Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 10)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

رات کافی ہو چکی تھی مگر وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔نوین ٹی شرٹ اور ٹراوزر پہنے ہی یہاں چلا آیا کپڑے چینج کرنے کا موقع ہی نہی ملا اسے۔

نیند سے بھری آنکھیں اور بکھرے بال اوپر سے بھوک سے برا حال تھا۔

وہ کمرے سے نکل کر کینٹین کی طرف چل دیا۔

سب لوگ مڑ کر اسی کو دیکھ رہے تھے۔رات کے اس پہر وہ ایک مغرور سا شخص بہت سادگی سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔

کوئی سوچ بھی نہی سکتا تھا کہ یہ اتنے بڑے خاندان اور جائیداد کا اکلوتا وارث نوین شاہ جا رہا ہے۔

اگر شاہ صاحب رات کے اس وقت اپنے صاحبزادے کو اس حلیے میں پریشان حال دیکھ لیتے تو نا جانے کیا کر دیتے۔

شاید اس ہاسپٹل کو ہی بند کروا دیتے۔۔۔جہاں ان کے بیٹے کا خیال نہی رکھا گیا یا پھر اُس لڑکی کو جان سے مار دیتے جس کی وجہ سے ان کا بیٹا پریشان ہے۔

بچپن سے لے کر آج تک انہوں نے اپنے بیٹے کو شہزادے کی طرح پالا ہے اور آج ان کا شہزادہ ایک لڑکی کی خاطر کیا سے کیا بن گیا۔

وہ کینٹین جانے کی بجائے ہاسپٹل سے باہر گیا قریبی ریسٹونٹ سے سینڈوچ اور جوس آرڈر کیا اور لاِئٹ سا ڈنر کرنے کے بعد جلدی سے ہاسپٹل پہنچا۔

وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔اس کے پاس گیا اور ماتھے کو چھو کر درجہ حرارت چیک کیا اور واپس صوفے پر بیٹھ گیا۔

اسے پتہ ہی نہی چلا بیٹھے بیٹھے کب اس کی آنکھ لگ گئی۔

جب آنکھ کھلی تو اسے بے چینی سے سر پر ہاتھ رکھے دیکھا۔

وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔

Are you ok?

سر میں بہت زیادہ درد ہے۔وہ آنکھیں بند کیے بے چینی سے بولی۔

Don’t worry….

ابھی ٹھیک ہو جائے گا۔

وہ تیزی سے ٹیبل کی طرف بڑھا۔انجیکشن فل کیا اور ڈرپ میں لگا دیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے سو گئی۔

یہ دماغ کی چوٹ ہوتی ہی ایسی ہے۔سر کا درد اتنی جلدی ختم نہی ہوتا،نوین جانتا تھا اسی لیے پہلے سی ہی انجیکشنز منگوا لیے تھے اس نے۔

وہ دوبارہ صوفے کی طرف بڑھ گیا جانتا تھا اب وہ جلدی نہی اٹھے گI’m

ہ پھر سے آنکھیں بند کیے سونے کے لیے لیٹ گیا۔

فجر کی نماز کے لیے الارم لگا چکا تھا سونے سے پہلے۔۔۔جیسے ہی الارم بجا وہ تیزی سے اٹھا اسے سوتے دیکھ کمرے سے باہر نکل گیا۔

نرس کو سختی سے آرڈر دیا اس کا خیال رکھنے کے لیے اور ہاسپٹل سے آ گیا۔

گاڑی سٹارٹ کی اور گھر چلا آیا۔اپنے کمرے میں گیا اور فریش ہو کر شلوار قمیض پہن کر مسجد کی طرف بڑھ گیا۔

شاہ صاحب پہلے ہی مسجد جا چکے تھے ورنہ نوین کو اس وقت گھر آتے دیکھ جانچ پڑتال میں لگ جاتے۔

نماز ادا کرنے کے بعد دونوں گھر کی طرف چل دئیے۔

کیسی طبیعت ہے اب تمہارے دوست کی؟

شاہ صاحب نے اسے مخاطب کیا۔

پہلے سے بہتر ہے اب۔۔۔دماغ پر چوٹ لگی ہے تھوڑا سا بلڈ فریز ہو گیا تھا۔

جس کی وجہ سے چھوٹا سا آپریشن ہوا ہے کل رات،اسی لیے میں وہاں گیا تھا اور لیٹ ہو گیا۔

کوئی بات نہی بیٹا بس تم کہی بھی جاو گھر بتا کر جایا کرو ہم سب پریشان ہو جاتے ہیں تمہارے لیے۔

تم تو جانتے ہی ہو میری جان بستی ہے تم میں،میرے اکلوتے بیٹے ہو تم اور تمہیں کوئی تکلیف پہنچے میں یہ برداشت نہی کر سکتا۔

جی۔۔۔آئیندہ خیال رکھو گا۔

I’am really sorry dad…

معافی مانگنے کی ضرورت نہی بیٹا۔

دونوں باتیں کرتے ہوئے گھر پہنچ گئے۔

نوین کمرے میں گیا ٹریک سوٹ پہنا اور گارڈن میں واک کے لیے چل دیا۔

لاِئبہ کو کال کی کہ کہی وہ بھول نہ جائے۔

جی بھائی مجھے یاد ہے۔۔۔آ رہی ہوں نیچے تیار ہو کر۔

بات سنو لاِئبہ۔۔نوین نے اسے ٹوکا۔

جی بھاِئی۔

ایسا کرو کہ ناشتہ پیک کروا لینا ساتھ لیجانے کے لیے وہ تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولا۔

ٹھیک ہے بھائی میں کروا لوں گی۔

ٹھیک ہے زرا جلدی کرنا میں واک پر ہوں پندرہ منٹ تک آ جاوں گا۔

Ok

لائبہ نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔

نوین تیار ہو کر ناشتے کی میز پر آیا تو لائبہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔

ناشتہ کرنے کے بعد لائبہ کچن میں گئی ناشتہ پیک کروایا اور خدا حافظ کہتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔

نوین بھی خدا حافظ کہتے ہوئے باہر چل دیا۔

لائبہ پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔نوین نے مسکراتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کی اور ہاسپٹل کی طرف موڑ دی۔

ہاسپٹل پہنچا نے کاونٹر پر موجود نرس نے اطلاع دی،سر آپ کی پیشنٹ کو ہوش آ چکا ہے وہ آپ کا پوچھ رہی تھیں۔

ٹھیک ہے۔۔۔۔نوین لائبہ کو ساتھ لیے کمرے تک پہنچا۔

دروازہ کھولا تو وہ آنکھوں پر بازو رکھے لیٹی ہوئی تھی دروازے کی آواز پر بازو ہٹا کر ان دونوں کو دیکھا۔

اسلام و علیکم!

کیسی طبیعت ہے اب’سر میں درد تو نہی اب؟

جی۔۔۔پہلے سے بہتر ہوں،وہ لائبہ پر نظریں گاڑے بولی۔

یہ میری چھوٹی بہن ہے لائبہ۔۔۔نوین نے اسے لائبہ کی طرف متوجہ دیکھا تو بول پڑا۔

لائبہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی۔

اسلام و علیکم!

اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

اس نے مسکراتے ہوئے لائبہ کا ہاتھ تھام لیا۔

یہ ادھر ہی رہے گی آپ کے پاس،دراصل مجھے ہاسپٹل جانا ہے اور آپ کو اکیلا بھی نہی چھوڑ سکتا تو لائبہ کو یہاں لے آیا۔

Don’t worry.

یہ آپ کا بہت اچھے سے خیال رکھے گی۔

جی۔۔۔آپ بلکل فکر مت کریں۔

لائبہ یہ میڈیسنز ہیں جو ابھی ناشتہ کروانے کے بعد دینی ہیں اور یہ دوپہر کے لیے ہیں۔

آپ ناشتہ کر لینا اور میڈیسن بھی لے لینا اور کوئی مسئلہ ہو یا طبیعت زیادہ خراب ہو تو لائبہ کو بتا دینا بلا جھجک۔

I’m getting late…

وہ ہاتھ میں پہنی گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے بولا۔

Take care,see you soon.

خدا حافظ بولتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

جیسا کہ میرے ہینڈسم سے بھائی کا حکم ہے کہ پہلے ناشتہ کرنا ہے آپ نے پھر دوائی لینی ہے تو اس کے لیے تو آپ کو اٹھ کر بیٹھنا ہو گا۔

آئیے آپ کی مدد کر دوں بیٹھنے کے لیے۔۔۔لائبہ نے اسے سہارا دیتے ہوئے بٹھایا اور ناشتہ پلیٹ میں نکالا اور جوس گلاس میں ڈالتے ہوئے اس کے پاس لے آئی۔

Thanks.

اس نے لائبہ کا شکریہ ادا کیا اور بہ مشکل ایک سینڈوچ کھایا اور جوس کا گلاس ختم کیا۔

ارے یہ کیا؟

بس ایک سینڈوچ کھایا آپ نے۔۔۔کم ازکم دو تو کھائیں۔

نہی۔۔۔۔بس مزید کھانے کو دل نہی کر رہا،اگر دل چاہا تو بعد میں کھا لوں گی۔

جی ٹھیک ہے۔۔۔لائبہ نے پلیٹ اور گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور نوین کی بتائی ٹیبلیٹس اور پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا۔

آپ آرام کریں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا آپ،بنا کسی جھجک کے۔

مجھے بھی اپنی دوست ہی سمجھیں آپ۔

لائبہ کی بات پر اس نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا۔

لائبہ مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی۔بیگ سے فون نکال کر نوین کو میسج کرنے لگی۔

“ناشتہ کروا دیا ہے بھائی اور دوائی کھلا دی بھابی کو،آپ بے فکر ہو جائیں،،

بھابی لفظ پر وہ خود بھی مسکرا دی۔

نوین ابھی ابھی اپنے کمرے میں آیا تھا۔مسیج ٹون بجی تو ٹیبل سے فون اٹھا کر دیکھا تو لائبہ کا میسج تھا۔

میسیج کھولا تو چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

Not At All,we Are just good friends.Nothing Else!

ہممم۔۔۔۔Nothing Else.

میسیج پڑھتے ہی لائبہ مسکرا دی۔

Just kidding dear bhai,

لائبہ کا میسیج پڑھتے ہی نوین مسکرا دیا اور فون میز پر چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

لنچ ٹائم پر دادو کے ساتھ لنچ کیا اور ایک ایکسٹرا ٹفن پیک کروا لیا تھا گھر کال کر کے۔

وہ لنج باکس لے کر ہاسپٹل پہنچا۔

لائبہ نے خود بھی لنچ کیا اور اس کو بھی دیا اور میڈیسنز بھی دے دی۔

لائبہ تین بج چکے ہیں،اب گھر چھوڑ دیتا ہوں تمہیں اس سے پہلے کہ ڈرائیور گاڑی لے کر یونیورسٹی پہنچے۔

جی بھائی۔

لائبہ کو گھر چھوڑ کر ہاسپٹل جا رہا ہوں۔شام کو ملنے آوں گا اب۔

سٹاف سے کہہ دیا ہے آپ کا خیال رکھنے کے لیے پھر بھی اگر زیادہ پرابلم ہو تو میرا نمبر ہے آپ کے پاس،فوراً مجھے کال کر لیجئیے گا۔

جی۔۔۔۔اس نے سر ہاں میں ہلایا اور لائبہ خدا حافظ کہتے ہوئے آگے بڑھی اور میں کل پھر سے آوں گی آپ کا سر کھانے۔

لائبہ کی بات پر وہ مسکرا دی۔

وہ دونوں مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے اور ان کے جاتے ہی ایک نرس کمرے میں آ کر بیٹھ گئی۔

لائبہ کو گھر چھوڑنے کے بعد نوین پھر سے ہاسپٹل چلا گیا،جیسے ہی ڈیوٹی ختم ہوئی دوبارہ اسی ہاسپٹل چلا گیا مگر کمرے کے باہر سے ہی واپس پلٹ گیا۔

نرس سے اس کی خیریت معلوم کی اور گھر چلا گیا۔

کھانا کھا رہا تھا کہ شاہ صاحب نے پھر سے علینہ کا ٹاپک شروع کر دیا۔

کیا سوچا پھر علینہ کے بارے میں نوین؟

سوچنا کیا ہے ڈیڈ’میرا جواب اب بھی وہی ہے۔میرا ابھی کوئی ارادہ نہی شادی کا۔

کیا مطلب کوئی ارداہ نہی ہے،مجھے ہاں یا ناں میں جواب دو تا کہ میں بات آگے بڑھا سکوں۔

ڈیڈ میں نے انکار تو نہی کیا۔۔۔۔

اور ہاں بھی تو نہی بول رہے۔۔۔شاہ صاحب کا لہجہ تھوڑا سخت ہو چکا تھا۔

آج تک تمہاری ہر خواہش پوری کی ہے میں نے،کبھی تمہاری کوئی بات نہی ٹالی تو پھر میری خوشی کے لیے ہاں کیوں نہی بول دیتے۔

ڈیڈ۔۔۔۔آپ کی خوشی سے بڑھ کر مجھے اور کچھ بھی عزیز نہی ہے۔

جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا لیکن مجھے کچھ وقت چاہیے۔

کتنا وقت چاہیے تمہیں؟

شاہ صاحب گہری سانس لیتے ہوئے بولے۔

ایک سال،دو سال یا پھر دس سال مگر ابھی نہی ڈیڈ۔۔۔۔میں ابھی اتنی بڑی زمہ داری نہی سنبھال سکتا۔

کیا مطلب اس بات کا نوین۔۔۔مزاق تو نہی ہے یہ اب کیا علینہ دس سال تمہارے انتظار میں بیٹھی رہے گی؟

کل ہم سب جا رہے ہیں پھوپھو کی طرف تمہاری اور علینہ کی شادی کی بات کرنے،کل شام تیار رہنا۔

میری اکلوتی بھانجی ہے وہ اور میں نہی چاہتا کہ وہ کسی غیر کے گھر بیاہ کر جائے جبکہ رشتہ گھر میں ہی موجود ہے۔

میں اپنی بہن کے ساتھ رشتہ مزید مظبوط کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے میری بیٹی کو اپنی بیٹی بنایا ہے تو میرا بھی فرض بنتا ہے علینہ کو اپنی بیٹی بناوں۔

ڈیڈ میری بات تو سن لیں ایک بار۔۔۔۔نوین نے کچھ کہنا چاہا۔

No more comments.

شاہ صاحب غصے سے بول کر وہاں سے چلے گئے۔

مام۔۔۔۔نوین نے مدد کن نظروں سے ماں کو پکارا مگر انہوں نے بھی سر نفی میں ہلا دیا۔

سہی تو کہہ رہے ہیں وہ۔۔۔۔یا تو تمہیں کوئی اور پسند ہو تب تو یہ ضد اچھی بھی لگتی ہے مگر کوئی اور بھی پسند نہی ہے اور شادی سے انکار کر رہے ہو تو اس میں کیا کر سکتی ہوں میں؟

ایسا کرو یا تو اگر کوئی اور پسند ہے تو بتا دو تا کہ میں تمہارے لیے آواز اٹھا سکوں۔

نوین اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا۔

بھائی آپ بتا دیں ماما کو۔۔۔۔۔لائبہ اچانک بول پڑی۔

نوین نے ایک دم سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور اسے غصے سے گھورا۔

مممیرا مطلب ہے بھائی اگر آپ کو کوئی اور لڑکی پسند ہے تو بتا دیں۔مجھے امید ہے میں اور ماما مل کر منا لیں گے ڈیڈ کو۔

کیا کچھ ایسا ہے جو میں نہی جانتی؟

مسز شاہ کو لائبہ پر شک ہوا۔

مجھے لگتا ہے تم دونوں بہن،بھائی مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو۔

نہی مام ایسا کچھ نہی ہے آپ بے فکر رہیں جیسا ڈیڈ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔وہ تیزی سے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

لائبہ تم بتاو مجھے کیا وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے؟

نہی ماما میں نہی جانتی،میں بھی جاننے کی کوشش ہی کر رہی ہوں۔

وہ بھی اٹھ کر نوین کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

بھائی آپ بتا کیوں نہی دیتے ماما کو؟

لائبہ کیا بتاوں میں ان کو؟

جبکہ ایسا کچھ ہے ہی نہی!

بس کر دیں بھائی سب جانتی ہوں میں،مجھ سے کچھ نہی چھپا سکتے آپ۔

آپ کو بتانا ہی ہو گا ماما کو ورنہ میں خود بتا دوں گی کل شام تک کا ٹائم ہے آپ کے پاس اچھی طرح سوچ لیں۔وہ غصے میں کمرے سے باہر نکل گئی۔

نوین کے سر پر ایک نئی پریشانی سوار ہو چکی تھی وہ بھول گیا کہ اسے ہاسپٹل جانا ہے۔

کچھ دیر کے لیے وہ ٹیرس پر چلا گیا۔انجان نمبر سے کال آنے پر وہ فون کی طرف متوجہ ہوا۔

ہیلو۔۔۔۔

سر آپ آئے نہی ابھی تک؟

مجھے گھر جانا ہے میری ڈیوٹی ختم ہونے والی ہے آپ جلدی آ جائیں۔

آپ کون؟

وہ لاپرواہی سے بولا۔

کیا مطلب سر میں ہاسپٹل سے بات کر رہی ہوں۔

آپ کی پیشنٹ ایڈمٹ ہے۔۔۔آپ ڈاکٹر نوین ہی بات کر رہے ہیں ناں؟

جی میں ڈاکٹر نوین ہی بات کر رہا ہوں۔

Sorry۔..

میرے ذہن سے نکل چکا تھا،اچھا ہوا آپ نے یاد کروا دیا مجھے۔

وہ کال ڈسکنیکٹ کرتے ہوئے کمرے میں گیا کپڑے چینج کیے،لائبہ سے کھانا پیک کروایا اور ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔

لائبہ ٹھیک کہہ رہی تھی مجھے مام سے بات کرنی چاہیے۔۔مگر کیا بات کروں؟

میں تو خود بھی نہی جانتا مجھے اس سے محبت ہے یا نہی۔

پہلے مجھے پہلے اس سے بات کرنی چاہیے وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہے۔

میں اس کے لیے بس دوست ہوں یا کچھ اور!

ہاں یہ سہی رہے گا۔

وہ ہاسپٹل پہنچا تو کمرے کے دروازے کے پاس کسی نے اسے پکارا۔

Excuse me?

Yes۔..

وہ تیزی سے پلٹا مگر سامنے موجودہ شخص کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔

آپ کی کیز گر گئی تھیں۔

Oh…dr,naveen.

آپ یہاں کیسے؟

جتنی حیرانگی نوین کو ہوئی اسے یہاں دیکھ کر اس سے کئی گنا زیادہ حیرانگی اسے بھی ہوئی۔

وہ ایک پیشنٹ ایڈمٹ ہے یہاں بس اسی لیے۔

Oh۔…

ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں مجھے بھی ایک ضروری کام تھا۔وہ نپٹا کر چلتا ہوں یہاں سے۔

OK۔…

نوین کمرے میں چلا گیا اور وہ بھی دوسری طرف چل دیا۔

نوین کو آتے دیکھ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔پہلے سے بہت بہتر لگ رہی تھی وہ۔

I’m really sorry.

میں تھوڑا لیٹ ہو گیا۔۔۔طبیعت کیسی ہے اب؟

Hmm good.

یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔اوہ۔۔۔۔میں کھانا گاڑی میں ہی بھول گیا۔ابھی لے کر آتا ہوں۔

وہ کمرے سے باہر نکل گیا،پارکنگ تک پہنچا اور کھانا لے واپس کمرے کی طرف بڑھا۔

کمرے میں پہنچا تو سامنے کا منظر دیکھ کر قدم وہی تھم گئے۔آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی رہی۔

قدم واپسی کے لیے موڑ لیے۔۔۔۔کاونٹر پر پہنچ کر نرس سے کہا کہ کمرہ نمبر چار میں یہ کھانا پہنچا دے اور ان کو میرا میسیج دے دیں کہ ایمرجنسی مجھے جانا پڑا۔

فون پر کسی کا نمبر ڈائل کیا اور بنا پلٹے وہاں سے چلا آیا۔

ٹھیک دو دن بعد آج اس کی اور علینہ منگنی کا دن تھا۔

چہرے پر پھیکی سی مسکراہٹ سجائے اس نے علینہ کا ہاتھ تھام لیا اور اسے رِنگ پہنا دی اور اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا۔

علینہ نے بھی اسے رِنگ پہنا دی۔

گھر آ کر وہ رِنگ اس نے اتار کر رکھ دی۔شاید وہ اسے بہت تکلیف پہنچا رہی تھی یا پھر وہ خوش نہی تھا۔

وہ خود بھی انجان تھا اس رشتے کو قبول نہی کر پا رہا تھا۔

(جاری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *