Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dharkan Aur Tum (Episode 02)

Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja

“میراں تمہارا کوئی قصور نہیں یہ ہماری قسمت ہے ہمارا نصیب منگنی گے دن ہی میرا دل تم پر آگیا تھا میں نے اپنے آپ کو بہت سمجھایا مگر سب بے کار رہا۔ “

زیب عالم نے انگلیوں کے پوروں سے میراں کے آنسو صاف کیے۔

“کیا تم غم منا رہی ہو۔”

“نہیں زیب مجھے تاج کا خیال آرہا ہے تاج کے ساتھ میں کیسے اتنا بڑا دھوکہ کر سکتی ہوں۔ “میراں نے اپنی افسردہ نگاہوں سے زیب عالم کو دیکھا۔

“اس میں دھوکہ فریب کچھ نہیں ہے جب دو فریق ایک دوسرے کو تہہ دل سے چاہنے لگیں تو یہاں دھوکہ فریب کہاں سے آگیا۔ میں بہت جلد اماں اور بابا کو بتا دوں گا میں تاج سے شادی نہیں کرسکتا۔ میری چاہت تم ہو آج بھی اور صدیوں بعد بھی۔ مجھے تاج سے نہیں تم سے شادی کرنی ہے۔”

میراں نے سسکی بھری اور زیب عالم کے ہاتھ سے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور واپس چلی گی۔

واپسی پر یہ شکر ہوا کے تاج اپنی سہیلی کے گھر گی ہوئی تھی۔ ورنہ میراں کی روئی آنکھیں اور اس کے سوال اور میراں کی بے بسی۔

سلسلہ طویل ہونے لگا میراں فون پر باتیں کرنے لگی۔ زیب عالم کی گھمبیر آواز اور اس کی محبت بھری جذبے لٹاتی باتیں پھر ملاقاتیں اور طویل ملاقاتیں راہ رسم بہت بڑھنے لگے تو زیب عالم تاریخ لینے کے لیے بےتاب نظر آنے لگے۔

دوسری طرف تاج محبت کی لمبی لمبی پینگیں بڑھانے لگیں صرف خط و کتابت تک محدود محبت تھی۔ اور میراں سب کچھ بھول کر اپنی محبت کے پودے کی آبیاری کرنے لگی۔

میراں کا خوب بننا سنورنا اور ہفتے میں دو بار سہلیوں کے گھر جانا اور تا دیر تک واپس آنا۔ امی بیگم ماں تھیں وہ فورا جانچ پڑتال میں لگ گی۔ جلد ہی رخسانہ نے من وعن ساری خبر دے دی۔ امی بیگم کا صدمے سے برا حال تھا۔ انھوں نے میراں پر باہر جانے کی پابندی لگا دی۔

میراں سارا سارا دن کمرے میں بیٹھی سسکتی رہتی اور جب ایک دن فون کی گھنٹی سننے پر میراں فون کی طرف لپک کر گی دوسری طرف زیب عالم بول رہے تھے آواز کی بے تابی اور بے قراری تھی میراں رو پڑی۔

میراں تم کہاں ہو میں پتا نہیں کیسے وقت گزار رہا ہوں بس میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں آج ہی۔۔۔۔۔۔

اور فون روتی ہوئی میراں سے حیدر علی نے پکڑ لیا۔

اماں اور ابا جی سے بات کرتا ہوں مجھے تاج سے نہیں میراں سے شادی کرنی یے۔ میراں میں تم سے بےحد محبت کرتا ہوں۔ بلاوجہ میں اپنی محبت کو کھو نہیں سکتا۔

حیدر علی نے لال چہرے اور دھواں ہوتی آنکھوں کے ساتھ میراں پر ایک نظر ڈالی اور تیزی سے اپنے کمرے میں چلے گے۔

“آسیہ تمہیں کچھ ہوش ہے تمہاری بیٹیاں کیا کرتی پھر رہی ہیں۔ “

اباجی کی آواز میراں تک پہنچی وہ خوف سے اپنے کمرے میں بند ہوگی۔

“زیب عالم تاج سے نہیں میراں سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ راہ رسم بڑھ چکے ہیں اور تمہاری بیٹی سوگ منا رہی ہے۔ میں یہ برادشت نہیں کرسکتا کسی صورت تاج کی شادی نہیں کروں گا۔ میراں کو زیب عالم کے ساتھ تین کپڑوں میں رخصت کروں گا۔وہ گستاخی اور دھوکا دہی کا انجام دیکھے گی۔ ساری عمر اس لڑکی کا منہ نہیں دیکھوں گا۔ ساری بات زیب عالم سے طے کرو کہ چند لوگ جمعہ کے روز لاۓ اور میراں سے سادگی سے نکاح کر کے لے جاۓ۔ میں میراں کا وجود مزید اس گھر میں برداشت نہیں کرسکتا۔”

حیدر علی گرجدار آواز میں بولے۔ اس وقت ان کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا۔

تاج اپنے ماں باپ کے اس فیصلے پر حیران ششدر تھی۔

اسی دوران کی خبر جب تاج کے پہنچی تو وی بلبلا اٹھی۔

“امی بیگم اگر ہماری شادی زیب عالم سے نہیں کرنی تھی تو منگنی کا ڈھونگ کیوں رچایا تھا۔ “

تاج کا چیخ چیخ کر اس کا گلہ خشک ہونے لگا۔

“ہوش میں آو تاج میری بات سنو ۔”

امی بیگم نے سختی سے تاج کو کندھوں سے ہلایا تاج اپنی ماں کا چہرہ دیکھنے لگیں۔

“تاج تمہاری بہن نے تمہاری قسمت پر نقب لگائی ہے زیب عالم اور میراں شادی کرنا چاہتے ہیں تمہارے ابا جی نے خود فون پر زیب عالم کی ساری گفتگو سننی ہے اور رخسانہ چشم دیدہ گواہ ہے۔ “

“جب تم زیب عالم کے دل چڑھی ہی نہیں ہو تو تمہیں بیاہ کے کیوں تمہاری زندگی برباد کریں۔ “

تاج پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔

روتے ہوئے میراں کے کمرے میں گی اپنے آنسو صاف کیے۔

ہتھیلیاں میراں کی طرف کر دیں۔

“میراں ان آنسوں کی تمہیں قیمت ادا کرنی پڑے گی کیونکہ تم نے شب خون مارا ہے ہم پر وار کیا ہے۔ ہمیں دھوکہ دیا فریب اور چال بازی سے زیب عالم ہم سے چھین لیا ۔ یاد رکھنا یہ تاجدار حیدر کا قول ہے تم ہمیشہ تڑپو گی ہمیشہ۔۔۔۔۔۔ تم کبھی سکون نہیں پاو گی۔ “

اور جمعے کے دن میراں دلہن بنی آنسوں کے تحفے کے ساتھ چند مہمانوں کی موجودگی میں زیب عالم کے ساتھ اس کے گھر سے رخصت ہوگی ۔

*******

حیدر علی اپنے کمرے میں نیم اندھیرا کیے چیر پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں منہمک تھے۔ جب ان کی بیگم آسیہ ڈرتے ڈرتے کمرے میں آئیں۔ کمرے کی خاموشی اور نیم اندھیرے نے انھیں گھبرا دیا وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اپنے سرتاج کے پاس آکر بیٹھ گی آنسوں تواتر سے آنکھوں سے جاری تھے۔ کچھ دیر پہلے ہی تو اپنے لخت جگر کو رخصت کیا تھا اور وہ بھی بہت بڑے نازک ماحول میں رخصتی ہوئی تھی۔ شاہ زیب عالم کی ماں کا موڈ سارا وقت خراب رہا انھیں کسی صورت بھی جیسے میراں قبول نہیں تھی مگر اپنے بیٹے کے آگے مجبور بے بس تھی۔

“آسیہ مت روئیں آپ یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے یونہی ایک فون کال سن کر فیصلہ کر لیا ہے ہمیں گزشتہ دو ہفتوں سے خبر مل چکی تھی میراں اور زیب عالم کی ملاقاتوں سے ہم باخبر تھے ہمارے مزارے نے ہمیں خوب باخبر کر دیا تھا ہم تو پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے ہماری بیٹی اتنی بے ایمان ہوگی ایسا تو وہم وگمان میں نہیں تھا۔ ہم میراں کی رخصتی پر رنجیدہ نہیں ہیں تاج کے دل پر لگنے والی چوٹ پر افسردہ اور پریشان ہیں تاج کے ساتھ سخت ناانصافی اور ظلم ہے اور وقت ظلم کا حساب ہمیشہ برابر کر دیتا ہے ۔ “

آسیہ چیخ پڑیں۔

“ایسے مت کہیں تاج اور میراں دونوں ہماری بیٹیاں ہیں آپ اتنا فرق کریں گے میں نے سوچا نہیں تھا۔”

“آسیہ یہ میں نہیں کہہ رہا وقت کہہ رہا ہے زمانہ کہہ رہا ہے کس کس کی زبان پکڑو گی بہتر ہے حقیقت کو تسلیم کر لو۔ اور شکر کرو ہماری عزت بچ گی۔اب تاج کے لیے جلد ہی کوئی اچھا رشتہ تلاش کرو اور اسے بھی رخصت کرو تاکہ وہ اس غم اور تکلیف سے جلدی باہر آۓ۔آسیہ عجیب سے درد سے دو چار تھا”

َََ****

زیب عالم میراں کو پا کر بے حد خوش تھے پاوں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے میراں کا عجیب حال تھا بہت خوش اور بہت غمگین تھی۔ اتنی جلدی اس طرح نکاح اور رخصتی کے لیے وہ بالکل بھی ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔ وہ تو ہے ہی بڑی بےکل تھی۔ اسے شادی شادی کی طرح سے لگ ہی نہیں رہی تھی۔ میراں کی ذہنی حالت بہت خراب تھی ایک وقت بھی ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنے آنسووں پر قابو پالیتی۔

زیب عالم نے میراں کو تسلیاں دیں اپنی محبت کا بہت یقین دلایا مگر میراں کنٹرول سے باہر تھی۔

“یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے تاج کا دل توڑکر میں کیسے خوش رہ سکوں گی۔ “

میراں ہچکیوں کے دوران بس اتنا ہی کہہ پائی۔ زیب عالم نے اسے نیند کی گولیاگولی دے کر سلا دیا تھا۔

کچھ بھی ہو میراں کی ذہنی حالت ابھی بہتر نہیں ہوگا ابھی تو گھر والوں کا رویہ بھی اتنا اچھا ثابت نہیں ہوگا میں میراں کو کاغان لے جاوں گا کچھ دن وہاں رہ کر اسکی طبیعت سنبھال جاۓ گی پھر وہ گھر والوں کو فیس بھی کر پاۓ گی۔

انھی سوچوں میں گرے زیب عالم نیند میں چلے گے۔

*******

تاج اپنی بربادی کا ماتم کرتے کرتے نڈھال ہوچکی تھی میراں کی بے ایمانی کسی صورت ہضم نہیں ہو رہی تھی اور زیب عالم کی بے وفائی اتنے پیار بھرے خط زیب عالم کے منہ پر ماروں گی کہ یہ سب کیا تھا۔ مگر پتھر کا سمجھ کر خط لکھتے تھے میراں کی محبت میں اتنے پاگل ہوگے تھے۔ اتنی مغرور اتنی نازک سی تاج بکھر کر رہ گی۔ کوئی اسے سمیٹنے والا نہیں تھا اسنے اپنے کمرے کے سارے پردے گرادیئے تھے۔ شام سے لے کر صبح فجر کی نماز پڑھ کر تاج اپنے بستر پر آئیں۔صبح ایک گہری سوچ سوچتے ہوۓ ہوگی۔ اگلے دن دوپہر بارہ بجے ان کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔ اس کی آنکھ کھلی امی بیگم اسے جگانے آئیں تھیں۔

“امی بیگم کیا یہ اتنا آسان ہے کہ کل میری جگہ میراں زیب عالم کے ساتھ رخصت کر دی گی اور اگلے دن چڑھتے سورج کے ساتھ ہم سب کچھ بھول جائیں۔ امی بیگم زیب عالم مجھے جھوٹےخط لکھتا رہا مجھے جھو ٹی محبت کے دلاسے دیتا رہا ہے میری سگی بہن میرا مذاق اڑاتی رہی۔ امی بیگم میں توتاحیات کبھی بھی کچھ بھی نہیں بھولوں گی۔

تاج غصے میں پھنکارنے لگی۔”

اس کے دل میں کیسی آگ لگی ہے امی بیگم سمجھ سکتی تھی مگر وہ یہ بھول جانتیں تھیں کہ یہ تاج ہے جو کبھی کسی کو ذرا سی چوچراں سے بھی بہت مشکل سے بخشتی تھی۔

“تاج میری طرف دیکھو۔”

تاج نے ان کی طرف رخ موڑا۔

“تاج میں جانتی ہوں تم کس دکھ اور کرب سے گزر رہی ہو لیکن کیا دنیا والوں کو یہ سب دکھاو گی۔”

تاج سے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے۔

“امی بیگم ہمارے آنسووں کی گواہی اس کمرے کی دیوار وں کے علاوہ کوئی نہیں دے گا۔”

“آپ چلیں ہم ناشتے کے لیے باہر آتے ہیں۔”

میراں جتنی کمزور دل تھی تاج اتنی ہی مضبوط دل تھی۔ تاج پوری حویلی میں ملازماوں سے کام کروا رہی تھی جب کہ گھر کے سب نوکر ان کے چہرے سے کوئی کہانی پڑھنا چاہتےتھے مگر وہاں تو ایک حرف شکایت نظر نہیں آتا تھا ۔

نوراں مائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوراں مائی۔

تاج باآواز بلند نوراں مائی کو بلانے لگیں۔

تاج نوراں مائی کو میراں کے ساتھ بھیج دیا گیا ہے اب وہ اسی کے ساتھ رہے گی ۔

امی بیگم نے تاج کو بتایا۔ تاج کے ماتھے پر غصے کی لکیریں ابھری اور معدوم ہوگی۔

“امی بیگم میراں کا کمرا بند کروا دیں اور اس گھر میں جہاں جہاں میراں کی چیزیں ہیں وہ اٹھوا کے سٹور میں رکھوا دیں ہمیں اس سے منسلک کوئی چیز یہاں وہاں نظر نہ آئے۔ “

نفرت اور غصے سے اس کا چہرہ لال سرخ ہوگیا۔

امی بیگم نے میراں کا جھولا اس کی پسند کے پودے اور اسکے بیٹھنے کی مخصوص جگہوں پر سے صوفے موڑے سبھی ہٹا دیے۔ میراں کا کمرہ بند کروا کر تالا ڈال دیا۔ تاکہ تاج کو اپنا غم کچھ کم لگے۔ ۔

*******

چوہدری حیدر کے پرانے دوست جمال شاہ اچانک ان سے ملنے گھر آگیے۔ حیدر علی کے لیے حیرانگی کی بات تھی۔ بہت سالوں بعد جمال شاہ ان کے گھر آۓ تھے۔

“جمال شاہ تمہارا کیسے دل کیا کہ تم اپنے یار سے ملنے آو؟ “

“اتنا مشکل سوال کر کے مجھے مشکل میں ڈالنے کی ضرورت نہیں بس یونہی تم سے ملنے کو دل چاہا تو تمہارے گھر آگیا۔ بھابھی کہاں ہیں بچے کدھر ہیں؟”

“دوبیٹیاں ہیں ایک ہم نے بیاہ دی ہے اور ایک ابھی غیر شادی شدہ ہے بیٹا ہمارا پڑھائی کے سلسلے میں لندن میں مقیم ہے۔”

“اچھا اگر میں کبھی تم سے ملنے نہیں آیا تو تم نے بھی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اپنے یار سے مل لیتے۔ “

“زندگی کے سفر نے اتنا محور کر دیا کہ ہوش ہی نہیں رہا۔”

جمال شاہ بہت دیر تک اپنے دوست کے پاس بیٹھے رہے اپنے دونوں بیٹوں کی مصروفیات بتاتے رہے۔ اور کچھ تاج کے لیے اپنا ارادہ بھی ظاہر کر گیے حیدر علی دلی طور پر خوش تھے۔ ان کا دوست میدی پور گاوں میں نمبردار تھا اور بہت بڑا زمین دار آدمی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبی یہ کہ بیٹوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ اسد شاہ ان کا بڑا بیٹا تھا۔

ایک دو دفعہ کی ملاقات کے بعد کچھ حتمی بات کرنے کا وعدہ دے کر جمال شاہ واپس چلے گے۔

********

میراں دو دن تو حواس باختہ ہی رہی اور اپنے کمرے ہی میں رہی ساس نند کوئی بھی اسے ملنے اسکے کمرے میں نہیں آئیں۔ میراں سمجھ گی تھی کہ وہ نا پسندیدہ ہستی بن گی تھی۔

زیب عالم اسے لیکر پہاڑی مقام پر آگے۔ ماں باپ تاج اور اسکا بھائی زین جسکی وہ لاڈو رانی تھی اسے ٹوٹ کر یاد آرہے تھے۔ وہ اپنے گھر سے پہلی بار جدا ہوئی تھی۔

سردی اپنے جوبن پر تھی۔ میراں نے اپنے گرد شال لپیٹ لی تھی۔ خشک پتے سڑک پر یہاں وہاں بکھرے پڑے تھے۔ اسے اپنا آپ اتنا ارزاں محسوس ہوا کہ جیسے وہ بھی انھیں خشک اڑتے پھرتے پتوں کی مانند ہو۔ زیب عالم اس کی بہت دلجوئی کر رہے تھے مگر کسی کسی وقت اسے لگتا جیسے اس نے محبت نہیں کی۔بلکہ دونوں بہنیں زیب عالم کی دی ہوئی بربادی کی نظر ہوگی وں۔۔

لیکن اب اس کا نصیب زیب عالم کے ساتھ ہی لکھا جا چکا تھا۔ اسے نصیب کا لکھا قبول کرنا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *