Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 05)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 05)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
مے آئی کم ان؟
نوین کمرے کا دروازہ ناک کرتے ہوئے بولا۔
سامنے کرسی پر ایک پچپن سالہ خاتون ا بیٹھی تھیں۔
انہوں نے اپنی عینک تھوڑی نیچے کر کے نوین پر ایک نظر ڈالی۔اور فائل دیکھنے میں مصروف ہو گئی
نو!
وہ غصے سے بولیں۔
واٹ۔۔؟
نوین کو تو جیسے صدمہ لگا۔
یو آر لیٹ۔۔۔ڈاکٹر نوین شاہ!
وہ نظریں فائل پر جمائے بولیں۔
میم میں لیٹ نہی ہوں!
نوین شاہ نے کبھی لیٹ ہونا سیکھا ہی نہی!
میں دو منٹ سے یہاں کھڑا ہوں۔اگر آپ ان دو منٹ کو مائنس کریں تو آپ کو پتہ چل جائے گا میں لیٹ نہی ہوں۔
“یہ سب میں نہی جانتی!
آپ دو منٹ لیٹ ہیں۔
آپ واپس جا سکتے ہیں!
کل سے جوائن کرنا آپ۔۔۔آپ کی ڈیوٹی کل سے شروع ہو گی۔
بٹ میم!
نو ڈاکٹر نوین شاہ!
آپ کے ایک سیکنڈ لیٹ ہونے پر پیشنٹ کی جان جا سکتی ہے۔
آپ ڈاکٹر تو بن چکے ہیں مگر وقت کی پابندی نہی سیکھے آپ اب تک!
کل سے آپ اپنی ڈیوٹی ٹائمنگ سے پانچ منٹ پہلے یہاں موجود ہو۔
ورنہ آپ کی مرضی ہے آپ کوئی اور ہاسپٹل جوائن کر سکتے ہیں۔
وہ نوین کی کوئی بات نہی سن رہی تھیں۔
آئی ایم رئیلی سوری میم!
نوین کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔
نوین ان کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے۔او
اپنی دادو کے گال چومتے ہوئے سوری بول رہا تھا۔
وہ مسکرا دیں۔
اٹس اوکے!
بٹ رولز آر رولز!
نوین آئیندہ اس بات کو ذہن میں رکھنا۔
میرے اصول سب کے لیے ایک جیسے ہیں۔
یہ مت سمجھنا کہ دادا کا ہاسپٹل ہے۔دادو انچارج ہیں تو معافی مل جائے گی۔
اوکے میم!
نوین ان کو سلوٹ کرتے ہوئے بولا۔
آو بیٹھو۔۔۔خوش آمدید!
وہ نوین کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولیں۔
تھینکس میم!
نوین کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
ویلکم۔۔۔!
امید ہے میری توقعات پر پورا اترو گے۔۔اور دادا کا نام خوب روشن کرو گے۔
بیسٹ آف لک!
انشااللہ۔۔۔نوین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
سو کیا حکم ہے میرے لیے میم؟
میری ڈیوٹی سٹارٹ ہو چکی ہے۔
جی۔۔ایک منٹ!
وہ رسیور کان سے لگا کر کسی سے بات کرنے لگیں۔
کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔
کم ان!
ان سے ملیں یہ ہیں ڈاکٹر نوین شاہ!
سامنے ایک فی میل ڈاکٹر کھڑی تھیں۔
ہیلو۔۔نوین نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
اور نوین یہ ہیں ڈاکٹر۔۔!
ڈاکٹر افشاں۔۔۔نیورو سپیشلسٹ!
اس سے پہلے کہ وہ تعارف کرواتیں۔
ڈاکٹر افشاں نوین سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولی۔
ڈاکٹر شاہانہ مسکرا دیں۔
آئی ایم ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔نیورو سپیشلسٹ ٹو!
نائس ٹو میٹ یو ڈاکٹر نوین!
ڈاکٹر افشاں نے مسکراتے ہوئے نوین کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
“سیم ہئیر!
نوین بھی مسکراتے ہوئے بولا۔
ڈاکٹر افشاں آپ لے جائیں ڈاکٹر نوین کو اور باقی نیورو سرجنز سے تعارف کروا دیں ان کا!
شیور میم!
افشاں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
آئیے ڈاکٹر نوین۔۔میں آپ کو اپنے ڈپارٹمنٹ میں لے چلوں اور باقی ڈاکٹرز سے ملوا دوں۔
اوکے۔۔۔نوین ڈاکٹر افشاں کے ساتھ چل پڑا۔
تھرڈ فلور پر افشاں ڈاکٹر نوین کو نیورو ایمرجنسی وارڈز ڈپارٹمنٹ میں لے گئی۔
سٹاف رومز میں موجود ڈاکٹرز سے نوین کا تعارف کروایا۔
سر یہاں ہمارے ساتھ چھ ڈاکٹرز اور موجود ہیں اس ڈپارٹمنٹ ۔
ڈاکٹر طلحہ،ڈاکٹر عابد،ڈاکٹر شاہ زر،اور آپ ڈاکٹر نوین شاہ۔
ڈاکٹر ردا،ڈاکٹر فائزہ،ڈاکٹر افشاں اور ڈاکٹر عبیرہ۔
ڈاکٹر عبیرہ اور ڈاکٹر طلحہ آپریشن تھیٹر میں ہیں۔ان سے بعد میں تعارف کروا دیں گے آپ کا۔
باقی سب سے تو آپ مل چکے ہیں۔
اس سارے ڈپارٹمنٹ کی زمہ داری ہم آٹھ ڈاکٹرز پر ہے۔
نو فائٹ۔۔۔نو ایگو،یہاں سب کچھ بھلا کر ایک فیملی کی طرح مل کر رہنا ہم سب کو اور اپنے پیشنٹس کا خیال رکھنا ہے۔
یاہ شیور!
نائس ٹو میٹ یو ایوری ون!
نوین مسکراتے ہوئے بولا۔
سر آئیں آپ کو سارے پیشنٹس کی فائلز دکھا دوں۔اور نرسنگ سٹاف سے بھی تعارف کروا دوں آپ کا۔
ڈاکٹر افشاں نوین کو ساتھ لیے وارڈز کی طرف بڑھ گئی۔
ایک ایک پیشنٹ کی فائل دکھانے لگی۔
کسی پیشنٹ کا آپریٹ ہو چکا تھا،کسی کا آج ہونا تھا،
کسی کی کنڈیشن نارمل تھی اور کسی کی بہت سیریس تھی۔
نوین سب پیشنٹس کی فائلز دیکھ کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔
ویسے تو میل ڈاکٹرز سٹاف روم الگ تھا۔مگر نوین نے اپنے لیے الگ کمرہ تیار کروایا۔
کچھ دیر بعد ہی کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔
کم ان۔۔!
نوین فائلز دیکھنے میں مصروف بیٹھا تھا۔
دروازے پر ڈاکٹر افشاں تھی۔
ڈاکٹر نوین۔۔۔ڈاکٹر طلحہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔وہ آپریشن تھیٹر سے آ چکے ہیں۔
تو کیا میں ان کو بھیج دوں؟
جی ڈاکٹر افشاں۔۔۔
آپ بھیج دیں ان کو!
مختصر سا جواب دے کر نوین پھر سے فائلز دیکھنے میں مصروف ہو گیا۔
مے آئی کم ان۔۔؟
دروازہ ناک ہونے پر نوین نے فائلز سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھا۔
مائی سیلف ڈاکٹر طلحہ!
وہ دروازے پر کھڑے ہی اپنا تعارف کروانے لگا۔
نوین کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ویلکم ڈاکٹر طلحہ۔۔!
پلیز کم ان۔۔
ڈاکٹر طلحہ مسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔
نوین کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
نوین نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
نائس ٹو میٹ یو ڈاکٹر طلحہ۔
نوین ہاتھ ملا کر مسکراتے ہوئے بولا۔
سیم ہئیر۔۔۔!
ڈاکٹر طلحہ نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
مریضوں کے بارے میں تو ساری انفارمیشن دے چکی ہو گی آپ کو ڈاکٹر افشاں؟
جی۔۔۔نوین نے مختصر جواب دیا۔
تو کیسا لگا ہمارا سٹاف؟
ہممم گڈ۔۔!
ابھی تک تو ٹھیک ہی لگا۔۔آگے دیکھتے ہیں کیسا رہے گا۔
نوین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
آپ آج جوائن کر چکے ہیں تو نیکسٹ آپریٹ آپ ہی کو کرنا پڑے گا ڈاکٹر نوین۔
جی ضرور۔۔۔۔یہی تو کام ہے میرا۔
میں پیشنٹ کو دیکھ لیتا ہوں۔۔فائل چیک کر لیتا ہوں۔۔۔پھر کرتے ہیں آپریشن کی تیاری۔
نوین نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
وہ دونوں باتیں ہی کر رہے تھے ابھی کہ ڈاکٹر افشاں نے دروازہ ناک کیا۔
ڈاکٹر طلحہ۔۔۔ایک ایمرجنسی مریض آیا ہے۔
ابھی آپریٹ کرنا پڑے گا۔
آپ جلدی جاِئیں پلیز!
میں دیکھتا ہوں!
نوین جلدی سے باہر کی طرف بڑھا۔
ایک لڑکی تھی۔جس کی عمر کم ازکم سولہ یا سترہ برس تھی۔
سر میں لوہے کی سلاخ لگنے سے دماغ میں چوٹ آئی تھی۔
فوری طور پر اسے آپریشن تھیٹر میں منتقل کیا گیا اور نوین نے اس کا آپریٹ کیا۔
نوین کے ساتھ ایک اور فی میل سرجن بھی تھی۔ڈاکٹر طلحہ بھی یہاں آ گئے۔
چند گھنٹوں بعد آپریشن مکمل ہو گیا۔
مریضہ کو دوسری وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔
ویل ڈن ڈاکٹر نوین شاہ!
پہلا آپریشن اور کامیاب آپریشن۔۔۔!
تھینکس ڈاکٹر طلحہ۔۔۔!
نوین بس اتنا بول کر ہی آپریشن تھیٹر سے باہر نکل گیا۔
نوین اپنے کمرے میں جانے کی بجائے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔
اس کا رخ اپنی دادو کے کمرے کی طرف تھا۔
کمرے کا دروازہ ناک کیے بغیر نوین کمرے میں داخل ہو گیا۔
سامنے ایک لڑکی بیٹھی تھی ان کے ساتھ۔
اوہ۔۔۔۔آئی ایم سوری!
مجھے لگا آپ اکیلی ہو گی۔
میں بعد میں آتا ہوں!
نہی رکیں ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔!
دادو کی آواز پر نوین رک گیا۔
ان سے ملیں یہ ہیں ڈاکٹر عبیرہ!
وہ سامنے بیٹھی لڑکی کا تعارف کروانے لگیں۔
ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔!
نوین کو یہ نام کہی سنا سنا سا لگا۔
یہ بھی نیورو سرجن ہیں۔
ابھی جو آپریٹ کیا آپ نے یہ آپ کے ساتھ ہی تھیں۔
اوہ۔۔یاد آیا۔۔۔ڈاکٹر افشاں نے بتایا تھا مجھے ان کے بارے میں۔مگر ملاقات نہی ہو سکی میری ان سے۔
ہیلو ڈاکٹر عبیرہ۔۔!
نوین نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
ڈاکٹر عبیرہ نے مسکراتے ہوئے نوین کا ہاتھ تھام لیا۔
ہیلو ڈاکٹر نوین شاہ۔۔!
وہ نوین کا ہاتھ تھامے بولی۔
بہت اچھا لگا آپ سے مل کر۔۔۔
وہ بول رہی تھی اور نوین بس اس کے چہرے کو تکتا جا رہا تھا۔
ایک عجیب سی کشش تھی اس کے چہرے میں۔۔نوین اس کا ہاتھ تھامے اس کے چہرے میں کھو سا گیا۔
اچھا لگا آپ سے مل کر۔۔۔عبیرہ نے پھر سے دوہرایا۔
جس کا مطلب تھا کہ میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔
سیم ہئیر۔۔نوین نے چونک کر اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
میم میں چلتی ہوں۔
عبیرہ کو ڈاکٹر نوین کا دیکھنا کچھ عجیب سا لگا۔
وہ اپنی گھبراہٹ چھپاتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔
کچھ کام تھا نوین۔۔؟
شاہانہ بیگم نے جب نوین کو گم سم سا کھڑے دیکھا تو بول پڑیں۔
دادو یہ ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔کہی دیکھا ہے میں نے پہلے بھی ان کو۔
مگر مجھے یاد نہی آ رہا کہاں دیکھا تھا۔
دیکھا ہو گا کہی۔۔خیر اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے؟
نوین چونکا۔۔۔نہی دادو میں پریشان نہی ہوں!
بس یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہاں دیکھا تھا ڈاکٹر عبیرہ کو۔
اٹس اوکے نوین۔۔یہ بتاو کسی کام سے آئے تھے؟
وہ بات کو پلٹتے ہوئے بولیں۔
جی دادو۔۔۔میں تو بس یہ بتانے آیا تھا کہ میرا اپنے ہاسپٹل میں پہلا آپریشن کامیاب ہوا۔
الحمدللہ۔
بہت اچھے بیٹا تم سے یہی امید تھی مجھے۔بس اسی طرح دل لگی سے اپنا کام کرتے رہنا۔
اب ساری زمہ داری تمہاری ہے۔
سٹاف کو کیسے ہینڈل کرنا ہے یہ تم پر ہے۔
باقی کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا۔
اوکے۔۔۔نوین ان کا ماتھا چومتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اسی طرح پیشنٹس کے ساتھ دن گزرا نوین کا۔
لنچ اس نے شاہانہ بیگم کے ساتھ کیا۔
شام کو ایوننگ شفٹ والے ڈاکٹرز آ گئے۔
ایوننگ شفٹ میں دو ڈاکٹرز مزید تھے۔ڈاکٹر حذیفہ اور ڈاکٹر خضر۔
نوین کو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ ڈاکٹر عبیرہ سیکنڈ شفٹ میں بھی یہی تھی۔
آپ گھر نہی جائیں گی ڈاکٹر عبیرہ؟
نوین کی آواز پر عبیرہ نے چونک کر سر اوپر اٹھایا۔
وہ صوفے پر بیٹھی اپنے بیگ سے کچھ ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔
نوین کے اس طرح اچانک کمرے میں آنے پر وہ چونک گئی۔
کیا ہوا ڈاکٹر عبیرہ؟
سب خیریت تو ہے نا؟
نوین اس کی گھبرائی صورت دیکھ کر خود بھی گھبرا گیا۔
جی جی۔۔۔سب خیریت ہے!
عبیرہ اپنے ماتھے پر آیا پسینہ ڈوپٹے سے صاف کرتے ہوئے بولی۔
“اگر سب خیریت ہے تو آپ کے چہرے پر پسینے کیوں آ رہے ہیں؟
نوین کو حیرانگی ہوئی عبیرہ کے پسینہ صاف کرنے پر۔
ننہی۔۔۔وہ آپ اچانک سے کمرے میں آ گئے بس اسی لیے میں تھوڑا گھبرا گئی۔
اوہ۔۔۔آئی ایم رئیلی سوری!
میری وجہ سے آپ کو پریشانی ہوئی!
نوین صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا۔
اٹس اوکے ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔!
عبیرہ ایک ایک لفظ چباتے ہوئے بولی۔
نوین کو اس کا لہجہ تھوڑا عجیب لگا۔
کچھ تو تھا اس کے لہجے میں۔۔۔نوین چونک سا گیا۔
وہ پھر سے اپنے بیگ میں کچھ ڈھونڈنے میں مصروف ہو گئی۔
مگر اس کے لہجے نے نوین کو سوچ میں ڈال دیا۔
وہ تھوڑی پر ہاتھ جمائے دوسرا بازو سینے پر باندھے عجیب سی کشمکش میں پڑ گیا۔
عبیرہ اپنے بیگ میں ہی مصروف تھی۔جبکہ نوین اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا۔
کمر تک آتے سنہری بال،دودھیا رنگت،بنا میک کے بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
لمبی گھنی پلکیں چہرے پر گرائے نا جانے کس پریشانی میں گم تھی وہ۔
نا جانے کیوں نوین کو ایک عجیب سے احساس نے آن گھیرا۔۔!
اسے ایسا لگا یہ چہرہ پہلے بھی وہ کہی دیکھ چکا ہے۔
مگر یاد نہی آ رہا کہاں۔۔۔؟
ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔!
نوین نے ایک عجیب سے احساس میں گم اسے پکارا!
بیگ میں کچھ ڈھونڈنے میں مصروف اس کا ہاتھ ایک پل کے لیے رکا!
اس نے نظریں اٹھا کر نوین کی طرف دیکھا۔
جی۔۔۔وہ مدھم سی آواز میں بولی۔
بس یہی لمحے۔۔۔۔۔نوین اس کی گہری آنکھوں میں کھو سا گیا۔
کچھ تو تھا اس کی آنکھوں میں۔۔نوین پلکے جھپکائے بنا دیکھنے لگا۔
نوین کو ایسے یک ٹک دیکھتے پایا تو عبیرہ نظریں جھکانے پر مصروف ہو گئی۔
نوین بھی شرمندہ سا اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
وہ میں یہ پوچھ رہا تھا کہ آپ ابھی تک گئی نہیں،کوئی پریشانی ہے کیا؟
نہی۔۔۔!
میرا مطلب جی۔۔۔!
ایک پریشانی ہے۔۔میری ہاسٹل روم کی چابیاں نہی مل رہی۔
پتہ نہی کہاں گم ہو گئی۔ویسے تو میں روز بیگ میں ہی رکھتی ہوں۔
وہ ویسے ہی نظریں جھکائے بولنے لگی۔
“مجھے پتہ ہے آپ کی چابیاں کدھر ہیں۔
نوین کی بات پر وہ چونک گئی اور نظریں اٹھا کر نوین کی طرف دیکھا۔
نوین مسکرا دیا۔
مطلب۔۔۔؟
میں کچھ سمجھی نہی ڈاکٹر نوین!
“صبح جب آپ کو دادو کے ساتھ بیٹھے دیکھا تو چابیاں اس وقت آپ کے ہاتھ میں ہی تھیں۔
مگر جب آپ مجھ سے ہاتھ ملانے کے لیے اٹھی تو آپ نے چابیاں ٹیبل پر ہی چھوڑ دی تھیں۔
اس کے بعد آپ اوپر آ گئیں اور چابیاں وہی بھول گئیں۔
ہاں۔۔۔یاد آ گیا۔
عبیرہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
پتہ نہی میری یہ بھولنے کی عادت کب سہی ہو گی۔
وہ خود سے ہی بڑبڑاتی ہوئی اپنی چیزیں واپس بیگ میں رکھنے لگی۔
نوین بھی مسکرا دیا۔
بیگ سمیٹتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی۔
پھر اچانک پلٹی!
تب تک نوین اس کے ساتھ دروازے تک پہنچ گیا تھا۔
وہ جیسے ہی پلٹی نوین سے ٹکرا گئی۔
اس کے بال نوین کے گلے میں پہنے لاکٹ کی چین میں پھنس گئے۔
عبیرہ جیسے ہی پیچھے ہٹنے لگی۔اس کے بال اٹک گئے۔
اس نے ایک ہاتھ سے اپنے بال تھامے اور دوسرے ہاتھ سے نوین کی چین الگ گی۔
آئِی ایم سوری ڈاکٹر عبیرہ!
وہ آپ اچانک سے رک کر پلٹی تو ہمارا ٹکراو ہو گیا۔
آئی ایم رئیلی سوری!
نوین بول رہا تھا مگر عبیرہ کی نظر اس کے گلے میں لٹکے لاکٹ پر اٹک سی گئی۔
نوین کی نظر جب اس پر پڑی تو اس نے اپنے لاکٹ کو چھوا۔
کیا ہوا لاکٹ اچھا لگا آپ کو؟
نوین مسکراہٹ دباتے ہوئے بولا۔
عبیرہ چونکی!
نہی۔۔۔وہ بات نہی۔
بس اس کی خوبصورتی اور توجہ نے مجھے اپنی طرف مائل کر لیا۔
بہت خوبصورت لاکٹ ہے آپ کا!
عبیرہ نے دل سے تعریف کی۔
“خوبصورت تو ہو گا،کسی نے بہت پیار سے گفٹ دیا ہے،،۔
کس نے؟
عبیرہ بھی پوچھے بنا نا رہ سکی۔
پتہ نہی!
نوین نے مسکرا کر کندھے اچکا دئیے۔
ویری فنی!
وہ مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
نوین بھی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔
نو اٹس ناٹ فنی!
آئی ایم سیرئیس ڈاکٹر عبیرہ!
مطلب۔۔۔عبیرہ رک کر پلٹی۔
مطلب یہ کہ میں واقعی نہی جانتا یہ کس نے گفٹ کیا ہے مجھے!
نوین کی بات پر وہ ہنسنے لگی۔
مطلب آپ کو یہ بھی نہی پتہ یہ کس نے گفٹ کیا ہے آپ کو۔
پھر بھی آپ نے گلے میں پہن رکھا ہے اسے۔
کیوں ڈاکٹر نوین۔۔۔وہ ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولی۔
“میں نہی جانتا میں نے یہ لاکٹ کیوں پہن رکھا ہے۔میں کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی کیفیت نہی رکھ پاتا جب جب میں اس لاکٹ کو دیکھتا ہوں۔
ایک عجیب سا احساس پیدا ہونے لگتا ہے دل میں اس کو چھوتے ہی۔
جیسے کسی اپنے کا پیار جڑا ہو اس سے،،۔
نوین کہی اور ہی خیالوں میں گم ہوا لاکٹ کو چھوتے ہوئے بول رہا تھا۔
پھر تو پکا یہ کسی لڑکی نے گفٹ کیا ہو گا آپ کو۔
وہ پھر سے ہنسنے لگی۔اور سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھا دئیے۔
ہاں یہ کسی لڑکی نے ہی گفٹ کیا ہے!
نوین اس کے ساتھ چلتے ہوئے بولا۔
اب کی بار چونکنے کی باری عبیرہ کی تھی۔
مطلب۔۔۔آپ جانتے ہیں اس لڑکی کو؟
وہ حیران ہوتے ہوئے بولی۔
جانتا بھی ہوں،اور نہی بھی۔
اب اس بات کا کیا مطلب سمجھوں میں؟
عبیرہ نا سمجھی سے نوین کی طرف دیکھتے ہوئی بولی۔
مطلب یہ ہے کہ وہ لڑکی مجھے کل رات خواب میں ملی۔اس نے یہ لاکٹ مجھے دیا،مگر میں اس کا چہرہ نہی دیکھ سکا۔
عبیرہ حیرانگی سے نوین کی طرف دیکھنے لگی۔
“میں سچ کہہ رہا ہوں،نوین کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
عبیرہ مسکرا دی۔
مجھے تو آپ کی سٹوری بہت انٹرسٹگ لگ رہی ہے۔اگلی بار جب وہ لڑکی خواب میں ملے تو اس کا ہاتھ تھام کر روک لینا آپ اسے۔
عبیرہ مسکراتی ہوئی شاہانہ بیگم کے کمرے کا دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر داخل ہو گئی۔
نوین وہی دروازے کے باہر سوچوں میں گم کھڑا رہ گیا۔
“ہاں میں ایسا کر سکتا تھا،مگر میں نے کیوں نہی کیا،،،۔
تھینکس ڈاکٹر نوین!
عبیرہ کمرے سے باہر گم سم سے کھڑے نوین کی طرف دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی۔
تھینکس فار واٹ؟
نوین نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
عبیرہ نے چابیاں نوین کے سامنے لہرائیں۔
یہ یاد کروانے کے لیے!
اوہ۔۔اٹس اوکے ڈاکٹر عبیرہ!
اگر آپ چاہیں تو میں ڈراپ کر دوں آپ کو،میں بھی بس نکلنے ہی لگا ہوں۔
نہی۔۔۔مجھے اپنی زمہ داریاں خود اٹھانا اچھا لگتا ہے۔ڈاکٹر نوین شاہ۔
عبیرہ کے لہجے میں پھر سے وہی عجیب سی تلخی تھی۔
نائس ٹو میٹ یو ڈاکٹر نوین شاہ!
خدا حافظ۔۔کل ملتے ہیں۔
وہ نوین کو حیران کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔اور دیکھتے ہی دیکھتے نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
نوین حیران و پریشان سا شاہانہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
ان سے اجازت لیتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
(جاری ہے
