Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 11)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

بھائی آپ یہ کیا کر رہے ہیں اپنے ساتھ’آخر کیوں خود کو اتنی بڑی سزا دے رہے ہیں؟

آپ اس رشتے سے خوش نہی ہیں پھر بھی یہ انگیجمنٹ کر لی آپ نے؟

بھائی میں بتا رہی ہوں آپ کو نہ تو علینہ کبھی خوش رہ سکے گی اور نہ ہی آپ تو پھر کیوں خود کو اس زبردستی کے بندھن میں باندھ رہے ہیں؟

لائبہ گھر آتے ہی نوین کے کمرے میں آ گئی۔

“کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہماری خوشی سے بڑھ کر ہمارے اپنوں کی خوشی زیادہ اہم بن جاتی ہے اور پھر اس خوشی کے لیے چاہے ہمیں اپنا آپ قربان ہی کیوں نا کرنا پڑے،،

مام،ڈیڈ کی خوشی اسی میں ہے تو جو بھی ہو مجھے اس رشتے کو نبھانا ہی ہو گا۔

بھائی ڈاکٹر عبیرہ بہت اچھی ہیں۔۔۔۔آپ سمجھ رہے ہیں ناں میں کیا کہنا چاہتی ہوں؟

سمجھ رہا ہوں میں تمہاری بات لائبہ مگر ہم ایک دوسرے کے لیے نہی بنے ان کی زندگی میں کوئی اور ہے۔نوین ظبط سے ٹائی کھینچتے ہوئے بولا۔

لیکن بھائی آپ بھی تو محبت کرتے ہیں ڈاکٹر عبیرہ سے؟

“میں نے ایسا کب کہا کہ مجھے عبیرہ سے محبت ہے”؟

رہنے دیں بھائی سب سمجھتی ہوں میں،جانتے ہیں آپ بچپن سے لے کر آج تک آپ نے کبھی جھوٹ نہی بولا مگر عبیرہ کے لیے جھوٹ بولا آپ نے۔۔۔۔

اس کی خاطر خود بھی جھوٹ بولا اور مجھے بھی اس جھوٹ میں شامل کیا۔

بھول گئے آپ وہ رات جب وہ ہاسپٹل میں تھی اور آپ پوری رات اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرتے رہے۔۔۔۔پوری رات سو نہی سکے آپ لیکن پھر بھی آپ کے چہرے پر تھکن کا کوئی آثار نہی تھا۔

یہ محبت نہی تو اور کیا ہے بھائی؟

لائبہ ایسا کچھ نہی ہے وہ سب بس دوستی نبھانے کے لیے کیا میں نے،تم پتہ نہی کیا کیا سوچے بیٹھی ہو۔

آپ محبت کو دوستی کا نام دے کر اس سچ سے انجان نہی سکتے۔۔۔۔

اگر آپ کو محبت نہی تھی تو پھر کیوں چپ چاپ وہاں سے چلے آئے؟

اس دن جب ڈاکٹر طلحہ اور عبیرہ کو ایک ساتھ دیکھا تو آپ سے برداشت نہی ہوا آپ چپ چاپ گھر آ گئے اور ڈیڈ کو کال کی کہ آپ علینہ سے انگیجمنٹ کرنا چاہتے ہیں۔

ڈیڈ تو خوش ہو گئے مگر آپ کی اپنی خواہشات اسی دن دم توڑ گئیں۔

“تم یہ سب کیسے جانتی ہو لائبہ؟

لائبہ کے منہ سے ڈاکٹر طلحہ کا نام سن کر نوین حیران رہ گیا۔

“ڈاکٹر طلحہ کو کیسے جانتی ہو تم؟

لائبہ کچھ پوچھا ہے میں نے۔

بس بہت ہو گیا بھائی مجھے لگتا ہے اب آپ سے کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہی رہی،میرا خیال ہے اب آپ کو سارا سچ بتا دینے چاہیے۔

کیسا سچ لائبہ؟

“آخر ایسا کیا ہے جو میں نہی جانتا؟

بھائی ایسا بہت کچھ ہے جو آپ نہی جانتے،دراصل اس دن ہاسٹل میں عبیرہ نے جان بوجھ کر ڈاکٹر طلحہ کا پرپوزل ایکسیپٹ کیا۔

کیونکہ وہ جانتی تھی کہ آپ اس کو دیکھ رہے ہیں اور درحقیقت اس نے وہ پرپوزل ایکسیپٹ ہی نہی کیا تھا۔وہ تو بس آپ کو دیکھانے کے لیے ایکٹنگ کر رہی تھی۔

لیکن وہ ایسا کیوں کرے گی لائبہ؟

وہ اس لیے بھائی کہ وہ نہی چاہتی کہ آپ اس کی وجہ سے ڈیڈ سے لڑیں،وہ چاہتی ہے کہ آپ ڈیڈ کی بات مان لیں۔

مگر وہ ایسا کیوں چاہے گی اور ڈیڈ کو کیسے جانتی ہے وہ؟

صرف ڈیڈ کو ہی نہی بھائی۔۔۔۔وہ ہم سب کو جانتی ہے۔آپ کو اور مجھے بچپن سے جانتی ہے وہ۔

یہ ساتھ والا بنگلہ جانتے ہیں کس کا ہے؟

کس کا؟

ڈاکٹر افشاں کا۔۔۔۔۔

واٹ۔۔۔اور آج تک مجھے کبھی بتایا ہی نہی ڈاکٹر افشاں نے؟

اور ڈاکٹر عبیرہ کا کیا تعلق اس بات سے؟

وہ میں بتاتی ہوں آپ کو،بھائی آپ کو وہ لاکٹ یاد ہے جو کسی نے آپ کی سالگرہ والے دن آپ کے کمرے میں رکھا تھا اور اس کے بعد آپ کے آفس میں وہ کارڈ اور پھول۔۔۔

اس کے بعد آپ کے کمرے میں وہ پھول وغیرہ۔۔۔

لائبہ۔۔۔۔۔یہ سب تم کیسے جانتی ہو؟

“کیا چل رہا ہے یہ سب؟

نوین کا لہجہ اب سخت ہو چکا ہے۔

بھائی دراصل وہ سب کچھ میرا اور ڈاکٹر افشاں کا پلان تھا۔

واٹ؟

نوین حیرت اور غصے سے چلایا۔

اس سارے معاملے کے پیچھے تم اور ڈاکٹر افشاں تھیں۔

Unbelievable!!!!!!

یقین نہی ہوتا کہ میری بہن خود پچھلے کئی دنوں سے اپنے ہی بھائی کو بے وقوف بنانے میں لگی ہے۔

دل تو چاہ رہا ہے ابھی شوٹ کر لوں خود کو۔۔۔۔لائبہ تم نے کیوں کیا ایسا؟

میں پوچھتا ہوں آخر کیوں؟؟؟؟؟

یہ سب اس لیے کیا ہم نے تا کہ آپ کو اور ڈاکٹر عبیرہ کو ملا سکیں۔۔۔۔

لیکن ایسا کیوں؟؟؟؟؟

اور کیا ڈاکٹر عبیرہ انجان ہے اس سارے معاملے سے؟

جی بھائی وہ پہلے نہی جانتی تھیں مگر اس دن جب آپ کے آفس میں پھول والا معاملہ ہوا تو وہ سب جان گئیں۔کیونکہ انہوں نے مجھے ڈاکٹر افشاں کو وہ پھول پکڑاتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

اس دن جو لڑکی گیٹ پر میرے ساتھ تھی وہ کوئی اور نہی ڈاکٹر عبیرہ تھی۔

وہ مجھے سمجھانے آئی تھی کہ میں یہ سب بند کر دوں۔

لائبہ کے انکشاف پر نوین کو عبیرہ اور افشاں کی ہوسپٹل میں ہونے والی لڑائی یاد آئی۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے میری سمجھ سے باہر ہے لائبہ۔۔۔۔وہ سر تھامتے ہوئے صوفے پر گر سا گیا۔

بھائی وہ عبیرہ ہے ناں۔۔۔۔۔دراصل وہ عبیرہ نہی ہے۔۔۔۔۔۔!

“وہ عریشے ہے،عریشے گُل!!!!!

لائبہ کی آواز پر نوین نے حیران کُن نظروں سے لائبہ کو دیکھا۔

کیا کہا تم نے؟

“عریشے گُل!!!!!!!

“تمہارا مطلب ہے کہ ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔۔ڈاکٹر عبیرہ نہی عریشے گُل ہے؟

جی بھائی۔۔۔۔وہی عریشے گُل جو گُل بی بی کی نواسی تھی،جس سے آپ بچپن میں شدید نفرت کرتے تھے۔

Shut up!!!!!!!

اب ایک لفظ نہی بولو گی تم،جو دل میں آتا ہے بول دیتی ہو۔

اب اتنا بھی بے وقوف مت سمجھو مجھے کہ تمہاری ہر بات پر یقین کر لوں گا میں۔

نہی بھائی میں سچ کہہ رہی ہوں وہ عریشے گُل ہے۔

جس دن گُل بی بی عریشے کو واپس چھوڑنے جانے والی تھیں اسی دن ان کو دادو نے روک لیا تھا اور ان سے کہا کہ عریشے اب کہی نہی جا سکتی۔

انہوں نے عریشے کو گود لے لیا تھا مگر مسئلہ تھا اس کو رکھنے کا کہ وہ اسے ڈیڈ سے چھپا کر کیسے رکھیں گی۔

اس کے لیے انہوں نے ڈاکٹر افشاں کی ماما سے بات کی اور وہ عریشے گل کو اپنے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گئیں۔

میں دادو کو افشاں کے گھر جاتے دیکھ چکی تھی مگر دادو نے بھی مجھے دیکھ لیا اور مجھ سے کہا کہ پرامس کرو یہ بات کسی کو نہی بتاو گی۔

وہ ان کے ساتھ ہی رہنے لگی،دادو نے عریشے کا ایڈمشن کروایا تو پتہ چلا کہ وہ بہت ہی ذہین بچی ہے۔پھر کیا ہماری دادو نے کلاسز جمپ کروائیں۔

اور عریشے آپ کے برابر آ گئی اور ڈاکٹر بن گئی۔حیرت انگیز طور پر عریشے نے بھی اسی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کی جہاں سے آپ نے کی تھی۔

اگر ابھی بھی آپ کو میری باتوں پر یقین نہی ہے تو آپ ہاسپٹل جا کر خود کیوں نہی دیکھ لیتے ڈاکٹر عریشہ کی فائل۔۔۔اس میں سارے ثبوت ہیں کہ وہ ڈاکٹر عبیرہ نہی ڈاکٹر عریشے گُل ہے۔

نوین تیزی سے اٹھا،اپنی گاڑی کے چابی اٹھائی اور باہر کی طرف دوڑ لگائی۔

تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے ہاسپٹل پہنچا اور ریکارڈ روم کی طرف بڑھا۔

نیو جوائینگ رینک کی طرف بڑھا تو حیرت کی انتہا نہ رہی۔واقعی وہاں ڈاکٹر عریشے گُل نام کی ایک فائل تھی۔

بے قابو ہوتی دھڑکن کو سنبھالتے ہوئے وہ فائل اٹھائی اور کھول کر دیکھنے لگا۔

ساری ڈگریز پر ایک ہی نام جگمگا رہا تھا اور وہ تھا “عریشے گُل۔۔۔

نوین کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے اور ابھی آنکھ کھلے گی اور خواب ٹوٹ جائے گا مگر آج ایسا کچھ نہی ہوا۔

یہ خواب نہی حقیقت تھی۔۔۔۔

میں کیسے نہی پہچان سکا تمہے عریشے گُل۔۔۔۔اسے یاد آئیں وہ عبیرہ کی سبز آنکھیں۔۔۔جن میں وہ اکثر کھو سا جاتا تھا مگر سمجھ نہی پاتا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اس کے ساتھ۔

مجھے ابھی ملنا ہے ڈاکٹر عبیرہ سے نہی۔۔۔”عریشے گُل سے ڈاکٹر نوین بن کر نہی “نوین شاہ بن کر وہی نوین شاہ جس کی بچپن کی ایک غلطی اب تک پچھتاوے کا سامان بنی ہوئی ہے۔

وہ وہاں سے نکل آیا اور ڈاکٹر افشاں کے گھر پہنچ کر بیل دی۔

اندر سے چوکیدار باہر آیا۔

جی آپ کون؟

وہ نہایت ادب سے بولا۔

مجھے ڈاکٹر عبیرہ سے ملنا ہے،

کون ڈاکٹر عبیرہ صاحب جی یہاں تو کوئی ڈاکٹر عبیرہ نہی رہتیں،آپ کسی اور گھر میں پتہ کر لیں۔

اوہ۔۔۔۔سوری دراصل مجھے ڈاکٹر عریشے سے ملنا ہے،ہم ایک ہی ہاسپٹل میں جاب کرتے ہیں۔

میں ڈاکٹر نوین ہوں یہ ساتھ والا بنگلہ ہمارا ہے۔

جی صاحب جی میں سمجھ گیا مگر ڈاکٹر عریشے صاحبہ تو گھر پر نہی ہیں۔

کچھ دن پہلے ان کے والد صاحب وفات پا گئے جس وجہ سے وہ اپنے گھر گئی ہیں۔

آپ ایسا کریں ڈاکٹر افشاں کو بلا دیں۔۔۔۔

جی صاحب جی آپ اندر آ جائیں میں ان کو فون کرتا ہوں۔

ڈاکٹر افشاں اوپر ٹیرس پر کھڑی نوین کو حیران کن نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

پھر تیزی سے نیچے آئی۔۔۔۔ڈاکٹر نوین آپ یہاں؟؟؟

آپ آئیں ناں اندر یہاں کیوں کھڑے ہیں۔۔آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔

sure!!!!

وہ دونوں اندر چلے گئے۔

ڈاکٹر نوین آپ اچانک یہاں کیسے؟

میرا مطلب سب خیریت تو ہے ناں؟

وہ دونوں ڈرائینگ روم میں بیٹھ چکے تھے۔

نہی۔۔۔۔۔کچھ خیریت نہی ہے ڈاکٹر افشاں!!!!!!

مجھے آپ سے ہرگز یہ امید نہی تھی،لائبہ میں تو بچپنا ہے مگر آپ تو سمجھدار تھیں پھر ایسی بے وقوفی کیوں کی آپ نے؟

مممیں ککککچھ سمجھی نہی ڈاکٹر نوین۔۔۔۔افشاں گھبراتے ہوئے بولی۔

سمجھ تو آپ چکی ہیں مگر سمجھنا نہی چاہ رہیں۔کہاں ہے ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔۔اوہ سوری۔۔۔میرا مطلب ہے”ڈاکٹر عریشے گُل!

نوین کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔

افشاں تو حیران رہ گئی نوین کے منہ سے عبیرہ کا اصلی نام سن کر۔

“جھوٹ بولنے کی کوشش مت کرنا کیونکہ لائبہ مجھے سب کچھ بتا چکی ہے۔

Sorry dr,Naveen!!!!!

وہ یہاں نہی ہے،طبیعت ٹھیک نہی تھی تو واپس اپنے گھر چلی گئی کچھ دنوں کے لیے،جلدی واپس آ جائے گی۔

مگر سر اس میں عریشے کا کوئی قصور نہی ہے وہ بے گناہ ہے۔

جو کچھ بھی کیا میں نے اور لائبہ نے کیا ہے،آپ پلیز اسے کچھ مت کہنا۔

“مجھے کیا کرنا ہے کیا نہی یہ میں خود ڈسائیڈ کر لوں گا آپ مجھے مت سکھائیں وہ غصے سے وہاں سے چلا آیا۔

*****************************************

کیوں پڑی ہے یہاں؟

چلی کیوں نہی جاتی اپنے شہر واپس۔۔۔۔چلی جا یہاں سے۔

چھوڑ دے ہمیں اکیلا،ہم خود کو سنبھال لیں گے۔

تیرے محتاج نہی ہیں ہم۔

دکان کی جتنی آمدنی ہے اس سے ہم گزارا کر لیں گے مگر خبردار جو تو نے ہمارے پیسوں پر نظر ڈالی۔

تیرا باپ تیرے لیے کچھ نہی چھوڑ کر گیا یہ سب کچھ میرے بچوں کا ہے۔

تو جا اپنی اس میڈم کے پاس۔۔۔گُل بی بی کے گزرنے کے بعد اب وہی تیرا سہارا ہے۔

ہم سے کسی قسم کی امید نہی رکھنا۔

تیرا رشتہ تیرے باپ کے ساتھ تھا اور اسی کی وجہ سے میں تجھے اب تک برداشت کر رہی تھی۔

وہ تو مر گیا مگر تجھے میرے حوالے چھوڑ گیا۔

اب میں کس کس کو سنبھالوں؟

جا اپنے شہر واپس،پڑھائی کر یا نوکری کر تیرا سر درد ہے۔

اب تو ڈاکٹر بن گئی ہے ناں تو،لاکھوں کمائے گی مگر ہم پر اپنے پیسے کا رعب ڈالنے کی ضرورت نہی ہے۔

“اماں آپ کیوں کہہ رہی ہیں ایسا”؟

میں تو آپ کی بیٹی ہوں ناں،آپ کے سوا میرا کون ہے؟

آپ کو اکیلے چھوڑ کر کیسے جا سکتی ہوں۔۔۔۔میرا سب کچھ تو آپ لوگ ہیں۔

میری کمائی پر صرف اور صرف آپ تینوں کا حق ہے۔

عریشے اپنی سوتیلی ماں کے سامنے زمین پر بیٹھی ان کے دونوں ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگائے آنسو بہا رہی تھی۔

باپ کے مرنے کی دیر تھی کہ اس کی سوتیلی ماں نے اپنے تیور دکھانے شروع کر دئیے۔

بس کر دے یہ ڈرامے،کل صبح اپنا سامان اٹھا اور دفع ہو جا یہاں سے ورنہ دھکے مار مار کر نکال دوں گی یہاں سے وہ اپنے ہاتھ کھینچتے ہوئے وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

عریشے وہی بیٹھی ساری رات آنسو بہاتی رہی نا جانے کب اس کی وہی آنکھ لگ گئی۔

فجر کی اذان کی آواز پر وہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔

نماز پڑھ کر دعا مانگ رہی تھی کہ دروازے پر دستک کی آواز کانوں میں پڑی۔

وہ جلدی سے دعا مانگ کر آمین کہتی ہوئی جائے نماز سمیٹ کر دروازے کی طرف بڑھی۔

اسے ڈر تھا کہ اگر اماں اٹھ گئی تو غصہ ہو گی کہ میں نے دروازہ کھولنے میں اتنی دیر کیوں لگا دی۔

صبح کی ہلکی ہلکی سی روشنی ہر طرف پھیل رہی تھی۔

جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *