Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi NovelR50494 Chand Chupa Badal Mein (Episode 08)
Rate this Novel
Chand Chupa Badal Mein (Episode 08)
Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi
اتنی رات کو کوئی لڑکی اکیلی گھر سے کیسے باہر نکل سکتی ہے،حیرانگی والی بات ہے۔
کوئی روکنے والا ہی نہی ہے اور لائبہ نے اتنی رات کو گیٹ کیوں کھولا۔
پتہ بھی ہی گارڈ نہی ہے گیٹ پر۔۔۔اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو پھر۔۔۔اس پاگل لڑکی کی تو صبح کلاس لگواوں گا ڈیڈ سے۔
ایک تو اس لڑکی نے پاگل کر رکھا ہے مجھے صبح و شام۔
ایک ماہ تک کوئی رسپونس نہی آیا تو مجھے لگا شاید یہ قصہ ختم ہو گیا مگر نہی اس نے ہار نہی مانی۔
آفس میں کیمرہ لگوایا تو گھر تک پہنچ گئی۔۔۔پریشان کر رکھا ہے۔
جتنا بھی ذہن پر زور ڈال لوں سمجھ ہی نہی آتا آخر یہ کون ہے۔
ایک منٹ۔۔۔۔۔میں نے اپنے آفس میں کیمرہ فِٹ کیا اسے کیسے پتہ چلا؟
یہ میرا کمرہ ہے یہ بھی پتہ ہے اسے اور تو اور وہ آسانی سے اس گھر میں بھی آ سکتی ہے۔
مطلب اس کا تعلق ہاسپٹل اور ہمارے گھر دونوں سے ہے۔
یا پھر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے گھر اور ہاسپٹل میں کوئی تو ایسا ہے جو اس کی مدد کر رہا ہے یا پھر کر رہی ہے۔
لائبہ۔۔۔۔!
اس کی وہ دوست جو ابھی ابھی یہاں سے گئی۔اس نے اپنا چہرہ کیوں چھپا رکھا تھا اور مجھے دیکھتے ہی وہ تیزی سے گیٹ سے باہر نکل گئی۔
ہو نہ ہو میرا شک بلکل درست ہے۔
یہ لائبہ کی دوست ہے کیونکہ ابھی میرے کمرے میں یہ گلدستہ اور پیپر۔۔۔اور پھر اچانک لائبہ کا خفیہ طریقے سے رات کے اس وقت اس لڑکی سے باتیں کرنا۔
ساری الجھنیں اب سلجھنے والی ہیں۔
لائبہ ہی بتا سکتی ہے مجھے اس کے بارے میں۔۔ہاں یہی سہی ہے۔
مگر اس وقت نہی صبح بات کروں گا۔
ابھی مجھے سو جانا چاہیے،صبح جلدی اٹھنا ہے۔
سوچوں میں ڈوبا وہ سونے کے لیے لیٹ گیا۔
صبح تیار ہو کر ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو سب موجود تھے سوائے لائبہ کے۔
جب سب ناشتہ کر چکے تو لائبہ عجلت میں وہاں آ پہنچی۔
ڈیڈ پلیز مجھے یونیورسٹی ڈراپ کر دیں۔ُبہت لیٹ ہو گئی ہے مجھے۔
بیٹا میں تو آج آفس نہی جا رہا طبیعت کچھ ناساز ہے آپ بھائی کے ساتھ چلی جاو۔
جی ڈیڈ میں چھوڑ دوں گا لائبہ کو آپ آرام کریں۔
جی ڈیڈ آپ آرام کریں میں چلی جاتی ہوں بھائی کے ساتھ۔
ناشتہ تو کر لیتی لائبہ۔۔۔مسز شاہ تھوڑا غصے سے بولیں۔
نہہی مام میں ناشتہ وہی کر لوں گی آج میری فرینڈ ناشتہ کروا رہی ہے ہم سب کو۔
چلیں۔۔۔؟
نوین ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
جی بھائی۔۔لائبہ مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھی۔
خدا حافظ۔۔۔نوین مسکراتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا۔
گاڑی میں مکمل خاموشی تھی۔
آج موسم کتنا اچھا ہے نا بھائی؟
آخر کار لائبہ بول پڑی۔
نوین نے اسی وقت گاڑی سائیڈ پر روک دی۔
کاش میں بھی ایسا کہہ سکتا!
ایک ایک لفظ غصے سے بولا گیا۔
ککیا ہوا بھائی؟
آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟
میری طبیعت تو بلکل ٹھیک ہے اور اگر تم چاہو تو آگے بھی ٹھیک رہ سکتی ہے۔
نوین کا دل چاہا کہ ابھی اپنے غصے کی وجہ بیان کر دے لائبہ کے سامنے لیکن نہی۔۔۔۔اس نے اپنا غصہ قابو کیا۔
یہ سوچتے ہوئے کہ اگر ابھی میں نے لائبہ سے کچھ بھی پوچھا تو یہ صاف انکار کر دے گی اور میرے ہاتھ کچھ نہی لگے گا۔
تو بہتر ہے کہ میں تھوڑا انتظار کروں اور ان کی اگلی چال کا انتظار کروں۔تا کہ ان دونوں کو رنگے ہاتھ پکڑ سکوں۔
ہممم۔۔۔یہ سہی رہے گا۔وہ دل ہی دل میں سوچ کر مسکرا دیا۔
گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے لائبہ کی طرف متوجہ ہوا۔
لائبہ میں بہت پریشان ہوں تمہاری وجہ سے۔۔۔۔نہ تو تم کھانا ٹھیک سے کھاتی ہو اور نہ ہی پڑھائی میں دل لگتا ہے تمہارا۔
پتہ نہی کیا بنے گا تمہارا؟
لائبہ نے سکھ کا سانس لیا بھائی کی بات پر وہ تو سمجھ رہی تھی کہ شاید نوین کو سب پتہ چل چکا ہے اور اب وہ اس سے جواب طلب کرے گا۔
لائبہ کے چہرے کی گھبراہٹ نوین دیکھ چکا تھا۔اس کا شک اب یقین میں بدل چکا تھا۔
کیا بھائی آپ بھی ناں۔۔۔فضول میں پریشان ہوتے رہتے ہیں۔
آپ فکر مت کریں میرا مستقبل سنور چکا ہے تو مجھے کوئی فکر نہی۔
فکر تو اس کو ہونی چاہیے جس کے ساتھ میرا مستقبل جڑ چکا ہے۔
پتہ نہی کیا بنے گا اس بیچارے کا وہ دبی دبی سی ہنسی میں بولی۔
بری بات لائبہ۔۔۔۔نوین نے اسے ٹوکا۔
راحم بہت بھولا ہے اور تم بہت چالاک ہو کبھی کبھی تو مجھے بہت ترس آتا ہے اس بیچارے پر۔
تمہاری باتوں میں آ جاتا ہے ایسے جیسے غلام ہو۔بہت بری بات ہے لائبہ۔۔۔خود کو چینج کرو۔
واہ بھائی کیا بات ہے آپ کی۔۔۔۔آپ دنیا کے پہلے بھائی ہیں جو بہنوئی کی تعریف اور بہن کی برائیاں کرتے ہیں۔
اتنے بھی بھولے نہی ہیں وہ۔۔۔۔ہزاروں بار کال کروں تو ایک میسیج آتا ہے ان کا وہ بھی کیا؟
Sorry,I’m busy right now!
اور آپ کہتے ہیں میری ساری باتیں مانتے ہیں۔
ہاں تو وہ ایک بزنس مین ہے ہزاروں کام ہوتے ہے اسے،تم ہر وقت کالز کر کے پریشان کرتی رہتی ہو اسے اور جیسے ہی وہ فری ہوتا ہے آفس سے تمہاری خدمت میں حاضر ہو جاتا ہے بوتل سے نکلے جن کی طرح۔
بوتل سے نکلا جن؟
لائبہ سوچ میں پڑ گئی۔
اف بھائی آپ بھی ناں۔۔۔۔بوتل سے نکلا جن نہی چراغ سے نکلا جن۔۔
Yaah whatever…
نوین کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔
میرا مقصد تھا تمہیں سمجھانا۔۔۔تنگ مت کیا کرو اسے،اپنی اسائمنٹس خود بنایا کرو۔
وہ پہلے ہی تھکا ہارا آتا ہے آفس سے اور تم اسے اپنے کاموں میں لگا دیتی ہو۔
تھوڑا خیال کیا کرو اس کا۔
یہ میرا حق ہے بھائی ان سے کام نکلوانا اور ان کا فرض ہے کہ میری ہر کال پر لبیک بولیں۔
بلکل پاگل ہو تم۔۔۔۔نوین نے یونیورسٹی کے گیٹ کے پاس گاڑی روک دی۔
آپ نہی سمجھیں گے بھائی۔۔۔۔دراصل آپ کی زندگی میں ابھی کوئی ہے نہی جو آپ کے نکھرے اٹھائے اور آپ اس کے نکھرے اٹھائیں۔
جب کوئی آ جائے گی ناں تب سمجھ جائیں گے آپ،ابھی آپ کو سمجھانا فضول ہے۔
نوین کے چہرے کے غصیلے تیور دیکھتے ہوئے لائبہ تیزی سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔
پھر واپس پلٹی دروازے پر بازو جمائے گاڑی کے اندر جھانکتے ہوئے مسکرائی۔
بھائی کوئی ہے کیا؟
وہ لاکٹ والی۔۔۔معنی خیزی میں بولتی وہ گیٹ کی طرف بڑھ گئی۔
نوین ایک گہرا سانس لیتے ہوئے اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا۔
جب لائبہ یونیورسٹی کا گیٹ پار کر گئی تو اس نے گاڑی ہاسپٹل کی طرف موڑ دی۔
ہاسٹل پہنچ کر دادو سے ملتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھا تو بے ساختہ سٹاف روم سے آنے والی آواز پر قدم روک دئیے۔
ڈاکٹر افشاں یہ سب ٹھیک نہی کر رہی آپ!
یہ تو اچھا ہوا کہ میں وقت پر پہنچ گئی اور سب سنبھال لیا۔
اگر ان کو پتہ چل گیا تو ہم سب کے لیے اچھا نہی ہو گا۔
نوین دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔
Every thing is fine?
نوین کو سامنے دیکھ کر دونوں کے چہروں پر پریشانی چھا گئی۔
DR,naveen…yes every thing is fine,no problem.
ایک مریض کی حالت کافی خراب تھی تو ڈاکٹر افشاں نے ان کے گھر والوں سے یہ کہا کہ آپ کسی اور ہاسپٹل لے جائیں۔
کیونکہ آج دو ڈاکٹرز چھٹی پر ہیں تو اسی لیے انہوں نے ایسا کیا۔
وہ تو میں وقت پر پہنچ گئی اور مریض کو ایڈمٹ کرنے کو بولا۔
تو میں ان سے یہی کہہ رہی تھی کہ اگر میم کو پتہ چل گیا تو اچھا نہی ہو گا۔
Its ok dr,abeerah….
ڈاکٹر افشاں آئیندہ ایسا نہی ہونا چاہیے پلیز!
ورنہ دادو کے غصے سے تو آپ واقف ہی ہیں۔
جی سر۔۔آئیندہ دھیان رکھوں گی میں۔۔۔۔ڈاکٹر افشاں شرمندہ سی بولی۔
نوین اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
عبیرہ اپنا سر تھامتے ہوئے کرسی پر بیٹھ گئی۔
آج تو ہم بچ گئیں لیکن ڈاکٹر افشاں پلیز۔۔میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں آئیندہ ایسا نہی ہونا چاہیے۔
اف۔۔۔عبیرہ تم کچھ زیادہ ہی ڈرتی ہو ڈاکٹر نوین سے۔
نہی میں ان سے ڈرتی نہی ہوں،میری نوکری کی فکر ہے مجھے۔
آپ تو جانتی ہیں بابا بیمار ہے ان کا علاج چل رہا ہے اور مجھے ان کے علاج کے لیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں۔
بھائی ابھی چھوٹا ہے اس کی اور شازیہ کی پڑھائی کا خرچہ بھی مجھے اٹھانا ہوتا ہے۔
اماں پہلے ہی ابا کی وجہ سے پریشان ہیں ایسے میں اگر میری نوکری چلی گئی تو کون سنبھالے گا ان سب کو۔
ان سب کی امیدیں مجھ سے جڑی ہیں اور میں کسی بھی صورت ان کی امیدیں توڑنا نہی چاہتی۔
اب چلیں مریضوں کو دیکھ لیں۔وہ دونوں ایمرجنسی وارڈز کی طرف بڑھ گئیں۔
نوین اپنے کمرے میں گیا۔پانی کا گلاس پیا اور ریلیکس ہوتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
اپنے روم سے باہر نکلا تو ڈاکٹر عبیرہ کو آنسو بہاتے سامنے سے تیزی سے گزرتے دیکھا۔
ڈاکٹر عبیرہ۔۔۔۔نوین نے اسے پکارا مگر وہ شاید جلدی میں اس کی پکار نا سن سکی۔
سر وہ اپنے گھر جا رہی ہیں۔ان کے بابا کی حالت بہت زیادہ خراب ہے۔
گھر سے کال آئی ہے ان کو۔۔۔۔ڈاکٹر افشاں نے نوین کو عبیرہ کو پکارتے دیکھ لیا تب ہی وہاں چلی آئی۔
Ohh so sad!
امید ہیں وہ جلدی ٹھیک ہو جائیں گے۔ڈاکٹر عبیرہ بہت پریشان لگ رہی تھیں۔
نہی سر اب کچھ نہی ہو سکتا۔۔۔۔ان کو بلڈ کینسر ہے۔
آخری سٹیج ہے!
ان کے علاج کے لیے ہی تو وہ دن رات ایک کیے ہوئے تھی۔
وہی گھر کی واحد کفیل ہے۔دو چھوٹے بہن بھائی ہیں ان کی پڑھائی کا خرچہ اور گھر کے اخراجات سب کی زمہ داری اس پر ہے۔
لیکن کبھی میں نے اس کے منہ سے کوئی شکوہ نہی سنا۔
اپنی فیملی پر جان وارتی ہے۔
لیکن انہیں دیکھ کر تو ایسا نہی لگتا کہ ان کی زندگی میں اتنی پروبلمز ہیں۔وہ تو ہر وقت بہت خوش رہتی ہیں۔نوین کو حیرت ہوئی ڈاکٹر افشاں کی بات سن کر۔
جی سر وہ ایسی ہی ہے “زندہ دل”
دوسروں کے سامنے اپنے دکھ عیاں نہی کرتی۔
اپنی مشکلات سے خود ہی لڑنا جانتی ہے۔
خیر دعا کریں ان کے بابا ٹھیک ہو جائیں۔نوین بولتے ہوئے مصروف سا آگے بڑھ گیا۔
آمین۔۔۔ڈاکٹر افشاں بھی وارڈ کی طرف بڑھ گئی۔
شام کو جب نوین گھر جانے لگا تو ڈاکٹر افشاں کو سٹاف روم میں آنسو بہاتے دیکھا۔
باقی سٹاف بھی یہی موجود تھا۔
کیا ہوا سب خیریت تو ہے ناں؟
آپ سب لوگ ایک ساتھ یہاں!
نوین دروازہ ناک کرتے ہوئے اندر داخل ہوا۔
سر وہ ڈاکٹر عبیرہ کے بابا کی دیتھ ہو گئی۔
وہ ابھی راستے میں ہی تھیں جب گھر سے کال آئی۔
اپنے بابا کو آخری بار دیکھ بھی نہی سکی وہ ان کے پہنچنے سے پہلے ہی رشتہ داروں نے ان کے بابا کی تدفین کر دی۔
ابھی میں نے ڈاکٹر عبیرہ کو کال کی تو وہ بہت رو رہی تھی۔
وہ تو بات بھی نہی کر سکی۔اس کی چھوٹی بہن نے بات کر کے بتایا مجھے۔۔۔۔۔ڈاکٹر افشاں آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔
Oh so sad!
“May Allah keep his soul in rest Ameen…
نوین افسردہ ہوتے ہوئے بولا۔
کیسے رشتہ دار ہیں جو بیٹی کو باپ کا آخری دیدار نہی کرنے دیا۔
ایسے لوگوں پر تو قانونی کاروائی ہونی چاہیے۔۔۔نوین غصے سے دانت پیستے ہوئے بولا۔
خیر آپ لوگ پیشنٹس کو دیکھیں اگر میم آ گئی تو سب کو ایک ساتھ یہاں دیکھ کر غصہ ہو گی۔نوین بولتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگا مگر ڈاکٹر افشاں کی بات پر اس کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔
سر میم ڈاکٹر طلحہ کے ساتھ ڈاکٹر عبیرہ کے گھر گئی ہیں۔
وہ کہہ رہی تھیں کہ صبح واپس آ جائیں گی انہوں نے مجھے آپ کو انفارم کرنے کو کہا تھا۔
سب سے پہلے انہیں ہی اطلاع ملی ڈاکٹر عبیرہ کے گھر سے۔
What….?
نوین تیزی سے واپس پلٹا۔
دادو کیسے جا سکتی ہیں۔۔۔؟
میرا مطلب ان کی اپنی طبیعت ٹھیک نہی رہتی۔
کہاں ہیں ڈاکٹر عبیرہ کا گھر؟
مجھے ایڈریس چاہیے۔۔۔۔میں ابھی جا رہا ہوں وہاں۔
جی سر میں ابھی دیتی ہوں آپ کو۔۔۔۔ڈاکٹر افشاں اپنے بیگ کی طرف بڑھی۔
ڈائری سے عبیرہ کے گھر کا ایڈریس نوٹ کر کے نوین کی طرف بڑھایا۔
آپ لوگ اپنی ڈیوٹی سنبھالیں،کسی قسم کی لاپرواہی نہی ہونی چاہیے۔سٹاف کو ہدایت کی۔
سر آپ فکر مت کریں میں سب سنبھال لوں گی۔۔۔آپ بے فکر ہو کر جائیں۔
Ok۔
نوین تیزی سے پارکنگ کی طرف بڑھا۔
نوین کے جاتے ہی ڈاکٹر افشاں نے اپنا فون اٹھایا اور میم کا نمبر ڈائل کیا۔
Yes afsah….
وہ بے زار سی بولیں۔
میم وہ نوین سر بھی وہاں آ رہے ہیں۔جب ان کو پتہ چلا آپ کے بارے میں تو وہ پریشان ہو گئے اور آپ کو لینے آ رہے ہیں۔
What?
یہ لڑکا بھی ناں!
کوئی ضرورت نہی ہے اسے یہاں آنے کی تم منع کرو اسے۔۔۔۔بلکہ رہنے دو میں خود کال کرتی ہوں اسے۔
وہ کال ڈسکنیکٹ کرتے ہوئے نوین کا نمبر ڈائل کرنے لگیں۔
دادو کالنگ دیکھ کر نوین نے کان پر بلیو ٹوتھ ڈیوائس سیٹ کی اور کال ریسیو کی۔
Not fear dado….
آپ کیسے بنا بتائے اتنی دور جا سکتی ہیں؟
آپ مجھ سے کہہ دیتی میں آپ کو لے جاتا اور آپ کی طبیعت بھی تو ٹھیک نہی رہتی۔
آپ کو خود سے زیادہ دوسروں کی فکر رہتی ہے۔
آ رہا ہوں میں آپ کے پاس۔۔۔ڈاکٹر افشاں سے ایڈریس لے لیا ہے میں نے۔۔۔۔وہ ان کی ایک بھی بات سنے بغیر بولتا چلا گیا۔
Naveen stop the car!
وہ غصے سے بولیں۔
But why dado?
Naveen i say stop the car right now!
اب کی بار وہ غصے سے چلائی۔
نوین کو نا چاہتے ہوئے بھی گاڑی سائیڈ پر روکنی پڑی۔
Ok….please relax relax!
روک دی ہے میں نے گاڑی۔۔۔۔آپ ہائپر مت ہو۔
کیسے نا ہوں میں ہائیپر؟
ہر بات میں تم اپنی من مانی کرتے ہو۔بنا سوچے سمجھے قدم اٹھا لیتے ہو۔
کیا کرو دادو آپ پر جو گیا ہوں۔۔۔آپ بھی تو بنا بتائے قدم اٹھا لیتی ہیں۔
اب دیکھیں ناں اب آپ بنا بتائے اتنی دور چل پڑی ہیں۔اگر ڈیڈ کو پتہ چلا تو وہ بھی بہت ناراض ہو گے اور اپنا سارا غصہ مجھ پر نکالیں گے وہ۔
وہ غصہ تب کرے گا جب اسے کوئی بتائے گا اور اگر اسے پتہ چل بھی گیا تو میں سب سنبھال لوں گی۔
تم فکر مت کرو بیٹا۔۔۔کل دوپہر تک واپس آ جاوں گی۔
اپنا خیال رکھو اور چپ چاپ گھر واپس جاو تمہاری مام انتظار کر رہی ہو گی۔
میرا جانا بہت ضروری تھا۔
ابھی میں راستے میں ہوں۔جیسے ہی وہاں پہنچوں گی صورتِ حال سے آگاہ کر دوں گی تمہیں۔
its ok..!
مجھے کوئی صورتِ حال نہی جاننی۔۔۔۔آپ بس جلدی سے واپس آ ئیں خیریت سے۔۔۔وہ گاڑی گھر کے راستے موڑتے ہوئے بولا۔
بس کر دو نوین!
تم اتنے بے حس کیسے ہو سکتے ہو؟
میں اپنے ہاسپٹل کے عملے کو بس جاب کی نظر سے بلکہ فیملی کی طرح سمجھتی ہوں اور ہر دکھ سکھ میں ان کا ساتھ دینا میرا فرض ہے۔
یہی سوچ تمہاری بھی ہونی چاہیے۔۔۔۔
عبیرہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے۔تم اس کے لیے دکھی بلکل نہی لگ رہے مجھے۔
نہی دادو ایسی بات بلکل نہی ہے۔
I’am so upset.
مجھے بہت دکھ ہوا ہے یہ سب سن کر مگر آپ اس طرح اچانک بنا بتائے چلی گئی تو میں بہت پریشان ہو گیا تھا۔
فکر مت کرو تم میں ٹھیک ہوں۔ڈاکٹر طلحہ ہے میرے ساتھ۔
تم گھر جا کر آرام کرو،صبح بات ہو گی۔
ٹھیک ہے دادو خدا حافظ۔۔۔
خدا حافظ۔۔۔۔دوسری طرف دے کال کاٹ دی گئی۔
نوین گھر پہنچا تو راحم آیا ہوا تھا۔وہ سلام کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
کیا ہوا ڈاکٹر نوین شاہ؟
راحم اس کے پیچھے کمرے میں چلا آیا۔
ڈاکٹر نوین شاہ۔۔۔نوین نے یہ الفاظ دہرائے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔
ڈاکٹر عبیرہ کا چہرہ آنکھوں میں لہرایا۔
سالے صاحب۔۔۔؟
راحم نے اس کے سامنے ہاتھ لہرایا۔
جی۔۔۔نوین چونک گیا۔
کس کے خیالوں میں گم ہو؟
کچھ نہی بس یونہی۔۔۔وہ خجل سا ہوا اور وارڈروب کی طرف بڑھ گیا۔
ہونہہ۔۔۔۔ٹھیک ہے میں جا رہا تھا تو سوچا تم سے ملتا جاوں۔
کل گھر میں علینہ کی برتھ ڈے پارٹی تو سب کو انوائٹ کرنے آیا تھا۔
تم نے بھی آنا ہے یاد سے۔۔۔۔
Sure.
نوین نے مختصر جواب دیا تو راحم مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
جہاں اس کا ٹکراو لائبہ سے ہوا۔
مجھے شاپنگ پر جانا ہے۔مام ڈیڈ سے اجازت مل چکی ہے۔
مگر لائبہ۔۔۔۔راحم نے کچھ بولنا چاہا لیکن لائبہ نے اسے ٹوک دیا۔
اگر مگر کچھ نہی ابھی چلیں ورنہ میں ناراض ہو جاوں گی۔
ٹھیک ہے جناب چلیں۔۔۔راحم ہار مانتے ہوئے بولا۔
دونوں باہر کی طرف بڑھ گئے۔
نوین نے بے دلی سے کھانا کھایا اور کمرے میں آ کر بیٹھ گیا۔
نیند کا نام و نشان تک نہی تھا آنکھوں میں۔
یہ کیا ہو رہا ہے مجھے میں اتنا کیوں پریشان ہو رہا ہوں ڈاکٹر عبیرہ کے لیے۔۔۔وہ جیسے خود سے ہی سوال کر رہا تھا۔
بہت برا ہوا ہے ان کے ساتھ مگر میں کیا کر سکتا ہوں۔
بہت پریشان لگ رہی تھی وہ۔۔۔۔ظاہری سی بات ہے باپ اور بیٹی کا رشتہ بہت خاص ہوتا ہے شاید وہ اپنے بابا سے زیادہ اٹیچڈ تھی۔
مگر ایک بات جو مجھے ابھی تک سمجھ نہی آ رہی آخر انہوں نے کیسے اس کے پہنچنے سے پہلے تدفین کر دی۔
اتنے بے حس ہوتے ہیں رشتہ دار!
میرا بس چلے تو آج ہی جیل بھجوا دوں اُن لوگوں کو۔۔۔۔
سر درد سے پھٹ رہا ہے۔پین کلر لینی ہی پڑے گی اور شاید نیند کی ٹیبلیٹ بھی کیونکہ پریشانی میں مجھے نیند کہاں آئے گی۔
ایک اذیت عریشے نام کی جو بچپن سے لے کر اب تک میرے اعصاب پر سوار ہے۔پتہ نہی اس بوجھ سے کب چھٹکارا ملے گا مجھے۔۔۔وہ بے زاری سے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔
پین کلر لی اور نیند کی گولی بھی لی اور کمرے میں آ گیا۔
یہ اذیت وہ پچھلے کئی سالوں سے خود کو دیتا آ رہا تھا۔
کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر غم بھر جاتا ہے مگر میرے دل میں عریشے کے ساتھ کیے اپنے رویوں کا غم دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔
پتہ نہی کب۔۔۔۔؟
آخر کب۔۔۔۔یا پھر شاید کبھی نہی مل پاوں گا میں عریشے سے۔
خدا جانے وہ کہاں چلی گئی۔۔۔۔گُل بی بی بھی جا چکی ہیں یہاں سے۔
جب وہ یہاں تھیں تو ندامت کی وجہ سے کبھی پوچھ ہی نہی سکا ان سے عریشے کا اور جب ہوش سنبھالا اپنے پاوں پر کھڑا ہوا تب تک وہ یہاں سے جا چکی تھیں۔
اب یہ ندامت زندگی بھر میرے ساتھ رہے گی۔۔۔مر کر ہی دور ہو گا یہ غم شاید۔
وہ آنکھیں بند کیے سونے کی کوشش کرنے لگا۔آہستہ آہستہ نیند اس پر حاوی ہوتی چلی گئی۔
(جاری ہے)
