Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 09)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

صبح بے دلی سے ناشتہ کیا اور ہاسپٹل کے لیے نکل گیا۔آج کے دن تو وہ کسی صورت لیٹ نہی ہونا چاہتا تھا۔

ہاسپٹل پہنچا تو سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا فرق تھا تو بس اتنا کہ آج وہ شہلا بیگم کے کمرے کی طرف نہی گیا اور نہ ہی سٹاف روم کی طرف گیا۔

سیدھا اپنے کمرے میں آیا۔پانی پیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

وارڈز میں جا کر مریضوں کا جائزہ لیا۔

آج کسی کام میں دل نہی لگ رہا تھا اس کا عجیب سی بے چینی تھی۔

یا پھر یوں کہہ لیں کہ شدت سے کسی کی کمی محسوس ہو رہی تھی اسے۔۔۔بھلا کون ہو سکتی ہے وہ؟

وہی جو ہر وقت مسکراہٹ چہرے پر سجائے سب کو تسلیاں دیتی اور مسکراہٹیں بانٹنے کی عادی تھی۔

“ڈاکٹر عبیرہ”

ہر طرف اسی کی مدھم سی مسکراتی آواز،پیار بھرا لہجہ نوین کے کانوں میں گونج رہا تھا۔

“جن کا اپنا دامن خوشیوں سے خالی ہوتا ہے ناں یہی لوگ دوسروں کو جینے کا ڈھنگ سکھا جاتے ہیں،حالانکہ ان کے اپنے دامن میں تو بس دکھ ہی ہوتے ہیں اور وہ اپنے دکھ خود پر حاوی نہی ہونے دیتے اور دوسروں کی زندگی میں خوشیاں بھرنے کے لیے جتن کرتے ہیں،،

عبیرہ بھی کچھ ایسی ہی تھی اپنی زندگی میں دکھ ہی دکھ تھے مگر پھر بھی مسکرا کر زندگی گزارنے کا ہنر تھا اس کے پاس،اپنے راز دوسروں پر عیاں نہی ہونے دیتی اور ہر مشکل وقت خود کا بھی اور دوسروں کا بھی سہارا بنتی۔

مگر ایسے اچھے لوگوں کے ساتھ ہی برا کیوں ہوتا ہے؟

نوین نے جب سے عبیرہ کے بابا کی دیتھ اور تدفین کا پتہ چلا تب سے ہی وہ بہت بے چین سا تھا۔

رات تو کسی طرح گزر ہی گئی مگر اب دن کی روشنی اس کے لیے کسی آزمائش سے کم نہی تھی۔

وہ مریضوں کی فائلز چیک کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آ گیا۔

خدا کا شکر ادا کیا کہ آج کوئی سیریس کیس نہی تھا اور نا ہی کوئی آپریٹ تھا۔

اسی لیے وہ مطمئن سا اپنے کمرے میں چلا آیا۔

کمرے میں آیا تو فون بج رہا تھا۔رسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔

اسلام و علیکم!

وعلیکم اسلام۔۔۔۔کیسا ہے میرا بیٹا اور کوئی پرابلم تو نہی۔

نہی دادو سب ٹھیک ہے۔بس آپ کی کمی ہے۔

آپ جلدی سے واپس آ جائیں میرا دل نہی لگتا آپ کے بغیر۔

ویسے سب کچھ تمہیں ہی سنبھالنا ہے میرے لعل،میری زندگی کا کیا بھروسہ آج ہوں کل نہ رہوں۔۔۔۔وہ بہت افسردہ لگ رہی تھیں۔

دادو اگر ایسی باتیں کرنی تھیں تو بہتر تھا آپ کال نہ ہی کرتیں۔

میری دعا ہے کہ میری زندگی بھی آپ کو مل جائے۔

نہی ایسا نہی بولتے بیٹا میں تو بس ایسے ہی کہہ رہی تھی۔

ڈاکٹر عبیرہ کیسی ہیں اب؟

نوین تھوڑا ہچکچاتے ہوئے بولا۔

کیسی ہو سکتی ہے وہ،جس کے سر سے سائبان اٹھ جاِئے وہ انسان تو جیتے جی مر جاتا ہے۔

بہت بڑا صدمہ لگا ہے اسے۔۔۔۔سنبھلنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔

کل رات رو رو کر بے ہوش ہو گئی تھی۔ڈاکٹر طلحہ نے سنبھال لیا ورنہ کچھ بھی ہو سکتا تھا۔

Oh sad….

مگر دادو ایک بات سمجھ نہی آئی مجھے۔۔۔آخر ان کو اپنے بابا کو دیکھنے سے پہلے ہی کیوں دفنا دیا ان لوگوں نے؟

یہ بات تو مجھے بھی عجیب لگی ہے نوین۔۔بہت بے حس لوگ ہیں یہ۔

مجھے اور ڈاکٹر طلحہ کو بھی بہت عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں یہ لوگ۔۔۔۔ایسے جیسے ہمارے ساتھ کوئی دشمنی ہو۔

عبیرہ بیچاری کو تو خود کا ہوش نہی ہے۔میرا دل نہی چاہ رہا اسے اکیلے چھوڑ کر آنے کو۔

نہی دادو پلیز آپ آج واپس آ جائیں۔میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتا ہوں آپ کے بغیر۔

ٹھیک ہے میں رات کو واپس آ جاوں گی۔

اوکے دادو۔۔۔۔خدا حافظ۔

اپنا خیال رکھیں۔

ٹھیک ہے خدا حافظ۔

رسیور واپس رکھتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔

شہلا بیگم اور ڈاکٹر طلحہ اسی رات واپس آ گئے۔

نوین صبح ہاسپٹل پہنچا تو ان کو کمرے میں دیکھ کر تیزی سے ان کی طرف بڑھا۔

انہوں محبت سے اپنے پوتے کا ماتھا چوما اور عبیرہ کے بارے میں بتانے لگی۔

اسے کچھ وقت لگے گا خود کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔۔ویسے تو وہ بہت بہادر لڑکی ہے نوین۔

“مگر باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے تو بہادر لوگ بھی پست ہو جاتے ہیں،،

مجھے لگتا ہے تمہیں کال کر لینی چاہیے عبیرہ کو۔۔۔آخر وہ تمہاری دوست ہے،اس کے علاوہ وہ ہمارے ہاسپٹل سٹاف کا حصہ ہے۔

ہمیں ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں ساتھ دینا چاہیے ایک دوسرے کا۔

جی ٹھیک ہے میں کر لوں گا کال۔۔۔۔مگر میرے پاس ان کا کانٹیکٹ نمبر نہی ہے۔

اچھا میں دیتی ہوں۔۔۔۔وہ اپنا بیگ ڈھونڈنے لگیں مگر کہی نظر نہی آیا۔

لگتا ہے میرا بیگ گاڑی میں ہی رہ گیا۔

ایسا کرو ڈاکٹر طلحہ سے لے لینا یا پھر سٹاف کے کسی اور ممبر سے مگر کال یاد سے کر لینا۔

جی۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

سٹاف روم کے پاس سے گزرنے لگا تو ڈاکٹر طلحہ پر نظر پڑی۔

وہ فون پر مصروف تھا۔نوین دروازہ ناک کرتا ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔

ڈاکٹر عبیرہ میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں۔۔خدا حافظ۔

اس نے کال کاٹ دی۔

جی ڈاکٹر نوین۔۔۔۔آپ کو کوئی کام تھا مجھ سے؟

اس نے نوین کو متوجہ کیا۔

مگر نوین کا دماغ تو طلحہ کے منہ سے عبیرہ کا نام سن کر وہی اٹک سا گیا۔

ڈاکٹر نوین؟

طلحہ نے اسے پھر سے مخاطب کیا۔

جی۔۔۔۔مجھے ڈاکٹر عبیرہ کا کانٹیکٹ نمبر چاہیے تھا۔

جی ابھی لکھ دیتا ہوں۔

آپ ڈاکٹر عبیرہ کو کب سے جانتے ہیں؟

نوین کے سوال پر طلحہ کا ڈائری پر چلتا پین والا ہاتھ رک گیا اور وہ حیران کن نظروں سے نوین کو دیکھنے لگا۔

نوین کو لگا شاید یہ سوال پوچھ کر غلطی کر دی میں نے۔

اگلے ہی پل طلحہ مسکرا دیا اور نمبر لکھ کر نوین کی طرف بڑھایا۔

بچپن سے ہم دونوں ایک ساتھ ہیں۔پہلے سکول پھر کالج،یونیورسٹی اور اب ہاسپٹل امید ہے ہمیشہ ساتھ رہیں۔

طلحہ کے چہرے پر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی نوین کو مگر اسے یہ سن کر بہت عجیب لگا۔

مطلب۔۔۔۔۔؟

نوین حیرت سے بولا۔

مطلب بہت جلد سمجھ آ جائے آپ کو۔۔۔۔ابھی میں جا رہا ہوں سیریس پیشنٹ ہے اس کو دیکھنا ہے۔وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

جبکہ نوین وہی کھڑا سوچ کے دریا میں گم ہو گیا۔

فون پر رِنگ ٹون بجی تو وہ ہوش میں آیا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

اپنے روم میں جا کر وہ نمبر ٹیبل پر رکھ دیا۔

اس کا دل ہی نہی چاہا بات کرنے کو۔۔۔۔طلحہ کی باتوں سے اسے عجیب سے خوف نے آ گھیرا۔

مجھے کیا فرق پڑتا ہے ڈاکٹر عبیرہ جس سے چاہے بات کرے۔

ویسے بھی وہ دونوں بچپن کے دوست ہیں تو ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں اور کچھ نہی۔۔۔۔وہ خود کو تسلی دیتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

مگر وہ سمجھ نہی پایا کہ خود کو تسلیاں کیوں دے رہا ہے وہ۔

شاید اس کے دل کے کسی کونے میں عبیرہ نام کا پھول کھلنے لگا تھا۔ابھی وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔

دو ہفتے گزر گئے عبیرہ واپس نہی آئی ابھی تک۔

نوین نے اسے کال نہی کی پتہ نہی کیوں۔۔۔۔مگر وہ ہمت ہی نہی جتا پایا عبیرہ سے بات کرنے کی۔

ابھی گھر آیا تو اپنے کمرے سے عجیب سی خوشبو محسوس ہوئی وہ تیزی سے کمرے کی طرف بڑھا اور اس کا شک درست نکلا۔

نہی۔۔۔۔پھر سے نہی!

وہ سر تھامتے ہوئے صوفے پر گر سا گیا اور ٹیبل پر گلاب کے پھولوں سے سجے گلدستے کو دیکھنے لگا۔

اتنے دن سے وہ اس بات کو بھلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر آج پھر سے یہ سب دیکھ کر اس کا غصہ سے سر درد سے پھٹنے لگا۔

اس کے ساتھ پڑا پیپر دیکھ کر ہاتھ بڑھا کر وہ پیپر اٹھا لیا۔

“کیا ہوا مجھے بھول گئے تھے؟

شاید بھولنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ہاں ایسا ہی ہے مگر میں تمہیں خود سے دور ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتی۔

میں چاہتی ہوں تم بس میرے ہی خیالوں میں کھوئے رہو۔

“میری خوشبو تمہارے دل و دماغ پر چھائی رہے”

مجھ سے ملنے کی آرزو تو کرو۔۔۔میں یہی ہوں تمہارے پاس،تمہارے دل میں۔

کبھی مجھے محسوس کرنے کی کوشش تو کرو۔

مجھ سے ملنے کی آرزو تو کرو۔

آرزو ہے یہ دلِ نادان کی

مل جائے نظر دیدار یار کی

تم جو ہنس دو تو ہنس دوں

آئے جو کوئی غم تو آنچل میں چھپا لوں

آرزو ہے یہ دلِ نادان کی

جو ہو میسر مجھ کو

ایک زندگی تو بہت کم ہے

ہزاروں زندگیاں تیرے سائے میں گزار دوں۔

پاگل لڑکی۔۔۔۔نوین نا چاہتے ہوئے مسکرائے بنا نا رہ سکا۔

وہ پیپر واپس ٹیبل پر رکھتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

اس کا رخ کچن کی طرف تھا کیونکہ مسز شاہ ابھی کچن میں ہی تھیں۔

مام گھر پر کوئی آیا تھا کیا؟

مسز شاہ نوین کی بات پر کچن سے باہر آ گئیں۔

نہی۔۔۔۔آج تو کوئی بھی نہی آیا۔

مام آپ ٹھیک سے یاد کرنے کی کوشش کریں شاید کچھ یاد آ جائے آپ کو۔۔۔لائبہ کی کوئی فرینڈ یا پھر کوئی اور آیا ہو؟

ہاں لائبہ کی دوست آئی تھی ایک۔۔۔۔اکثر آتی رہتی ہے وہ آج بھی آئی تھی۔

ساتھ والے گھر میں رہتی ہے۔

اگر تم اس میں انٹرسٹیڈ ہو تو بات کروں ڈیڈ سے؟

وہ شک انگیز نظروں سے نوین کو دیکھتے ہوئے بولی۔

مطلب؟

نوین کو شاید ان کی بات کا مطلب سمجھ نہی آیا۔

اگر تمہیں پسند ہے تو بتا دو ہم بات کر لیں گے اس کے گھر والوں سے تمہاری شادی کی۔

نہی ماما ایسی کوئی بات نہی ہے میں تو بس ایسے ہی پوچھ رہا تھا۔

ارے بھئی کس کی شادی کی بات چل رہی ہے کوئی ہمیں بھی تو بتا دے۔۔۔۔شاہ صاحب اور لائبہ دونوں مسکراتے ہوئے وہاں آئے۔

نوین کی شادی کی۔۔مسز شاہ مسکراتے ہوئے بولیں۔

میں پوچھ رہی تھی کہ اگر اسے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دے تا کہ ہم بات آگے بڑھا سکیں۔

ایسا ممکن نہی ہے اگر اسے کوئی لڑکی پسند بھی ہے تو،اس بات سے کوئی فرق نہی پڑتا نوین کی شادی شاہ خاندان میں ہی ہو گی اس کے علاوہ سوچنا بھی مت۔۔۔وہ مسز شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولے۔

جی۔۔۔۔جیسا آپ چاہیں گے ویسا ہی ہو گا۔

آپ پریشان کیوں ہو رہے ہیں نوین آپ کی بات کبھی نہی ٹالے گا۔

جی ڈیڈ۔۔۔۔آپ ایسا کیوں سوچ رہے ہیں۔جیسے آپ کی مرضی۔

میری طرف سے آپ کو شکایت کا موقع نہی ملے گا۔

تو پھر علینہ کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا؟

ان کے سوال پر نوین چونک سا گیا۔

ڈیڈ جو آپ کو مناسب لگے۔۔۔۔مجھے کوئی اعتراض نہی ہے۔مگر ابھی میرا کوئی مائنڈ نہی ہے شادی کا۔

پہلے میں سیٹل ہونا چاہتا ہوں۔

لیں جی کر لیں بات!

ڈاکٹر بن گئے ہو،کڑوڑوں کی جائیداد کے اکلوتے وارث ہو تم۔۔۔۔بھوکی نہی رہے گی تمہاری بیوی۔۔۔۔آخری بات پر وہ ہنس دیے۔

سب ہنسنے لگے نوین بھی مسکرا دیا۔

نہی ڈیڈ یہ بات نہی ہے۔۔۔ابھی ابھی تو ہاسپٹل جوائن کیا ہے۔

دادو کو میری ضرورت ہے۔خوامخواہ شادی کے چکروں میں نہی پڑنا چاہتا میں۔

آپ تو جانتے ہی ہیں میرا کام کیسا ہے کسی بھی وقت ہاسپٹل جانا پڑ جاتا ہے اور علینہ شاید میرے ساتھ خوش نا رہ سکے۔

آپ تو جانتے ہیں ایک ڈاکٹر کی اپنی کوئی لائف نہی ہوتی وہ تو دوسروں کے لیے جیتا ہے۔

آپ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے ایک بار علینہ سے بات ضرور کر لیجئے گا۔

Excuse me….

وہ معزرت کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

کیا ہو گیا ہے اس لڑکے کو اس نے تو بہت دور کا سوچ رکھا ہے۔شاہ صاحب پریشان ہو چکے تھے وہ سمجھے نہی نوین نے انکار کیا یا اقرار۔

ہمارے ڈیڈ بھی تو ڈاکٹر تھے۔۔۔اماں نے بھی تو زندگی گزاری ہے۔

اب اس نواب کے نخرے تو سمجھ نہی آئے مجھے۔

کوئی بات نہی آپ اسے تھوڑا سا وقت دیں۔علینہ کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنے کا موقع دیں اسے۔۔۔دونوں ایک دوسرے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

کیسی بات کر رہی ہو۔۔۔ہمارے خاندان کی بیٹیاں نکاح سے پہلے نامحرم سے نہی ملتیں۔

آپ بھی کس پرانے زمانے کی بات کر رہے ہیں،زمانہ بدل چکا ہے۔

“زمانہ چاہے جتنا مرضی بدل جائے،لڑکی کے لیے ہر زمانہ ایک سا ہی ہوتا ہے اسے ہر زمانے میں اپنی اور اپنے گھر والوں کے مان کا خیال رکھنا ہوتا ہے،،

جیسا تم سوچ رہی ہو ویسا کچھ نہی ہونے والا۔۔۔۔میری بات یاد رکھنا۔

سمجھا دو اپنے بیٹے کو،میں انکار نہی سنوں گا۔

بہت جلد علینہ سے نکاح ہو گا اس کا۔جلدی بات ہو گی میری رابیعہ اور بھائی صاحب سے۔

لائبہ چپ چاپ پاس بیٹھی فون پر انگلیاں چلا رہی تھی۔

نوین واپس کمرے میں آیا تو نظر پھر سے پھولوں پر پڑی اور وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے چینج کرنے کے لیے چلا گیا۔

فریش ہو کر آیا تو موبائل بج رہا تھا۔کوئی انجان نمبر تھا۔

نوین نے کال پک کی مگر دوسری طرف گہری خاموشی تھی۔

وہ بہت دیر تک بولتا رہا مگر کوئی جواب نہی ملا۔

پھر کسی کے آنسو بہانے اور سسکیوں کی آواز فون میں گونجنے لگی۔

نوین کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی۔یہ آواز تو۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا کال کاٹ دی گئی۔

وہ تیزی سے گاڑی کی چابی اور وائلٹ اٹھاتے ہوئے باہر کی طرف بڑھا۔

ساتھ ہی ساتھ نمبر بھی ڈائل کرنے لگا مگر نمبر بند تھا۔

اسی نمبر سے ایک میسیج بھی موصول ہوا اسے۔

مسز شاہ چلاتی رہ گئیں مگر نوین نہی رکا۔

وہ تیز ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہاں پہنچا۔

یہ ایک ہاسپٹل کا کمرہ تھا۔

وہ دروازہ بنا ناک کیے اندر داخل ہوا۔

وہ پٹیوں میں جکڑی بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔

دروازہ کھلنے کی آواز اور کسی کے قدموں کی آہٹ سن کر وہ آنکھیں کھول کر مسکرا دی۔

نوین کے لیے بہت بڑی آزمائش تھی اسے اس حال میں دیکھنا۔

Don’t worry.

میں ہوں یہاں۔۔۔

نوین کے اس جملے پر وہ مسکرا دی اور اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کی مگر سر میں درد کی شدید لہر اٹھی اور وہ سر تھامے گر سی گئی۔

آرام سے لیٹ جاو،اٹھ کر بیٹھنے کی ضرورت نہی ہے۔

یقین تھا کہ میں آوں گا؟

نوین کے سوال پر وہ مسکرا دی،جو میری سسکیوں کو بھی پہچان لے اس پر بے یقینی کیسے ہو سکتی ہے۔

نوین مسکرا دیا۔اچھا میں زرا ڈاکٹر سے مل کر آ رہا ہوں۔

ڈاکٹر سے ملنے کے بعد اس نے ڈاکٹر سے یہ بات کی وہ یہ آپریٹ خود کرے گا۔

ڈاکٹر کو اپنا تعارف کروایا تو وہ مان گیا۔

ساری رپورٹس دیکھنے کے بعد وہ واپس اسی کمرے میں گیا۔

وہ اسے پھر سے آتے دیکھ مسکرا دی۔

آپریٹ کرنا ہو گا آج ہی۔

Are you ready?

مسکرا کر اس نے سر ہاں میں ہلایا۔

Don’t worry.

میں سب سنبھال لوں گا مجھ پر بھروسہ رکھو۔نوین اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

ہممم۔۔۔وہ پھر سے مسکرا دی اور اپنا ہاتھ پر نوین کا ہاتھ دیکھنے لگی۔

نوین کا موبائل بجنے لگا تو وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

جی ڈیڈ۔۔وہ تھوڑا گھبراتے ہوئے بولا جانتا تھا وہ غصے میں ہو گے۔

کہاں ہو نوین؟

ہم سب پریشان ہو رہے ہیں بنا بتائے کہاں چلے گئے۔

حسبِ توقع وہ غصے میں ہی تھے۔

ڈیڈ وہ دراصل میرے ایک دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ہاسپٹل آیا ہوں۔

Ohh….so sad

اب کیسا ہے وہ۔۔۔اب کی بار ان کا لہجہ تھوڑا نرم تھا۔

جی ڈیڈ اب پہلے سے بہتر ہے مگر ایمرجنسی میں ہے تو ہو سکتا ہے میں تھوڑا لیٹ ہو جاوں۔

آپ لوگ کھانا کھا لیں میں یہاں سے کچھ کھا لوں گا۔

ٹھیک ہے مگر بتا کر جایا کرو بیٹا۔۔۔۔تمہاری مام بہت پریشان ہو رہی تھیں۔

آئیندہ دھیان رکھو گا ڈیڈ۔

خدا حافظ۔۔۔۔انہوں نے کال کاٹ دی تو نوین واپس کمرے میں آ گیا۔

کچھ ہی دیر میں آپریشن کے انتظامات پورے ہو گئے اور اسے آپریشن تھیٹر میں شفٹ کر دیا گیا۔

چھوٹا سا آپریشن تھا اور کامیاب ہوا۔

آپریشن کے بعد اسے کمرے میں شفٹ کر دیا گیا۔

نوین بھی کچھ دیر بعد کمرے میں آ گیا۔

وہ بے ہوش تھی۔انجیکشن کا اثر کچھ دیر تک ختم ہو گا۔

نوین اس کے پاس آ رکا اور اس کے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا۔

کچھ لوگ اچانک ہماری زندگی میں آتے ہیں اور ہمارے لیے بہت خاص بن جاتے ہیں۔

تم بھی کچھ ایسی ہو اچانک میری زندگی میں آئی اور کب میرے دل میں تمہارا عکس چھا گیا کچھ پتہ ہی نہی چلا۔

ایسا کب ہوا مجھے احساس تک نہی ہوا۔۔

دعا ہے کہ تمہارے چہرے کی مسکراہٹ ہمیشہ قائم رہے آمین۔۔۔۔وہ دل سے اس کے لیے دعا کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔

کیا کروں اب۔۔۔۔صبح ہاسپٹل بھی جانا ہے اور ساری رات بھی یہاں نہی رک سکتا۔

کسی کا یہاں ہونا بہت ضروری ہے۔

ہممم۔۔۔۔لائبہ میری مدد کر سکتی ہے۔

ہاں یہ سہی رہے گا۔

لائبہ کا نمبر ڈائل کیا۔

جی بھائی۔۔۔۔اس نے فوراً کال پک کی۔

Laiba,i need your help?

جی بھائی آپ بتائیں کیا کام ہے۔

ابھی نہی صبح!

میرا مطلب تم صبح میرے ساتھ یونیورسٹی جاو گی۔مگر تمہیں یونیورسٹی نہی جانا۔

میری ایک دوست ہے جس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے مگر اس کا خیال رکھنے والا کوئی نہی ہے۔تو میں نے سوچا تم ایک دو دن یونیورسٹی ٹائمنگز تک اس کے پاس رہ لینا۔

اگر تمہیں ٹھیک لگے تو؟

کیا بھائی آپ کی گرل فرینڈ ہے؟

بہت بڑے چیٹر ہیں آپ،اس سے پہلے تو کبھی نہی بتایا آپ نے۔

لائبہ پلیز آہستہ بات کرو اگر مام،ڈیڈ نے سن لیا تو بہت بڑی مصیبت ہو جائے گی۔

جیسا کہا ہے بس ویسا کرو۔

ٹھیک ہے بھائی مگر بدلے میں مجھے کیا ملے گا؟

جو تم کہو گی دلا دوں گا مگر کسی کو پتہ نا چلے اس بات کا۔۔۔۔راحم کو بھی نہی۔

ٹھیک ہے بھائی خدا حافظ۔

خدا حافظ۔۔۔۔نوین نے کال کاٹ دی اور کمرے میں جا کر اس کے ہوش میں آنے کا انتظار کرنے لگا۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *