا کے اس نے اپنی ذمہ داری ادا کردی ہے۔ وہ بیڈ پر اڑا ترچھا لیٹا تھا سامنے صوفے پر بیٹھی دل آویز آنسو بہانے کا شغل کر رہی تھی وہ اس کے آنسو کے رکنے کا انتظار کر رہا تھا بار بار اسے چپ کروا کروا کر وہ خود بھی بور ہونے لگا تھا اس لئے فی الحال اسے اس کے حال پر چھوڑ کر ذرا دیر کو آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا تھا۔ دل آویز شمشیر شاہ کے بابا اور چاچو سے مل کر کافی پریشان تھی پھر ان لوگوں کی امیرت عمارت دیکھ کر کمپلیکسیو ہو رہی تھی جب سے وہاں سے آئی تھی چپ تھی اسے لگ رہا تھا کہ اسے شمشیر شاہ سے الگ کر دیا جائے گا اور وہ اکیلے ہی جیئے گی شمشیر لیٹے لیٹے سو گیا ۔ دلآویز کمرے سے باہر آگئی باقاعدہ گھرداری تو شروع ہوئی نہیں تھی جس وقت کھانے کا وقت ہوتا کھانا باہر سے آ جاتا دوپہر سے سپہر ہونے کو تھی دلآویز بھوکی تھی اور شمشیر کو زور دار نیند بھی آج ہی آئی تھی۔ شام چھ بجے شمشیر شاہ کی آنکھ کھلی وقت کا اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ دلآویز لاونج میں بیٹھی بیٹھی تھک گئی تھی۔ وہ فریش ہو کر باہر آیا دلآویز رونی صورت لیے بیٹھی تھی ۔ وہ اس کی صورت دیکھ کر ہنس پڑا ۔اور اس کے قریب صوفے پر آ کر بیٹھ گیا۔

“تم ظاہر کر رہی ہو کہ تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہے”۔ دو آنسو لڑکھڑاگے۔

“خدا کے لیے رونا مت پلیز ورنہ میں چلا جاؤں گا۔” شمشیر نے اسے اپنے ساتھ لگایا تو وہ دل کھول کر رو پڑی وہ اس کے آنسو صاف کرنے لگا ۔

“تم میری بیوی ہو مجھے ابھی تک ایسا لگا ہی نہیں کہ ہم شادی کر چکے ہیں تمہارا رونا ختم ہی نہیں ہوتا اپنے آپ کو مضبوط بناؤ اس طرح رو رو کر تو تم ختم ہو جاؤ گی۔”

دل آویز کے چہرے پر آئی سنہری بالوں کی لٹ پرے ہٹاتے ہوئے بولا۔ دل آویز کے دل کو کچھ ہونے لگا۔

“مجھے بھوک لگی ہے ۔”

“چلو کھانا کھانے چلتے ہیں” ۔

شمشیر نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور اسے کھانا کھلانے لے گیا ۔

“کیا ہم اسی طرح ہر روز باہر سے کھانا کھاتے رہیں گے “۔

چلو میں کل سے کسی کک کا انتظام کر لوں گا تو یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے گا۔

وہ ریسٹورینٹ پہنچ چکے تھے۔اب وہ اس سے کھانے پوچھ رہا تھا۔

“کیا پسند کرو گی” ۔

“چائنیز رائس کھاؤں گی ۔”

شمشیر نےچائنیز رائس اور وائٹ قورمہ کا آرڈر دیا ۔

“دل آویز آج میری بہت بڑی مشکل حل ہو گئی ہے بابا اور چاچو کو ساری بات بتا کر میں ہلکا پھلکا ہو گیا ہوں تم دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا “۔

کھانا کھا کر شمشیر نے بیکری کا سامان خریدا اور پھر واپسی کے لئے نکل پڑے اس نے سوچ لیا تھا جب تک دل آویز کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہو جاتی وہ اس سے بے تکلفی سے پیش نہیں آئے گا اور ابھی وہ اپنے آپ کو انسیکیور فیل کر رہی تھی۔

“دلاویز تم اپنی تعلیم مکمل کر لو “۔

“آپ کا مطلب ہے میں یونیورسٹی جانا شروع کر دو۔ “

“ہاں میرا یہی مطلب ہے”۔

“میں اگلے ہفتے سے جانا شروع کر دوں گی۔ “

“ویری گڈ۔ “

اس کی اس عادت سے شمشیر بہت انسپائر تھا وہ بہت جلدی کہنا مان لیتی تھی۔

******

تاج نے اپنی پرانی ا لماری کھولی تو ماضی کی کتنی یادیں تازہ ہونے لگی ۔ زیب عالم کے تحفے آج بھی جوں کے توں کہ تو رکھے تھے ۔ زیب عالم کے محبت بھرے خط آج بھی ویسے ہی تہیں لگے پڑے تھے ایک خط پڑھا تو تاج کا خون کھولنے لگا جلدی سے الماری بند کر دی۔

ابا جان تو آج بھی اپنے کہے پر قائم تھے البتہ اماں جان برادری کے دور کے رشتے داروں کی شادی پر میراں سے مل لیتی آخر وہ ماں تھی ان کی ممتا تڑپتی تھی۔میراں کی شکل کو وہ ترس جاتی تھی۔ آج وہ سب کو لے کر اپنے آبائی حویلی میں آئیں تو اپنے بیڈروم میں آ گئی ہر چیز اپنی جگہ پر ویسے ہی پڑی تھی ۔ اماں جی نے دونوں بیٹیوں کے کمرے سے کوئی چیز ادھر ادھر نہیں کی تھی۔ تاج کے بچوں سے نانا نانی بہت پیار کرتے تھے میراں کے بچے تو دیکھے بھی نہیں تھے ۔ تاج آو آج مل کر کھانا کھا لیں کتنے سالوں بعد گاوں آئی ہو۔ اماں جی شہر کی مصروفیت وقت تیز گام ہوگیا ہے ہم شہر کی دنیا میں کھو کر رہ گے تھے۔

“تاج تیرا کبھی دل نہیں کیا کہ تو میراں کو ملے “۔

تاج کہ نقش میں تناؤ آگیا۔

“اماں جی آپ کیا سمجھتی ہیں کہ ہم میراں کی زیادتی کو وقت گزرنے کے ساتھ بھول گئے نہیں اماں جی ہمارا دل پوری آب و تاب سے آج بھی دکھی ہے۔”

“باتوں کو زندگی کا روگ نہیں بناتے بیٹا ۔”

“اماں جی آپ نہیں سمجھیں گیں”۔

اس وقت سب ہی میز پر موجود تھے۔

“بچوں کیسا لگا ہمارا گھر۔”

تاج نے چہک کے پوچھا۔

“ماما گھر کو چھوڑیں ہمیں نانو اور نانی بے حد اچھے لگے ہم بہت چھوٹے تھے جب نانو کی طرف آئے تھے مجھے تو ٹھیک طرح سے یاد بھی نہیں کبیر شاہ بولے۔”

“بیٹا تمہاری اماں کا دل سسرال میں ایسا لگا کے ہمیں بھول ہی گئیں جب آئیں کھڑے کھڑے آئیں اور چلی گئی۔ اب تمہارے ماموں نے شہر میں فیملی کو رکھا ہوا ہے صدقے جاؤں ایک ہفتہ ادھر اور اگلے ہفتے ادھر ہوتا ہے فرمابردار ہے ہمیں کبھی تنگ نہیں کیا۔ “

“تاج بتاؤ ذرا بھائی سے ملے کتنے سال ہو گئے تمہیں۔ اماں جی نے تاج کو آڑے ہاتھوں لیا”۔

“اماں جی ہم شہر میں اس سے مل لیتے ہیں” ۔

“جی نانی ماں ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں ماموں سے اکثر ملاقات ہوتی ہیں ۔”

“زین بڑا گناہ ہے بتایا نہیں”۔

“تاج مسکراتے ہوئے کھانا کھانے لگی” ۔

اماں جی کی حویلی سے میری یور کا گاؤں زیادہ دور نہیں تھا تھا اس لئے سب نے یہیں سے جیل جانے کا پروگرام بنا لیا مزے کی بات یہ تھی کہ یہاں روکنے والی دادی نہیں تھی۔

چاروں تیار ہو کر چل دیے تاج گھر پر رہ گئی بچوں کی کمپنی میں کم ہی گھستی تھی رائمہ اور منان فون نمبرز کے تبادلے درگاہ پر کر چکے تھے رائمہ اور منان کی محبت موبائل پر پروان چڑھنے لگی جیل پر جانے سے پہلے سارا پروگرام سیٹ تھا جب وہ کبیر لوگ جھیل پر پہنچے تو جھومر لوگ پہلے سے ادھرموجود تھے۔

(اسے کیسے خبر ہو جاتی ہے کہ ہم گھر سے فلاح جگہ کے لئے نکل رہے ہیں)

کبیر نے اپنے تئیں سوچا۔

پہلے وہ لوگ گھومنے پھرنے لگے ۔

کبیر بھائی جھولے میں بیٹھتے ہیں۔

کبیر عاقب لے کر جھولے میں چڑھ گیا۔جھولے نے گول گول گھوم کر کبیر کا دماغ ٹھکانے لگا دیا پندرہ منٹ بعد جب جھولا روکا تو اونچا لمبا کبیر سر پکڑ کر بیٹھ گیا جھومر کو موقع چاہیے تھا دور سے دیکھ کر ہنس ہنس پاگل ہو رہی تھی منان اور رائمہ کی میٹھی میٹھی نظریں شاہین کے دل میں آگ لگا رہی تھی اسے بلا وجہ یہ بات بری لگ رہی تھی وہ وہ آپس میں فون پر مصروف ہیں۔

“کبیر بھائی کشتی والا جھولا لیں “۔

“میں اٹھا کر تمہیں جھیل میں پھینک دوں گا اب میں جھولوں کے لیے تمہارا ساتھ نہیں دوں گا۔ “

“بس گھبرا گیے۔ اتنی ول پاور تھی۔”

“ہاں اتنی ہی ول پاور ہے۔ “

کشتی رانی کرنے کے لیے عاقب اور شاہین میں نوک جھوک شروع ہوگی۔

جھومر نے شاہین کو بہت روکا پر شاہین بات چھوڑنے کو تیار ہی نہیں تھا۔

“ہم نے اسی بوٹ پر بیٹھنا ہے۔ “

“بھئ ہم لوگ یہ بوٹ سلیکیٹ کر چکے ہیں ٹکٹس لے چکے ہیں آپ کو کیا پرابلم ہے”۔

کشتی والے نے بھی بیچ بچاو کروانے کی کوشش کی مگر دونوں میں سے کوئی بھی ہتھیار ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ کبیر عاقب کو لے کر ذرا دور نکل گیا تھا اتنی دیر میں شاہین نے ثاقب کو پوری قوت سے دھکا دیا۔

ثاقب پتھروں پر گرا ایک نوکیلا پتھر اس کے دماغ کے حساس حصے پر لگا اور وہ ہوش کھونے لگا تھا۔

جھومر حیران رہ گی پل بھر میں کیا ہوگیا تھا۔ رائمہ چیخیں مارنے لگی تھی۔ منان نے جلدی سے کبیر کو فون کیا کے جھیل کے پاس آۓ لڑائی ہوگی ہے۔ جب تک کبیر آیا خون بہت تیز ی سے بہہ رہا تھا۔ بہت لوگ جمع تھے کبیر نے آتے ہی نبض چیک کی۔ ثاقب کی نبض ڈوب رہی تھی۔

“اگر میرے بھائی کو کچھ ہوا تو میں تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں”۔ منان اسے جلدی سے گاڑی میں ڈالو۔

دوسرے لوگوں کی مدد سے ثاقب کو گاڑی میں ڈالا۔ کبیر نے سپیڈ سے گاڑی چلائی قریبی ہاسپٹل پہنچتے ہی طبعی امداد کے لیے اپریشن تھیٹر میں لے گے۔ مگر افسوس کہ دماغ کے ایسے حصے پر گہری چوٹ تھی کہ ثاقب نبرد آزما نہ ہو سکا۔ کبیر ڈاکٹر کے الفاظ سن کر سکتے کی کیفیت میں چلا گیا۔ رائمہ نے کبیر کا کندھا ہلایا۔

“بھائی ڈاکٹر نے کیا کہا ہے بتائیں نہ کیا ہوا ہے ثاقب کو۔”

“ثاقب مر گیا ہے”۔ وہ زمین پر کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

رائمہ اور عاقب کا صدمے سے برا حال تھا۔ کبیر نے اپنے حواس یکجا کرتے ہوئےگھر فون کر کے تاج کو خبر دی۔

“ماما ثاقب قتل ہوگیا ہے”۔

وہ ضبط سے کام لیتے ہوئے ماں کو بتا رہا تھا۔

“کبیر تم کیا کہہ رہے ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ “

“جی ماما یہ ہو چکا ہے ۔”

تاج دھک کر کے وہی صوفے پر ڈھے گئی۔

“کیا ہوا تاج؟”

“اماں جی ثاقب قتل ہوگیا ہے مجھے ابھی کبیر کا فون آیا تھا۔ “وہ حواس باخطہ سی اماں جی مخاطب تھی۔

“ارے اچھے بھلے گھر سے گے تھے کیسے ہوگیا ﷲ خیر کرن”ا۔

تاج نے فورا شہر فون کیا۔

“اسد مراد شاہ کا بیٹا قتل ہوگیا ہے ۔”

“تاج کیا کہہ رہی ہو۔”

“ٹھیک کہہ رہی ہوں مراد شاہ کا بیٹا ثاقب قتل ہو گیا ہے آپ مراد شاہ اور شمشیر کو لے کر جلدی گاؤں پہنچیں۔”

اسد شاہ نے شمشیر کو بلا کر یہ دل دوز خبر سنائی۔ جواں سال ثاقب کی موت کوئی بھی برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔

“مراد سے کہو گاؤں میں ایمرجنسی ہوگی ہے ہمیں فوراً گاؤں جانا ہے”۔

“دادا جان اور دادی جان اس بڑھاپے میں یہ غم سہہ نہیں پا رہے تھے۔ رباب کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔ “

کبیر شاہ جب میت لے کر حویلی پہنچا تو حویلی کے مناظر اس کی برداشت سے باہر تھے۔ بار بار جھومر کی کال آرہی تھی کبیر نے کال آٹھائی۔ دوسری طرف سے آواز آئی۔

“کبیر شاہ تمہارا کزن کیسا ہے؟”

“مرگیا ہے میرا کزن جھومر میں تمہارا سارا خاندان ختم کر دوں گا کسی کو نہیں چھوڑوں۔”

کبیر شاہ کی جانب سے چیخ پکار کی آوازیں آرہی تھی۔

جھومر کا غم سے دماغ گھوم گیا۔

“بابا۔۔۔۔۔۔۔ اماں۔۔۔۔۔۔۔ منان۔”

وہ سب کو پکارنے لگی۔

“کیا ہوا جھومر”۔

“بابا دریا خان کی حویلی والوں کا لڑکا شاہین نے قتل کر دیا ہے۔ “

“کیا وہ لڑکا مر گیا ہے؟”

“جی بابا۔”

جھومر رونے لگی۔

کبیر شاہ کی غم ناک آواز اس سے برداشت نہ ہورہی تھی۔

زیب عالم نے فورا ماں باپ کو خبر دی۔ اپنے چھوٹے بھائی کو بتایا اور تایا زاد رحیم کو بتایا کے تمہارے بیٹے نے کیا کیا ہے۔ اور اب آئندہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔

رحیم نے بیٹے کو خوب لعن طعن کیا مگر سب بے کار تھا۔ ان کا جواں سالہ بیٹا قتل ہو چکا تھا۔ شاجہان بولے

“فیصلے تک رحیم تم اپنے بچوں کے ساتھ یہیں رہوگے اب تم کہیں نہیں جاو گے۔ زیب عالم تم آنے والے وقت کے لیے تیار ہو جاو”۔

دریا خان کی حویلی میں میراں کی بہن بیاہی ہوئی ہے ابھی یہ نہیں پتہ کہ اس کا بیٹا تھا یا کوئی اور ہے بہرحال سب وقت کا انتظار کرو۔ اور کوئی بھی ادھر جانے کی غلطی نہ کرے۔

دونوں گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح خبر پھیل گی تھی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *