Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 14)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

آج کل تاج دھڑا دھڑ کبیر شاہ کے رشتے تلاش کر رہی تھی میراں کے ساتھ دشمنی کا ناگ ان کے اندر پھن پھیلائے بیٹھا تھا کبیر شاہ اور جھومر کے خراب تعلقات سے بہت اچھی طرح سے واقف تھی۔ جھومر اور کبیر شاہ کے خراب تعلقات جان کر انہیں اپنے اندر ایک تسکین کا احساس ہوتا تھا ۔ کوئی یہ کہہ دے کہ تاج ظلم و ستم کرنے سے جھکتی نہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔

شیخ انور کی بیٹی مناہل ان کے عین مرضی کے مطابق تھی خوبصورت موڈ مناہل انہیں پسند تھی۔ مل آنر خالد قیوم کی بیٹی زامیہ بھی ان کے معیار پر پورا اترتی تھی ۔ کچھ سوچ کر کبیر کو اپنے پاس بلایا ۔

“کبیر شاہ شیخ انور کی بیٹی مناہل کو میں نے تمہارے لیے پسند کر لیا ہے کیا تم ہماری خواہش کا احترام کرو گے۔

کبیر گہری سوچوں کے بھنور میں پھنسنے لگا جھوم کی بد اخلاقیاں اور ہر وقت سڑا سڑا سا انداز ہر وقت طعنے اور تشنع کرنے سے اسے فرصت ہی نہ ملتی۔ “

“دیکھو کبیر تمہارے بھائی شمشیر نے بہت دل دکھایا ہے۔ جھومر کے ساتھ تمہارا نکاح جن حالات میں ہوا اس کی کوئی سولڈ ریزن تھی بیٹا لیکن شمشیر نے بیٹھے بٹھائے ہم لوگوں سے چھپ کر جھومر کی بہن سے شادی رچا لی تم بتاؤ کیا ہمارا دل نہیں دکھا شمشیر کا یہ قدم ہمارے لئے قابل قبول ہے ؟ “

“مام آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں شمشیر نے زیادتی کی ہے کم از کم آپ کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرتا ایسی کون سی آفت آ گئی تھی۔ جو اسے جھٹ پٹ شادی کرنا پڑ گئی۔ “

تاج کے ہونٹوں پر مبہم سی مسکراہٹ آئی ۔

“شکر ہے کبیر تم ہمارے دکھ کو سمجھنے لگے ہو۔”

تاج کو دلی مسرت ہوئی کہ ان کا بیٹا ان کا ہم خیال ہے اب وہ جلدی سے دوبارہ اپنے پہلے والے موضوع پر آئیں۔

“کبیرہ ہمیں بتاؤ کیا تم دوسری شادی ہماری پسند سے کرو گے۔:

کبیر کو بھی جھومر کی روز روز کی تکرار سے ضد سی ہونے لگی تھی اندر سے جل کڑھ کر رہ گیا تھا۔

“مام آپ جہاں چاہیں میری شادی کروا دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں “۔

کبیر شاہ بڑی ضد اور طیش میں آتے ہوئے بولا۔ تاج سمجھ گئی کہ کبیر کے اندر جھومر کے ڈالے ہوئے گھاو بولے ہیں ۔

“تم ہمارے بےحد پیارے بیٹے ہو ہم تم سے بہت خوش ہیں”۔

کبیر شاہ نے ماں کو ایک نظر دیکھا اور کڑھتا ہوا وہاں سے چلا گیا ایک آخری کوشش کرنے کو دل چاہا کہ شاید وہ جھومر کو منا لے اور شاید جھومر مان جائے آخر میں اس سے محبت کرتا ہوں کسی اور سے کیسے محبت کر پاؤں گا۔ کیسے؟ یہی سوچ کر اس نے اچھی سی ڈریسنگ کی اور اپنے اوپر کلون سپرے کیا آئینے میں اپنا عکس دیکھا ۔ وہ خود کو کافی چارمنگ سا لگا ۔

اب خیال آیا کہ مام کو غصے میں کہہ تو دیا تھا کہ آپ میری شادی کے لیے پیش رفت کریں لیکن اب اندر پچھتاوا سر اٹھانے لگا ۔ خیر شادی کون سا راہ میں پڑی ہے دیکھ لوں گا اپنے آپ کو مطمئن کرتا جھومر کے پاس آیا ۔

“میرے ساتھ باہر چلو گی۔”

کبیر نے نارمل لہجے میں پوچھا جھومر نے صاف لفظوں میں انکار کر دیا ۔ وہ جھومر کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا وہ اس کی نظروں کی تمازت سے اپ سیٹ ہونے کے لگی۔ وہ بیڈ سے اتر جانا چاہتی ر تھی۔ کبیر نے اس کا نرمی سے ہاتھ پکڑا جو اس نے پیچھے کھینچ لیا۔

“جھومر کبھی کہا مان بھی لیا کرتے ہیں۔ ہر وقت ناک پر غصہ دھرے بیٹھی رہتی ہو”۔

کبیر نے واضح طور پر ناراضگی کا اظہار کیا۔

“میں آپ کے ساتھ باہر جا کر کیا کروں گی۔”

اس نے فضول سی تاویل گھڑی۔

“مجھے بیوقوف بنا لینا اتنا تو تم کر سکتی ہو۔ “

کبیر نے اسے کیا طنز کیا۔ جھومر کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر بولی ۔

“چلیں۔ “

“ناراض ہی رہتی ہو ہر وقت منہ پر بارہ بجے رہتے ہیں ۔”

“کبیر شاہ جب کوئی آپ کے روشن مستقبل کے بیچ کر آہنی دیوار بن جائے تو آپ کو کیسا لگے گا ۔ “

جھومر کی مترنم آواز کبیر شاہ کے دل میں اتر گئی ۔

“کیا مطلب میں سمجھا نہیں کیسا روشن مستقبل ؟ “

اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔

“میرا سائیکولوجی کا آخری سال تھا جو تم نے برباد کر دیا “۔

کبیرشاہ کو واقع افسوس ہوا۔

“تم اتنی کبیدہ خاطر رہتی ہو ناک پر مکھی تک بیٹھنے نہیں دیتی تو کیا ہو سکتا تھا تمہارا مستقبل ہی داؤ پر لگ سکتا تھا۔ “

“خیر یہ تم رہنے دو میرے تو نصیب ہی داؤ پر لگ گئے ہیں۔”

“بس کر دو ہر وقت تم مایوس کن گفتگو کرتی رہتی ہو تم دوبارہ یونیورسٹی جوائن کرو اپنی تعلیم جاری رکھو مجھے تمہارے پڑھنے پر کوئی اعتراض نہیں “۔

“اور جو میں سارا سارا دن تمہاری والدہ کی چاکری کرتی ہوں کیا ایک دفعہ بھی تمہیں اس پر کوئی اعتراض ہوا۔ “

کبیر شاہ نے نچلا لب دانتوں تلے دبایا ۔

“تمہیں ساس تو واقع ظلم و ستم ڈھانے والی ملی ہے اب دیکھو نہ وہ میری دوسری شادی کرنے لگیں ہیں” ۔

جھومر کے کلیجے کو ہاتھ پڑا لیکن اس نے بظاہر اپنے آپ کو پرسکون رکھا۔

“اور تمہیں دوسری شادی کروانے میں کوئی تاعمل محسوس نہیں ہوا۔”

جھومر نے سپاٹ لہجے میں پوچھا۔

“صبح تم پر بے تحاشا غصہ تھا جب انہوں نے دوسری شادی کا تذکرہ کیا تو میں نے جلدی سے اقرار کر لیا ۔”

“یعنی تمہارے نزدیک شادی بس بچوں کے کھیل جتنی اہمیت رکھتی ہے تمہاری نظر میں “۔

جھومر نے گھور کر کبیر شاہ کو جانچنے کی کوشش کی۔

کبیر شاہ کو شدید غصہ آیا لیکن پی گیا ۔ اس کا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ جھومر نے نوٹ کر لیا تھا۔

“جیسے تمہیں ابھی میری بات بلکہ میری اچھی بات پر غصہ آرہا ہے۔ کبیر اس سے کہیں درجے اوپر مجھے غصہ اور طیش آیا تھا جب تم مجھے اپنی ونی بنا کر گھسیٹتے ہوئے لاۓ تھے اور تہہ خانے میں پھینک دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک محبت کے دعوے دار بنتے ہو ڈنکے کی چوٹ پر۔ “

جھومر کے اندر کی خلفشاری عود کر باہر آئی۔

“وقت اور موقعے کی ڈیمانڈ تھی کیا کرتا میرا چچا کا بیٹا تھا میرا خون تھا میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو یہی کرتا جو میں کر چکا ہوں گو کہ غلط تھا لیکن انسان ہوں فرشتہ تو نہیں ہوں “۔

یعنی وہ اپنی غلطی تسلیم کر رہا تھا۔

********

تاج نے جھومر کو دیکھا بیش قیمت جوڑا زیب تن کیے ہوئے کے قریب سے گزری۔

“کبیر تم نے جھومر کو شاپنگ کروائی ہے۔مام اس گھر کے ملازم بھی موسم کے مطابق کپڑے پہنتے ہیں وہ تو گھر کی بہو ہے اور بحثیت انسان ہر کسی کو موسم کی ضروریات کے مطابق زندگی گزارنا ہے۔ “

“تم کیا جتانا چاہا رہے ہو کہ ہم جھومر کو کپڑے نہیں دیتے”۔

“میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا”۔

کہتے ہوئے کبیر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔

کبیر کی دوسری شادی کا سن کر جھومر کے دل کو عجیب سا دھکا لگا۔ جھومر کمرے میں بیٹھی کسی سوچ میں گم تھی۔ کبیر آکر جھومر کے سامنے بیٹھ گیا انٹرکام پر ملازمہ کو کافی کے دو مگ لانے کو کہا۔

“صبح میں یونیورسٹی سے معلومات لوں گا اگر تمہارا سمسٹر فریز کروانے کا ٹائم ہوا تو شاید تمہارا روشن مستقبل بچ جاۓ”۔

“ٹھیک ہے لیکن اس کے لیے میں تمہیں شکر یہ نہیں کہوں گی۔ “

جھومر معنی خیز انداز میں مسکرائی۔

” نہ کہو پہلے کب تم میری شکر گزاری کرتی رہتی ہو”۔

“تم مجھے ونی بنا کر لائے ہوئے ہو”۔

اس نے یاد دلایا ۔ کبیر شاہ اس کے ساتھ صوفی پر آ کر بیٹھ گیا اور اس کی طرف رخ موڑ کر اسکے قریب ہو کربیٹھا۔

“ایک دن بھی میری بیوی بنی ہو۔ “

اسکے کلون کی مسحور کن خوشبو جھومر کو پریشان کرنے لگی۔

“جب سے آئی ہو ونی ونی کی رٹ پکڑی ہوئی ہے حالانکہ مجھے ایک دن بھی ایسا نہیں لگا کہ تم ونی بن کر آئی ہو”۔

“جھوٹ ذرا کم بولو۔”

کبیر اس کے اور قریب ہوا۔

“پلیز پیچھے ہٹ کر بیٹھو”۔

جھومر کے دل کو کچھ ہونے لگا۔

“کیوں ڈرتی ہو کہ کہیں کبیر شاہ کے آگے پگھل ہی نہ جاوں”۔

وہ شوخ ہوا ۔

“تم مجھے آزمالو میں کبھی نہیں پگھلوں گی”۔

“نہیں مجھے یہ غضب نہیں کرنا کہ تمہیں آزماؤں”۔

اسکے گرم سانس جھومر کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہی تھی۔ جب دروازے پر دستک ہوئی اور کبیر شاہ نے اپنے اور اسکے درمیان ایک فٹ کا فاصلہ قائم کیا۔

نوکرانی دو بڑے مگ گرما گرم کافی کے ٹیبل پر رکھ کر چلی گئ۔ جھومر جہاں دل ہی دل میں اپنی تعلیم کے لیے خوش ہوئی تھی۔ وہیں کبیر شاہ کی دوسری شادی دل میں میخ ٹھونک گئ تھی۔

دونوں کافی انجوائے کرنے لگے۔ دونوں خاموش تھے۔

*********

کبیر شاہ نے ٹیبل کا کونا بجا کر اپنے ہونے کا احساس جگایا۔

“بھئ کہاں گم ہو میں یہاں بیٹھا ہوں”۔

“آپ کا گھر ہے آپ جہاں مرضی بیٹھیں” ۔

اس نے لٹھ مار جواب دیا۔

“تم پیدائشی بد اخلاق ہو یا میرے سامنے اس طرح ری ایکٹ کرتی ہو”۔

“پیدائشی تو خیر میں بہت بااخلاق تھی تمہیں دیکھتی ہوں تو بداخلاقی کے ریکارڈ توڑنے کو دل کرتا ہے۔ “

کبیر اس کی روئی روئی آنکھوں کو دیکھنے لگا۔

“مرنے والوں کے ساتھ مرا تو نہیں جاتا دیکھا جاۓ تو جھومر تو اس سلسلے میں بالکل بے قصور ہے۔ ہم انسانوں کی بنائی روایتوں نے ہماری زندگیاں ہم پر تنگ کر دی ہے۔”

کبیر شاہ محبت بھرے جذبے کے زیر اثر جھومر کے پاس آکر بیٹھ گیا۔

اس نے سرخ ہوتی آنکھوں سے پلکیں اٹھا کر کبیر کو دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں ایک پیغام تھا۔ جو محبت کے جذبوں سے لبریز تھا۔ جھومر اس پیغام کو پڑھنا تو کیا محسوس بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بے حد دلگرفتہ تھی۔

“تمہارا حسن تمہاری جوانی کو میں رلنے کے لیے تو نہیں لایا تھا۔ “

وہ ایک جذب کے عالم میں کہہ گیا۔

جھومر نے اسے تمسخر بھرے انداز میں دیکھا۔

“کیا ہوا کبیر شاہ اپنے کمرے میں ہر وقت حسین لڑکی کو دیکھ دیکھ کر تھکنے لگے ہو۔ “

اس نے چھپے انداز میں اسکی مردانگی کو چوٹ کی۔

“جھومر مجھے اشتعال مت دلایا کرو۔ تم سوچ بھی نہیں سکتیں تم مجھے اپنے تیئں اکساتی ہو۔”

کبیر شاہ نے شوخ ہوتے ہوئے کہا۔

“اور یہ جو تم ہر وقت بس موقع ملتے ہی آنسو بہانے بیٹھ جاتی ہو۔ یہ سب کیا ہے کیوں کرتی ہو ایسا۔ کیا سمجھتی ہو بولو۔ ونی ونی ونی ختم کردو اس راگ کو مت الاپا کرو۔ یہ دل تمہارے انتظار میں تڑپ جاتا ہے۔ مجھے تمہارا ونی بن کر آنا یاد بھی نہیں ہے یاد ہے تو اتنا کہ تم سے محبت کرتا ہوں چاہتا ہوں تمہیں اور سرشار ہوجاتا ہوں جب سوچتا ہوں کہ تم میری منکوحہ ہو لیکن میلوں کے فاصلے پر ہو۔ سمندر کا کوئی دوسرا کنارہ۔ “

کبیر شاہ مسکراتے ہوئے آہستہ آہستہ بول رہا تھا۔ جھومر کے نازک دل کو کچھ ہونے لگا۔ وہ کبیر سے نگاہیں نہیں ملا رہی تھی۔ کبیر شاہ نے اسکا ٹھنڈا ہاتھ اپنے گرم مضبوط ہاتھ تھام لیا۔ اسکے ہاتھ کی حدت جھومر کے ہاتھ میں سرائیت کرنے لگی۔ اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی کبیر نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا اور اس کے رخسار پر محبت کی مہر ثبت کر دی۔

“تمہیں میری محبت پر یقین نہیں ہے نہ”۔

کبیر شاہ نے بھاری اور جذبات سے مغلوب انداز میں پوچھا۔

جھومر کا چہرہ کبیر شاہ کی اس حرکت پر دہک گیا۔ پلکیں حیا کے بوجھ سے بھاری ہونے لگیں آنکھوں پر لرزنے لگیں۔

“کبیر میرا ہاتھ چھوڑو۔”

وہ بوکھلانے لگی۔

تو کبیر شاہ نے اسے بانہوں میں لے لیا۔

“پلیز کبیر مجھے چھوڑو”۔

“کیسے میری محبت پر اعتبار کر پاو گی۔ بتاو تو سہی کبیر شاہ بڑا بے چین ہے تمہارا رویہ مجھے مار دے گا۔”

“کبیر شاہ پلیز”۔

“کیا پلیز تمہارے جملہ حقوق میرے پاس محفوظ ہیں تم جیسے غلط سمجھ رہی ہو وہ ﷲ کو بے حد پسند ہے۔”

“کیا مطلب۔ “

وہ حیرت سے آنکھیں پھیلاۓ کبیر کو دیکھنے لگی۔

“مطلب محبت۔ جو شدت اختیار کر کے مجھ پر سے میرا اختیار کھونے لگی ہے ۔”

کبیر نے پہ در پہ محبت کی مہریں اس کے چہرے پر ثبت کر دیں۔ اور وہ ایک خاص رازدادی سے گزرنے لگے کبیر شاہ مرد تھا اس کا شوہر تھا کب تک اس سے اجتناب کرتی وہ تو ہر وقت ہر دم اس پر حق رکھتا تھا اور ان حسین لمحوں میں وہ اسکی محبت میں پگھلنے لگی اسکا غصے سے کھولتا خون محبت کے جذبے سے ٹکراتا آگ بن گیا۔ کبیر شاہ کی محبت نے اسکے پیار نے اسکو ملن کی ان گھڑیوں میں بڑا معتبر بنا ڈالا۔ ساری شام محبت کی نظر ہوگی کمرہ تاریک تھا۔ بس خاموش سی سانسیں تھیں جو دونوں ایک دوسرے پر محسوس کر رہے تھے۔ ملن کی آگہی نے دونوں کو مسحور کر دیا تھا۔

رات کا دوسرا پہر تھا جب اس نے اپنے آپ کو کبیر کی بانہوں سے جدا کیا اور آہستگی سے بیڈ سے اٹھ کر ڈریسنگ روم میں چلی گئ۔ اس نے آئینہ دیکھا تو اپنا ہی روپ سہار نہ سکی۔

کبیر شاہ کی بے قراریوں نے اور شدتوں نے اسے اسکی اہمیت کا خاص احساس دلایا تھا۔ اب ونی ہو کرآنے کی وہ قباحت جو دل میں تھی کبیر نے لمحہ لمحہ مٹا دی تھی۔ کوئی ہلکی خلش سی تھی جو گزرتے وقت کے ساتھ دور ہوجاتی۔

*******

اگلی صبح کبیر شاہ مسرتوں اور خوشیوں سے بھر پور انگڑائی لے رہا تھا جب اسے قریب ہی جھومر کا عکس نظر آیا۔ اسکی ریشمی زلفیں اسکی کمر کا احاطہ کئیے ہوۓ تھی۔ وہ اسے مسکراتا ہوا دیکھنے لگا۔ بستر سے نکل کر اس کے قریب آیا۔ اور اس سے پہلے کے وہ مزید قریب آتا جھومر اٹھ کر کمرے سے نکل گئی وہ اسکا سامنا نہیں کر پارہی تھی۔ وہ فریش ہونے چلا گیا۔

جھومر نے خاص ناشتہ بنوایا۔ ٹیبل پر ناشتہ لگوارہی تھی جب وہ جینز کی پینٹ اور میرون شرٹ پہنے فریش فریش سا مسکراتا ہوا اور آنکھوں سے بہت کچھ جتاتا ہوا اس کے سامنے آیا۔ اس نے نظر انداز کرتے ہوئے جوس کا جگ ٹیبل پر رکھا وہ اس کے پیچھے کھڑا اس کی زلفوں سے اٹھتی مہک اپنے اندار اتارنے لگا۔ وہ مڑی اور کبیر کے سینے سے جا لگی۔ سٹپٹا کر پیچھے ہٹی اس کا یہ انوکھا روپ کبیر کے دل میں اتر گیا۔

جھومر جانتی تھی کبیر اس کا پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہے۔ اس نے پراٹھے اور آملیٹ کا بائٹ بنا کر جھومر کے منہ میں زبردستی ڈال دیا۔ وہ اپنی مسکراہٹ روک نہ سکی۔

“صدقے جاؤں ﷲ میری بیوی کے نیک نصیب کرے”۔

جھومر کو کھل کر ہنسنا پڑگیا۔

اس کی ہنسی کی جلترنگ دیکھنے والی تھی۔

” اتنی حسین لگتی ہو ہنستی ہوئی کیوں کنجوسی سے کام لیتی ہو۔ “

“بہت دکھی رہتی ہوں تم مجھے اپنی ونی بنا کر لائے ہو”۔

“تمہارے ونی کی ایسی کی تیسی مجھے کچھ یاد نہیں ہے جو یاد ہے وہ بتاؤ۔ “

کبیر شاہ بے حد رومینٹک ہوا۔

“خاموشی سے ناشتہ کریں ورنہ میں اٹھ کر چلی جاؤں گی” ۔

“اور میں پاگل تمہیں جانے دوں گا تم نے ایسے سوچا بھی کیوں۔ “

“قسم سے کبیر شاہ تمہاری محبت میں گوڈے گوڈے نہیں ناک ناک ڈوب چکا ہے۔ “

“اچھا یقین نہیں آتا ۔”

جھومر شرارت سے بولی

********

کبیر شاہ کا پرانا دوست سلمان جس کے ساتھ کبھی اس نے جھومر کا دیا وہ دکھ جب اس نے اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر کبیر شاہ کا مذاق اڑایا تھا شرط لگا کر کبیر شاہ کو جیت لیا تھا سلمان نے اس انداز میں استفسار کیا کہ کبیر کے دل میں وہ بات پھر سے تروتازہ ہو گئی۔

وہ آج شام چپ چپ سا فریش ہو کر صوفے پر بیٹھا موبائل میں مگن سا نظر آیا جھومر بیڈ روم میں آئی کل رات سے محبت کے نشے میں چور تھی یوں ہی بس بیوی بننے کو دل چاہنے لگا کہ کبیر نے ہلکا سا مسکرا کر جھومر کو دیکھا اور جھومر کو دیکھنے کے بعد موبائل میں دل نہ لگا ۔

“یہاں آؤ میرے پاس بیٹھو۔”

وہ آہستہ سے چلتی اس کے برابر آ کر بیٹھ گئی۔

“ایک بات کہوں “؟

کبیرشاہ سنجیدہ نظر آیا۔

“جی سن رہی ہوں۔ “

“تم نے کتنی دیدہ دلیری سے مجھے مذاق بنایا تھا اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر میری کتنی تضحیک کی تھی تم نے ۔ “

کبیر شاہ افسردگی سے بات کر رہا تھا ۔ جھومر نے کاجل سے سجی آنکھیں اٹھا کر کبیر شاہ کو دیکھا ۔

“آج یہ بات کیسے یاد آگئی “۔

“ظاہر ہے یادیں تو ہمیشہ ہمارا پیچھا کرتی ہیں۔ ہم ان یادوں کو کیسے بھول سکتے ہیں “۔

کبیر شاہ جیسے تھوڑی تلخی سے بولا تھا۔

“ہاں تلخ یادیں بھولتی نہیں ہیں بھلائی جاتی ہیں ۔ “

“کیا مطلب ہے تمہارا میں بھلا دوں جو تم نے میرے ساتھ کیا تھا ۔ “

“جھومر ہنسی۔ “

“تم پر جبر نہیں ہے تم یاد رکھو جتنے چاہے تازیانے لگاو مجھے تمہاری مرضی ہے”۔

ہاں تم بہت چلاک ہو ۔

کبیر شاہ نے اسے اپنی بانہوں کی گرفت میں لے لیا ۔

“جان گئی ہو کہ تم میری کمزوری ہو اس لیے جنگ کی کھلی دعوت دے رہی ہو”۔

“مجھے ان جنونی محبتوں پر اعتبار نہیں ہے ۔”

“اچھا پھر اعتبار کی کون سی کڑی ہے “۔

“وقت…….شاید وقت گزرتا جائے اور مجھے محبتوں پر اعتبار ہونے لگے. “

“تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا ہی پڑے گا سب کچھ تو میری محبت کے آگے ہار چکی ہو۔”

جھومر کو بہت ٹوٹ کر شرم آئی تھی ۔

“جب تم نے مجھے شرط لگا کر جیتا تھا اس وقت میرا دل چاہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”

کبیر شاہ نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی جھومر کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔

“ہاں کہیے کیا دل چاہا تھا ۔”

کبیر شاہ نے اس کا مرجھایا چہرہ دیکھا۔

“میرا دل چاہ رہا تھا کہ اسی وقت تم سے نکاح کروں اور لا کر یہاں اپنے کمرے میں قید کر لوں اور کہوں جھومر تم نے مجھے مکمل طور پر جیت لیا ہے اب بتاؤ تمہیں کیسا محسوس ہو رہا ہے۔ “

جھومر کی نگاہیں جھک گئیں ۔

“تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں تب تم کسی اور ہی ترانگ میں تھی لیکن اللہ نے بہت پہلے تمہیں میرے نصیب میں لکھ دیا تھا۔ تم نے مجھے بتایا نہیں کہ ابھی صرف تم نے مجھے جیتا ہے یا مجھ سے محبت بھی کرتی ہو۔ “

“تم میری آنکھوں میں بڑے گہرے انداز میں دیکھتے ہو تم بتاؤ تمہیں کیسا لگتا ہے میں تم سے محبت کرتی ہو یا نہیں”۔

“چھوڑو تمہاری آنکھیں بے وفا لگتی ہیں جھوٹ بولتی ہیں”۔

کبیر شوخ ہوا ۔

“یہ آنکھیں تو تمہاری قید میں ہیں تمہاری باندھی بن کر رہنے لگی ہیں۔”

“میں نے تمہیں قید کیا ہوا ہے تم نے مجھے بیس ہزار کی شرط پر جیتا ہوا ہے کتنی الم ناک کہانی ہے ہماری ۔”

کبیر شاہ نے اس کی کی نازک گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ وہ اس کے بازو میں کسمسائی۔

” میرے بازوؤں میں مت پھڑ پھڑاو۔کبیرشاہ نے تمہارے پر کاٹ دیئےہیں۔ اڑ نہیں سکتی تم ۔ “

اداسیوں میں ڈوبے لہجے میں بولا۔

“مجھے تمہاری زخمی محبت کی ضرورت نہیں ہے” ۔

“تو کیسی محبت کی ضرورت ہے واضح کر دو “۔

“وقت کے دھارے پر چھوڑ دوں تمہیں پتا چل جائے گا “۔

“اتنا کچھ کیسے سینے میں چھپا کر رکھتی ہوں کچھ کہتی کیوں نہیں حالانکہ کل رات سے میری محبت میں بھیگی ہوئی ہو۔ “

“تھکنے لگی تھی اس لیے تمھاری زخمی محبت میں گھیر کر زخمی ہوگئی”۔

“تم کتنا اچھا بولتی ہو۔ تم کتنی خوبصورت ہو ۔ تمہاری آواز کی جلترنگ مجھے جھنجھوڑ دیتی ہے ۔ تمہارا لمس مجھے لوٹ لیتا ہے کبیر شاہ تمہارا فقیر بن گیا ہے۔ تمہیں اتنا چاہنے لگا ہے ۔ “

جھومر کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی۔

“تمہارا دل اتنی زور سے دھڑک رہا ہے مر تو نہ جاؤ گی “۔

“نہیں بہت سخت جان ہوں فکر نہ کریں”۔

جب سے کبیر شاہ کی قربت نے اسے معتبر کیا تھا تب سے جھومر کا اندازتکلم ہی بدل گیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *