Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 02)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 02)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
عریشے کھانا کھانے کے بعد کھڑکی کے پاس جا بیٹھی۔
کھڑکی کے باہر ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی۔
عریشے کا بہت دل چاہ رہا تھا باہر جا کر کھیل لے مگر نانی کی سمجھائی باتیں اس کے ذہن میں محفوظ ہو چکی تھیں۔
ننھی سی اس بچی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اسے اس کمرے سے باہر نہی جانا اب۔
وہ اپنی نانی کے لیے مشکلات نہی پیدا کرنا چاہتی تھی۔
ماں کی موت کے بعد اس کی سوتیلی ماں نے اسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔
وہ وقت سے پہلے سمجھدار ہو چکی تھی۔
اس کی سوتیلی ماں کی مار اور روئیے نے اسے وقت سے پہلے درد سہنے کی عادت ڈال دی ہے۔
اس کے دل میں ڈر نام کی سمجھداری پیدا ہو چکی تھی۔
وہ بیڈ پر بیٹھی کھڑکی کے ساتھ سر ٹکائے بیٹھ گئی۔
گرمی اپنے عروج پر تھی۔
عریشے کی آنکھ لگ گئی۔
وہ وہیں کھڑکی پر سر ٹکائے سو گئی۔
اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے پڑے تو وہ ہوش میں آئی۔
سامنے کھڑکی کے باہر نوین کھڑا تھا ہاتھ میں پانی کا پائپ اٹھائے۔
عریشے نے آنکھیں ملتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
“اے لڑکی باہر آو!
نوین غصے سے پائپ پھینکتے ہوئے بولا۔
لائبہ بھی اس کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔
باہر آو سنا نہی تم نے!
نوین چلاتے ہوئے بولا
عریشے اپنی جگہ سے نہی ہلی۔
نوین کا غصہ مزید بڑھنے لگا۔
وہ کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اندر داخل ہو گیا۔
“تم نے سنا نہی کیا کہا ہے میں نے؟
عریشے کے سر پر آ کھڑا ہوا۔
میں باہر نہی جاوں گی!
عریشے ڈرتے ہوئے بولی۔
کیوں نہی جاو گی تم باہر؟
نوین کا غصہ مزید بڑھتا چاہ رہا تھا۔
اسے ناں سننے کی عادت جو نہی تھی۔
آج تک اس کی کسی بات کے لیے انکار نہی کیا گیا تھا اسے۔
ایسے روئیے کا عادی ہی نہی تھا وہ۔
کیونکہ نانی نے منع کیا ہے مجھے باہر جانے سے!
عریشے مختصر جواب دے کر چپ ہو گئی۔
گل بی بی اس گھر کی نوکرانی ہیں اور تم ان کی نواسی ہو۔
“اس کا مطلب تم بھی ہماری نوکر ہو!
میری بات نہی مانو گی تو سزا ملے گی تمہیں۔
“نوکر”
عریشے کو نوین کے یہ الفاظ کانٹے کی طرح چبے۔
ہاں نوکر ہو تم!
اب چلو باہر۔۔۔نوین اسے بازو سے کھینچتے ہوئے باہر لے گیا۔
عریشے کا ذہن بس ایک لفظ پر ہی اٹک سا گیا۔
بال اٹھا کر لاو!
نوین نے اسے دور گرا فٹ بال اٹھا کر لانے کو کہا۔
عریشے چپ چاپ فٹ بال لے آئی اور لا کر نوین کی طرف بڑھایا۔
نوین نے اس کے ہاتھ سے فٹ بال پکڑنے کی بجائے زمین پر رکھنے کا اشارہ دیا۔
عریشے نے چپ چاپ فٹ بال نوین کے سامنے گھاس پر فٹ بال رکھ دیا۔
وہ اس ننھی بچی کی عزتِ نفس کو مجروح کر رہا تھا۔
عریشے چپ چاپ اپنے کوارٹر کی طرف چل پڑی۔
کہاں جا رہی ہو تم؟
نوین اس کے سامنے آ رکا۔
اندر جا رہی ہوں!
عریشے گھبراتے ہوئے بولی۔
نہی۔۔۔جب تک میں نا کہوں تم اندر نہی جا سکتی۔
جب تک ہم دونوں کھیل رہے ہیں تم یہیں کھڑی رہو گی اور بال اٹھا کر لاو گی۔
عریشے نے سر ہاں میں ہلا دیا اور چپ چاپ بال اٹھانے چلی گئی۔
لائبہ اور نوین دونوں بہن بھائی فٹ بال سے کھیلنے لگے۔
نوین جان بوجھ کر بال کو زور زور سے کک کرتا اور بال بہت دور جا کر گرتا۔
ہر بار عریشے کو بال اٹھانے جانا پڑتا۔
دھوپ جا چکی تھی۔ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔
مگر گرمی کی
اس کا سانس پھول چکا تھا اور پیاس بھی لگ رہی تھی۔
اندر سے ایک ملازمہ ٹرے میں دو گلاس جوس سے بھرے لے کر آئی اور سامنے ٹیبل پر رکھ دئیے۔
عریشے کا دل چاہا کہ جوس پی لے۔مگر وہ آگے نا بڑھ سکی۔
لائبہ نے جلدی سے اپنا گلاس اٹھایا اور پینے لگی۔
نوین بھی اپنا گلاس اٹھاتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔
عریشے پیاسی نظروں سے ان دونوں کو جوس پیتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
نوین کی نظر عریشے پر پڑی تو وہ آدھا بچا جوس کا گلاس لے کر عریشے کی طرف بڑھا۔
جوس پینا چاہتی ہو؟
نہی۔۔۔عریشے سر نا میں ہلاتے ہوئے بولی۔
مگر اس کی نظریں جوس کے گلاس پر ہی اٹکی تھیں۔
نوین نے گلاس عریشے کی طرف بڑھایا۔
یہ لو پی لو!
عریشے نے حیران ہوتے ہوئے نوین کی طرف دیکھا۔
ڈرتے ڈرتے گلاس تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔
جیسے ہی عریشے گلاس تھامنے لگی نوین نے گلاس چھوڑ دیا۔
سارا جوس نیچے گر گیا۔
نوین کے چہرے پر فاتخانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
عریشے گھاس میں جزب ہوتے جوس کو دیکھتی رہ گئی۔
لائبہ اپنا جوس ختم کر کے نوین کے پاس آ رکی۔
بھائی یہ کیا کیا آپ نے؟
لائبہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
کچھ نہی۔۔۔چلو کھیلتے ہیں۔
دونوں بہن بھائی پھر سے کھیلنے میں مصروف ہو گئے۔
عریشے وہیں کھڑی آنسو بہانے لگی۔
بال دور جا گرا تو نوین نے اسے بال لانے کو کہا۔
عریشے آنسو صاف کرتے ہوئے بال اٹھانے چلی گئی۔
اسی وقت گارڈ نے گاڑی کا ہارن سنائی دینے پر گیٹ کھولا۔
ایک سیاہ رنگ کی بڑی سی گاڑی اندر داخل ہوئی۔
لائبہ بھاگتی ہوئی گاڑی کی طرف بڑھی۔
ڈیڈ آ گئے۔
لائبہ چلاتی ہوئی بھاگ رہی تھی۔
مسٹر شہاب مسکراتے ہوئے کار سے باہر نکلے۔
لائبہ کو گود میں اٹھا کر پیار کیا اور اندر کی طرف بڑھنے لگے۔
عریشے کو شدت سے اپنے بابا یاد آنے لگے۔
وہ بھی تو ایسے ہی کرتے تھے۔
گھر آتے ہی عریشے کو گود میں اٹھا کر پیار کرتے اور پاس بٹھا کر کھانا کھلاتے۔
نوین بھی بھاگتے ہوئے مسٹر شہاب سے لپک گیا۔
وہ دونوں کو ساتھ لیے اندر کی طرف بڑھنے لگے۔
تبھی ان کی نظر دور کھڑی عریشے پر پڑی۔
یہ کون ہے؟
وہ ایک ناگوار نظر عریشے پر ڈالتے ہوئے بولے۔
ڈیڈ یہ گل بی بی کی نواسی ہے۔
اور مجھے بلکل بھی اچھی نہی لگا اس کا ہمارے گھر آنا۔
نوین ناگواری سے عریشے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
انہوں نے ایک کڑوی نگاہ عریشے پر ڈالی اور اندر کی طرف بڑھ گئے۔
عریشے وہی کھڑِی رہ گئی۔
وہ سمجھ نہی پائی نوین کے بابا اسے ایسے کیوں دیکھ رہے تھے۔
ابھی چہروں کو پڑھنے سے قاصر تھی ننھی عریشے ابھی تو بس لہجوں کی پہچان کر رہی تھی۔
جو کچھ نوین اس کے ساتھ کر رہا تھا ننھی عریشے کا دل کرچی کرچی ہو رہا تھا۔
مسٹر شہاب اندر جاتے ہی مسز شہاب کو پکارنے لگے۔
وہ جلدی سے ان کی آواز سن کر ان کے پاس آ رُکیں۔
جی کیا ہوا سب خیریت تو ہے ناں؟
آپ بہت غصے میں لگ رہے ہیں مجھے!
ملازمہ جوس کا گلاس لے کر آئی جو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے پینے سے منع کر دیا۔
ملازمہ چپ چاپ کچن کی طرف بڑھ گئی۔
خیریت ہی تو نہی ہے!
آپ کمرے میں چلیں بات کرنی ہے آپ سے!
مسٹر شہاب غصے سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔لائبہ اور نوین دونوں وہی کھڑے رہے۔
آپ دونوں اپنے کمرے میں جاِئیں۔
مسز شہاب نے کہا تو دونوں اوکے ماما کہتے ہوئے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔
کیا ہو گیا ہے آپ کو شاہ صاحب؟
آپ بچوں کے سامنے ہی غصہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
مسز شہاب کمرے میں آتے ہی بولنا شروع ہو گئیں۔
وہ نوین کے اس رویے کا زمہ دار مسٹر شہاب کے رویوں کو ٹہراتی تھیں۔
ان کا ہر وقت غصے میں رہنا،بچوں کے سامنے غصہ دکھانا نوین ان سے ہی تو سیکھ رہا تھا سب کچھ۔
ماں باپ اپنے رویوں پر نظر نہی ڈالتے۔
پھر کہتے ہیں بچہ بہت غصہ کرتا ہے۔
بہت چر چڑا ہو گیا ہے۔کوِئی بات نہی مانتا۔
“یہ سب ماں باپ کے رویوں کا ہی اثر ہوتا ہے۔بچہ وہی بولتا ہے جو وہ سنتا ہے۔اور وہی کرتا ہے جو وہ دیکھتا ہے؛،
کون ہے یہ بچی؟
مسٹر شہاب ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔
کون سی بچی؟
مسز شہاب کو سمجھ نہی آئی وہ کس بچی کی بات کر رہے ہیں۔
گُل بی بی کی نواسی!
وہ یہاں کیا کر رہی ہے؟
مسٹر شہاب غصے سے چلائے۔
اوہ۔۔اچھا عریشے کی بات کر رہے ہیں آپ!
مسز شہاب کے وہم و گمان میں بھی نہی تھا کہ وہ عریشے کی بات کر رہے ہیں۔
جی وہ گُل بی بی کی نواسی ہے اب یہی رہے گی ان کے ساتھ۔
وجہ پوچھ سکتا ہوں میں؟
ان کا غصہ ابھی تک کم نہی ہوا تھا۔
شاہ صاحب وجہ یہ ہے کہ پچھلے سال اس بچی کی ماں اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھی۔
باپ نے دوسری شادی کر لی۔
مگر سوتیلی اس بچی کو ماں کا پیار نا دے سکی۔
اس پر ظلم کرتی رہی۔
جیسے ہی باپ کو معلوم ہوا تو اس نے یہاں بھیج دیا اس بچی کو اپنی نانی کے پاس۔
تا کہ سوتیلی ماں کے ظلم و ستم سے بچا سکیں اس کو۔
اب اس میں اتنا غصہ کرنے والی کونسی بات ہے۔چھوٹی سی بچی ہے وہ۔
کتنا کھا لے گی ہمارا۔
گُل بی بی بھی اکیلی تھیں ان کو بھی سہارا مل جائے گا۔
وہ سب ٹھیک ہے مگر اس بچی کو لائبہ اور نوین سے دور رکھیں۔
مجھے بلکل بھی پسند نہی ہے ہمارے بچے ملازموں کے ساتھ کھیلیں۔
آج جب میں گھر آیا تو وہ گارڈن میں نوین اور لائبہ کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
آئیندہ مجھے ایسا کچھ نظر نہ آئے۔
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گئے۔
مسز شہاب وہی سوچ میں پڑ گئی۔
سمجھ نہی آتی یہ باپ بیٹے کو اس بچی سے کیا دشمنی ہے۔
خیر میں گُل بی بی سے کہہ دوں گی کہ عریشے کو منع کرے نوین اور لائبہ کے ساتھ کھیلنے سے۔
گل بی بی شام کو تھکی ہاری اپنے کوارٹر کی طرف بڑھیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
عریشے گھاس پر پڑی سو رہی تھی۔
وہ تیزی سے عریشے کی طرف بڑھیں۔
عریشے گُل کیا ہوا میری بچی؟
وہ عریشے کے گال تھپتپانے لگیں۔
عریشے آنکھیں مسلتے ہوئے اٹھ بیٹھی اور انگڑائی لینے لگی۔
اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکان تھی۔
گل بی بی حیرت سے اسے دیکھنے لگیں۔
عریشے تم کمرے سے باہر کیوں نکلی؟
اور یہاں کیوں سو رہی تھی؟
ان کے سوال پر عریشے کی مسکراہٹ سمٹی۔
وہ نوین نے کہا تھا کہ میں ان کی نوکر ہوں۔
ان کی مرضی کے بغیر اندر نہی جا سکتی۔
وہ خود اندر چلے گئے مگر مجھے اندر جانے کو بولا ہی نہی۔
اسی لیے میں انتظار کرتے کرتے ادھر ہی سو گئی۔
عریشے کے جواب پر گل بی بی حیران رہ گئیں۔
انہوں نے آگے بڑھ کر عریشے کو سینے سے لگا لیا۔
ان کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔
عریشے نے ان سے الگ ہوتے ہوئے ان کے آنسو صاف کیے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے۔
مجھے بھوک لگی ہے بی بی۔
وہ معصوم سی عریشے کی معصومیت پر مسکرا دیں۔
اسے ساتھ لیے کوارٹر کی طرف بڑھ گئیں۔
اگلے دن گھر میں خوب چہل پہل تھی پورا گھر سجایا جا رہا تھا۔
آج نوین شاہ کی سالگرہ کا دن تھا۔
گھر میں اس کی سالگرہ پارٹی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔
گل بی بی عریشے کو ناشتہ کروانے کے بعد کمرے سے جا چکی تھیں۔
عریشے کھڑکی میں بیٹھی گارڈن کو سجتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔
یہ گارڈن بھی کسی شادی حال سے کم نہی تھا۔
ننھی عریشے حسرت بھری نگاہوں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
________________________________________
