Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 17)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 17)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
شاہ صاحب نے ایک غرور بھری نظر سامنے کھڑی عریشے پر ڈالی،جس کا مطلب یہ تھا کہ میرا بیٹا میری بات نہی ٹالے گا۔
مگر ایسا بس وہی سوچ رہے تھے۔۔۔۔۔نوین ان کے سامنے سے اٹھ کھڑا ہوا اور شاہ صاحب کے ہاتھوں اس کے ہاتھ چھوٹ گئے۔
وہ عریشے کا پاس جا رکا اور سر نفی میں ہلایا۔
Sorry dad……
“میں عریشے کو نہی چھوڑ سکتا یہ اب میری بیوی ہے اور میری زمہ داری بھی،،
نوین کے الفاظ شاہ صاحب کے کانوں میں بجلی کے دھماکے کی طرح گونجنے لگے اور وہ بے بسی اور حیرانگی کی ملی جلی سی کیفیت میں اپنے لختِ جگر کو دیکھنے لگے۔
یہ لڑکی تمہیں اپنے ڈیڈ سے بھی زیادہ اہم لگنے لگی ہے نوین۔۔۔۔۔تو پھر ٹھیک ہے۔
جیسے تمہاری مرضی!
جب تم خود کو برباد کرنے کی ٹھان ہی چکے ہو تو میں کیا کہہ سکتا ہوں۔
تو پھر سنو!
اس لڑکی کو میں کبھی اپنی بہو تسلیم نہی کروں گا اور تم اسے چھوڑنے کے لیے کبھی راضی ہو گے تو جیسے تمہاری مرضی ہے ویسا ہی ہو گا۔
آج سے ہمارا تم سے تعلق ختم۔۔۔۔۔
ڈیڈ۔۔۔۔نوین آگے بڑھا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسے مزید آگے بڑھنے سے روک دیا۔
تمہارا اس گھر سے اور ہم سے تعلق ختم ہے آج سے،جاو لے جاو اس لڑکی کو اپنے ساتھ اور جیو اپنی زندگی۔
حاصل کر لو اپنی خوشیاں ہمارے رشتے کی میت پر۔۔۔۔
ڈیڈ آپ یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں نوین تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔
آج سے تمہارا ہم سے اور اس جائیداد سے کوئی تعلق نہی ہے۔۔۔۔۔۔میں تمہیں عاق کرتا ہوں اپنی جائیداد سے اور اپنے نام سے بھی۔
“کیا ہو رہا ہے یہ سب؟
شہلا بیگم افشاں اور اس کی ماں کے ساتھ اچانک وہاں آ گئیں اور گھر کا ماحول دیکھ کر ان کے اوسان خطا ہونے لگے۔
کیسی باتیں کر رہے ہو شہاب؟
اپنے اکلوتے بیٹے کو گھر سے نکالنے کی بات کرتے ہوئے تمہارا دل نہی کانپا؟
میں نے تمہاری تربیت ایسی تو نہی کی تھی۔۔۔۔
اماں جان آپ کی تربیت میں کوئی کمی نہی ہے۔۔۔یہ نوین کا اپنا فیصلہ ہے۔
میں نے اسے فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا مگر اس نے وہ فیصلہ اس لڑکی کے حق میں چُنا۔
ہم سب سے تعلق ختم کرنا چاہتا ہے یہ۔۔۔۔آپ چاہیں تو خود دیکھ لیں۔
انہوں نے وہ نکاح نامہ اور تصویریں ان کی طرف بڑھائیں۔
یہ دیکھیں نکاح کر چکا ہے یہ اور چاہتا ہے کہ میں اس دو ٹکے کی نوکرانی کو اپنی بہو تسلیم کر لوں۔۔۔۔۔وہ لڑکی جس کی نانی ساری زندگی ہمارے ٹکروں پر پلی،اس کی نواسی کو میرے مقابل لا کھڑا کیا ہے اس نے۔
آپ کو اپنا خاندان اور رشتے مبارک ہو نوین شاہ،مجھے آپ سے طلاق چاہیے ابھی اور اسی وقت۔۔۔۔عریشے آنسو پونچھتی ہوئی نوین اور شاہ صاحب کے درمیان آ رکی۔
عریشے تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟
نوین نے غصے میں اسے بازو سے جھنجوڑا۔
ہاں سہی کہا آپ نے۔۔۔۔میرا دماغ خراب ہو چکا ہے۔میں اپنی توہین تو برداشت کر سکتی ہوں مگر اپنی مری ہوئی گُل بی بی کے خلاف ایک لفظ نہی برداشت کروں گی۔
اس کا اشارہ شاہ صاحب کی طرف تھا۔
عریشے میں بات کر رہا ہوں ناں۔۔۔۔تم جاو گھر۔۔افشاں اسے لے کر جاو یہاں سے۔
اس نے چپ چاپ تماشائی بنی افشاں کو بلایا تو وہ تیزی سے آگے بڑھی مگر عریشے نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔
اب یہ کیا ڈرامہ ہے تمہارا اے لڑکی؟
تم نے چاہے دھوکے سے ہی میرے بیٹے سے نکاح کر لیا مگر رہو گی تو وہی دو ٹکے کی نوکرانی گُل بی بی کی نواسی ہی ناں۔۔۔۔
اوقات کبھی نہی بدل سکتی تمہاری سمجھی۔۔۔۔؟
پلیز ڈیڈ۔۔۔۔۔آپ ایسا مت بولیں عریشے اب میری بیوی ہے اور جو اوقات میری ہے وہی اس کی ہے۔
اور تمہاری اوقات کیا ہے؟
مت بولو مجھے ڈیڈ۔۔۔۔نکل جاو اس لڑکی کو لے کر اس گھر سے۔
اپنے باپ سے زبان درازی کر رہے ہو وہ بھی اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے۔۔۔۔۔ایسے بیٹے کے لیے میرے گھر میں کوئی جگہ نہی ہے۔شاہ صاحب غصے سے چلا اٹھے۔
یہ کہی نہی جائے گا اور نہ ہی عریشے۔۔۔سنا تم نے؟
شہلا بیگم بھی انہی کے انداز میں چلائیں۔
تو پھر ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں کیونکہ مجھے یہ رشتہ ہرگز منظور نہی ہے۔۔۔۔شاہ صاحب باہر کی طرف چل دئیے۔
نہی ڈیڈ رک جائیں پلیز!
آپ کہی مت جائیں میں چلا جاتا ہوں۔۔۔وہ ڈائینگ ٹیبل کی طرف بڑھا نکاح نامہ اور تصویریں دوبارہ انویلپ میں بند کی اور عریشے کی طرف بڑھا۔
عریشے کا بازو تھام کر باہر کی طرف چل دیا۔وہ اس کے ساتھ کھیچتی چلی گئی۔
شاہ صاحب بیٹے کو نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھتے رہ گئے۔
وہ بیٹا جو ہر کام ان کی مرضی کے بغیر شروع نہی کرتا تھا آج ایک انجان لڑکی کے لیے اپنے باپ سے ناطہ توڑ کر چلا گیا۔
وہ جو سمجھ رہے تھے کہ نوین ان کی بات مان کر عریشے کو طلاق دے گا ایسا کچھ نہی ہوا۔
وہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
باقی سب نوین اور عریشے کی طرف چل دئیے۔
“بس کر دیں ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔۔عریشے نوین کے ہاتھ سے اپنا بازو آزاد کرتے ہوئے بولی۔
آپ کا یہ ڈرامہ مزید برداشت نہی کروں گی میں،میرا تماشہ بنانا بند کر دیں آپ!
چھوڑ دیں مجھے اور اپنے گھر واپس چلے جائیں۔
میں اتنی کمزور نہی ہوں جو حالات کا مقابلہ نہ کر سکوں۔
“عریشے کیسی باتیں کر رہی ہو؟
“میں تمہارے لیے اپنے رشتے،گھر سب کچھ چھوڑ رہا ہوں اور تمہیں لگ رہا ہے کہ یہ سب ڈرامہ ہے؟
Are you mad?????
کیا تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟
“سمجھتی نہی آپ ایسے ہیں،آپ بس مجھ پر اپنا حق جتانا چاہتے ہیں۔
مجھے اپنی غلام بنانا چاہتے ہیں تا کہ میں اپنی ساری زندگی آپ کی غلامی میں گزار دوں۔
آپ بلکل نہی بدلے آج بھی آپ وہی بچپن والے نوین ہیں تب بھی آپ مجھے اپنی غلام سمجھتے تھے اور اب بھی!
سب جانتی ہوں میں کہ آپ نے یہ نکاح دھوکے سے کیا ہے تا کہ اپنی خواہش کو تکمیل دے سکیں۔
آپ کے لیے میری اہمیت کسی کھلونے سے کم نہی ہے جسے کوئی ضدی بچہ اپنی ضد پوری کرکے حاصل کرتا ہے۔
میرے ساتھ بھی یہی چل رہا ہے جب آپ کو پتہ چلا کہ میں عبیرہ نہی عریشے ہوں تو آپ کو میری کامیابی دیکھ کر حسد ہوا اور میری آزادی آپ کو پسند نہی آئی۔
آپ آ گئے میرے گھر مجھے برباد کرنے اور بنا لیا اپنی غلام۔۔۔۔۔مگر میں یہ غلامی والی زندگی نہی گزار سکتی۔
“مجھے آزادی چاہیے!
آپ جانتے ہیں کہ آپ کے والد آپ سے دور نہی رہ سکتے،آج نہی تو کل وہ آپ کو معاف کر دیں گے۔
اسی لیے آپ مجھے نہی چھوڑنا چاہتے۔۔۔مگر میں آپ کے ساتھ کہی نہی جا رہی۔
نوین نے غصے اور بے بسی سے دایاں ہاتھ بالوں میں پھیرا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ عریشے کو کوئی جواب دیتا سب وہاں آ گئے۔
نوین مت جاو میری جان۔۔۔مسز شاہ اپنے لختِ جگر سے پرامید نظروں سے دیکھتے ہوئے بولیں۔
نوین نے ان کو دونوں ہاتھ تھام لیے اور چوم کر آنکھوں سے لگا لیے۔
ماما پلیز آپ رونا بند کر دیں آپ اتنی کمزور کیسے بن سکتی ہیں۔
آپ کا جب دل چاہے آپ مجھ سے ملنے آ سکتی ہیں۔
مجھے جانا ہو گا،عریشے کو اکیلا نہی چھوڑ سکتا۔
یہ میری بیوی ہے اب،اس کا خیال رکھنا میری زمہ داری ہے۔
ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا آپ۔۔۔۔۔
بھائی آپ کا فون وائلٹ اور گاڑی کی چابی۔۔۔۔لائبہ اس کے کمرے سے سب لے آئی۔
نوین نے موبائل اور وائلٹ لے لیا مگر گاڑی کی چابی لینے سے انکار کر دیا۔
یہ کیز ڈیڈ کو دے دینا لائبہ۔۔۔۔یہ گاڑی اب ان کی اور پلیز مام،ڈیڈ دونوں کا خیال رکھنا۔
اب سب تمارے زمے ہے۔
دادو چلتا ہوں۔۔۔۔وہ لائبہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے شہلا بیگم کی طرف بڑھا۔
کہاں جاو گے تم؟
میرے ساتھ چلو ہاسپٹل۔۔۔۔ہم کل کوئی نا کوئی حل نکال لیں گے۔
نوین پھیکا سا مسکرا دیا۔
نہی دادو میرا اب اس ہاسپٹل میں جانا ٹھیک نہی۔کیا پتہ کب ڈیڈ جائیداد سے میرا نام خارج کر دیں۔
اسی لیے میں کوئی امید نہی رکھنا چاہتا۔۔۔۔جو کروں گا خود کروں گا۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہو نوین؟
لگتا ہے باپ کے ساتھ ساتھ تمہارا دماغ بھی خراب ہو چکا ہے۔
یہ ہاسپٹل اور جائیداد سب تمہارا ہے۔
تم ہاسپٹل چل رہے ہو میرے ساتھ اور عریشے افشاں کے گھر جا رہی ہے۔۔۔جیسے پہلے چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دو۔
جب تک تمہارے ڈیڈ مان نہی جاتے تم میرے ساتھ ہاسپٹل چلو۔
نہی دادو پلیز۔۔۔۔۔میں نہی چل سکتا وہ فون پر مصروف ہو چکا تھا۔
میں ہاسپٹل آوں گا مگر اپنی سی_وی لے کر نوکری کے لیے مگر ہاسپٹل کی وراثت کے حق سے نہی۔۔۔وہ بول کر گیٹ کی طرف بڑھا۔
کچھ ہی دیر میں گیٹ کے پاس ایک گاڑی آ رکی اور نوین اندر کی طرف بڑھا۔
عریشے گاڑی آ گئی ہے چلیں؟
اس نے عریشے کو ایسے مخاطب کیا جیسے دونوں کے درمیان بہت گہرا رشتہ ہو۔
عریشے کے اتنے تلخ لہجے کے باوجود اس کا رویہ بہت اچھا تھا۔
خدا حافظ۔۔۔وہ ایک آخری نظر گھر پر ڈالتے ہوئے باہر کی طرف چل دیا اور دوبارہ پیچھے مڑ کر نہی دیکھا۔
جاو بیٹا نوین تمہارا انتظار کر رہا ہے،سب ٹھیک ہو جائے گا۔
شہلا بیگم عریشے کا گال تھپتپاتے ہوئے بولیں تو وہ سر ہلاتے ہوئے باہر کی طرف چل دی۔
نوین اسی کا انتظار کر رہا تھا اس نے عریشے کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی۔
وہ خود بھی گاڑی میں بیٹھا تو ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔
افشاں اور اس کی ماما شہلا بیگم سے اجازت لے کر اپنے گھر چل دیں اور شہلا بیگم بیٹے کے کمرے کی طرف چل دیں۔
وہ اندھیرے کمرے میں کھڑکی کے پاس کھڑے تھے وہ دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔
چلا گیا نوین!
انہوں نے جیسے بیٹے کو انفارم کیا۔
جیسے اس کی مرضی۔۔۔۔۔میرا اب اس سے کوئی تعلق نہی ہے۔شاہ صاحب تھکے تھکے سے بولا۔
“خون کے رشتے کہہ دینے سے ختم نہی ہوتے بلکہ رگوں میں اس رشتے کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے،وہ خون ہے تمہارا۔
مانا کہ نوین سے بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مگر وہ مجبور تھا ایک بار اس کی بات تو سن لیتے۔۔۔اسے سمجھنے کی کوشش تو کرتے۔
غلطی۔۔۔۔؟
اماں نوین نے میرے سامنے ایک نوکرانی کو لاکھڑا کیا اور اپنی غلطی ماننے کی بجائے مجھے نیچا دکھایا وہ بھی اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے اور آپ اس کے گناہ کو غلطی کا نام دے رہی ہیں؟
حیرت ہے مجھے اماں جان۔۔۔۔کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جیسے مجھ سے زیادہ نوین کی اہمیت ہے آپ کی زندگی میں،آپ نے ہمیشہ اس کا ساتھ دیا جس کا نتیجہ آج ہم سب بھگت رہے ہیں۔
میں نے کبھی نوین کا غلط کام میں ساتھ نہی دیا شہاب۔۔۔۔۔بلکہ میں یہ کہوں گی کہ تمہاری انا,ضد اور ملازموں سے نفرت اللہ کو سخت نا پسند ہے اور اسی لیے تم آج اس مقام پر کھڑے ہو۔
جس لڑکی کو تم حقیر سمجھ رہے ہو کچھ جانتے بھی ہو اس کے بارے میں؟
آج جو مقام تمہارے بیٹے کا ہے ناں،وہی اس لڑکی کا ہے۔
عریشے ایک نیورو سپیشلسٹ سرجن ہے۔۔۔وہ ایک غریب گھر میں پیدا ضرور ہوئی ہے مگر قسمت نے اس کا ساتھ دیا۔
اس نے اپنا آپ منوایا اور ثابت کر دیا کہ امیری،غریبی سب ہم لوگوں کے اپنے ذہن کے فتور ہیں۔
اللہ نے مجھے وسیلہ بنایا کہ میں اس لڑکی کی مدد کر سکوں،یہ میرے لیے بہت بڑی خوش قسمتی تھی۔
بچپن سے لے کر ڈاکٹر بننے تک میں نے اس کے سارے اخراجات اٹھائے اور ایک ماں کی طرح اس کی تربیت کی۔
تو کیا تمہیں میری تربیت پر یقین نہی؟
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟
وہ تو جیسے صدمے میں تھے۔
سہی کہہ رہی ہوں۔۔عریشے گل اپنے گھر واپس نہی گئی تھی بلکہ میرے ساتھ تھی اس کا نام عبیرہ رکھ دیا تا کہ کوئی پہچان نہ سکے مگر جن کا ملنا قسمت میں لکھا ہو انہیں کوئی جدا نہی کر سکتا۔
نوین کو پتہ چلے کہ یہ عریشے گل ہے تو وہ اس کے گھر پہنچ گیا کیوں۔۔۔یہ میں نہی جانتی۔
مگر وہاں بہت کچھ الٹ پلٹ ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نوین کو عریشے سے نکاح کرنا پڑا۔
اب وہ عریشے کو اپنی بیوی مان چکا ہے اور کسی صورت اسے چھوڑنے کو تیار نہی ہے۔
بہتر یہی ہے کہ تم نوین کو معاف کر دو اور اسے واپس بلا لو۔
جو کچھ ہوا اس میں نوین کی کوئی غلطی نہی ہے۔۔وہ موبائل کی رِنگ ٹون کی آواز پر فون کی طرف متوجہ ہو گئیں اور کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔۔۔۔
(جاری
