Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja NovelR50547 Dil Dharkan Aur Tum (Episode 15)
Rate this Novel
Dil Dharkan Aur Tum (Episode 15)
Dil Dharkan Aur Tum by Khadija Shuja
تاج دیکھ رہی تھی کہ آج کل کبیر شاہ اور جھومر کی طرف سے راوی چین ہی چین لکھتا تھا اور کبیر شاہ کا وعدہ وفا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا ۔
وہ اپنے بیڈ روم میں مضطرب سی بیٹھی تھی کبیر کا انتظار کر رہی تھی اسے اس کا وعدہ یاد دلانا تھا کبیر ان کی نظروں کے سامنے تھا تاج نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا کبیر صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس وقت وہ جھومر کے احساس میں تھا اس کی سوچیں جھومر میں اٹکی تھی جب تاج نے اپنا وعدہ یاد دلایا۔
“وعدہ پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ سیٹھ گزار کی بیٹی سے میں تمہارا رشتہ طے کرنے والی ہوں ۔”
کبیر کو جیسے سخت کرنٹ لگ گیا تھا۔ ششدر سا ماں کا چہرہ دیکھنے لگا ۔
“مام میں دوسری شادی نہیں کر سکتا ۔ “
کبیر سرعت سے بولا ۔
“وجہ کیوں نہیں شادی کر سکتے تم ایسے سوچ بھی کیسے سکتے ہو تم نے خود ہمارے ساتھ حامی بھری تھی کیا تمہاری یادداشت اتنی کمزور ہے بھول گئے ہو “۔
تاج کو کبیر پر غصہ آ رہا تھا ۔
“مام میں جھومر کو چھوڑ نہیں سکتا اس کو کسی صورت دھوکا نہیں دوں گا۔”
یہ سننا تھا کہ تاج کی طبیعت کی نازکی پر شدید اثر پڑا ان کا نروس بریک ڈاؤن ہوگیا کرسی پر بیٹھے بیٹھے وہ ایک جانب لڑکھڑا گی۔ کبیر شدید خوفزدہ ہو گیا اسی وقت تاج کو ایمبولنس بلا کر ہاسپیٹل لے گیا ۔ پل میں نظارہ بدل گیا ۔ اسد شمشیر اور مراد شاہ سب ہوسپٹل میں موجود تھے ۔ کبیرشاہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی ماں اتنی حساس بھی ہو سکتی ہے۔
اسد تو ویسے ہی تاج کے معاملے میں بہت ٹچی تھے ۔ ڈاکٹرز کے عملے کے سر پر موجود تاج کی خیریت دریافت کرنے لگے۔ تب انہیں یہ جان کر یک گونہ سکون ملا کے کسی وقتی پریشانی کے سبب معمولی نروس بریک ڈاؤن تھا ۔ اب بہتر ہیں۔ اسد نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے تاج کو ڈسچارج کروا کر گھر لائے۔ کبیر قصدا مام کے سامنے نہیں جا رہا تھا۔ ماں کے ہوسپٹل جانے کے بعد سے وہ جھومر کے ساتھ کچھ اکھڑا اکھڑا سا تھا اور جھومر جوابا خاموش تھی ۔ وہ پہلے بھی بے اعتبار ہی تھی اور اب بھی کبیر سے زیادہ امیدیں نہیں تھیں۔
کبیر شاہ بڑی دیر سے پریشان بیٹھا سوچوں کی گمبھیرتا میں الجھا ہوا تھا اس بات پر کہ وہ دوسری شادی نہیں کرے گا اس کی ماں اس بات کا اتنا اثر لے گی۔ وہ حیران تھا جھومر اس کے روبرو بیٹھی تھیں کلائی میں بڑی چوڑیوں کو گھماتی گہری سوچ میں غرق تھی کبیر شاہ کو پرانی باتیں یاد آنے لگیں۔ بت سے جھومر اس کے بیڈ روم میں تھی اور ابھی ہفتہ بھر سے اس کی قربت حاصل کر پایا تھا۔
*******
کبیر شاہ کے آنے کا وقت ہو چکا تھا۔ جھومر آج کل ذرا چپ چپ سی رہنے لگی تھی اور وہ آفس میں کھو جانے کی حد تک محنت کر رہا تھا تھوڑی دیر میں کبیر آگیا۔ جھومر لیپ ٹوپ پر بزی تھی۔ اس نے آنکھ اٹھا کر دیکھا تک نہیں تھا کہ اس کا سر تاج آگیا ہے ۔ کبیر کا خون کھول کر رہ گیا ۔ واڈروب کا دروازہ کھول کر نائٹ ڈریس نکالا ذرا زور سے دروازہ بند کیا ۔ جھومر اپنی جگہ پر ہل گئی۔
“ڈرتی تو اس طرح سے ہو جیسے چڑیا جتنا دل ہو۔”
جھومر ٹس سے مس نہ ہوئی۔
“کافی پیوں گا ہری اپ جلدی لاؤ۔ “
اس نے اس کے سامنے سے لیپ ٹاپ اٹھا لیا۔ جھومر اسے گھورتے ہوئے اٹھی اور باہر چلی گئی۔ وقت گزرتا جا رہا ہے اور اسے ذرا احساس نہیں یونہی میں ونی بن کر زندگی گزار دوں گی ۔ ایک دفعہ بھی نہیں کہا کہ اپنے اماں بابا کے گھر چلی جاؤ ۔ تو اس کا مطلب کیا نکلتا ہے ۔ ونی ہونے کی شرط ایسے ہی پوری ہوتی ہے۔ جھومر نے آنسو اندر دھکیل کر بھاگ کرکافی کے دو مگ بنائے۔ جناب سے اکیلے کافی نہیں پی جاتی ۔ وہ دونوں کپ بیڈ روم میں لے آئی۔ وہ ہشاش بشاش بیڈ پر بیٹھا استراحت فرما رہا تھا ۔
“لو بھلا اتنی سی دیر میں سو گیا ۔”
جھومر نے سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھا اور آگے ہو کر اسے جگانے لگی اگلے لمحے وہ سمجھ نہ سکی ہوا کیا ہے ایک جھٹکے سے وہ کبیر کے اوپر گری تھی۔
“کیا پرابلم ہے کبیر ۔”
اس کی کہنی پر دباؤ آ گیا ۔ بازوں کو سہلانے لگی ۔
“بازو توڑ دیا میرا اللہ نہ کرے میری جھومر کے بازو کو کچھ ہو جھومر نے اسے بھر پوری گھوری کروائی۔ “
“بہت دنوں سے تم مجھے ایسے غصے سے دیکھ دیکھ کر میرا خون سکھانے لگی ہو۔ “
کبیر نے اسے بانہوں میں لیتے ہوئے لاڈ سے پوچھا ۔
“کیا بات ہے؟ “
“مجھے ماں باپ کے گھر سے رخصت ہو کر آنا ہے یہاں سسرال میں تم نے وعدہ کیا تھا۔ “
“وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا”۔
“پلیز کبیر سیریس ہو کر بات کرو”۔
“کچھ دن دے دو اس بارے میں مجھے راستہ ہموار بھی کرنا ہے سب کام اتنی آسانی سے تھوڑی ہوں گے دوسری طرف ہمارے چچا صاحب ہیں ہو سکتا ہے وہ اس سلسلے میں ہنگامہ کھڑا کریں۔ “
یہ تو جھومر نے سوچا ہی نہیں تھا۔
کبیر نے محبت بھری نظروں سے جھومر کو دیکھا وہ کافی کا مگ اس کی جانب بڑھا رہی تھی۔
“اتنی سنجیدہ مت ہو جب تک تم رخصت ہو کر نہیں آ جاتی تم صوفے پر سو جایا کرو ۔ “
“ہاں اور تم آدھی رات کو میرا ہاتھ کھینچ کھانچ کر یہاں پر لے آیا کرو ۔ “
جھومر نے کبیر کی رات والی حرکت یاد دلائی۔ وہ ہنس ہنس کر دوہرا ہونے لگا۔
“اچھا تو اس لیے عتاب بھری نگاہوں سے مجھے لمحہ لمحہ مار رہی ہو۔ “
کبیر تو جھومر کی محبت میں پاگل ہو رہا تھا ۔
“کبیر شاہ یہ گلے شکووں والی زندگی تمہیں مطمئن کر رہی ہے۔ “
اب جھومر نے سختی سے پوچھا ۔
“میں تمہیں جلد رخصت کرواکر لے آؤں گا اور تم نے جو میرا مذاق بنایا تھا اس کا کیا ہوگا۔”
“جب تم مجھے رخصت کروا کر لاؤ گے اسی رات تمہیں سوری کہہ دوں گی۔”
“واہ کیا خوب منطق ہے”۔
جھومر نے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگایا ۔ کبیر اس کی من موہنی صورت میں کھو گیا۔
رائمہ محبت کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ گئی تھی۔ اسے ہر چیز میں ہر جگہ منان نظر آتا تھا۔ منان کی شخصیت اس پر بہت حاوی ہوئی تھی وہ گھر میں جہاں تنہائی میں ہوتی اکیلے میں خود سے باتیں کرتی۔ اس کا مخاطب منان ہوتا ۔ تاج اس لئے بھی بے حد ڈپریس تھی۔ اب کی بار میراں کے آگے جھکنا اسے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ زندگی ہار رہی ہو۔ یہ سب کچھ اس کی آن بان کے خلاف تھا اسد شاہ نے اپنی لاڈلی بیگم کا گورا مرمریں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔
“کیا ہو گیا تھا تاج کیوں اس قدر ڈپریشن میں چلی گئیں”۔ ایسا کیا سوچ لیا تھا۔
اسد اس سے پوچھ رہے تھے۔
“کبیر نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہماری پسند سے شادی کرے گا ہمارا مطلب ہے دوسری شادی۔ “
“تاج آپ سمجھدار ہیں آپ ایسی توقعات مت رکھا کریں بچوں کو ان کی زندگی جینے دیں۔اور تیاری کریں ہم دل اویز اور جھومر کو باقاعدہ رخصت کروا کر اپنے زرتار محل میں لارہے ہیں۔ “
تاج کے ماتھے کی سلوٹیں گہری ہوگئی۔
“ہمیں آپ کے یہ اچانک کے فیصلے سخت ناگوار گزر تے ہیں ہم سے مشورہ کرنا پسند نہیں کرتے بس ہمیں بتایا جاتا ہے کہ آپ کیا کرنے والے ہیں۔”
جوابا اسد خاموش رہے۔
ایک وقت میں تاج کے ذہن میں کئی باتیں چل رہی تھیں۔ واثق کا رائمہ کی طرف جھکاؤ رائمہ کا منان میں الجھنا اور کبیر کی دوسری شادی جس سے وہ مکر گیا تھا ۔ جھومر کا جلاپہ علیحدہ ادھموا کئے جا رہا تھا ۔ اسد نے چند دوائیاں ہتھیلی پر رکھیں اور تاج کی جانب بڑھا دیں جو بغیر استفسار کیے وہ پانی سے نگل گئی تھی ۔
آپ میری بات کو غور سے سنیں شمشیر اور دل آویز نے اپنی مرضی سے ہمیں شامل کئے بغیر شادی کر لی ہم نے بغیر کسی استفسار کے قبول کر لیا اور اب دلآویز رخصت ہو کر تو یہاں آئے گی لیکن میں جھومر کو رخصت نہیں ہونے دوں گی یہ میرا آخری فیصلہ ہے ورنہ دل آویز کی رخصتی میں تاج آپ کو نظر نہیں آئے گی ۔
اسد شاہ کے دماغ کی رگوں میں خون کی روانی تیز ہوئی فش اکیوریم میں رنگ برنگی مستیاں کرتی مچھلیاں دیکھتے ہوئے اسد نے لمبی سانس خارج کی۔
تاج کا مرجھایا چہرہ اور یہ کہ دل آویز کی رخصتی کے لیے جو شرط رکھی تھی اس کو موقع کی مناسبت سے قبول کرنی پڑی۔ انہوں نے فون کر کے کبیر کو بتایا تو جیسے اس کی جان نکل گئی کیوں کہ وہ اب اپنے لفظوں سے پھرنا اور وہ بھی جھومر کے سامنے اسے بہت دوبھر لگ رہا تھا۔ جھومر کے چہرے کی نرمیاں اس وقت غائب ہوگئی جب کبیر شاہ نے بتایا کہ صرف دل آویز کی رخصتی ہوگی تمہاری نہیں ۔
********
جھومر کو دل آویز کے گھر آنے کے سلسلہ کا فنکشن تکلیف دے رہا تھا اسے احساس ہو رہا تھا کہ ونی سے اچھی تو وہ تھی جو گھر سے بھاگی ہوئی بےنام لڑکی اس کی بہن دل آویز جس کا کچھ اتا پتا نہیں تھا وہ تو الگ بات ہے کہ دل آویز اچھے حسب و نسب کی لڑکی تھی ۔ خیر خوش قسمت ہے باعزت طریقے سے رخصت ہو کر زرتار محل آرہی یے۔
“مجھے تم سے یہی امید تھی تمہیں صرف میرے سامنے شو آف کرنا آتا ہے اپنی ماں کو صحیح اور غلط بتانا تمہیں فورا سے ان کی توہین کا مقام نظر آنے لگتا ہے۔ “
کبیر فورا سے جھومر کے قریب آیا اور جھومر کو اس اچانک افتادہ پر الماری کے ساتھ کمر لگا کر کھڑے ہونا پڑا کبیرشاہ کا ایک ہاتھ الماری کے دروازے پر تھا اور دوسرے ہاتھ سے جھومر کی تھوڑی پکڑ کر اونچا کیا تھا ۔
“کبیر شاہ تمہیں میری ذات کی میری شخصیت کی مجھے ایک عورت کو اعلیٰ مقام دینے کے اتنے لالے پڑگئے ہیں کیا تم دکھا نہیں سکتے خاندان والوں کو کہ تم نے جھومر کو حاصل ہی نہیں کیا بڑی عزت و ابرو سے قبول بھی کیا ہے”۔
“لگتا ہے تمہارے ارمانوں کا خون آج بھی بہتا ہے ہاتھوں پر مہندی نہ لگنے کی تکلیف تمہیں ریزہ ریزہ کرتی رہتی ہے”۔
“تم کیا سمجھتے ہو تمہاری شبنمی محبت نے مجھے میری شخصیت کے بکھرے شیرازے کو ایک جگہ اکھٹے کر دیا ہے تم نے مسمار ہوئی جھومر کو بت بنا دیا ہے اس بت میں کوئی طاقت یا حرارت کا احساس نہیں ہے کبیر۔ “
“تم اتنی کڑوی اور اتنی خودسر ہو مجھے پتہ ہوتا تو تمہیں کبھی ونی بھی بنا کر نہ لاتا۔”
کبیر شاہ غصے میں انگارے اگلنے لگا ۔
“کوئی بات نہیں زیادہ وقت نہیں گزرا تم ابھی بھی مجھے زمین میں زندہ گاڑ سکتے ہو۔ بڑی آسانی سے تمہاری خلاصی ہو جاۓ گی۔”
غصے میں لال قندھاری جھومر کو اسنے اپنے سینے میں جیسے میخ کی طرح پوست کر لیا تو جھومر غصے اور غم سے مذید تڑپی۔
“تمہاری ماں مجھے کبھی عزت سے جینے نہیں دے گی کبیر شاہ خدا کے لیے مجھے کسی گہری کھائی میں پھینکو۔ “
وہ غم میں اندھی روتی جارہی تھی۔
**
“تمہیں کوئی شاپنگ وغیرہ کرنی ہے۔”
کبیر شاہ نے خشک انداز میں پوچھا۔
“کس سلسلے میں”۔
جھومر دوبدو بولی۔
“تمہاری بہن کی رخصتی کے سلسلے میں” ۔
“ظاہر ہے نہ میری مایوں کی رسم ہوئی نہ رسم حنا ہوئی نہ باقاعدہ سے ارینج میرج تو ہوئی نہیں تھی تو اس حوالے سے کامدانی زرق برق لباس بھی میرے پاس نہیں ہیں “۔
جھومر کے انداز میں تیکھا پن اور گہری چوٹ تھی جو سیدھی کبیر کے دل پر لگی۔
“ہر کسی کی اپنی اپنی قسمت ہوتی ہے تمہاری قسمت میں یہی تھا جو ہو گیا کبیر نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔ “
جھومر کے تن من میں آگ سی لگ گئی۔ غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا۔
کبیر جانتا تھا کہ اب وہ جھومر کے عتاب کا نشانہ بننے والا ہے۔
“کبیر تم مجھ بد قسمت کو چھوڑ دو”۔
جھومر ایک دم سے پھٹ پڑی ۔کبیر اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس آ گیا۔
“تم ایسا سوچنا بھی مت اتنا قریب آ کر میں تمہیں چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔”
کبیر نے سگریٹ سلگا لیا اور دھواں اس کے دہکتے حسین چہرے پر چھوڑ دیا ۔ جھومر نے اسےگھور کر دیکھا اور نفرت سے دھواں پرے ہٹانا چاہا ۔ کبیر مسکرایا۔
“چلو ایسا کیوں نہیں کرتی ہو تم مجھے چھوڑ دو”۔
“نہیں اب میں ونی بن کر تمہارے سر پر بیٹھی رہوں گی”۔
جھومر غصے سے بولی۔
“اور ہمیشہ آنے والے وقت میں لوگوں کو بتایا کرو گی کہ میں کبیر شاہ کی ونی ہوں۔ “
یہ سن کر کبیرشاہ کے اوسان خطا ہو گئے۔ یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ کبیر شاہ حیران پریشان سگریٹ پر سگریٹ پھونکتا رہا۔
*******************
جب شمشیر نے اسے بازوؤں میں لے کر بری طرح سے گھمایا تو اس کی چیخیں نکل گئی ۔
“شمشیر ہاۓ ﷲ میں مر جاؤں گی مجھے چھوڑ دو۔”
“ایسے کیسے مر جاؤ گی ابھی رخصتی ہے ہم دونوں کی” ۔
“کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں۔ “
شمشیریر نے اسے زمین پر اتارا خوشی سے گلنار ہو رہا تھا۔
“بابا نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم دونوں کی رخصتی ہے ہم تمہارے والدین کے گھر سے رخصت ہو کر زرتار محل میں آئیں گے۔”
دلاویز کی بے ساختہ ہنسی نے شمشیر کو بوکھلا دیا۔
“ہم دونوں کی رخصتی کا کوئی مقصد نہیں ہے صرف لڑکی کی رخصتی ہوتی ہے جناب موصوف شمشیر صاحب آپ اپنے والدین اور دیگر افراد خانہ کے ساتھ مجھے لینے آئیں گے رخصت کروا کر اپنے گھر میں لائیں گے تو اس میں آپ کی رخصتی کہاں سے نکلتی ہے۔ “
دلاویز نے تیکھی نگاہوں سے پوچھا تو شمشیر کھسیانا سا ہونے لگا۔
دلاویز مسکراتے ہوئے صوفے پر جا بیٹھی وہ بہت خوش تھی کہ شمشیر کے والدین کی مرضی کے مطابق اپنے والدین کے گھر سے دلہن بن کر پورے اعزاز کے ساتھ وہ اپنی سسرال میں آئے گی کمال ہی ہو گیا ۔سوچ کر پھر مسکرائی۔
“شرم نہیں آتی شوہر کا مذاق اڑا رہی ہو ایکسائٹمنٹ میں کچھ غلط بول گیا اور تمہیں بار بار ہنسنے کا موقع مل گیا” ۔ شمشیر تو باقاعدہ ناراض ہونے لگا ۔
“سوری سوری ائی ایم ویری سوری”۔
دلآویز نے جلد ہتھیار ڈال دیے۔
“اچھی سی چائے پلاؤ پھر شاپنگ کے لیے چلتے ہیں شوپنگ مکمل ہو جائیں تو تمہیں تمہارے والدین کے ہاں شفٹ کرنا ہے اور یوں تم اپنے پلان میں کامیاب ہو جاتی ہو “۔
“کیا مطلب کون سا پلان”۔
اب دلآویز کی باری تھی شمشیر نے شوخ ہوتے ہوئے اسے چھیڑا ۔
“یہی ایک سیدھے سادے نوجوان کو اپنے وش میں کرنے کا پلان۔ “
شمشیر یہ مجھ پر الزام ہے۔
وہ تو کھاتے ہوئے بولی۔
“ہاں پتا چلا کتنا رخصتی والی بات پر تم نے مجھے شرمندہ کیا ہے۔ “
“اوکے انتقامی کارروائی پوری ہو چکی ہو تو چائے بنا کر آپ کو پیش کر دوں۔ “
“اجازت ہے” ۔
شمشیر نے شاہی انداز میں کہا۔
کچھ دیر بعد وہ مال میں تھے ۔ کتنے بہت سے ڈریسز دیکھنے کے بعد ایک سلور ڈریس چوز کیا اور مزید زرتار جوڑے خریدے مہنگی ترین گولڈ اور ڈائمنڈ کی جیولری خریدی شمشیر نے ہر چیز بڑے چاؤ سے خریدی تھی۔ سارا دن شاپنگ کرنے کے بعد سیدھا میراں خالہ کی طرف جانے کا پلان تھا۔دل آویز کہ ذہن میں بہت سے سوالات قلبلانے لگے۔
“کیا ہوا بہت تھک گئی ہو”۔
شمشیر نے محبت سے پوچھا۔
“شمشیر جھومر کے دل میں خیال ضرور آئے گا کہ دلاویز کو تو اتنی شان و شوکت سے رخصت کروایا جا رہا ہے اور میرے لئے ایسا کوئی اعزاز نہیں سوچیں وہ وہ پریشان نہیں ہوگی۔”
“ہو سکتا ہے کہ ایسی کوئی بات اس کے ذہن میں نہ آئے”۔
نہیں شمشیر وہ ضرور سوچے گی۔
“کبیر اسے خود ہی ہینڈل کر لے گا تم اپنے ذہن پر زیادہ زور مت دو۔”
شمشیر نے فل الحال موضوع برخاست تو کر دیا تھا لیکن دلاویز پریشان تھی لاکھوں کی شاپنگ کر کے اپنے ماں باپ کے ہاں جا رہی تھی دل میں جھومر کے لیے سو سوال بیدار ہو رہے تھے ۔ میراں بابا اور منان نے انہیں بہت خوشی سے ریسیو کیا میراں نے دلاویز کو چھوٹے بچے کی طرح چومنا شروع کر دیا۔
” بس کر دیں اماں دلاویز محبتوں کی عادی نہیں ہے”۔
“میں اپنی اماں کی ممتا اور پیار کی عادی ہونا چاہتی ہوں تم پریشان مت ہوں۔ “
وہ نروٹھے انداز میں بولی میراں نے اسے سینے سے لگا کر اپنے اندر اپنی روح کو تسکین دی ۔ دلاویز کو سینے سے لگاتی تو دل بھر آتا سالوں کی جدائی کاٹنے کا صبر کرنے کا جیسے ثمر نصیب ہو جاتا شمشیر اور منان کا آپس میں گفتگو کرتے ڈرائنگ روم میں چلے گئے۔
دلآویز کا فون بج نے لگا موبائل اٹھایا تو ٹھٹھک سی گئی۔ جھومر کا فون تھا۔
“ہیلو دلآویز کیسی ہو یہ میں کیا سن رہی ہوں۔ “
“ہاں تم نے ٹھیک سنا ہے۔”
ایسا کہتے ہوئے دل کا لہجہ بھاری سا ہوگیا۔
“تمہیں مبارک ہو بہت خوش قسمت ہو تم”۔
دلاویز سے بولا ہی نہیں جا رہا تھا ۔
“کیا ہو گیا کچھ بولو تو سہی۔ “
جھومر کی آواز آئی۔
“ہاں کیا بولوں ایکچلی میرا بڑا دل تھا کہ تم بھی میرے ساتھ رخصت ہوتیں تو کتنا اچھا رہتا ۔”
“ارے چھوڑو یہ دنیا ہے یہاں دل کی باتیں کب پوری ہوتی ہیں تم بھی پاگل ہو” ۔
جھومر ہنسنے لگی۔
اچانک دلاویز اُس کے دل میں کوئی بات آئی۔
“ایسا ہو سکتا ہے کہ تم کل کبیر بھائی کے آفس جانے کے بعد ہمارے اپارٹمنٹ آجاؤ میرا دل چاہا رہا ہے تم سے باتیں کروں”۔
“اور تمہاری دل جوئی کروں۔” جھومر فٹ سے بولی ۔
دلاویز شرمندہ سی ہوئی۔
“آ جاؤں گی میرے لئے پاستا بنا کر رکھنا باۓ”۔
اس نے فون بند کر دیا۔
*********
تاج کے دماغ کا خناس اسے تنگ کرنے لگا تو جھومر کو بلوا لیا وہ دروازے پر ناک کر کے ان کے روم میں آئی۔ گلابی سوٹ میں تازہ گلاب کا پھول ہی دکھ رہی تھی۔ جھومر کے گلے میں قیمتی چین اور کانوں میں خوبصورت گولڈ کے آویزے دیکھ کر تاج نے پہلو بدلا۔
“تمہیں پتا ہے ہم دلاویز کو رخصت کروا کر زرتار محل لارہے ہیں۔” بڑی زیرک نگاہوں سے معصوم سے مکھڑے والی جھومر کو دیکھا۔ دکھی احساس جھومر کے چہرے پر آیا ۔ تھوک نگل کر بولی ۔
“جی میں جانتی ہوں”۔
“تم ونی بن کر آئی تھی ویسی شان و شوکت سے بھر پور تمہاری رخصتی نہیں ہوئی تو اس کے لیے اب کچھ ہو بھی نہیں سکتا تو میں کہہ رہی تھی کہ تمہیں اپنی بہن سے کوئی جلن نہیں ہوتی.”
“نہیں خالہ دلآویز جھومر کی بہن ہے میراں کی بہن تاج نہیں۔ “
تاج نے بظاہر پر سکون سانس لیا۔ جب کہ اندر کی دنیا تہہ و بالا ہو چکی تھی ۔
“کیا مطلب ہے کیا کہنا چاہتی ہو واضح کرو.”
“آپ جانتی ہیں خالا سالہا سال سے آپ اماں سے نہیں ملتیں تو میرا خیال ہے کہ یہ کسی جلن ہی کا نتیجہ ہے۔ “
“بکواس بند کرو تمہاری زبان کھینچ کر تمہارے ہاتھ پر رکھوا دیں گے۔ “
تاج غصے سے تڑخ کر بولی۔
“یہ آپ کی محض خام خیالی ہے ایسا کچھ نہیں ہونے والا”۔
وہ بھی جھومر تھی بھلا ایک میان میں دو تلواریں کیسے رہ سکتی ہیں ۔
“ماتھے پر تاج سجتا ہے یا جھومر ایک وقت میں دو چیزیں تو نہیں سجتی “۔
جھومر سکون سے بولی۔
“جھومر نکلو ابھی نکلو ہمارے کمرے سے جان لے لیں گے ہم تمہاری۔”
تاج نے غصے سے آنکھیں مزید پھیلا تے ہوئے کہا تو جھومر دل ہی دل میں لطف اندوز ہوتی باہر نکل آئی۔
