Rate this Novel
Episode 9
وہ بی جان کے کمرے میں ہلکی سی نوک کے بعد داخل ہوا تھا..
سامنے ہی وہ تسبیح لئے بیٹھی تھیں..
بی جان تیاری مکمل ہے میں جا رہا ہوں روح کو لے کر.. جلد واپس آؤں گا.
وہ تمھارے ساتھ نہیں جانا چاہتی سوہم خان…
اسے آپ نے نہیں سمجھایا کہ ایک بیوی ہونے کی حیثیت سے وہ اپنی زمہ داریاں نبھائے.. اور جو اس کا شوہر اسے بولے وہ کرے… سوہم کو تپ چڑھی.
سمجھایا ہے.. مگر ابھی وہ رخصتی نہیں چاہتی.. تو کیا زبردستی کرو گے اس کے ساتھ..
یہ زبردستی نہیں حق ہے میرا.. جو میں وصول کرنا اچھے سے جانتا ہوں.. اسے ہر حال میں جانا ہوگا میرے ساتھ..
بی جان نے سر اٹھا کر اپنے ضدی اور ہٹ دھرم پوتے کو ملاحظہ کیا.. جو من مانیاں کرنے پر بلکل اپنے باپ پر گیا تھا..
کوشش کر لو پھر… بی جان کی اجازت دینے پر اس نے ہنسی دبانے کے لیے لب دانتوں تلے دبائے..
وہ وہاں سے نکل کر سیدھا روحا کے کمرے میں آیا..
وہ کھڑکی میں کھڑی باہر جانے کیا دیکھ رہی تھی..سوہم کے کہنے کے باوجود اس نے ابھی تک پیکنگ نہیں کی تھی..
روح چلو… گاڑی تیار ہے ہنی… لاپرواہ اور مصروف سا انداز تھا..
روحا اچھلی.. مگر ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم کہیں نہیں جائیں گے..
اور میں نے بھی کہا تھا کہ میرا زبردستی کرنے کا بلکل بھی موڈ نہیں ہے.. سویٹی..
پنک سوٹ میں پنک دوپٹہ لیے وہ اس کا دل شدت سے دھڑکا گئی..
بازو سے پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا.. کیوں نہیں جانا چاہتی میرے ساتھ.. سوہم نے سنجیدگی مگر نرمی سے پوچھا.
ہمیں… آ…. آپ سے ڈر لگتا ہے… وہ سوہم کے اپنے بازو پر نرم سے لمس سے پھر گھبرائی.. مگر اپنی پریشانی بتا ہی دی.
کیوں… کیوں ڈر لگتا ہے.. سوہم نے ہنسی ضبط کر کے پوچھا..
مگر وہ بول نا پائی کہ اس کے پاگل پن اور جنونیت سے لگتا ہے… اس دن کی سوہم کی درندگی سے لگتا ہے ڈر..
مگر سوہم اچھی طرح سمجھ چکا تھا..
سوہم نے نرمی سے اس کی کمر کے گرد بازو حمائل کیے.. روحا بوکھلائی..
اگر اس دن کی میری شدتوں سے ڈر لگتا ہے تو وعدہ کرتا ہوں اب ایسے چھوؤں گا تمھیں جیسے گلاب کو چھوتے ہیں اتنی نرمی سے کہ وہ مرجھا نا جائے..
وہ اس کے چہرے کے بہت قریب بوجھل سی آواز میں بولا
وہ جو غور سے سن رہی تھی. کہ وہ کہے گا کہ اب دور رہوں گا تم سے.. ایسی بات سن کر سٹپٹائی..
نن.. نہیں.. اگر آپ…ہم سے یہ پرامس کرتے ہیں کہ ہم سے دور رہیں گے تو ہم چلیں گے…
سوہم کا ہنسی ضبط کرنے کے چکر میں چہرہ لال سرخ ہو گیا..
ٹھیک ہے پھر تم میرے کمرے میں ڈیکوریشن پیس بن کر رہنا میں روز رات کو یہ جو میری فرینڈ کومل ہے اس کے قریب چلے جایا کروں گا.. ٹھیک ہے.
وہ معصوم تھی… پاگل نہیں..
جب کوئی بات کوئی جواب نا سوجھا تو آخر آنسو ہتھیار بنائے.. آپ بہت برے ہیں ہم نہیں جائیں گے آپ کے……..
سوہم نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی.. بے حد نرمی تھی آج اس کے لمس میں.. اس کے سینے میں سمائی وہ مچلی… مگر کمر کے گرد لپٹے اس کے بازوں سے وہ ہلنے سے بھی قاصر تھی…
اس کی نرم گرم قربت میں وہ موم کی طرح پگھل رہی تھی… جب سوہم نے نرمی سے اس کے لبوں کو آزادی بخشی….
ایسے قریب آؤں گا تمھارے.بہت محبت سے.. نرمی سے.. اب تو چلو یار.
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھے. اسے پرے دھکیلتی دو قدم پیچھے ہٹی..
اب سوہم کے تاثرات فوراً بدلے تھے.. روحا کے اس عمل نے اس کے تن بدن میں آگ لگائی تھی.
کلائی سے کھینچ کر اسے پھر اپنے سینے میں بھینچا.. ایک ہاتھ سختی سے کمر کے گرد حمائل کیا..اور ایک جھٹکا دیا
کچھ بھی کرنا روح.. مگر خود کی جانب بڑھتے ہوئے مجھے کبھی مت روکنا.. ورنہ بہت برا پیش آوں گا..اور مجھ سے دور جانے کا تو سوچنا بھی مت..دنیا بھول جاؤ.. روح.. صرف میرے بارے میں سوچو..
اب کی بار گرفت میں پھر بہت سختی تھی.اور لہجے میں بھی…
ہم اسی لئے نہیں جانا چاہتے آپ کے ساتھ.. وہ سسکی.. ہمیں بی جان کے پاس جانا ہے..
او mama’s girl…. اب اپنے شوہر کی طرف دھیان دو بس.. تم میرے ساتھ جا رہی ہو یا نہیں..
نہیں ہم.. ن………آہہہہہہہہہہہ
وہ اس کے بولنے سے پہلے اس کے بازو میں بے ہوشی والا انجیکشن انجیکٹ کر چکا تھا.
یہ کیا کیا آپ نے ہمارے ساتھ.. وہ غرائی.. مگر اس کا جواب سننے سے پہلے بے ہوش ہو کر اس کے بازوں میں جھول گئی.
نرمی سے مسکراتے اسے بازوؤں میں بھرا…
بی جان کی پوتی اس طرح تو تم قابو میں نہیں آنے والی تھی…
وہ اسے اٹھائے دھڑلے سے بی جان کے پاس آیا.
مل لیں بی جان اور بڑی ماں اپنی پوتی سے… وہ بظاہر سنجیدہ تھا. مگر آنکھوں میں چمک اور شرارت بہت واضح تھی.
بی جان کا دل کیا ماتھا پیٹ لیں.
سوہم خان یہ کیا کر رہے ہو.. وہاں جا کر شور نہیں مچائے گی یہ…یہ تمھارے اسی پاگل پن اور جنونیت سے ہی تو ڈرتی ہے . اور اس کی پیکنگ…
O come on B jaan.. I will handle all this….
اور میرے پہنچنے سے پہلے اس کی ضرورت کی ہر چیز میرے کمرے میں پہنچا دی جائے گی سو بی ریلیکس.آپ بس رخصتی کی اجازت دیں. وہ اطمینان سے بولا
بی جان نے اٹھ کر روحا کا ماتھا چوما.. اور سوہم نے زبردستی بی جان کا.
وہ پیٹھ موڑ کر مسکرا دیں
بڑی ماں نے ان کی ڈھیروں بلائیں لیں..
وہ اطمینان سے چلتا باہر آیا.. اسے گاڑی میں پیچھے بیٹھایا
خود بھی بیٹھا
قادر ڈرائیور کے ساتھ بیٹھا تھا
گارڈز کی گاڑی پیچھے تھی جس میں کومل تھی.
ریشماں کو فون ملایا..چھوٹتے ہی وہ بولی.
تو آج وائٹ پیلس میں ایک جلاد کی بجائے عاشق کے قدم پڑیں گے.. ہاں…
او کم آن ریشماں…میں نے یہ کہنے کے لیے فون کیا تھا کہ
ہو گئی ہے تیاری… فکر مت کرو.. اور وائٹ پیلس کی بہو کی ہر چیز اس کے کمرے میں پہنچا دی جائے گی… تم بس مجھے ایک پوتا دینے کی تیاری کرو..
سوہم نے ٹھنڈی آہ بھری… اور اپنے سینے پہ ڈھلکے اس کے چہرے کو بغور دیکھا..
ابھی وہ تو بھول ہی جائیں ریشماں.. یہ آپ کی بہو مجھ سے یوں ڈرتی ہے جیسے میں کوئی جن ہوں..
ارے چپ کر تونے ہی کچھ کیا ہوگا.. نالائق.. ورنہ وہ کیوں ڈرتی تجھ سے.ریشماں بگڑی
آ کر بات کرتے ہیں ریشماں… بس ہمارے استقبال کی تیاری کریں..وہ مبہم سا مسکرایا
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺❤️❤️❤️❤️❤️🌺🌺
فانیہ جیسے تیسے کر کہ اسلام آباد پہنچی تھی.
پنکی اور اس کی ساتھی گاڑی سے اتری..
اس نے کافی دیر انتظار کیا.
پھر چپکے سے ڈگی سے اتری
ریشماں نے اچھی خاصی موٹی رقم اس کے نا نا کرنے کے باوجود اسے دے رکھی تھی.
اسی لئے گاڑی سے فل پردے اور نقاب میں اتری اور گجر جانے میں کوئی دقت نا ہوئی
مگر یاد آیا ماں گھر میں تو موجود ہی نہیں تھی.
سوتیلے باپ اور اس کی بیٹی نایاب نے گھر اپنے نام لگوا کر دکھے دے کر گھر سے نکال دیا تھا
جب وہ بارہ سال کی تھی تو سگا باپ گزر گیا.
اور ترکے میں ایک مکان اور چار دکانیں چھوڑ کر گیا
جب چودہ سال کی ہوئی تو زمانے کی گندی نظروں سے تنگ آ کر ماں نے دوسری شادی کر لی.
باپ کے ساتھ ساتھ اس کی پہلی بیوی سے ایک بیٹی بھی ساتھ فری میں ملی جو معمولی شکل کی صورت کے ساتھ ساتھ کالے دل کی حامل لڑکی تھی.
شدید حاسد اور مکار.
اس نے چار سال فانیہ کے حسن اور معصومیت سے جلتے ہوئے اس کے ناک میں دم کیے رکھا.
حتی کہ سگی ماں کو فانیہ کے خلاف بد ظن کر دیا.. اور آخر میں تو حد ہی کر دی ایک لڑکے کو پیسے دے کر رات کو گھر بلایا اور فانیہ کی کھڑکی سے اسے اندر بھیج کر پورے گھر میں شور مچا دیا.
نسیمہ اس قدر بد دل ہوئی کہ تمام رات لڑائی جھگڑے اور فانیہ کو مارنے پیٹنے کے بعد اسے صبح گھر سے نکال دیا یہ بھی نا سوچا کہ جوان اولاد کدھر جائے گی.
نایاب نے نسیمہ کے دماغ کو بلکل بند کر دیا تھا.
فانیہ کے جانے کے بعد نسیمہ کے چال باز اور بد نیت شوہر ندیم نے مکان اپنے نام لگوایا.
اور اسے دھکے دے کر گھر سے نکال دیا
ابھی تو صد شکر کے نسیمہ نے دکانوں کا نہیں بتا رکھا تھا ندیم کو.. اور ہر ماہ دکانوں کا کرایہ اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیا جاتا تھے
جس کی وجہ سے ان مکار باپ بیٹی کے گھر سے نکالے جانے کے بعد اس نے با آسانی کرایہ کے مکان لے لیا تھا.
صد شکر کے اپنا موبائل ساتھ لے آئی.
جس پر فانیہ سے رابطہ ممکن ہوا..
فانیہ نے وہیں سے رکشہ پکڑا اور ماں کے دئیے گئے پتہ پر پہنچ گئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
روحا نے مندی مندی آنکھیں کھولیں.
ہ ہیلی کاپٹر سے کراچی اپنے مخصوص ٹھکانے پر پہنچ کر وہاں سے پھر گاڑی میں بیٹھے تھے.
روحا نے پٹھی آنکھوں سے پہلے گاڑی، پھر باہر انجان رستوں کو دیکھا تو صدمے سے پہلے تو کچھ بول ہی نہیں پائی.
سوہم خان ہم کہاں ہیں؟ وہ غرائی.
ہماری سلطنت میں قدم رکھ چکے ہیں میری شہزادی
نہیں… نہیں… نہیں. ہم کہیں نہیں جائیں گے.. ہمیں بی جان کے پاس جانا ہے.. ہمیں واپس چھوڑ کر آئیں.. وہ بھری بھری چوڑیوں والے بازو سے سوہم کے سینے پر مکے برساتی زور زور سے نفی میں سر ہلاتی شور مچا رہی تھی.
سوہم کو تو ہر روپ میں ہی وہ چاروں شانے چت کر دیتی تھی.. اب بھی کمر میں بازو ڈال کر کسی کی پرواہ کیے بغیر اسے سینے میں بھینچا..
روحا بوکھلائی.. اس کی اسی بولڈنیس، پاگل پن اور جنونیت سے ہی تو روحا خائف تھی..
اس نے دور ہونا چاہا.
سوہم چھوڑیں ہمیں.. وہ سخت جھنجھلائی..
اب اگر شور مچایا میری جان تو گھر جانے کا بھی انتظار نہیں کروں گا.. یہیں شروع ہو جاؤں گا.. پھر شکایت نا کرنا.. وہ بوجھل سی سرگوشی روحا کی روح فنا کرنے کو کافی تھی.
اسی لئے عافیت اسی میں جانی کہ بے آواز آنسو بہانے لگی.
کیونکہ کمر کو سہلاتے سوہم خان کے ہاتھ نے اس کی سانس گلے میں اٹکا دی تھی.
اس نے کھسک کر دور ہونا چاہا تو سوہم خان نے پھر کڑے تیوروں سے اسے گھورا.
اس نے بے بسی سے لب کاٹے.
اوں… ہوں.. یہ حق صرف میرا ہے… یہ کہتے وہ انگوٹھے سے اس کے دانتوں تلے سے لب آزاد کراتا اسے اور ہراساں کر گیا تھا..
گاڑی وائٹ پیلس کی پر شکوہ عمارت میں داخل ہوئی..
گاڑی سے اترے… چند چودہ چودہ سال کی بظاہر لڑکیوں نے پھولوں سے ان کا استقبال کیا.
وہ اس کا ہاتھ تھامے لاؤنج میں داخل ہوا.
مگر روحا نے سامنے بیٹھے ڈھیر سارے خواجہ سراؤں کو دیکھ کر قدم وہیں دروازے میں ہی جما لئے
روح اندر چلو میری جان.
نن… نہیں.. ہم کہیں نہیں جائیں گے.. ہ…. ہم…. ہمیں ڈر لگ رہا ہے سوہم… ہم.. نن… نہیں جائیں گے… وہ سہمی سی بولی..
کچھ نہیں ہو گا جان… سوہم نے اسے اندر گھسیٹا.. وہ اس کی پیٹھ سے لگی تھر تھر کانپ رہی تھی.
ایسا نہیں تھا کہ انھیں وہ حقیر سمجھتی تھی.
مگر خدا کی اس تخلیق سے اسے شروع دن سے بے تحاشا خوف محسوس ہوتا تھا..
جانے کیوں.
اسی لئے ریشماں کو دیکھتے ساتھ ہی وہ زمین بوس ہو چکی تھی.
اففف.. یار روح بہت ڈرپوک ہو.. سوہم لپک کر اس کے قریب… آیا..
اسے بانہوں میں بھرا.. ریشماں معنی خیز سی مسکرائی.
سب نے ہوٹنگ کی..
وہ خفت سے سرخ ہوا…
اور دانتوں تلے لب دبا گیا.
ریشماں نے سوہم کے چہرے پر پہلی مرتبہ انوکھی اور اچھوتی سی خوشی دیکھی…
وہ اسے بازوؤں میں بھرے اپنے کمرے میں آیا.. پاؤں سے ڈور لاک کیا..
کمرے کو تازہ پھولوں سے جیسے بھر دیا گیا.. پھولوں کی مسہری گلاب اور موتیے سے سجائی گئی تھی.
لا کر اسے بیڈ پر پھولوں کے اوپر لٹایا. دنیا کی پہلی دلہن تھی. جو سادے سے پنک سوٹ میں پنک دوپٹے میں تھی. سوہم نے نرمی سے دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھا..
سوہم کے ہوش مکمل طور پر اڑ چکے تھے..اس پر حاوی ہوا.
زرا سا جھک کر گال پر ہلکے سے دانتوں سے کاٹا تاکہ وہ اٹھ جائے.
وہ زرا سا کسمسائی… سوہم کی بیک بون میں سرسراہٹ ہوئی.. اس نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں..
سوہم نے اس کی سانسیں اپنے لبوں کی دسترس میں لیں مگر اس مرتبہ لمس میں بہت نرمی اور گرماہٹ تھی.
روحا کے ہوش اڑے… تڑپ کر مزاحمت کرنی چاہی مگر ہاتھ پہلے ہی اس کی گرفت میں تھے.
کافی دیر خود کو سیراب کرتا رہا…
جب روحا کی سانس بلکل اٹک گئی.. اور چہرہ سرخ ہوا تو کالر پر ایک جھٹکا لگنے سے وہ پیچھے ہٹا..
اس نے لمبی سی سانس بھری اور سانس ہموار کرنے لگی.
وہ دلچسپی سے اسے دیکھے گیا..
جب سانس ہموار ہوئی تو اپنی پوزیشن کا.. کمرے کی سجاوٹ اس ماحول کا خود پر جھکے اس جنونی کا ہوش آیا.
شدید خوفزدہ ہوئی..
سوہم.. پپ.. پیچھے ہٹیں…
نہیں میری جان.. آج نہیں ہٹ سکتا پیچھے.. قطعی نہیں
وہ اس کی شہہ رگ پر اپنے لب رکھتا بولا.
آ……. آپ زبردستی کریں گے ہمارے ساتھ…
سوہم کے تمام جزبات بھک سے اڑے تھے.. سر اٹھا کر غصے سے اسے گھورا..
روح اس بکواس کا مطلب… اگر کسی اور کہ قریب جاؤں تو وہ زبردستی ہے.. بیوی ہو تم میری.. حق ہے میرا تم پر… مکمل اختیار ہے… اور اب چپ چاپ جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو… خود کو میرے سپرد کر دو..
اور اب جیسے جیسے مجھے تمھاری آواز آئی بلکل ویسے ہی میرے ہر عمل میں شدت آئے گی.. اسی لئے اب بولنے کی گستاخی مت کرنا.
کہا تھا نا مجھ سے دور جانے کا یا گریز کا تو سوچنا بھی مت
اس نے زرا سا اوپر ہو کر اپنی شرٹ اتاری..اور دوسری جانب اچھالی..
روحا کی آنکھوں بھیگیں…
مگر وہ اس کی گردن پر جھکا اسے پور پور اپنی محبت کی بارش میں بھگو رہا تھا…
جب دروازے پر دستک ہوئی… اس نے خونخوار نظروں سے دروازے کو گھورا..
کس کی جرات ہوئی تھی سوہم خان کو چھیڑنے کی..
اسے ڈسٹرب کرنے کی…
یقیناً معمولی بات تو نہیں ہوگی…
مگر ریشماں کے آواز دینے پر وہ فورا اٹھا اور اپنی شرٹ اٹھائی… جلدی سے پہنی.
روحا فورا اٹھ کر بیٹھی.
سوہم کے اشارے پر فوراً دوپٹہ اٹھا کر اوڑھا.
اس نے دروازہ کھولا.
خیرت ریشماں…..
ریشماں نے مخصوص اشارہ کیا.
جس کا مطلب تھا کہ بلکل بھی خیریت نہیں ہے اور بڑی ایمرجنسی ہے…
جلدی سے مڑا
. بیڈ تک آیا… روح اپنا خیال رکھنا مجھے ضروری کام ہے…
مجھے جانا ہوگا.. ابھی
وہ کہتا.. اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا فورا باہر نکلا تھا…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
