Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 06)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

نوین گھر پہنچا تو مسز شاہ اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔

نوین کو آتے دیکھ کچن کی طرف بڑھ گئیں۔کھانا لگوانے۔

لائبہ اپنی بکس بکھیرے بیٹھی تھی۔اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی۔

نوین سلام کرتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھا۔

کچھ مدد چاہیے میری؟

نوین مسکراتے ہوئے بولا۔

ہونہہ۔۔۔لائبہ نے منہ سکوڑا۔

مجھے نہی چاہیے آپ کی مدد!

آپ ہی کی مہربانی ہے یہ۔۔نہ میں یونیورسٹی جاتی اور نا ہی مجھے اسائمنٹ بنانی پڑتی۔

آپ نے اچھا نہی کیا میرے ساتھ بھائی۔

نوین ہنسنے لگ پڑا۔۔۔اور کرو چھٹیاں۔

جب پڑھائی میں دھیان نہی دو گی تو ایسا ہی ہو گا۔

جلدی جلدی بناو اب اسائمنٹ۔ورنہ سزا ملے گی۔

ہی ہی ہی۔۔ویری فنی بھائی!

لائبہ بھی ہنس پڑی۔

خیر یہ سب چھوڑیں۔۔۔یہ بتائیں آج کا دن کیسا گزرا آپ کا؟

آپ کے سٹاف ڈاکٹرز کیسے ہیں؟

میرا مطلب ان کا رویہ کیسا رہا آپ کے ساتھ؟

ہممم گڈ۔۔۔!

سٹاف بہت اچھا ہے۔۔۔سپیشلی ڈاکٹر عبیرہ!

وہ بہت اچھی لگی مجھے۔۔۔اسے دیکھ کر لگتا نہی کہ وہ سرجن ہے۔

اتنی کم عمر میں سرجن بن گئی۔حیرانگی ہوئی مجھے دیکھ کر۔

اوہ رئیلی بھائی۔۔۔؟

لائبہ بھنویں اچکاتے ہوئے بولی۔

جی۔۔۔اور ایک طرف تم ہو جو پڑھائی سے بھاگتی ہو۔

دل لگا کر پڑھا کرو لائبہ۔۔۔میں بھی اپنی بہن کو ایک مقام پر دیکھنا چاہتا ہوں۔

کامیابی کی منزلوں تک پہنچتے دیکھنا چاہتا ہوں۔

مجھ سے نہی پڑھا جاتا۔۔۔۔لائبہ گہری سانس لیتے ہوئے بولی۔

ہاں جی بس پڑھا ہی نہی جاتا میڈم سے باقی ان سے شاپنگ کروا لیں جتنی مرضی، اس کام میں کبھی نہی تھکتی یہ۔

راحم کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا۔

لو جی آ گئے آپ کے شوہرِِِ نامدار،نوین راحم سے گلے ملتے ہوئے بولا۔

کیسے ہو برو۔۔۔۔؟

راحم مسکراتے ہوئے بولا۔

بلکل ٹھیک۔۔۔تمہارے سامنے تو ہوں۔

سالے صاحب وہ تو مجھے نظر ہی آ رہا ہے۔بہت خوش لگ رہے ہیں آپ۔

کوِئی نئی خبر۔۔۔؟

یا پھر کسی کے زندگی میں آنے کی خبر؟

نوین نے آنکھیں سکوڑتے ہوئے راحم کی طرف دیکھا۔

بہنوِئی ہو اسی لیے لحاظ کرتا ہوں تیرا۔ورنہ ابھی تگڑا جواب دیتا تمہیں۔

راحم کا زور دار قہقہ گونجا نوین کے جواب پر۔

سالے ہو،اسی لیے مزاق کرتا ہوں یار۔

تم تو برا ہی مان گئے شاید۔

نہی۔۔نہی۔۔۔میں اپنوں کی بات کا برا نہی مانتا۔

اٹس اوکے یار!

نوین اپنائیت بھرے لہجے میں بولا۔

راحم بھی مسکرا دیا۔

لائبہ نے ایک ناراضگی بھری نظر راحم پر ڈالی اور اسائمنٹ پر نظریں جھکائے بیٹھ گئی۔

یہ آئیں یا نہ آئیں مجھے کوِئی فرق نہی پڑتا۔

لائبہ اسائمنٹ پر تیز تیز ہاتھ چلاتی ہوئی بولی۔

بری بات لائبہ۔۔۔!

ابھی ایک سال ہی ہوا ہے تم دونوں کے نکاح کو اور تم جب دیکھو لڑائی ہی کرتی رہتی ہو۔

جب دیکھو تم دونوں کی ناراضگی ہی چل رہی ہوتی ہے۔

تم روٹھنے میں لگی رہتی ہو،اور یہ تمہیں منانے میں۔

کم آن یار۔۔۔۔!

بڑے کب ہو گے تم دونوں؟

جب دیکھو بچوں کی طرح لڑائی جھگڑے میں ہی لگے رہتے ہو۔

کبھی سیریس بھی ہو جایا کرو تم دونوں۔

نوین نے دونوں کی کلاس لگا دی۔

میں نے کیا کر دیا؟

راحم کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔

بھائی آپ کو لگتا ہے کہ میں جھگڑتی رہتی ہوں۔

ان سے پوچھیں کہاں تھے یہ؟

آج ہمارے نکاح کو ایک سال ہو گیا ہے۔اینیورسری تھی ہماری!

کسی نے وش نہی کیا مجھے۔۔۔۔!

اور ان کو تو یاد بھی نہی تھا۔

میں نے خود میسیج کیا ان کو صبح؟

میری زرا فکر نہی ہے ان کو۔۔!

اور آپ بھاِئی۔۔۔!

آپ سے بھی ناراض ہوں میں۔۔۔آپ کو بھی یاد نہی تھا۔

راحم اور نوین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

راحم نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔

جس کا مطلب اچھا ہوا تم بھی پھنس گئے میرے ساتھ۔

لائبہ اینیورسری تو شادی کے بعد ہوتی ہے۔نکاح کے بعد تو نہی!

نوین نے بات ٹالنا چاہی۔۔۔مگر لائبہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔

لائبہ سنو تو یار۔۔۔!

راحم بھی اس کے پیچھے دوڑا۔

اف۔۔۔کیا زندگی ہے ان دونوں کی۔۔۔نوین گہری سانس لیتے ہوئے بولا۔

راحم اسے سیڑھیوں سے واپس آتا دکھائی دیا۔

کیا ہوا۔۔؟

نوین اسے واپس آتے دیکھ کر بولا۔

دروازہ بند کر کے بیٹھ گئی ہے آپ کی لاڈلی بہنا۔

راحم صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

نوین بھی بیٹھ گیا۔

پتہ نہی کیا بنے گا تم دونوں کا،آخر کب بڑے ہو گے تم لوگ۔

نوین شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے بولا۔

جب تمہاری شادی ہو گی ناں تب پوچھوں گا میں تمہیں نوین شاہ۔

راحم پریشان سا بولا۔

سوچنا بھی مت!

میں ڈاکٹر ہی ٹھیک ہوں۔مجھے ان سب معملات میں نہی پڑنا۔

بیوی۔۔۔مطلب ہر وقت کا سر درد!

ایک ڈاکٹر کی زندگی پہلے ہی بہت مشکلات سے دوچار ہوتی ہے۔

اوپر سے شادی۔۔مطلب ٹینشن،ٹینشن،ٹینشن!

نوین جھنجلاتے ہوئے بولا۔

مطلب تم شادی نہی کرو گے۔۔۔؟

راحم کو تو جیسے جھٹکا لگا۔

تو کیا اب تک میں تمہیں کسی فلم کی کہانی سنا رہا تھا،جو اتنا حیران ہو کر پوچھ رہے ہو۔

مطلب تم شادی نہی کرو گے؟

راحم نے پھر سے اپنا سوال دہرایا۔

ہاں۔۔نہی کروں گا میں شادی!

تمہیں کوئی مسئلہ ہے کیا؟

نوین جھنجلاتے ہوئے بولا۔

ہاں ہاں مجھے بہت بڑا مسئلہ ہے۔

مطلب کہ تم ہی میرا سب سے بڑا مسئلہ ہو۔

جب تک تم شادی نہی کر لیتے،ہماری شادی نہی ہو سکے گی۔

ہم بس نکاح شدہ ہی رہیں گے،جب تک تم شادی شدہ نہی بن جاتے۔

راحم پریشان سا بولا۔

نوین ہنس پڑا۔۔۔۔اب یہ کس نے کہہ دیا تم سے؟

کون کہہ سکتا ہے بھلا۔۔دی گریٹ نانو جی کا فرمان ہے یہ۔

دادو نے کب یہ حکم صادر کیا۔۔مجھے تو نہی پتہ چلا۔

نوین مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔

راحم کو نوین کی مسکراہٹ جلے پر تیل چھڑکنے کے برابر لگ رہی تھی۔

بس یار تم کیا جانو۔۔؟

میں کس کس درد سے گزر رہا ہوں۔

آج صبح سے مصروف تھا آفس میں۔

فون گھر بھول گیا تھا صبح۔۔۔مجھے یاد تھا کہ آج ہمارے نکاح کی سالگرہ ہے۔

مگر لائبہ سے بات نہی کر سکا!

جیسے ہی گھر پہنچا،فون دیکھا تو لائبہ کی مس کالز اور میسیج آئے ہوئے تھے۔

جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔

لائبہ کو کال کرتا رہا مگر نمبر بند کیے بیٹھی تھی۔

جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور یہاں آ پہنچا میں۔

راحم پریشان سا اپنی دکھ بھری کہانی سنا رہا تھا۔

غلطی کی ہے تو بھگتو اب!

میں تو چلا چینج کرنے،مام کھانا لگا رہی ہیں۔

میں آ رہا ہوں،ساتھ مل کر کھاتے ہیں۔

اس کے بعد کوئی حل نکالتے ہیں!

واہ کیا کہنے آپ کے سالے صاحب!

میری بیوی ناراض ہے اور آپ کہہ رہے ہیں کہ کھانا کھا لو پہلے۔

تم کھاتے رہو کھانا میں جا رہا ہوں اپنی روٹھی بیوی کو منانے۔

راحم سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

نوین بھی مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

نوین فریش ہو کر نیچے آیا تو اس کی حیرت کی انتہا نا رہی۔

لائبہ اور راحم دونوں ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔

عجیب ہیں یہ دونوں۔۔۔۔مجھے لگتا ہے ایک نا ایک دن میں پاگل ہو جاوں گا ان دونوں کی وجہ سے۔

نوین مسکراتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

مام۔۔۔ڈیڈ کل تک واپس آ جائیں گے ناں؟

نوین مسکراتے ہوئے بولا۔

ہاں شاید۔۔۔ابھی کنفرم نہی ہے۔تم بات کر لینا کھانا کھا کر ان سے۔

اوکے۔۔۔نوین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

مسز شاہ بھی کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گئیں۔

چلیں بھئی شروع کریں سب کھانا۔

مسز شاہ کی آواز پر ان دونوں نے بھی کھانا شروع کر دیا۔مگر ان کی باتیں ساتھ ساتھ چلتی رہی۔

ابھی کچھ دیر پہلے تو تم دونوں دشمنوں کی طرح لڑ رہے تھے۔اور اب صلح بھی کر لی؟

آخر کار نوین بول ہی پڑا۔

یہ راز ہے۔۔۔!

راحم سرگوشی کے انداز میں بولا۔

لائبہ وہاں سے ٹی وی لاونج کی طرف بڑھ گئی۔

مسز شاہ ملازمہ سے برتن سمیٹنے کا کہنے چلی گئیں۔

کیسا راز۔۔؟

نوین حیرانگی سے بولا۔

آو میں دکھاتا ہوں۔۔۔

راحم وہاں سے اٹھ کر چل پڑا۔نوین بھی اس کے پیچھے چل دیا۔

وہ دیکھو۔۔۔۔!

راحم نے نوین کو لائبہ کی طرف دیکھنے کو کہا۔

کیا دیکھوں۔۔۔؟

لائبہ اپنی اسائمنٹ ریڈی کر رہی ہے اور کیا۔۔۔؟

اس میں راز والی کونسی بات ہے!

نوین لاپراوہی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔

وہ اسائمنٹ ریڈی نہی کر رہی۔سمیٹ رہی ہے۔

مطلب۔۔۔؟

نوین کو اس کی بات سمجھ نہی آئی۔

مطلب یہ کہ اب وہ اسائمنٹ میری زمہ داری ہے!

راحم منہ لٹکاتے ہوئے بولا۔

واٹ۔۔۔۔؟

اس نے کہا اور تم نے مان لیا؟

سٹوپیڈ انسان!

تم دونوں ایک دوسرے سے بڑھ کر بے وقوف ہو۔

ابھی بات کرتا ہوں لائبہ سے۔۔۔نوین لائبہ کی طرف بڑھا۔

نہی۔رک جاو نوین!

ایسا مت کرنا پلیز!

بہت مشکل سے ناراضگی ختم کی ہے اس نے،اگر تم نے کوئی بات کی تو میں مشکل میں پڑ جاوں گا۔

نوین نے اسے ایک عدد گھوری سے نوازا۔

اٹس اوکے یار۔۔۔تم نہی سمجھو گے۔

میری تھوڑی سی محنت سے اگر لائبہ کے چہرے پر مسکراہٹ آتی ہے تو میں یہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔

بے وقوف انسان۔۔۔!

نوین بولتے ہوئے آگے بڑھ گچیا۔

راحم اس کے پیچھے دوڑا۔

یہ بے وقوف کس کو بولا سالے؟

راحم اس کا راستہ روکتے ہوئے بولا۔

اتنا خیال رکھتا ہوں تمہاری بہن کا اور تم شکریہ ادا کرنے کی بجائے مجھ پر رعب ڈالتے ہو۔

راحم غصے سے بولا۔

آئی ڈونٹ کئیر!

تم اپنی بیوی کا خیال رکھتے ہو،تمہارا فرض ہے۔

نوین مسکرا کر جواب دیتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

جورو کا غلام۔۔!

نوین پلٹ کر جواب دیتے ہوئے آگے بڑھا اور راحم اس کے پیچھے دوڑا۔

کیا بولا تم نے؟

جورو کا غلام!

نوین نے پھر سے دہرایا۔

بیٹا تیرا بھی پتہ لگ جائے گا۔جب تیرے ہاتھوں میں بھی بیوی نام کی ہتھ کڑی لگے گی ناں۔تب پوچھوں کا میں تمہیں!

“وہ دن نوین شاہ کی زندگی میں کبھی نہی آئے گا۔لکھ کر رکھ لو!

اوہ رئیلی بھائی؟

لائبہ اچانک سے وہاں آ گئی۔

وہ جو چپکے چپکے سے کوئی آپ کے لیے مہنگے تخفے بھیجتی ہے وہ کون ہے؟

یہ کیا ماجرا ہے؟

راحم حیران ہوتے ہوئے بولا۔

میں بتاتی ہوں آپ کو راحم!

یہ دیکھیں!

لائبہ نے نوین کے گلے میں چمکتی چین کی طرف اشارہ کیا۔

راحم نے جلدی سے آگے بڑھ کر چین کو دیکحا،ساتھ ہی اس کی نظر لاکٹ پر پڑی۔

اوہ مائی گاڈ!

اتنا مہنگا اور پیارا گفٹ تو کوئی لڑکی ہی دے سکتی ہے۔

ہاں ناں وہی تو!

بھائی کی سالگرہ پر کوئی لڑکی چپ چاپ بھائی کے کمرے میں یہ گفٹ چھوڑ کر چلی گئی۔

گریٹ۔۔۔!

راحم آنکھ دباتے ہوئے بولا۔

نوین چپ چاپ ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔

اس نے غصے سے وہ لاکٹ اتارا اور پاس پڑی باسکٹ میں پھینک دیا۔

بس اب خوش تم دونوں؟

غصے سے لائبہ اور راحم کی طرف پلٹا۔

وہ دونوں حیران پریشان سے نوین کو دیکھنے لگے۔

ایسا کچھ نہی ہے!

اب یہ چیپٹر ہی کلوز ہو گیا۔

وہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

لائبہ اور راحم نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی دیکھا۔

“سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔

راحم بولا تو دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے ٹی وی لاونج کی طرف بڑھ گئے۔

دماغ خراب ہو گیا ہے ان دونوں کا!

نوین غصے سے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے صوفے پر آ بیٹھا۔

جس نے بھی یہ گفٹ بھیجا ہے۔لڑکا ہے یا لڑکی میں نہی جانتا۔

مگر جس دن سچ میرے سامنے آیا گلا دبا دوں گا میں اس کا!

وہ غصے سے لاِئٹ بند کرتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔

صبح ناشتہ کیے بنا ہی ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔

ہیلو ڈاکٹر نوین!

ڈاکٹر عبیرہ کی آواز پر نوین پلٹا۔

ڈاکٹر طلحہ بھی پاس بیٹھے تھے۔وہ دونوں کسی مریض کی فائل تھامے بحث کرنے میں مصروف تھے۔نوین کو آتے دیکھا تو عبیرہ اسے متوجہ کیا۔

نوین جواب دئیے بغیر ہی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

عبیرہ اور طلحہ نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

عبیرہ شرمندہ سی ہوتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر آگے بڑھ گئی۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *