Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 03)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 03)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
عریشے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے گارڈن میں کر بیٹھ گئی پھولوں کے پاس۔
اسے ڈر تھا کہ پھر سے نوین نہ آ جائے۔پھر بھی ہمت کرتے ہوئے باہر آ بیٹھی۔
وہ گارڈن میں ہونے والی سجاوٹ کو بہت غور سے دیکھ رہی تھی۔
سامنے ایک بڑا سا سٹیج تھا۔جس پر پھولوں سے سجاوٹ کی جا رہی تھی۔
سٹیج کے سامنے کرسیاں اور میز لگائے جا رہے تھے۔
عریشے نہی جانتی تھی کہ آج نوین کی سالگرہ ہے وہ ننھی سی بچی یہ سمجھ کر خوش ہو رہی تھی کہ آج گھر میں شادی ہے۔
عریشے آخر کار تھک ہار کر کمرے میں جا کر سو گئی۔
گل بی بی دوپہر کو کمرے میں آئی عریشے کو کھانا کھلانے۔
مگر عریشے کو سوتے دیکھ کر وہ واپس پلٹ گئیں۔بہت کام تھے آج گھر میں۔
شام کو عریشے کی آنکھ کھلی تو کھڑکی سے چھن چھن کمرے میں داخل ہوتی روشنی دیکھ کر جلدی سے باہر کی طرف بڑھی۔
باہر جاتے ہی عریشے کی حیرت کی انتہا نہی رہی۔
سارا گارڈن روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔
ہر طرف رنگ برنگی روشنیاں پھیلی ہوئیں تھیں۔
عریشے حسرت بھری نگاہوں سے اردگرد دیکھنے لگی۔
ابھی تک کوئی مہمان نہی آیا تھا۔
عریشے اکیلی ہی یہاں چلتی جا رہی تھی۔
ایسی خوبصورت لائیٹنگ اور سجاوٹ اس نے پہلی بار دیکھی تھی۔
وہ اپنا فراک سنبھالتی ہوئی گول گول گھومتی کبھی اِدھر جاتی تو کبھی اُدھر۔
سب سے بیگانی ہو چکی تھی وہ۔
اسے پتہ ہی نہی چلا وہ کب سٹیج پر آ گئی۔
وہ سٹیج پر آ کر جب تھک گئی تو صوفے پر لیٹ گئی۔
صوفہ بہت سکون دہ تھا۔
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
عریشے نے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر لیں۔
کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ ہی نہی چلا۔
عریشے کو کسی نے بازو سے جھنجوڑ کر اٹھایا۔
عریشے نے آنکھیں کھولیں تو سامنے مسز شاہ کھڑی تھیں اور ساتھ میں نوین بھی کھڑا تھا۔
تم یہاں کیوں سو رہی ہو عریشے بیٹا جاو اپنے کمرے میں جا سو جاو۔
یہ بھی کوئی سونے کی جگہ ہے۔وہ ناگواری سے بولیں۔
عریشے کے کپڑوں پر لگی مٹی سفید صوفے پر اپنے داغ چھوڑ چکی تھی۔
نوین گرے پینٹ کوٹ پہنے بہت رعب دار لگ رہا تھا۔
پینٹ کی پاکٹس میں ہاتھ ڈالے وہ بہت مغرور انداز میں عریشے کو دیکھ رہا تھا۔
عریشے اس کے نظریں خود پر جمی محسوس کر چکی تھیں۔
نوین کی آنکھوں میں امڈتا غصہ اس سے چھپا نہی تھا۔
نوین آگے بڑھا اور ایک زور دار تھپڑ ننھی عریشے کے نازک سے گال پر مار دیا۔
عریشے گال پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھنے لگی۔
مسز شاہ جلدی سے نوین کی طرف بڑھیں۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے نوین؟
چھوٹے بچوں پر ہاتھ نہی اٹھاتے۔
مسز شاہ نے نرم لہجے میں نوین کو سمجھایا۔
گارڈن میں داخل ہوتے مسٹر شاہ،نوین کی دادو،لائبہ اور گھر کے بہت سے ملازموں نے نوین کو عریشے کو تھپڑ رسید کرتے دیکھ لیا۔
نوین کے بابا جلدی سے سٹیج کی طرف بڑھے۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب؟
وہ ناگواری سے عریشے کو دیکھتے ہوئے بولے۔
آپ نے دیکھا نوین نے اس بچی کو تھپڑ مارا؟
مسز شاہ صدمے کی کیفیت میں بولیں۔
جی دیکھا ہے میں نے!
بہت اچھا کیا ہے نوین نے!
یہ لڑکی اپنی اوقات بھول رہی تھی۔
بہت اچھا کیا نوین نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی۔
یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟
چھوٹی بچی ہے یہ!
مسز شاہ نے کچھ بولنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ان کو بولنے سے روک دیا۔
گل بی بی کو بلا کر لاو۔۔۔۔وہ ایک ملازمہ کو حکم دیتے ہوئے بولے۔
وہ تیزی سے اندر کی طرف بھاگی۔
چند لمحوں بعد وہ گل بی بی کے ساتھ وہاں آئی۔
گل بی بی جلدی سے آگے بڑھیں۔
انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے گل بی بی کو وہی رکنے کا اشارہ کیا۔
گل بی بی وہیں رک گئیں۔
سامنے سٹیج پر گال پر ہاتھ رکھے کھڑی عریشے کو دیکھ کر ان کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
آج کے بعد یہ لڑکی اس گھر میں نظر نہی آئے مجھے گل بی بی۔
شاہ صاحب غصے سے پھنکارے۔
لیکن صاحب جی ہوا کیا ہے؟
گل بی بی پریشان ہوتے ہوئے بولیں۔
کچھ نا ہو اسی لیے کہہ رہا ہوں لے جاو اسے یہاں سے۔
یہ لڑکی اب یہاں نہی رہ سکتی۔
بس آج کی رات ہے یہ یہاں!
صبح ہوتے ہی اس بچی کو اس کے باپ کے حوالے کر آو۔
لیکن صاحب جی یہ وہاں کیسے جا سکتی ہے۔اس کی سوتیلی ماں بہت ظلم کرتی ہے اس پر۔
اسی لیے تو یہاں لائی تھی میں اس کو۔
گل بی بی دکھی سی حالت میں بولیں۔
یہ میرا مسلہ نہی ہے گل بی بی!
میرا بیٹا بہت ڈسٹرب رہتا ہے اس لڑکی کی وجہ سے اور میرے بیٹے کو کوئی دکھ پہنچے میں یہ برداشت نہی کر سکتا۔
گل بی بی نے مدد کن نظروں سے سب کی طرف دیکھا۔
مگر کسی نے بھی عریشے کے حق میں آواز نہی اٹھائی۔
وہ آنکھوں میں آتے آنسو صاف کرتے ہوئے آگے بڑھیں اور عریشے کو بازو سے کھینچتے ہوئے چلتی گئیں۔
عریشے بس صدمے سی حالت میں نوین کو دیکھتی رہی۔
عریشے کی سبز آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھ کر بھی نوین کا دل نہی پگھلا۔
وہ بس مغرور سا کھڑا عریشے کو جاتے دیکھتا رہا۔
گل بی بی نے عریشے کو کمرے میں چھوڑ کر دروازہ باہر سے بند کر دیا اور خود گھر کے اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئیں۔
عریشے بستر پر گری آنسو بہاتی رہی۔
باہر سے آتی میوزک کی آواز،مہمانوں کا شور شرابہ،عریشے پوری رات نا سو سکی۔
پارٹی رات دیر تک چلتی رہی۔
عریشے کا دل ہی نہی چاہا کہ کھڑکی سے جھانک کر باہر کا منظر دیکھ لے۔
وہ کھڑکی کی طرف نہی بڑھی۔۔۔کیونکہ اس کی اوقات نہی تھی یہ سب دیکھنے کی۔
“نوین کے ایک تھپڑ نے اسے اس کی اوقات سمجھا دی تھی۔
اس نے عہد کر لیا خود سے کہ دوبارہ کبھی اپنی اوقات سے باہر نہی نکلے گی۔
پارٹی کا شور ختم ہوا تو کچھ دیر بعد گل بی بی تھکی ہاری کمرے میں داخل ہوئیں۔
عریشے منہ موڑے لیٹی رہی۔
وہ جانتی تھیں عریشے جاگ رہی ہے۔
اس کے لیے کھانا لے کر آئیں وہ۔
عریشے کو پیار سے اٹھا کر بٹھایا۔
آج میں اپنی عریشے گل کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلاوں گی۔
وہ عریشے کی طرف بریانی کا چمچ بڑھاتے ہوئے بولیں۔
عریشے منہ موڑ گئی۔
نہی گل بی بی مجھے نہی کھانا۔
گل بی بی مسکرا دیں۔
کھانا تو کھانا پڑے گا عریشے گل۔
اگر کھانا نہی کھاو گی تو اپنے گھر کیسے جاو گی۔
خالی پیٹ سفر نہی کر سکو گی۔
عریشے نے چونک کر گل بی بی کی طرف دیکھا۔
وہ مسکرا دیں۔
ہاں میری گڑیا کل صبح تم اپنے گھر جا رہی ہو اپنے بابا کے پاس۔
اب یہاں رہنا مناسب نہی ہے۔اس بڑھاپے میں کب تک تجھے سنبھالوں گی میں۔
یہ لوگ تو میری زندگی میں نہی پوچھتے میرے مرنے کے بعد کہاں پوچھیں گے۔
اس سے تو اچھا ہے کہ تم اپنی سوتیلی ماں کے ظلم و ستم برداشت کر لو۔
جو بھی ہو گا کم ازکم اپنے باپ کی نظروں کے سامنے تو رہو گی۔
عریشے چپ چاپ کھانا کھانے لگے۔بابا سے ملنے کی خوشی میں عریشے سب بھول گئی۔
اگلی صبح گل بی بی اسے ساتھ لیے چل پڑیں۔
صبح نوین عریشے سے ملنے آیا۔
اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔
عریشے کی آنسو بہاتی سبز آنکھیں اس کا دل پگھلا چکی تھیں۔
مگر اب وقت گزر چکا تھا۔
نوین نے آنے میں دیر کر دی۔
وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
کمرہ خالی تھا نا تو عریشے تھی اور نا ہی گل بی بی۔
نوین کے پاس شرمندگی کے سوا کچھ نہی بچا۔
اس کی وجہ سے ایک ننھی بچی کا اتنا دل دکھا۔یہ بات اسے سمجھ آ چکی تھی۔
مگر اب دیر ہو چکی تھی عریشے جا چکی تھی اور نوین کے پاس افسوس کے سوا کچھ نہی رہا۔
اپنی انا اور غرور میں بہت بڑی غلطی کر چکا تھا وہ!
نوین دبے پاوں کمرے سے باہر نکل گیا۔
________________________________________
نوین کے ان رویوں کا زمہ دار وہ خود نہی تھا۔غلطی اس کے بابا کی تھی۔وہ نوین کے سامنے ملازموں کو جھاڑتے۔اپنی انا اور دولت کا رعب دکھاتے۔
بچے کا دماغ خالی میموری کارڈ کی طرح ہوتا ہے۔ہم اس کے سامنے جو بولیں گے وہ وہی دماغ میں محفوظ کرے گا۔
اور پھر وہی ڈیٹا وہ پلے کرے گا۔
ہم اس کے سامنے جو رویہ اپنائیں گے وہ بھی وہی رویہ اپنائے گا۔
ہمارے بچوں کے رویے ہماری بدولت ہی بدلتے ہیں کیونکہ ہم بچوں کے سامنے چلاتے ہیں۔ان کے سامنے دوسرے بچے پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔
بچہ یہ سب اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے اور پھر اسی طرح بچہ چلانا سیکھتا ہے اور اپنے سے چھوٹے بچے پر ہاتھ اٹھاتا ہے۔
اس سب کے پیچھے کہی نا کہی ماں باپ کے رویوں کا اثر ضرور ہوتا ہے۔
بلکل اسی طرح نوین نے بھی یہ سب اپنے بابا سے ہی سیکھا ہے۔
کیونکہ وہ اس کے سامنے ملازموں پر رعب جھاڑتے تھے اور کبھی کبھار ہاتھ اٹھانے سے بھی گریز نہی کرتے تھے۔وہ یہ نہی سوچتے تھے کہ پاس کھڑے نوین کے ننھے ذہن پر کیا اثر پڑے گا۔
انہی رویوں کی وجہ سے نوین نے عریشے پر ہاتھ اٹھایا۔مگر اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔
لیکن اس نے سمجھنے میں دیر کر دی۔
________________________________________
اگلے دن نوین سکول سے واپس آیا تو اسے گل بی بی نظر آئیں۔
وہ تیزی سے ان کے کمرے کی طرف بڑھا۔مگر کمرہ خالی تھا۔
عریشے جا چکی تھی۔نوین مایوسی سے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔
جیسے ہی نوین کمرے سے باہر نکلا سامنے اس کے بابا کھڑے تھے۔
ان کو سامنے دیکھ کر نوین گھبرا گیا۔
وہ تیزی سے نوین کی طرف بڑھے۔
نوین کیا ہے یہ سب؟
تم یہاں کیا کر رہے ہو سرونٹ کوارٹر میں؟
ان کی آواز تھوڑی غصیلی تھی۔
بابا وہ میں عریشے۔۔۔!
نوین کی آواز لڑکھڑانے لگی۔
کیا عریشے۔۔؟
اب کی بار ان کی آواز مزید اونچی ہوئی۔
بابا وہ میں عریشے سے اپنے کل رات کے رویے کے لیے معافی مانگنے آیا تھا۔
کیا کہا تم نے معافی؟
معافی مانگنے آئے تھے تم اُس دو ٹکے کی لڑکی سے!
وہ غصے سے چلائے۔
جی۔۔۔!
نوین نے ڈرتے ہوئے مختصر جواب دیا۔
معافی۔۔۔آج کے بعد دوبارہ یہ لفظ نا آئے تمہاری زبان پر نوین۔
“نوین شاہ ہو تم!
“تمہارا معیار اتنا گِرا ہوا نہی ہے کہ تم نوکروں سے معافی مانگتے پھرو۔
مگر بابا میری ٹیچر تو کہتی ہیں ہمیں ملازموں کے ساتھ اچھا رویہ رکھنا چاہیے۔
نوین سر جھکائے بولا۔
تمہاری ٹیچر کیا کہتی ہے اس سے مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔
آج کے بعد دوبارہ تمہارے منہ سے عریشے کا نام نا سنوں میں۔
لیکن بابا!
نوین نے کچھ بولنا چاہا مگر شاہ صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بولنے سے روک دیا۔
لیکن ویکن کچھ نہی!
اندر جا کر چینج کرو۔
اب دوبارہ مجھے نظر نا آو تم یہاں!
لیکن بابا ہمارا دین اسلام بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے۔آج ہی اس بارے میں ایک لیسن پڑھایا ہے ہماری ٹیچر نے۔
نوین اپنے بابا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔
“بابا تو کیا ہم بس نام کے ہی مسلمان رہ گئے ہیں؟
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے نوین اندر کی طرف بڑھ گیا۔اور شاہ صاحب وہی حیران کھڑے رہ گئے۔
نوین ایسا سوال کرے گا وہ کبھی سوچ بھی نہی سکتے تھے۔
ایک دس سالہ بچے کی سوچ اتنی گہری!
وہ حیران و پریشان اندر کی طرف بڑھ گئے۔
دن اسی طرح گزرتے گئے۔نوین خود کو بدلنے کی کوشش کرنے لگا۔اور کافی حد تک وہ خود کو بدلنے میں کامیاب بھی ہوتا چلا گیا۔
اب وہ ملازموں پر چلاتا نہی تھا،غصہ آنے پر صبر کرنا سیکھ رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا۔نوین نے لڑکپن سے جوانی میں قدم رکھا۔
چند سال گھر سے دور رہا۔۔۔ایم بی بی ایس کی پڑھائی کے لیے۔
آج پندرہ سال بعد پھر سے ایک بار یہ گارڈن سجایا گیا۔
آج نوین کی پچیسویں سالگرہ کا دن ہے۔
ایم۔بی۔بی۔ایس کی ڈگری ملنے کے بعد نوین ایک ہفتہ پہلے امریکہ سے واپس آیا پاکستان۔
آج بھی وہ بلیک پینٹ کوٹ،وائٹ شرٹ پہنے مغرور سا سوچوں میں گم کھڑا تھا۔
اسے اپنی سالگرہ کا یہ دن بہت تکلیف دیتا تھا ۔
آج بھی اس کی آنکھوں میں ننھی سی عریشے کی آنسووں سے بھری آنکھوں کا عکس سا تھا۔
ان پندرہ سالوں میں ایسا کوئی دن نہی تھا جب اس نے عریشے کو یاد نہ کیا ہو۔
وہ ہر رات عریشے کو یاد کرتا اور اللہ سے دعا کرتا کہ بس ایک دفعہ عریشے مل جائے اسے۔
میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ لوں گا اس سے’بس ایک بار ملا دے یا اللہ مجھے عریشے گل سے۔
مگر عریشے اسے کبھی نہی ملی دوبارہ۔
امریکہ سے واپس آنے پر سب سے پہلے وہ گل بی بی کے کمرے کی طرف بڑھا۔
تا کہ ان سے عریشے کے گھر کا پتہ معلوم کر لے اور وہاں جا کر عریشے سے معافی مانگ لے۔
مگر کمرے میں گل بی بی تھیں ہی نہی۔۔وہ یہاں سے جا چکی تھیں۔
یہ خبر سنتے ہی نوین کے دل میں جو تھوڑی سی امید تھی عریشے سے ملنے کی۔وہ بھی ختم ہو گئی۔
“کچھ لمحے زندگی بھر کا درد بن جاتے ہیں’
جو پچھتاوے اور دکھ کے سوا کچھ نہی دیتے”
ایسا ہی کچھ نوین کے ساتھ بھی ہوا تھا۔
اس کی ایک چھوٹی سی غلطی اسے پچھتاوے کے دلدل میں دھکیل گئی تھی۔
پچھلے پندرہ سال سے وہ اس پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا۔
مگر اس کا درد کسی صورت کم نہی ہو رہا تھا۔
بڑھتی عمر اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اسے اپنی غلطی بہت بڑی محسوس ہونے لگی۔
وہ پچھتاوے کے دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
“ہیلو ایوری ون!
شاہ صاحب کے متوجہ کرنے پر نوین یادوں کے اس تسلسل سے باہر نکلا۔
آج ایک بہت ہی خاص دن ہے ہمارے لیے۔آج میرے بیٹے نوین شاہ کی پچیسویں سالگرہ ہے۔
ماشااللہ۔۔
اور اس کے علاوہ ایک اور خوشخبری نوین شاہ اب صرف نوین شاہ نہی رہا۔
بلکہ ڈاکٹر نوین شاہ بن گیا ہے۔
الحمدللہ۔۔۔نوین شاہ نے ایم۔بی۔بی۔ایس کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔
اور اب ڈاکٹر نوین شاہ اپنے دادا۔۔۔ڈاکٹر قاسم شاہ(مرحوم) کا ہاسپٹل سنبھالے گا۔
جو میری والدہ ڈاکٹر شاہانہ شاہ اکیلی سنبھالتی آ رہی ہیں ایک لمبے عرصے سے۔
اب ان کے ساتھ ڈاکٹر نوین شاہ بھی ہو گا ان کا اکلوتا پوتا۔
وہ کام جو میں نہی کر سکا میرے بیٹے نے کر دکھایا۔
ڈاکٹر بن کر اپنے مرحوم دادا کا نام روشن کرے گا نوین شاہ۔
سب نے تالیاں بجا بجا کر مبارک باد پیش کی۔
شاہانہ بیگم نے آگے بڑھ کر پوتے کا ماتھا چوم لیا۔
لائبہ بھی ایک خوبصورت لڑکی میں تبدیل ہو چکی تھی اب
وہ بھی مسکراتی ہوئی بھائی کے گلے لگ گئی۔
مسز شاہ بھی بہت خوش تھیں بیٹے کی کامیابی پر۔
نوین بس چہرے پر ہلکی مسکراہٹ سجائے کھڑا سب کی داد وصول کر رہا تھا۔
کیک کاٹنے کی تقریب کے بعد کھانے کا دور چلا۔گفٹس دئیے گئے۔اور سب اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔
________________________________________
(جاری ہے)
