Rate this Novel
Episode 12
دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی تھی..
جانے کیوں مگر ہر دستک پر فانیہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو جایا کرتی تھی.
مما تو اپنے کمرے میں نیم دراز تھی..
اب بھی لرزتے قدموں سے دروازے تک آئی..
کون… پوچھا..
نایاب ہوں…. دروازہ کھولو… لہجہ تحکمانہ سا تھا.
اس نے دروازہ کھول دیا..مگر دروازے سے نا ہٹی
اوہ…. تم واپس آ گئی حالانکہ یقین کرو کوئی ایسا پل نہیں رہا جب میں نے دعا نا کی ہو کہ تمھارے ساتھ کوئی ایسا حادثہ ہو جائے کہ یہ تمھارا خوبصورت چہرہ بلکل مسخ ہو جائے.. اس نے اطمینان سے زہر اگلا.
حاسدوں کی دعائیں کبھی پوری نہیں ہوتیں.. فانیہ نے بھی اطمینان سے کہا.. نایاب کو آگ لگی.
منہ میں زبان بھی آ گئی.. امپریسیو…
کیا کام ہے…
ہٹو تمھاری مان سے ملنا ہے مجھے.. وہ فانیہ کو بدتمیزی سے دھکیلتی اندر کی جانب بڑھی.
نسیمہ کا اسے دیکھ کر بری طرح موڈ خراب ہوا.
پاپا نے بھیجا ہے مجھے.. دیکھنے آئی تھی وہ کونسا قارون کا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے کہ مکان بھی لے کر بیٹھ گئی ہو اور سارے خرچے بھی پورے ہو رہے ہیں..وہ نسیمہ سے بوولی
تم سے مطلب.. نایاب اپنی منحوس شکل لے کر دفاع ہو جاؤ.. اور اپنے باپ سے کہو طلاق دے دے مجھے.. ورنہ عدالت گئی تو مکان سے بھی نا ہاتھ دھونا پڑ جائے تم دونوں بھکاری باپ بیٹی کو…..
راسم اسلام آباد پہنچ چکا تھا.
اور اب اطمینان سے اس گھر میں داخل ہوا تھا جہاں سے پہلے ہی اونچی آوازیں سنائی دے رہی تھیں..
مجھے تو پہلے ہی لگتا تھا پاپا کو پہلے ہی کہا تھا کے ان ماں بیٹی کے چال چلن….
چٹاخ……… ایک زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا.. نایاب کو فانیہ سے
نایاب حیرت سے پھٹی آنکھوں سے گال پر ہاتھ رکھے اس کی جرات دیکھنے لگی.
یہ ہمت اسے ریشماں کی بخشی ہوئی تھی جس کی برین واشنگ نے اسے بزدل اور ڈرپوک سے بہادر اور دبنگ بنا دیا تھا
خبردار نایاب… اتنے سال تمھارا ہر ظلم ہر زیادتی اور بکواس برداشت کی ہے مگر اب نہیں… اور ہمارے کردار کے بارے میں اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو گدی سے زبان کھینچ لوں گی.. ہمیں کچھ کہنے سے پہلے اپنے گریبان میں ضرور جھانکنا.. اور اب دفعہ ہو جاؤ یہاں سے.. فانیہ دھاڑی..
تمھیں تو میں دیکھ لوں گی.. یہ تمھارا خوبصورت چہرہ تیزاب سے نا جلایا تو مجھے نایاب نا کہنا.. چاہے اس کے بعد مجھے جیل میں کیوں نا سڑنا پڑے..
گیٹ لاسٹ نایاب… جو کرنا ہے کر لو.. میں نہیں ڈرتی..
نایاب تن فن کرتی نسیمہ کے کمرے سے باہر نکلی.
سامنے ہی ایک بے تحاشا ہینڈسم، ٹال اور ڈیشنگ بندہ بلیک تھری پیس پہنے سن گلاسز لگائے… پینٹ کی پاکٹوں میں ہاتھ ڈالے اطمینان سے کھڑا اسے اندر تک ہلا گیا تھا.
یہ اس کے خوابوں کا شہزادہ آج کہاں سے خیالوں سے مکل کر سامنے آ گیا تھا؟
کون ہیں آپ….نایاب نے پرشوق نگاہوں سے پوچھا..
آپ سے مطلب…
جی بلکل ہے.. کیونکہ یہ ہمارا گھر ہے.. وہ ڈھٹائی سے بولی.
بلکل نہیں یہ میری بیوی فانیہ اور اس کی ماں کا گھر ہے.
نایاب کے پیروں نیچے سے زمین کھسکی…مگر اس نے ہار ماننا کب سیکھی تھی.
تم جانتے ہو تمھاری بیوی کیسی ہے…. تمھاری بیوی کے کمرے سے رنگے ہاتھوں…….
تم نایاب ہو ناں.. راسم کے کانوں میں فانیہ کی پہلی ملاقات کی آوازیں گونجیں…
ہاں لیکن تمھیں کیسے پتہ…
تم نے میری بیوی کی بات کی.. وہ جیسی بھی ہو مگر تم اپنی بات کرو کیونکہ تم اس کی جوتی کے برابر بھی نہیں..
وہ کہتا نایاب کو بھسم کرتا.. اندر جا چکا تھا.
وہ تن فن کرتی فانیہ کو برباد کرنے کے ارادے باندھتی وہاں سے نکلی…
راسم ہلکی ناک کر کے اندر داخل ہوا..
نایاب میں نے کہا گو ٹو ہ…..وہ کہتی بھناتی پیچھے مڑی تھی… جب لفظ منہ میں ہی رہ گئے..
میرون فراک اور پاجامے میں وہ چاندی کی طرح دمک رہی تھی..
سامنے والے کو دیکھ کر خوف سے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے.. ماں کی طرف لپکی..
مما… یہ….. و…… وہ… ماں کے پیچھے بیٹھی دبکی وہ تھر تھر کانپ رہی تھی.
اس کے تو فرشتے بھی نہیں سوچ پائے تھے کہ وہ اتنی جلدی اس تک پہنچ جائے گا..
نسیمہ نے حیرت سے بیٹی کی حالت اور اس گبھرو جوان اجنبی کو دیکھا جو غصے سے فانیہ کو گھور رہا تھا.
کیا بات ہے بیٹا… کون ہو تم..
اسلام و علیکم آنٹی میں راسم ہوں… فانیہ نے بتایا ہوگا.. راسم سن گلاسز اتار کر نسیمہ کے آگے جھکا.
نسیمہ صدقے واری گئی.. آخر داماد آیا تھا.وہ داماد جس نے بیٹی کو اتنی حفاظت سے اپنے پاس رکھا تھا. نسیمہ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا..
پھر وہ ہلکی پھلکی گفتگو کرنے لگے.. نسیمہ نے اسے کچن میں کھانے میں خاص اہتمام کرنے کے لیے بھیجا تو اس کی گلو خلاصی ہوئی
کیونکہ وہ نسیمہ کا بھی لحاظ کیے بغیر ہر منٹ بعد اسے ایک گھوری سے نواز رہا تھا..
پھر وہ سوفٹ ڈرنک پی کر ضروری کام کا بول کر باہر جانے لگا..
بیٹا کھانا تو کھا لو..
ابھی بھوک نہیں آنٹی بس ڈنر ہی کروں گا..
ٹھیک ہے بیٹا… نسیمہ مسکرائی..
وہ گیا تو نسیمہ نے کچن میں آ کر فانیہ کے لتے لیے..
فانیہ کتنی جھوٹی ہو… تم تو کہتی تھیں اسے تمھاری پرواہ نہیں اور دیکھو کیسے چار پانچ دنوں میں پتہ لگوا کر پہنچ بھی گیا تم تک..حالانکہ اس بیچارے کو نا کچھ بتا کر آئی تھی.. نا اتا پتا دے کر آئی تھیں…
مگر مما.. وہ روہانسی ہوئی.
اب کوئی اگر مگر نہیں یہ سر جھاڑ منہ پھاڑ والا حلیہ درست کرو.. اور شوہر کی خدمت کرو بس…
نسیمہ نے فیصلہ سنایا..
اونہہہہ… کچھ زیادہ ہی شرافت کا مظاہرہ کر رہے ہیں… فانیہ نے دل میں دانت کچکچائے
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ گھر سے نکلا..
بادشاہ کی واپسی کا پتا لگوانا تھا
ہر حال میں…اسلام آباد سے بھی آنے کے چانسز تھے اس بزدل کہ
وہ ضروری کام نمٹا کر رات 9 بجے گھر پہنچا.. نسیمہ اسی کا انتظار کر رہی تھی..
وہ فریش ہو کر آیا.
فانیہ نے کچن میں چھوٹے سے ٹیبل پر کھانا لگایا..
نسیمہ کی درگت کے بعد اب اس نے میرون سوٹ کے اوپر ہلکا میک اپ کر رکھا تھا.
راسم نے خاموشی سے کھانا کھایا.
مگر فانیہ جانتی تھی یہ طوفان کے آنے سے پہلے والی خاموشی ہے وہ دل میں جل تو جلال تو کا ورد کرتی اس بلا سے حفاظت کی دعا مانگ رہی تھی..
بیٹا تم ناراض ہو فانیہ سے… نسیمہ بیگم نے راسم کی غیر معمولی سنجیدگی نوٹ کی.. فانیہ نے پہلو بدلہ.
آنٹی اس نے بتایا نہیں اپنا کارنامہ… بغیر مجھے بتائے وہاں سے آئی. اگر رستے میں کچھ ہو جاتا تو پھر.. مجھے بتاتی تو میں خود آپ سے ملانے لے آتا..
مجھے امید ہے صبح آپ آفیشیلی طور پر رخصتی دے دیں گی.. کیونکہ مجھے صبح ہی نکلنا ہے…
وہ بغیر اس کی جانب دیکھے اس پر بجلیاں گرا رہا تھا.
مگر مما…
چپ کرو فانیہ… نسیمہ نے جھڑکا… تمھارے لیے فیصلے لینے کہ لئے ابھی میں زندہ ہوں مری نہیں… انھیں فانیہ کی اس بچگانہ حرکت پر اب جی بھر کر تاؤ آ رہا تھا. واقعی کچھ ہو جاتا تو پھر.
جاؤ جا کر پیکنگ کرو……..
مگر مما.
فانیہ جاؤ…….
کھانا کھایا گیا… آنٹی میں آرام کروں گا..
وہ کہہ کر اپنے لئے سیٹ کیے گئے کمرے میں آ گیا..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
فانیہ گئے رات تک ماں کے پاس دبکی رہی جب اچھی طرح یقین ہو گیا کہ وہ بلا سو چکی ہو گی.
تب چپکے سے دبے پاؤں اپنے کمرے میں آئی…زیرو پاور بلب کی نیلی روشنی میں پیچھے مڑ کر دروازہ لاک کیا اور سکھ کا سانس لیا..
بیڈ پر آئی… دوپٹہ اتار کر تکیہ کے پاس رکھا.. اور ذہنی تھکن سے چور بیڈ پر ڈھے سی گئی..
کھڑوس…. سڑیل……زیرِ لب کوسا اور کنپٹیاں سہلائیں
مگر تبھی.. پیٹ پر کچھ سرسراتا سا لمس محسوس ہوا.. ہوش آیا کہ بے حد قریب سے جانی پہچانی مردانہ کلون کی خوشبو آ رہی ہے..
وہ بوکھلا کر سیکنڈوں میں اٹھی جب پیٹ پر رکھا وہی ہاتھ اس کے گرد لپٹا اور اسے واپس بیڈ پر ایک پر حدت سی آغوش میں کھینچ لیا گیا.
آہہہہہہہ… اس نے چلانا چاہا جب مقابل اس پر بری طرح حاوی ہوا…ہاتھ پکڑ کر تکیہ سے لگائے..
خبردار… زرا بھی آواز آئی تو حشر بگاڑ دوں گا…
آ……… آپ… یہ……. یہ.. کک… کیا.. کر… رہے……
چھوٹی بچی ہو کیا جو ہر چھوٹی سے چھوٹی بات سمجھاؤں کہ کیا کر رہا ہوں… تمھیں نہیں پتہ کہ کیا کر رہا ہوں.. ہاتھوں میں جکڑے اس کے ہاتھوں پر گرفت اور مضبوط کی.
چھ… چھوڑیں مجھے…
نہیں… سب سے پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ تمھاری جرات کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر میرے کمرے سے وائٹ پیلس سے قدم باہر نکالنے کی…
آئم… سس… سوری… پلیز… مم… معاف کر دیں.. فانیہ نے جان چھڑانی چاہی… مگر
نہیں.. اس گستاخی کی تو سزا ملے گی.. جو آج ساری رات تمھیں بھگتنی پڑے گی..
فانیہ کے رونگٹے کھڑے ہوئے..
یہ کہہ کر وہ مدہوش سا اس کی گردن پر جھکا تھا.. وہ بے حد قریب ہوا تو فانیہ کو اندازہ ہوا کہ وہ شرٹ لیس ہے..
نن.. نہیں.. چھوڑیں مجھے…..
مگر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا.. دہکتے لب شہہ رگ پر رکھے..
وہ مچلی… مم.. میں نے کہا.. چھ……راسم نے بات مکمل نہیں ہونے دی تھی…
لمحے کافی فسوں خیز تھے.
وہ شدت سے اس کے نازک لبوں پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا..
جب آزادی بخشی تو وہ نڈھال ہو چکی تھی..
راسم نے کروٹ لی اور اسے خود پر گرایا..
پپ… پلیز مم. میں نے کہا ناں… آئم سوری… وہ روہانسی ہوئی.. پلکیں بھیگ چکی تھیں..
مگر تڑپی تو تب جب کمر پہ سے زپ کھل کر شرٹ کھسکتی محسوس ہوئی..
راسم… وہ بوکھلائی… پلیز…
نو…… کوئی مزاحمت نہیں… اور اب کوئی آواز نہیں سنوں میں تمھاری..مجھ سے دور جا کر یہ سزا تو خود ہی تم نے اپنے لئے طے کی ہے کہ اب اتنا قریب آنا پڑے گا کہ دوبارہ دور جانے کا سوچ بھی نا پاؤ…
جزبات سے بوجھل گھمبیر آواز میں وہ سرگوشی فانیہ کی روح فنا کر چکی تھی..
مم. مگر… آپ….. مجھ… سے محبت.. نن.. نہیں کک… کرتے..
واٹ…… راسم کو آگ لگی.. تمام جزبات بھک سے اڑے… تو تمھارا خیال یہ ہے کہ میں بغیر محبت کے تمھارے قریب آ کر صرف اپنی ہوس مٹانا چاہتا ہوں..
راسم نے اس کے بال مٹھی میں جکڑ کر ایک جھٹکا دیا..
وہ بولی نہیں مگر سسک پڑی.
اگر ایسی ہی بات ہوتی…یو ایڈیٹ…. دماغ سے پیدل لڑکی… تو پہلی ہی رات نا چھوڑتا تمھیں… تبھی ہر حد پار کر لیتا.اظہار نہیں کیا.. مگر کیا تمھیں میری آنکھوں میں نظر نہیں آتا کہ میں کتنی محبت کرتا ہوں تم سے…
پاگل… الو کا پٹھا ہوں جو تمھارے پیچھے خوار ہوتا یہاں تک آیا ہوں.
.راسم نے شدید غصے میں دانت پیسے. .وہ اسے خود سے دور پٹخ کر اٹھ کر جانے لگا..
دروازے تک پہنچا تھا کہ وہ تڑپ کر اٹھی اور کمر سے اس سے لپٹ کر سسک پڑی..آئم سوری.. مجھے معاف کر دیں.. مم. مگر پھر.. سے ناراض مت ہوں مجھ سے….
راسم بے تحاشا چونکا..پہلو سے بازو سے اسے کھینچ کر سینے میں بھینچا.. میں کب ناراض ہوا تم سے ہاں بولو..
آپ شروع سے مجھ سے ناراض تھے.. آپ کے ساتھ زبردستی کی گئی..
راسم کو اس کے شوشے پر بے تحاشا ہنسی آئی.. پاگل لڑکی مرد سے بھی کوئی زبردستی کچھ کروا سکتا ہے.. میری مرضی تھی تو تمھیں اٹھا کر لے کر گیا.. جانے وہ کونسی کشش تھی… جس نے مجھے تمھاری جانب کھینچا.. میری مرضی تھی تو یہ نکاح ہوا…
تو پھر آپ مجھے ڈانٹتے کیوں تھے ہر وقت…. وہ اس سے اسی کی شکایتیں لگا رہی تھی.
اگر پہلی رات کی بات کر رہی ہو تو حلیہ دیکھا تھا اپنا..
وہ شرمندہ ہوئی.. مزید اس کے بازو میں منہ چھپایا
تب مجھے بھی نہیں معلوم تھا کہ میں تم سے اتنی طوفانی محبت کرتا ہوں… یہ تو تمھارے جانے کے بعد پتا چلا..
فانیہ نے اپنا سر اس کے چوڑے کسرتی سینے سے نکال کر اسے بے حد شرارت سے دیکھا..
تو پھر میں نے ٹھیک کیا نا آپ کو چھوڑ کر آئی کم از کم آپ کو پتا تو چلا کہ آپ کو میری کتنی پرواہ ہے..
آہاں…. راسم نے اسے بازوؤں میں بھرا.. ابھی بتاتا ہوں جان کے کتنی پرواہ ہے… فانیہ بے تحاشا گھبرائی.. کیونکہ ابھی وہ کچھ دیر پہلے والی خطرناک ٹون میں واپس آ چکا تھا.
راسم نے اسے لا کر بیڈ پر لٹایا…اور اس پر جھکا
راسم…………
اششششششش… اس کی گردن میں منہ دیا..
فانیہ اس کی بانہوں میں پگھلی… مگر آج گریز ناممکن تھا..
وہ کندھے سے شرٹ کھسکاتا اپنے دہکتے لب رکھ چکا تھا.
لمحہ لمحہ گزرتی رات کے ساتھ راسم نے اپنے ہر عمل سے اسے بتایا تھا کہ اسے اس کی کتنی پرواہ ہے یا وہ اس پاگل سی لڑکی سے کتنی محبت کرتا ہے…
فانیہ کو اپنی شدتوں سے دنیا بھلا دی تھی اس نے….
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
رحاب جب بھاگ کر نیچے آ رہی تھی اپنے کمرے کی کھڑکی سے ریما نے اسے پاشا کے پیچھے بھاگتے دیکھا تھا….
وہ جل کر خاکستر ہوئی تھی..
اور اسی آگ میں رحاب کو جلانا چاہتی تھی
وہ تن فن کرتی اس کے پیچھے آئی تھی.
وہ پلر کے پیچھے سے جھانک کر اسے جاتا دیکھ رہی تھی.
ریما نے بازو سے دبوچ کر اس کا رخ اپنی جانب کیا..
کیا دیکھ رہی ہو ہاں…. کیا لگتا ہے وہ تمھارا.. جو اسپیشل بھاگ کر آ رہی ہو.. جلدی بتاؤ مجھے..
ریما نے اسے گردن سے دبوچ کر پلر سے لگایا…
رحاب اس کی آہنی اور کسرتی ہاتھ کی گرفت میں مچل کر رہ گئی.. آنسو بہت تیزی سے رواں تھے..
بولو… بولتی کیوں نہیں.. کیوں کر رہی تھی پاشا کا پیچھا.. کیوں دیکھ رہیں تھیں اسے.. پھانسنا چاہتی ہو اسے یا رکھیل بننا چاہتی ہو اس کی… ریما مغلظات بکتی پھنکاری
اور اس سے پہلے وہ شدید غصے میں رحاب کی گردن کی ہڈیاں چٹخا دیتی.
کسی نے پیچھے سے اسے کھینچ کر اپنی طرف گھمایا تھا.
اور اس قدر زناٹے دار تھپڑ پڑا تھا اسے کہ وہ چکرا کر پیچھے گری تھی..
گارڈز … پاشا دھاڑا… گارڈز بھی بوکھلائے ادھر لپکے.
لے جاؤ اسے…. ونڈر لینڈ.. روم نمبر 25
پاشا نے کورڈ ورڈ میں اپنے ٹارچر سیل کے اس کمرے کا نام لیا جس میں ڈھیر سارے موذی کیڑے مکوڑے چھوڑ رکھے تھے.
.. مم.. معاف کردو. پاشا… نن.. نہیں ریما کی روح فنا ہوئی..
اس سے پہلے وہ کچھ اور بولتی پاشا نے خونخوار نظروں سے اپنے آدمیوں کو گھورا وہ اس کا منہ دبوچے.، تاکہ وہ کچھ اور نا بول سکے
اسے وہاں سے لے جا چکے تھے…
وہ جو لمبے لمبے سانس لیتی اپنا سانس بحال کر رہی تھی پاشا بھسم کرنے والے انداز میں اس کی جانب بڑھا
بازوؤں سے دبوچ کر اسے پھر پلر سے لگایا.
مسئلہ کیا ہے تمھارے ساتھ….. ہاں… ریشماں کو یا کسی کو آواز نہیں دے سکتی تھیں.. ابھی کچھ ہو جاتا تو؟ وہ دھاڑا
میرا ضبط مت آزماؤ….. بولو…. میں نے آج تمھاری آواز سننی ہے..Spaek quickly now…….
رحاب نے بھیگی آنکھوں سے بازوؤں سے اس کے ہاتھ ہٹائے.
میں بول نہیں سکتی..وہ اشارہ کرتی پھر بے تحاشا رو دی.
وہ ہاتھوں کا اشارہ نہیں تھا.. آسمانی بجلی تھی جو پاشا کے دل و دماغ پر گری تھی..
شاید ہی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہو جس سے اسے اتنی تکلیف پہنچی ہو…
وہ حیرت سے اسے دیکھے گیا.
وہ سرخ چہرہ لال انگارہ آنکھیں اور تنے اعصابوں سے اس کے گرتے آنسو دیکھتا رہا..
پھر بلکل بے اختیار وہ معصوم چہرہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر انگوٹھوں سے روانی سے بہتے آنسو صاف کیے..
پاشا کی نظر اس کے ایک ایک نقش کو اپنی آنکھوں سے چھو رہی تھی… کہ بھٹکتی نظر ان لرزتے نرم و گداز گلابی لبوں پر ٹھہری.
اور اس سے پہلے کہ کسی حق کے بغیر وہ کوئی گستاخی کر بیٹھتا..
اپنے لب کچلتا پیچھے ہٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا.
اپنی بے اختیاری پر پھر جی بھر کر لعنت بھیجی خود پر….
کیوں میں اتنا بے اختیا ہوں اس کے معاملے میں.
وہ بول نہیں سکتی… اس بات سے مجھے اس قدر تکلیف کیوں ہوئی..
مجھے کیا ہو جاتا ہے آخر…..
اففف…یہ لڑکی پاگل کر دے گی مجھے..ششششٹ
میں اب وائٹ ہاؤس میں آؤں گا ہی نہیں….
یہ ٹھیک ہے….. وہ کنپٹیان سہلاتا.. گاڑی تک آیا.
فون ملایا..
ہاں کیا کیا ریما کا….
سر پھینک دیا اس روم میں…
نکال لو…. پاشا کی حکم عدولی کے لئے اتنی سی ڈوذ ہی کافی ہے اس کے لئے.
کہتا فون بند کیا اور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر زن سے گاڑی بھگائی.
جیسے کوئی آسیب کوئی بھوت ہو اس کے پیچھے….
پیچھے ریشماں جو یہ ساری کاروائی دیکھ رہی تھی.. اسے پتہ چل چکا تھا کہ پاشا کہ کسے بل کیسے نکالنے ہیں.. وہ معنی خیز سی مسکراتی رحاب کے پاس آئی جو پلر سے لگی بیٹھی اب بھی سوں سوں کرنے میں مصروف تھی..
مگر دونوں ہاتھ دونوں گالوں پر رکھے ہوئے تھے….
ریشماں اسے اندر لے گئی…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
