Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Last Episode)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Last Episode)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
عریشے اس کا سر گود میں رکھ کر چلا رہی تھی مگر کوئی سننے والا ہی نہی تھا وہاں۔
جیسے ہی نوین کو گولی لگی وہ چور وہاں سے بھاگ گیا۔
عریشے کی سوچنے سمجھنے کی ساری حسیں کھو چکی تھیں،اس کی نظریں بس نوین کی بند ہوتی آنکھوں پر تھیں۔
وہ سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا مگر سانس نہی لیا جا رہا تھا اس سے۔
اچانک ریسٹورنٹ سے کچھ لڑکے بھاگتے ہوئے آئے،ایک لڑکے نے جلدی سے اپنی شرٹ اتار کر نوین کے زخم پر باندھ کر خون روکنے کی کوشش کی مگر خون بہت تیزی سے بہہ رہا تھا۔
میم آپ فکر مت کریں ایمبولینس آ رہی ہے۔۔۔۔ایک لڑکا عریشے کو تسلیاں دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر عریشے تو کچھ سن ہی نہی رہی تھی۔
وہ بس نوین کا ہاتھ تھامے اس کا سر گود میں رکھے بے بس سی بیٹھی تھی۔
وہ تو اچھا ہوا ہم نے سی سی ٹی وی پر دیکھ لیا ورنہ پتہ نہی کیا ہو جاتا،ان کی حالت تو بہت خراب ہے اپنے شوہر کی ایسی حالت دیکھ کر بہت بڑا صدمہ لگا ہے ان کو۔
وہ لڑکے اردگرد بڑھتے رش کو بتا رہے تھے۔
ہمارے پاس اس حملے کی ساری ویڈیو ہے پولیس کو بھی کال کر دی ہے بس آتی ہی ہو گی۔
وہ لوگ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایمبولینس آ گئی اور نوین کو ہاسٹل پہنچا دیا گیا۔
سٹرکچر پر بھی عریشے نے اس کا ہاتھ نہی چھوڑا۔
نوین ہوش و حواس سے بیگانہ خون میں لتھ پت پڑا تھا۔
عریشے کی آنکھیں نہ جانے کب سے بھیگ رہی تھیں،ہوش میں تب آئی جب اس کے ہاتھ سے نوین کا ہاتھ چھوٹ گیا۔
نرس نے اسے آپریشن تھیٹر کے باہر انتظار کرنے کو بولا تو بے بسی سے بینچ پر گر سی گئی۔
میم آپ کا بیگ۔۔۔۔ریسٹورنٹ کے ایک ملازم لڑکے نے اس کا بیگ اس کی طرف بڑھایا تو اس نے جلدی سے بیگ کھول کر اپنا موبائل باہر نکالا اور شہلا بیگم کو کال کی۔
عریشے کیسی ہو میری جان؟
آج کیسے یاد آ گئی دادو کی؟
وہ مصروف سے انداز میں بول رہی تھیں۔
دادو۔۔۔۔کچھ ٹھیک نہی ہے۔
عریشے کے رونے کی آواز سنی تو وہ سارے کام چھوڑ کر اس کی طرف ہوئیں۔
کیا ہوا عریشے تم رو کیوں رہی ہو؟
دادو نوین کو گولی لگی ہے آپ جلدی ہاسپٹل آ جائیں پلیز۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
عریشے کے جواب پر شہلا بیگم گرتے گرتے بچیں اگر وہ کرسی کا سہارا نہ لیتی تو گر جاتیں۔
ڈونٹ وری،میں آ رہی ہوں تم خود کو سنبھالو بیٹا،وہ بہ مشکل اتنا ہی بول سکیں۔
کچھ نہی ہو گا نوین کو،تم مجھے یہ بتاو کس ہاسپٹل میں ہو؟
دادو مجھے نہی پتہ ہم کس ہاسپٹل میں ہیں آپ بس آ جائیں،عریشے بری طرح رو رہی تھی۔
عریشے میری جان!
ہمت سے کام لو بیٹا۔۔۔۔ایسا کرو پاس کوئی ہے تو اسے فون دو۔
وہ لڑکا ابھی تک وہی کھڑا تھا عریشے نے اس کی طرف فون بڑھایا تو اس نے کان سے لگا لیا اور شہلا بیگم کو ہاسپٹل کا ایڈرس دے کر فون عریشے کو واپس دے دیا اور وہی قریبی بینچ پر بیٹھ گیا۔
_________________________________________
باس ایک غلطی ہو گئی ہے!
وہی نقاب پوش چور ایک خفیہ جگہ پر آیا اپنے باس سے ملنے۔
کیا غلطی ہو گئی ہے؟
کبھی کوئی کام ٹھیک سے ہوا ہے تم لوگوں سے؟
اب بکو بھی کیا ہوا ہے؟
وہ شخص انتہائی غصے میں تھا۔
باس وہ لڑکی!
وہ پھر سے چپ ہو گیا۔
کیا وہ لڑکی۔۔۔۔۔؟
پوری بات بتاو ورنہ دفع ہو جاو یہاں سے پہلے ہی بہت پریشانی ہے۔
باس وہ گولی تو میں نے لڑکی پر ہی چلائی تھی مگر پتہ نہی کیسے وہ لڑکا اچانک سامنے آ گیا اور گولی اسے لگ گئی۔
اس کی حالت بہت خراب لگ رہی تھی مجھے بچا لیں باس۔۔۔۔۔وہ التجا کر رہا تھا۔
کیا بکواس کر رہے ہو؟
جانتے بھی ہو وہ لڑلا کون تھا اس لڑکی کے ساتھ؟
نہی۔۔۔۔اس نقاب پوش نے سر نفی میں ہلایا۔
ارے بے وقوف وہ شاہ صاحب کا اکلوتا وارث تھا نوین شاہ۔
واٹ لگا دے گا وہ ہماری اگر اس کے بیٹے کو کچھ ہوا۔
بہت بڑی غلطی کر دی تو نے۔۔۔۔۔۔وہ اپنا ماتھا پیٹتے ہوِئے بولا۔
اس لڑکی کو مارنے کے پیسے دئیے تھے شاہ صاحب نے اپنے بیٹے کو مروانے کے نہی۔
کمبخت یہ کیا کر ڈالا تو نے؟
نکل جا یہاں سے۔۔۔۔۔
انڈر گراونڈ ہو جا ورنہ پولیس کے ہتھے چڑ جائے گا۔
خود بھی مرے گا ساتھ مجھے بھی پھنسائے گا۔
دفع ہو جا اپنی گندی صورت لے جا یہاں اور جب تک اس لڑکے کی طبیعت نہی سنبھلتی واپس مت آنا۔
اگر وہ مر گیا ناں تو ہم کہی کہ نہی رہیں گے۔
وہ نقاب پوش سر ہلاتے ہوئے وہاں سے چل دیا اور وہ آدمی شاہ صاحب کا نمبر ڈائل کرنے لگ گیا۔
شاہ صاحب کتاب پڑھنے میں مصروف تھے جب سکرین پر جگمگاتے نمبر پر نظر پڑی تو مسکرا دیے۔۔۔۔۔
ہو گیا کام اس لڑکی کا!
بڑی آئی مجھ سے میرے بیٹے کو چھیننے والی،سمجھ رہی تھی کہ اتنی آسانی سے میرے بیٹے کو مجھ سے دور لے جائے گی۔
مگر شاید وہ بھول چکی تھی کہ میں کون ہوں!
شاہزیب شاہ۔۔۔۔جس نے آج تک نہ کوئی بازی ہاری ہے اور نہ ہی ہارے گا۔
وہ ٹانگ پر ٹانگ جمائے کتاب پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔
کچھ ہی دیر بعد سکرین پر شہلا بیگم کا نمبر جگمگانے لگا۔
ماں کا نمبر دیکھ کر انہوں ایک زور دار قہقہ لگایا۔
چچچچچ۔۔۔۔۔بہت افسوس ہو گا مجھے اپنی بہو کی موت کا اماں جان۔
مگر افسوس میں اس کے مرنے تک بھی اسے اپنے بیٹے کی بیوی تسلیم نہی کروں گا۔
کچھ دن کا رونا دھونا ہو گا اور پھر آہستہ آہستہ نوین اس لڑکی کو بھول جائے گا اور میرے پاس واپس آ جائے گا۔
اپنے ڈیڈ کے پاس!
آج کی رات تو جشن کی رات ہے میری زندگی کا سب سے بڑا کانٹا نکل گیا۔
وہ اپنی ہی خوشی میں مگن تھے اس بات سے انجان کہ جس بیٹے کو واپس لانے کے لیے وہ اتنے جتن کر رہے ہیں ان کا وہی بیٹا زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
“قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مگر جب یہ حرکت میں آتی ہے تو طوفان لاتی ہے،،
شاہ اپنی دولت کے نشے میں چور اپنے ہاتھوں اپنے ہی بیٹے کی خوشیاں اجاڑنا چاہتے تھے مگر ان کی اپنی خوشیاں داو پر لگ چکی تھیں اور سب سے افسوس اس بات کا ان کو احساس تک نہی ہو سکا اپنی بربادی کا۔
شہلا بیگم ہاسپٹل پہنچی تو عریشے ان سے لپک کر آنسو بہانے لگی۔
انہوں بہ مشکل عریشے کو خود سے الگ کیا اور پانی پلایا۔
کیسے ہوا یہ سب؟
میم میں بتاتا ہوں آپ کو۔۔۔۔وہ لڑکا تب سے وہی تھا۔
جب یہ لوگ کھانا کھا کر ریسٹورنٹ سے باہر نکلے تو اس آدمی نے ان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں سر نے ہاتھا پائی کی اور اس نے گولی چلا دی۔
ہمیں سی سی ٹی وی روم سے جیسے ہی اطلاع ملی ہم لوگ جلدی سے باہر کی طرف دوڑے۔
بلڈ روکنے کی کوشش کی مگر بہت بہہ چکا تھا۔
جیسے ہی ایمبولینس آئی ان کو ہاسپٹل شفٹ کر دیا گیا۔
Thank you so much dear..
آپ سب نے بہت مدد کی میرے بچوں کی اگر آپ لوگ وقت پر نہ پہنچتے تو نا جانے کیا ہو جاتا۔
NO mam.
شکریہ کی کوئی ضرورت نہی ہے۔۔۔آپ بے فکر رہیں جب تک آپ کے گھر سے کوئی مرد نہ آ جائے میں یہی ہوں۔
کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھ سے کہہ سکتی ہیں۔
Sure۔.
وہ واپس عریشے کے پاس بیٹھ گئیں۔
عریشے حوصلہ رکھو بیٹا۔۔۔۔نوین ٹھیک ہو جائے گا جلدی انشا اللہ۔
اگر تم ہمت ہار جاو گی تو مجھے کون سنبھالے گا؟
تم بیٹھو یہاں میں زرا گھر کال کر لوں۔
بیٹے کی حالت اتنی خراب ہے اور باپ کال ہی رسیو نہی کر رہا۔
وہ پھر سے بیٹے کا نمبر ڈائل کرنے لگیں مگر انہوں نے کال رسیو نہی کی۔
پھر انہوں نے نوین کی ماما کا نمبر ڈائل کیا جو انہوں نے فوراً رسیو کر لی کال۔
اماں جان اس وقت کال کی آپ نے سب خیریت ہے ناں؟
خیریت ہی ہے تم بتاو اب تک جاگ رہی ہو؟
جی اماں جان پتہ نہی کیوں نیند نہی عجییب سی بے چینی لگی ہے۔
پتہ نہی کیوں دل بہت گھبرا رہا ہے میرا۔۔۔۔۔
شہلا بیگم گہری سانس بھر کر رہ گئیں۔
جب اولاد سکون میں نہ ہو تو ماں کو کیسے چین کی نیند آ سکتی ہے۔
کیا مطلب اماں جان سب ٹھیک ہے ناں؟
نہی۔۔۔۔کچھ ٹھیک نہی ہے بیٹا بہت ہمت سے میری بات سنو۔
نوین ہاسپٹل میں ہے اس کی حالت بہت سیریس ہے۔شاہزیب کو کب سے کال کر رہی ہوں مگر وہ رسیو ہی نہی کر رہا۔
کیا ہوا نوین کو؟
اماں جان وہ ہاسپٹل میں کیوں ہے؟
مسز شاہ تڑپ کر رہ گئیں بیٹے کی حالت کا سن کر۔
گولی لگی ہے اسے۔۔۔۔خون بہت بہہ چکا ہے میں خود ہمت ہار رہی ہوں۔
تم لوگ جلدی سے آ جاو ہاسپٹل۔
ایڈریس بھیجتی ہوں۔
مسز شاہ جلدی سے سٹڈی روم کی طرف بڑھیں۔
شاہ صاحب ہمیں ہاسپٹل جانا ہو گا ہم پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔
وہ ابھی تک کتاب پڑھنے میں مصروف تھے ان کو عجلت میں اندر آتے دیکھ کر چشمہ اتار کر سائیڈ پر رکھا اور مسکرا دیے۔
میں ہرگز نہی جاوں گا اس لڑکی کی میت پر!
وہ بنا سوچے سمجھے بول گئے۔
کس لڑکی کی میت پر؟
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں شاہ صاحب؟
نوین ہاسپٹل میں ہے،گولی لگی ہے ہمارے بیٹے کو۔
انہوں نے شاہ صاحب کی سماعتوں پر جیسے بم پھوڑا۔
کیا کہہ رہی ہو تم؟
تمہارا دماغ تو ٹھکانے پر ہے؟
میں سچ کہہ رہی ہوں شاہ صاحب،اماں جان کی کال آئی ہے وہ بھی ہاسپٹل میں ہیں۔
شاہ صاحب پر تو جیسے صدمہ طاری ہو گیا ہو،وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکے۔
اماں جان کب سے آپ کو فون کر رہی تھیں مگر آپ کال رسیو نہی کر رہے تھے۔
فون کے نام پر انہوں نے جلدی سے اپنا فون اٹھایا جس پر شہلا بیگم کی بیس کالز آئی ہوئی تھیں۔
وہ جو خوشی عریشے کی بربادی سمجھ کر منا رہے دراصل وہ ان کی اپنی بربادی تھی۔
وہ تیزی سے باہر کی طرف دوڑے.
ہاسپٹل پہنچے تو عریشے کو سامنے دیکھ سر چکرا کر رہ گیا۔
ڈاکٹرز کہاں ہیں سب؟
کہاں ہے نوین۔۔۔۔؟
وہ بے چینی سے آگے بڑھے۔
آپریٹ کے لیے لے کر گئے ہیں اسے۔۔۔۔اس وقت نوین کو ہماری دعاوں کی ضرورت ہے۔
میں تو تڑپ رہی اپنے لختِ جگر کی حالت دیکھ کر پتہ نہی کس غلطی کی سزا ملے ہے میرے بیٹے کو شہلا بیگم آنسو بہاتے ہوئے بول رہی تھیں۔
میرے بیٹے کو کچھ نہی ہونا چاہیے ڈاکٹر،پیسوں کی فکر مت کرنا آپ۔ایمرجنسی وارڈ سے باہر آتے دیکھ وہ جلدی سے ان کی طرف بڑھے۔
زندگی موت تو اللہ کی مرضی ہے۔ہم تو بس کوشش کر سکتے ہیں۔
وہ خود بہت بے بس محسوس کر رہے تھے۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو؟
غصے سے عریشے کی طرف بڑھے۔
میرے بیٹے کی اس حالت کی زمہ دار تم ہو۔
نوین کی جگہ تمہیں ہونا چاہیے تھا،کاش وہ گولی تمہیں لگ جاتی۔
کیا کہہ رہے ہو تم شاہزیب؟
اس میں عریشے کی کیا غلطی ہے؟
یہ بیچاری تو بے قصور ہے،نوین کی حالت سے خود پریشان ہے۔
یہ وقت ان سب باتوں کا نہی ہے نوین کو ہماری دعاوں کی ضرورت ہے۔
شہلا بیگم غصے سے بولیں تو وہ چپ چاپ دور پڑے بینچ پر سر تھامے بیٹھ گئے۔
مسز شاہ بھی ان کے ساتھ چلی گئیں۔
یہ کیا کہا ابھی آپ نے نوین کی جگہ عریشے کو ہونا چاہیے تھا؟
میں اس لڑکی کی میت پر نہی جاوں گا!
کیا مطلب سمجھوں میں ان سب باتوں کا؟
کیا مطلب؟
انہوں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا۔
مطلب یہ شاہ صاحب کہ آپ نے عریشے کو مارنے کی پلاننگ کی تھی مگر وہ گولی عریشے کی بجائے نوین کو لگ گئی۔
آپ نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے بیٹے کو اس حال میں پہنچا دیا۔
ایسا کچھ نہی ہے تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
کاش کہ یہ غلط فہمی ہوتی شاہ صاحب!
مگر یہ غلط فہمی نہی سچ ہے۔۔۔۔۔میں آپ کو کبھی معاف نہی کروں گا۔
ایک بار نوین کی طبیعت ٹھیک ہو جائے تو میں اسی کے ساتھ رہوں گی اس کے گھر،میں اپنے بیٹے سے مزید دور نہی رہ سکتی۔
وہ آنسو بہاتی ہوئیں عریشے کا پاس جا کر بیٹھ گئیں۔
آپ کے پیشنٹ کو O+ بلڈ کی فوری ضرورت ہے۔
آپ لوگ جلدی ارینج کریں۔
O+ تو ہم میں سے کسی کا نہی ہے۔۔شاہ صاحب پریشانی میں بولے۔
میرا O+ ہے میں چلتی ہوں۔
عریشے یاد آنے پر جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
دیکھ لیں ویسے مجھے تو آپ کافی کمزور لگ رہی ہیں۔
آپ فکر مت کریں مجھے کچھ نہی ہو گا بس نوین کو کچھ نہی ہونے چاہیے چاہے میرے خون کا آخری قطرہ تک لگ جائے۔
ہرگز نہی تم میرے بیٹے کو خون نہی دو گی،ایک نوکرانی کا احسان نہی لینا چاہتا میں۔
بس۔۔۔۔عریشے غصے سے ان کی طرف پلٹی۔
میرے صبر کا مزید امتحان مت لیں آپ،نوین میرے شوہر ہیں اور میرا فرض ہے کہ آخری سانس تک ان کی خدمت کروں۔
میاں بیوی کے درمیان آنے کی کوشش مت کیجیئے گا آپ ورنہ میں بھول جاوں گی کہ آپ میرے شوہر کے باپ ہیں۔
شاہ صاحب عریشے کے جواب پر ہکا بکا رہ گئے۔
چلیں آپ۔۔۔وہ نرس کو ساتھ لیے وہاں سے چل دی۔
اماں جان دیکھا آپ نے کتنی زبان دراز ہے یہ لڑکی اور آپ چاہتی ہیں کہ میں اسے قبول کر لوں؟
تو اس نے کچھ غلط بھی تو نہی کہا اس کا بھی حق ہے نوین پر اور وہ جو کچھ بھی کر رہی ہے اسی کے لیے کر رہی تھی۔
تم نفرت کی پٹی اتار کر دیکھو تو نظر آئے تمہیں اس کی نوین کے لیے محبت۔
خود ہی سوچو اس وقت خون کا انتظام کہاں سے ہوتا؟
بس کر دو اب خدا کا واسطہ ہے۔
معاف کر دو بیٹے کو اور اپنا لو اپنی بہو کو۔
یہ وقت دعا کرنے کا جبکہ تم پرانے اختلافات لیے بیٹھے ہو۔
وہ چپ چاپ اپنی سیٹ پر واپس چلے گئے اور خون کے لیے مختلف کالز کرنے لگے مگر کسی نے کال رسیو ہی نہی کی۔
فجر کی اذان کی آواز آئی تو نماز پڑھنے چل دئیے۔
رو رو کر بیٹے کی سلامتی کی دعائیں مانگیں۔
واپس آئے تو آپریشن کامیاب ہونے کی خبر ملی۔
وہ تو شکر ہے خدا کا کہ گولی دل پر نہی لگی ورنہ آپ کے بیٹے کا بچنا مشکل تھا۔
کچھ دیر بعد ہوش آ جائے گا مگر ابھی دو دن تک ان کو ایمرجنسی میں ہی رکھا جائے گا۔
جیسے ہی طبیعت سنبھل جائے گی تو دوسری وارڈ میں شفٹ کر دیں گے۔
ڈاکٹر صاحب عریشے کیسی ہے؟
شہلا بیگم نے عریشے کا پوچھا۔
ٹھیک ہے وہ،گلوکاز لگایا ہے اسے ،بہت کمزور ہو گئی ہے۔
بہت بہادر لڑکی ہے اگر بلڈ ارینجمنٹ میں دیر ہو جاتی تو ہم کچھ نہ کر پاتے۔
اس لڑکی نے بہت ہمت دکھائی ہے ورنہ موسٹلی گرلز بلڈ ڈونیٹ نہی کر سکتیں۔
Excuse me!
وہ ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھ گئے۔
دیکھا تم نے؟
اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر تمہارے بیٹے کی جان بچائی ہے لیکن تم پھر بھی اسی کو غلط سمجھتے ہو۔
بس کر دو اب،ختم کر دو یہ نفرت۔
چند گھنٹوں بعد نوین کو ہوش آیا تو سب سے پہلے شہلا بیگم اس سے ملنے گئیں پھر مسز شاہ اور پھر لائبہ۔۔۔۔شاہ صاحب نے راحم کو کال کر کے بتایا تو وہ لائبہ کو ساتھ لے آیا اور باقی سب کو بھی۔
سب کا رو رو کر برا حال تھا نوین کو اس حالت میں دیکھ کر سب صدمے میں تھے۔
شاہ صاحب ہمت نہی کر پا رہے تھے نوین کا سامنا کرنے کی۔
عریشے ان کے پاس آئی۔
I am sorry uncle.
میں کچھ زیادہ ہی بول گئی۔مجھے نوین کے لیے جو ٹھیک لگا میں نے کیا۔
آپ پلیز ان کو معاف کر دیں انہوں نے محھ سے نکاح اپنی مرضی سے نہی کیا۔
وہ تو حالات ہی کچھ ایسے ہوئے کہ ہمیں زبردستی یہ نکاح کروایا گیا۔
میں نوین سے بہت بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلے جائیں مگر وہ مانتے ہی نہی ہیں۔
لیکن آپ فکر مت کریں میں بس چند دن مزید ہوں یہاں۔
جیسے ہی ان کی طبیعت بہتر ہو گی میں ان کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے چلی جاوں گی۔
سارا انتظام ہو چکا ہے آپ بس نوین کو معاف کر دیں۔جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔
وہ شاہ صاحب کو حیران و پریشان چھوڑے وہاں سے چل دی۔
آخر کار وہ ہمت کرتے ہوئے نوین ملنے چل دئیے۔
نوین پٹیوں میں جکڑا آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا شاہ صاحب آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے بیٹے کی طرف بڑھے۔
اپنے لختِ جگر کو اس حال میں دیکھنا ان کے لیے کسی آزمائیش سے کم نہی تھا۔
وہ آگے بڑھے اور اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔
نوین نے آنکھیں کھولی تو باپ کو سامنے دیکھ کر چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی،آنکھیں خوشی سے بھیگنے لگیں۔
ڈیڈ۔۔۔۔۔اس نے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی مگر نہی اٹھ سکا۔
نہی تم لیٹے رہو آرام سے۔۔۔۔۔انہوں نے آگے بڑھ کر اسے بیٹھنے سے روکا۔
نوین کے ماتھے پر پیار کیا اور اس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا۔
I am sorry…..
تمہیں خود سے دور کیا بہت بڑی غلطی ہو گئی مجھ سے۔
No dad
معافِی تو مجھے مانگنی چاہیے آپ سے۔
مگر مجبور تھا,میں عریشے کو نہی چھوڑ سکتا تھا۔
میرے سوا اس کا کوئی نہی ہے اس دنیا میں,اگر میں بھی اسے چھوڑ دیتا تو وہ اکیلی رہ جاتی۔
عریشے کے ذکر پر شاہ صاحب کے دل عجیب سی جلن ہوئی کہ ان کے بیٹے کو اس حال میں بھی بس اسی کی فکر ہے۔
چھوڑو ان سب باتوں کو ابھی تمہیں آرام کی ضرورت ہے بیٹا۔
جیسا تم چاہو گے ویسا ہی ہو گا۔
مجھے تمہاری خوشی عزیز ہے بس اور کچھ نہی چاہیے۔
تم دونوں کا رشتہ منظور ہے مجھے۔
really dad?
نوین کے چہرے سے خوشی جھلکنے لگی۔
ہاں۔۔۔۔وہ سر ہلا کر مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔
تم آرام کرو۔
باہر جاتے ہی ان کے چہرے کی مسکراہٹ پل بھر میں غائب ہوئی۔
ان کے دماغ میں کچھ الگ ہی کھیل چل رہا تھا وہ کھیل کہ جس سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
کیونکہ عریشے خود ہی ان کے راستے سے ہٹنے والی تھی تو انہیں اب کچھ کرنے کی ضرورت نہی تھی۔
عریشے کے کپڑے سارے خراب ہو چکے تھے نوین کے خون کی وجہ سے اس نے افشاں کو کال کی اور گھر سے اپنا ڈریس منگوایا اور چینج کرنے کے بعد نوین سے ملنے گئی۔
اسے کمرے میں آتے دیکھ نوین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
عریشے چپ چاپ اس کے پاس جا رکی اور بہت کوشش کے باوجود آنکھوں سے بہتے آنسو نہ روک سکی۔
نوین نے اس کا ہاتھ تھام لیا،عریشے میں ٹھیک ہوں۔
رونا بند کر دو پلیز۔
تم جانتی ہو ناں میں تمہیں روتے ہوئے نہی دیکھ سکتا۔
وہ آنسو پونچھ کر مسکرا دی۔
یہی رہو میرے پاس نوین نے اسے اپنے پاس بٹھا دیا اور اس کا ہاتھ تھام کر سینے پر رکھ لیا۔
جب تک تم میرے ساتھ ہوتی ہو تو یہ دھڑکن چلتی رہتی ہے لیکن جب تم پاس نہی ہوتی تو یہ بے قرار ہو جاتی ہے۔
آپ کو کیا ضرورت تھی اس پر ہاتھ اٹھانے کی نہ آپ اسے مارتے نہ یہ سب ہوتا۔
اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں چھونے کی،میں اس کی جان لے لیتا اگر بے بس نہ ہوتا۔
کبھی کبھی مجھے بہت ڈر لگتا ہے آپ سے کہی آپ کی یہ جنونی محبت کسی کی جان نہ لے لے۔
اس کی بات پر نوین مسکرا دیا اور اس کا چہرہ اپنے قریب لے گیا ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے۔
ایسی ہی ہے میری محبت،شکر ہے تمہیں یقین تو آ گیا کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
میں آپ کے کھانے کے لیے کچھ لاتی ہوں۔میرا مطلب ماما سے کہتی ہوں آپ کے لیے گھر سے کچھ منگوا لیں یا پھر اگر آپ کہیں تو میں خود گھر سے کچھ بنا لاتی ہوں۔
بلکل نہی تم کہی نہی جاو گی،میرے پاس ہی رہو۔
ٹھیک ہے میں کہی نہی جا رہی بس پانچ منٹ میں واپس آ رہی ہوں۔
شام تک نوین کو دوسرے روم میں شفٹ کر دیا گیا۔
عریشے نے ہاسپٹل جانا بند کر دیا اور پورا وقت نوین کے ساتھ رہی۔
اس کا اچھی طرح خیال رکھا،ہر طرح سے اس کی کئیر کی۔
کھانے سے لے کر کپڑوں تک ہر چیز کا خیال رکھا۔
ایک مہینے بعد اس کا زخم کافی حد تک ٹھیک ہو چکا تھا اور ڈاکٹرز نے اسے ڈسچارج کر دیا تو شاہ صاحب اسے گھر لے آئے۔
نوین کو دوبارہ اپنے گھر دیکھ کر سب خوش تھے،عریشے بھی بہت خوش تھی مگر اب وہ یہاں سے جانے کی تیاری میں تھی۔
نوین اب اپنے گھر تھا اپنی فیملی کے ساتھ،اب وہ پرسکون ہو کر یہاں سے جا سکتی تھی۔
وہ ابھی نوین کے پاس ہی بیٹھی تھی وہ گھر واپس آ کر بہت خوش تھا۔
آپ اب آرام کر لیں پلیز۔۔۔ابھی آپ کی طبیعت پوری طرح ٹھیک نہی ہوئی عریشے آج رات یہاں سے جانے کا سوچ چکی تھی۔
نہی اب میں ٹھیک ہوں وہ اسے قریب کرتے ہوئے بولا۔
تم بھی آرام کرو بہت تھک گئی ہو گی۔
ٹھیک ہے وہ اٹھ کر صوفے کی طرف بڑھنے ہی لگی تھی کہ نوین نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
وہاں نہی میرے پاس یہاں۔
عریشے اس سے جتنا دور جانا چاہ رہی تھی وہ اتنا ہی اسے اپنے قریب لانے کی کوشش کر رہا تھا۔
نہی میں ٹھیک ہوں۔۔اس نے وہاں سے اٹھنے کی کوشش کی مگر نوین نے اس کی ایک نہ سنی اور کمرے کی لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
وہ بھی چپ چاپ دوسری طرف لیٹ گئی۔
عریشے۔۔۔۔نوین نے اسے پکارا۔
جی۔۔۔۔اس نے فوراً جواب دیا۔
میرے پاس آ جاو پلیز۔۔۔۔اس نے عریشے کی طرف اپنا بازو پھیلایا۔
عریشے نے اپنا سر اس کے بازو پر رکھا تو وہ اس نے اپنا چہرہ عریشے کی طرف موڑ لیا اور اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا۔
کچھ کہنا چاہتا ہوں تم سے یا پھر یوں کہہ لو کہ اپنے دل کی بات کہنا چاہتا ہوں۔
اس رات جب میں نے تمہیں تھپڑ مارا تھا بچپن میں،جب میری سالگرہ تھی۔
عریشے نے چونک کر اس کی طرف دیکھا وہ بہت حیران ہوئی اس رات کے ذکر پر۔
اس رات تمہاری آنکھوں سے بہتے آنسو مجھے اب تک یاد ہیں یا پھر یوں کہو کہ میں وہ بھلا ہی نہی سکا۔
بچپن سے لے کر ہر رات میں اس کرب سے گزرتا تھا وہ کرب جس سے تم گزری تھی۔
تمہارے وہ آنسو مجھے ساری رات نہی سونے دیتے تھے۔
یہ پچھتاوا تھا اس رات کا جو ہر رات تھوڑا تھوڑا بڑھتا چلا گیا۔
میں چاہ کر بھی کچھ نہی کر سکتا تھا،پچھتاوے کی آگ میں جھلسنا میری عادت بن چکی تھی۔
یہاں تک مجھے سلیپنگ ٹیبلیٹس کا سہارا لینا پڑتا۔
عجیب عجیب سے خواب آتے،جس میں ایک لڑکی ہوتی میں اس کے پاس پہنچنے کی جتنی بھی کوشش کرتا وہ مجھ سے اتنی ہی دور چلی جاتی۔
سفید کپڑے پہنے،گہرے صحرا میں وہ ایسے گُم ہو جاتی جیسے “چاند چھپا بادل میں”
میں اس کی تلاش میں مارا مارا پھرتا مگر مجھے وہ نہی ملتی تھی ایک اور بات اس کا چہرہ بہت دھندلا سا رہتا تھا میں اس کا چہرہ کبھی نہی دیکھ سکا۔
پھر تم آئی میری زندگی میں عبیرہ بن کر اور آہستہ آہستہ وہ خواب آنا بند ہو گئے۔
مجھے نہی پتہ کب،کیسے مجھے تم سے محبت ہو گئی۔
پتہ نہی کیوں میرا دل تمہاری جانب کھیچتا تھا۔یہ کیسا احساس تھا مجھے سمجھ نہی آتا تھا۔
پھر جب تم ہاسپٹل میں تھی اور تم نے طلحہ کا پرپوزل ایکسیپٹ کیا تو مجھے لگا سب ختم ہو گیا۔
میں نے ڈیڈ سے شادی کے لیے ہاں کہہ دی۔
میری انگیجمنٹ میری کزن علینہ سے ہو گئی مگر اس رات میرے سامنے ایک نیا راز کھلا۔
اس رات اگر لائبہ مجھے یہ نہ بتاتی کہ تم عبیرہ نہی عریشے ہو تو شاید ہم ساتھ نہ ہوتے آج۔
میں وہاں تم سے معافی مانگنے آیا تھا اپنی اس غلطی پر جس کا پچھتاوا مجھے آج بھی ہے اگر تم مجھے معاف کر دیتی تو تم سے اپنی محبت کا اظہار کرتا مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
ہمارا نکاح ہو گیا۔۔۔۔۔
تم مجھ سے بہت بدگمان ہو چکی تھی اور یہ سمجھ رہی تھی کہ یہ سب میں نے پلان کیا ہے مگر میں تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاتا ہوں کہ ایسا کچھ نہی تھا۔
اگر اس دن میں تم سے نکاح نہ کرتا تو ہم دونوں کو پولیس کے حوالے کر دیا جاتا اور تمہاری فیملی کو گھر سے بے دخل کر دیا جاتا،خود ہی سوچو کیا بنتا ان سب کا۔
میں نے جو کچھ بھی کیا تمہاری خاطر کیا۔
تم ہی بتاو اگر میں ایسا نہ کرتا تو کیا ہو سکتا تھا۔
تم مجھ سے بدگمان تھی اسی لیے چھوڑنے کی باتیں کرتی تھی مگر میں کسی بھی حال میں تمہیں اکیلا نہی چھوڑ سکتا تھا۔
i am sorry…..
عریشے کی بھیگی سی آواز نوین کے کانوں میں پڑی تو اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے آنسو صاف کیے اور سر نفی میں ہلایا۔
میں نے آپ پر یقین نہی کیا میں غلط تھی،آپ کی محبت پر اسی دن یقین آ گیا تھا جب آپ نے سب کو چھوڑ کر مجھے چُنا۔
میری خاطر سب کو چھوڑ دیا۔
پرواہ کی تو صرف میری۔۔۔۔۔
چھوڑ دو ساری باتیں اب رونا بند کرو اور سو جاو کیونکہ میں تمہارے آنسو افورڈ نہی کر سکتا۔
اس کی بات پر عریشے مسکرا دی اور اس کے سینے میں سر چھپائے ان لمحوں کو محسوس کرنے لگی کیونکہ یہی لمحے اسے زندگی گزارنے میں سہارا دینے والے تھے۔
آج وہ یہاں سے جانے والی تھی کہی دور۔
نوین نے اس کے ماتھے پر ہونٹ رکھ دیے اور خود میں سکون اترتا محسوس کرنے لگا۔
“پھر سے وہی صحرا۔۔۔۔۔نوین نے آج پھر خود کو اس صحرا میں تنہا پایا۔
پھر اچانک اسے وہ پھر سے دکھائی دی سفید پوشاک پہنے وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی۔
آج بھی اس کا چہرہ دھندلا تھا بلکل ایسے جیسے چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر دھندلا جاتا ہے۔
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا اس کی طرف بڑھا ابھی اس سے چند قدم دور تھا کہ اس کے چہرے کی دھندلاہٹ ختم ہوتی چلی گئی اور نوین حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس پہنچتا اس وہ مسکراتے ہوئے غائب ہو گئی اور نوین چلاتے ہوئے اٹھ بیٹھا۔
عریشے۔۔۔۔۔۔نہی تم نہی جا سکتی مجھے چھوڑ کر۔
وہ عریشے تھی۔
جب اس نے لائٹ آن کی تو عریشے بیڈ پر نہی تھی۔
واش،روم سٹڈی روم پورے کمرے میں دیکھا مگر وہ نہی تھی۔
صبح کی ہلکی ہلکی سی روشنی ہر طرف پھیل رہی تھی۔
کہاں جا رہی ہو تم؟
شاہ صاحب کی گرجدار آواز پر عریشے کے گیٹ کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔
وہ واپس پلٹی تو سامنے نوین کے بابا تھے۔
انکل میں نے آپ سے جو وعدہ کیا تھا وہی پورا کرنے جا رہی ہوں۔
نوین کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے جا رہی ہوں۔
اب آپ سب ان کے ساتھ ہیں تو فکر کی کوئی بات نہی آپ جیسے چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔
شاہ صاحب دونوں بازو سینے پر فولڈ کیے عریشے کی بات سننے لگے۔
اگر میں کہوں تم یہاں سے نہی جا سکتی تو؟
جی۔۔۔عریشے حیرانگی سے انہیں دیکھنے لگی۔
جی۔۔۔۔اب تم یہاں سے کہی نہی جا سکتی،یہی رہو گی اسی گھر میں میری بیٹی بن کر۔
عریشے کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو شاہ صاحب کے منہ سے لفظ بیٹی سن کر اسے اپنے کانوں پر یقین نہی آ رہا تھا۔
انہوں نے عریشے کے سر پر ہاتھ رکھا اور مسکرا دیے۔
کیا تم مجھے ڈیڈ کہنا پسند کرو گی؟
میں نے بہت برا سلوک کیا تمہارے ساتھ مگر تم نے اپنے اچھے اخلاق سے اپنی اچھی تربیت کا ثبوت دیا۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا بیٹا،وہ شرمندگی سے سر جھکائے بولے۔
عریشے نے سر نفی میں ہلا دیا۔
نوین کے لیے تمہاری فکر اور اس کی آنکھوں میں تمہاری محبت دیکھ کر مجھے اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا۔
میں نہی چاہتا کہ پھر سے اپنے بیٹے کو تڑپتا ہوا دیکھوں۔
اب میں تم دونوں کو ایک ساتھ خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔
نوین کی طبیعت پوری طرح ٹھیک ہو جائے تو دھوم دھام سے تم دونوں کی شادی کے فنکشنز ارینج کروں گا۔
اب جاو اپنے کمرے میں،کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا۔
نوین جیسے ہی باہر آیا سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
شاہ صاحب عریشے کے سر پر ہاتھ رکھے مسکرا رہے تھے۔
نوین کو آتے دیکھا تو مسکرا دئیے۔
GOOD morning
گڈ مارننگ ڈیڈ۔
عریشے تم صبح صبح کہاں جا رہی تھی عریشے کے ہاتھ میں بیگ دیکھا تو وہ حیرانگی سے بولا۔
وہ میں فلیٹ پر جا رہی تھی اپنی کچھ چیزیں لانی تھیں۔
تو مجھ سے کہہ دیتی میں تو پریشان ہو گیا تھا تمہیں کمرے میں نہ دیکھ کر۔
عریشے بیٹا نوین سہی کہہ رہا ہے تم اس کے ساتھ جانا ایسے اکیلے جانا ٹھیک نہی ہے اور گاڑی پر جانا ہے کہی بھی جانا ہو۔
یہ سب کچھ تمہارا ہی ہے جیسے دل چاہے استعمال کرو بلکہ اب تم ڈرائیونگ بھی سیکھ لو کام آئے گی وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے نوین کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اندر چلے گئے۔
شاہ صاحب کے عریشے کے ساتھ رویے پر نوین حیران رہ گیا اور ناراضگی سے اندر کی طرف بڑھ گیا عریشے بھی اس کے ساتھ چل دی۔
ڈاکٹر نوین میری بات تو سنیں۔۔۔۔وہ اب بھی اسے ڈاکٹر نوین کہہ کر ہی مخاطب کرتی تھی۔
نوین ناراضگی سے بیڈ پر بیٹھ گیا۔
I am sorry.
آئیندہ ایسی غلطی نہی ہو گی۔
نوین وہاں سے اٹھ کر کھڑی کے پاس جا رکا۔
عریشے مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور سر اس کے سینے پر رکھے آنسو بہانے لگی۔
بس یہی تھی نوین کی کمزوری,اس نے عریشے کے گرد بازو پھیلا دیے۔
پتہ ہے میں کتنا ڈر گیا تھا،ایسے لگا جیسے تم مجھے چھوڑ کر جا رہی ہو اور خواب میں بھی تم مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔
ہمیشہ میرے ساتھ رہنا میری پرچھائی بن کر،خواب میں بھی تمہاری دوری برداشت نہی کر سکتا میں۔
وعدہ کرتی ہوں ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی۔۔
________________________________________
غریبی یا امیری اپنا اپنا نصیب ہوتی ہے مگر کسی امیر کو یہ حق نہی کہ غریب کی غربت کا مزاق بنائے۔وقت بدلتے دیر نہی لگتی۔
اِک تیری چاہت ہے
اِک میری چاہت ہے
میں تھکا دوں گا تجھے اس میں جو تیری چاہت ہے۔
پھر ہو گا وہی جو میری چاہت ہے۔
