Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chand Chupa Badal Mein (Episode 12)

Chand Chupa Badal Mein by Khanzadi

وہ بس پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔

“اندر آنے کو نہی بولو گی،،؟

“کیا ہوا ڈاکٹر عبیرہ مجھے سامنے دیکھ کر گھبرا کیوں گئی آپ،،؟

نننہی ڈاکٹر نوین آپ اندر آئیں۔۔۔وہ دروازے سے دور ہٹ کر راستہ بناتے ہوئے بولی۔

وہ مسکراتے ہوئے گھر میں داخل ہو گیا۔

وہ دروازہ بند کرتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھی۔

ڈاکٹر نوین بیٹھیں پلیز!

اس نے سامنے پڑے تخت پوش کی طرف اشارہ کیا۔

Thanks۔..

نوین مسکراتے ہوئے بیٹھ گیا۔

میں آپ کے لیے ناشتہ بنا کر لاتی ہوں سر،وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھی۔

تب ہی اس کی ماں نیچے آئی اور سامنے نوین کو دیکھ کر غصیلی نظروں سے آگے بڑھی۔

اے لڑکے کون ہو تم؟

اس سے پہلے کہ نوین کچھ بولتا عریشے کچن سے بھاگتی ہوئی آئی۔

اماں یہ ڈاکٹر نوین شاہ ہیں۔میں ان کے ہاسپٹل میں نوکری کرتی ہوں۔

اچھا تو یہ تیرے پیچھے گھر تک آ گیا۔

میں پوچھتی ہوں آخر اتنی بھی کیا جلدی تھی اسے یہاں آنے کی کہ رات گزرنے کا بھی انتظار نہی کیا اور صبح صبح یہاں آ ٹپکا۔

اماں آپ چلیں اپنے کمرے میں،یہ ابھی چلا جائے گا میری طبیعت کا پوچھنے آیا ہے۔

جلدی چلا جائے گا،وہ شرمندگی سے نوین کی طرف دیکھ بھی نا سکی۔

میں کیوں جاوں یہاں سے؟

اسے بول ابھی کہ ابھی یہاں سے چلا جائے۔۔۔۔اور یہ ہی کیوں؟

تو بھی نکل یہاں سے اب تیرا یہاں کوئی کام نہی ہے۔

جا چلی جا اس کے ساتھ اپنا گھر بسا لے لیکن ہمیں معاف کر دے۔

پہلے وہ لڑکا آیا تھا اب یہ۔۔۔۔میرے گھر میں بھی ایک جوان بیٹی ہے۔

میں کس کس کو صفائیاں دیتی رہوں گی۔تو نکل ابھی یہاں سے۔

نوین چپ چاپ کھڑا اس سارے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

تب ہی دروازے پر دستک ہونا شروع ہو گئی۔وہ دروازے کی طرف بڑھا اور دروازہ کھولا تو باہر لوگوں کا رش لگا ہوا تھا۔

وہ دونوں بھی دروازے کی طرف بڑھیں۔

کون ہے یہ لڑکا؟

محلے کے ایک بزرگ نہایت غصے سے بولے۔

دیکھو بی بی ہم اس دن تو چپ رہے جب ایک جوان لڑکا دو دن تمہارے گھر ٹہرا اور آج یہ لڑکا رات بھر سے یہاں ہے۔

وہ تو شکر ہے ہم نے دیکھ لیا ورنہ پتہ نہی کیا گُل کھلتے رہتے اس گھر میں۔

“آپ کی بات کاٹنے کے لیے معزرت چاہتا ہوں مگر جیسا آپ لوگ سمجھ رہے ہیں ویسا کچھ نہی ہے۔آپ سب کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے شاید۔۔۔نوین نے انہیں سمجھانا چاہا مگر وہ اس کی ایک بھی بات سننے کو راضی نہی تھے۔

غلط فہمی!

غلط فہمی کیا ہوتی ہے بیٹا؟

ان بوڑھی آنکھوں نے ایک عمر گزاری ہے اور اتنا تو دیکھ سکتی ہیں کہ تمہارا یہاں آنے کا مقصد خاص ہے۔

گھر میں جوان بیٹیاں ہیں اور گھر کا سربراہ سر پر نہی ہے تو تم سمجھتے ہو کچھ بھی کرتے رہو گے اور ہم سب آنکھیں بند کیے چپ چاپ دیکھتے رہیں گے۔

نہی بیٹا نہی۔۔۔۔سچ سچ بتاو کیا کرنے آئے تھے تم یہاں اور کیا رشتہ ہے تمہارا اس گھر کے مکینوں سے؟

نوین بری طرح پھنس چکا تھا،اسے لگا میرا یہاں آنے کا فیصلہ بہت غلط ہے۔

دیکھیں سر۔۔۔۔آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں یہ ڈاکٹر ہیں اور میں بھی ایک ڈاکٹر ہوں،ہم دونوں ساتھ جاب کرتے ہیں۔

ان کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس وجہ سے یہ ہاسپٹل نہی آ رہی تھیں تو میں بس ان کی طبیعت کا پوچھنے آیا تھا اور میں کل رات سے نہی ابھی ابھی آیا ہوں یہاں۔

یہ کہانیاں تم کسی اور کو سنانا شہری بابو،ہم لوگ اندھے نہی ہیں۔ایک آدمی غصے سے آگے بڑھا۔

آنٹی آپ کچھ بولتی کیوں نہی؟

بتائیں ناں ان کو آپ تو سب جانتی ہیں ناں۔۔۔وہ عریشے کی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

وہ بے رخی سے چہرہ موڑ گئی۔۔۔۔

ارے میں تو خود پریشان ہوں اس لڑکی کے کرتوتوں سے،اس لڑکی نے مجھے کہی منہ دکھانے لائق نہی چھوڑا۔

وہ غصے سے عریشے پر پھٹ پڑی اور اس پر تھپڑوں کی برسات شروع کر دی۔

“یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟

“آپ عریشے پر ایسے ہاتھ نہی اٹھا سکتیں۔۔۔

نوین عریشے کے سامنے آ رکا۔۔۔۔۔

اور عریشے کو ایسا لگا جیسے اس نے کچھ غلط سنا ہو۔۔۔نوین نے اسے عبیرہ نہی عریشے کہا یہ سن کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔

تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے؟

ہٹو سامنے سے،آج اس لڑکی کو میں نہی چھوڑوں گی۔۔۔

آپ سب تو جانتے ہیں کہ یہ میری سگی بیٹی نہی ہے مگر پھر بھی میں نے ہمیشہ اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا۔

بچپن سے لے کر آج تک اس کی ہر خواہش پوری کی،اپنے بچوں سے بڑھ کر پیار دیا۔

اس نے شہر جا کر پڑھنا چاہا تب بھی میں نے اس کے باپ کی منت سماجت کی اور اسے اجازت دلوائی۔

مگر شہر جاتے ہی یہ وہاں کے رنگ میں ڈھل گئی۔غیر مردوں سے تعلقات ہیں اس کے،میں سب جانتی تھی۔

بہت بار سمجھایا اسے مگر یہ نہی سمجھی،بس اس کے باپ کی وجہ سے برداشت کر رہی تھی میں اسے ورنہ ایک بھی قدم نہ رکھنے دیتی اسے گھر میں۔۔باقی سب کچھ آپ کے سامنے ہے،اب فیصلہ آپ سب کے ہاتھ میں ہے۔

اماں آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں؟

وہ حیرت زدہ سی اپنی سوتیلی ماں کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے میں وہ اپنی حقیقی ماں کو تلاشتی رہی مگر آج اسے سوتیلی کا مطلب اچھی طرح سمجھ آ چکا تھا۔

عریشے ایسی بلکل نہی ہے جیسا آپ بول رہی ہیں،نوین پھر سے اس کے حق میں بولا۔

اس لڑکی کو تو زندہ دفن کر دینا چاہیے۔۔۔۔بوڑھے باپ کو گزرے ابھی ایک مہینہ بھی نہی ہوا اور اس کے لچھن شروع ہو گئے۔

ارے ہماری بھی جوان بیٹیاں ہیں وہ کیا سبق سیکھے گی؟

اس لڑکی کو اور اس کے گھر والوں کو دھکے مار کر یہاں سے نکال دینا چاہیے۔۔۔۔

کوئی کچھ بول رہا تھا تو کوئی کچھ۔۔۔۔

نہی نہی۔۔۔۔ہم پر یہ ظلم مت کریں اگر کسی کو یہاں سے نکالنے کی ضرورت ہے تو وہ ہے یہ لڑکی۔

اسے ہمیشہ کے لیے یہاں سے نکال دیں،یہ ہمارے ساتھ رہنے کے لائق ہی نہی ہے۔اس کی ماں پھر سے عریشے کی طرف بڑھی مگر نوین کو ڈھال بنے دیکھ واپس پلٹ گئی۔

سب کے زہر اگلتے جملے ہر طرف گونج رہے تھے،عریشے بس چپ چاپ کھڑی اپنے سامنے ڈھال بنے نوین شاہ کو دیکھ رہی تھی اور اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔

وہ لڑکھڑاتی ہوئی وہی زمین پر ڈھیر ہو گئی،آخری چہرہ جو اس کی نظروں کے سامنے تھا وہ نوین شاہ کا تھا۔

وہ نوین شاہ جس کی نفرت کی وہ بچپن سے حقدار تھی تو کیا اب بھی اس کی محبت میرے لیے نفرت میں بدل جائے گی؟

کیونکہ وہ سچ جان چکا ہے کہ میں عبیرہ نہی،عریشے گل ہوں۔۔۔۔یہی وہ آخری خیال اس کے ذہن میں تھا۔

*****************************************

یہ کیا کہہ رہی ہو تم افشاں؟

نوین کو کیسے پتہ چل سکتا ہے کہ عبیرہ ہی عریشے گل ہے؟

وہ میم دراصل بات یہ ہے کہ۔۔۔۔اس نے اپنے اور لائبہ کے سارے پلان کے بارے میں انہیں بتا دیا۔

Oh my God…..

یہ کیا کر دیا تم دونوں نے؟

اتنے سالوں سے میں یہ راز سب سے چھپاتی آئی ہوں مگر تم دونوں کی وجہ سے اس راز سے پردہ اٹھنے والا ہے۔

پتہ نہی کیا قیامت ٹوٹے گی جب نوین کے باپ کو پتہ چلے گا کہ وہ لڑکی جس سے وہ نفرت کرتے ہیں اس کو میں نے پناہ دی۔

اور اس کا لاڈلہ بیٹا اسی لڑکی کے عشق میں گرفتار ہو چکا ہے۔

پتہ نہی کیا ہو گا’کیسے سنبھالوں گی میں یہ سب؟

میرے خدا۔۔۔یہ سب کیا ہو گیا۔

اب تم یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو افشاں،get out!!!!!!

جی میم۔۔۔۔۔وہ شرمندہ سا چہرہ لیے کمرے سے باہر نکل گئی۔

نوین کو کال کرتی ہوں۔۔۔۔۔

وہ نوین کا نمبر ڈائل کرنے لگی مسلسل کال کرنے کے باوجود بھی وہ کال اٹینڈ نہی کر رہا تھا۔

لائبہ کو کال کر کے دیکھتی ہوں۔۔۔۔اب وہ لائبہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔

لائبہ نے کال پک کر لی تو وہ غصے سے پھٹ پڑیں۔

Laiba what’s wrong with you!!!!!

تم سے ایسی حرکت کی توقع بلکل نہی تھی مجھے،یہ کیا کر دیا تم نے؟

I,am sorry!!!!

لیکن مجھے لگتا ہے میں نے بلکل ٹھیک کیا ہے،بھائی بہت محبت کرتے ہیں عریشے گل سے۔۔۔۔۔وہ علینہ کے ساتھ کبھی خوش نہی رہ سکیں گے۔

لائبہ۔۔۔کیسے سمجھاوں میں تمہیں؟

وہ عبیرہ سے محبت کرتا ہے عریشے سے نہی!!!!!!

اسے عریشے سے محبت ہو ہی نہی سکتی وہ تو اس سے نفرت کرتا تھا۔

اسی لیے۔۔۔اسی لیے تو میں نے اب تک یہ سچ چھپا کر رکھا اس سے،اب پتہ نہی کیا سلوک کرے گا وہ عریشے کے ساتھ۔

کچھ نہی ہو گا دادو،آپ فکر مت کریں سب ٹھیک ہو جائے گا۔

بھائی نے تو عبیرہ سے محبت کی تھی اور عریشے سے نفرت تو بس بچپن تک تھی۔اب وہ سمجھدار ہیں۔

اپنا اچھا برا سب سمجھتے ہیں دادو۔۔

تم کب سے اتنی بڑی ہو گئی کہ اتنے بڑے بڑے فیصلے اکیلے کرنے لگی۔

اگر وہ عریشے سے نفرت کرے تو یہ عریشے کے لیے مشکل ہو گی اور اگر وہ اسے اپنا بھی لے تو اپنے ڈیڈ کا سامنا کیسے کرے گا؟

تم جانتی بھی ہو اس کا انجام کیا ہونے والا ہے؟

تمہارے اور راحم کے رشتے پر کیا اثر پڑ سکتا ہے،یہ سوچا تم؟

عریشے بہت سمجھدار لڑکی ہے مگر ڈرپوک بھی،حالات سے ڈر جاتی ہے وہ۔

پتہ نہی کیسے سامنا کرے گی وہ نوین کی نفرت کا اور تمہارے ڈیڈ۔۔۔۔۔وہ کبھی بھی قبول نہی کر پائیں گے عریشے کو۔

نوین کسی طرح اپنی ضد منوا بھی لے مگر عریشے کا کیا ہو گا؟

اس بیچاری کو تو حالات سے لڑنا بھی نہی آتا،وہ ایک قابل سرجن تو بن چکی ہے مگر رشتوں سے لڑنے کا ہنر اسے نہی آتا۔

اپنی سوتیلی ماں کے ظلم ہنستے ہوئے سہتے دیکھا ہے میں نے اسے۔۔۔۔وہ کبھی شکایت نہی کرتی اور مجھے لگتا ہے وہ نوین کی ضد کی شکار بننے والی ہے۔

اب میں کروں تو کیا؟؟؟؟؟؟

“بچے چاہے جتنے مرضی بڑے ہو جائیں انہیں بڑوں کی رائے اور اصلاح کی ضروت ہر عمر میں رہتی ہے،،

اب کہاں ہے وہ’ابھی تک ہاسپٹل نہی آیا؟

دادو بھائی تو کل رات سے گھر نہی ہیں۔۔۔۔

کیا مطلب گھر نہی ہے’کہاں گیا ہے؟

دادو مجھے لگتا ہے وہ عریشے کے گھر گئے ہیں۔افشاں بتا رہی تھی کہ وہ بہت غصے سے ان کے گھر سے آئے کل رات مگر اس کے بعد بھائی گھر نہی آئے۔

میں بہت بار کال کر چکی ہوں مگر وہ کال پک نہی کر رہے۔

مام،ڈیڈ بھی پریشان تھے ان کے لیے تو میں نے یہ کہہ دیا کہ کچھ ایمرجنسی تھی جس وجہ سے وہ ہاسپٹل چلے گئے ہیں۔

مگر ڈیڈ بہت غصہ ہو رہے تھے کہ بنا بتائے کیوں چلے گئے وہ۔

بس اسی کی کمی رہ گئی تھی،میری تو سمجھ سے باہر ہے کہ کیا کروں؟

اگر وہ عریشے کے گھر گیا ہے تو بہت بڑی مصیبت ہونے والی ہے۔

میں بعد میں کال کرتی ہوں تمہیں۔۔۔وہ کال کاٹ کر پریشان سی بیٹھ گئیں اور پھر سے نوین کا نمبر ڈائل کرنے لگیں۔

وہ ابھی فون پر مصروف ہی تھیں کہ دروازہ ناک ہوا اور کمرے میں کسی کی آمد ہوئی۔

شہاب۔۔۔تم آج کیسے ہاسپٹل کا راستہ بھول گئے۔

نوین کے بابا کو اچانک سامنے دیکھ کر وہ گھبرا گئیں مگر اپنی پریشانی چہرے پر نمایاں نہی ہونے دی۔

اماں کیسی ہیں آپ؟

میں بلکل ٹھیک آو بیٹھو پلیز۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوئے بیٹھ گئے۔

ویسے یہ بہت غلط بات ہے اماں؟

کونسی بات؟

ان کو لگا شاید وہ سب کچھ جان چکے ہیں۔

یہی کہ آپ گھر کو بلکل بھول چکی ہیں اور خود کو بس ہاسپٹل تک محدود کر لیا ہے۔

اب تو نوین پر بھی آپ کا اثر ہونے لگا ہے وہ بھی زیادہ وقت ہاسپٹل میں گزارنے لگا ہے۔

اب دیکھیں ناں کل ہی تو اس کی منگنی ہوئی ہے اور کل رات سے ہاسپٹل ہے وہ،مطلب ہاسپٹل میں کیا وہ اکیلا ڈاکٹر رہ گیا ہے جو اس کے پاس آرام کا بھی وقت نہی ہے؟

آپ سمجھائیں اسے،بہت جلد شادی ہونے والی ہے اس کی اور اگر اس کی یہی روٹین رہی تو بہت سارے معملات خراب ہو گے۔

آپ ہی ہیں جو اسے سمجھا سکتی ہیں،بچپن سے لے کر اب تک ایک آپ ہی ہیں جن کی بات مانتا ہے وہ۔

امید ہے آپ میری بات سمجھ چکی ہیں،تو پلیز اس سے بات کریں مگر یہ مت بتائیے گا کہ میں یہاں آیا تھا۔

چلتا ہوں میٹنگ کے لیے جانا ہے اور آپ تو جانتی ہیں کہ مجھے دیر پسند نہی۔۔۔۔۔خدا حافظ

وہ مسکراتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئے۔

خدا حافظ۔۔۔۔۔

وہ گئے تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا،شکر ہے نوین کا نہی پوچھا ورنہ میں کیا جواب دیتی۔

پریشان کر رکھا ہے ان بچوں نے۔۔۔۔۔

کال پک ہی نہی کر رہا نوین اب کیسے پتہ چلے کہ وہ کہاں ہے؟

عریشے کو کال کرتی ہوں۔

اس کا نمبر ڈائل کیا تو وہ بھی بند تھا۔وہ پریشانی میں کمرے سے باہر نکل گئیں۔

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *