Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 18)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

گاڑی ایک بڑے ہوٹل کے باہر رکی۔نوین نے کرایہ ادا کیا اور ہوٹل کی طرف بڑھا۔

روم بک کروایا اور چابی لے کر روم کی طرف بڑھ گیا۔

عریشے بوجھل قدموں کے ساتھ اس کے ساتھ چلتی گئی۔

وہ نوین کے ساتھ نہی آنا چاہتی تھی مگر شہلا بیگم کے کہنے پر چپ چاپ چلی آئی۔

تم فریش ہو جاو کھانا آرڈر کر دیا ہے۔تھوڑی دیر میں آ جائے گا۔

“مجھے بھوک نہی ہے”

وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئی بولی چادر اتار کر سائیڈ پر رکھ دی اور ڈوپٹہ اوڑھ لیا۔

“بھوک ہو یا نہ ہو کھانا صحت کے لیے بہت ضروری ہے اور کھانا پڑتا ہے،ہم ڈاکٹرز ہی ایسی لاپرواہیاں کریں گے تو مریضوں کو کیا سکھائیں گے۔

نوین کا رویہ بہت نارمل سا تھا۔

عریشے بہت حیران تھی کہ میرے اتنا کچھ سنانے کے باوجود بھی نوین کچھ بول کیوں نہی رہا اور ایسے ظاہر کر رہا ہے جیسے کوئی پریشانی ہو ہی نہ۔

کہاں گُم ہو گئی۔۔۔۔۔نوین نے اس کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ سوچوں کے سمندر سے باہر نکلی۔

میں نے کہا جا کر منہ ہاتھ دھو لو رو رو کر برا حال کر لیا ہے اپنا۔

کتنی دفعہ کہا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے فکر مت کیا کرو مگر تمہارے آنسو تو ہر وقت تیار رہتے ہیں بہنے کو۔۔۔۔مجھے بہت الرجی ہے اس رونے دھونے سے۔

آئیندہ رونے سے پرہیز کرنا۔

کیوں؟

میرے رونے سے آپ کو کیا فرق پڑتا ہے بلکہ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کیونکہ آپ یہی تو چاہتے ہیں۔۔۔۔عریشے پھر سے زہر اگلنے لگی۔

اب کی بار نوین کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا وہ غصے سے اس کی طرف بڑھا۔

بازو سے کھینچتے ہوئے اسے اپنے سامنے کھڑا کیا۔

“مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے تمہارے ایک ایک آنسو سے،تمہاری آنکھوں سے گرنے والا ہر آنسو مجھے اپنا دل پر گرتا محسوس ہوتا ہے،،

میں نہی دیکھ سکتا تمہیں روتے ہوئے یہ بات تم کیوں نہی سمجھ رہی؟

“کیوں اتنی نفرت کیوں کرتی ہو مجھ سے؟

میں یہ سب کچھ تمہارے لیے کر رہا ہوں جبکہ تمہیں لگتا ہے کہ میں سب ڈرامہ کر رہا ہوں۔

پاگل اگر میں ڈرامہ کرتا تو کبھی اپنے ماں،باپ اور گھر کو نہی چھوڑتا۔

“کسی بھی مرد کے لیے ایسا قدم اٹھانا کسی قیامت سے کم نہی ہوتا،مرد ساری زندگی اپنے گھر والوں کے لیے جیتا ہے اور جب ان گھر والوں کو کسی عورت کے لیے چھوڑتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بہت خاص ہوتی ہے اس کے لیے اور اس کی خاطر وہ ساری دنیا سے الجھ جاتا ہے،،

آج سے پہلے دیکھا ہے کبھی کسی مرد کو گھر چھوڑتے ہوئے وہ بھی اپنی بیوی کے لیے؟

“مرد ایسا نہی کرتے کیونکہ وہ بیوی کو تو چھوڑ سکتے ہیں مگر ماں،باپ کو نہی،،

آپ یہ جتانا چاہتے ہیں کہ مجھ سے نکاح کر کے بہت بڑی غلطی کر دی آپ نے اور اب میں آپ پر بوجھ بن چکی ہوں۔

آپ ہر پل مجھے اس بات کا احساس دلانا چاہتے کہ آپ نے مجھ سے نکاح کر کے بہت بڑا احسان کیا مجھ پر اور اس احسان کے بدلے مجھے پوری زندگی آپ کی غلامی کرنی پڑے گی۔

عریشے ایسا کچھ نہی ہے جیسا تم سمجھ رہی ہوں وہ اس کا بازو چھوڑتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گیا۔

سمجھ نہی آ رہا کیسے سمجھاوں اس لڑکی کو کہ یہ کیا ہے میرے میرے۔۔۔وہ دونوں کہنیاں گھٹنوں ٹکائے چہرہ ہاتھوں میں چھپائے خود کو ریلیکس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

میں بلکل ٹھیک سمجھ رہی ہوں نوین شاہ اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں آپ پر یقین کر لوں گی تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔

نوین پھر سے اس کے پاس آیا بازو کھینچتے ہوئے عریشے کا رخ اپنی طرف موڑا۔

ابھی تک نہی سمجھی تم کہ کیوں کر رہا ہوں۔۔۔۔؟

“Because I love you stupid”

یقین کرنا ہے تو کرو ورنہ جیسے تمہاری مرضی!

اسے چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔عریشے حیران و پریشان سی صوفے پر بیٹھ گئی۔

آپ نے تو عبیرہ سے محبت کی تھی۔۔۔۔اس دن ہاسپٹل میں طلحہ کا پرپوزل اس لیے ایکسیپٹ کیا تھا کیونکہ میں جانتی تھی آپ کمرے کے باہر ہیں۔

میں نہی چاہتی تھی کہ آپ کے سامنے میری سچائی آئے۔

وہ اس لیے کہ جانے انجانے میں بھی آپ سے محبت کرنے لگی تھی اسی لیے واپس نہی آنا چاہتی تھی۔

کیونکہ میں ایسی کوئی خواہش نہی کرنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے مجھے بعد میں پچھتانا پڑے۔

ڈرتی تھی کہ اگر میں عبیرہ بن کر آپ کی محبت حاصل کر لوں تو کہی عریشے بن کر آپ کی نفرت کا سبب نہ بن جاوں۔

مگر آپ نے مجھ سے محبت کی اور یہ جاننے کے باوجود کے میں عریشے ہوں میرا ساتھ نہی چھوڑا۔۔۔۔ہر مشکل گھڑی میں میرا ساتھ دیا۔

نکاح تو مجبوری میں کیا مگر مجھے بعد میں طلاق بھی تو دے سکتے تھے۔

مگر نہی۔۔۔۔میرے میرے اپنا گھر اور رشتے سب چھوڑ دیا۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ آپ کی محبت کو نہی سمجھتی میں؟

ایسا نہی ہے ڈاکٹر نوین۔۔۔۔اس دن جب میری ایک کال اور میسیج پر آپ ہاسپٹل چلے آئے۔

میرا ہر طرح سے خیال رکھا۔۔۔۔میرے لیے پوری رات جاگ کر گزاری اور پھر سب کے سامنے مجھے پروٹیکٹ کیا یہ محبت ہی تو تھی،جو میری سچائی سامنے آنے کے بعد بھی کم نہی ہوئی۔

“محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو ایک بار ہو جائے تو کبھی ختم نہی ہوتی بلکہ رگوں میں بہتے خون کی طرح دن بدن بڑھتی جاتی ہے،،

میں جانتی تھی اس رشتے کو آپ کے گھر والے کبھی نہی مانیں گے اور نہ ہی میں یہ چاہتی تھی کہ میری وجہ سے آپ اپنے گھر والوں کو چھوڑیں اسی لیے کہتی رہی کہ مجھے چھوڑ دیں۔

“طلاق دے دیں مجھے”،مگر آپ کے دل میں اس رشتے کی اہمیت بہت بڑھ چکی ہے مگر میں اس رشتے کی خاطر باقی سب سے دور نہی کر سکتی آپ کو۔

مجھے جیسے ہی موقع ملے گا میں یہاں سے بہت دور چلی جاوں گی تا کہ آپ اپنے گھر واپس چلے جائیں اپنوں کے پاس،میرا کیا ہے۔

میں تنہا زندگی گزار لوں گی۔

وہ دل ہی دل میں یہاں سے جانے کی ٹھان چکی تھی۔

نوین واپس آیا تو وہ چپ چاپ واش روم کی طرف بڑھ گئی اور دروازہ لاک کر کے آنسو بہانے لگی۔

پتہ نہی قسمت میں اور کون کون سے امتحان باقی ہیں۔

ماں بچپن میں ہی گزر گئی اور سوتیلی ماں سے کبھی ماں جیسا پیار ملا ہی نہی۔

جان وارنے والے بابا بھی چلے گئے اور پھر بچپن سے لے کر اب تک ماں کی طرح سر پر ہاتھ رکھنے والی شہلا بیگم سے بھی دور جانا ہو گا،گُل بی بی اور شہلا بیگم سے ہی ماں جیسی محبت ملی۔

اب محبت کرنے والا شوہر ملا بھی تو اس کی خوشیوں کی خاطر اسے چھوڑنے کا ارادہ کر لیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی خوشی مجھ سے جڑی ہے۔

دروازہ ناک ہوا تو منہ پر ہاتھ رکھ لیا کہ کہی میری سسکیاں بھی نوین تک نہ پہنچ جائیں۔

عریشے کھانا آ گیا جلدی آ جاو باہر۔۔۔نوین نے دروازہ ناک کیا تو وہ جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر باہر آئی۔

نوین اس کے آنے سے پہلے ہی کھانا میز پر لگا چکا تھا۔

وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ کر کھانا پلیٹ میں ڈالنے لگی نوین کی نظریں اسی پر جمی تھیں وہ اس کی نظروں کی محسوس کر رہی تھی۔

اتنی دیر سے اندر رو رہی تھی تم اور سمجھتی ہو کہ مجھے پتہ نہی چلا۔۔۔۔نوین اس کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر دل ہی دل میں سوچنے لگا۔

میں وعدہ کرتا ہوں تمہیں زندگی کی ہر خوشی دوں گا،سارے غم بھول جاو گی۔

وہ کھانا کھانے کی بجائے بنا پلکے جھپکائے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔

عریشے الجھن کا شکار ہو رہی تھی اس کی محبت بھری نظروں سے۔۔۔۔آخر وہ بول پڑی۔

آپ کھانا کیوں نہی کھا رہے؟

اب آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اتنا زیادہ کھانا آپ زبردستی مجھے کھلائیں گے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔

نوین مسکراتے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔

جب دونوں کھانا کھا چکے تو نوین کے کال کرنے پر ویٹر برتن لے کر چلا گیا۔

عریشے صوفے پر سونے کے لیے لیٹ گئی جبکہ نوین بیڈ پر۔

عریشے وہاں کیا کر رہی ہو یہاں آ کر لیٹ جاو آرام سے،نوین نے اسے بلایا مگر عریشے ٹس سے مس نہ ہوئی۔

نوین اٹھ کر اس کے پاس گیا اور اسے بازوں میں اٹھا لیا۔

عریشے چلانے لگ گئی۔۔۔۔میں گر جاوں گی۔

مجھے چھوڑ دیں پلیز۔۔۔۔وہ کسی چھوٹے بچے کی طرح ڈر رہی تھی نوین کی ٹی شرٹ کو مظبوطی سے تھامے اس کے سینے میں منہ چھپائے چلا رہی تھی جبکہ نوین اس کی یہ حالت انجوائے کر رہا تھا۔

اسے لا کر بیڈ پر لٹا دیا۔

وہ کیا ہے ناں مسز تم سیدھی طرح تو بات مانتی نہی ہو اسی لیے مجھے ایسے ہتھکنڈے آزمانے پڑتے ہیں،امید ہے آئیندہ میری بات مانو گی۔

اگر میں گر جاتی تو؟

عریشے رونے کو تیار تھی۔

“میں تمہیں کبھی گرنے نہی دوں گا،،

آرام سے سو جاو اب مجھ سے ڈرنے کی ضرورت نہی ہے میں تمہارا شوہر ہوں کوئی غیر نہی وہ عریشے کے ماتھے پر ہونٹ رکھتے ہوئے لائٹ بند کر کے دوسری طرف سونے کے لیے لیٹ گیا۔

عریشے دھنگ رہ گئی نوین کی اس حرکت پر۔

نوین ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے آنکھیں موند گیا۔

_________________________________________

یہ آج آپ نے جو کچھ کیا ہے بلکل ٹھیک نہی کیا شاہ صاحب۔۔۔۔مسز شاہ کمرے میں آئی تو وہ سگریٹ سلگائے بیٹھے تھے۔

مانا کہ نوین سے غلطی ہوئی ہے مگر اس کی غلطی اتنی بڑی بھی نہی تھی جو آپ نے اتنی بڑی سزا دی ہے اسے۔

لائبہ کا رو رو کر برا حال ہے،بہت مشکل سے سلا کر آئی ہوں اسے۔

بہت غلط فیصلہ لیا ہے آپ نے اپنے بیٹے کے لیے۔

میرے فیصلے کبھی غلط نہی ہوتے!

شاہ صاحب غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

دو،چار دن جب آسائیشوں سے دور رہے گا تو دیکھنا انہی قدموں پر واپس لوٹ آئے گا ہمارے پاس اس لڑکی کو چھوڑ کر۔

بس تم دیکھتی رہو۔۔۔۔

کاش میں ایسا کہہ سکتی شاہ صاحب!

مگر آج پہلی دفعہ مجھے آپ کا فیصلہ منظور نہی ہے۔

ایک پل کے لیے سوچیں شاہ صاحب۔۔۔۔اگر ہمارا بیٹا واپس نہ آیا تو؟

اگر اسے عریشے کو چھوڑنا ہوتا تو آج ہی چھوڑ دیتا۔

وہ واپس آئے گا یہ بس آپ کی غلط فہمی ہے۔

میں جانتی ہوں اپنے بیٹے کو وہ ایک بار جو ٹھان لے کر کے چھوڑتا ہے تو یہ تو پھر اس کی ضد ہے جو وہ کسی حال میں نہی چھوڑے گا۔

آپ اس لڑکی کو انا کا مسلہ بنا چکے ہیں۔

بھول جائیں کہ وہ گل بی بی کی نواسی ہے،اب یہ سوچیں کہ وہ آپ کے بیٹے کی بیوی ہے۔

بس۔۔۔۔۔!

وہ غصے سے چلائے۔

میں اس لڑکی کو کبھی اپنی بہو تسلیم نہی کر سکتا۔

اگر نوین واپس آ گیا تو ٹھیک۔۔۔۔۔ورنہ مجھے اسے واپس لانے کے سارے طریقے آتے ہیں۔

کیا کریں گے آپ؟

کیسے واپس لائیں گے اسے؟

لے آوں گا واپس یہ سب مجھ پر چھوڑ دو،اس کے لیے چاہے مجھے اس لڑکی کی جان کیوں نہ نہ لینی پڑے۔

میرے بیٹے کو مجھ سے چھیننے کی بہت بھاری رقم چکانی ہو گی اس لڑکی کو۔

اس کی زندگی جہنم بنا دوں گا میں۔

اب یہ رونا دھونا بند کر دو نوین کوئی بچہ نہی ہے جو تم اس کے لیے پریشان ہو رہی ہو۔

ابھی میں زندہ ہوں۔۔۔۔اپنے بیٹے کی زندگی برباد نہی ہونے دوں گا۔

مجھے تو یہ سمجھ نہی آ رہی کہ اپنی بہن کو کیا جواب دوں۔

کیا ہو گا جب اسے نوین کی اس حرکت کا پتہ چلے گا۔

اور راحم۔۔۔۔۔راحم پتہ نہی کیسے ری ایکٹ کرے گا۔

مجھے تو ڈر لگ رہا ہے کہ کہی لائبہ اور راحم کے رشتے پر اس نکاح کا اثر نہ ہو جائے۔

ویسے تو راحم بہت سمجھدار ہے مگر کوئی بھی بھائی یہ برداشت نہی کرے گا کہ اس کی بہن کے نکاح سے چند دن قبل اس کی بہن کا ہونے والا شوہر کسی اور سے نکاح کر لے۔

کس نے نکاح کر لیا ماموں جان؟

راحم دروازہ ناک کرتے ہوئے بولا۔

وہ دونوں راحم کی آواز پر چونک اٹھے۔

دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

_________________________________________

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *