Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 01)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 01)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
گرمیوں کی تپتی دوپہر میں گیٹ کے پاس بنے عالیشان محل کے باغیچے کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھی معصوم سی چھ سالہ عریشے۔
گھنگھریالے بال،سُرخ و سفید رنگت،گلابی گال ،چمکتی سبز آنکھیں،لبوں پر ہلکی مسکان۔
وہ ایک نازک سی گڑیا لگ رہی تھی۔
وہ نرمی سے نازک سے پھولوں کو ہاتھ سے چھولیتی اور مسکرا دیتی۔
ایک تتلی اس کے ہاتھ پر آ بیٹھی’
اس نے بہت نرمی سے دوسرے ہاتھ سے اس تتلی کو چھوا تو وہ اڑ کر دور آسمان میں گُم ہو گئی۔
لیکن اس تتلی کے رنگ برنگے پروں کی رنگینی اس کے ہاتھ پر رہ گئی۔
وہ بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھنے لگی۔
کچھ نہی تھا وہاں’وہ جا چکی تھی۔
مگر عریشے کے ہاتھوں پر اپنا رنگ چھوڑ گئی تھی۔
ننھی عریشے کے چہرے پر اُداسی چھا گئی۔
کچھ دیر اداس بیٹھنے کے بعد وہ پھر سے پھولوں سے کھیلنے میں مصروف ہو گئی۔
اس نے ابھی پھول کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک کسی نے اس کا بازو تھام لیا۔
عریشے نے ڈر کر سر اوپر اٹھایا۔
ماما۔۔۔ماما
نوین غصے سے چلا رہا تھا۔
مسز شہاب بھاگتی ہوئیں باہر آئیں۔
سامنے نوین عریشے کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا ساتھ میں لائبہ بھی کھڑی تھی۔
نوین لائبہ سے چار سال بڑا تھا۔
لائبہ عریشے کی ہم عمر تھی۔
لائبہ بھی ڈری سہمی سی کھڑی تھی اپنے بڑے بھائی کے چلانے پر۔
نوین اس گھر کا اکلوتا بیٹا تھا۔
بہت ضدی اور غصے والا بچہ’
یہ غصہ اور ضدی پن اسے اپنے والد مسٹر شہاب شاہ سے وراثت میں ملا ہے۔
جب کہ لائبہ بہت ہی نرم دل بچی ہے۔وہ اپنی دادو کی طرح نرم رویہ رکھنے والی بچی ہے۔
اونچی آوازوں سے بہت خوف محسوس کرنے لگتی ہے۔
اور عریشے اس گھر کی ملازمہ کی نویسی ہے۔
اس کی نانو گُل بی بی آج صبح ہی لوٹی ہیں پشاور سے اسے ساتھ لیے۔
عریشے کی ماما کی پچھلے سال وفات پا گئی تھیں کینسر کی وجہ سے۔
چند ماہ بعد ہی اس کے بابا نے دوسری شادی کر لی۔
سوتیلی ماہ عریشے کو بلکل پسند نہی کرتی تھی۔
ایک دن اس کے بابا اچانک گھر آئے تو ننھی عریشے برتن دھو رہی تھی۔
ان کو دیکھ کر عریشے گھبرا گئی۔
بابا میں خود دھو رہی ہوں برتن مجھ سے کسی نے نہی کہا دھونے کو ماما نے بھی نہی۔
باپ کا دل کانپ اٹھا ننھے ہاتھوں میں برتن دیکھ کر۔
آگے بڑھ کر بیٹی کو سینے سے لگا لیا۔
سارا معاملہ ان کی سمجھ میں آ چکا تھا۔
ان کے گھر سے جانے کے بعد عریشے پر ظلم کیے جاتے۔
ان کی نظر سامنے سیڑھیوں سے نیچے آتی اپنی ظالم بیوی پر پڑی۔
عریشے سوتیلی ماں کو دیکھتے ہی باپ کے سینے میں منہ چھپا گئی۔
اور سیڑھیاں اترتی اس کی سوتیلی ماں کے چہرے کے رنگ اڑنے لگے۔
عریشے کا سارا سامان پیک کر دو بیگم!
عریشے کے بابا نے عریشے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
کیوں عریشے گل کہاں جا رہی ہے؟
وہ سوال کیے بنا نا رہ سکی۔
آواز میں لرکھڑاہٹ واضح تھی۔
عریشے گل شہر جا رہی ہے اپنی نانی کے پاس یہ اب وہی رہے گی۔
وہ ظبط سے بس اتنا ہی بول سکے’
دل تو کر رہا تھا کہ ابھی اس عورت کو دھکے مار کر گھر سے باہر نکال دے۔
مگر اپنی آنے والی اولاد اور چچا کی عزت نے ان کا ہاتھ روک لیا۔
اس نے خوشی خوشی عریشے کا بیگ پیک کیا۔
بھلا اسے کیا مسلہ ہو سکتا تھا۔
وہ یہی تو چاہتی تھی۔
عریشے اپنے بابا کی لاڈلی تھی’یہی بات تو چبتی تھی اسے کانٹے کی طرح۔
آخر کار وہ باپ،بیٹی کو دور کرنے میں کامیاب ہو ہی گئی۔
عریشے کے بابا نے اُسی دن عریشے کی نانی سے بات کی اس بارے میں سارا معاملہ ان کو سُنا دیا۔
وہ عریشے کو ساتھ لیجانے پر راضی ہو گئیں۔
اگلے ہی دن وہ عریشے کو لینے پشاور پہنچ گئیں۔
عریشے کے بابا نے دل پر پتھر رکھ کر اپنے جگر کے ٹکرے کو نانی کے ساتھ رخصت کر دیا۔
عریشے بہت رو رہی تھی۔
“بابا مجھے نہی جانا آپ کو اکیلا چھوڑ کر”
بہت روئی وہ اور باپ کو بھی رولایا’مگر سوتیلی ماں کو زرا بھی رحم نہی آیا۔
کہ آگے بڑھ کر تھام لے عریشے کو’نہی اس کا دل پتھر کا تھا شاید۔
وہ مسکراتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
عریشے گل میری جان ہم جو کچھ کر رہا ہے تمہاری بھلائی کے لیے کر رہا ہے۔
ہم تم سے ملنے آتا رہے گا لاہور۔
تم فکر مت کرنا’نانی کو زیادہ تنگ مت کرنا۔
وعدہ کرو اپنے بابا سے بہادر بیٹی بن کے دکھائے گا’
انہوں نے عریشے کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
عریشے نے آنسو بہاتے ہوئے بابا کا ہاتھ تھام لیا۔
بس کا ہارن بجا تو وہ عریشے کو گود سے اتارتے ہوئے سیٹ پر بٹھا کر باہر کی طرف بڑھنے لگے۔
بابا۔۔عریشے بھاگ کر باپ سے لپٹ گئی۔
انہوں نے عریشے کا ماتھا چوم کر اس واپس جانے کا اشارہ کیا۔
عریشے بابا کو دونوں ہاتھ چوم کر آنکھوں سے لگاتے ہوئے سیٹ پر جا بیٹھی۔
وہ بس سے نیچے اتر گئے۔
آنکھوں میں نمی کو صاف کیا اور دھندلاتی آنکھوں سے بس کو دور جاتا ہوا دیکھ رہے تھے۔
عریشے بھی کھڑی سے سر ٹکائے اپنے بابا کو خود سے دور جاتا دیکھ رہی تھی۔
جب بس نظروں سے اوجھل ہوئی تو وہ وہاں سے گھر کی طرف چل پڑے۔
گُل بی بی نے نواسی کو سینے سے لگا لیا۔ان کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں باپ،بیٹی کو دور ہوتے دیکھ کر۔
کبھی کبھی ایسے بھی بچھڑنا لکھا ہوتا ہے قسمت میں۔
اس معصوم بچی نے کب سوچا تھا کہ ماں اتنی جلدی چھوڑ جائے گی اور باپ سے ایسے جدا ہو جائے گی۔
“خیر جو بھی ہوتا ہے ہمارے بھلے کے لیے ہی ہوتا ہے’
ہم انسانوں کی عقل ابھی اتنی بھی وسیع نہی ہوئی کہ “رب کے فیصلوں کو سمجھ سکیں”
“وہ رب جو اپنے بندوں سے ستر ماووں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے’وہ اپنے بندوں کی بہتری کے لیے ہی فیصلے کرتا ہے۔
“یہ تقدیر اللہ کی لکھی گئی ہے اور رب بہتر فیصلے کرنے والا ہے”
عریشے صبح سے سو رہی تھی گل بی بی کے سرونٹ کوارٹر میں سفر کی تھکن کی وجہ سے۔
گل بی بی اس کو سوتے ہوئے چھوڑ کر کوارٹر سے باہر نکل گئیں۔
جیسے ہی عریشے کی آنکھ کھلی وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
اس کی نظر رنگ برنگے پھولوں پر پڑی تو وہ یہی چلی آئی۔
کیا ہوا نوین کیوں چلا رہے ہو؟
مسز شہاب سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ماما پوچھیں اس لڑکی سے یہ یہاں کیا کر رہی تھی؟
نوین کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔
یہ پھول توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو سارے پھول خراب کر چکی ہوتی یہ۔
وہ غصے سے عریشے کو گھورتے ہوئے بولا۔
عریشے کا بازو ابھی بھی اس کی گرفت میں تھا۔
عریشے نے مسز شہاب کی طرف دیکھ کر سر نفی میں ہلایا۔
نوین جو بھی ہے میں پوچھ لوں گی اس سے تم بازو چھوڑوں اس کا۔
انہوں نے آگے بڑھ کر نوین کے ہاتھ سے عریشے کا بازو الگ کیا۔
عریشے کا بازو سرخ ہو چکا تھا۔نوین کی انگلیوں کے نشان پڑ چکے تھے۔
عریشے اپنے بازو پر ہاتھ رکھ کر آنسو بہانے لگی۔
کون ہو تم؟
نوین کو اس کے رونے سے چڑ ہونے لگی۔وہ غصے سے چلاتے ہوئے بولا۔
مسز شہاب تو پریشان ہو چکی تھیں نوین کو اس بچی پر غصہ کرتے دیکھ۔
نوین آپ جاو بیٹا اندر بہنا کو لے کر میں پوچھ لیتی ہوں اس سے’
انہوں نے نوین کو ٹالنا چاہا مگر وہ اپنی جگہ سے نہی ہلا۔
نہی ماما آپ پوچھیں اس سے کون ہے یہ؟
اندر کیسے آئی یہ؟
کون ہو بیٹا آپ مسز شہاب نے نرمی سے عریشے سے پوچھا۔
عریشے نے کوئی جواب نہی دیا۔
تب ہی گل بی بی بھاگتی ہوئی وہاں آئیں۔
عریشے گل!
ان کی آواز پر عریشے بھاگتی ہوئی ان سے لپٹ گئی۔
“نانی میں نے کچھ نہی کیا۔
وہ روتے ہوئے بولنے لگی۔
مسز شہاب نے سوالیہ نظروں سے گُل بی بی کی طرف دیکھا۔
یہ میری نواسی ہے بیگم صاحبہ۔۔اسی کو لینے گئی تھی میں۔
عریشے گل”
اچھا ٹھیک ہے گل بی بی آپ اس کو کمرے میں لے جائیں چپ کروایں اس کو۔
گل بی بی سر ہلاتے ہلاتے ہوئے عریشے کو ساتھ لے کر کوارٹر کی طرف بڑھ گئیں۔
“یہ کیا بات ہوئی ماما؟
آپ نے اس لڑکی کو ڈانٹا کیوں نہی؟
وہ پھول خراب کرنے والی تھی’
اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو۔
نہی بیٹا وہ چھوٹی بچی ہے لائبہ کی طرح۔
چھوٹے بچوں کو ڈانٹنا نہی چاہیے۔
آپ کو ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔
اس نے کوئی پھول خراب نہی کیا۔
ماما اس کو لائبہ کے کمپئیر مت کریں آپ وہ بہت گندی بچی تھی۔
اس کے کپڑے بھی بہت گندے تھے۔
مجھے بلکل اچھی نہی لگی وہ!
مسز شہاب حیران ہوئی نوین کے جواب پر۔
اچھا اس بات کو یہی ختم کریں اب اندر چلیں آپ دونوں کھانا کھا لیں۔
نہی ماما مجھے بھوک نہی ہے وہ غصے سے اندر کی طرف بڑھ گیا۔
مسز شہاب بس اسے جاتے دیکھتی رہ گئیں۔
دن بدن نوین کی بدتمیزیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔
وہ اس بات پر ناراض ہو گیا کہ مسز شہاب نے عریشے کو ڈانٹا کیوں نہی۔
ماما چلیں ہم اندر؟
لائبہ کی آواز پر وہ مسکرا دیں۔لائبہ کو ساتھ لیے اندر کی طرف بڑھ گئیں۔
حسبِ توقع نوین اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔
انہوں نے سارا معاملہ اس کی دادو کو سنا دیا۔
وہ کھانا لے کر اس کے کمرے میں چلی گئیں۔
اور ہمیشہ کی طرح آج بھی نوین کو منانے میں کامیاب ہوئیں۔
ایک وہی تو تھیں جن کی بات مان لیتا تھا نوین۔
گُل بی بی کو بہت وقت لگا عریشے کو چُپ کروانے میں۔
وہ عریشے کو زبردستی کھانا کھلانے لگیں۔
عریشے ضد پر اڑی تھی میں نے کچھ نہی کیا تھا۔
گل بی بی نے اسے گود میں بٹھا لیا۔
میں جانتی ہوں میری عریشے گل نے کچھ نہی کیا۔
نوین بیٹے کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔
مجھے یقین ہے اپنی عریشے گل پر۔
اگلی دفعہ جب تم نوین سے ملو تو اس کو بتا دینا کہ تم نے کچھ نہی کیا۔
وہ عریشے کو تسلیاں دے رہی تھیں۔
دیکھو بیٹا ہم غریب لوگ ہیں اور وہ امیر لوگ ہیں۔
آئیندہ میری بیٹی نے ان کی کسی بھی چیز کو ہاتھ نہی لگانا۔
اس کمرے میں ہی رہنا ہے۔
یہی ہماری زندگی ہے۔
اب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہے عریشے گل۔
اللہ کے سوا ہمارا کوئی وارث نہی اس دنیا میں۔
یہ بات جتنی جلدی سمجھ لو اچھا ہے ہمارے لیے۔
یہ کھانا کھا لو اب ٹھنڈا ہو رہا ہے۔
مجھے کام ہے میں چلتی ہوں۔
وہ عریشے کو کمرے میں اکیلا چھوڑ کر باہر نکل گئیں۔
عریشے آنسو پونچھتے ہوئے ہاتھ دھو کر کھانا کھانے لگ گئی۔
(جاری ہے)
