Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Last updated: 31 January 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

Novel Code : NovelR50494

عریشے کو گرتے دیکھ نوین جلدی سے اس کی طرف بڑھا اور اس کے گال تھپتپانے لگا۔

"عریشے اٹھو"

کیا ہوا تمہیں؟

عریشے۔۔۔۔وہ پکارتا رہا مگر عریشے ٹس سے مس نہی ہوئی۔

دیکھو دیکھو کتنا بے شرم لڑکا ہے سب کے سامنے اسے چھو رہا ہے اور یہ لڑکی کتنی ڈرامے باز ہے۔جان بوجھ کر بے ہوش ہوئی ہے تا کہ یہ اسے بہانے سے یہاں سے لے جا سکے۔

مگر یہ ان دونوں کی غلط فہمی ہے کہ یہ بچ کر جا سکیں گے آج یہاں سے۔

بس۔۔۔۔خبردار!!!!!!

"خبردار جو اب کسی نے عریشے کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا تو جان لے لوں گا میں اس کی،،۔

نوین غصے سے چلایا۔

اچھا۔۔۔۔تم جو مرضی کرتے رہو ہم تمہیں روکے بھی ناں،میں پوچھتا ہوں آخر کیا رشتہ ہے تمہارا اس لڑکی سے؟

ہاں ہاں بتاو کیا رشتہ ہے تمہارا اس سے؟

کیوں آئے ہو تم یہاں؟

ہر طرف سے تنزیہ جملے گونجنے لگے۔

"میں نوین شاہ اس لڑکی عریشے گُل کا ہونے والا شوہر ہوں،،،

سن لیا آپ سب نے؟؟؟

"عریشے کا ہونے والا شوہر ہوں میں،،

نوین کے جواب پر ہر طرف خاموشی چھا گئی اور سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔

اب پلیز آپ لوگ جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔مجھے ہاسپٹل لیجانا ہو گا عریشے کو۔

تم اسے کہی نہی لے کر جا سکتے ابھی تم اس کے شوہر بنے نہی ہو جو اسے یہاں سے لے جاو گے،وہ بزرگ اب پھر سے غصے میں آ گئے۔

دیکھیں انکل مجھے عریشے کو ہاسپٹل لے کر جانے دیں،جانا بہت ضروری ہے۔

اس کے دماغ پر چوٹ لگی تھی کچھ دن پہلے آپریشن بھی ہو چکا ہے جو میں نے خود کیا تھا اگر اسے ہاسپٹل نہ لے کر گئے تو اسے برین ہیمرج ہو سکتا ہے۔

تو پلیز۔۔۔۔۔۔مجھے جانے دیں۔۔۔۔

کچھ نہی ہوا اسے سب ایکٹنگ کر رہی ہے یہ،اس کی ماں پانی کا گلاس لے کر آئی اور عریشے پر چھڑکنا شروع کر دیا مگر عریشے پر کوئی اثر نہی ہوا۔

بہت ظالم ماں ہیں آپ،بیٹی کی حالت خراب ہے اور آپ کہہ رہی ہیں کہ ایکٹنگ کر رہی ہے۔

ہٹ جائیں راستے سے میں لے کر جا رہا ہوں اسے اگر کسی نے مجھے روکنے کی کوشش کی تو نقصان کا زمہ دار خود ہو گا۔

اس نے عریشے کے بے جان ہوتے وجود کو بازوں میں اٹھایا اور گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔

تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپٹل پہنچا اور سٹریچر پر لٹاتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کی طرف بڑھا۔

ہاسپٹل کا عملہ تیزی سے آگے بڑھا نوین سے اس کی حالت کا پوچھا اور عریشے کو ایمرجنسی وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔

آپ باہر انتظار کریں ہم سب سنبھال لیں گے۔۔۔۔نوین چپ چاپ وارڈ سے باہر آ گیا کیونکہ وہ اس حالت میں نہی تھا کہ عریشے کا ٹریٹمنٹ کر سکے اسی لیے اس نے اپنا تعارف کروانا بھی ضروری نہی سمجھا.)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *