Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 13)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

عریشے کو گرتے دیکھ نوین جلدی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے گال تھپتپانے لگا۔

“عریشے اٹھو”

کیا ہوا تمہیں؟

عریشے۔۔۔۔وہ پکارتا رہا مگر عریشے ٹس سے مس نہی ہوئی۔

دیکھو دیکھو کتنا بے شرم لڑکا ہے سب کے سامنے اسے چھو رہا ہے اور یہ لڑکی کتنی ڈرامے باز ہے۔جان بوجھ کر بے ہوش ہوئی ہے تا کہ یہ اسے بہانے سے یہاں سے لے جا سکے۔

مگر یہ ان دونوں کی غلط فہمی ہے کہ یہ بچ کر جا سکیں گے آج یہاں سے۔

بس۔۔۔۔خبردار!!!!!!

“خبردار جو اب کسی نے عریشے کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو جان لے لوں گا میں اس کی،،۔

نوین غصے سے چلایا۔

اچھا۔۔۔۔تم جو مرضی کرتے رہو ہم تمہیں روکے بھی ناں،میں پوچھتا ہوں آخر کیا رشتہ ہے تمہارا اس لڑکی سے؟

ہاں ہاں بتاو کیا رشتہ ہے تمہارا اس سے؟

کیوں آئے ہو تم یہاں؟

ہر طرف سے تنزیہ جملے گونجنے لگے۔

“میں نوین شاہ اس لڑکی عریشے گُل کا ہونے والا شوہر ہوں،،،

سن لیا آپ سب نے؟؟؟

“عریشے کا ہونے والا شوہر ہوں میں،،

نوین کے جواب پر ہر طرف خاموشی چھا گئی اور سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

اب پلیز آپ لوگ جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔مجھے ہاسپٹل لیجانا ہو گا عریشے کو۔

تم اسے کہی نہی لے کر جا سکتے ابھی تم اس کے شوہر بنے نہی ہو جو اسے یہاں سے لے جاو گے،وہ بزرگ اب پھر سے غصے میں آ گئے۔

دیکھیں انکل مجھے عریشے کو ہاسپٹل لے کر جانے دیں،جانا بہت ضروری ہے۔

اس کے دماغ پر چوٹ لگی تھی کچھ دن پہلے آپریشن بھی ہو چکا ہے جو میں نے خود کیا تھا اگر اسے ہاسپٹل نہ لے کر گئے تو اسے برین ہیمرج ہو سکتا ہے۔

تو پلیز۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔۔

کچھ نہی ہوا اسے سب ایکٹنگ کر رہی ہے یہ،اس کی ماں پانی کا گلاس لے کر آئی اور عریشے پر چھڑکنا شروع کر دیا مگر عریشے پر کوئی اثر نہی ہوا۔

بہت ظالم ماں ہیں آپ،بیٹی کی حالت خراب ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ ایکٹنگ کر رہی ہے۔

ہٹ جائیں راستے سے میں لے کر جا رہا ہوں اسے اگر کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو نقصان کا زمہ دار خود ہو گا۔

اس نے عریشے کے بے جان ہوتے وجود کو بازوں میں اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپٹل پہنچا اور سٹریچر پر لٹاتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھا۔

ہاسپٹل کا عملہ تیزی سے آگے بڑھا نوین سے اس کی حالت کا پوچھا اور عریشے کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔

آپ باہر انتظار کریں ہم سب سنبھال لیں گے۔۔۔۔نوین چپ چاپ وارڈ سے باہر آ گیا کیونکہ وہ اس حالت میں نہی تھا کہ عریشے کا ٹریٹمنٹ کر سکے اسی لیے اس نے اپنا تعارف کروانا بھی ضروری نہی سمجھا۔

بھوک پیاس سے نڈھال اور پریشانی الگ۔۔۔وہ اس وقت کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا بس یاد تھا تو اتنا کہ بس عریشے کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر وارڈ سے باہر آیا اور نوین کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

Don’t worry,she is fine now!!!!

کوئی گہرا صدمہ لگا ہے پیشنٹ کو وہ برداشت نہی کر سکیں اور ہوش کھو بیٹھیں۔

بلڈ پریشر بہت لو ہو گیا تھا مگر اللہ کا شکر ہے کہ اب سب ٹھیک ہیں۔۔۔کچھ دیر تک ہوش آ جائے گا۔

Thanks dr,,,,,,

نوین نے مختصر جواب دیا۔

Your welcome…

بچانے والی ذات تو اللہ کی ہے،ہم لوگ تو بس کوشش کر سکتے ہیں۔

خیر جیسے ہی ہوش آئے گا آپ کو انفارم کر دیا جائے گا۔

اگر میں غلط نہی ہوں تو آپ شہاب شاہ کے بیٹے نوین شاہ ہیں ناں؟

جی۔۔۔۔نوین ان کے منہ سے اپنا اور اپنے ڈیڈ کا نام سن کر چونک گیا۔

جی میں نوین ہوں۔۔۔۔مگر آپ کیسے جانتے ہیں مجھے اور ڈیڈ کو؟

ارے بھئی ہاسپٹل کے سلسلے میں ملاقات ہوتی رہتی تھی۔

دراصل میں نے بہت عرصہ آپ کے ہاسپٹل میں کام کیا ہے مگر پھر کسی وجہ سے یہاں شفٹ ہو گیا۔

وہ سب تو ٹھیک ہے مگر آپ نے مجھے پہچانا کیسے،مجھے نہی لگتا کہ ہم پہلے مل چکے ہیں؟

نہی نہی ہم پہلے کبھی نہی ملے دراصل آپ کے ڈیڈ کی آئی ڈی پر آپ کی بہت ساری پکچرز موجود ہیں بس اسی لیے پہچان لیا۔

Nice to meet u sir,

نوین مسکراتے ہوئے بولا۔

اوہونہہ۔۔۔۔سر نہی انکل بولو بیٹا۔

آو میرے ساتھ میرے آفس میں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

مگر وہ۔۔۔نوین کا اشارہ عریشے کی طرف تھا۔

پریشان ہونے کی بلکل ضرورت نہی ہے اب وہ بلکل ٹھیک ہے۔جیسے ہی ہوش آئے گا آپ کو انفارم کر دیں گے۔

OK,

نوین ان کے ساتھ چل دیا۔

یہ لڑکی کون ہے بیٹا؟

آپ بہت پریشان لگ رہے ہو اس کے لیے،بس اسی لیے پوچھ لیا۔

she is my friend….

کچھ دن پہلے اس کے بابا کی دیتھ ہو گئی تھی اور اس کے بعد اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا دماغی چوٹ تھی۔بس اسی لیے چھوٹی چھوٹی پریشانی پر گھبرا جاتی ہے۔

بس آج بھی کوئی پریشانی تھی جس وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی۔

SO sad!!!!!

اللہ سب بہتر کرے،آمین۔

Take something….

انہوں نے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا۔

نوین کا دل تو نہی چاہ رہا تھا مگر ان کے اصرار پر جوس کا گلاس اٹھا لیا اور ایک سینڈوچ بھی۔

کچھ دیر بعد نرس آئی اور عریشے کے ہوش میں آنے کی خبر دی۔

نوین تیزی سے کمرے سے باہر نکلا اور ایمجنسی وارڈ کی طرف بڑھا۔

اندر گیا تو وہ گم سم سی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔

میں ان کی ڈسچارج سلِپ بنوا دیتا ہوں پھر آپ انہیں یہاں سے لے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر نرس کو ہدایت دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کیسی طبیعت ہے اب؟

وہ چلتا ہوا عریشے کے پاس آ رکا۔

ٹھیک ہوں۔۔۔۔مجھے گھر ڈراپ کر دیں پلیز۔۔۔۔وہ نوین سے نظریں نہی ملا رہی تھی سر جھکائے بول رہی تھی۔

سر یہ رہی ان کی ڈسچارج سلپ۔۔۔۔اس سے پہلے کہ نوین کچھ بولتا نرس آ گئی۔

عریشے اٹھ کر باہر کی طرف چل دی نوین ریسپشن پر پیمنٹ کرتے ہوئے باہر آیا تو وہ گاڑی کے پاس کھڑی تھی۔

چلیں۔۔۔۔نوین نے اس کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ آنسو پونچھتے ہوئے چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔

نوین نے گاڑی کا دروازہ بند کرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ کی طرف بڑھا۔

گاڑی ایک ریسٹورنٹ کے باہر روک دی۔

پہلے ہم ناشتہ کر لیں پھر ہم لاہور واپس جا رہے ہیں۔

آپ سے کس نے کہہ دیا کہ میں آپ کے ساتھ لاہور واپس جا رہی ہوں؟

میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے گھر ڈراپ کر دیں اگر آپ کر سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ میں خود چلی جاتی ہوں.

اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود میں تمہیں اس گھر میں واپس لے کر جاوں گا؟

No way!!!!

ہم پہلے ناشتہ کریں گے پھر واپس جا رہے ہیں لاہور۔۔۔۔میں اپنی بات دہرانے کا عادی نہی ہوں۔

اور میں بھی آپ کی غلام نہی ہوں “نوین شاہ!!!!!

اس کی بات پر نوین مسکرا دیا۔۔۔۔اب سمجھ آئی کہ تمہارے لہجے میں اس نام کے لیے اتنی نفرت کیوں تھی،کیوں ہر بار میرے نام کے ساتھ شاہ لگانا ضروری سمجھتی تھی۔

خیر اس بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے ابھی ناشتہ کرتے ہیں۔

Let’s go….

ناشتہ میں گھر جا کے کر لوں گی آپ بس مجھے گھر چھوڑ دیں۔

نوین کا دروازے کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا اور وہ غصے سے اس کی طرف پلٹا۔

“ضد کیوں کر رہی ہو؟

“میں نے ایک بار کہہ دیا ناں کہ میں تمہیں اس دوزخ میں واپس لے کر جانے کی غلطی نہی کروں گا تو پھر کیا فائدہ اس ضد کا،؟

“ضد میں نہی آپ کر رہے ہیں بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے گھر چھوڑ کر یہاں سے چلے جائیں،میں اب واپس نہی آوں گی یہی کسی ہاسپٹل میں جاب کر لوں گی۔آپ یوں سمجھے کہ جیسے کوئی عریشے گل نہی ڈاکٹر عبیرہ تھی،،

میں ایسا نہی کر سکتا اور نہ ہی تمہیں کرنے دوں گا۔۔۔۔

“تو پھر کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے،بچپن کی جو نفرتیں باقی ہیں ان کو اب پورا کرنا چاہتے ہیں،،؟؟؟؟

میں بس اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تم نے عریشے؟

“وہ اس لیے کیونکہ میں ایک بار پھر سے نوین شاہ کی نفرت کی حقدار نہی بننا چاہتی تھی”

مل گیا آپ کو جواب؟

اب ایک احسان اور کریں مجھ پر،میرے گھر واپس چھوڑ دیں مجھے اور کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کر دیں۔

کتنی نفرت بھری ہے تمہارے دل میں میرے لیے عریشے گُل۔۔۔مگر تم یہ نہی جانتی کہ محبت کی طاقت نفرت کی طاقت کے آگے جھک جاتی ہے۔

“میں وعدہ کرتا ہوں تمہارے دل سے اپنے لیے نفرت ختم کر کے محبت میں نہ بدلی تو میرا نام نوین شاہ نہی۔۔۔۔وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا مگر عریشے سے کچھ نہی کہا۔

Ok۔…as u wish!!!!!

میں گھر چھوڑ دیتا ہوں تمہیں لیکن تم وعدہ کرو کہ جاب نہی چھوڑو گی اور جلدی واپس آو گی۔

عریشے نے کوئی جواب نہی دیا مگر وہ پھر بھی مطمئن تھا جانتا تھا اسے واپس بلانے کے لیے کس کا ساتھ چاہیے اسے۔

وہ جیسے ہی گھر کے باہر پہنچے وہاں کی حالت دیکھ کر حیران رہ گئے۔

دونوں جلدی سے گاڑی سے باہر نکلے۔

عریشے کی ماں چیخ رہی تھی اور بہن بھائی ماں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔

محلے کے لوگ ان کا سامان اٹھا کر گھر سے باہر پھینک رہے تھے۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

نوین غصے سے آگے بڑھا۔۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ لوگ؟

ان جیسے لوگوں کی یہاں کوئی ضرورت نہی ہے۔۔اب یہ لوگ اس محلے میں نہی رہ سکتے۔وہ بزرگ نہایت غصے سے بولے۔

آپ تو بڑے ہیں،سمجھدار ہیں آپ کیسے اتنا غلط فیصلہ کر سکتے ہیں؟

میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے پھر بھی آپ لوگ یہ سب کر رہے ہیں۔

بند کروائیں یہ سب ابھی۔۔۔۔ورنہ مجھے مجبوراً پولیس کو بلانا پڑے گا۔

یہ دھمکی کسی اور کو لگانا بیٹا!!!!!

تم کیا بلاو گے پولیس کو۔۔۔پولیس ہم نے بلا لی ہے اب تم جیسے رئیس زادوں کو مزید غریب کی عزت پر ہاتھ نہی ڈالنے دیں گے ہم،ہمارے گھروں میں بیٹیاں ہیں یہ بے غیرتیاں مزید برداشت نہی کریں گے ہم۔۔۔۔۔

کیا بدتمیزی ہے یہ سب؟

میں ایک اچھے خاندان کا لڑکا ہوں،آپ لوگ ابھی مجھے جانتے نہی ہیں آپ کو بہت بڑی غلط فہمی ہوئی ہے۔

یہ تمہارا شہر نہی ہے یہاں کی پولیس ہمارے حساب سے چلتی ہے سمجھے!!!!!

تو تم شادی کرنا چاہتے ہو اس لڑکی سے؟

اچھے گھروں کے لڑکے شادی کی بات کرنے خود نہی آتے،ماں باپ کو ساتھ لاتے ہیں اور تمہارے ساتھ تو کوئی بھی نہی ہے۔

ابھی اپنے گھر والوں سے بات کی نہی میں نے مگر بہت جلد ان کو منا لوں گا،آپ لوگ بات کا بھتنگڑ بنا رہے ہیں۔

دیکھو بیٹا ہمیں مت سکھاو اگر تم شادی کرنا چاہتے ہو تو ہمیں ثبوت دو اس بات کا۔۔۔ابھی اسی وقت نکاح کرو اس لڑکی سے نہی تو ان سب کو یہاں سے نکال دیا جائے گا اور تم جاو گے جیل اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔۔۔اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے!!!!!

نکاح کر کے مناتے رہنا اپنے گھر والوں کو۔۔۔وہ مان جائیں تو ٹھیک نہ مانیں تو ان کو بتا دینا کہ تم نکاح کر چکے ہو تو پھر انہیں ماننا ہی پڑے گا۔

نوین بری طرح پھنس چکا تھا اس نے ایک نظر دور کھڑی آنسو بہاتی عریشے پر ڈالی وہ بے بسی سے آنسو بہاتی ہوئی اپنی ماں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی اور دوسری طرف اس کی ماں سب کے سامنے اسی کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔

نوین نے ظبط سے آنکھیں بند کی گہری سانس لی اور اپنا فیصلہ سنا دیا۔

“مجھے منظور ہے”

ارے رک جاو بھئی۔۔۔۔۔جو سامان جہاں سے اٹھایا ہے وہی واپس رکھ دو سب،جلدی کرو۔

وہ بلند آواز بولے تو ان سب نے سامان واپس رکھنا شروع کر دیا۔

عریشے نے نوین کی طرف دیکھا مگر وہ رخ موڑ گیا۔

عریشے کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا مگر وہ اپنی ماں کو سنبھالتی گھر میں چلی گئی۔

کچھ دیر بعد وہی بزرگ اپنے ساتھ چند لوگوں کو ساتھ لیے اندر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ نوین بھی۔۔۔

ڈوپٹہ اوڑھاو بیٹی کو اس کا نکاح ہے۔۔۔۔۔انہوں نے عریشے کے سر پر بم پھوڑا۔

لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ غصے سے آگے بڑھی۔

بس اے لڑکی۔۔۔۔خبردار جو کچھ بولی۔

یہ سب تمہارے بھلے کے لیے ہی کر رہے ہیں ہم ورنہ یتیم کے سر پر کوئی ہاتھ نہی رکھتا۔

اس لڑکے سے نکاح کر لو یا پھر اس کے ساتھ جیل چلی جاو اور تمہاری ماں اور بہن بھائی کو چھوڑ دو دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے۔۔۔۔آگے مرضی تمہاری ہے۔

پولیس باہر ہی موجود ہے اور یہ سارا سامان اٹھا کر باہر پھینکنے والے بھی۔۔۔۔۔کہو تو بلاوں ان سب کو؟؟؟؟

ضد مت کرو تم۔۔۔۔آخر کیا چاہتی ہو ہم سے؟

کہی منہ دکھانے لائق نہی چھوڑا ہمیں اب کیا چاہتی ہو ہم دربدرد کی ٹھوکریں کھائیں؟

عریشے کی ماں اسے غصے سے جھنجوڑتے ہوئے بولی۔

چپ چاپ بیٹھ جاو یہاں۔۔۔۔۔۔

عریشے نے ایک بار پھر سے نوین کی طرف دیکھا جو بے بسی سے اسی کو دیکھ رہا تھا مگر عریشے کو اس کی بے بسی میں اس کی ضد،انا اور جیت جانے کی خوشی محسوس ہوئی۔

نکاح خواں نے نکاح پڑھانا شروع کیا اور وہ بے بسی سے قبول کرتی چلی گئی۔

سائن کرنے لگی تو اوپر نوین کے سائن پر نظر پڑی تو ظبط سے آنکھیں بند کر لی اور سائن کر دٙیے۔

لو بیٹا ہمارا فرض پورا ہوا۔۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔۔۔آمین۔

سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیے۔۔۔۔

اب تم چاہو تو اسے اپنے ساتھ لے جاو یا پھر گھر والوں کو منا کر ان کے ساتھ آ کر لے جانا،اب یہ تمہاری زمہ داری ہے۔

جیسے تمہیں بہتر لگے بیٹا۔۔۔۔۔وہ بزرگ نوین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *