Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 14)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 14)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
لے جاو اسے ابھی اپنے ساتھ،تمہارے ماں،باپ مانتے ہیں یا نہی مجھے اس بات سے کوئی فرق نہی پڑتا میرا اب اس سے کوئی رشتہ نہی ہے۔۔۔جیسے ہی سب گھر سے باہر نکلے وہ غصے سے بولنا شروع ہو گئیں۔اس جیسی بیٹی سے کو گھر میں رہنے کا کوئی حق نہی۔
بس کر دیں آپ۔۔۔۔یہ سب کچھ آپ کی وجہ سے ہوا ہے اگر آپ اپنی بیٹی کا ساتھ دیتی تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔
آپ نے موقع دیا سب کو عریشے پر انگلی اٹھانے کا،مگر اب اور نہی۔۔۔۔
“اب میں اپنی بیوی کے خلاف ایک لفظ برداشت نہی کروں گا،،
عریشے چلو یہاں سے۔۔۔وہ اسے بازو سے کھینچتے ہوئے گاڑی تک لے گیا اور وہ بنا چوں چراں کیے چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
نوین نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ایک نظر گم سم سی عریشے پر ڈالی اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
گاڑی پھر سے اسی رسٹورنٹ کے سامنے روک دی۔
عریشے چلو ناشتہ کر لو پہلے سفر لمبا ہے تمہاری طبیعت پہلے ہی خراب ہے۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔
“اب میری زندگی میں کچھ بھی ٹھیک نہی ہونے والا نوین شاہ۔۔۔سنا آپ نے؟
کچھ بھی ٹھیک نہی ہو گا اب کیونکہ میرے نام کے ساتھ اب “نوین شاہ” کا نام جڑ چکا ہے جو مجھے ہر وقت یہ احساس دلائے گا کہ میں آپ کے احسانوں تلے دبی ایک لاچار غلام ہوں۔
ایک بار پھر آپ جیت گئے نوین شاہ!!!!!!!
“ایک تھپڑ وہ تھا جو آپ نے مجھے بچپن میں مارا تھا اور ایک تھپڑ یہ ہے جو آج آپ نے مجھے مارا ہے،دونوں بازیوں میں جیت آپ کی ہوئی اور میرا مقدر بنے یہ آنسو اور زندگی بھر کا احسان،،
عرِیشے کیا ہو گیا ہے؟
یہ کیسی باتیں کر رہی ہو؟
جو کچھ ہوا اس میں میرا کوئی قصور نہی۔۔۔۔حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ میرے پاس اور کوئی آپشن بچا ہی نہی۔
حالات۔۔۔۔۔؟
حالات آپ کے خود کے پیدا کیے گئے ہیں،آپ امیر لوگوں کے لیے تو آسان ہوتا ہے حالات کا بہانہ بنا کر معاملات سے جان چھڑانا مگر ہم غریب لوگ آپ کے پیدا کیے گئے حالات سے زندگی بھر آنسووں کی چکی میں پستے ہیں۔
عریشے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تمہیں،میں نے تو جو کچھ کیا تمہیں اور تمہاری فیملی کو پروٹیکٹ کرنے کے لیے کیا۔
اور یہ کیا ہے امیر،غریب۔۔۔۔؟
“آج سے بلکہ ابھی سے خود سے یہ غریبی کا ٹیگ ہٹا دو،اب تم میری بیوی ہو اور جو کچھ میرا ہے وہ تمہارا بھی ہے تو خود کو غریب کہنا بند کر دو،،
ہمارے درمیان یہ جو امیری اور غریبی کی دیوار ہے اسے ختم کر دو۔
بھول جاو ساری باتیں،ایک نئی زندگی کا آغاز کرو۔
اب دنیا کو عریشے گُل بن کر نہی مسز نوین شاہ بن کر دیکھو۔
مجھے امید ہے میرے نام سے جڑی دنیا تمہیں خوبصورت لگے گی۔
آپ کے لیے کہنا آسان ہے مگر میرے لیے یہ کرنا مشکل ہے کیونکہ دھوکے سے جڑے رشتے کبھی خوشی نہی دیتے،ایسے رشتے اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔
بہتر ہو گا آپ مجھے اس کھوکھلے رشتے سے آزاد کر دیں اور اپنی زندگی آزادی سے جئیے۔۔۔
I think you are tottly mad!!!!
میں نے کوئی دھوکا نہی دیا تمہیں۔۔۔شاید قسمت میں ہمارا ملنا ایسے ہی لکھا تھا۔
میں تو یہاں آیا تھا تم سے۔۔۔۔وہ ایک پل کے لیے رکا۔
خیر یہ سب بعد میں بتاوں گا جب تم مجھ پر پقین کرنے لگو گی کیونکہ۔۔۔۔
“ابھی تم بے اعتباری کی اس سیڑھی پر ہو جہاں سے واپس پلٹننے کے لیے تمہیں پھر سے اعتبار کا دامن تھامنا ہو گا جو تم ابھی تھامنا نہی چاہتی،،
تمہیں باہر نہی آنا تو کوئی بات نہی میں ناشتہ یہی لے آتا ہوں۔
کیا کھاو گی؟
سینڈوچ،برگر،پزا یا کچھ اور؟
عریشے نے کوئی جواب نہی دیا تو وہ چپ چاپ گاڑی سے باہر نکل گیا۔
کچھ دیر بعد واپس آیا تو وہ ابھی تک اسی حالت میں بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔
عریشے کی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور شیک اس کی طرف بڑھایا۔
عریشے نے سر نفی میں ہلا دیا۔
عریشے گُل۔۔۔۔اب کی بار نوین کا لہجہ تھوڑا سخت تھا۔
عریشے نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکرا دیا۔
تمہیں لگتا ہے کہ تم میری غلام ہو تو اس لحاظ سے میری ہر بار ماننی ہو گی تمہیں۔۔۔یہ شیک لو اور جلدی سے ختم کرو،یہ میرا حکم ہے۔
عریشے چند پل اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر آنسو پونچھتے ہوئے گلاس تھام لیا۔
Good girl…
نوین حسرت بھری نگاہوں سے دروازے پر کہنی جمائے ہاتھ تھوڑی پر ٹکائے سے اسے دیکھنے لگا وہ کسی معصوم بچے کی طرح آنسو بہاتے ہوئے شیک پی رہی تھی۔
کبھی سوچا نہی تھا کہ جس عریشے سے بچپن میں نفرت تھی مجھے وہی دل کے اتنے قریب ہو جائے گی ،اب سمجھ آتی ہے اس بے چینی کی تمہارے وہ آنسو مجھے رات بھر سونے کیوں نہی دیتے تھے دراصل وہ بے چینی نہی تمہاری محبت تھی جو اب تک میرے دل میں آہستہ آہستہ اپنی گرفت مظبوط کر رہی تھی اور آج اس محبت کے انعام میں مجھے تمہارا ساتھ ملا۔وہ یونہی اسے دیکھتے سوچ میں گم ہو چکا تھا تب ہی عریشے نے اس کے سامنے گلاس رکھا تو وہ چونک کر مسکرا دیا۔
گلاس لے کر واپس اندر چلا گیا اور ایک بیگ لے کر واپس گاڑی میں بیٹھ گیا اور وہ بیگ عریشے کی گود میں رکھ دیا۔
عریشے نے خونخوار نظروں سے اسے گھورا۔
یہ سب تمہارے لیے ہے راستے میں کھاتی رہو ویکنیس نہی ہونی چاہیے۔۔۔۔وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔
میں کیوں کھاوں یہ سب کچھ؟
آپ کھا لیں آپ نے بھی تو صبح سے کچھ نہی کھایا۔۔۔
یعنی کہ میری بیوی کو میری بہت فکر ہے۔۔۔نوین کی بات پر عریشے کا دل چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے۔
“زیادہ خوش فہمی انسان کو پاگل کر دیتی ہے اسی لیے بہتر ہے کہ آپ یہ خوش فہمیاں نا ہی پالیں تو اچھا ہے بعد میں پچھتانے سے بہتر ہے کہ ابھی سے پچھتا لیں،،
میں اس زبردستی کے رشتے کو قبول نہی کرنے والی۔۔میرے لیے یہ رشتہ بس غلامی کی حیثیت رکھتا ہے جو میں اپنی آخری سانس تک نبھاوں گی۔
As you wish….
مگر مجھے خوشی ہے چاہے غلامی میں ہی سہی تم نے یہ رشتہ دل سے نبھانے کا عہد تو کیا۔
اب کچھ کھا لو اور سو جاو سفر طویل ہے اور تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔
عریشے نے وہ بیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر رکھ دیا اور سیٹ سے سر ٹکائے آنکھیں موند گئی۔
نوین بھی ایک نظر اسے دیکھتے ڈرائیونگ میں مصروف ہو گیا۔
وہ سارے راستے ایسے ہی سوتی رہی نوین نے اسے نہی جگایا کیونکہ اس نے شیک میں نیند کی گولی ملائی تھی تا کہ یہ چند گھنٹے ریلیکس ہو کر سو جائے۔
لاہور پہنچ کر نوین نے گاڑی ہاسپٹل کی طرف موڑ دی وہ جانتا تھا کہ عریشے اپنی فیملی سے زیادہ دادو سے اٹیج ہے تو اسی لیے وہ سیدھا ہاسپٹل آ گیا۔
گاڑی پارکنگ میں روکی اور عریشے کو آواز دی وہ دوسری آواز پر سر مسلتے ہوئے اٹھ گئی۔
نیند کی گولی کی وجہ سے سر بہت بھاری ہو رہا تھا اور چکر بھی آ رہے تھے۔
آ جائیں میم۔۔۔۔پہنچ گئے ہم ہاسپٹل۔
نوین گاڑی سے باہر نکل کر اس کی سائیڈ والا دروازہ کھولتے ہوئے بولا۔
وہ چپ چاپ گاڑی سے باہر نکلی اور نوین کے ساتھ چلتی گئی۔
شہلا بیگم کے کمرے میں پہنچ کر نوین نے دروازہ ناک کیا۔
انہوں نے جیسے ہی نوین اور عریشے کو ایک ساتھ دیکھا چونک کر اپنی سیٹ سے اٹھ کر ان کی طرف بڑھیں۔
نوین۔۔۔۔؟
عریشے آگے بڑھ کر ان کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگی۔
کیا ہوا میری بچی کو؟
نوین کہاں تھے تم؟
کتنی کالز کی میں نے اور کیا ہے یہ سب؟
حالت دیکھو اپنی تم انگیجمنٹ کے بعد سے غائب ہو تمہارے ڈیڈ بہت پریشان ہیں تمہارے لیے۔
ان کو تو یہی پتہ ہے کہ تم ہاسپٹل ہو مگر تم عریشے کے ساتھ تھے؟
کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔؟
اگر تمہیں سب پتہ چل بھی گیا تھا تو آ کر مجھ سے بات کرتے ڈائریکٹ عریشے کے گھر جانے کی کیا ضرورت تھی؟
آخر تم کب بڑے ہو گے؟
دادو پلیز ریلیکس۔۔۔۔
سب ٹھیک ہے کچھ نہی ہوا آپ آرام سے بیٹھیں آپ کو سب بتاتا ہوں میں۔
عریشے بیٹھو یہاں۔۔۔۔وہ اسے خود سے الگ کرتی ہوئی کرسی پر واپس بیٹھ گئیں اور عریشے کی طرف پانی کا گلاس بڑھایا۔
نوین نے کمرے کا دروازہ لاک کیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔
دادو آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے،دراصل ہوا یہ کہ جب میں عریشے کے گھر پہنچا تو۔۔۔۔۔اس نے شروع سے لے کر نکاح تک کی ساری بات ان تک پہنچا دی۔
Oh my God!!!!!
یہ تم نے کیا کر دیا نوین تم جانتے ہو اپنے باپ کو وہ عریشے کو کبھی اپنی بہو تسلیم نہی کرے گا۔
پہلے کیا کم مشکلات تھی اس بچی کی زندگی میں جو تم نے مزید بڑھا دیں۔
دادو میں مجبور ہو گیا تھا اور کوئی آپشن نہی تھی،کم ازکم آپ تو میرا یقین کریں۔
ٹھیک ہے میں کر لیتی ہوں یقین۔۔۔۔مگر اب کیا؟
آگے کیا ہو گا؟
عریشے اب تمہاری بیوی بن چکی ہے اور یہ تمہاری زمہ داری ہے اب،اپنے ڈیڈ کو منانا ہی ہو گا تمہیں ہر حال میں!!!!!
مگر دادو میں کیسے؟
آپ میری ہیلپ کریں،آپ بھی تو شامل ہیں اس معاملے میں۔۔۔۔آخری بات پر وہ مسکرا دیا۔
مطلب دادی کو دھمکیاں؟
وہ نوین کا کان کھینچتے ہوئے بولیں۔
نوین یہ مزاق کا وقت نہی ہے بیٹا۔
ایسا کرتا ہوں عریشے کو گھر لے جاتا ہوں اور بتا دیتا ہوں ڈیڈ کو سب کچھ۔۔۔
نہی اتنی جلدی ایسا قدم مت اٹھانا۔۔۔فی الحال تم گھر جاو۔
عریشے کو ساتھ لے جاو اور افشاں کے گھر چھوڑ دو۔
impossible….
عریشے کا حق ہے اب میرے ساتھ میرے گھر میں رہنا تو میں کیسے اسے کسی اور کے گھر میں چھوڑ دوں۔
عریشے وہی رہے گی جہاں میں۔۔۔۔۔آپ چلیں میرے ساتھ دونوں مل کر بات کرتے ہیں۔
نہی نوین۔۔۔۔ابھی سہی وقت نہی ہے میں تمہارے جذبات سمجھ سکتی ہوں بیٹا تمہیں عریشے کی فکر ہے مگر عریشے کو اس گھر میں لیجانے کے لیے تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا تمہیں۔
جاو عریشے نوین کے ساتھ،جب تک ہم ان کو منا نا لیں تمہیں وہی رہنا پڑے گا۔
وہ چپ چاپ سر ہلا کر باہر کی طرف بڑھ گئی اور نوین بھی اس کے ساتھ چل دیا۔
بس یہی گاڑی روک دیں آپ،میں نہی چاہتی کہ کوئی آپ کے ساتھ مجھے دیکھے۔۔۔۔گاڑی ابھی افشاں کے گھر سے کچھ دور تھی جب عریشے بول پڑی۔
مگر ابھی تو گھر کافی دور ہے عریشے۔۔۔۔نوین گاڑی روکتے ہوئے بول۔
میں چلی جاوں گی آپ میری فکر مت کریں۔
آپ اپنی فکر کریں اگر آپ کو کسی نے میرے ساتھ دیکھ لیا تو آپ کے اور آپ کے ڈیڈ کے سٹیٹس کو بہت بڑا دھکچہ لگ سکتا ہے۔
وہ نوین کے کچھ بھی بولنے سے پہلے گاڑی سے باہر نکل گئی اور پیدل گھر کی طرف چل دی۔
ڈور بیل بجائی تو گیٹ کیپر نے دروازہ کھولا اور وہ ان کو سلام کرتی ہوئی گھر میں داخل ہوئی،ایک بار پلٹ کر نوین کی طرف دیکھا جو گاڑی گیٹ کے سامنے روک چکا تھا۔
گیٹ بند کرتی ہوئی اندر چلی گئی۔۔۔
نوین نے گاڑی اپنے گھر کی طرف بڑھا دی ہارن بجایا تو گیٹ کیپر نے گیٹ کھول دیا اور وہ بھی تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
اسے ڈر تھا کہ اگر مام،ڈیڈ نے اسے انگیجمنٹ والے ڈریس میں دیکھ لیا تو ان کو شک ہو سکتا ہے کہ میں ہاسپٹل نہی کہی اور تھا۔۔۔۔
کمرے میں جا کر سکھ کا سانس لیا،فریش ہو کر نیچے پہنچا۔
سب ڈائینگ ٹیبل پر موجود تھے وہ سلام کرتے ہوئے کھانا کھانے بیٹھ گیا۔
بہت مصروف رہنے لگے ہو آجکل،گھر آنے کا بھی وقت نہی ملتا۔
نہی ڈیڈ ایسا کچھ نہی بس صبح کچھ ایمرجنسی تھی تو بنا بتائے چلا گیا۔
آپ بتائیں کیسے ہیں؟
مجھے کیا ہونا ہے بھئی گھر میں خوشیاں آنے والی ہیں میرے اکلوتے بیٹے کا نکاح ہے بہت جلد۔۔۔میں تو گِن گِن کر دن گزار رہا ہوں کہ کب اپنے بیٹے کو دلہا بنا دیکھو۔
نوین کی پلیٹ پر گرفت مظبوط ہوئی اور ٹرے کی طرف بڑھتا ہاتھ رک گیا اور وہ بہ مشکل مسکرا دیا۔کیا ہوا کھانا کیوں نہی کھا رہے۔۔۔مسز شاہ نوین کی خالی پلیٹ دیکھ کر آگے بڑھی اور کھانا ڈالنے لگی۔
نوین نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور گہری سانس لیتے ہوئے خود کو ریلیکس کیا اور کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔
کھانا کھانے کے بعد کمرے میں آ کر سونے کے لیٹ گیا تھکاوٹ سے برا حال تھا لیٹتے ہی سو گیا۔
*****************************************
شاہ صاحب کمرے میں پہنچے تو فون بج رہا تھا انجان نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا۔
اسلام و علیکم!!!!
وہ کال پِک کرتے ہوئے بولے۔
وعلیکم اسلام۔۔۔کیسے ہیں جناب شاہزیب شاہ۔۔۔۔مخالف کا لہجہ طنزیہ تھا۔
میں ٹھیک ہوں مگر معزرت میں نے آپ کو پہچانا نہی۔۔۔وہ تھوڑا سوچتے ہوئے بولے۔
آپ کا پرانا دوست۔۔۔۔گلریز شاہ۔
پہچان تو لیا ہی ہو گا ڈئیر کزن!
کیوں فون کیا مجھے؟؟؟؟
شاہ صاحب کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔
ارے بھئی کیا ہو گیا اتنے سالوں بعد فون کیا مگر تمہارے لہجے کی کڑواہٹ ابھی بھی ویسی ہی ہے۔
میں نے تو تمہیں مبارک بعد دینے کے لیے فون کیا تھا مگر تمہارے تو مزاج ہی نہی مل رہے۔۔۔
مبارک باد؟
کس بات کی مبارک باد؟
ارے بھئی بیٹے کی شادی کی مبارک باد۔۔۔۔نوین کی شادی کر دی تم نے اور ہمیں بلانا بھی ضروری نہی سمجھا۔۔۔۔ویسے اچھا نہی کیا تم نے۔
نوین کی شادی؟
کس نے کہہ دیا تم سے کہ نوین کی شادی ہو گئی ہے،اس کی شادی نہی منگنی تھی کل اور اگر شادی ہوتی بھی تو میں تمہیں بلانا ضروری نہی سمجھتا۔۔۔کیونکہ میں تم سے اپنا رشتہ تیس سال پہلے ہی ختم کر چکا ہوں۔
وہ سب تو ٹھیک ہے مگر اب تمہارے اصول بہت بدل گئے ہیں۔
میں تو سمجھا تھا کہ تم نے بیٹے کی شادی کر دی ہے اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ تھا مگر خیر شاید مجھے غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
وہ لڑکی نوین کی دوست ہو گی شاید!!!!
کونسی لڑکی؟
میرا بیٹا اتنا آوارہ نہی ہے جو لڑکیوں سے دوستی کرے۔۔۔تم نے ضرور کسی اور کو دیکھا ہو گا۔
اوہو۔۔۔۔کتنے بھولے ہو تم۔۔۔۔فون میں ان کا قہقہ گونجا۔
میرے ہاسپٹل آیا تھا نوین ایک بے ہوش لڑکی کو لے کر۔۔۔۔بہت پریشان لگ رہا تھا۔
مجھے لگا شاید اس کی بیوی ہے۔تو سوچا مبارک باد دے دوں تمہیں۔
اب تک تو گھر پہنچ گیا ہو گا نوین،کافی لمبا سفر تھا تھک گیا ہو گا۔
لمبا سفر؟
آخر کہنا کیا چاہتے ہو تم صاف صاف بولو پہیلیاں مت بوجھاو۔۔۔۔شاہ صاحب غصے سے تپ چکے تھے۔
مطلب یہ کہ پشاور سے لاہور تک پہنچتے چھ سے سات گھنٹے تو لگ ہی جاتے ہیں۔
پشاور؟
نوین پشاور کیوں جائے گا ہمارا وہاں کوئی نہی رہتا وہ ہاسپٹل میں تھا لاہور۔۔۔تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
مجھے غلط فہمی ہوئی ہے یا درست فہمی یہ تم اپنے بیٹے سے ہی کیوں نہی پوچھ لیتے؟
پوچھ کر دیکھنا سب پتہ چل جائے گا۔۔۔۔میرے ماں،باپ کی تربیت پر انگلی اٹھانے والے نے اپنی اولاد کی کیسی تربیت کی ہے زرا تمہیں بھی تو پتہ چلے۔۔۔
تم میرے بیٹے پر بہتان لگا رہے ہو۔۔۔۔بس اب میں ایک بات نہہی سنوں گا تمہاری۔۔۔۔دوبارہ مجھے فون مت کرنا۔
نہی کروں گا مگر بات ضرور کرنا اپنے بیٹے سے۔۔۔عریشے گُل۔۔۔۔عریشے گُل نام تھا اس لڑکی کا جس کے ساتھ وہ آیا تھا۔
شاہ صاحب نے غصے سے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔
کیا ہوا بہت پریشان لگ رہے ہیں آپ؟
مسز شاہ کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔ان کو پریشان دیکھا تو بول پڑیں۔
گلریز کی کال تھی پشاور سے۔۔۔کہتا ہے آج نوین پشاور آیا تھا اس کے ہاسپٹل ایک بے ہوش لڑکی کو لے کر جس کا نام عریشے گُل تھا۔
دماغ خراب ہو چکا ہے اس کا،ہمیں خوش دیکھ کر جلتا ہے۔
ذہر گھولنا چاہتا ہے ہمارے ہنستے بستے گھر میں۔
عریشے گُل؟
وہ اس نام پر سوچ میں پڑ گئیں مگر اگلے ہی پل ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔
عریشے گُل۔۔۔۔گُل بی بی کی نواسی!!!!!
وہ شاہ صاحب کے سامنے تو کچھ نہی بولیں مگر ان کے دل میں بیٹے کے لیے شک کا بیج پیدا ہو گیا۔
چھوڑیں آپ اس کی عادت ہے آپ تو جانتے ہیں اپنے بیٹے کو وہ ایسا نہی ہے۔وہ ان کو مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔
مجھے اپنے بیٹے پر اور اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے۔
مسز شاہ نے سکھ کا سانس لیا وہ تو ڈر چکی تھیں کہ کہی ان کو عریشے یاد نہ آ گئی ہو۔
صبح بات کرتی ہوں نوین سے آخر یہ سب کیا چل رہا ہے۔
(جاری ہے)
