Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 15)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

نوین کی آنکھ کھلی تو وہ کافی لیٹ ہو چکا تھا۔جلدی سے تیار ہو کر نیچے پہنچا تو مسز شاہ اسی کا انتظار کر رہی تھیں۔

آج بہت دیر سے اٹھے ہو لگتا ہے بہت تھکا ہوا تھا میرا بیٹا۔۔۔۔ان کا لہجہ تھوڑا طنزیہ تھا۔

نہی مام ایسا کچھ نہی ہے دراصل کل دیر رات تک جاگ رہا تھا اسی لیے۔

آپ بتائیں ڈیڈ اور لائبہ چلے گئے کیا؟

ہاں وہ تو کب کے چلے گئے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

ٹھیک ہے تو میں بھی چلتا ہوں۔

I am already late.

وہ تیزی سے باہر کی طرف چل دیا۔

رک جاو نوین!

ماں کی آواز پر نوین کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے اور وہ حیرانگی سے پلٹا۔

کیا ہوا مام؟

IS every thing is ok?

ہاں سب ٹھیک ہے۔بس مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔آو بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

نوین نے پریشانی سے اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھا اور پھر چہرے پر مسکراہٹ سجائے ماں کے پاس آ بیٹھا۔

تو بتائیں کیا ضروری بات کرنی ہے آپ نے؟

ویسے ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آپ نے مجھے کہی جاتے ہوئے روکا ورنہ آپ خود ہی کہتی ہیں کہ جانے والے کو پیچھے سے آواز نہی دینی چاہیے۔

خیر آپ کے لیے تو میں ہزار بار بھی پلٹ سکتا ہوں،آپ بتائیں کیا کہنا ہے۔

کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تم انگیجمنٹ کی رات سے کہاں تھے؟

کیا مطلب؟

میں گھر پر ہی تھا مام مگر آپ نے ایسا کیوں پوچھا؟

سب خیریت تو ہے ناں؟

خیریت نہی ہے نوین تب ہی تو پوچھ رہی ہوں بیٹا،بتاو کہاں تھے تم؟

میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں گھر پر تھا پھر صبح ایمرجنسی ہاسپٹل جانا پڑا تو حلدی چلا گیا۔

نوین مجھ سے جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہی ہے میں سب جان چکی ہوں۔

کیا جان چکی ہیں آپ؟

مام مجھے دیر ہو رہی ہم اس ٹاپک پر پھر بات کریں گے آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے،میں چلتا ہوں۔

وہ اٹھ کر باہر کی طرف چل دیا۔

عریشے سے ملنے گئے تھے ناں تم،اس کے گھر۔۔۔

بس اتنا سننا تھا کہ نوین کے قدم رک گئے اور وہ تیزی سے ماں کی طرف پلٹا۔

کون عریشے مام؟

آپ کس کی بات کر رہی ہے میں کچھ سمجھا نہی؟

وہ اپنی گھبراہٹ چھپانے کی کوشش کرنے لگا۔

واہ۔۔۔میرے بیٹے نے تو ماں سے جھوٹ بولنا بھی سیکھ لیا مسز شاہ کا لہجہ افسوس بھرا تھا۔

عریشے گُل۔۔۔۔گُل بی بی کی نواسی؛

اسی کی بات کر رہی ہوں میں نوین۔

مام آپ سے کس نے کہا یہ سب؟

وہ تو بچپن میں یہاں سے چلی گئی تھی مجھے کیا پتہ وہ کہاں گئی اور کہاں رہتی ہے؟

آپ کو ضرور کسی نے غلط گائیڈ کیا ہے میرے بارے میں۔

کسی نے نہی بلکہ اس نے گائیڈ کیا ہے جس کے ہاسپٹل میں تم بے ہوش عریشے کو لے کر گئے تھے۔

اب تو یقین آ گیا ہو گا کہ میں جھوٹ نہی بول رہی؟؟؟

جس ہاسپٹل میں تم عریشے کو لے کر گئے تھے وہاں کے ایک ڈاکٹر تمہارے ڈیڈ کے کزن ہیں۔

انہوں نے کل رات تمہارے ڈیڈ کو تمہاری شادی کی مبارک باد دینے کے لیے کال کی۔

کیونکہ وہ عریشے کو تمہاری بیوی سمجھ رہے تھے مگر یہ بات سن کر تمہارے ڈیڈ بہت غصہ ہو رہے تھے مگر انہوں نے تمہارے خلاف دل میں کوئی بات نہی آنے دی اور کہنے لگے کہ مجھے اپنی تربیت اور اپنے بیٹے پر پورا بھروسہ ہے۔

لیکن جب میں کمرے میں آئی اور انہیں پریشان دیکھ کر وجہ پوچھی تو تب میرے سامنے ایک نام آیا جو نام تھا عریشے گُل اور وہ لمحہ میرے لمحہِ فکریہ بن گیا۔

آخر کیوں کر رہے ہو تم یہ سب؟

ایک پل کے لیے سوچو اگر شاہ صاحب کو پتہ چل گیا کہ ان کا لاڈلا بیٹا ایک نوکرانی کے لیے اتنی دور پہنچ گیا تو پتہ نہی کیا کر گزریں گے وہ۔

تم جانتے تو ہو ان کی ملازموں کے لیے نفرت!

وہ تو شکر ہے خدا کا کہ ان کو عریشے گُل یاد نہی آئی ورنہ قیامت آ جاتی کل رات اس گھر میں۔

مام میں آپ کو سب بتاتا ہوں۔۔۔۔

بس۔۔۔۔انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید بولنے سے روک دیا۔

میں کچھ بھی نہی جاننا چاہتی نوین!

میں بس اتنا چاہتی ہوں جو ہوا اسے یہی ختم کر دو اور دوبارہ عریشے کا ذکر نہ ہو اس گھر میں،میں باپ بیٹے کو جدا ہوتے نہی دیکھ سکتی۔

جانتے ہو اپنے ڈیڈ کو وہ کبھی برداشت نہی کریں گے تمہاری ایسی غلطی۔

جاو اب لیٹ ہو رہے ہو گے۔۔۔۔وہ اتنا بول کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔

وہ گہری سانس لیتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس وقت غصے میں ہیں اور میری کوئی بات نہی سنیں گی۔

ہاسپٹل جا کر ساری بات دادو کو بتا دی۔

وہ بھی پریشان ہو چکی تھیں مگر کر بھی کیا سکتی تھیں۔

May i come in?

دروازے پر ڈاکٹر طلحہ مسز شہلا کے جواب کا منتظر تھا۔

Yes come in…

dr,naveen how are you?

اس نے نوین کی طرف ہاتھ بڑھایا مگر نوین اسے نظر انداز کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

طلحہ نے شرمندگی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔

شہلا بیگم کو نوین کا طلحہ کے ساتھ یہ رویہ بلکل سمجھ نہی آیا۔

سر آپ کے گھر سے ناشتہ آیا ہے آپ کے لیے۔۔۔۔نوین ابھی کمرے کے پاس پہنچا ہی تھا کہ ڈرائیور کو سامنے پایا۔

سر میم کہہ رہی تھیں کہ باقی کام بعد میں پہلے آپ ناشتہ کر لیں۔

آپ میرے کمرے میں رکھ دیں۔۔۔تھینکس۔

وہ کمرے میں گیا اور ناشتہ ٹیبل پر رکھ کر واپس چلا گیا۔

عریشے نے ناشتہ کیا ہو گا یا نہی۔۔۔۔۔افشاں سے پوچھتا ہوں۔

وہ افشاں کا نمبر ڈائل کرنے ہی والا تھا کہ سامنے سے عریشے اور طلحہ آتے دکھائی دیے۔

وہ دونوں کسی مریض کی فائل ڈسکس کر رہے تھے۔

ڈاکٹر عبیرہ!!!!

وہ دونوں سٹاف روم میں داخل ہونے ہی والے تھے کہ نوین کی آواز پر عریشے رک گئی۔

آپ سے ضروری بات کرنی ہے آئیں۔۔۔۔وہ اسے آرڈر دیتے ہوِئے کمرے کی طرف بڑھا۔

Sorry I’m busy Right now.

عریشے کے جواب پر نوین حیرانگی سے اس کی طرف پلٹا۔

کیا کہا؟

ڈاکٹر نوین میں تھوڑی مصروف ہوں ابھی نہی آ سکتی،عریشے نے طلحہ کے سامنے ہی نوین کو جواب دے دیا۔

طلحہ حیرانگی سے ان دونوں کے چہروں کے بدلتے زاویے نوٹ کر رہا تھا۔

نوین آگے بڑھا اور عریشے کا ہاتھ تھام کر کمرے میں لے گیا اور غصے سے دروازہ بند کر دیا۔

طلحہ یہ سب دیکھ کر دھنگ رہ گیا،نوین سے ایسے رویے کی امید نہی تھی اسے۔

“یہ کیا بدتمیزی ہے ڈاکٹر نوین،،؟

وہ غصے سے چلائی۔

“کیا ضرورت تھی آج ہاسپٹل آنے کی”؟

نوین اسے زبردستی کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا۔

“پتہ ہے کہ طبیعت ٹھیک نہی ہے پھر بھی ہاسپٹل آ گئی تم،،؟

آپ سے مطلب؟

“میری طبیعت ٹھیک ہو یا نہ ہو مجھے ہر حال میں جاب پر آنا ہے،بہت زمہ داریاں ہیں میرے سر پر،،

“تمہاری ساری زمہ داریاں اب میری ہیں عریشے”

وہ دونوں ہاتھ ٹیبل پر جماتے ہوئے عریشے کی طرف تھوڑا جھکتے ہوئے بولا۔

کل سے تمہیں ہاسپٹل آنے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔گھر رہ کر آرام کرو۔

میں نے اتنی پڑھائی گھر پر آرام کرنے کے لیے نہی کی ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔۔اور رہی بات زمہ داری کی تو ابھی آپ نے سب کے سامنے مجھے تسلیم نہی کیا۔

اور نہ ہی کبھی کریں گے!

کیونکہ چوری چھپے دھوکے سے نکاح کرنا آسان ہے مگر دنیا والوں کے سامنے اس نکاح کا اعتراف کرنا بہت مشکل کام ہوتا ہے جو آپ جیسے کمزور انسان کے بس کی بات نہی ہے۔

“آپ مجھے غلام بنانا چاہتے تھے وہ بنا لیا مگر اپنی زمہ داریاں میں آپ کو نہی سونپ سکتی،بہتر ہو گا کہ آپ مجھ سے دور ہی رہیں۔

ابھی جس طرح سے آپ ڈاکٹر طلحہ کے سامنے میرا ہاتھ تھام کر یہاں لائیں ہیں کیا آپ کو نہی لگتا ان کے ذہن میں ہمارے لیے بدگمانی پیدا ہوئی ہو؟

Whatever…

ڈاکٹر طلحہ کیا سوچیں گے اور کیا نہی مجھے اس بات سے کوئی فرق نہی پڑتا،تم بس اتنا یاد رکھو عریشے گُل کے تم میری بیوی ہو۔

yaah whatever…..

کوئی فرق نہی پڑتا ڈاکٹر نوین شاہ مگر آپ کو!!!!!

مجھے فرق پڑتا ہے،،

اب جب ڈاکٹر طلحہ سوال کریں گے تو جواب مجھے دینا پڑے گا آپ کو نہی۔۔۔

ڈاکٹر طلحہ،ڈاکٹر طلحہ،ڈاکٹر طلحہ۔۔۔اس نے غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔

آج کے بعد تمہارے منہ سے یہ نام نہ سنوں میں عریشے۔۔۔

Mind it…

ڈاکٹر طلحہ سے کیا ایشو ہے آپ کو؟

جو بھی ایشو ہو تم بس اتنا یاد رکھو کہ اب تمہیں اس سے بات کرنے کی یا میرے سامنے اس کا نام لینے کی کوئی ضرورت نہی ہے۔

NO more questions.

وہ ہاتھ کے اشارے سے عریشے کو مزید بولنے سے منع کرتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گیا۔

یہ ناشتہ ختم کرو جلدی سے۔۔۔۔اپنی بات ختم کرتے ہی عریشے کی طرف ناشتے والا ٹفن بڑھایا۔

میں ناشتہ گھر سے کر آئی تھی آپ کریں،اپنا فون میز سے اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھی۔

عریشے میں نے کچھ کہا ہے!

نوین کے پکارنے پر وہ پلٹی۔

سوری ڈاکٹر نوین شاہ مگر میں یہ کھانا نہی کھا سکتی۔

“جس گھر کے لوگوں کو میں قبول ہی نہی اس گھر کا کھانا مجھے بھی قبول نہی،،

مگر اس گھر کے بیٹے کو تم قبول ہو جسے تم نے سب کے سامنے اللہ کو حاضر و ناظر جانتے ہوئے قبول کیا ہے۔وہ عریشے کے سامنے آ رکا۔

جب مجھے قبول کر لیا ہے تو اس ناشتے کو بھی قبول کر لو۔

وہ میری مجبوری تھی،عریشے نے منہ دوسری طرف منہ موڑ لیا۔

تو اسے بھی مجبوری سمجھ کر قبول کر لو،نوین کے پاس ہر بات کا جواب موجود تھا۔

عریشے چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی اور ٹفن کھول کر کھانا میز پر سجانے لگی۔

نوین بھی مسکراتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

سینڈوچ،سینڈوچ،سینڈوچ جب سے آپ میری زندگی میں آئے ہیں یہ سینڈوچز میرا نصیب بن چکے ہیں۔آپ خود ہی کھائیں میں نہی کھانے والی یہ۔

کیا مطلب؟

مطلب یہ کہ جب میں ہاسپٹل میں تھی اس دن بھی آپ لائبہ کے ساتھ میرے لیے سیڈوچز لے کر آئے،کل گاڑی میں بھی سینڈوچ اور آج ناشتے میں بھی سینڈوچ۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا ہے جیسے میری شادی آپ سے نہی ان سینڈوچز سے ہوئی ہے۔

عریشے کی بات پر پہلے تو نوین نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا اور پھر وہ ہنسے بنا نہ رہ سکا۔

اسے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے دیکھے عریشے بھی مسکرا دی۔

مگر اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی جب اس نے نوین کو محبت بھری نظروں سے اپنی طرف متوجہ پایا۔

جلدی سے ایک سیڈوچ اٹھایا اور کھا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

نوین نے اسے جاتے دیکھا تو ہوش میں آیا اور مسکراتے ہوئے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔

کیا میں پوچھ سکتا ہوں ڈاکٹر نوین نے یہ بدتمیزی کیوں کی تھی؟

عریشے جیسے ہی باہر آئی طلحہ کو منتظر پایا۔

وہ دراصل کسی بات پر ناراضگی چل رہی تھی ہماری بس اسی لیے پریشانی والی کوئی بات نہی ہے۔

میں زرا پیشنٹس کو دیکھ لوں۔۔۔۔وہ بہانہ بنا کر آگے بڑھ گئی۔

دن اسی طرح گزرتے گئے۔سب ٹھیک چل رہا تھا مگر کب تک یہ کوئی نہی جانتا تھا۔

شاہ صاحب آج گھر پر ہی تھے طبیعت تھوڑی خراب تھی اسی لیے وہ آفس نہی گئے۔

وہ باہر لان میں بیٹھے تھے آج موسم بہت خوشگوار تھا ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔

ڈور بیل بجی تو چوکیدار ایک لڑکے کو لے کر شاہ صاحب کے پاس آیا۔

صاحب جی آپ کے لیے کچھ آیا ہے۔

وہ اخبار میز پر رکھتے ہوئے اس لڑکے کی طرف متوجہ ہوئے۔

اس لڑکے نے ایک فولڈر ان کی طرف بڑھایا جس پر نوین کا نام لکھا ہوا تھا۔

انہوں نے فائل پر سائن کیے اور وہ فولڈر رسیو کر لیا اور پھر سے اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔

یہ لیں آپ کی چائے مسز شاہ ان کے لیے چائے لے کر آئیں تو نظر میز پر رکھے فولڈر پر پڑی۔

یہ کیا ہے؟

یہ نوین کے کچھ پیپرز ہیں شاید ہاسپٹل کے سلسلے میں۔

اچھا۔۔۔۔مسز شاہ نے وہ فولڈر اٹھانے ہی لگی تھیں کہ پانی کا گلاس ان کے ہاتھ سے لگا اور سارے فولڈر پر پانی گر گیا۔

اوہو۔۔۔یہ کیا ہو گیا۔

وہ جلدی سے فولڈر کھول کر کاغزات کرسی پر پھیلانے لگی تا کہ خراب نہ ہو جائے۔

شاہ صاحب جیسے ہی اخبار کرسی پر رکھنے لگے ان کی نظر ان پیپرز اور تصویروں پر پڑی۔

انہوں نے ہاتھ بڑھا کر ایک ایک تصویر اٹھا کر دیکھی اور پھر وہ پیپرز۔

جیسے جیسے پڑھتے گئے غصے بڑھتا چلا گیا۔

کیا ہوا شاہ صاحب؟

مسز شاہ نے ان کو پریشان دیکھا تو بول دیں۔

انہوں نے غصے سے وہ سب میز پر پھینک دیا اور مسز شاہ منہ پر ہاتھ رکھے جیسے صدمے میں چلی گئیں۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *