Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 16)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 16)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
لائبہ بھی ابھی ابھی یونیورسٹی سے آئی اور وہی چلی آئی۔
اسلام و علیکم!
سامنے میز پر رکھی تصویریں اور نکاح نامہ دیکھ کر وہ بھی دھنگ رہ گئی۔
بھائی نے شادی کر لی؟
وہ نکاح نامہ اور تصویریں اٹھاتے ہوئے بولی۔
ہمیں بھی نظر آ رہا ہے لائبہ۔۔۔تم جاو اپنے کمرے میں۔مسز شاہ نے وہ تصویریں اور نکاح نامہ اس کے ہاتھ سے واپس کھینچ لیا۔
وہ ڈر کر پیچھے ہٹی اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔
اس کا مطلب گلریز نے جو کچھ کہا سچ تھا۔۔۔میرا بیٹا مجھے دھوکا دے رہا تھا اور مجھے ہی پتہ نہی چلا۔
آپ فکر مت کریں میں سمجھاوں گی اسے۔۔۔مسز شاہ نے ان کو ریلکس کرنا چاہا۔
کیا سمجھاوں گی تم اسے؟
اب سوچنے سمجھنے کو بچا ہی کیا ہے؟
نکاح کر لیا ہے ہمارے صاحبزادے نے اور ہمیں خبر تک نہی ہوئی۔
وہ غصے سے چلا رہے تھے۔
آپ ریلکیس ہو جائیں آپ کی طبیعت پہلے ہی خراب ہے۔ہو سکتا ہے کسی نے مزاق کیا ہو ہمارے ساتھ وہ خود کو تسلی دینا چاہ رہی تھیں۔
کیا یہ تصویریں مزاق ہیں؟
انہوں نے غصے سے وہ تصویریں اٹھا کر واپس میز پر پھینکی۔
یہ ہمارا بیٹا ہی ہے نوین شاہ جو نکاح نامے پر سائن کر رہا ہے۔
میں کل اس کی اور علینہ کے نکاح کا دن ڈیسائیڈ کرنے کا سوچ رہا تھا اور وہ نکاح کر چکا ہے۔
نوین سے اس حرکت کی امید نہی تھی مجھے،میں سمجھا تھا وہ بس ویسے ہی شادی نہی کرنا چاہتا مگر وہ کہی اور پلاننگ کر رہا تھا شادی کی۔
جب سب کچھ ہو گیا تو نکاح کر لیا اس نے ایک بار بھی اپنی بہن کے بارے میں نہی سوچا کہ اس کوتاہی سے اس کی بہن کے رشتے پر کیا اثر پڑے گا۔اتنا خود غرض کیسے ہو سکتا ہے نوین؟
علینہ سے منگنی کے لیے ہاں بھی اس نے خود کی تھی میں نے کوئی زور زبردستی تو نہی کی تھی اس کے ساتھ۔
فون کرو اسے اور گھر بلاو ابھی۔۔۔انداز حکمانہ تھا۔
جی میں ابھی فون لے کر آتی ہوں اپنا وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھیں اور فون کان سے لگائے باہر آئیں۔
میں کال کر رہی ہوں مگر نوین کال پک نہی کر رہا شاید مصروف ہو گا۔
جب کال پک کر لے تو اسے کہو فوراً گھر آئے میں کمرے میں اس کا انتظار کر رہا ہوں۔
وہ ایک غصے بھری نظر نکاح نامے پر ڈالتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئے۔
یہ کیا کر دیا تم نے نوین۔۔۔۔مسز شاہ سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
لائبہ بھی جب سے کمرے میں آئی نوین کو مسلسل کال کر رہی تھی مگر وہ کال پِک نہی کر رہا تھا۔
وہ پریشان تو تھی مگر خوش بھی کہ جو وہ چاہتی تھی ہو گیا مگر اب اسے اپنے ڈیڈ کے غصے سے بھی ڈر لگ رہا تھا۔
نوین اپنا فون آج گھر بھول گیا تھا۔
جیسے ہی ہاسپٹل سے گھر آیا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
فریش ہو کر نیچے تو سب ڈائینگ ٹیبل پر اسی کا انتظار کر رہے تھے۔
وہ سلام کرتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
سب کے چہروں پر پریشانی دیکھ ہی نہی سکا وہ اپنی ہی دھن میں مگن تھا کہ شاہ صاحب نے اس کے سامنے میز پر وہی فولڈر پھینکا۔
نوین ان کے اس انداز پر حیران سا انہیں دیکھنے لگا۔
“کیا ہوا ڈیڈ”؟
یہ کیا ہے؟
وہ فولڈر پر اپنا نام دیکھ کر حیران ہوا اور جلدی سے اسے کھول کر وہ تصویریں اور نکاح نامہ باہر نکال کر میز پر رکھ دیا۔
اس کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ کر شاہ صاحب کا یقین پختہ ہو گیا کہ یہ کوئی مزاق نہی بلکہ نوین یہ سب کر چکا ہے۔
ڈیڈ میں آپ کو سب بتاتا ہوں۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
کوئی ضرورت نہی مجھے کچھ بتانے کی۔۔۔انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے نوین کو بولنے سے روک دیا۔
کچھ بتانے کی ضرورت نہی سنا تم نے؟
وہ غصے سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے مگر پھر رک کر پلٹے۔
اپنی بیوی کو لے کر آو ابھی۔۔۔۔۔حکم دیتے ہوئے ٹی وی لاونج میں صوفے پر بیٹھ گئے۔
مگر ڈیڈ!!
نوین نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے بولنے سے منع کر دیا۔
جتنا کہا ہے اتنا کرو!
اتنا بول کر وہ اپنے فون پر کسی کا نمبر ڈائل کرنے میں مصروف ہو گئے۔
جیسا وہ کہہ رہے ہیں ویسا ہی کرو نوین،مزید آزمائش میں مت ڈالو ہمیں۔۔۔۔جاو اور عریشے کو لے آو۔
جی بھائی ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں مجھے لگتا ہے ڈیڈ عریشے کو قبول کر لیں گے آپ کی خاطر کیونکہ انہوں نے ہمیشہ وہی کیا ہے جس میں آپ کی خوشی ہو۔
وہ چپ چاپ باہر کی طرف بڑھ گیا۔
افشاں کے گھر گیا وہ لوگ بھی کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
نوین کو اچانک یہاں آتے دیکھ عریشے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور افشاں اور اس کی ماما بھی حیرت زدہ نوین کو دیکھنے لگیں۔
نکاح کے بعد آج پہلی دفعہ وہ افشاں کے گھر آیا عریشے سے ملنے تو حیرت تو ہونی ہی تھی۔
اسلام و علیکم۔۔۔۔اس نے سب کو سلام کیا۔
وعلیکم اسلام۔۔۔۔آو بیٹا ہمیں جوائن کرو،بہت اچھا کیا عریشے سے ملنے آ گئے۔
ہم دونوں ماں،بیٹی ابھی تمہارا ہی ذکر کر رہے تھے اور تم آ گئے۔
افشاں کی ماما آگے بڑھیں اور محبت سے نوین کے سر پر ہاتھ رکھا۔
جی آنٹی ضرور مگر پھر کبھی کھانا کھاوں گا آپ کے ساتھ مگر ابھی میں عریشے کو لینے آیا ہوں۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہی بیٹا؟
وہ دراصل ڈیڈ کو سب پتہ چل چکا ہے میرے اور عریشے کے نکاح کے بارے میں تو وہ عریشے سے ملنا چاہتے ہیں،وہ عریشے سے نظریں چراتے ہوئے بول رہا تھا۔
یہ تو اچھا ہوا مگر وہ اتنی آسانی سے مان گئے یہ سن کر میں حیران ہوں۔۔۔خیر تم لے جاو عریشے کو اور اگر ہماری ضرورت ہو تو ہم بھی چلتے ہیں ساتھ۔۔۔۔
نہی ابھی نہی۔۔۔۔آپ ایسا کریں کہ دادو کو اطلاع کر دیں اور ان کے ساتھ گھر آئیں۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔تم لے جاو عریشے کو ہم پہنچتے ہیں۔
چلیں۔۔۔۔؟
وہ عریشے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
وہ حیران پریشان سی نوین کو دیکھنے لگی،ایسے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔
عریشے۔۔۔۔۔جاو بیٹا نوین انتظار کر رہا ہے۔
افشاں کی ماما کی آواز پر وہ چونک کر کرسی پر رکھی اپنی شال اٹھا کر اچھی طرح اپنے گرد پھیلاتے ہوئے نوین کے پاس آ رکی۔
نوین نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے تو وہ بھی قدم سے قدم ملاتی چلنے لگی۔
“اگلی دفعہ جب تم نوین سے ملو تو اس کو بتا دینا کہ تم نے کچھ نہی کیا۔
وہ عریشے کو تسلیاں دے رہی تھیں۔
دیکھو بیٹا ہم غریب لوگ ہیں اور وہ امیر لوگ ہیں۔
آئیندہ میری بیٹی نے ان کی کسی بھی چیز کو ہاتھ نہی لگانا۔
اس کمرے میں ہی رہنا ہے۔
یہی ہماری زندگی ہے۔
اب ہم دونوں ہی ایک دوسرے کا سہارا ہے عریشے گل۔
اللہ کے سوا ہمارا کوئی وارث نہی اس دنیا میں۔
یہ بات جتنی جلدی سمجھ لو اچھا ہے ہمارے لیے۔
“گل بی بی اس گھر کی نوکرانی ہیں اور تم ان کی نواسی ہو۔
“اس کا مطلب تم بھی ہماری نوکر ہو!
میری بات نہی مانو گی تو سزا ملے گی تمہیں،،
“یہ لڑکی اپنی اوقات بھول رہی تھی۔
بہت اچھا کیا نوین نے اسے اس کی اوقات یاد دلا دی،،
“آج کے بعد یہ لڑکی اس گھر میں نظر نہی آئے مجھے گل بی بی،،
“کل صبح تم اپنے گھر جا رہی ہو اپنے بابا کے پاس۔
اب یہاں رہنا مناسب نہی ہے۔اس بڑھاپے میں کب تک تجھے سنبھالوں گی میں۔
یہ لوگ تو میری زندگی میں نہی پوچھتے میرے مرنے کے بعد کہاں پوچھیں گے۔
اس سے تو اچھا ہے کہ تم اپنی سوتیلی ماں کے ظلم و ستم برداشت کر لو۔
جو بھی ہو گا کم ازکم اپنے باپ کی نظروں کے سامنے تو رہو گی،،
جیسے ہی عریشے گیٹ سے اندر داخل ہوئی ماضی کی تلخیاں اس کے سامنے آتی چلی گئیں۔
گُل بی بی کا بولا ہوا ہر ایک لفظ اس کے ذہن پر چھانے لگا اور آنکھوں سے آنسو جھلکنے لگے۔
نوین نے عریشے کو پیچھے رکے دیکھا تو واپس پلٹا اور اس کا ہاتھ تھام کر اندر کی طرف بڑھا۔
وہ بے بسی سے اس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔
وہ عریشے کو ساتھ لیے اندر داخل ہوا تو شاہ صاحب اور مسز شاہ دونوں حیرانگی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ڈیڈ یہ عریشے ہے میری بیوی”
نوین کے الفاظ شاہ صاحب کو کانٹے کی طرح چُبے۔
“گُل بی بی کی نواسی۔۔۔۔۔
گُل بی بی۔۔۔۔شاہ صاحب کو جیسے شاک لگا۔
یہ گل بی بی کی نواسی عریشے گُل ہے؟
انہوں نے عریشے کی طرف اشارہ کیا۔
جی ڈیڈ۔۔۔۔
نوین کا بس اتنا کہنا تھا کہ شاہ صاحب غصے سے آگے بڑھے اور پوری قوت سے ایک زور دار تھپڑ نوین کے گال پر لگا دیا۔
نوین ظبط سے نظریں جھکائے کھڑا رہا مگر بولا کچھ نہی۔
عریشے بہتے آنسووں کے ساتھ نوین کو دیکھنے لگی اور اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ آزاد کرانے کی کوشش کرنے لگی مگر نوین کی اس کے ہاتھ پر گرفت مزید مظبوط ہو گئی۔
اور تم۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بیٹے کے ساتھ نکاح کرنے کی،اپنی اوقات بھول گئی تم؟
وہ غصے سے عریشے کی طرف بڑھے مگر نوین عریشے کے سامنے آ گیا مگر نظریں جھکائے ہوئے۔
شاہ صاحب نے اسے ایک اور تھپڑ لگایا۔
اس دو ٹکے کی لڑکی کے لیے تم اپنے باپ کا مقابلہ کرو گے اب۔۔۔
“ڈیڈ یہ دو ٹکے کی لڑکی نہی ہے،بیوی ہے میری۔۔۔۔اب کی بار نوین نے شاہ صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
اور یہ دو ٹکے کی لڑکی آپ کی بہو ہے اب!
خبردار۔۔۔۔خبردار جو اس لڑکی کو میری بہو کہا تم نے۔۔۔۔میں اس لڑکی کو کبھی قبول نہی کروں گا۔وہ غصے سے چلائے۔
عریشے نوین کو اپنے سامنے ڈھال بنے دیکھ رہی تھی وہ نوین شاہ جو اس سے نفرت کرتا تھا اور آج اس کے لیے سب کی نفرت کا حقدار بن چکا تھا۔
لائبہ اور مسز شاہ بھی آنسو بہا رہی تھیں،بچپن سے لے کر آج تک شاہ صاحب نے نوین پر ہاتھ اٹھانا تو دور کبھی ڈانٹا بھی نہی تھا۔
اس لڑکی کو طلاق دو ابھی اور اسی وقت!
یہ میرا حکم ہے نوین۔۔۔۔۔
Sorry dad,i can’t do this.
ٹھیک ہے مت دو اسے طلاق آج سے یہ بھول جاو کہ تم میرے بیٹے ہو اور میں بھی یہی سمجھوں گا کہ میرا کوئی بیٹا تھا ہی نہی۔۔۔۔۔وہ صوفے پر جا بیٹھے۔
ڈیڈ۔۔۔۔نوین عریشے کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے ان کی طرف بڑھا۔
ڈیڈ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ؟
میں آپ کا بیٹا ہوں،آپ میرے ڈیڈ ہیں آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں میں؟
تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔اس لڑکی کو طلاق دے دو۔
میں سب بھلا دوں گا،سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے گا اس لڑکی کو نکال دو اپنی زندگی سے۔
نوین نے ایک نظر سامنے کھڑی عریشے پر ڈالی اور دوسری نظر اپنے ڈیڈ کے ہاتھوں میں موجود اپنے ہاتھوں کو وہ گھنٹوں کے بل ان کے سامنے بیٹھ گیا۔
