Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 04)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 04)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
نوین اپنے کمرے میں گیا تو اس کی نظر سامنے ٹیبل پر پڑے گفٹ پر پڑی۔
نوین کو حیرت ہوئی۔۔۔بھلا یہ گفٹ کس نے رکھا ہے یہاں!
باقی گفٹس تو باہر ہی رکھے ہیں ابھی!
تو پھر یہ کس نے رکھا یہاں؟
نوین گفٹ بکس کو اٹھا کر الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔
اس پر بھیجنے والے کا نام نہی لکھا تھا۔
بس سامنے کارڈ پر خوبصورت رائیٹنگ میں لکھا تھا۔
“ہیپی برتھ ڈے نوین شاہ!
مطلب گفٹ بھیجنے والا مجھے جانتا ہے۔
نوین کو حیرت ہوئی۔
اس نے اردگرد نظر دوڑائی۔۔۔مگر کوئی نہی تھا کمرے میں۔
اچانک کھڑکی کے پاس گملہ ٹوٹنے کی آواز آئی۔
نوین تیزی سے اس آواز کی طرف بڑھا۔
سامنے ایک بلی تھی!
اوہ۔۔۔بلی تھی۔
“میں تو ڈر ہی گیا تھا!
نوین دوبارہ صوفے پر آ بیٹھا اور گفٹ کھولنے لگا۔
نوین نے گفٹ کھولا تو اس میں ایک ڈائمنڈ لاکٹ تھا۔
خوبصورت انداز میں دل بنا ہوا تھا۔
جس پر “این” لکھا ہوا تھا۔
وہ بھی پیور ڈائمنڈ سے!
نوین کی حیرت کی انتہا نا رہی۔۔۔
اتنا مہنگا لاکٹ!
کون بھیج سکتا ہے؟
میرے تو یہاں زیادہ فرینڈز بھی نہی ہیں۔۔۔!
ہو سکتا ہے مام ڈیڈ میں سے کسی نے گفٹ کیا ہو۔
ہاں ہو سکتا ہے!
نوین نے باکس بند کر کے ٹیبل پر رکھ دیا۔
تب ہی اچانک اس کی نظر ایک پیپر پر پڑی۔
نوین نے جلدی سے وہ پیپر اٹھایا اور کھول کر دیکھا۔
بہت بڑے بڑے الفاظ میں سوری لکھا ہوا تھا۔
سوری۔۔۔!
کس بات کی معافی؟
کون بھیج سکتا ہے یہ؟
اور سوری۔۔!
میرا تو کسی سے بھی جھگڑا نہی ہوا۔
تو پھر یہ کون بھیج سکتا ہے!
خیر جو بھی ہے۔ صبح مام،ڈیڈ سے کنفرم کر لوں گا۔
نوین باکس بند کر کے وہی پر چھوڑتے ہوئے چینج کرنے چلا گیا۔
چینج کرنے کے بعد نوین پھر سے صوفے پر آ بیٹھا۔لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا۔
نا جانے کیوں اس کا دل نہی لگ رہا تھا کسی کام میں بھی۔
اس کی نظر بار بار اسی گفٹ باکس پر پھسل رہی تھی۔
نوین نے لیپ ٹاپ شٹ ڈاون کیا اور باکس میں سے لاکٹ نکالتے ہوئے بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔
ہاتھ میں لاکٹ تھامے اسے ہر طرف سے دیکھ رہا تھا جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔
مگر بہت کوشش کے باوجود بھی اسے سمجھ نہی آئی کہ کون بھیج سکتا ہے۔
پورے دن کا تھکا ہارا تھا نوین۔۔۔صبح ہاسپٹل جوائن کرنا تھا۔
لاکٹ ہاتھ میں تھامے ہاتھ دل پر رکھے وہ یونہی سو گیا۔
ایک لڑکی سیاہ لباس پہنے چہرہ دوپٹے میں چھپائے بھاگتی چلی جا رہی تھی۔
ہر طرف صحرا ہی صحرا تھا۔
دور دور تک کوئی انسان تو دور کی بات کوئی جانور بھی نہی دے رہا تھا۔
نوین صحرا پر ننگے پاوں بیٹھا تھا۔
اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کیا کرے۔
وہ بہت پریشان لگ رہا تھا۔
رات کا اندھیرا ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔
نوین کچھ سمجھ نہی پا رہا تھا کہ وہ یہاں تک کیسے آیا۔
اچانک اس کی نظر سیاہ لباس میں ملبوس تیزی سے بھاگتی ہوئی لڑکی پر پڑی۔
سنو!
جیسے ہی وہ نوین کے پاس سے گزرنے لگی نوین نے اسے پکارا۔
وہ رکی مگر پلٹی نہی!
نوین خود تیزی سے اٹھ کر اس کے سامنے جا رکا۔
اس نے اپنا چہرہ چھپا رکھا تھا۔
نوین نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے سے دوہٹا ہٹا دیا۔
مگر نوین اس کا چہرہ نہی دیکھ سکا!
اس کا چہرہ بہت دھندلا سا تھا۔
سیاہ لباس میں اس کا روشن چہرہ دمک رہا تھا۔
نوین کو وہ بلکل چاند سی لگی۔
جیسے چاند کے اردگرد کالے بادل چھائے ہوتے ہیں مگر پھر بھی وہ اپنی روشنی کی چمک سے روشن رہتا ہے۔
اس لڑکی نے پھر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔
نوین کو ایسے لگا جیسے”چاند چھپ گیا ہو”
بادلوں کی اوٹ میں!
ہاں وہ “چاند چھپا تھا بادل میں”۔
نوین کو وہ بلکل بادلوں میں چھپے چاند سی لگ رہی تھی۔
نوین اس کا چہرہ نہی دیکھ سکا’
اس لڑکی نے اپنے بیگ سے خنجر نکالا اور نوین کی طرف بڑھی۔
نوین ڈر کر پیچھے ہٹا!
اس کا پاوں پھسلا اور وہ ریت سے پھسل کر دور جا گرا۔
وہ لڑکی ہنسنے لگی۔
اس کی ہنسی کی آواز ہر سو گونجنے لگی۔
نوین کی نظر اس کے ہاتھ میں لٹکتے لاکٹ پر پڑی۔
اس نے وہ لاکٹ نوین کی طرف اچھالا!
لاکٹ نوین نے تھام لیا۔
اب وہ لڑکی تیزی سے وہاں سے چل پڑی۔
نوین بس اسے نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھتا رہ گیا۔
جیسے ہی نوین کی نظر لاکٹ پر پڑی وہ دھنگ رہ گیا۔
یہ لاکٹ تو وہی ہے۔۔۔۔بس اتنا ہی بولا تھا نوین کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
لاکٹ ابھی بھی نوین کے ہاتھ میں تھا۔
نوین کا چہرہ پسینے سے تر ہو چکا تھا۔
اس نے جلدی سے گلاس میں پانی ڈالا اور ایک ہی سانس میں سارا پانی پی گیا۔
اچانک سر میں درد کی ایک لہر سی اٹھی۔
نوین نے سر کو تھامنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا۔وہ لاکٹ اس کے چہرے سے ٹکرا گیا۔
نوین کو کوفت سی ہوئی۔
اس نے وہ لاکٹ ہاتھ سے آزاد کرتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
مگر پھر کسی انجانے احساس کے تخت نوین نے وہ لاکٹ اٹھا لیا پھر سے۔
کون تھی وہ لڑکی؟
اس کے ہاتھ میں یہی لاکٹ تھا!
ایسا کیسے ممکن ہے؟
میں اس لڑکی کا چہرہ کیوں نہی دیکھ پایا۔
وہ مجھے مارنا چاہتی تھی کیا؟
نہی۔۔۔وہ تو ہنس رہی تھی۔
اس نے لاکٹ میری طرف اچھالا۔
اس کا مطلب وہ مجھے جانتی ہے۔اور میں اسے نہی جانتا۔
ایسا کیسے ہو سکتا بنا کسی جان پہچان کے کسی کو اتنا مہنگا گفٹ کیسے دے سکتا ہے۔
ضرور مجھے کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔
میں نے اس لاکٹ کو کچھ زیادہ ہی ذہن پر سوار کر لیا ہے۔
ایسا کرتا ہوں یہ لاکٹ پہن ہی لیتا ہوں۔۔۔ہو سکتا ہے پھر سے خواب میں مل جائے وہ۔
نوین اپنی بات پر خود ہی مسکراتے ہوئے سونے کے لیے لیٹ گیا۔
“سنگ میرے چلنا چاہے وہ۔
ہاتھوں میں لے کر ہاتھ میرا۔
قربت میں جینا چاہے وہ۔
سنگ میرے چلنا چاہے وہ۔
“یہ سفر نہی آسان پگلے۔
یہ عشق کی گلیاں ہیں پگلے۔
یہ بات سمجھ نا پاوے وہ۔
سنگ میرے چلنا چاہے وہ۔
“عشق ہوا نا ہو گا کسی کا۔
اس عشق میں پڑنا چاہے وہ۔
رک جا سنبھل جا پگلے۔
ہے وقت ابھی کچھ بگڑا نہی۔
کیوں موت سے لڑنا چاہے وہ۔
سنگ میرے چلنا چاہے وہ۔
نوین صبح نماز پڑھ کر واپس آیا تو سب ڈائینگ ٹیبل پر اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
اس گھر میں وقت کی پابندی کی بہت اہمیت تھی۔
وقت پر سونا،وقت پر جاگنا۔
وقت پر کھانا!
مگر نوین کی عادتیں کچھ خراب ہو چکی تھیں۔اتنی صبح صبح ناشتہ کرنے کی عادت نہی رہی تھی اس کی۔
مگر اب واپس آیا ہے تو پھر سے وہی روٹین بنانے کی کوشش کرنے لگا ہے۔
نوین اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا ہی تھا کہ مسز شاہ نے اسے روک لیا۔
نوین۔۔۔ادھر آو پہلے ناشتہ کرو۔
باقی کام بعد میں کر لینا۔
ناشتہ کتنا ضروری ہوتا ہے صحت کے لیے یہ تو تم خود بھی جانتے ہو۔
ہے ناں۔۔ڈاکٹر نوین شاہ؟
جِی۔۔۔نوین مسکراتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
سب کو مشترکہ سلام کیا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔
ناشتہ کرنے کے بعد نوین اپنے کمرے میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
پھر رک کر واپس پلٹا۔
مام ڈیڈ۔۔بلکہ مجھے آپ سب سے کچھ پوچھنا ہے!
سب نوین کی آواز پر اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ لاکٹ آپ سب میں سے کس نے گفٹ کیا ہے مجھے؟
نوین لاکٹ گلے سے اتارتے ہوئے ان سب کو دکھاتے ہوئے بولا۔
نہی۔۔شاہ صاحب نے سر نفی میں ہلا دیا۔
مسز شاہ نے بھی کندھے اچکا دئیے۔
لائبہ نے نوین کے ہاتھ سے وہ لاکٹ پکڑا اور اسے اچھی طرح دیکھنے لگی۔
اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔
واو۔۔۔بھائی یہ تو ڈائمنڈ ہے!
لائبہ پر جوش ہوتے ہوئے بولی۔
ہاں مجھے پتہ ہے یہ ڈائمنڈ ہے۔
یہی تو پریشانی والی بات ہے!
آخر اتنا مہنگا گفٹ دیا کس نے ہے۔
کسی دوست نے گفٹ کر دیا ہو گا نوین۔
اس میں اتنا حیران ہونے والی کون سی بات ہے۔
شاہ صاحب اکتانے والے انداز میں بولے۔
نہی ڈیڈ!
یہاں میرا کوئی دوست نہی ہے۔اور اتنا مہنگا گفٹ کوئی انجان مجھے کیوں دے گا؟
ہاں۔۔یہ بات تو ٹھیک ہے!
خیر میں چلتا ہوں۔مجھے دیر ہو رہی ہے آفس کے لیے شاہ صاحب ایک نظر گھڑی پر ڈالتے ہوئے بولے۔
اوکے ڈیڈ۔۔۔!
نوین مسکراتے ہوئے بولا۔
اوکے۔۔۔بیسٹ آف لک!
آج ہاسپٹل میں تمہارا پہلا دن ہے۔
امید ہے اچھا دن گزرے تمہارا!
نوین کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے بول کر وہاں سے چل پڑے۔
نوین بھی مسکرا دیا۔
ویسے بھائی مجھے تو لگتا ہے یہ کسی لڑکی نے بھیجا ہے آپ کو۔
ادھر لاو تم یہ!
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے۔
نوین نے لائبہ کے ہاتھ سے لاکٹ لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔مگر لائبہ نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
ہو سکتا ہے بھائی کوئی لڑکی ہو۔جو چھپ چھپ کر آپ سے محبت کرتی ہو۔
سامنے نا آنا چاہتی ہو۔
اسی لیے چپ چاپ اپنی محبت کا اظہار کر دیا ڈائمنڈ بھیج کر!
ایسی کوئی لڑکی نا میری زندگی میں تھی!
اور نا ہی ہو گی!
تم یہ فضول باتیں بند کرو اور مجھے یہ واپس کرو۔
نہی بھائی یہ فضول باتیں نہی ہیں!
حقیقت آپ کے سامنے ہے مگر آپ دیکھ نہی پا رہے۔
آپ مانیں یا نا مانیں’یہ کسی لڑکی نے ہی بھیجا ہے آپ کو۔
ایک دن یہ بات ثابت ہو جائے گی۔
مام دیکھ رہی ہیں آپ؟
کیسی باتیں کر رہی ہے لائبہ!
یہ سیریلز دیکھ کر اس کا دماغ خراب ہو چکا ہے۔
نوین کو چڑ ہونے لگی لائبہ کی باتوں سے۔
ہاں ہاں دیکھ رہی ہوں!
سہی تو کہہ رہی ہے!
نوین نے چونک کر اپنی ماما کی طرف دیکھا۔
وہ دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگیں۔
نوین بھی مسکرا دیا۔
لائبہ نے لاکٹ نوین کی طرف بڑھا دیا۔
مگر جیسے ہی نوین نے لاکٹ تھامنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔
لائبہ نے پھر سے لاکٹ واپس کھینچ لیا۔
کیا ہو گیا بھائی؟
اتنے بے چین کیوں ہو رہے ہیں آپ؟
اب تو مجھے یقین ہو گیا۔۔پکا یہ کسی لڑکی نے ہی گفٹ کیا ہے۔
تب ہی تو آپ کا دل بے چین ہو رہا ہے اس کے دور جانے پر۔
نوین نے جلدی سے آگے بڑھ کر لائبہ کا کان کھینچا ایک ہاتھ سے اور دوسرے ہاتھ سے لاکٹ کھینچا اس کے ہاتھ سے۔
چھوٹی ہو تو چھوٹی ہی رہو!
بڑی بننے کی کوشش مت کرو۔آئیندہ ایسی فضول باتیں مت کرنا۔
لائبہ نے جلدی سے سر ہاں میں ہلا دیا۔
نوین نے مسکراتے ہوئے اس کان چھوڑ دیا۔
چلو جلدی سے تیار ہو جاو تمہیں یونیورسٹی ڈراپ کرتا جاوں میں۔
نوین لاکٹ گلے میں ڈالتے ہوئے پھر سے کرسی پر بیٹھ گیا۔
دیکھا مام آپ نے!
بھائی نے لاکٹ پھر سے گلے میں ڈال لیا۔
اس کا مطلب تیاری کر لیں آپ بھائی کی شادی کی۔
بھابی کی انٹری ہو گئی ہے ان کی لائف میں۔
نوین نے غصے سے لائبہ کو گھورا۔۔اور پھر خود بھی مسکرا دیا۔
میں نے یہ اس لیے پہنا ہے تا کہ ہاسپٹل جا کر دادو سے پوچھ سکوں کہ انہوں نے تو نہی کیا گفٹ۔
پوکٹ سے گم نا ہو جائے اسی لیے گلے میں پہن رکھا ہے۔
واہ۔۔واہ۔۔لائبہ داد دینے لگی۔بھائی کے آئیڈیے پر۔
تم یہ سب چھوڑو۔۔میں دس منٹس میں آ رہا ہوں تیار ہو کر!
تیار ہو کر تم بھی نیچے آ جاو جلدی!
آج تمہارا کوئی بہانہ نہی سننے والا میں۔
مجھے نہی جانا بھائی میرا موڈ نہی ہے آج جانے کا۔
جب سے میں آیا ہوں یہی سن رہا ہوں۔مگر آج نہی!
جلدی سے جاو۔۔ورنہ ایسے حلیے میں ہی لے جاوں گا میں تمہیں۔
منہ بھی دھویا ہوا تم نے!
مام۔۔۔؟
لائبہ نے ماں کی طرف دیکھ کر رونے کی ایکٹنگ کی۔
مسز شاہ کندھے اچکاتے ہوئے وہاں سے چل پڑیں۔
نوین کے چہرے پر فاتخانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
لائبہ پیر پٹختی ہوئی اوپر کی طرف بڑھ گئی۔اور نوین مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
نوین تیار ہو کر لائبہ کا انتظار کرنے لگا۔
جیسے ہی لائبہ آئی وہ دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔
گڈ گرل!
نوین یونیورسٹی کے گیٹ پر گاڑی روکتے ہوئے بولا۔
لائبہ مسکراتی ہوئی گاڑی سے باہر نکل گئی۔
گڈ گرل تو وہ لاکٹ والی ہے۔۔جب مل جائے مجھے بتانا ضرور بھائی۔
لائبہ دوسری سائیڈ پر گاڑی کا دروازے سے جھانکتے ہوئے بول کر تیزی سے یونیورسٹی کی طرف بڑھ گئی۔
نوین نے مسکراتے ہوئے گاڑی ہاسپٹل کی طرف موڑ دی۔
(جاری ہے)
