Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 07)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

نوین غصے سے اپنے کمرے میں آ گیا۔جیسے کی اس کی نظر ٹیبل پر پڑے گلاب کے سرخ پھولوں کے گلدستے پر پڑی۔اس کا غصہ تھوڑا کم ہوا۔

آگے بڑھ کر گلدستہ اٹھا لیا۔اس کے ساتھ ہی ایک ویلکم کارڈ پڑا ہوا تھا۔

نوین نے گلدستہ واپس رکھ کر کارڈ اٹھا کر کھولا تو سامنے بڑے بڑے الفاظ میں “ویلکم ٹو دی ہاسپٹل ڈاکٹر نوین شاہ،سیکنڈ ڈے مبارک ہو۔

نوین کی حیرت کی انتہا نا رہی۔

آخر کون بھیج سکتا ہے یہ؟

کارڈ پر بھیجنے والے کا نام لکھا ہی نہی تھا۔

یہ جو کوئی بھی ہے مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔

میرے گھر اور ہاسپٹل،یہاں تک کہ میرے کمرے کا پتہ بھی جانتا ہے۔

ایسا کون ہو سکتا ہے؟

وہ کرسی پر بیٹھ کر کہنی میز پر ٹکائے بالوں میں ہاتھ رکھے سوچنے میں گُم ہو گیا۔

پھر رات والی لاکٹ والی بات یاد آنے پر پھر سے غصے میں آ گیا۔

“گو ٹو دی ہیل!

غصے سے گلدستہ اٹھا کر باسکٹ کی طرف اچھالا۔

تب ہی ڈاکٹر عبیرہ نے دروازہ ناک کیا۔

کم اِن!

نوین بنا دیکھے بولا۔

اتنا بھی کیا غصہ ڈاکٹر نوین؟

آخر ان معصوم پھولوں کا کیا قصور ہے،جو انہیں اس قدر بے دردی سے اٹھا کر پھینکا ہے آپ نے؟

ڈاکٹر عبیرہ کی آواز پر نوین چونکا،اسے اپنا ڈاکٹر عبیرہ سے کچھ دیر پہلے والا رویہ یاد آیا۔

سر ندامت سے جھکا لیا۔

آئی ایم سوری ڈاکٹر عبیرہ!

سوری کس لیے؟

عبیرہ بکھرے ہوئے پھول پھر سے ایک ساتھ باندھتے ہوئے چہرے پر مسکرایٹ سجائے بولی۔

نوین حیرت سے عبیرہ کی طرف دیکھنے لگا،اتنا اچھا رویہ”

جیسا رویہ میں نے کچھ دیر پہلے ڈاکٹر عبیرہ کے ساتھ اختیار کیا،اگر کسی اور کے ساتھ ایسا کیا ہوتا تو شاید وہ دوبارہ مجھ سے بات کرنا پسند نہی کرتا۔

لیکن ڈاکٹر عبیرہ بہت الگ ہیں۔

بہت اچھے اور نرم دل کی مالک ہیں۔

نوین نے سچے دل سے عبیرہ کی رویے کو سراہا۔

ابھی کچھ دیر پہلے میں آپ کو نظر انداز کیا تھا،کیا آپ کو برا نہی لگا؟

کب۔۔۔۔مجھے تو یاد بھی!

عبیرہ مسکراتے ہوئے بولی۔

نوین بھی مسکرا دیا۔

مطلب آپ دل میں باتیں رکھنے والوں میں سے نہی ہیں۔بہت صاف دل ہے آپ کا۔

دوسروں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا جانتی ہیں آپ!

نوین کی بات پر عبیرہ مسکرا دی۔

نہی ڈاکٹر نوین میں اتنی بھی اچھی نہی ہوں۔جتنا آپ بیان کر رہے ہیں۔

“دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں میں،جو اچھا سلوک کرے اس کے ساتھ اچھے سے بھی اچھا سلوک کرنا چاہتی ہوں۔اور جو برا سلوک کرے اس کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنا اور اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا۔یہی میری زندگی ہے,,

ایسی ہی زندگی جینا چاہتی ہوں میں،ہر کسی کے دل میں اچھائی بن کر زندہ رہنا چاہتی ہوں میں”

عبیرہ گلدستہ پھر سے بنانے میں کامیاب ہو گئی۔اور باتیں کرتی ہوئی وہ گلدستہ نوین کی طرف بڑھایا۔

نوین نے سر نفی میں ہلا دیا۔

میں یہ نہی لے سکتا!

پتہ نہی کس نے بھیجا ہے یہ،پہلے وہ لاکٹ اور اب یہ پھول!

تنگ کر رکھا ہے مجھے!

آپ یہ سمجھ لیں یہ میں نے بھیجا ہے آپ کو،میری طرف سے قبول کر لیں یہ تخفہ”

واٹ۔۔۔۔؟

نوین کرسی سے اٹھ کر عبیرہ کی طرف بڑھا۔

عبیرہ مسکرا دی۔

ڈاکٹر نوین جس نے بھی یہ آپ کو بھیجا ہے،مجھے یقین ہے بہت محبت سے بھیجا ہو گا۔

“سرخ پھول محبت کی نشانی ہوتے ہیں”

یہ ان کو ہی بھیجے جاتے ہیں۔جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔

یا پھر یوں کہہ لیں،جن کی ہم فکر کرتے ہیں اور انہیں کھونا نہی چاہتے۔انہی کو بھیجتے ہیں۔

آپ نے بہت بے دردی سے ان پھولوں کو زمین پر پھینک دیا۔

اگر آپ ان پھولوں اور لاکٹ میں بھیجنے والے کی چاہت محسوس کر لیتے تو کبھی ایسا نہی کرتے۔

کسی کا دیا ہوا تخفہ ایسے رد نہی کرنا چاہیے۔

اب آپ نے یہ زمین پر پھینکے اور میں نے اٹھا لیے۔تو اب یہ میرے ہوئے۔

تو اب میں اپنی طرف سے آپ کو دے رہی ہوں یہ تخفہ،تو آپ قبول کر لیں۔

نوین نے مسکراتے ہوئے عبیرہ کے ہاتھ سے پھول تھام لیے۔

یہ لڑکی اس کی سمجھ سے باہر تھی،اتنی کم عمر میں اتنی بڑی بڑی باتیں کیسے کر لیتی ہے۔

ہر سوال کا جواب پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے اس کے پاس۔

تھینکس!

نوین کے تھینکس کہنے پر عبیرہ مسکرا دی۔

شکریہ کی ضرورت نہی ہے ڈاکٹر نوین!

“دوسروں کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں،کسی کا دل مت توڑیں۔

اگر کوئی آپ سے چھپ کر محبت کرتا ہے تو اس کی قدر کریں۔

وہ جو کوئی بھی ہے ایک دن آپ کے سامنے ضرور آئے گی۔

آپ محبت کا جواب محبت سے دینا سیکھ لیں اور اپنے غصے پر قابو پانا بھی۔

“کبھی کبھی ہم غصے میں اپنے جزبات پر قابو نہی رکھ پاتے اور اپنی کوئی قیمتی چیز کھو دیتے ہیں،صرف چیز ہی نہی ہم اپنی انا کی خاطر دوسروں کے احساسات بھی کچل ڈالتے ہیں,,

میں چلتی ہوں،ڈاکٹر طلحہ انتظار کر رہے ہو گے!

عبیرہ اسے حیران کرتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

نوین پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا،وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکا۔

عبیرہ کے جاتے ہی نوین گاڑی کی چابیاں اٹھاتے ہوئے تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔

گھر پہنچ کر باسکٹ کی طرف بڑھا،جس میں اس نے کل رات وہ لاکٹ پھینکا تھا۔

باسکٹ خالی تھی اور نوین کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔

ایک بہت ہی قیمتی تخفہ کھو دیا تھا اس نے،اپنی لاپرواہی کی وجہ سے۔

سہی کہہ رہی تھی عبیرہ وہ جو کوئی بھی ہے ایک دن میرے سامنے ضرور آئے گی۔بس مجھے اس کے احساس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

نوین اداس سا چہرہ لیے جیسے ہی واپس پلٹا،وہ لاکٹ کسی نے اس کے سامنے لہرایا۔

وہ لاکٹ لائبہ کے ہاتھ میں تھا،نوین آنکھیں سکوڑتے ہوئے لائبہ کو گھورنے لگا۔

جھٹ سے اس کے ہاتھ سے لاکٹ کھینچ لیا۔

لائبہ مسکرا دی۔

واو بھائی۔۔۔بڑی جلدی احساس ہو گیا آپ کو اپنی غلطی کا۔

اب تو یہ بات کنفرم ہو گئی کہ جس نے بھی یہ لاکٹ بھیجا ہے۔اسے بھابی بنانے کی تیاری کر لوں میں۔

شٹ اپ!

فضول باتیں مت کیا کرو لائبہ۔

اچھا یہ فضول باتیں ہیں اور یہ لاکٹ بھی فضول ہے۔

تبھی تو ہاسپٹل جاتے ہی آپ اچانک واپس آ گئے اور آتے ہی باسکٹ میں یہ لاکٹ ڈھونڈنے لگے۔

ایسا کچھ بھی نہی لائبہ۔۔۔میں بس اس لیے ڈھونڈ رہا تھا تا کہ واپس لوٹا سکوں۔

نوین تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔

ہاں ہاں سب جانتی ہوں میں بھائی۔۔۔لائبہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

نوین نے سکراتے ہوئے لاکٹ گلے میں ڈال لیا اور ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔

آخر ہو کون تم؟

سامنے کیوں نہی آتی ہو؟

اتنا تو میں جانتا ہوں کہ تم میرے آس پاس ہی ہو،ایک دن ڈھونڈ ہی لوں گا میں تمہیں۔

دیکھتا ہوں کب تک چلتا ہے یہ ہائیڈ اینڈ سی کا کھیل!

نوین جیسے ہی اپنے ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہوا ڈاکٹر افشاں سامنے آ رکی۔

ڈاکٹر نوین کہاں تھے آپ؟

آپ جانتے ہیں آپ ڈیوٹی ٹائمنگ پر ہاسپٹل سے باہر تھے اور وہ بنا اطلاع دئیے۔

کیا میں پوچھ سکتی ہوں،آخر ایسی کونسی ایمرجنسی تھی جو آپ کو ڈیوٹی چھوڑ کر جانا پڑا؟

آئی ایم سوری سر!

میں ایسا کہنا نہی چاہتی مگر میڈم نے کہا ہے کہ آپ پر سختی کی جائے۔

اسی لیے پوچھ لیا۔۔

ڈاکٹر افشاں مسکراتے ہوئے بولی۔

نوین بھی مسکرا دیا۔

سوری ڈاکٹر افشاں!

آپ میم سے کہہ دیں آئیندہ ایسی غلطی نہی ہو گی۔

شیور سر!

افشاں مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔

نوین اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

نوین کی نظر گلاب کے پھولوں پر پڑی تو مسکرا دیا۔

اب جب تم آو گی تو میری نظروں سے بچ نہی پاو گی۔

بہت ہو گیا یہ چوہے،بلی کا کھیل!

نوین نے اپنی پاکٹ سے ایک پین نکال کر سامنے الماری کے شیشے میں بڑی رازداری سے سیٹ کر دیا۔

یہ کوئی عام پین نہی تھا،اس پین میں ایک خفیہ کیمرہ نصب تھا۔

نوین نے اس کیمرے کی لوکیشن اپنے فون پر سیٹ کی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

ایک ماہ تک یونہی چلتا رہا مگر دوبارہ کبھی کوئی پھول یا کوئی اور گفٹ موصول نہی ہوا۔جس سے نوین بھیجنے والے کو دیکھ سکتا۔

ایک ماہ تک یہ بات نوین کے لیے کچھ پرانی سی ہو گئی۔

وہ اپنی ڈیوٹی میں مصروف سا ہو گیا۔

سارے سٹاف کے ساتھ اچھی دوستی ہو گئی نوین کی۔

ایک دن نوین رات کا کھانا کھا کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو اسے کمرے میں ایک عجیب سی خوشبو محسوس ہوئی۔

نوین چاہ کر بھی اس مہک کو نظر انداز نہی کر سکا۔

جیسے ہی اس کی نظر ٹیبل پر پڑی۔حیرت کا جھکا لگا۔

پھر سے وہی پھول اور ساتھ ایک پیپر پڑا تھا۔

اوہ۔۔۔پھر سے!

نوین مسکراتے ہوئے ٹیبل کی طرف بڑھا۔

“اچھی کوشش تھی ڈاکٹر نوین شاہ!

آپ کو لگا کمرے میں کیمرہ لگا کر آپ مجھ تک پہنچ جائیں گے،اگر آپ نے ایسا سمجھا تھا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔

اتنا آسان نہی مجھ تک پہنچنا۔

اگر مجھے ڈھونڈنا چاہتے ہیں تو اپنے دل میں ڈھونڈیں۔

شاید آپ کے دل کے کس کونے میں میرا عکس موجود ہو۔

کچھ بھولی بسریں یادیں۔

کچھ ماضی کے لمحے۔

مت ڈھونڈ مجھے گلشن میں۔

میں بسی ہوں تیرے دل میں۔

بکھری سی کوئی خواہش۔

دھندلی سی کوئی یاد۔

مت ڈھونڈ مجھے گلشن میں۔

میں بسی ہوں تیرے دل میں۔

میرے دل میں؟

نوین نے خود سے ہی سوال کر ڈالا۔

ِامپاسبل!

نوین پیپر فولڈ کرتے ہوئے بیڈ کی طرف بڑھ گیا۔

تم مرواو گی مجھے کسی دن،جس دن بھائی کو پتہ چل گیا ناں۔وہ دن ہم دونوں کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔

لائبہ سرگوشی کے انداز میں بول رہی تھی۔

آئیندہ سوچ سمجھ کر یہاں آنا،ورنہ انجام کی زمہ دار تم خود ہو گی۔

ویسے کبھی کبھی میرا دل کرتا ہے کہ بتا دوں بھائی کو،مگر پھر ان کے چہرے کی حیرانگی دیکھنے کا سوچتی ہوں تو رک جاتی ہوں۔

چہرہ دیکھنے والا ہوتا ہے بھائی کا،لائبہ دبی دبی ہنسی میں بولی۔

نوین نے کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو گیٹ کے پاس لائبہ کے ساتھ ایک لڑکی کو کھڑے دیکھا جو سفید چادر میں اپنا چہرہ چھپائے کھڑی تھی۔

لائبہ ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھی جبکہ وہ لڑکی چپ چاپ کھڑی تھی۔

نوین حیرت سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔

لائبہ۔۔۔!

نوین کی آواز پر لائبہ چونک کر پلٹی۔اور وہ لڑکی تیزی سے گیٹ کھول کر باہر نکل گئی۔

کون تھی یہ لڑکی؟

کککونسی لڑکی بھائی؟

لائبہ گھبراتے ہوئے بولی۔

جو ابھی تمہارے ساتھ کھڑی تھی۔

اچھا وہ۔۔۔۔میری دوست ہے بھائی۔

اتنی رات کو ملنے آئی وہ تم سے؟

کوئی ایمرجنسی تھی کیا؟

نہی بھائی۔۔۔۔وہ میرا لیپ ٹاپ واپس کرنے آئی تھی۔ساتھ والے گھر میں رہتی ہے۔

وہ تو ٹھیک ہے۔مگر اس وقت آنا ضروری تو نہی تھا۔حالات بہت خراب ہیں باہر۔

آئیندہ جو بھی کام ہو صبح کا انتظار کرنا۔

اوکے بھائی۔۔۔

لائبہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

نوین بھی اپنے کمرے میں آ گیا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *